
بسم الله الرحمن الرحيم
﴿ إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ﴾ (سورة آل عمران :19)
دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾ (سورةالمائدہ: 3)
حمد و ثناء اور شکر و تعریف اس اللہ رب العالمین کے لیے، جو مالک الملک، خا لق کل اور عالم کل ہے۔ درود و سلام اور صلاۃ و تسلیم سرور انبیاء کے لیے، جو رحمت للعالمین اور خاتم النبیین ہیں۔ خطبہ مسنونہ کے ساتھ آج میں نے قرآن کریم کے مختلف مقامات سےدو آیتیں پڑھی ہیں۔
پہلی آیت کے ایک حصے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :
﴿إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ﴾ (سورة آل عمران: 19)
’’بے شک اللہ کے نزدیک دین ایک ہی ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین، دین اسلام!‘‘
دوسری آیت میں فرمایا :
نبی کریم ﷺنے آخری حج کے دوران حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا کہ آج کے دن ہم نے نعمتِ ہدایت اور نعمتِ اسلام کو پورا کر دیا ہے اور تمہارے لیے اسی دین اور اسی طریقے کو پسند كر لیا ہے، تو یہ دین اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے اور اس کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اپنا پسندیدہ دین عطا فرمایا۔ اس نے ہمیں اس دین میں داخل فرمایا، مسلمان بنایا۔ اس پہ ہمیں خوش ہونا چاہیے۔ اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ راضی ہو کر اس دین کو اپنانا چاہیے۔
نبی کریم ﷺکا ارشاد ہے کہ ایمان کا مزہ اسی کو ملتا ہے جو اسلام کو دین سمجھ کر اسے اختیار کرے اور اس پر دل سے راضی ہو جائے ۔ ایمان کا مزہ وہ چکھتا ہے، جو اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر، اللہ کے آخری رسول کو اپنا رسول اور نبی مان کر راضی ہو جاتا ہے، خوش ہوجا تا ہے کہ یہی دین ہے، یہی میرا رب ہے اور یہی میرا رسول ہے۔
نبی کریمﷺ نے اس خاص حوالے سے بڑی جامع اور خوبصورت دعا بھی سکھائی، اس دعا کو پڑھنا بھی سکھایا کہ جو اس دین کو قبول کر کے اور نبیﷺ کو قبول کر کے اور رب کو قبول کر کے اپنی رضا مندی اور خوشی کا اظہار کرتا ہے ، جو آج راضی ہے اور اس رضامندی کا یا خوشی کا اظہار اپنی زبان سے بھی کرتا ہے ، وہ دل سے راضی ہے، اللہ پھر اس کو یوم قیامت راضی کرے گا ۔
«مَنْ قَالَ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ » (جامع ترمذى: 3389)
جو شخص یہ کہے کہ میں راضی ہوں، اللہ کو رب مان کر خوش ہوں اور اسی طرح میں خوش اور راضی ہوں اسلام کو اپنا دین سمجھ کے، اپنا کے اور اختیار کر کے اور محمدﷺکو اپنا نبی مان کر بھی میں دل سے راضی اور خوش ہوں کہ یہی اللہ کے سچے اور آخری نبی ہیں اور ویسے بھی ہمیں ان چیزوں پر راضی ہونا چاہیے کہ اللہ نے یہ نعمتیں عطا کی ہیں، لیکن اگر ہماری نظر اسلام کی خوبیوں پر ہو، اس دین کی خوبیوں پر ہو، محاسن اسلام پر ہو تو پھر راضی ہونے یا خوش ہونے کا درجہ بڑھ جاتا ہے۔ پھر آدمی دل سے راضی ہوتا ہے، صرف سن کر نہیں بلکہ خوبیوں کو جان کر۔
اس لیے ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اس دین کے خاص خاص امتیازات کیا ہیں؟ ویسے تو اس دین کی بہت خوبیاں ہیں، لیکن جاننا چاہیے کہ اس دین کی خاص خاص خوبیاں کیا ہیں؟ دین اسلام کی خوبیوں ، اچھائیوں اور محاسن کا اگر ذکر کیا جائے تو انہیں ایک لفظ میں سمویا جا سکتا ہے۔ ایک لفظ ان کا اظہار کرنے کے لیے کافی نظر آتا ہے۔ اور وہ لفظ ہے: ’وحدت‘۔
وحدتِ الٰہ
ہمارے اس دین میں وحدت الٰہ کی تعلیم دی گئی ہے یعنی اللہ کا ایک ہونا، ہمارے اس دین میں وحدتِ رسالت اور وحدتِ دین کا مطلب یہ ہے کہ حقیقتاً اصل دین ایک ہی ہے۔ راستے لوگوں نے مختلف بنا لیے، لیکن اصل ایک ہی ہے اور رسول بھی اب قیامت تک ایک ہی ہے۔
پھر اس دین میں وحدتِ دین و دنیا بھی ہے، یعنی دنیا الگ نہیں، بلکہ دین کا حصہ ہے۔ اگر ہم اللہ کی رضا کے لیے دنیا کی زندگی گزاریں تو دنیا کی زندگی کے مختلف مراحل اور میدان سب کے سب عبادت بن جاتے ہیں، دین بن جاتے ہیں۔ پھر ہمارے اس دین میں وحدتِ انسانیت کا سبق دیا گیا ہے کہ انسان سب آدم کی اولاد، سب اللہ کی مخلوق اور سب اس کے بندے ہیں اور اس لحاظ سے انسانیت میں کوئی فرق نہیں۔ انسان کالے ہوں یا گورے، مشرق کے ہوں یا مغرب کے، چھوٹے ہوں یا بڑے ، ماضی کے ہوں یا حال اور مستقبل کے ، سب ایک ہی نسل اور ایک ہی جماعت ہیں، بطور انسان سب برابر اور ایک ہیں۔
پھر اس میں ایک اور وحدت ہے، مقصدِ زندگی کی وحدت کہ ایک ہی مقصد ہے زندگی کا اور وہ ہے آخرت میں اللہ کو راضی کرنا اور جنت حاصل کرنا۔
ہم اس خطبے میں ایک ایک کرکے سب کی تھوڑی تھوڑی تفصیل بیان کریں گے۔
اس دین کی بہت بڑی خوبی ہے کہ اس نے وحدتِ الوہیت یا وحدتِ الٰہ کا، یعنی الٰہ العالمین کے ایک ہونے کا سبق اور درس دیا ہے۔اسلام اور قرآن نے اللہ کا وجود ثابت کرنے پر نسبتاً کم زور دیا ہے اور وحدانیت پر زیادہ زور دیا ہے۔ قرآن مجید میں اس بارے میں بڑے عام فہم اور مؤثر دلائل ذکر کیے گئے ہیں۔ زمین و آسمان کا پیدا کرنا، بارش کا نازل کرنا، انسانوں کو رزق دینا، ہر قسم کی مخلوق کو پالنا، ان کی ضروریات کو پورا کرنا۔ یعنی وہ خلَّاق بھی ہے، خالق بھی ہے، رازق بھی ہے، رزَّاق بھی ہے، نعمتیں دینے والا منعم اور محسن بھی ہے، وہ احسان کرنے والا بھی ہے اور وہ ایک ہی ہے اور وہ ہے رب العالمین، جو الٰہ واحد ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔
عیسائیوں نے اللہ کا بیٹا فرض کر لیا۔ مشرکوں نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بنا دیا۔ مشرکوں نے بے شمار اور لاتعداد معبود گھڑ لیے ، جیسا کہ قرآن مجید نے بتایا:
﴿وَقَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ﴾ (سورة البقرہ: 116)
کہنے لگے کہ اللہ کا بیٹا ہے، حالانکہ وہ پاک ہے۔
فرمایا:
﴿بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ﴾ (سورة الأنبیاء: 26)
فرشتے ہوں یا عیسی ہوں یا اور جو جھوٹے الٰہ بنائے گئے ہوں، وہ سب اللہ کے بندے ہیں۔ ان میں سے بعض کی اللہ کے نزدیک عزت تو ضرور ہے، مقام تو ضرور ہے، لیکن وہ اس کی خدائی میں شریک ہرگز ہرگز نہیں۔
عجیب طرح کی ان کی باتیں ہیں:
﴿وَخَرَقُوا لَهُ بَنِينَ وَبَنَاتٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ﴾ (سورة الانعام: 100)
عجیب ان کا معاملہ ہے، علم ہے نہیں، دلیل ہے نہیں، پتہ ہےنہیں اور کہتے ہیں، جی وہ اللہ کا بیٹا ہے، فلاں اللہ کی بیٹی ہے، وہ شریک ہے ۔ کسی نے اوتار بنا لیے کہ اللہ نعوذ باللہ فلاں کی شکل بنا کر دنیا میں آگیا، وہ فلاں کی شکل بنا کے دنیا میں رہتا رہا، قرآن مجید نے اس کی بھی نفی کی کہ وہ ان سب چیزوں سے پاک ہے، نہ وہ کسی کا بیٹا ہے ، نہ بیٹی، نہ زوجہ، نہ شریک اور نہ اوتار اور نہ کوئی اور بات، بلکہ:
﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ O اللَّهُ الصَّمَدُ O لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ O وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾ (سورة الإخلاص1-4)
آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک ہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے ۔
اسلام نے وحدتِ الٰہ کا صحیح تصور دے کر بندے کا رشتہ رب سے جوڑا ہے۔ انہوں نے جتنے بھی اللہ کے سوا معبود بنائے ہوئے تھے، فرض کیے ہوئے تھے، ہمارے دین نے ان سب کی نفی کر دی۔ یہ وہ خوبی ہے، جو انسان کو اس کا شرف عطا کرتی ہے۔ اے انسان! تیرا یہ مقام نہیں کہ تو شجر، حجر، پتھر کے سامنے، اپنے ہاتھ سے گھڑے ہوئے معبودوں کے سامنے، یا اپنے ذہن کے فرض کیے ہوئے معبودوں کے سامنےاپنا سر جھکائے۔
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
یہ اسلام کا احسان ہے کہ اس نے انسان کو سارے دروازوں سے ہٹا کر اور اٹھا کراسے شرف اور عزت بخشتے ہوئے صرف اس کائنات کے خالق و مالک کے دروازے پہ لا کے کھڑا کر دیا ہے۔ اس کے در پر، جو سب سے بڑا ہے، سب سے عظیم ہے، سب کچھ دینے والا ہے، اصل اور واحد معبود ہے۔ یقیناً یہ اسلام کا بہت بڑا احسان اور بہت بڑی خوبی ہے۔
اس سلسلے کی دوسری بات وحدت انبیاء اور وحدت رسالت، یعنی تمام انبیاء کو ماننا ہے۔ یہ نہیں کہ اپنا نبی مان لیا اور باقی انبیاء کی نفی کر دی، یا باقی کی عزت اور احترام نہ کیا، نہیں، بلکہ
﴿لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ ﴾ (سورة البقره: 285)
اسلام نے مسلمانوں کو سکھایا کہ وہ نبیوں اور رسولوں کے درمیان کوئی فرق نہ کریں۔ یہ نہیں کہ اِس کو ماننا ہے اور اس کو نہیں ماننا۔ اس کی عظمت مان کے اس کا احترام کرنا ہے اور دوسرے کا نہیں کرنا ،نہیں، بلکہ سب کا احترام کرنا ہے۔ اگرچہ مقام سب کے اپنے اپنے ہیں، جیسا کہ ارشادِ گرامی ہے:
﴿تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ﴾ (سورة البقره: 253)
فضیلت ایک کو دوسرے پر یقیناً حاصل ہے، لیکن ہم نے یہ نہیں کرنا کہ زیادہ فضیلت اور کم فضیلت والے کے احترام میں فرق کریں۔ ہم نے یہ نہیں کرنا۔
﴿لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ ﴾ (سورة البقره: 285)
مسلمانوں کے لیے حکم ہے کہ کسی رسول کے درمیان عزت و احترام اور ایمان لانے کے حوالے سے کوئی فرق نہیں کرنا ۔اسلام کی یہ بڑی وسیع الظرفی والی اور بڑی اچھی تعلیم ہے کہ یہودی سیدنا موسیٰ کی اور انبیاء بنی اسرائیل کی بھی کچھ نہ کچھ عزت کریں گے لیکن وہ سیدنا عیسیٰ کی نفی کریں گے۔ ہوا یہ کہ کئی رسولوں کو انہوں نے رسول اور نبی ماننے کی بجائے صرف اپنی قوم کا بڑا مانا، جیسا کہ سیدنا داؤد اور سیدنا سلیمان کو وہ نبی سے زیادہ اپنی قوم کا بڑا لیڈر اور ایک نمایاں بادشاہ مانتے ہیں، لیکن اسلام نے کہا کہ نہیں ،وہ اللہ کے رسول اور نبی تھے ، صرف دنیاوی بادشاہ نہیں تھے ، بلکہ رسول تھے۔
جو غلط اور جھوٹے قصے اور جھوٹی کہانیاں، توہین آمیز کہانیاں، یہودیوں نے انبیاء کے بارے میں گھڑ کے ان سے منسوب کی تھیں جو ایسی ایسی تھین کہ الامان والحفیظ۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں یہ تک لکھ دیا اور اب بھی یہ ان کی کتابوں میں موجود ہے کہ سیدنا نوح نے شراب نوشی کی اور وہ نشے میں کپڑوں سے بھی بے نیاز ہو گئے۔ سیدنا داؤد پر بدکاری تک کی تہمت لگائی گئی اور بہت سی ایسی باتیں لکھی گئیں جو غلط اور جھوٹی ہیں ۔ اس کا مقصد کیا تھا؟ کہ جی انبیاء اگر یہ غلطیاں کر سکتے ہیں تو پھر ہم اگر گناہ کریں گے تو اس میں برا کیا ہوگا؟ انبیاء اگر گناہ اور غلطیاں کر سکتے ہیں تو ہم بھی تو کر سکتے ہیں، ہم بھی تو انسان ہیں۔ شاید اس نیت سے یا اس خیال سے، انہوں نے یہ کہانیاں بنائیں اور گھڑیں اور انبیاء کے ذمے لگائیں۔ نبی کریم ﷺ اور اسلام نے آکر ان تمام جھوٹی کہانیوں کی نفی کی اور کہا کہ وہ اللہ کے پاک، برگزیدہ اور مقرب لوگ تھے اور ان برائیوں سے پاک تھے اور بلند تھے۔اسلام کی ایک اور خوبی اور ایک اور کنٹریبیوشن ہے، اس کا یہ ایک عظیم الشان کارنامہ ہے کہ اس نے انبیاء کو ایک جماعت قرار دیا۔ اس لیے ان پر جو تہمتیں لگی تھیں، ان کو صاف کیا۔ ان کو اس سے پاک کیا۔ یہ اس دین کی خوبی ہے۔
تیسری خوبی وحدتِ دین و دنیا ہے۔ بہت سے مذاہب اور ادیان نےدنیا اور آخرت یا دنیااور دین میں فرق کر دیا تھاکہ اگر دینداری چاہتے ہو، آخرت چاہتے ہو، تو پھر دنیا کی لذتوں سے بچنا ہے، خواہ وہ جائز ہی ہوں اور جائز طریقے سے حاصل کی گئی ہوں ۔ انہوں نے مرضی کے کھانے، پینے اور اوڑھنے بچھونے اور مرضی کی جائز زندگی کو چھوڑ کے اپنے آپ کو مشقت اور تکلیف میں ڈالنے کو دین بنا لیا۔ بڑی بڑی کہانیاں، سچی کہانیاں ہیں،ان عیسائیوں کے بارے میں ،جو عیسائی لوگ ترک دنیا کرتے تھے،دنیا چھوڑ دیتے تھے،گرجوں میں یا دور دراز علاقوں میں جا بستے تھے۔دنیا کے تمام تعلقات چھوڑ دیتے تھے،ان کے بارے میں بڑی بڑی کہانیاں ہیں، جنہیں میں پہلے ذکر کر چکا ہوں ،ووہ اپنے آپ کو خواہ مخواہ تکلیف میں ڈالتے تھے۔ اسی طرح ہندو جوگی اور بدھ بھکشو وغیرہ،تارک الدنیا لوگ اور تارک الدنیا عورتیں جو گزری ہیں۔عجیب پابندیاں انہوں نے خود پر عائد کیں، جیسا کہ عیسائیوں میں ہے کہ شادی نہیں کرنی،دنیا داری کا کوئی کام نہیں کرنا،کمائی بھی نہیں کرنی،بس خیرات پہ پلنا ہے،پھر بدھ مت میں انہوں نے بھکشو نام ہی رکھ دیا ہے ،یعنی بھیک مانگنے والا۔ وہ کام کوئی نہیں کرتے، تقسیم ہند سے پہلے، پاکستان بننے سے، پہلے ہم انہیں دیکھا کرتے تھے ، وہ جوگیا رنگ کے کپڑے پہنتے، جو ایک چادر سی ہوتی تھی، ان کے ہاتھ میں کشکول ہوتا تھا اور وہ مانگ کر کھاتے تھے، کما کر نہیں کھاتے تھے، یہ ان کا دین تھا تو اسلام نے آ کر بتایا کہ نہیں، دنیا کی وہ لذتیں جو جائز ہیں اور جائز طریقے سے حاصل ہوتی ہیں، وہ حرام نہیں ہیں۔ فرمایا:
﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ﴾ (سورة الأعراف: 32)
کہو، بولو، ثبوت دو، ان چیزوں سے کس نے منع کیا ہے؟ اللہ نے تو منع نہیں کیا، پھر تمہیں کس نے منع کیا ہے ؟ کہ تم دنیا کی جائز لذتوں سے کنارہ کشی اختیار کرو اور ان سے دور ہو جاؤ، کسی نے منع نہیں کیا، اسلام نے منع نہیں کیا، اسلام نے ترک دنیا کو پسند نہیں کیا بلکہ:
﴿وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا﴾ (سورة الحدید: 27)
یہ رہبانیت یعنی ترکِ دنیا ایک بدعت تھی ، دنیا کو چھوڑنا ،دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنا، فرمایا: ’’یہ بدعت تھی جو اختیار کی گئی۔‘‘
﴿مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ﴾ (سورة الحدید: 27)
ہم نے یہ فرض نہیں کی تھی، ہم نے ان ادیان میں بھی یہ فرض نہیں کی تھی، لوگوں نے از خود اسے دین بنا لیا ، چنانچہ اسلام نے دین و دنیا کو ایک کر دیا۔
اپنا ذاتی کھانا پینا اور اپنی اولاد پر خرچ کرنا، جو ایک فطری بات ہے اور سب کرتے ہیں، مسلمان بھی کرتے ہیں اور کافر بھی کرتا ہے، لیکن اسلام کی برکت یہ ہے کہ مسلمان یہ خرچ اللہ کو راضی رکھنے کی نیت سے کرے، اللہ کا حکم سمجھ کے کرے تو اس کو اس کھانے پینے اور خرچ کرنے کا ثواب بھی ملتا ہے۔ اپنے بال، بچوں اور اپنی اولاد اور اپنے متعلقین پر خرچ کرنے کا ثواب بھی ملتا ہے، یعنی یہاں کوئی فرق نہیں دین اور دنیا میں، دنیا کو بھی دین بنا دیا ، مسلمان کی ساری دنیا کو دین بنا دیا کہ جو چیز، جو کام،چھوٹا ہو یا بڑا، اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے گا ،رسول اللہﷺکے طریقے کے مطابق کیا جائے گا،اس کا ثواب ملے گا اور وہ دین بن جائے گا۔ وہ صرف دنیا کا کام نہیں رہے گا۔ یہ وحدت دین و دنیا تھی، جس کو اسلام نے آ کے رائج کیا۔
اسی طرح اسلام کی ایک خوبی وحدتِ انسانیت ہے کہ انسان مشرق کا ہو یا مغرب کا ہو، ماضی کا ہو یا حال کا ہو، گورا ہو یا کالا ہو، چھوٹا ہو یا بڑا ہو ، امیر ہویا غریب ہو، وہ انسان ہونے کے لحاظ سے برابر ہے، فرق ہے تو کفر اور اسلام کا، مومن اور کافر ہونے کا اور کوئی فرق نہیں، جس کو اسلام مانتا ہو۔ سوائے اس فرق کے اسلام نے بطور انسان باقی سب فرق مٹا دیئے۔مشرق اور مغرب کے، ماضی، حال اور مستقبل کے انسان کو ایک کر دیا۔ یہ کہہ کر کہ سب آدم کی اولاد ہیں۔ فرمایا:«کُلُّکُمْ بَنُوْ آدَمَ» (مسند أحمد:17446)
’’تم سب آدم کے بیٹے ہو۔ ‘‘
اور اس لحاظ سے تم میں کوئی فرق نہیں۔ انصاف سب کے لیے، اچھا سلوک سب کے لیے، خواہ وہ کافر ہو ، خواہ وہ مسلمان ہو ،انصاف سب کو ملے گا، اس لحاظ سے سب انسان برابر ہیں۔ بنیادی حقوق سب کو ملیں گے، اس لحاظ سے سب برابر ہیں۔ تو یہ وحدتِ انسانیت ہے، اسلام نے جس کا درس دیا، یہ اس کی ایک اور خوبی ہے۔
اسی سے پھر تصور اٹھتا ہے، برابری کا ،مساوات کا، اخوت کا، بھائی چارے کا۔ مؤمن خاص طور پہ آپس میں بھائی بھائی ہیں، لیکن غیر مسلوں کے بھی حقوق ہیں۔ بطور مسلم ان کو بھی ادا کرنا ہے، اسلام نے انسانیت کی وحدت کا ثبوت دیتے ہوئے انسانیت کی وحدت پر زور دیا اور اسلام نے سب انسانوں کو ایک کر کے دکھایا۔
اسلام کی خوبیوں میں سے ایک وحدتِ مقصدِ زندگی بھی ہے کہ اسلام نے زندگی کا ایک مقصد بتایا۔ پہلے تو یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ زمین وآسمان یا کائنات اور کائنات میں مخلوقات اور مخلوقات میں انسان بے مقصد پیدا نہیں کیے۔ارشادِ ربانی ہے:
﴿ أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا﴾ (سورة المؤمنون :115)
کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تم کو بیکار، بغیر کسی مقصد کے پیدا کیا ؟ نہیں، مقصد کےبغیر پیدا نہیں کیا، بلکہ تمہاری تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ تم دنیا کی اس مختصر زندگی کو اپنے رب کی مرضی کے مطابق گزارو، یہ مقصد ہے، یہ نہیں کہ جو دل میں آیا کرتے رہو، بلا مقصد زندگی بسر کرتے جاؤ، بلکہ تمہاری زندگی کا مقصد ایک ہے اور ایک ہونا چاہیے اور وہ ہے اس دنیا کی زندگی کو اللہ کی مرضی کے مطابق گزار کے آخرت میں اس کو راضی کرنا ،اسے خوش کر کے جنت حاصل کرنا، یہ زندگی کا مقصد ہے، یہ سمجھایاتو تھا تمام ادیان نے، لیکن اسلام نے اس پر خاص طور پہ زور دیا۔ مرنے کے بعد کی زندگی، اس کا تصور، پہلے قبر کا اور اس کے بعد قیامت کے حساب کتاب کا، پھر جنت اور دوزخ کے فیصلے کا، ان تمام باتوں کی تفصیل سے قرآن کریم کے اوراق اور حدیثِ پاک کی کتابیں بھری ہوئی ہیں۔ یہ بات سکھانے اور بتانے کے لیے اور اس بات پر زوردینے کے لیے کہ موت کے بعد اِک اور زندگی آئے گی، پھر اللہ تعالیٰ زندگی دے گا،بھُربھُری اور مٹی میں ملی ہوئی ہڈیوں کو پھر سے جوڑا جائے گا، ایک انسان کی ہڈیاں اگر مختلف جگہ بکھری ہوئی ہوں یا گوشت زمین میں مل کر خاک ہو چکا ہو،وہ ہڈیاں دوبارہ اکٹھی کی جائیں گی،گوشت ان پر ڈالا جائے گا، اس کو زندہ کیا جائے گااور پھر سب اللہ کے سامنے پیش ہوں گے،حساب کتاب ہوگا۔ ایسے بھی ہوں گے، جن کو اس حساب کتاب سے معافی ملے گی اور وہ بغیر حساب کے نجات پا جائیں، لیکن اکثر لوگوں کا حساب ہوگا، اللہ کے سامنے پیشی ہوگی، قرآن مجید نے اس دن کی یاد دلائی ہے، ارشادِ ربانی ہے:
﴿وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ﴾ (سورة السجده: 12)
یاد کرو اور تصور میں لاؤ، وہ دن جب مجرم، گناہ گار، باغی، نافرمان اور بے ایمان اللہ کے سامنے، سروں کو جھکائے ہوئےہوں گے، اکڑ اور تکبر ختم ہو چکا ہو گا اور آج سب اللہ کے سامنے سروں کو جھکائے ہوئے کھڑے کہہ رہے ہوں گے:
﴿ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا ﴾ (سورة السجده: 12)
اے رب کریم !آج ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا، جو ہمیں بتایا جاتا تھا۔ غیب کی جو باتیں بتائی جاتی تھیں ہم نہیں مانتے تھے،آج انکو دیکھ لیا اور سن بھی لیا اور یہ کہ
﴿فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ﴾ (سورة السجده: 12)
اے اللہ! ہمیں ایک چانس مزید دے دے، ایک موقع دے دے کہ ہم واپس چلے جائیں،اب ہم بڑے اچھے اچھے کام کریں گے۔نیک لوگ بن جائیں گے۔ویسی زندگی نہیں گزاریں گے، جیسی گزار کر آئے ہیں، لیکن یہ التجا،یہ دعائیں،یہ خواہشات قبول نہیں کی جائیں گی۔ ان کو مسترد کیا جائے گا۔ رد کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ایک ہی زندگی تھی اور بڑی لمبی زندگی تھی جو تم کو ملی، بدلنا تھا تو اسی میں بدل جاتے، اس میں اپنی اصلاح کرتے۔ اس میں کوئی اچھے کام کرتے تو آج تمہیں یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔تو یہ اسلام ہے جس نے انسانوں کو مقصدِ زندگی کا تصور دیاکہ زندگی کا مقصد کیا ہے؟
قرآن نے بار بار یاد دلایاکہ اللہ تعالیٰ نے یہ زمین و آسمان اور کائنات اور انسان ایک مقصد کے تحت پیدا کیے ہیں اور اس مقصد کے تحت وہ اس زمین پر زندہ رہتے ہیں۔پھر دوبارہ ان کو زندہ کر کے اللہ کے حضور پیش کیا جانا ہے۔ توحید کا سبق، تمام انبیاء کو ماننے اور ان کی عزت کرنے کا سبق ،دین اور دنیا کو ایک سمجھنے اور دنیا کو بھی دین بنانے کا سبق، انسانوں کی وحدت اور برابری کا سبق اور زندگی کو ایک بامقصد زندگی سمجھنے اور بنانے کا سبق، ہمارے دین کی یہ بنیادی اور اہم خوبیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس دین کی خوبیوں کو ہمارے دلوں میں نقش کر کے ان کی قدر کرنے اور دینِ اسلام سے محبت کرنے اور اپنے دین کو بہترین دین سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
٭٭٭
تبصرہ کریں