ہمارے نبی ﷺ کی بچوں کے ساتھ محبت بھری مثالیں ۔افضل ظہیر جمالی

رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ انسانیت کے لیے ایک تاباں چراغ ہے ، جو ہر دور میں روشنی بکھیرتی ہے ، آپ کی زندگی کا ہر پہلو ہدایت کا خزانہ ہے ، اور آپ کے ساتھ بچوں کا برتاؤ ایک ایسا گلزار ہے ، جس میں محبت ، رحمت اور شفقت کی خوشبو بسی ہوئی ہے ، آپﷺ کا بچوں کے ساتھ معاملہ سراسر محبت اور مہربانی پر مبنی تھا ، آپ کے دل میں بچوں کے لیے جو محبت تھی ، وہ لفظوں سے بیان نہیں ہو سکتی ، جس نے معاشرتی اقدار کو جلا بخشی ۔ آپ کی زندگی میں بچوں کے لیے جو نرم دلی اور حسن سلوک تھا ، وہ نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ تمام انسانوں کے لیے ایک روشن نمونہ ہے ، نبی اکرمﷺ نے اپنے عمل سے یہ سبق دیا کہ بچوں کا دل صرف محبت سے جیتا جا سکتا ہے ، اور ان کے ساتھ حسن سلوک ہی ایک کامیاب معاشرتی نظام کی بنیاد ہے ، آپ کی حیاتِ طیبہ میں بچوں کی تربیت ، ان کے حقوق اور ان کے ساتھ تعلقات کا ہر پہلو ایک قیمتی تعلیم ہے جو آج بھی ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ بچوں کی مسکراہٹوں کی اہمیت کو جاننا ہے ، ان کے حقوق کا خیال رکھنا اور ان کی فطری خصوصیات کو سمجھنا کتنا ضروری ہے ۔ میں سیرت سے چند مثال ذکر کرتا ہوں ۔

1۔ بچوں کی دلجوئی کرنا

سیدنا انس بن مالک فرماتے ہیں کہ

“كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَدْخُلُ عَلَيْنَا، ‏‏‏‏‏‏وَلِي أَخٌ صَغِيرٌ يُكْنَى:‏‏‏‏ أَبَا عُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ لَهُ نُغَرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَمَاتَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ ﷺ ذَاتَ يَوْمٍ، ‏‏‏‏‏‏فَرَآهُ حَزِينًا،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا شَأْنُهُ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ مَاتَ نُغَرُهُ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا أَبَا عُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ”

(صحيح بخاری: 6129 ، 6203 ؛صحيح مسلم : 2150 ؛ سنن ابو داؤد : 4969 ، یہ الفاظ سنن ابی داؤد کے ہیں)

’’رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں آتے تھے ، اور میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کی کنیت ابو عمیر تھی ، اس کے پاس ایک چڑیا تھی، وہ اس سے کھیلتا تھا، وہ مر گئی ، پھر ایک دن اچانک نبی اکرم ﷺ اس کے پاس آئے تو اسے رنجیدہ و غمگین دیکھ کر فرمایا : کیا بات ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا :

اس کی چڑیا مرگئی ، تو آپ نے فرمایا : اے ابوعمیر! کیا ہوا نغیر (چڑیا) کو؟۔ ‘‘

2۔ بچوں سے محبت کرنا

سیدنا ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ

“قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَعِنْدَهُ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ جَالِسًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْأَقْرَعُ:‏‏‏‏ إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ أَحَدًا، ‏‏‏‏‏‏فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ” (صحيح بخاری: 5997 ؛صحيح مسلم : 2318)

’’رسول اللہ ﷺ نے حسن بن علی کو بوسہ دیا۔ نبی کریم ﷺ کے پاس اقرع بن حابس بیٹھے ہوئے تھے ۔ اقرع نے اس پر کہا کہ میرے دس لڑکے ہیں اور میں نے ان میں سے کسی کو بوسہ نہیں دیا۔ نبی کریم ﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ جو اللہ کی مخلوق پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔‘‘

3۔ نماز میں بچے کی آواز پر توجہ دینا

سیدنا انس بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ

“إِنِّي لَأَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ وَأَنَا أُرِيدُ إِطَالَتَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ” (صحيح بخاری: 708 ، 709 ؛ صحيح مسلم : 470)

’’میں نماز شروع کردیتا ہوں۔ ارادہ یہ ہوتا ہے کہ نماز طویل کروں، لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر مختصر کردیتا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ ماں کے دل پر بچے کے رونے سے کیسی چوٹ پڑتی ہے۔‘‘

4۔نماز میں بچی کو گود میں اٹھانا

سیدنا ابو قتادہ انصاری فرماتے ہیں کہ

‏‏‏‏‏‏”أَنّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، ‏‏‏‏‏‏وَلِأَبِي الْعَاصِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا” (صحيح بخاری : 516 ؛ 5969 صحيح مسلم : 543)

’’رسول اللہ ﷺ امامہ بنت زینب بنت رسول اللہﷺ کو (بعض اوقات) نماز پڑھتے وقت اٹھائے ہوتے تھے۔ ابوالعاص بن ربیعہ بن عبدشمس کی حدیث میں ہے کہ سجدہ میں جاتے تو اتار دیتے اور جب قیام فرماتے تو اٹھا لیتے۔‘‘

5۔ بچوں کے ساتھ کھیلنا :

ام خالد بنت خالد بن سعید فرماتی ہیں کہ

“أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مَعَ أَبِي وَعَلَيَّ قَمِيصٌ أَصْفَرُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:‏‏‏‏ سَنَهْ سَنَهْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ وَهِيَ بِالْحَبَشِيَّةِ حَسَنَةٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَذَهَبْتُ أَلْعَبُ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ فَزَبَرَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:‏‏‏‏ دَعْهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:‏‏‏‏ أَبْلِي وَأَخْلِفِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِفِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِفِي” (صحيح بخاری: 3071 , 3874)

’’میں رسول اللہ ﷺکی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوئی ، میں اس وقت ایک زرد رنگ کی قمیص پہنے ہوئے تھی۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا سنہ سنہ عبداللہ نے کہا یہ لفظ حبشی زبان میں عمدہ کے معنے میں بولا جاتا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں مہر نبوت کے ساتھ (جو آپ کے پشت پر تھی) کھیلنے لگی تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا ، لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے مت ڈانٹو ، پھر آپ ﷺنے ام خالد کو (درازی عمر کی) دعا دی کہ اس قمیص کو خوب پہن اور پرانی کر ، پھر پہن اور پرانی کر ، اور پھر پہن اور پرانی کر ، عبداللہ نے کہا کہ چناچہ یہ قمیص اتنے دنوں تک باقی رہی کہ زبانوں پر اس کا چرچا آگیا۔‘‘

6۔مؤثر تربیت کے لیے ڈانٹ نہیں ، محبت ضروری ہے

سیدنا انس بن مالک فرماتے ہیں کہ

“خَدَمْتُ النَّبِيَّ ﷺ عَشْرَ سِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ وَلَا لِمَ صَنَعْتَ وَلَا أَلَّا صَنَعْتَ” (صحيح بخاری : 6038 ، صحيح مسلم : 2309)

’’میں نے رسول اللہ ﷺ کی دس سال تک خدمت کی لیکن آپ نے کبھی مجھے اف تک نہیں کہا اور نہ کبھی یہ کہا کہ فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا۔‘‘

7۔دسترخوان پر بچوں کے ساتھ خوشگوار لمحے

سیدنا عمر بن ابی سلمہ فرماتے ہیں کہ

“كُنْتُ غُلَامًا فِي حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصَّحْفَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:‏‏‏‏ يَا غُلَامُ، ‏‏‏‏‏‏سَمِّ اللَّهَ وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا زَالَتْ تِلْكَ طِعْمَتِي بَعْدُ” (صحيح بخاری: 5376 ، صحيح مسلم : 2022)

’’میں بچہ تھا اور رسول اللہ ﷺ کی پرورش میں تھا اور (کھاتے وقت) میرا ہاتھ برتن میں چاروں طرف گھوما کرتا۔ اس لیے آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ بیٹے! بسم اللہ پڑھ لیا کرو، داہنے ہاتھ سے کھایا کرو اور برتن میں وہاں سے کھایا کرو جو جگہ تجھ سے نزدیک ہو۔ چناچہ اس کے بعد میں ہمیشہ اسی ہدایت کے مطابق کھاتا رہا۔‘‘

8۔بچوں کے لیے دعائیں : محبت کا حقیقی اظہار

1۔ سیدنا انس بن مالک فرماتے ہیں کہ

“جَاءَتْ بِي أُمِّي أُمُّ أَنَسٍ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَقَدْ أَزَّرَتْنِي بِنِصْفِ خِمَارِهَا وَرَدَّتْنِي بِنِصْفِهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أُنَيْسٌ ابْنِي أَتَيْتُکَ بِهِ يَخْدُمُکَ فَادْعُ اللَّهَ لَهُ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَکْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ قَالَ أَنَسٌ فَوَاللَّهِ إِنَّ مَالِي لَکَثِيرٌ وَإِنَّ وَلَدِي وَوَلَدَ وَلَدِي لَيَتَعَادُّونَ عَلَی نَحْوِ الْمِائَةِ الْيَوْمَ” (صحيح مسلم : 2481)

’’میری امی جان مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے گئیں اور تحقیق انہوں نے مجھے اپنے آدھے دوپٹے کی چادر بنادی اور آدھے کو مجھے اوڑھا دیا اور عرض کیا ، اے اللہ کے رسول ! یہ میرا بیٹا انس ہے میں آپ ﷺ کے پاس آپ کی خدمت کرنے کے لیے پیش کرنے کو لائی ہوں ، آپ ﷺ اللہ سے اس کے لیے دعا کریں تو آپ ﷺ نے فرمایا:

’’ اے اللہ ! اس کے مال اور اولاد کو بڑھا دے ۔ انس فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم میرا مال بہت کثیر ہے اور میری اولاد اور میری اولاد کی اولاد کی تعداد آج کل تقریبا ایک سو ہے۔‘‘

2۔سیدنا عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں:

“أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ دَخَلَ الْخَلَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ وَضَعَ هَذَا ؟ فَأُخْبِرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ” (صحيح بخاری: 143 ، صحيح مسلم : 2477)

’’نبی کریم ﷺ بیت الخلاء میں تشریف لے گئے ، میں نے (بیت الخلاء کے قریب) آپ ﷺ کے لیے وضو کا پانی رکھ دیا ۔ آپ ﷺجیسے ہی باہر نکلے تو آپ نے پوچھا یہ کس نے رکھا ؟ جب آپ ﷺ کو بتلایا گیا تو آپ ﷺ نے میرے لیے دعا کی اور فرمایا:

“اللهم فقهه في الدين”

’’ اے اللہ ! اس عبد اللہ بن عباس کو دین کی سمجھ عطا فرما ۔‘‘

9۔بچوں سے گلے ملنا

سیدنا عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ

“ضَمَّنِي النَّبِيُّ ﷺ إِلَى صَدْرِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ” (صحيح بخاری: 3756)

’’مجھے نبی کریم ﷺ نے سینے سے لگایا اور فرمایا کہ اے اللہ ! اسے حکمت کا علم عطا فرما۔‘‘

10۔بچوں کے دلوں میں توحید کا نور بسانا

سیدنا عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ

“كُنْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا غُلَامُ،‏‏‏‏ إِنِّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ:‏‏‏‏ احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ” (سنن الترمذی : 2516)

’’میں ایک دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سواری پر پیچھے تھا ، آپﷺ نے فرمایا :

اے لڑکے ! بیشک میں تمہیں چند اہم باتیں بتلا رہا ہوں:

تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا، تم اللہ کے حقوق کا خیال رکھو اسے تم اپنے سامنے پاؤ گے، جب تم کوئی چیز مانگو تو صرف اللہ سے مانگو، جب تم مدد چاہو تو صرف اللہ سے مدد طلب کرو، اور یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہوجائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لیے گئے اور (تقدیر کے) صحیفے خشک ہوگئے ہیں۔‘‘

11۔حالت نماز میں بچوں کی اصلاح

سیدنا عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ

«بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي فَقَامَ النَّبِيُّ ﷺ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُمْتُ أُصَلِّي مَعَهُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِرَأْسِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ» (صحيح بخارى: 699)

’’میں نے ایک دفعہ اپنی خالہ میمونہ کے گھر رات گذاری ۔ نبی کریمﷺ رات میں نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک ہوگیا۔ میں (غلطی سے) آپ ﷺ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے میرا سر پکڑ کے دائیں طرف کردیا ۔ (تاکہ صحیح طور پر کھڑا ہوجاؤں) ۔‘‘

12۔ہنسی مذاق کے ذریعے بچوں کے دل جیتنا

سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :

«يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مَحْمُودٌ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو أُسَامَةَ:‏‏‏‏ يَعْنِي مَازَحَهُ» (سنن ترمذى : 1992)

’’اے دو کان والے! محمود بن غیلان کہتے ہیں: ابواسامہ نے کہا، یعنی آپ ﷺنے اس سے مذاق کیا تھا۔‘‘

13۔ بچوں کو کندھے پر اٹھانا : ایک محبت بھرا لمحہ

سیدنا براء بن عازب فرماتے ہیں کہ

“رَأَيْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَی عَاتِقِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ”(صحيح مسلم : 2422)

’’میں نے سیدنا حسن بن علی کو نبی کریم ﷺ کے کندھے پر دیکھا اور آپ ﷺ فرما رہے تھے اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔‘‘

14۔بچے کے منہ میں کلی کی محبت بھری مثال

عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ قَالَ : “وَ هُوَ الَّذِي مَجّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ غُلَامٌ مِنْ بِئْرِهِمْ”(صحيح البخاري : 189)

ابن شہاب کہتے ہیں کہ محمود وہی ہیں کہ جب وہ چھوٹے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ان ہی کے کنویں کے پانی سے ان کے منہ میں کلی ڈالی تھی۔

15۔انسانی اقدار کا اعلیٰ مظہر : یہودی بچے کی عیادت

سیدنا انس بن مالک فرماتے ہیں کہ

«كَانَ غُلَامٌ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ ﷺ فَمَرِضَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَاهُ النَّبِيُّ ﷺ يَعُودُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ أَسْلِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ،‏‏‏‏ وَهُوَ عِنْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏

أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ ﷺ فَأَسْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ وَهُوَ يَقُولُ:‏‏‏‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ» (صحيح بخارى: 1356)

’’ایک یہودی لڑکا نبی کریمﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، ایک دن وہ بیمار ہوگیا۔ آپﷺ اس کا مزاج معلوم کرنے کے لیے تشریف لائے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور فرمایا کہ مسلمان ہوجا۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا، باپ وہیں موجود تھا۔ اس نے کہا کہ کیا مضائقہ ہے ، ابو القاسمﷺ جو کچھ کہتے ہیں مان لے۔ چناچہ وہ بچہ اسلام لے آیا۔ جب نبی کریمﷺ باہر نکلے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ شکر ہے اللہ پاک کا جس نے اس بچے کو جہنم سے بچا لیا۔‘‘

16۔نبیﷺ کا بچوں کے حقوق کا پاسداری کا عمل

سیدنا سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ

«أُتِيَ النَّبِيُّ ﷺ بِقَدَحٍ، ‏‏‏‏‏‏فَشَرِبَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ أَصْغَرُ الْقَوْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَشْيَاخُ عَنْ يَسَارِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏

يَا غُلَامُ، ‏‏‏‏‏‏أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَهُ الْأَشْيَاخَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا كُنْتُ لِأُوثِرَ بِفَضْلِي مِنْكَ أَحَدًا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ» (صحيح بخارى : 2351)

’’نبی کریم ﷺ کی خدمت میں دودھ اور پانی کا ایک پیالہ پیش کیا گیا۔ آپ ﷺ نے اس کو پیا۔ آپﷺ کی دائیں طرف ایک نوعمر لڑکا بیٹھا ہوا تھا اور کچھ بڑے بوڑھے لوگ بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا:

لڑکے ! کیا تو اجازت دے گا کہ میں پہلے یہ پیالہ بڑوں کو دے دوں۔ اس پر اس نے کہا ، یا رسول اللہ ! میں تو آپ کے جھوٹے میں سے اپنے حصہ کو اپنے سوا کسی کو نہیں دے سکتا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے وہ پیالہ پہلے اسی کو دے دیا۔‘‘

17۔محبت کی لطافت : بچے کی ناک پونچھنا

سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ

«أَرَادَ النَّبِيُّ ﷺ أَنْ يُنَحِّيَ مُخَاطَ أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ دَعْنِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَفْعَلُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا عَائِشَةُ أَحِبِّيهِ فَإِنِّي أُحِبُّهُ» (سنن الترمذى: 3818)

’’نبی اکرم ﷺ نے اسامہ کی ناک پونچھنے کا ارادہ فرمایا تو میں نے کہا : آپ چھوڑیں میں صاف کیے دیتی ہوں ، آپ نے فرمایا : عائشہ ! تم اس سے محبت کرو کیونکہ میں اس سے محبت کرتا ہوں ۔ ،،

18۔بچے سے جدا ہونے کا کرب ، آنکھوں کے قطرے اور دل کا درد

سیدنا انس بن مالک فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ

«وُلِدَ لِي اللَّيْلَةَ غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَی أُمِّ سَيْفٍ امْرَأَةِ قَيْنٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو سَيْفٍ فَانْطَلَقَ يَأْتِيهِ وَاتَّبَعْتُهُ فَانْتَهَيْنَا إِلَی أَبِي سَيْفٍ وَهُوَ يَنْفُخُ بِکِيرِهِ قَدْ امْتَلَأَ الْبَيْتُ دُخَانًا فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقُلْتُ يَا أَبَا سَيْفٍ أَمْسِكْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَأَمْسَكَ فَدَعَا النَّبِيُّ ﷺ بِالصَّبِيِّ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ فَقَالَ أَنَسٌ لَقَدْ رَأَيْتُهُ وَهُوَ يَکِيدُ بِنَفْسِهِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَی رَبُّنَا وَاللَّهِ يَا إِبْرَاهِيمُ إِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ» (صحيح مسلم : 2315)

’’رات میرے ہاں ایک لڑکے کی پیدائش ہوئی میں نے اس لڑکے کا نام اپنے باپ سیدنا ابراہیم کے نام پر رکھا پھر آپ نے وہ لڑکا ام سیف کو دے دیا جو کہ ایک لوہار کی بیوی تھی اور اس لوہار کو ابوسیف کہا جاتا تھا (ایک دن) آپ ﷺ ابوسیف کی طرف چلے اور میں بھی آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے چلا۔ جب ہم ابو سیف کے ہاں پہنچے تو وہ اپنی لوہے کی بھٹی دھونک رہے تھے اور ان کا گھر دھوئیں سے بھرا ہو تھا تو میں نے جلدی جلدی رسول اللہ ﷺ سے پہلے جا کر اس سے کہا اے ابوسیف ٹھہر جاؤ رسول اللہ ﷺ تشریف لا رہے ہیں تو وہ ٹھہر گئے نبی ﷺ نے بچے کو بلایا اور اسے آپ ﷺ نے اپنے سینے سے چمٹا لیا اور آپ ﷺنے وہ فرمایا : جو اللہ نے چاہا ۔

سیدنا انس فرماتے ہیں کہ میں نے اس بچے کو دیکھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے دم توڑ رہا ہے (یہ دیکھ کر) رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور آپ ﷺ نے فرمایا:

’’ آنکھیں اشک آلود ہیں اور دل غمزدہ ہے اور ہم وہ بات نہیں کہتے کہ جس سے ہمارا رب راضی نہ ہو اللہ کی قسم! اے ابراہیم! ہم تیری وجہ سے غمزدہ ہیں۔‘‘

٭٭٭

حسن وحسین کی دادی سیدہ فاطمہ بنت اسد

سیدہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی ہاشمیہ نبی کریمﷺ کے تایا ابو طالب کی اہلیہ اور علی بن ابی طالب کی والدہ ہیں۔

سیدہ فاطمہ بنت اسد پہلے پہل ہجرت کرنے والی خواتین میں شامل تھیں۔ وہ پہلی ہاشمی خاتون تھیں جس نے ہاشمی بچے کو جنم دیا۔

طالب، عقیل، جعفر اور علی ان کے بیٹے جبکہ ام ہانی، حمانہ اور ریطہ ان کی بیٹیاں تھیں۔

ان کی یہ تمام اولاد سردار ابو طالب سے ہوئی تھی۔

سردار ابو طالب نے آپﷺ کی کفالت کا ذمہ لیا تو سیدہ فاطمہ بنت اسد نے آپ کی پرورش اور دیکھ بھال کے سلسلے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔

انہیں سیدہ ام ایمن کے بعد آپ کی دوسری دایا ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا۔

ابو طالب کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے سیدہ فاطمہ بنت اسد کو اسلام کے لیے شرح صدر عطا فرمائی تو ہ اسلام لے آئیں اور مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کر گئیں۔

نبی کریمﷺ آپ سے بڑی محبت کرتے تھے، آپ اکثر ان سے ملنے جاتے اور ان کے ہاں قیلولہ بھی کرتے۔

سیدنا علی کی شادی پر وہ بہت خوش تھیں اور شادی کے بعد وہ ان کے ساتھ رہتی تھیں۔

سیدنا علی نے اپنی والدہ فاطمہ بنت اسد سے عرض کی:

’’ اگر آپ پانی بھرنے اور گھر کے باہر کے کاموں کی ذمہ داری اٹھا لیں اور فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ گھرمیں آٹا پیسنے اور آٹا گوندنے کا کام سنبھال لیں تو بڑا اچھا ہو جائے۔ ‘‘ (المعجم الکبیر للطبرانی: 24؍353)

سیدہ فاطمہ بنت اسد بخوشی رضا مندی ہو گئیں۔

سیدہ فاطمہ بنت اسد ایک جلیل القدر صحابیہ تھیں۔ خیر البشر نے ان کے ہاں پرورش پائی تھی اور وہ سیدنا علی کی وہ والدہ تھیں ۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ کی ساس ہونے کے منتخب فرمایا۔

وہ ایک عالمہ اور حدیث رسول کی راویہ بھی تھیں۔ اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کر کے انہیں بڑی مسرت ملتی تھی۔

انہوں نے نبی کریمﷺ کی زندگی میں وفات پائی۔

٭٭٭

تبصرہ کریں