حامل سند عالی مولا نا ظہیر الدین اثری رحمانی۔ مولانا عبد الہادی العمری

میرے لیے یہ انتہائی دشوار لمحات ہیں کہ اپنے ایک ایسے استاذ کے حوالے سے کچھ لکھوں، جن سے ہم نے اردو کی املا نویسی کی مشق کی۔ گویا جنہوں نے انگلی پکڑ کر حروف تہجی کی مشق کروائی اور مختلف مراحل طے کرتے ہوئے تاریخ و فلسفہ ، تمدن و معاشرت کی چوٹی کی شخصیت علامہ ابن خلدون کا ’مقدمہ‘ آخری سال میں پڑھایا۔ جہاں یہ کسی طالب علم کے لیے اعزاز ہے کہ چند برس قبل جس شخصیت نے الف با کی مشق کروائی ہو ، وہ اُن سنگ ریزوں کو تراش کر مختصر مدت میں اس قابل بنا دیا کہ قوموں کے عروج وزوال کی تاریخ اور گر سیکھنے سکھانے کی پوزیشن میں تھے۔ اس ادارہ کا بھی کمال ہے اس میں جس نے ایسے انتظامات کیے کہ نا خانداؤں کو قیاسی مدت میں اس قابل بنایا کہ کچھ لکھ پڑھ سکیں، کچھ بول اور سن سکیں۔

ہوایوں کہ جامعہ دار السلام، عمر آباد میں جب ہم ابتدائی جماعت میں داخل ہوئے ہمارے لیے اردو رسم الخط کی مشق بھی کروائی جاتی تھی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہند و پاک میں زبان اردو کی بقا کا بڑا ذریعہ دینی مدارس ہیں۔ ان کے دم خم سے اردو اپنی تا بنا کی کے ساتھ باقی ہے۔ ورنہ بعض جگہوں کے نوجوان اردو تو بول لیتے ہیں، لکھ نہیں سکتے ، وہ انگریزی حروف تہجی میں لکھ کر اردو پڑھتے ہیں جسے رومن اردو کہتے ہیں۔ وہ نہ اردو حروف تہجی میں لکھی عبارت دیکھ کر پڑھ سکتے ہیں اور نہ لکھ سکتے ہیں۔

بہر حال اردو املا نویسی اور خواندگی کے لیے جامعہ نے ہم خردوں کے لیے جس شخصیت کو اتالیق مقرر کیا وہ استاذ کبیر مولانا ظہیر الدین اثری رحمہ اللہ کی ذات گرامی تھی۔ اس کے کئی اسباب تھے۔ ان میں سے ایک تو یہ کہ استاذ گرامی کا رسم الخط بہت عمدہ تھا۔ انہیں اردو زبان بولنے اور لکھنے پر کمال درجے کی مہارت حاصل تھی۔ ان کی پیدائش یوپی کے مشہور علاقہ مبارک پور کے قصبہ حسین آباد میں ہوئی۔ بچپن اور ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔ پھر مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے دار العلوم دیوبند پہنچے۔ وہاں سے مشہور درس گاہ دارالحدیث رحمانیہ دہلی کا رخ کیا ، اور تعلیم مکمل کر کے وہیں سے سند فراغت حاصل کی ۔ یہ سب علاقے اردو زبان وادب کے مراکز تھے۔ اُس وقت اس درس گاہ دار الحدیث رحمانیہ دہلی میں اساطین علم وفن جمع ھے۔ محدث کبیر علامہ احمد اللہ میر قریشی رحمہ اللہ سے سند حدیث پائی جو مرجع محدثین شیخ الکل علامہ نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ کے شاگرد تھے۔ ان کا سلسلۂ حدیث بہت کم واسطوں سے نبی ﷺ تک پہنچتا ہے۔ یوں استاذ گرامی کی صحیح مسلم کی سند عالی تھی، جو اس دور میں سب سے کم واسطوں سے امام مسلم تک پہنچتی ہے۔

استاذ محترم کی صحیح مسلم کی سند اس دور میں سب سے کم واسطوں سے امام مسلم تک اور پھر رسول اللہ ﷺ تک پہنچتی تھی۔ جب آپ سفر حرمین پر تشریف لے گئے تو امام وخطیب مسجد نبوی الشیخ ڈاکٹر عبد المحسن القاسم نے ’اجازہ‘ حاصل کرنے کی درخواست کی، جو مدینہ منورہ اپیل کورٹ کے قاضی بھی ہیں۔ استاذ محترم نے ان کے لیے وقت مختص کیا۔ انہوں نے روزانہ حاضر خدمت ہو کر مکمل کتاب پڑھی اور سند حاصل کر لی۔ اتفاق کی بات ہے کہ انہی دنوں میں جمعیت اہل حدیث برطانیہ کے ناظم اعلیٰ مولانا شعیب احمد میر پوری مدینہ منورہ کی زیارت سے واپس ہوئے ، جن کے امام مسجد الحرام شیخ السدیس اور الشیخ القاسم سے گہرے اور گھریلو نوعیت کے تعلقات ہیں۔ یہاں برمنگھم دفتر میں ملاقات ہوئی تو بتایا کہ امام شیخ القاسم حدیث پڑھنے میں بہت مصروف ہیں، انہیں دعوتِ شاہی میں شرکت کے لیے ریاض جانا تھا، لیکن اس سے بھی معذرت کرلی، کیونکہ حدیث کے ایک بڑے عالم آئے ہوئے ہیں ، جن کی صحیح مسلم کی سند عالی بہت کم واسطوں سے رسول اللہ ﷺ تک پہنچتی ہے، ان کا شاید شمالی ہند سے تعلق ہے۔ ہم ساتھی متوجہ ہو گئے کہ کس کا ذکر خیر ہورہا ہے۔ نام بتایا کہ الشیخ ظہیر الدین الاثری۔ پھر ہم تلامذہ شیخ جو اس محفل میں موجود تھے، کھل اٹھے کہ یہ تو ہمارے ہی گھر کی بات ہورہی ہے، جناب موصوف ہمارے استاذ ہیں۔ کافی دیر تک مولانا کے حوالے سے گفتگو ہوتی رہی۔ جب دیگر احباب کو یہ معلوم ہوا تو تقاضا بڑھتا گیا کہ استاذ محترم کو یہاں برطانیہ مدعو کیا جائے، لیکن اس پر عمل نہ ہو سکا۔

مولانا کے کچھ دورے بیرون ہند کے ہوئے ، لیکن اس وقت جب پیرانہ سالی کے آثار غالب آچکے تھے ، آپ سے سند حاصل کرنے کی غرض سے کئی نامی گرامی شخصیتوں نے عمر آباد کا سفر کیا ، اس کا تذکرہ پہلے مضمون میں (تذکرہ ایک قریہ کا ) گزر چکا ہے۔ آپ نے سند دار الحدیث رحمانیہ دہلی کے شیخ الحدیث علامہ احمد اللہ میر قریشی سے حاصل کی تھی۔ سند عالی ہی کی تلاش میں مشہور محدثین نے بڑی صعوبتیں برداشت کیں اور جاں گسل سفر کیے۔ صحیح بخاری میں ثُلاثیات بخاری کو دیگر احادیث پر امتیازی شان حاصل ہے کہ صرف تین واسطوں سے وہ احادیث رسول اللہ ﷺ تک پہنچتی ہیں :

عن مالك عن نافع عن ابن عمر كوسنہرى زنجیر کہا جاتا ہے۔

جامعہ میں امتحانی پرچے، نتائج کی فہرست اور اہم دستاویز آپ ہی کی حسنِ تحریر سے طلبہ تک پہنچتی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب عمر آباد میں سوالات کے پرچے یا حاصل کردہ نمبرات کی فہرست ہاتھ سے تحریر کی جاتی تھی۔ اگر چہ کہ اردو رسم الخط کو ترقی دینے کے لیے مولانا ابوالکلام آزاد نے عملی کوششیں کیں، ان کا پرچہ الہلال ٹائپ ہو کر چھپا کرتا، حالاں کہ اس وقت ٹائپ رائٹر کی سہولتیں اردو میں محدود تھیں، الہلال کے قدیم شماروں میں اس کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔

استاذ گرامی ہمیں رسم الخط کی مشق کرواتے۔ سچ پوچھیے تو قلم پکڑنے کا درست طریقہ بھی ان ہی کا مرہون منت ہے۔ آپ نے مختلف مضامین پڑھائے ۔ سیرت کی کتاب ” نور الیقین“ پڑھاتے تو نقوش سیرت دل و دماغ میں ثبت ہو جاتے۔ سنن ترمذی پڑھاتے تو معاملہ جیسے اوج کمال کو چھورہا ہوتا۔ ایک تو خود شیدائی سنت تھے ، احادیث صحیحہ پر عمل کرنے میں مصلحتوں کے دبیز ، یا پُر کشش پر دے چڑھانے کے قائل نہیں تھے ، نہ ہی بے جا تاویلات کو پسند فرماتے ۔ جامعہ میں منطق اور علم کلام کی گنجایش آغاز سے اتنی رکھی گئی جیسے کھانے کے مینو یا میز پر اچار یا چٹنی کی مقدار ہوتی ہے۔

طالب علم ان مضامین سے متعارف ہو اور ضروری حد تک اصول وقواعد سے واقفیت حاصل کر سکے۔ ان کی افادیت سے بالکلیہ انکار نہیں لیکن ان پر انحصار بھی درست نہیں ۔ یہاں تو حید و عقائد کو صغری اور کبریٰ کے مباحث سے نہیں براہِ راست قرآن وحدیث سے سمجھنے اور سمجھانے کا چلن ہے۔ یہ تعارفی مضمون مولانا ہی پڑھایا کرتے ۔ معقولات میں آپ کو خوب دسترس حاصل تھی ۔ کم مدت میں اس موضوع کی مفید باتیں طالب علم کے ذہن میں بٹھا دیتے۔ یہاں منطق کے متعلق امام رازی رحمہ اللہ کے حوالہ سے جو کہاوت مشہور ہے وہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ

’’مسائل عقیدہ علم کلام کے زور پر سمجھنا بسا اوقات خطرے سے خالی نہیں، مدّ مقابل زیادہ تگڑا ہو تو آپ کے استدلال کی دیوار کو ڈھا سکتا ہے، لیکن نظام فطرت کا مد مقابل کوئی نہیں ، اسلامی تعلیمات کی بنیاد فطرتِ سلیمہ پر ہے ۔‘‘

ایک وقت آیا رازی جیسے منطق و استدلال کے امام کو کہنا پڑا:

“آمنت بالله كما أمنت عجائز نيسابور.”

’’ اللہ تعالیٰ پر میرا ایمان ویسا ہی ہے جیسے نیسا پور کے عام دیہاتی خواتین کا۔‘‘ یعنی جدلی اور کلامی مباحث کے بغیر فطرت سلیمہ کے تقاضوں کے مطابق ان بدو لوگوں کا ایمان غیر متزل اور اللہ پر یقین محکم ہوتا ہے۔

استاذ محترم جنگ آزادی ہند کے رضا کاروں میں شامل تھے، یہ اور بات ہے کہ فریڈم فائیٹر کے نام پر ملنے والی حکومتی سہولتوں سے آپ نے ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا۔ آپ نے زندگی میں مختلف سرکردہ لیڈروں سے ملاقات کی۔ پھر آپ کا مطالعہ تو زبان زد خاص و عام تھا بلکہ چلتی پھرتی لائبریری تھے۔ دارالمطالعہ میں آنے والے جرائد مجلات اور اخبارات پر گہری نظر ہوتی۔ دورانِ درس حسب موقع ان تجربات کا تذکرہ بھی کرتے۔ مختلف دینی تنظیموں اور جماعتوں کے متعلق معلومات گہری تھیں، اس لیے آپ کے تبصرے جذباتی یا صرف ثقافتی معلومات کی بنیاد پر نہیں ہوتے بلکہ گہری سوچ عمیق مطالعہ اور زندگی کے تلخ و شیریں طویل تجربات کا نتیجہ ہوتیں۔ آپ اپنی بات بغیر لگی لیٹی کے پیش کرنے کے عادی تھے : “لا يخافون لومة لائم.” کے اصول پر کار بندر ہے:

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش

میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا فتد

ہند و پاک کے بدلتے ہوئے حالات میں زمینی حقائق کے پیش نظر دینی تنظیموں اور مدارس کے درمیان مفاہمت اور باہمی تعلقات کا مضبوط رشتہ ضروری ہے۔ فقہی مسائل میں اختلافات باہمی منافرت کا سبب نہ بنیں۔ اجتہادی مسائل کو ان کی حیثیت سے زیادہ اہمیت دی جائے یا بالکلیہ نظر انداز کر دیا جائے تو دونوں صورتوں میں مضر نقصانات برآمد ہوتے ہیں۔ فارغین مدارس اور دینی رہ نماؤں کے درمیان دوریاں منزل اور مقصد سے دور کر دیں گی۔ عقیدے میں پختگی اور فقہی مسائل میں میانہ روی لازمی ہے۔ وسائل ابلاغ و تبلیغ کی سہولتوں کے باعث جہاں پیغام حق پہنچانا آسان ہو گیا و، ہیں اگر اس میں اعتدال اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ نہ کیا جائے تو یہ باعث فتنہ بھی ہوسکتا ہے، بلکہ ہو رہا ہے۔ علم اور حقائق کی دنیا مفروضات اور بزرگ پرستی کے خول سے آگے نکل چکی ہے۔ معلومات کا دائرہ محدود کر کے سمیٹا نہیں جاسکتا اور اب یہ بھی ممکن نہیں کہ اس مفروضے پر زندگی گزاری جائے کہ دنیا بھی وہی کہے جو میں کہہ رہا ہوں، یا وہی سمجھے جو میں سمجھ رہا ہوں، یا جو جذبات میرے ہیں وہی دوسروں کے بھی ہوں۔

استاذ محترم ایک بلند پایہ خطیب بھی تھے۔ خطبات جمعہ کے علاوہ بڑے جلسوں میں بحیثیت مرکزی خطیب یا صدر اجلاس مدعو ہوتے۔ مسجد عمر آباد میں آپ کے خطبات کی گھن گرج کی صدا دور تک پہنچتی ۔ ہمارے تعلیمی دور میں عمر آباد میں ایک ہی مسجد تھی۔ اس میں نمازیوں کی بڑی تعداد اساتذہ اور طلبہ کی ہوتی اور ضمناً عمر آبادیوں کی ہوتی۔ یہاں خطبہ دینا نسبتاً دشوار سمجھا جاتا۔ عناوین اور مواد میں علمیت بھی ہوتی لیکن علاقہ اور مکینوں کا بھی خیال رکھا جاتا۔ جامعہ کے جشن طلائی 1977ء کی سرگرمیاں عروج پر تھیں۔ پروگرام سے ایک دن قبل جمعہ کی مناسبت سے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو چکے تھے۔ اس موقع پر خطبہ جمعہ کی ذمہ داری استاذ گرامی ہی کو تفویض کی گئی ۔ دور دراز سے آنے والے مہمانوں پر اس کے خوش گوار اثرات دیکھے گئے۔

خطبات جمعہ کے علاوہ مختلف جلسوں میں آپ شریک ہوا کرتے ۔ صرف دو جلسوں کا ذکر یہاں کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ ایک جنوبی ہند کا اور دوسرا شمالی ہند کا۔ یہ بھی حسن اتفاق کہ ان جلسوں میں مجھ تلمیذ صغیر کو استاذ کبیر کے ساتھ خطاب کرنے کی سعادت میسر آئی۔

دسمبر 1991ء، بنگلور سے متصل شہر ہسور میں جنوبی ہند اہل حدیث کانفرنس منعقد ہوئی ۔ مولانا مختار احمد ندوی رحمہ اللہ امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی صدارت میں منعقد ہونی والی یہ اپنی نوعیت کی علما، مقررین اور شرکا کے اعتبار سے نہایت کامیاب کانفرنس تھی ۔ مہمانوں اور شرکا کے لیے قیام و طعام کی بھاری ذمہ داری یہاں کے قریشی احباب کے سپرد تھی، جنہوں نے جاں فشانی اور دریادلی سے اس کے انتظامات میں چار چاند لگائے۔ اکثر جلسوں میں اس شعبے کی شکایت زیادہ رہتی ہیں۔

جامعہ دار السلام اور جامعہ محمدیہ رائید رگ کے طلبہ انتظامات میں آگے آگے تھے۔ اسٹیج پر جامعہ کے اساتذہ میں: مولانا ظہیر الدین اثری ، مولانا ابوالبیان حماد، مولانا کا کا سعید احمد عمری، مولانا خلیل الرحمن اعظمی ، مولانا حفیظ الرحمن اعظمی ، مولانا شیخ انیس الرحمن اعظمی ، مولانا اطہر حسین مدنی رحمہم اللہ وغفرہم دیگر مشاہیر علما کے ساتھ ایسے جلوہ گر تھے جیسے کسی نے رنگ برنگے پھولوں کا حسین گلدستہ نہایت خوش ذوقی سے سجا کر قرینے سے رکھا ہو ۔ جن دنوں کا نفرنس کے انتظامات کیے جارہے تھے، اچانک ٹمل ناڈو اور کرناٹک کی صوبائی حکومتوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے مسئلے میں جو نا چاقی چلی آرہی تھی، ان دنوں میں خاصی شدت اختیار کر گئی۔ اس سے آمد ورفت کے ذرائع بھی متاثر ہوئے۔ میں برطانیہ سے بمبئی پہنچا، پھر وہاں سے دہلی گیا اور دہلی سے بنگلور کی پرواز مل سکی، کیوں کہ بمبئی سے بنگلور کے لیے اس وقت پروازیں بند تھیں ، تاہم ان رکاوٹوں کے باوجود حاضری قابل قدر تھی۔ استاذ گرامی نے راقم کو اس کا نفرنس کے پس منظر اور محرکات سے آگاہ فرمایا ، جس سے خطاب کرنے میں آسانی ہوئی۔ سامعین کی طرف سے اس تقریر کو بہت پسند کیا گیا ۔ الحمد للہ ! میرے لیے اہم بات ہمارے اساتذہ خصوصاً استاذ مولانا اعظمی رحمہ اللہ کے کلمات خیر اور دعائیں تھیں جو سرمایہ حیات ہیں۔

مولانا ظہیر الدین صاحب عمر آباد تشریف لانے سے پہلے چند برس جامعہ محمدیہ رائید رگ میں تدریس اور پھر شیخ الجامعہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے تھے۔ یوں دونوں جامعات کے درمیان تقارب کا رشتہ ہے۔ پھر رائیدرگ کے معتمد عمومی مولانا سید عباس عمری رحمہ اللہ دار السلام سے فارغ ، اور وہاں شعبہ تدریس سے منسلک کئی اساتذہ اسی درس گاہ کے فیض یافتہ تھے اور ہیں۔

جمعیت اہل حدیث کی جانب سے کل ہند مرکزی کانفرنس 1995ء یوپی کے ایک مردم خیز علاقہ مئوناتھ بھنجن میں منعقد ہوئی۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں نامی گرامی شخصیات جنم لیتی رہیں اور اپنی صلاحیتوں سے دنیا کو فیض پہنچاتی رہیں۔ یہاں کے متعدد افراد نے شیخ الکل علامہ نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے براہِ راست سند حدیث حاصل کی۔ ان معروف شخصیات میں اعظمی خانوادہ کے عمر آباد میں جد امجد مولانا ابو العرفان محمد نعمان اعظمی شیخ الحدیث جامعہ دار السلام بھی تھے۔ یہ مئو میں منعقد ہونے والی دوسری مرکزی اہل حدیث کانفرنس تھی۔ اس سے پہلے ستر سال قبل مشہور محقق علامہ قاضی سلیمان سلمان منصور پوری، مصنف رحمۃ للعالمین کی صدارت میں منعقد ہوئی تھی۔ اہل مئوکو ستر سال بعد دوسری مرتبہ میزبانی کا موقع مل رہا تھا ، اس کو اردو کے مایہ ناز شاعر فضا ابن فیضی نے اپنی استقبالیہ نظم میں ذکر کیا۔

چُھوٹے نہ تمہارے ہاتھوں سے اسلاف کا داماں اے لوگو!

پھر آئے ہیں ستر سال پہ یہ، ایام بہاراں اے لوگو !

قرآن کی بلاغت پاروں کی تعمیم ہمارا مسلک ہے

مشکوة و بخاری کے فن کی تفہیم ہمارا مسلک ہے

اور یہ بھی حسن اتفاق کہ ستر برس پہلے کا نفرنس کی صدارت کرنے والی شخصیت اردو زبان میں سیرت پر لکھی جانے والی جامع ترین کتاب کے مصنف کی تھی اور اب اس کا نفرنس کی استقبالیہ کمیٹی کے صدر ڈاکٹر مقتدی حسن از ہری وکیل جامعہ سلفیہ بنارس تھے، جو اس کتاب کے عربی مترجم تھے، اور خانوادہ اعظمی کے قریبی عزیز۔ اس کا نفرنس میں شریک ہونے والوں میں مولانا ظہیر الدین اثری کے ساتھ مولانا خلیل الرحمن اعظمی اور مولانا حفیظ الرحمن اعظمی رحمہم اللہ بھی تھے۔ اس کی ایک نشست کی صدارت استاذ محترم مولانا ظہیر الدین کی تھی اور اسی نشست میں مولانا حفیظ الرحمن اعظمی کی تقریر بھی تھی۔ محسوس ہوتا تھا کہ اسٹیج سکریٹری ان شخصیتوں سے زیادہ متعارف نہیں تھے۔ منتظمین کی بسا اوقات مقامی مصلحتیں بڑے پروگراموں کے نتائج پر منفی اثرات ڈالتی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ پروگرام کی مناسبت سے مقررین کی فہرست، ان کے لیے عنوانات اور وقت مقرر کیا جائے۔ کبھی مصلحتوں کے پر دے حقیقی تصویر دھندلی کر دیتے ہیں۔

استاذ محترم نے صدارتی خطاب کے آغاز میں خطبہ مسنونہ پڑھا تو برسوں پہلے والا منظر آنکھوں میں گھومنے لگا، جب عمر آباد کی مسجد میں خطبوں کی گونج سنائی دیتی اور آج بھی آواز میں گھن گرج باقی تھی۔ استاذ گرامی نے اپنی تقریر کا آغاز ہی اس جملے سے کیا کہ ہم جنوبی ہند کے رہنے والے ہیں، گویا آپ نے اس علاقے کو برسہا برس قبل جو چھوڑا تو ذہنی طور پر بھی چھوڑ چکے تھے، ورنہ جس جگہ یہ پروگرام ہورہا تھا مولانائے گرامی کا بچپن اور جوانی کا حصہ انہی علاقوں میں گزرا۔ یہاں سے چند ہی میل کے فاصلے پر آپ کا قصبہ حسین آبا دمبارک پور کے مضافات میں واقع ہے۔

اس سہ روزہ کانفرنس کا آغاز امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث مولانا مختار احمد ندوی رحمہ اللہ کے خطبہ جمعہ سے ہوا ۔ پروگرام کے مطابق امام مسجد حرام کا خطبہ رکھا گیا تھا لیکن بوجوہ وہ نہیں پہنچ سکے۔ الحمد للہ تینوں دن راقم کو بھی خطاب کے مواقع دیے گئے ۔ یہ اہلِ مئو کی محبت تھی ۔ کانفرنس کے لیے آنے والے مہمانوں کی رہائش کے لیے یہاں کے بڑے تعلیمی ادارے جامعہ عالیہ فیض عام اور دارالحدیث وغیرہ کی عمارتوں کے علاوہ وسیع پنڈال میں بھی انتظامات کیے گئے تھے۔ کچھ مہمانوں نے یہاں کی ہوٹلوں کو بھی اپنی مسکن بنایا۔ اسی کا نفرنس کی مناسبت سے استاذ گرامی نے اپنے قصبہ حسین آباد کی بھی زیارت کی جو طویل عرصے کے بعد ہورہی تھی۔ مبارک پور کا علاقہ ہندوستان کی تاریخ حدیث میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ سنن ترمذی کے شارح علامہ عبد الرحمن مبارک پوری ، مشکوۃ کے شارح علامہ عبید اللہ مبارک پوری سیرت النبی پر لکھی جانے والی عالمی شہرت یافتہ کتاب ’الرحیق المختوم‘ کے مصنف مولانا صفی الرحمن مبارک پوری وغیرہ ، بلکہ مصنف الرحیق المختوم استاذ گرامی کے پڑوسی ہی تھے، رحمہم اللہ جمیعا۔

ڈاکٹر مقتدی حسن از ہری صدر استقبالیہ کمیٹی کی کوشش رہی کہ اردو کی اہم تحقیقی کتابوں کو عربی ترجمہ کے ساتھ شائع کیا جائے، ورنہ عموماً یہ چلن عام ہے کہ بیشتر لوگ عربی کتب ہی کا اردو میں ترجمہ کرتے ہیں ، جب کہ اردو کی بعض کتابیں تاج عرب کی زینت بن سکتی ہیں۔ ’’رحمۃ للعالمین‘‘ اور مولانا اسماعیل سلفی کی تحریک آزادی فکر کا عربی ترجمہ کر کے شائع کروایا۔

جامعہ سلفیہ بنارس اور جامعہ دار السلام عمر آباد میں اس حیثیت سے تقارب معنوی ہے کہ ڈاکٹر مقتدی اعظمی خانوادے ہی کے چشم و چراغ تھے ، جو عرصہ تک جامعہ سلفیہ کے وکیل الجامعہ کے عہدے پر فائز رہے۔

استاذ محترم مولانا ظہیر الدین اثری ایک عرصہ تک جمعیت اہل حدیث ٹمل ناڈو کے امیر رہے۔ جامعہ کی تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ جماعتی امور کی انجام دہی مشکل ہوتی ہے، خصوصاً وسائل حمل و نقل کی قلت اور طویل سفری مسافت ۔ مولانا کا قیام عمر آباد میں تھا اور جماعت کا صدر دفتر شہر مدراس میں ۔ وسیلہ سفر زیادہ تر ٹرین یا عوامی بس تھی۔ اس وقت فون کی سہولت بھی کم لوگوں کو میسر تھی۔

اسے بھی اتفاق ہی جانیے یا شیخ الحدیث سے مماثلت کہ آپ جامعہ دار السلام کے ناظم بھی رہے۔ اپنی مدت نظامت پوری کر کے نیک نامی کے ساتھ ریٹائر ہوئے لیکن تدریس سے وابستہ رہے۔ جب عمر کے تقاضے فرائض کی انجام دہی میں مانع ہونے لگے تو آپ نے تدریس سے بھی معذرت کر لی ، تاہم جامعہ سے تعلق برقرار رہا، اور شائقین حدیث آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر سند حاصل کرتے رہے ، بلکہ آخری عمر میں بذریعہ فون بلاد عربیہ سے خواہش مند لوگ سماعت حدیث کر کے سند لیتے رہے۔ جب تک زندگی رہی آپ علوم حدیث کی اشاعت کرتے رہے۔ 2015ء کے جامعہ کے سالانہ جلسہ میں شرکت کی سعادت ہوئی۔ استاذ محترم ویل چیئر پر تشریف فرما شریک پروگرام تھے۔ اختتام جلسہ سے کچھ دیر پہلے ہی گھر روانہ ہو گئے۔ جلسے کے بعد دولت کدے پر حاضری کا شرف حاصل ہوا ۔ بہت خوش ہوئے ۔ چند قدیم احباب کی خیریت معلوم کی۔ دعوتی سرگرمیوں کے متعلق دریافت کرتے رہے۔ اس نشست میں جو بر اہِ راست میری استاذ محترم کے ساتھ آخری مجلس تھی زیادہ گفتگو صحیح مسلم کی سند کے حوالے سے ہوتی رہی ، اور اسی مجلس میں استاذ محترم نے امام مسجد نبوی کے شوق اور اہتمام حدیث کا واقعہ بھی سنایا۔

استاذ محترم کی پیرانہ سالی اور ضعف کے باوجود یاد داشت بالکل درست اور شوق حدیث جوان تھا۔ علم وعمل کے پیکر اور شیدائی سلف نے ( دستاویزات کے مطابق ) 94 / برس کی عمر پائی، اور 14 اگست 2017ء یوم آزادی کے دن قفس عنصری سے روح پرواز کر گئی ، اور عمر آباد میں تدفین عمل میں آئی۔

اللہ تعالیٰ آپ کی مساعی جمیلہ قبول فرمائے ، دنیا بھر میں پھیلے ہزاروں شاگردوں کی علمی و دعوتی خدمات کو آپ کے حق میں صدقہ جاریہ بنا کر اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائے ۔

﴿‏ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ‎0 ‏ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ﴾

٭٭٭

تبصرہ کریں