
اب ہم ذرا سورۃ المائدہ کی آیات کا مطالعہ کرتے ہیں جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کس کس طرح مخاطب ہوکر بات کو سمجھاتے ہیں کہ اللہ کی نعمت یاد کرو کہ تم میں انبیاء بنائے گئے، تمہیں باشاہت سے نوازا اور تمہیں وہ سب کچھ دیا جو دوسرے لوگوں کو نہیں دیا گیا۔
(5) فرماتے ہیں: یاد کرو جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا تھا : ’’اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی اس نعمت کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کی تھی۔ اس نے تم میں نبی پیدا کیے، تم کو فرماں روا بنایا اور تم کو وہ کچھ دیا جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا۔ اے برادران قوم، اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے لئے لکھدی ہے، پیچھے نہ ہو ورنہ ناکام و نامراد پلٹو گے، (مقدس سرزمین سےمراد) ”فلسطین“ کی سرزمین ہے جو اس وقت سخت مشرک اور بدکارقوموں سےآبادتھی بنی اسرائیل جب مصر سے نکل آئے تو اسی سرزمین کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے نامزد فرمایا اور حکم دیا کہ جاکر اسے فتح کرلو۔
انھوں نے جواب دیا:
﴿ قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِنَّ فِيهَا قَوْمًا جَبَّارِينَ وَإِنَّا لَن نَّدْخُلَهَا حَتَّىٰ يَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِن يَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِنَّا دَاخِلُونَ 0 قَالَ رَجُلَانِ مِنَ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا ادْخُلُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّكُمْ غَالِبُونَ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴾ (سورہ المائدہ آیت22۔23)
”اے موسیٰ علیہ السلام ،وہاں تو بڑے زبردست لوگ رہتے ہیں ، ہم وہاں ہرگز نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ ہاں اگر وہ نکل گئے تو ہم داخل ہونے کے لئے تیار ہیں۔‘‘ ’’ان ڈرنے والوں میں دو بہادر شخص ایسے بھی تھے جن کو اللہ نے نعمت سے نوازا تھا۔ انھوں نے کہا : ’’ان جباروں کے مقابلہ میں دروازے کے اندر گھس جاؤ، جب تم اندر پہنچ جاؤگے تو تم ہی غالب رہوگے۔ اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو۔‘‘ (آیت23) یعنی ”قال رجلان من الذین یخافون“ (ان ڈرنے والے لوگوں میں، یہ 2 جلیل القدر مومن اور بہادر رہنما ، بزرگوں میں ایک حضرت یوشع بن نون تھے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ان کے خلیفہ ہوئے ۔دوسرے حضرت کالب تھے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دست راست بنے۔
نوٹ: چالیس برس تک بھٹکنے کے بعد جب بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہوئے اس وقت حضرت موسیٰؑ کے ساتھیوں میں سے صرف یہی دو بزرگ زندہ تھے)۔ الغرض ”ان نافرمان و ڈرپوک لوگوں نے“ پھر یہی کہا کہ’’اے موسیٰ علیہ السلام، ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں موجود ہیں۔ بس تم اور تمہارا رب دونوں جاؤ اور لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں۔،، اس پر موسیٰؑ نے کہا : ’’اے میرے رب، میرے اختیار میں کوئی نہیں مگر یا میری اپنی ذات یا میرا بھائی، پس تو ہمیں ان نافرمان لوگوں سے الگ کردے۔‘‘
اللہ نے جواب دیا: ’’اچھا تو وہ ملک چالیس سال تک ان پر حرام ہے، یہ زمین میں مارے مارے پھریں گے، ان نافرمانوں کی حالت پر ہر گز ترس نہ کھاؤ۔‘‘ (مستفاد تفہیم القرآن سورہ المائدہ آیات : 20 تا 26 کی )
سورہ الاعراف میں بھی بنی اسرائیل کی نافرمانیوں اور بت پرستی کی طرف انکا جو میلان رہا ہے اس کا ذکر کیا گیا اور اللہ نے انہیں فرعون سے کس طرح بچایا علاوہ ازیں ہر مصیبت و بلا میں جب بھی وہ پھنس جاتے تو اپنے نبیؑ سے اس یقین کے ساتھ دعا کرواتے کہ اللہ تعالیٰ ان کی دعا کو رد نہیں کرتا، مگر جب بھی یہ اللہ سے دعا کرواتے تو اس بات کا وعدہ کرتے کہ یہ بلا و مصیبت ہم سے اگر ٹل جائے تو ہم تمہاری بات مان لیں گے یعنی نافرمانی نہیں کریں گے۔ چنانچہ قرآن اس کا ذکر یوں کرتا ہے:
(1) بنی اسرائیل کو ہم نے سمندرسے گزار دیا، پھر وہ چلے اور راستے میں ایک ایسی قوم پر ان کا گزر ہوا جو اپنے چند بتوں کی گرویدہ بنی ہوئ تھی۔ کہنے لگے: ’’اے موسیٰ (علیہ السلام)، ہمارے لئے بھی کوئی ایسا معبود بنادے جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں۔‘‘
موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ’’تم لوگ بڑی نادانی کی باتیں کرتے ہو۔‘‘
﴿ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ﴾ (سورۃ الاعراف: 138)
یعنی، یہ قوم اگرچہ کہ مسلمان تھی مگر مصر میں صدیوں تک ایک بت پرست قوم کے درمیان رہنے کا یہ اثر تھا۔ بنی اسرائیل جس روش پر رہے تھے اور جس طریقہ کو اپنانا چاہتے تھے اس کے متعلق یہ صاف فرما دیا کہ یہ تو سراسر باطل ہے، اور موسیٰ علیہ السلام نےانہیں اس بات کی یاد دہانی بھی کروائی کہ تم کیسے لوگ ہو جو مجھ سے یہ فرمائش کرتے ہو کہ میں تمہارے لئے معبود تلاش کروں؟ جبکہ تمہیں اس رب کا شکر گذار بن جانا چاہئے کہ اس نے تم پر یہ احسان کیا کہ تمہیں دنیا میں فضیلت بخشی صرف اتنا ہی نہیں بلکہ فرعونیوں سے نجات دلائی اور تمہیں ذلت آمیز سخت حالات سے نکالا ورنہ وہ تو تمہاری اولاد نرینہ کو قتل کرتے ہوئے تمہاری آنے والی نسلوں کا سلسلہ ختم کرنے کے درپے ہوچکے تھے۔ قرآن نے اس کا نقشہ یوں کھینچا ہے:
(2) ﴿ إِنَّ هَٰؤُلَاءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيهِ وَبَاطِلٌ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴾ِ
’’یہ لوگ جس طریقہ کی پیروی کررہے ہیں وہ تو برباد ہونے والا ہے اور جو عمل وہ کررہے ہیں وہ سراسر باطل ہے۔‘‘پھر آگے اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد دلاتے ہوئے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قوم کو دو ٹوک جواب یوں دیا۔‘‘
﴿قَالَ أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِيكُمْ إِلَٰهًا وَهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ ﴾
’’پھر موسیٰ علیہ السلام نے کہا :’’کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لئے تلاش کروں؟ حالانکہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں دنیا بھر کی قوموں پر فضیلت بخشی ہے۔‘‘ اور آگے یہ بھی فرمایا:
﴿وَإِذْ أَنجَيْنَاكُم مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ ۖ يُقَتِّلُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ ۚ وَفِي ذَٰلِكُم بَلَاءٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ ﴾
’’اور اللہ فرماتا ہے، وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرعون والوں سے تمہیں نجات دی جن کا حال یہ تھا کہ تمہیں سخت عذاب میں مبتلا رکھتے تھے، تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔‘‘ (ترجمانی الاعراف آیات: 139تا141)
حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے بارے میں ایک مشفق باپ کی طرح بلکہ اس سے زیادہ فکر مند رہا کرتے تھے: ہر وقت انہیں اللہ کی نافرمانی کے انجام بد سے ڈراتے اور انہیں بت پرستی کی گندگی سے بچانے کے لئے صبح وشام جدوجہد فرماتے لیکن حضرت موسیٰؑ جیسے ہی چند دنوں کے لئے اپنی قوم سے اوجھل ہوئے تو پھر یہ اپنی بدعملی ، بت پرستی وگاؤ شالہ پرستش کی طرف چل پڑتے۔ چنانچہ اس کی منظر کشی قرآن حکیم یوں پیش کرتا ہے: بنی اسرائیل اللہ کے ساتھ ناشکری و ناقدری کرچکےاور اپنے نبی کے ساتھ کس طرح دل آزاری اور تنگ کیا، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معاون حضرت ہارون علیہ السلام کے ساتھ کس طرح زیادتی کی اور ان کے قتل کے قریب ہوچکے تھے۔
(3) ﴿ وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَىٰ مِن بَعْدِهِ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهُ خُوَارٌ ۚ أَلَمْ يَرَوْا أَنَّهُ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا ۘ اتَّخَذُوهُ وَكَانُوا ظَالِمِينَ ﴾
’’موسیٰؑ کے پیچھے اس کی قوم کے لوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پُتلا بنایا جس میں بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ کیا انہیں نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے نہ کسی معاملہ میں ان کی رہنمائی کرتا ہے؟ مگر پھر بھی انھوں نے اسے معبود بنالیا اور وہ سخت ظالم تھے۔ ‘‘ یہ اُس مصریت زدگی کا دوسرا ظہور تھا جسے لیے ہوئے بنی اسرائیل مصر سے نکلے تھے۔ مصر میں گائے کی پرستش اور تقدیس کا جو رواج تھا اس سے یہ قوم اتنی شدت کے ساتھ متاثر ہوچکی تھی کہ پیغمبر کے پیٹھ موڑتے ہی اس نے پرستش کیلئے ایک مصنوعی بچھڑا بنا ڈالا۔ (سورۃ الاعراف: 148)
خلاصہ یہ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے طور کی طرف پلٹتے ہی اپنی سابقہ روش پر آگئے،یعنی بنی اسرائیل اللہ کے اتنے ناشکرے بن چکے تھے کہ انہوں نے اللہ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے بت پرستی کی طرف پلٹے اور ایک بچھڑا بناکر اسے پوجنے لگے انکی یہ پرانی عادت تھی کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کی پرستش میں دلچسپی دکھائ انکے سامنے اپنی حاجتیں پیش کرتے اور ان پر ساری چیزیں نچھاور کرتے مختصر یہ کہ بنی اسرائیل اپنی پرانی عادتوں پر عمل پیرا رہنا اپنی شان سمجھتے ہوے شرک باللہ کے دلدادہ بن چکے۔ بقول شاعؔر
بت کو پوجوں گا صنم خانوں میں جا جا کر میں
اس کے پیچھے مرا ایمان رہے یا نہ رہے
اوربچھڑے کی پوجا شروع کردی حالانکہ وہ خود اپنے ہاتھوں اسے بنایا تھا اور وہ اتنا بے بس تھا کہ نہ وہ بات کرتا ہے اور نہ ہی کسی بھی طرح کی رہنمائی کرتا۔یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر خود ساختہ معبود کی پرستش کرتے ہوئے ظلم کی راہ اختیار کی۔ علامہ اقباؔل اس قماش کے لوگوں سے سوال کرتے ہیں؟
بتوں سے تجھ کوامیدیں خدا سے نو میدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
جب موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی ہدایات وفرامین توراۃ, کو تختیوں کی شکل میں لےکر واپس کوہ طور سے تشریف لائے اس وقت بھی بنی اسرائیل کے مشرکانہ مجرمانہ اعمال دیکھ کر بہت رنجیدہ ہوئے اور انہیں اس سے بہت دکھ پہنچا، اپنی قوم سے کہا ، کیا تم میرے آنے تک بھی صبر نہ کرسکے۔ عجلت و جلد بازی میں باطل کی پوجا شروع کردی؟ اس طرح حضرت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کو اپنی قوم کی اس بدترین معصیت میں مبتلا دیکھ کر دل پر بہت شاق گذرا ۔قرآن حکیم اس کا تذکرہ اس طرح کرتا ہے۔
(4) ﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰ إِلَىٰ قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِي مِن بَعْدِي ۖ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ ۖ وَأَلْقَى الْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ ۚ قَالَ ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَكَادُوا يَقْتُلُونَنِي فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْأَعْدَاءَ وَلَا تَجْعَلْنِي مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ ﴿ سورۃ الاعراف 150﴾
’’ ادھر سے موسیٰ (علیہ السلام) غصے اور رنج میں بھرے ہوئے اپنی قوم کی طرف پلٹے، آتے ہی اُنہوں نے کہا: ’’بہت بُری جانشینی کی تم لوگوں نے میرے بعد! کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے ؟‘‘ اور تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی(ہارون علیہ السلام) کے سر کے بال پکڑکر اسے کھینچا۔ ہارون(علیہ السلام) نے کہا: ’’اے میری ماں کے بیٹے! اِن لوگوں نے مجھے دبا لیا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے۔ پس تو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اور اس ظالم گروہ کے ساتھ مجھے نہ شامل کر۔‘‘ (سورہ الاعراف، 150؛ ترجمانی سید ابوالاعلی مودودی)
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اپنی قوم کی حالت پر غصہ ہونا یہ ان کی شانِ رسالت کے خلاف نہ تھا اور اسی حالت میں ’’الواح،، تختیوں کو ڈال دینا جو بظاہر پھینک دینے جیسا تھا۔
مولانا عبدالماجد دریابادی رحمہ اللہ اس سلسلہ میں یوں رقمطراز ہوئے : ’’پیغمبر غم و غضب کے جذبات سے بلند تر نہیں ہوتا۔ اسے غصہ بھی آتا ہے، اور رنج بھی ہوتا ہے طبعی جذبات سب ہی اپنے موقع پر طاری ہونے اس کے لئے جائز ہوتے ہیں۔ اور پھر یہ موقع حرارت دینی واشتعال کا تو جائز ہی نہیں، واجب بھی تھا۔‘‘ (تفسیر ماجدی: 2؍ 223)
بنی اسرائیل نے اس موقع پر بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو شدت رنج میں مبتلاکیا اور انہیں اتنی تکلیف پہنچائی کہ دینی غیرت وحمیت میں بے خود ہوکر غیر اختیاری طور پر ’’الواحَ‘‘ پھینک دیں۔
حضرت مولانا صلاح الدین یوسف نے ’’والقی الالواح‘‘ کی تفسیر فرماتے ہوئے یوں تحریر کیا ہے:
”جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آکر دیکھا کہ وہ بچھڑے کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں تو سخت غضب ناک ہوئے اور جلدی میں تختیاں بھی جو کوہ طور سے لائے تھے، ایسے طور پر رکھیں کہ دیکھنے والے کو محسوس ہوا کہ انھوں نے نیچے پھینک دی ہیں۔ جسے قرآن نے ’’ڈال دیں‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ تاہم اگر پھینک بھی دی ہوں تو اس میں سوء ادبی نہیں کیونکہ مقصد ان تختیوں کی بے ادبی نہیں تھا، بلکہ دینی غیرت و حمیت میں بے خود ہوکر غیر اختیاری طور پر ان سے یہ فعل سرزد ہوا۔‘‘ (القرآن الکریم وترجمہ ومعانیہ وتفسیر:حاشیہ 1صفحہ:456)
مولانا پانی پتی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں کہ
﴿بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِي﴾میرے بعد تم نے بری حرکت کی کہ گوسالہ کو پوجنے لگے۔ یہ خطاب صرف گوسالہ پرستوں سے ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم نے میری بری قائم مقام کی، کہ بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کو نہ روکا اس وقت خطاب حضرت ہارون اور دوسرے صحیح الایمان مؤمنوں کو ہوگا۔
﴿ مِن بَعْدِي﴾ یعنی میرے میقات پر جانے کے بعد۔ یا یہ مطلب ہے کہ باوجود یکہ تم نے میری طرف سے تعلیم توحید و تنزیہ کو دیکھ لیا اور یہ بات بھی دیکھ لی کہ میں شرک سے روکتا ہوں اس کے بعد بھی تم نے یہ بری حرکت کی ۔
﴿ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ ﴾ یعنی تم نے اپنے رب کے کام کو ناتمام چھوڑ دیا۔ چونکہ عجل کے اندر سبقکا”سبقا“ معنی مضمر ہے اس لئے (بغیر حرف جر) کے مفعول کو ذکر کیا گیا۔ یا یہ معنی ہے کہ تم نے اللہ کے مقرر کردہ چلہ کے پورے ہونے سے پہلے ہی یہ حرکت شروع کردی مجھے مردہ مان لیا اور اسی طرح دین کو بگاڑ دیا جیسے گزشتہ انبیاء کے بعد ان کی امتوں نے اپنا دین بگاڑا تھا۔ عجلۃ کا لغوی معنی ہے کسی چیز کو وقت سے پہلے طلب کرنا۔
﴿وَأَلْقَى الْأَلْوَاحَ﴾ یعنی وہ تختیاں جن میں توریت لکھی ہوئی تھی سخت غضب کی حالت میں زمین پر ڈال دیں مگر (یہ فعل توریت سے نفرت اور بےادبی کے طور پر نہ تھا بلکہ) یہ مغلوب الغضبی محض اللہ کی ہدایت کی حمایت و اطاعت کے لئے تھی۔
ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کے طریق سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو زبرجد ( سبز رنگ کا جواہر یا پتھر جو زمرد (Emerald) سے ملتا جلتاہے) کی سات تختیوں پر (لکھی ہوئی) توریت دی گئی تھی جس کے اندر ہر چیز کا بیان بھی تھا اور ہدایات بھی تھیں۔ لیکن حضرت موسیٰ( علیہ السلام) نے پہاڑ سے آکر بنی اسرائیل کو بچھڑے کی پوجا میں منہمک پایا تو اپنے ہاتھ سے توریت کو پھینک دیا جس کی وجہ سے تختیوں کے سات ٹکڑے ہوگئے ٹوٹنے کے بعد چھ حصے تو توریت کے اللہ نے اٹھا لئے صرف ساتواں حصہ رہ گیا بغوی نے لکھا ہے کہ ”غیب“(ماضی ومستقبل) کی خبروں سے تعلق رکھنے والے حصے تو اٹھا لئے گئے اور جس حصہ کے اندر ہدایات ، احکام اور حلال و حرام کا بیان تھا وہ رہ گیا ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’(کانوں سے سنی ہوئی،آنکھوں سے دیکھنےکی طرح نہیں ہوتی اللہ نے (طور پر ہی) موسیٰ(علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی کی اطلاع دے دی تھی لیکن موسیٰ ( علیہ السلام) نے(اس وقت) تختیاں نہیں پھینکیں اور جب ان کی حرکت خود دیکھ لی تو تختیاں پھینک دیں اور وہ ٹوٹ گئیں۔ (رواہ احمدوالطبرانی فی الاوسط والحاکم بسندصحیح مظہری)
یہودیوں کاانبیاءپر زیادتیاں کرنا انہیں ستانا تو مشہور ہے،انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معاون، حضرت ہارون علیہ السلام کو بچھڑے کی پرستش کےحوالے سے بد نام کیا، ان پر سونے کا پچھڑا بنانےکا الزام لگا کر” سامری“ کے جرم کو حضرت ہارون علیہ السلام پر چسپاں کردیا۔(جاری)
٭٭٭
تبصرہ کریں