فہم توحید (قسط7)۔ ڈاکٹر حافظ طاہر اسلام عسکری

دعا

دعا عبات ہے

دعا عبادت کی اہم ترین قسم ہے۔ رسول اللّٰہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

«اَلدُّعَاءُ ھُوَالْعِبَادَۃُ »

’’دعا ہی عبادت ہے۔‘‘ (جامع ترمذی: 2669)

دعا کی دو قسمیں ہیں:

1۔ دعاے عبادت

اس سے ہر وہ عمل مقصود ہے جسے انسان بہ طور عبادت اپنے پروردگار کے لیے سر انجام دیتا ہے، مثلاً: نماز، روزہ، حج اور صدقہ وغیرہ۔

عبادت کو دعا اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں طلب کے معنی پائے جاتے ہیں؛ گویا انسان جب یہ اعمال بجا لاتا ہے تو وہ خدا سے رحمت اور جنت میں داخلے کا طلب گار ہوتا ہے۔

2۔ دعاے مسئلہ

اس سے مراد وہ دعا ہے جس میں سوال اور طلب ہو،مثلاً یہ کہنا:اَللَّھُمَّ ارْحَمْنَیْ،رَبِّ اغْفِرْلِیْ

’’بارِ الٰہا! مجھ پر رحم فرما، میرے رب میری بخشش فرما۔‘‘

3۔دعاے غیر اللّٰہ

دعا عبات ہے، اس لیے اللّٰہ عزوجل کے علاوہ کسی اور سے دعا کرنے والا شخص مشرک اور کافر ہے۔

اس کی دلیل اللّٰہ رب العزت کا یہ ارشاد مبارکہ ہے:

﴿ وَمَن يَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ لَا بُرْهَانَ لَهُ بِهِ فَإِنَّمَا حِسَابُهُ عِندَ رَبِّهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْكَافِرُونَ﴾(سورۃ المؤمنون: 117)

’’اور جو شخص اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کی پرستش کرتا ہے، اُس کے پاس اِس کی کوئی سند نہیں ہے، سو اُس کا حساب اس کے رب ہی کے پاس ہے؛ بے شبہہ کافر لوگ فلاح نہیں پائیں گے۔‘‘

دم اور جھاڑپھونک(الرُّقیٰ)

تعریف

لغوی اعتبار سے لفظ رُقیٰ، رُقْيَةُ کی جمع ہے جس کے معنی جھاڑپھونک اور دم کے ہیں۔

از رُوے شریعت اس سے مراد وہ آیات و اذکار اور دعائیں ہیں جو مریض پر پڑھ کر پھونکی جاتی ہیں۔

دَم کے اقسام

اس کی دو قسمیں ہیں:

1۔جائز دم اور جھاڑ پھونک 2۔ناجائز دم

ان کی وضاحت درج ذیل ہے:

1۔جائز دم

اہل علم کا اجماع ہے کہ جس دم میں درج ذیل تین شرطیں پوری ہوں،وہ جائز ہے:

1۔ وہ واضح عربی زبان میں ہو اور اس کے معنی معلوم و معروف ہوں۔

2۔ دم اللّٰہ تعالیٰ کے کلام یا اس کے اسما و صفات پر مشتمل ہو۔

3۔اس پر کلی اعتماد نہ کیا جائے اور یہ اعتقاد رکھا جائے کہ دم بہ ذاتِ خود موثر نہیں بل کہ تقدیرِ الہٰی کے تابع ہے۔

2۔ ممنوع جھاڑ پھونک

جس میں جائز دم کی مندرجہ بالا شرائط میں سےکوئی ایک شرط بھی کم ہو، تو وہ دم نا جائز اور حرام ہے۔

سنت سے دم اور جھاڑ پھونک کی دلیل

رسول اللّٰہ ﷺ کا فرمان ہے:

«إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ »

’’بے شبہہ جھاڑ پھونک (دم)، تعویز گنڈے اور باہمی عشق و محبت پیدا کرنے کے لیے تیار کی جانے والی چیزیں، یہ سب شرک ہیں۔‘‘

(مسند احمد:1/381؛ سنن ابو داؤد:3883)

ان تینوں امور میں سے دَم کی رخصت ہے، بہ شرطے کہ وہ شرکیہ کلمات پر مشتمل نہ ہو۔

رسول اکرم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

«اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ »

’’اپنے دم میرے سامنے پیش کرو؛ جس دم میں شرکیہ کلمات شامل نہ ہوں، اُس میں کوئی حرج نہیں۔‘‘

(صحیح مسلم: 2200؛سنن ابو داؤد : 3886)

مطلب یہ کہ ایسا دم جائز ہے۔

 تعویذ گنڈے (التَّمَائِم)

تعریف

لغوی اعتبار سےالتَّمَائمِ کا لفظ تَمِیْمَۃکی جمع ہے جس کے معنی تعویذ کے ہیں۔

اصطلاحی پہلو سے اس سے مراد وہ چیز ہے جو نظر بد سے حفاظت کے پیش نظر بچوں کے گلے میں لٹکائی جاتی ہے۔

تعویذ کے اقسام

1۔قرآنی اور نبوی دعائوں پر مشتمل تعویذ

ان کے بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ یہ درج ذیل تین وجوہ کی بنا پر ممنوع ہیں:

ا۔ شریعت میں تعویذ وں کی عمومی ممانعت موجود ہے، لہٰذا یہ بھی اسی عموم میں داخل ہیں کیوں کہ ان کی خصوصیت پر کوئی دلیل نہیں۔

ب۔یہ سد الذریعہ کے طور پر جائز نہیں؛ اس لیے کہ ان قرآنی تعویذوں سے حرام تعویذ گنڈے کی راہیں کھل سکتی ہیں۔

ج۔اس سے قرآن مجید کی اہانت اور بے ادبی کا اندیشہ ہے کیوں کہ قرآنی تعویذ پہننے والا لا محالہ قضاے حاجت کے لیے بیت الخلا میں جائے گا جو توہینِ قرآن کا باعث ہے۔

(قرآنی اور مسنون اذکار و ا دعیہ پر مشتمل تعویذات کے بارے میں اہل علم کے ہاں تین نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں: ایک جواز ، دوسرا ممانعت اور تیسرا توقف۔

1۔قائلین جواز میں سیدنا عبداللّٰہ بن عمرو بن عاص ، ام المومنین سیدہ عائشہ ، سیدنا سعید بن المسیب، سیدنا عطاء، سیدنا ابو جعفر الباقر اور امام مالک ﷭ شامل ہیں۔

اسی طرح حافظ ابن عبدالبر، امام بیہقی اور اما م قرطبی بھی اس مسلک کے قائل ہیں۔ شیخ الا سلام ابن تیمیہ، علامہ ابن قیم اور علامہ ابن حجر﷭ کا ظاہر قول بھی یہی ہے۔

2۔ مانعین میں سیدنا ابن مسعود، سیدنا ابن عباس، سیدنا حذیفہ اور امام ابراہیم نخعی﷫ کے اسماے گرامی نمایاں ہیں۔ معاصر کبار سلفی علما مثلاً

سلیمان بن عبداللّٰہ بن محمد بن عبد الوہاب، علامہ عبدالرحمن بن ناصر بن سعدی، شیخ ابن باز اور علامہ البانی ﷭ بھی یہی راے رکھتے ہیں۔

3۔تعویذ کے مسئلہ میں توقف کا موقف ماضی قریب کے جلیل القدر عالم دین شیخ محمد بن صالح العثیمین﷫ نے اختیار کیا ہے۔ ان کے بہ قول قرآنی تعویذ کا ترک اولیٰ ہے لیکن اسے مطقاً حرام کہتے میں انھیں تامل ہے۔

بنظر غائر دیکھا جائے تو قائلین جواز کا قول ہی راجح نظر آتا ہے کیو ں کہ مانعین نے جن تین وجوہ کی بنا پر ممانعت کا موقف اپنایا ہے، اُن میں سے آخری دو وجہیں( شرکیہ تعویذات کی راہ کھلنے کا خطرہ اور اہانتِ قرآن کا اندیشہ ) اضافی نوعیت کی ہیں؛ گویا اگر قرآنی تعویذات شرکیہ تعویذوں یا قرآن کی بے ادبی کا ذریعہ نہ بنیں تو اصلاً یہ جائز ہیں۔

رہی یہ بات کہ

حدیث شریف میں تعویذات کی عمومی ممانعت آئی ہے اور قرآنی تعویذ بھی اسی عموم میں داخل ہونے کہ وجہ سے حرام ہیں، تو اس کے جوا ب میں کہا جا سکتا ہے کہ

ام المو منین سیدہ عائشہ اور سیدنا عبداللّٰہ بن عمرو بن عاص کے طرزِ عمل سے ان کی تخصیص ہو جاتی ہے۔ نیز مسئلہ کی نوعیت سے معلوم ہوتا کہ کہ اس میں اجتہاد کو دخل نہیں، فلہٰذا اِن صحابہ کے آثار حکماً مرفوع شمار ہوں گے۔

مسئلہ زیرِ بحث پر تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو:

مغنی المرید الجامع لشروح کتاب التوحید، 2: 924- 915 ،تالیف: عبد المنعم ابراہیم۔ فاضل موَ لّف نے اس مسئلے پر مفصل کلام کیا ہے اور تمام گروہوں کے دلائل پیش کر کے ان کا تجزیہ کرتے ہوئے قرآنی اور مسنون دعاؤں پر مشتمل تعویذوں کے جواز ہی کو راجح قرار دیا ہے؛ یہ پوری بحث انتہائی نفیس اور قابل مطالعہ ہے۔

یہ تو تھا مسئلے کی توجیہ و تاویل کا ایک علمی رخ؛ تاہم مفسر قرآن علامہ حافظ صلاح الدین صاحب یوسفؒ اس قضیے کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ اُن کی راے میں قرآنی یا مسنون دعاؤں پر مشتمل تعویذوں کے جواز یا عدم جواز کی بحث تو اس صورت میں ہو سکتی ہے، جب ان کے سنت ہونے کا اعتقاد رکھا جائے لیکن اگر ان کو ایک ذر یعۂ علاج کے طو ر پر دیکھا جائے تو یہ بحث سرے سے ختم ہو جاتی ہے کیو ں کہ علاج معالجے کے دیگر طریقوں کی طرح یہ تعویذ بھی علاج کے زمرے میں آتے ہیں جنھیں کسی طور ممنوع قرار نہیں دیا جا سکتا کہ تجربات سے ان کی افادیت ثابت ہو چکی ہے۔ واللّٰہ اعلم۔( مترجم))

2۔غیر قرآنی اور غیر مسنون امور پر مشتمل تعویذ

مثلاً ان میں جنوں اور شیطانوں کے نام لکھے ہوں، یا لکیریں اور اعداد کے نقوش بنائے گئے ہوں جن کا کوئی مطلب سمجھ میں نہ آتا ہو؛ تو یہ قطعی طور پر حرام ہیں، نیز ایسے تعویذ پہننا شرک ہے کیوں کہ اس میں غیر اللّٰہ سے تعلق کا اظہار ہے۔

خلاصہ

ہر قسم کے تعویذ حرام اور ممنوع ہیں، خواہ قرآنی ہوں یا غیر قرآنی؛ نیز غیر قرآنی اور غیر مسنون تعویذ حرام ہونے کے ساتھ ساتھ شرک بھی ہیں۔

اس کی دلیل رسول اللّٰہﷺ کا یہ فرمان ہے:

إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ

’’بے شبہہ جھاڑ پھونک(دم) ،تعویذ گنڈے اور حبّ کے اعمال سب شرک ہیں۔‘‘ (مسند احمد:1؍ 381؛ سنن ابو داؤد: 3883)

تبرک

مفہوم

لغت کی رُو سے تَبَرُّک کے معنی ہیں: کَثْرَةُ الشَّئِ وَ ثُبُوْتُه

کسی شے کی کثرت اور اس کا ثبوت و دوام۔

شرعی اعتبار سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی شے سے برکت طلب کی جائے، اس کی امید کی جائے اور اس کا اعتقاد رکھا جائے۔

تبرک کے اقسام

اس کی دو قسمیں ہیں:

1۔مشروع تبرک 2۔ممنوع تبرک

مشروع تبرک

اس میں درج ذیل امور شامل ہیں:

1۔نبی مکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے جسم مبارک سے جدا ہونے والی اشیا سے تبرک لینا؛ یہ آپﷺ کی حیات طیبہ کے ساتھ خاص تھا اور آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ ہی میں ممکن تھا۔ (فاضل موَلّف کا یہ کہنا محل نظر ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے آثار سے تبرک محض آپ ﷺ کی حیات مبارکہ ہی میں ممکن تھا۔ کتب حدیث میں ایسی بہت سے روایات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابۂ کرا م اور سلف صالحین نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی آپ ﷺ کے آثار سے حصول برکت کے خواہاں رہتے تھے؛ ان میں سےچند ایک درج ذیل ہیں:

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری ﷫ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا محمد بن سیر ین ﷫ نے سیدنا عبیدہ سے کہا کہ ہمارے پاس رسول مکرم ﷺ کے کچھ بال مبارک ہیں جو ہمیں صحابیِ رسول سیدنا انس کے اہل خاندان کی جانب سے ملے ہیں۔ اس پر سیدنا عبیدہ کہنے لگے کہ اگر میرے پاس ان بالوں میں سے ایک بال بھی ہو تو وہ میرے لیے ساری دنیا اور اس کی ہر چیز سے عزیز ہے۔(صحیح بخاری، کتاب الوضوء، باب الماء الذی یعسل بہ شعر الا نسان، حدیث 168)

اسی طرح صحیح مسلم میں روایت ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ کے پاس رسول اللّٰہ ﷺ کا ایک جبہ مبارک تھا؛ سیدہ عائشہ ہا کی وفات ہوئی تو وہ جبہ ان کی ہمشیرہ سیدہ اسما نے لے لیا اور اُن کا بیان ہے کہ ہم شفا پانے کے لیے اس کو دھو کر اس کا پانی بیماروں کو پلاتے تھے۔ (صحیح مسلم، کتاب الباس والزینۃ، باب تحریم استعمال آینۃ الذھب الفضۃ علی الرجال حدیث 2069)

صحیح بخاری کی ایک اور حدیث کے مطابق ام المومنین سیدہ ام سلمہ کے پاس رسول معظم ﷺ کے کچھ بال مبارک تھے۔ جب کوئی بیمار ہو جاتا تو وہ پانی کا برتن ام المومنین کے ہاں بھیجتا۔

سیدہ ام سلمہ نبی مکرم ﷺ کے با برکت بالوں کو دھو کر ان کا پانی دے دیتیں جس سے بیمار شفا پاتے۔ (صحیح بخاری، کتاب اللباس ،باب ما یذ کر فی الشیب، حدیث: 5896؛ فتح الباری :10/ 364)

اس مفہوم کی اور بھی بہت سی روایات و آثار کتب حدیث میں مروی ہیں جنھیں طوالت سے بچتے ہوئے بیان نہیں کیا جا رہا؛ تاہم مندرجہ بالا روایاتِ صحیحہ سے یہ امر روزِروشن کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ آثارِ نبوی سے تبرک محض نبی اکرم ﷺ کی حیات طیبہ ہی سے خاص نہیں بل کہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی ان سے خیرو برکت حاصل کی جا سکتی ہے جیسا کہ صحابہ و سلف کا طریق کار تھا۔ البتہ یہاں ایک نکتہ قابل توجہ ہے کہ اہل علم کے مطابق آج کے دور میں رسول اکرم ﷺ کے آثار (لباس، بال مبارک) کا وجود قطعی اور حتمی دلیل سے ثابت نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا اس باب میں کوئی یقینی بات کہنا ممکن نہیں ہے۔(التوسل انواعہ ناصر الدین البانی ﷫ ص: 146)(مترجم))

2۔ مشروع اقوال و افعال سے تبرک لینا؛ یعنی اگر انسان انھیں بجا لائے تو اسے خیرو برکت حاصل ہوتی ہے،مثلاً:تلاوت قرآن، ذکرِ الہٰی اور علم و حکمت کی مجلسوں میں شریک ہونا۔

3۔اُن مقامات سے تبرک لینا جنھیں خدا نے با برکت بنایا ہے، مثلاً: مساجد اور مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ملک شام کے مقدس و متبرک مقامات۔

ان سے حصولِ برکت کے کے معنی یہ ہیں کہ وہاں خیر اور بھلائی کے کام کیے جائیں اور شریعت کے مقر ر کردہ اعمال کے ذریعے باری تعالیٰ کی عبادت کی جائے؛ یہ مقصود نہیں کہ ان کی دیواروں اور ستونوں کو چھوا اور چوما چا ٹا جائے۔

4۔ان اوقات و لمحات سے برکت حاصل کرنا جنھیں اللّٰہ عزوجل نے فضل و برکت کی زیادتی کے ساتھ خاص کیا ہے، مثلاً: ماہِ رمضان المبارک، عشرۂ ذی الحجہ، شبِ قدر اور ہر رات کا آخری تہائی حصہ۔

ان اوقات میں طلبِ خیرو برکت کا طریقہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ اعمال صالحہ کے ذریعے خدا کی بندگی کی جائے۔

5۔کھانے پینے کی جن اشیا میں باری تعالیٰ نے برکت رکھی ہے، اُن سے تبرک حاصل کیا جائے،مثلاً :زیتون کا تیل، شہد، دودھ، کلو نجی اور آبِ زم زم۔

(فائدہ: آبِ زم زم کے بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ اِسے ایک جگہ سے دوسرے مقام پر منتقل کرنے سے اس کی خیرو برکت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ )

ممنوع تبرک

اس کی تفصیل درج ذیل ہے:

1۔ مختلف مقامات اور جمادات سے تبرک

اس کی کئی صورتیں ہیں:

ا۔جن جگہوں کا مبارک ہونا شرعاً ثابت ہے، وہاں کی دیواروں کو چھونا؛ کھڑکیوں اور ستونوں کو چومنا؛ ان مقامات کی مٹی سے حصولِ شفا کا اعتقاد رکھنا۔

ب۔نیک اور صالح لوگوں کی قبروں اور مزرات سے برکت کا طالب ہونا۔

ج۔اُن مقامات سے تبرک لینا جو بعض تاریخی واقعات کے حوالے سے معروف ہیں، مثلاً رسول اکرم ﷺ کی جاے ولادت(مولد) ، غارِ حرا اور غارِ ثور وغیرہ۔

2۔مختلف اوقات اور زمانوں سے تبرک

اس میں امورِ ذیل شامل ہیں :

ا۔جن اوقات و لمحات کی فضیلت و برکت شرعاً ثابت ہے، اُن میں غیر مشروع اعمال اور بدعت پر مبنی عبادات بجا لانا۔

ب۔ ان اوقات اور زمانوں سے خیرو برکت کا حصول چاہنا جن کا متبرک ہونا شریعت سے ثابت ہی نہ ہو،مثلاً: میلاد النبی ﷺ کے دن عید منانا، شبِ معراج، شب براءت( پندرہ شعبان) اور دیگر ایسی راتوں میں خصوصی عبادت کرنا جو مختلف تاریخی حوادث و واقعات کے حوالے سے مشہور ہیں۔

3۔صالحین اور ان کے آثار سے تبرک

واضح رہے کہ رسول معظم ﷺ کی ذاتِ مقدسہ اور آپ ﷺ کے آثار کے سوا کسی انسان کی ذات یا آثار سے تبرک لینا ممنوع ہے اور نبی مکرم ﷺ کا معاملہ بھی آپ ﷺ کی حیات طیبہ سے خاص تھا۔

(علما کے ایک گروہ کی راے ہے کہ اولیا و صالحین سے تبرک ممنوع ہے کیوں کہ صحابۂ کرا م نے رسول اکرم ﷺ کے علاوہ کسی کے آثار سے یہ معاملہ نہیں کیا۔ ان میں سیدنا ابو بکر صدیق جیسی جلیل القدر ہستی موجود تھی جسے انبیائے کرام ﷩ کے بعد افضل البشر ہونے کا اعزا حاصل ہے لیکن کسی صحابی سے یہ ثابت نہیں کہ اس نے حضرت صدیق اکبر کی ذات یا آپ کے آثار سے تبرک لیا ہو۔ اسی طرح دیگر کبار صحابہ مثلاًسیدنا عمر فاروق، سیدنا عثمان غنی اور سیدنا علی المرتضیٰ سے بھی کسی کے تبرک لینے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ امام شاطبی ﷫ کے مطابق اس طرح کے تبرک کے ترک پر صحابۂ کرا م کا اجماع ہے۔ (الاعتصام للشاطبی، 2: 8)

علامہ ابن رجب حنبلی ﷫ نے بھی تصریح کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے علاوہ کسی سے تبرک لینا صحابۂ کرا م یا تابعین عظام سے ثابت نہیں۔ دلیل کی قوت کے علاوہ شرکیہ خرافات کے سد باب کے حوالے سے بھی یہ نقطۂ نگاہ مناسب ہے کیوں کہ اولیاے کرام اور مشایخ عظام کے تبرکات کی اجازت دے دی جاے تو پھر معاملہ ایک حد پر نہیں رُکتا بلکہ غلو اور مبالغہ آمیزی کی زَد میں آکر صریح شرک تک پہنچ جاتا ہے، جیسا کہ فی زمانہ مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ البتہ بعض اہل علم اولیا و صالحین کو رسول اللّٰہ ﷺ پر قیاس کرتے ہوئے، اُن سے حصول ِتبرک کو جائز قرار دیتے ہیں۔ اس لیے اگر کسی صالح اور صحیح العقیدہ عالم یا عابد و زاہد شخصیت کے آثار و مجالس سے تبرک لیا جائے تو اس کی گنجایش موجود ہے، بہ شر طے کہ تبرک لینے والا فکر و عقیدہ کی لغزشوں سے محفوظ ہو اور یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ برکت محض اللّٰہ عزوجل کی جانب سے ہے، نہ کہ اُس ہستی کا کمال۔ واللّٰہ اعلم۔ تبرک کے مسئلے پر تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو:

(ا) التبرک المشروع والتبرک الممنوع، ڈاکٹر علی بن نافع العلیانی۔ موَخر الذکر کتاب کا ترجمہ بہ نام: جائز اور ناجائز تبرک، مولانا عمر فاروق السعیدی کے قلم سے شائع ہوئی ہے۔ (مترجم))

تبرک سے متعلق چند اہم قواعد و ضوابط

1۔تبرک عبادت ہے اور عبادات میں اصل ممانعت ہے، حتٰی کہ اس کی مشروعیت اور جواز کی دلیل مل جائے۔

2۔ برکت سرا سر خدا تعالیٰ ہی کی جانب سے ہوتی ہے؛ وہی اس کا مالک اور عطا کرنے والا ہے، لہٰذا کسی دوسری ہستی سے برکت طلب کرنا درست نہیں ہے۔

3۔ جن اشیا کا متبرک ہونا شرعاً ثابت ہے، اُن سے صرف اُسی شخص کو برکت حاصل ہو سکتی ہے جو توحید پر کار بند ہو اور خدا اور رسول اللّٰہ ﷺ پر پختہ ایمان رکھتا ہو۔

4۔ جن چیزوں کی برکت از رُوے شریعت ثابت ہے، اُن سے تبرک لینے کے لیے جائز طریقے اپنانے چاہییں اور ایسے طور طریقوں سے اجتناب کرنا چاہیے جو سلف صالحین سے ثابت نہیں ہیں۔

امام ابن القيم ﷫فرماتے ہیں :

“المصالح والخيرات واللذات والكمالات، كلها لا تُنال إلا بحظ من المشقة، ولا يُعبر إليها إلا على جسر من التعب ؛ وقد أجمع عقلاء كل أمة على أن النعيم لا يُدرك بالنعيم، وأن من آثر الراحة فاتته الراحة، وأن بحسب ركوب الأهوال واحتمال المشاق تكون الفرحة واللذة ؛ فلا فرحة لمن لا هَمَّ له، ولا لذة لمن لا صبر له، ولا نعيم لمن لا شقاء له، ولا راحة لمن لا تعب له؛ بل إذا تعب العبد قليلا استراح طويلا.” ( مفتاح دار السعادة :2؍15)

’’مصالح و خیرات اور لذات و کمالات؛ سب ایک مشقت کے بعد حاصل ہوتے ہیں، تھکاوٹ کے پل سے گزرنا ہوتا ہے۔ داناؤں کا اجماع ہے کہ خوشیوں کے راستے میں خوشیاں نہیں ہوتیں، جو راحت کیلیے رک جائے وہ راحت سے محروم ہو جاتا ہے، اور راستے کے خطرات و مشقتوں کے بقدر ہی بعد میں راحت و سکون ملتا ہے۔ جو غم نہیں سہتا وہ خوشی نہیں پاتا، جو صبر نہیں کرتا وہ لذت نہیں چکھتا، جو مشکلیں نہیں دیکھتا وہ آسائش سے بھی محروم رہتا ہے، جو تھکتا نہیں ہے اسے سکون نہیں ملتا۔ طویل تر سکون کیلیے کچھ گھڑی کی تھکاوٹ ضروری ہے۔‘‘

تبصرہ کریں