
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ (سورۃ الانفال : 25)
’’اور اس عظیم فتنے سے بچ جاؤ جو لا زما ان لوگوں کو خاص طور پر نہیں پہنچے گا جنھوں نے تم میں سے ظلم کیا اور جان لو کہ اللہ بہت سخت سزا والا ہے ۔‘‘
سیدنا اسامہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ مدینہ کے ٹیلوں میں سے ایک ٹیلے پر چڑھے پھر فرمایا کہ میں جو کچھ دیکھتا ہوں تم بھی دیکھتے ہو؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :
هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى؟ إِنِّي لَأَرَى الْفِتَنَ تَقَعُ خِلَالَ بُيُوتِكُمْ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ
’’میں فتنوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ بارش کے قطروں کی طرح تمہارے گھروں میں داخل ہو رہے ہیں۔‘‘
(صحیح بخاری: 7060؛ مسند احمد : 21748-21810؛ مسند البزار:2565)
یہ حقیقت ہے کہ یہ دور فتنوں کا دور ہے، ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا فتنہ سر اٹھاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ فتنے اس قدر ہیں کہ ہر جگہ فتنوں کی بھر مار ہے، کسی کو بھی فتنوں سے مفر نہیں ۔ کہیں مال کا فتنہ ہے، کہیں بے حیائی کا فتنہ ہے، قتل وغارت سمیت عورتوں کا فتنہ ہے، علمائے کرام کو چھوڑ کر جاہلوں کو امام بنانے کے فتنوں کے ساتھ ساتھ فتنۂ جہالت ہے۔ دنیا ترقی ہی کیا کر گئی سوشل میڈ یا سینکڑوں فتنوں کا مرکز بن چکا ہے، گو یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ دنیادار الفتن بن چکی ہے۔
ایسے حالات میں اسلام ہماری کیا راہنمائی کرتا ہے؟ ہمیں کیسے فتنوں کا مقابلہ کرنا ہے؟
اور کیسے اپنے دین کی حفاظت کرنی ہے؟
اس مضمون میں یہ سب کچھ جاننے کی کوشش کریں گے تا کہ ہم آنے والے فتنوں سے خود بھی محفوظ رہ سکیں اور اپنی آنے والی نسلوں کی تربیت کا سامان کر سکیں۔
پُرفتن دور میں ہمارا کردار کیسا ہو؟
فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنا
ہر مسلمان کو فتنوں سے بچنے کیلئے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرنی چاہئے ۔ کیونکہ اللہ تعالی کے سوا اور کوئی نہیں جوان فتنوں سے بچا سکے۔
سيدنا زید بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا:
«تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ»
’’تم تمام فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرو، ان میں سے جو ظاہر ہوں ان سے بھی اور جو باطن ہوں ان سے بھی۔“
چنانچہ صحابہ کرام نے کہا:
نَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ
’’ہم تمام فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں، ان میں سے جو ظاہر ہوں ان سے بھی اور جو باطن ہوں ان سے بھی۔“ (صحیح مسلم: 2867)
اور خود رسول اکرم ﷺ کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تعلیم دی گئی:
يَا مُحَمَّدُ إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرَكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِيْنَ ، وَإِذَا أَرَدتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةٌ فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونِ
’’اے محمد ﷺ ! جب آپ نماز پڑھ لیں تو یہ دعا پڑھا کریں: اے اللہ ! میں تجھ سے نیکیاں کرنے اور برائیوں کو چھوڑنے اور مسکینوں سے محبت کا سوال کرتا ہوں اور جب تو اپنے بندوں کو فتنہ میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے اُس میں مبتلا کئے بغیر میری روح کو قبض کر لینا۔“ (جامع ترمذی: 3233، 3234)
اس لیے فتنوں میں ہدایت اور صراط مستقیم پر گامزن رہنے کے لیے بکثرت دعائیں مانگنی چاہیں ، جیسا کہ
سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ
تَكُونُ فِتْنَةٌ لَا يُنْجِئ مِنْهَا إِلَّا دُعَانُ كَدُعَائِ الْغَرِيْقِ
’’جب فتنہ واقع ہوتا ہے تو اس سے ایسی دعا نجات دلا سکتی ہے جیسی دعا پانی میں غرق ہونے والا کرتا ہے۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ: 7؍531)
عقیدہ توحید پر ثابت قدم رہنا
فتنوں کے دور میں مسلمان کو عقیدۂ توحید پر ثابت قدمی اور مستقل مزاجی سے قائم رہنا چاہئے ۔ کیونکہ یہی عقیدہ ہی مسلمان کو اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ اُس پر جو بھی آزمائش آتی ہے اور جو بھی فتنہ آتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آتا ہےاور وہ اللہ تعالیٰ کی قضاء وقدر کا حصہ ہے، جسے اس کو برداشت کرنا ہے اور اسے ہر حال میں راضی رہنا ہے اور ہر صورت میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ ۚ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴾ (سورۃ التغابن : 11)
’’جو مصیبت بھی آتی ہے وہ اللہ کے اذن (اجازت) سے ہی آتی ہے اور جو اللہ پر ایمان لائے تو اللہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔“
اس آیت مبارکہ میں اگر ہم تھوڑا سا غور کریں تو اس میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس بات سے آگاہ کیا ہے کہ ہر آزمائش و مصیبت اللہ ہی کے حکم سے آتی ہے۔ لہٰذا ایسی صورتحال میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے کہ جس کے حکم سے آزمائش ومصیبت آتی ہے وہی اس سے بچانے اور اسے ٹالنے پر بھی قادر ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ
﴿وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ﴾
یعنی جس شخص کو اللہ تعالیٰ پر یقین کامل ہوگا اس کے دل کی اللہ تعالی را ہنمائی کر دے گا، چنانچہ وہ جان لیتا ہے کہ اس پر آنے والی آزمائش و مصیبت اس سے چوک نہیں سکتی اور جو چیز اس سے چوک جانے والی ہے وہ اسے پہنچ نہیں سکتی۔ یہی یقین راسخ اس کے دل کو مضبوط کرتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہر آزمائش و مصیبت کو برداشت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
چنانچہ ہم جب بھی عقیدہ و منہج ، عدالت و قانون سازی علم وعمل الغرض ہر لحاض سے پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جائیں گے تو ہر طرح سے امت کیلئے امن و امان قائم ہو جائے گا، اور امت مسلمہ امن و امان کا گہوارہ بن جائے گی ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ﴾ (سورۃ الأنعام: 82)
’’جو لوگ ایمان لائے ، اور اپنے ایمان میں ظلم (شرک) کی آمیزش نہیں کی ، حقیقت میں یہی لوگ امن کے مستحق اور ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘
اور فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا ﴾ (سورۃ الحج: 38)
’’یقینا اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں کا دفاع کرتا ہے۔‘‘
میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے دفاع کی ذمہ داری خود لی ہے، جبکہ فرمان الٰہی ہے:
﴿إِنَّا لَتَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ﴾ (سورة غافر: 51)
’’اٹل حقیقت ہے کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی دنیا میں بھی اور قیامت کے دن بھی ضرور مدد کرینگے۔‘‘میں نصرت الٰہی کا وعدہ بھی ہے۔
کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کو مضبوطی سے تھامنا
کیونکہ جو شخص کتاب اللہ کی تلاوت کرتا ہے، اس کا مطالعہ کرتا ہے، اس میں تدبر اور غور و فکر کرتا ہے، تو اللہ تعالی اسے ہدایت دیتا ہے، فتنوں میں اس کی راہنمائی کرتا ہے، اسے فتنوں کے اندھیروں سے نکال کر حق کی روشنی دکھاتا اور راہ حق پر گامزن کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ 0 يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴾ (سورۃ المائدة : 15۔16)
’’تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور (ایسی ) واضح کتاب آچکی ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو سلامتی کی راہوں کی طرف ہدایت دیتا ہے جو اس کی رضا کی اتباع کرتے ہیں اور اپنے حکم سے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے اور صراط مستقیم کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے۔“
اور یہی معاملہ سنت رسول ﷺ کا بھی ہے، کیونکہ رسول اکرم ﷺ نے امت میں اختلاف کثیر واقع ہونے کی صورت میں اپنی سنت اور خلفائے راشدین کے طرز عمل پر سختی سے عمل کرنے کا حکم دیا ہے۔اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيْنَ الرَّاشِدِيْنَ ، تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُوْا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُوْرِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»
’’تم میری سنت کو لازم پکڑنا اور اسی طرح ہدایت یافتہ اور راہ راست پر گامزن خلفاء کے طریقے پر ضرور عمل کرنا ۔ اس کو مضبوطی سے تھام لینا اور اسے قطعا نہ چھوڑنا۔ اور تم دین میں نئے نئے کام ایجاد کرنے سے بچنا کیونکہ ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“ (سنن ابی داؤد: 4607)
خلفائے راشدین کے طرز عمل کو اختیار کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ ان کے ادوار خلافت میں بھی مختلف فتنوں نے سراٹھایا ، چنانچہ انہوں نے جس طرح ان کا مقابلہ کیا اور جس طرح انہوں نے ان فتنوں کی آگ کو ٹھنڈا کیا اس سے یقیناً آج کے فتنوں کا مقابلہ کرنے میں بھی بہت حد تک راہنمائی مل سکتی ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے امت کیلئے جن دو چیزوں کو چھوڑا اور جن کو مضبوطی سے تھامنے پر اس بات کی گارنٹی دی کہ یہ امت گمراہ نہیں ہوگی وہ کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ ہی ہیں۔
رسول اکرم ﷺنے حجۃ الوداع کے موقعہ پر فرمایا تھا:
تَرَكْتُ فِيْكُمْ شَيْئَيْنِ ، لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُمَا : كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِي ، وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَى الْحَوْضَ
’’میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ ان کے بعد ( یعنی اگر تم نے انہیں مضبوطی سے تھام لیا تو ) کبھی گمراہ نہیں ہو گے ۔ ایک ہے کتاب اللہ ( قرآن مجید ) اور دوسری ہے میری سنت ۔ اور یہ دونوں کبھی جدا جدا نہیں ہونگی یہاں تک کہ حوض پر میرے پاس آئیں گی ۔“ (صحيح الجامع: 2937)
لہٰذا اس دور کے مختلف فتنوں سے بچنے کیلئے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں کہ ہم کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کو مضبوطی سے تھام لیں اور انہی سے راہنمائی لیں اور انہی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا ئیں۔
دینی علم حاصل کرنا
فتنوں سے بچے کیلئے ضروری ہے کہ آپ دینی علم حاصل کریں، کیونکہ علم وہ نور ہے جوفتنوں کے تاریک راستوں کو روشن کرتا ہے۔ جبکہ علم کے مقابلے میں جہالت وہ تاریکی ہے جو انسان کو تباہی کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے۔ والعیاذ باللہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
﴿فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُوْنَ ﴾ (سورۃ التوبہ: 122)
’’پھر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ہر فرقہ میں سے کچھ لوگ دین میں سمجھ پیدا کرنے کیلئے نکلتے تا کہ جب وہ ان کی طرف واپس لوٹتے تو اپنے لوگوں کو (برے انجام سے) ڈراتے ، اس طرح شاید وہ ( برے کاموں سے ) بچے رہتے ۔‘‘
سيدنا حذیفہ بن یمان کہتے ہیں کہ
كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي
’’لوگ آپ ﷺ سے خیر کے بارے میں پوچھتے اور میں آپ ﷺ سے شر کے بارے میں پوچھتا کہ کہیں مجھے آنہ لے۔ (الصحیحہ للألبانی: 2739)
آج کل جو نئے نئے فتنے سر اٹھا رہے ہیں اور جس طرح اسلامی تعلیمات کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے اور ہر آئے دن شکوک و شبہات پیدا کر کے نئی نسل کو دین سے بیزار کرنے کی مذموم کوششیں کی جارہی ہیں، تو ان سب چیزوں کا مقابلہ قرآن وحدیث پر مبنی شرعی علم کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔
یا درکھیں !’شرعی علم‘ شرعی علماء سے ہی حاصل کرنا چاہئے جن کے پاس قرآن وحدیث کا علم ہے، نہ کہ ان لوگوں سے کہ جو کل تک سنگر ( گانا گاتے ) تھے اور آج سکالر بن کر ٹی وی کی سکرین پر مفتی یا مبلغ بنے بیٹھے ہیں۔ اور نہ ہی ان نام نہاد مفتیان سے کہ جو قرآن مجید کی ایک آیت بھی صحیح طریقے سے نہیں پڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی حدیث رسول ﷺ کا انہیں کوئی علم ہے اور نہ ہی ایسے لوگوں سے کہ جو سنی سنائی باتیں کرتے ہیں اور سوشل میڈ یا پر گردش کرتی ہوئی جھوٹی اور من گھڑت روایات بیان کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا:
«إِنَّ اللهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ ، وَلَكِن يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا ، اِتَّخَذَ النَّاسُ رُوسًا جُهَّالًا ، فَسُئِلُوْا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوْا وَأَضَلُّوا»
’’اللہ تعالی علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے بندوں ( کے دلوں ) سے کھینچ لے ، بلکہ وہ علماء کی ارواح کو قبض کر کے علم کو اٹھائے گا۔ یہاں تک کہ جب کسی عالم کو باقی نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو مفتی بنالیں گے۔ چنانچہ ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتوی دیں گے، اس طرح وہ خود بھی گمراہ ہونگے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے ۔“ (صحیح بخاری : 100؛ صحیح مسلم: 2673)
اسی طرح ایک اور بات کی تنبیہ بھی انتہائی ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ آج کل بہت سارے لوگ گوگل کے ذریعے علم حاصل کرتے ہیں! حالانکہ گوگل، صحیح علم کی طرف بھی راہنمائی کرتا ہے اور غلط کی طرف بھی۔ حق کی طرف بھی اور باطل کی طرف بھی۔ لہٰذا گوگل کے ذریعے علم حاصل کرنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ علم کے حصول کیلئے گوگل سے مدد ضرور لیں، لیکن علم صرف ان ویب سائٹس سے لیں جن کا منہج بالکل واضح ہے اور ان میں قرآن وحدیث پر مبنی شرعی علم پایا جاتا ہے ۔ اور ان ویب سائٹس سے اجتناب کریں جن کا منہج واضح نہیں ہے اور ان میں ہر رطب و یابس کوجمع کیا گیاہے اور صحیح اور غلط میں فرق نہیں کیا گیا۔
مسلمانوں کی جماعت میں شامل رہنا اور تفرق سے اجتناب کرنا
سیدنا حذیفہ بن یمان بیان کرتے ہیں کہ لوگ عام طور پر رسول اللہ ﷺ سے خیر کے بارے میں سوال کرتے تھے اور میں آپ ﷺ سے شر کے متعلق سوال کرتا تھا، کیونکہ مجھے اس بات کا اندیشہ رہتا تھا کہ کہیں میں شر میں مبتلا نہ ہو جاؤں۔ چنانچہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول (ﷺ)! ہم جاہلیت اور شر میں تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس خیر (اسلام) سے مشرف کیا، تو کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر آئے گا ؟آپ ﷺنے فرمایا: ہاں۔ میں نے پوچھا: کیا اس شر کے بعد بھی کوئی خیر آئے گی؟
آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں، اور اس میں کدورت ہوگی۔ میں نے کہا: کدورت سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا:
«قَوْمٌ يَسْتَنُّوْنَ بِغَيْرِ سُنَّتِي ، وَيَهْدُوْنَ بِغَيْرِ هَدْيِيْ ، تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ»
’’ایسے لوگ آئیں گے جو میرے طریقے کو چھوڑ کر دوسرے طریقے پر چلیں گے اور میری سیرت کو چھوڑ کر کسی اور کی سیرت سے راہنمائی لیں گے۔ تمہیں اُن کی بعض باتیں اچھی لگیں گی اور بعض بری لگیں گی ۔“میں نے پوچھا: کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر آئے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
«نَعَمْ ، دُعَاةٌ إِلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيْهَا»
’’ہاں کچھ داعی ایسے آئیں گے جو جہنم کے دروازوں کی طرف بلائیں گے، جو بھی ان کی دعوت کو قبول کرے گا وہ اس کو اس میں گرادیں گے۔“
میں نے کہا: اے اللہ کے رسول (ﷺ)! ان کی صفات بیان فرمائیں۔آپ ﷺ نے فرمایا:
«هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا»
’’وہ لوگ ہم میں سے ہی ہونگے اور ہماری ہی زبان میں بات کریں گے ۔“
میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اگر وہ زمانہ مجھ پر آ گیا تو آپ مجھے کیا مشورہ دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
«تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَاءَهُمْ»
’’تم ہر حال میں مسلمانوں کی جماعت اور ان کے حکمران سے وابستہ رہنا۔“
میں نے کہا : اگر مسلمانوں کی جماعت اور ان کا حکمران نہ ہو تو ؟آپ ﷺ نے فرمایا:
«فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا ، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ عَلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ ، حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ»
’’پھر تم ان تمام فرقوں کو چھوڑ دینا، خواہ تمہیں درخت کی جڑیں کیوں نہ چبانا پڑیں، یہاں تک کہ تجھ پراسی حالت میں موت آجائے ۔“ (صحیح بخاری: 3606؛ صحیح مسلم : 1847)
اور مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہونا کس قدر خطر ناک ہے! اس کا اندازہ آپ اس حدیث سے کر سکتے ہیں جس کے راوی سیدنا عبد اللہ بن عباس ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ ، فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا، فَمَاتَ ، فَيْتَهُ جَاهِلِيَّة»
’’جو شخص اپنے حکمران سے کوئی ایسی چیز دیکھے جسے وہ نا پسند کرتا ہو تو اسے صبر کرنا چاہئے ، کیونکہ جو آدمی جماعت سے بالشت بھر الگ ہو اور اسی حالت میں اس کی موت آجائے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔“ (صحیح مسلم: 1849)
بُرے لوگوں سے کنارہ کیجئے
اپنے آپ کو فاستوں کی صحبت سے بچائے، چنانچہ جو شخص دین میں بگاڑ اور خرابیاں پیدا کرنے کے اسباب سے دور رہے گا تو اللہ تعالی کے حکم سے اس کا دین بگڑنے سے محفوظ رہے گا، اور یہ بھی ممکن ہے کہ کفار کے معاشرے میں رہنے والا مسلمان شخص کفریہ معاشرے سے متاثر ہو جائے ، ہم نے بہت سے ایسے لوگوں کے بارے میں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا ہے کہ وہ دین اسلام سے بیزار ہو گئے، جنہوں نے اپنے دین کا سودا فانی دنیا سے کر لیا؟ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ کفریہ معاشرے اور کافروں سے مرعوب ہو گئے ، اور ان کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ان کا دل اور ضمیر دونوں مردہ ہو گئے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ بھی کہتے ہیں:
’’مسلمانوں کے ہاں سر اٹھانے والے فتنوں کے حالات کا اچھی طرح سے مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جسے ان امور میں دخل اندازی کا فائدہ ہوا ہو؛ کیونکہ ایسے امور میں دخل اندازی کا دینی اور دنیاوی ہر اعتبار سے نقصان ہوتا ہے، اسی لیے اسے شریعت میں منع قرار دیا گیا ہے، لہٰذا ایسے امور سے بیچ کر رہنا، ان فرامین الٰہیہ میں سے ہے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴾
’’اللہ کے حکم کی مخالفت کرنے والوں کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں انہیں فتنہ یا دردناک عذاب نہ پہنچ جائے۔‘‘ (منہاج السنۃ النبویہ : 4؍410)
علامہ خطابی کہتے ہیں:
’’ تم صرف اسی کو اپنا دوست بناؤ جس کا دین اور امانت تمہیں پسند ہو؛ کیونکہ اگر تم ایسے شخص سے دوستی کرو گے تو وہ تمہیں اپنے دین اور مذہب کی جانب لے جائے گا، اس لیے کسی ایسے شخص سے دوستی کر کے اپنے دین کو خطرے میں مت ڈالو جس کا دین اور مذہب تمہیں پسند نہیں ہے۔‘‘ (العزلۃ: ص141)
فتنوں کے ایام میں خصوصی طور پر عبادت میں مشغول رہنا
سیدنا معقل بن یسار ی سے روایت ہے کہ رسول ﷺ کا ارشاد ہے:
الْعِبَادَةُ فِي الْمَرْجِ كَهِجْرَةِ إِلَيَّ
’’فتنوں میں عبادت کرنا ایسے ہے جیسے میری طرف ہجرت کرنا ہے۔“ (صحیح مسلم : 2948)
مطلب یہ ہے کہ زمانہ نبوی میں فتح مکہ سے پہلے دار الحرب سے ہجرت کر کے مدینہ آجانے اور آپ ﷺ کی رفاقت و صحبت کا شرف رکھنے والے کو جو عظیم ثواب ملتا تھا اس طرح کا عظیم ثواب اس شخص کو بھی ملے گا جوفتنہ و فساد کی جہالت و تاریکی سے اپنے کو محفوظ رکھ کر اور مسلمانوں کی باہمی محاذ آرائی سے اپنا دامن بچا کر مولیٰ کی عبادت میں مشغول اور اپنے دین پر قائم رہے۔
عقل کا صحیح استعمال کرتے ہوئے اپنی زبان، ہاتھ پاؤں وغیرہ کی حفاظت کریں
سیدنا ابن مسعود بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :
«تَكُوْنُ فِتْنَةٌ أَلنَّائِمُ فِيْهَا خَيْرٌ مِنَ الْمُضْطَجِعِ وَالْمُضْطَجِعُ فِيْهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَاعِدِ وَالْقَاعِدُ فِيْهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي وَالْمَاشِيُّ خَيْرٌ مِنَ الرَّاكِبِ وَالرَّاكِبُ فِيْهَا خَيْرٌ مِنَ الْمُجْرَى»
’’فتنوں کا ایسا زمانہ شروع ہوگا کہ اس میں سونے والا لیٹنے والے سے بہتر ہوگا، لیٹنے والا بیٹھنے والے سے بہتر ہوگا، بیٹھنے والا کھڑا ہونے والے سے بہتر ہوگا، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا، چلنے والا سوار سے بہتر ہوگا اور سوار دوڑنے والے سے بہتر ہوگا ۔‘‘
راوی حدیث نے کہا کہ
فَيمَ تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ الزَّمَانَ قَالَ أُكْفُفْ نَفْسَكَ وَيَدَكَ وَادْخُلْ دَارَكَ
’’اگر میں ایسا زمانہ پالوں تو آپ میرے حق میں کیا حکم دیتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرما یا کہ اپنے آپ کو اور اپنے ہاتھ کو قابو میں رکھنا اور اپنے گھر کے اندر رہنا، میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺاگر کوئی فتنے باز میرے گھر کے اندر بھی گھس آیا تو مجھے کیا کرنا چاہیئے ؟ تو آپ ﷺنے فرمایا کہ تو اپنے کمرے میں داخل ہو جانا ، میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ اگروہ میرے کمرے میں گھس آئے تو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنی سجدہ گاہ میں داخل ہو جانا اور اس طرح کر لینا، پھر آپ ﷺ نے دائیں ہاتھ سے کلائی کو پکڑ لیا اور فرمایا کہ تم یہ مرتے دم تک کہتے رہنا کہ میرا رب اللہ ہے۔‘‘ (الصحيحۃ للألبانی: 3254)
نیز ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ
«سَتَكُونُ فِتَنْ ألْقَاعِدُ فِيْهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيْهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي وَالْمَاشِئ فِيْهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِى وَمَنْ يُشْرِفْ لَهَا تَسْتَشْرِفُهُ وَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأَ أَوْ مَعَاذَا فَلْيَعُذْبِهِ »
’’عنقریب فتنوں کا درو دورہ ہوگا، ان میں بیٹھنے والا کھڑا ہونے والے سے بہتر ہوگا، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا، جو اس فتنے میں جھانکے گا، فتنہ اسے بھی اچک لے گا، اس لئے ایسے حالات میں جو کوئی جہاں جگہ یا پناہ پائے وہاں چلا جائے۔‘‘ (صحیح بخاری: 3601؛ صحیح مسلم: 2886)
تقوی اختیار کرنا
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَقُوا اللهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيَاتِكُمْ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ ﴾ (سورۃ الأنفال : 29)
”اے ایمان والو! اگر تم اللہ تعالی سے ڈرتے رہو تو وہ تمہیں ( نور بصیرت عطا کر کے حق و باطل میں ) فرق کرنے کی توفیق دے گا تمھارے گناہوں کو مٹادے گا اور تمھیں معاف کر دے گا۔ اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘‘
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ﴾(سورۃ الطلاق: 3.2)
’’اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کیلئے مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔“
قارئین کرام! پوری امت اس بات کا یقین کر لے کہ برے حالات ہمارے اپنے ہی گناہوں اور بے حیائی کے عام ہونے کی وجہ سے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے واضح لفظوں میں فرمایا:
﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِير﴾ (سورۃ الشوری: 30)
’’اور تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے اسکا سبب تمہارے اپنے کرتوت ہیں، حالانکہ اللہ تمہارے بہت سے گناہوں کو معاف بھی کر دیتا ہے۔‘‘
شادمانی و کامرانی کا راستہ یہی ہے کہ تمام مسلم معاشرے اللہ کی اطاعت پر کا ربند ہوجائیں ، اور نبوی سنت کو اپنالیں۔ چنانچہ تقوی و اطاعت الٰہی ، اور اتباع سنت بحرانوں سے بچاؤ کا مضبوط ترین قلعہ ہے، جو ہر قسم کے حالات واوقات میں کام آتا ہے، قرآن حکیم نے اسی بات کا اعلان کیا:
﴿وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَكِنْ كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ (سورۃ الأعراف: 96)
’’اور اگر کسی بھی معاشرے کے لوگ ایمان اور تقوی اختیار کر لیں تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیں لیکن افسوس ) انہوں نے تکذیب کی اور پھر ہم نے انکے کرتوتوں کی وجہ سے پکڑ لیا۔ ‘‘
اس لئے مسلمانوں کو چیخ و پکار کی بجائے محاسبہ نفس کرنا چاہئے ، اپنے دلوں کی اصلاح کریں، زندگی کی تمام سرگرمیاں اللہ کی رضا کے مطابق بنائیں، سابقہ گناہوں سے سچی توبہ کریں، کیونکہ پناہ صرف اللہ کی ذات ہی دے سکتی ہے، وہ ہی محفوظ ترین پناہ گاہ کا بندو بست کر سکتا ہے، اگر اللہ کی طرف رجوع نہیں کرنا تو فتنے ہر طرف سے پے در پے حملے کرینگے۔
کثرت سے تو بہ واستغفار کرنا
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ (سورۃ الأنفال: 33)
’’اور اللہ ایسے لوگوں کو عذاب دینے والا نہیں جو استغفار کر رہے ہوں ۔“
اس لیے فتنوں کے دور میں مسلمانوں کو صدق دل سے اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور اپنے تمام گناہوں پر اس کے سامنے ندامت و شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے اس سے معافی مانگنی چاہئے ۔ یوں اللہ تعالی انھیں اپنے فضل و کرم کے ساتھ فتنوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔
فارغ اوقات کو نفع بخش امور میں مشغول کرنا
سید نا عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کسی شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
«اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ : شَبَابَكَ قَبْلَ هِرَمِكَ، وَصِحْتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ، وَعِنَاءَكَ قَبْلَ فَقْرِكَ، وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ، وَحَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ» (مستدرک صحیحین: 7846)
’’ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو : بڑھاپے سے پہلے جوانی کو، بیماری سے پہلے صحت کو، محتاجی سے پہلے تونگری کو، مصروفیت سے پہلے فراغت کو اور موت سے پہلے زندگی کو۔ “
اس حدیث میں مذکورہ پانچوں چیزیں ( یعنی بڑھاپا، بیماری ، غربت ، مشغولیت اور موت ) انسان کیلئے فتنہ بن سکتی ہیں۔ اسی لئے رسول اکرم ﷺ نے ان سے پہلے جوانی ، تندرستی ، تونگری ، فراغت اور زندگی کو غنیمت سمجھ کر ان سے بھر پور فائدہ اٹھانے کا حکم دیا۔
صبر کرنا
یعنی مختلف آزمائشوں اور فتنوں کو برداشت کرنا اور ثابت قدمی اور استقامت کا مظاہرہ کرنا۔ رسول اکرم ﷺکا ارشاد گرامی ہے:
«وَاعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا »
’’اور یقین کر لو کہ مدد صبر کے ساتھ آتی ہے اور ہر پریشانی کے بعد خوشحالی یقینی ہےاور ہر تنگی آسانی اور آسودگی کو لاتی ہے۔“ (مسند أحمد: 2804؛ جامع ترمذی: 2516)
قارئین کرام! ہم نے فتنوں کے شر سے بچنے کیلئے اب تک دس اسباب ذکر کئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ان تمام اسباب کو اختیار کرنے کی توفیق دے۔ اور ہمیں ہر قسم کے فتنوں اور ان کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین
گوشہ عافیت میں چھپ جانا
سیدنا ابو موسی ہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ فتنوں کے دور میں اپنی کمانیں توڑ دینا اور ان کی تانتیں کاٹ دینا:
«وَأَلْزِمُوا أَجْوَافَ الْبُيُوْتِ وَكُوْنُوْا فِيْهَا كَا خَيْرِ مِنْ ابْنَيْ آدَمَ »
’’اور اپنے گھروں کے اندر ہی رہنا اور آدم کے دو بیٹوں میں سے نیک بیٹے کی طرح (جنگ وجدل سے دست کش ) ہو جانا۔‘‘ (الصحیحہ للألبانی: 1524)
سیدنا ابوسعید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
«يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَلَمْ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ»
’’عنقریب ایسا زمانہ آنے والا ہے جب کہ ایک مسلمان کے لئے اس کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جن کو لے کر وہ پہاڑی پر بارش برسنے کی جگہ چلا جائے اور فتنوں سے بھاگ کر اپنا دامن بچالے۔‘‘ (صحيح بخاری:19+7088؛ سنن ابن ماجہ: 3980)
اس حدیث کا مطلب بھی یہ تلقین کرنا ہے کہ جب ایسے فتنے رونما ہوں جن سے مسلمانوں میں باہمی افتراق و انتشار اور جنگ وجدل کی وبا پھیل جائے اور ایسا ماحول پیدا ہو جائے جس میں دین کو بچانا مشکل ہو تو اس وقت نجات کی راہ یہی ہوگی کہ گوشہ تنہائی اختیار کر لیا جائے اور جس قدر ممکن ہو سکے اپنے آپ کو دنیا والوں سے الگ تھلگ کرلے، چناچہ فرمایا کہ ایسے میں سب سے بہتر صورت یہ ہوگی کہ ایک مسلمان بس چند بکریوں کا مالک ہو اور وہ ان بکریوں کو لے کر کہیں دور جنگل میں یا پہاڑ پر کسی ایسی جگہ چلا جائے جہاں کوئی چراگاہ اور پانی ملنے کا ذریعہ ہو اور وہاں ان بکریوں کو چرا کر ان کے دودھ کی صورت میں بقدر حیات غذائی ضروریات پر قناعت کر کے اپنی زندگی کے دن گزارتا رہے، تا کہ نہ دنیا والوں کے ساتھ رہے اور نہ دین کو نقصان پہنچانے والے فتنہ میں مبتلا ہو۔ لوگوں کو چھوڑیں اور اپنی آخرت کی فکر کیجئے۔
فتنوں کے دور میں لوگوں کو چھوڑ کر اپنی آخرت کی فکر کریں۔ جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ
’’اے عبداللہ بن عمر و، اس وقت تیرا کیا بنے گا جب تو گھٹیا اور ادنیٰ درجے کے لوگوں میں باقی رہ جائے گا، ان کے عہد و پیمان اور امانت و دیانت میں کھوٹ پیدا ہو جائے گی ، وہ اختلاف وافتراق میں پڑ جائیں گے اور وہ اس طرح خلط ملط ہو جائیں گے، پھر آپ ﷺ نے اشارہ کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کردیا ، میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ آپ مجھے ایسے حالات میں کیا حکم دیں گے؟ تو آپ ﷺنے فرمایا :
« عَلَيْكَ بِخَاصَتِكَ وَدَعْ عَنْكَ عَوَامَهُمْ»
’’ اپنی آخرت کی فکر کرنا اور عوام الناس کے معاملات میں نہ پڑنا۔‘‘(الصحیحہ للألبانی : 206)
منافقوں کی سازشوں سے خبر دار رہا جائے
کیونکہ یہ لوگ مسلمانوں کے اندر موجود ہوتے ہیں اور اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے خلاف مختلف قسم کی سازشوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانا مسلمانوں کی قوت کا شیرازہ بکھیر نا اور ان میں پھوٹ ڈالنا ہوتا ہے۔ یہ لوگ ہر آئے دن کوئی نہ کوئی نیا فتنہ کھڑا کر دیتے ہیں اور مسلم ممالک میں انتشار، لاقانونیت اور فساد پھیلانے کی مذموم کوشش کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ مدینہ منورہ کے منافقوں کی سازشوں سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:
﴿ لَوْ خَرَجُوا فِيكُم مَّا زَادُوكُمْ إِلَّا خَبَالًا وَلَأَوْضَعُوا خِلَالَكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ وَفِيكُمْ سَمَّاعُونَ لَهُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ 0 لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِن قَبْلُ وَقَلَّبُوا لَكَ الْأُمُورَ حَتَّىٰ جَاءَ الْحَقُّ وَظَهَرَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَارِهُونَ﴾ (سورۃ التوبہ: 47۔48)
’’ اگر وہ (منافق) تمہارے ساتھ نکلتے تو تمہارے لئے شر و فساد میں اضافہ ہی کرتے اور فتنہ پھیلانے کے ارادے سے تمہاری صفوں میں جھوٹی باتوں کے گھوڑے دوڑاتے ۔ اور اب بھی تمہارے درمیان ان کے جاسوس موجود ہیں اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ انہوں نے پہلے بھی ( غزوۂ احد اور غزوۂ خندق میں ) فتنہ پیدا کرنا چاہا اور معاملات کو آپ کے لیے الٹ پلٹ کر رہے تھے، یہاں تک کہ حق سامنے آگیا اور اللہ کاحکم غالب ہوا اگر چہ وہ نہیں چاہتے تھے۔“
جلد بازی سے اجتناب
فتنوں کے شر سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ جب کبھی کوئی فتنہ اور آزمائش آئے تو مسلمان جلد بازی نہ کریں، بلکہ تحمل، برد باری اور ٹھہراؤ سے کام لیں ۔ اسباب و عوامل اور نتائج پر سوچ و بچار کریں ، صائب الرائے لوگوں سے مشاورت کریں اور اگر ملکی و قومی سطح پر کوئی آزمائش آئے تو ارباب اقتدار کو موزوں اقدامات اٹھانے دیں اور ان کے سامنے کسی قسم کی رکاوٹ کھڑی کرنے کی بجائے ان کے دست و بازو بنیں۔ افواہوں پر یقین نہ کریں ، بلکہ ہر خبر کی تصدیق کریں ۔ افواہیں پھیلانا اور جھوٹی خبریں عام کرنا۔ منافقوں کی روش ہے، نہ کہ سچے مومنوں کی ۔ رب تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿ وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ ۖ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ﴾ (سورۃ النساء:83)
’’اور جب انہیں امن و خوف کی کوئی خبر ملتی ہے تو اسے پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حالانکہ اگر وہ اسے رسول ﷺ اور ارباب اقتدار کے سپر د کر دیتے تو ان میں سے تحقیق کی صلاحیت رکھنے والے اُس کی تہہ تک پہنچ جاتے۔“
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے منافقین مدینہ منورہ کی روش کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے کہ
وہ جنگ سے متعلق آنے والی ہر خبر کو بغیر تحقیق کے نشر کر دیتے ہیں۔ جس سے مسلمانوں کی صفوں میں تشویش کی لہر دوڑ جاتی ہے اور بعض کمزور ایمان والے مسلمان فتنے میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس طرح کے معاملات کو رسول اکرم ﷺ اور اصحاب بصیرت صحابہ کرام پر چھوڑ دیتے تو وہ یقیناً ان کی تہہ تک پہنچ کر ان کا مناسب حل نکالتے ۔
لہٰذا ہر دور میں مسلمانوں کو اس قسم کے منافقوں اور ان کی سازشوں سے متنبہ رہنا چاہئے ، یوں وہ اپنے آپ کو اور اپنے اسلامی معاشروں کو فتنوں کے شر سے بچا سکتے ہیں۔ واللہ المستعان
باقی جہاں تک سوشل میڈیا پر گردش کرتی جھوٹی خبروں اور افواہوں کا تعلق ہے تو ان پر ہرگز یقین نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی انہیں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنا چاہئے ، بلکہ ان کے بارے میں معتمد اور باوثوق ذرائع سے تصدیق کرنا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ﴾ (سورۃ الحجرات : 6)
’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسانہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا دو۔ پھر اپنے کئے پر تمہیں ندامت اٹھانی پڑے۔“
٭٭٭
تبصرہ کریں