فہم توحید (قسط5)۔ڈاکٹر حافظ طاہر اسلام عسکری

ایمان

لغوی معنی

اَزرُوے لغت ‘ایمان’ کے معنی تصدیق اور اقرار کے ہیں۔

اہل سنت و جماعت کے نزدیک ایمان کا مفہوم

اہل سنت کے مطابق ایمان مندرجہ ذیل امور سے عبارت ہے:

1۔دل سےا عتقاد رکھنا۔

2۔زبان سے اقرار کرنا۔

3۔اعضا اور جوارح سے عمل کرنا۔

4۔یہ اطاعت و فرما ں برداری سے بڑھتا ہے۔

5۔اور معصیت و نا فرمانی سے کم ہو جاتا ہے۔

ارکانِ ایمان

ایمان کے چھ ارکان ہیں:

1۔اللّٰہ پر ایمان لانا۔

2۔اُس کے فرشتوں کو ماننا۔

3۔اس کی کتابوں پر ایمان لانا۔

4۔اس کے رسولوں کی تصدیق کرنا۔

5۔یوم آخرت کا اعتقاد رکھنا۔

6۔تقدیر کی اچھائی اور برائی پر ایما ن لانا۔

ان میں سے ہر رکن کئی امور کو متضمن ہے جن کی وضاحت درج ذیل ہے:

1۔ایمان باللّٰہ

اس میں درج ذیل امور شامل ہیں:

1۔اللّٰہ کے وجود پر ایمان لانا۔

2۔ اُس کی ربوبیت کا اعتقاد رکھنا۔

3۔اس کی الوہیت کو تسلیم کرنا۔

4۔اس کے اسما وصفات پر ایما ن لانا۔

2۔ایمان بالملائکہ

یہ امورِ ذیل کو متضمن ہے:

1۔فرشتوں کے وجود کو ماننا۔

2۔ جن فرشتوں کے نام معلوم ہیں، اُن کے ناموں کو ماننا، جیسے: جبرئیل ، اور جن کے نام معلوم نہیں، اُن پر اجمالی ایمان لانا۔

3۔فرشتوں کے جو صفات معلوم ہوں، اُنھیں تسلیم کرنا۔

4۔ اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتے جو اعمال سر انجام دیتے ہیں، اُن میں سے جن کا علم ہو، اُن کی تصدیق کرنا۔

3۔ایمان بالکتب

اس کے تحت درج ذیل امور آتے ہیں:

1۔اِس امر پر ایمان لانا کہ خدا کی طرف سے اِن کا نزول بر حق ہے۔

2۔ جن کتابوں کے نام معلوم ہیں، اُنھیں تسلیم کرنا،جیسے: قرآن شریف ،تورات اور انجیل۔

3۔اِن کی جو خبریں صحیح اور ثابت ہیں، اُن کی تصدیق کرنا، جیسے قرآن کریم کی بتائی ہوئی تمام خبریں بالکل درست ہیں اور کتب سابقہ کی وہ خبریں، جن میں تحریف و تَبَدُّل نہیں ہوا اور ہماری شریعت میں ان کی نقل صحیح طور پر ثابت ہے۔

4۔ کتبِ سماویہ کے جو احکام منسوخ نہیں ہیں، اُن پر ایمان لانا اور اظہارِ تسلیم و رضا کرنا، خواہ ان احکام کی حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ ان تمام کتب سے متعلق یہی رویہ ہونا چاہیے جو قرآن کریم سے منسوخ ہو چکی ہیں۔

4۔ایمان بالرسل

اس میں نکاتِ ذیل شامل ہیں:

1۔ اس بات پر ایمان لانا کہ تمام انبیا و رسل ﷩ کی نبوت و رسالت خدا کی طرف سے برحق ہے۔ جس نے کسی ایک نبی یا رسول اللّٰہ ﷺ کا انکار کیا، وہ سب کا منکر ہے۔

2۔ جن پیغمبروں کے نام معلوم ہیں، اُنھیں تسلیم کرنا، مثلاً: حضرت محمد ﷺ ، سیدنا ابراہیم، سیدنا موسیٰ، سیدنا عیسیٰ، سیدنا نوح ﷩وغیرہ ۔

3۔ان سے متعلقہ اخبار و آثار کی تصدیق کرنا، بشرطیکہ وہ صحیح طور پر ثابت ہوں۔

4۔ ہماری طرف جو رسولﷺ معبوث ہوئے ہیں، اُن کی شریعت پر عمل پیرا ہونا؛ یعنی خاتم الا نبیاء والمرسلین سیدنا محمد ﷺ جنھیں تمام جن و انس کے لیے بھیجا گیا ہے۔

3۔ ایمان با لآخرۃ

یہ امورِ ذیل کو اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے:

1۔موت کے بعد اٹھائے جانے پر ایما ن لانا۔

2۔حساب اور جزا و سزا کا اعتقاد رکھنا۔

3۔جنت اور جہنم کو تسلیم کرنا۔

واضح رہے کہ روزِ آخرت پر ایمان میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ اُن تمام معاملات پر ایما ن لایا جائے جو موت کے بعد وقوع پذیر ہوں گے؛ قبر کی آزمایش اور عذاب و ثواب کا عقیدہ بھی اِسی میں داخل ہے۔

6۔ایمان بالقدر

یہ چار نکات کو متضمن ہے:

1۔اس بات پر ایمان لانا کہ اللّٰہ تعالیٰ کو تمام چیزوں کا مکمل اور تفصیلی علم ہے۔

2۔یہ تسلیم کرنا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ لوحِ محفوظ میں لکھ رکھا ہے۔

3۔ اِس امر کا اعتقاد رکھنا کہ ہر شے خدا کی مشیت ہی سے وجود پذیر ہوتی ہے۔

4۔یہ ماننا کہ تمام موجودات اپنی ذات و صفا ت اور حرکات سمیت اللّٰہ عزوجل ہی کی مخلوق ہیں۔

ارکانِ ایمان کی دلیل

1۔اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ﴾ (سورۃ البقرہ: 177)

“نیکی یہ نہیں کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللّٰہ پر، یوم آخرت پر، فرشتوں پر، کتاب پر اور نبیوں پر صدقِ دل سے ایمان لائے۔”

2۔نیز فرمایا:

﴿اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍ﴾

(سورۃ القمر: 49)

’’ہم نے ہر چیز کو ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کیا۔‘‘

3۔سنت سے ان ارکان کی دلیل، حدیث جبریل میں ہے۔ جب سیدنا جبریل نے رسول اکرمﷺ سے عرض کیا کہ

أََخْبِرْنِي عَنِ الإِيمَانِ

یعنی مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا:

«أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ»

’’(ایمان یہ ہےکہ) تو اللّٰہ کو مانے؛ اُس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں کو مانے؛ اس کے رسولوں اور یومِ آخرت کو تسلیم کرے اور تقدیر کی اچھائی اور برائی کو مانے۔‘‘

احسان

احسان کی تعریف:

لغت کی رُو سے لفظِ احسان’ اﻹسَاءَة ‘ یعنی غلط کاری اور بد سلوکی کی ضد ہے۔

شرعی طور پر اس کے معنی ہیں: خلوت و جلوت میں خوفِ خدا کو ملحوظ رکھنا۔

ارکانِ احسان

اس کا صرف ایک ہی رکن ہے، او ر وہ ہے:

«أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ.» (صحيح مسلم)

’’تو اللّٰہ عزوجل کی عبادت یوں کرے کہ گویا اُسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو( یہ احساس دل میں جا گزیں ہو کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘

احسان کے اقسام

اس کی دو قسمیں ہیں:

1۔احسان إلی الخلق

یعنی مخلوق خدا سے احسان کا معاملہ کرنا؛ اور یہ چار معاملات میں ہوتا ہے:

1۔مال 2۔عزت 3۔علم 4۔بدن

2۔احسان فی عبادۃ الخالق

یعنی عبادتِ الہٰی میں احسان کا رویہ اپنایا جائے۔

اس کے دو مراتب ہیں:

1۔ مرتبۂ اطلاع و مراقبہ

اس کا مفہوم ہے:

فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ

یعنی: اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو ( یہ احساس دل میں جا گزیں ہو کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔۔

دلیل احسان

1۔قرآن شریف میں ہے:

﴿اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ﴾ (سورة النحل: 128)

’’بے شبہہ اللّٰہ ان لوگوں کے ساتھ ہیں، جو تقویٰ سے کام لیتے ہیں اور احسان پر عمل کرتے ہیں۔‘‘

2۔احسان کے بارے میں سیدنا جبریل کے سوال کا جواب دیتے ہوئے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تھا:

«أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ»

’’تو خدا کی عبادت میں یوں مگن ہو کہ گویا اسے دیکھ رہا ہے اور اگر یہ کیفیت نہ ہوتو پھر یہ احساس پیدا کر کہ خدا تجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘

اسلام، ایمان اور احسان میں باہمی تعلق

اربابِ علم و نظر نےا س امر پر بھی بحث کی ہے کہ اسلام، ایمان اور احسان میں باہمی تعلق کی نوعیت کیا ہے؟ اس کا خلاصہ ذیل میں بیان کیا جاتا ہے:

1۔ جب یہ تینوں امور اکٹھے بیان ہوں گے تو ان میں سے ہر ایک کا اپنا خاص مفہوم مراد ہوگا، چنانچہ:

ا۔ایمان سے امورِ غیبیہ مراد ہوں گے۔

ب ۔ احسان سے دین کے اعلیٰ درجات و مراتب مقصود ہوں گے۔

2۔ جب ان امور کا الگ الگ تذکرہ ہوگا تو اس صورت میں ان کا صرف خصوصی مفہوم ہی نہیں لیا جائے گا بلکہ

ا۔ جب اکیلے اسلام کا ذکر ہوگا تو اس میں ایمان بھی داخل ہوگا۔

ب۔جب صرف ایمان کا تذکرہ ہوگا تو اس میں اسلام بھی شامل ہوگا۔

ج۔اگر محض احسان کا ذکر کیا جائے تو اسلام اور ایمان بھی اسی میں شامل ہوں گے۔

تبصرہ کریں