
پیش گفتار
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام علی رسوله الأمین وعلی آله وصحبه أجمعین
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے جو کام قومی و ملکی سطح پر تو ہوتے ہیں لیکن جن کے دور رس اصلاحی اثرات واَن مٹ تربیتی ثمرات بین الاقوامی سطح پر مرتب ہوتے ہیں اِن میں گاہ بہ گاہ علمی کانفرسوں کا انعقاد بھی ہے ۔
بفضلہ تعالی- چونتیسویں کانفرس میں شرکت وخطابت کی سعادت ملی ، اور- بحمد اللہ- اس دفعہ پینتیسویں کانفرس میں بھی بحیثیت مقالہ نگار وبطور خطیب مرکزی جمعیت نے اس خاک سار قلم کار کی ذرہ نوازی کی ، اس شرف بخشی پرصمیم قلب سے رب کریم کا احسان عظیم بجالانے کے بعد مرکزی قائدین کا بھی بے حد شکر گزار ہوں ، اور دعاگو ہوں کہ رب کریم اس عظیم کام کو حقیقی ومعنوی کام یابی سے سرفراز کرے ، جملہ خدمات جلیلہ ومساعی جمیلہ کو خالصۃً لوجہ اللہ بنائے ، اور وحشیت وبربریت کے دور میں اسے انسان کے لیے انسانیت آمیز بنائے۔
دراصل کا نفرس کے اعلان سے قبل ہی بڑے دنوں سے اس موضوع کی خدمت کا ارادہ تھا ، کیوں کہ مختلف مناسبتوں پر اس موضوع کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی تھی پر کوئی موزوں موقع نہیں مل سکا ، اب -الحمد للہ- مرکزی جمعیت کی پینتیسویں کانفرس کے حوالے سے مرکزی قائدین کی ایما پر زیر بحث موضوع کی خدمت کی سعادت نصيب هوئي۔
اللہ کرے کہ کانفرس میں شریک ہر عالم نحریر کی تقریر وتحریر بلکہ ساری علمی سرگرمیاں میزبان ومہمان دونوں کے لیے ذخیرۂ آخرت بنے۔
خیرانديش
دکتورسيدحسين مدنی ﷾
سکریٹری كل هند ادارۂ علمی تحقیقات
06؍جمادی الاولیٰ، 1446ہجری م 07؍نومبر ، 2024ء
انسا نی اقدار حق وانصاف کے علم بردار
انسان کی نسبت اُنسیت سے ہے جس کی فطرت وطبیعت ہی میں محبت ودیعت ہے ، اس کے برعکس انسانیت کی حقارت غرور وتکبر کی علامت ہے ،جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
” الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ “ ( صحیح مسلم ، کتاب الإیمان ، باب تحریم الکبر : 147)
’’حقیقی تکبر گھمنڈ کی وجہ سے انکار حق اور انسانوں کو حقیر جاننا ہے۔ ‘‘
اسی لیے احترام انسانیت الکرامۃ البشریۃ Respect for Humanity یعنی انسانیت کے اکرام واحترام ، تعظیم وتفخیم ، توقیر وتقدیر اور اجلال وتبجیل کے لیے آج کل دنیا بھر میں طرح طرح کی کوششیں اور نت نئی کاوشیں ہو رہی ہیں ، برسبیل مثال 2008ءسے شعور بیداری کے طور پر اقوام متحدہ یعنی
Nations General Assembly United کی جانب سے 19؍ اگست کو WHD یعنی World Humanitarian Day احترام انسانیت کا عالمی دن منایا جانے لگا ، مختلف یونی ور سیٹیوں میں Department of Humanities قسم الدراسات الإنسانیۃ شعبۂ انسانی علوم قائم کیے گئے ، اور قومی وبین الاقوامی سطح پر احترام انسانیت کے حوالے سے بڑی بڑی تنظیمیں بھی قائم کی گئیں۔
انسانيت؛ ضرورت ،خصوصيت ورِفعت انساں
اسلاف میں امام ابن العربی (المحصول في أصول الفقہ لابن العربي :ص28)
اور امام ابن تیمیہ (درء تعارض العقل والنقل: 7؍136) جیسے اصولی علما نے اصول انسانیت بتائے کہ انسان کے لیے احترام انسانیت اور مراعات مروت و بشریت ناگزیر ہے ، اور اسی لیے رب کریم ، رب ذو الجلال والاکرام بلکہ رب اکرم نے عمومی طور پر بلا کسی تفریق محض انسانی اقدار کی بنا پر ساری انسانیت کی بے انتہا تکریم فرمائی ، جیسا کہ فرمایا:
﴿ وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ﴾ ( سورۃ الاسراء :70 ) واضح رہے کہ تکریم میں اکرام کی بہ نسبت زیادہ معنویت پائی جاتی ہے ؛ مجاز القرآن لمعمر بن المثنی: 1؍386؛ جب کہ امام بخاری نے دونوں کو ہم معنی بتایا )’’اور یقینا ہم نے اولاد آدم کو عزت بخشی۔‘‘
قرآنی محترم انسان میں عمومی طورپر محض انسانی اقدار کی بنا پر ایمان سے محروم شخص بھی داخل ہے ۔
(أحکام القرآن للجصاص، ومفاتیح الغیب للرازی، والمغنی لابن قدامہ:8؍450؛ وفتح القدیر للشوکانی ، وبقول دیگر متعدد فقہا ومفسرین)
اور بقول امام ابن حزم بجز فرشتوں کے انسان متفقہ طور پر ساری مخلوق سے افضل ہے۔
(المحلی بالآثار: 1؍33)
اور جب انسان میں کماحقہ مطلوبہ انسانیت پائی جائے تو یہ مروت وانسانیت اسے فرشتہ صفت ہی نہیں بلکہ ایک معزز ترین فرشتہ قرار دیتی ہے ، جیسا کہ خواتین نے یوسف کے تئیں کہا :
﴿ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنْ هَٰذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ﴾ (سورۂ یوسف: 31)
’’یہ کوئی عام انسان نہیں بلکہ یہ تو محض برگزیدہ فرشتہ ہے۔‘‘
شائد اسی تناظر میں الطاف حسین حالی نے کہا:
فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
جب اللہ نے اس قد رانسانیت کی تکریم فرمائی اس کے باوجود اگر کوئی انسانیت کا قدردان وشکر گزار نہیں بن سکا تو وہ اللہ کا قدردان وشکر گزار بھی صحیح طور پر نہیں ہوسکتا ہے ، جیسا کہ نبوی فرمان ہے :
«لَا يَشْكُرُ اللهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ»
( سنن أبي داود ، کتاب الأدب ، باب في شکر المعروف : 4811 )
’’جس نے انسانوں کی قدر نہیں کی تو اس نے اللہ کی قدر نہیں کی۔‘‘
درج بالا حدیث کی روشنی میں احترام انسانیت درحقیقت احترام خالقیت ہے۔ واللہ اعلم۔
احترام انسانيت اور ربانی اہتمام
اللہ پ نے قرآن مجید میں تقریباً ستر (70) مقامات پر انسانیت کو اہمیت دی اور انسانیت سے خطاب کیا ،اور تکریم انسانیت کی ایک خصوصی شکل اختیار فرمائی جس کا تذکرہ درج ذیل حدیث میں ہے :
«يقولون: يا آدم أنت أبو البشر، خَلَقَك اللّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيك مِنْ رُوحِهِ، وأمر الملائكة فسجدوا لك، وأسكنك الجنة
(صحیح البخاري ،کتاب الأنبیاء ،باب قول اللہ إنا أرسلنا نوحا :3162 ،بروایت ابو ہریرہ )
’’ لوگ کہیں گے کہ اے آدم آپ ابو البشر ہیں ٗآپ کو اللہ نے خود اپنے ہاتھ سے وجود بخشا ،اپنی مخلوق روح آپ میں پھونکی ،آپ کی خاطر فرشتوں کو حکم دیا تو فرشتوں نے آپ کو سجدہ کیا ،اور اللہ نے آپ کو جنت کے رہائشی ہونے کا اعزاز بھی بخشا ۔ ‘‘
علاوہ ازایں انسانیت کی صحیح تکریم کے لیے محمد ﷺ کو ساری انسانیت کے لیے نبی بناکر مبعوث کیا ،جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
«أُعْطِيتُ خَمْسًا …. كَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إلى الناس عامة»
( صحیح بخاری،کتاب التیمم : 328)
’’مجھے پانچ امتیازات حاصل ہیں ۔۔۔ سابقہ نبی صرف اپنی قوم کی جانب بطور خاص بھیجاجاتا تھا ،پر مجھے عمومی طور پر سارے انسانوں کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔‘‘
٭٭٭
وقت قیمتی متاع
وقت ایک ایسی قیمتی چیز ہے کہ آپ دنیا کی ہرچیز روپئے پیسے دے کر خرید سکتے ہیں مگر وقت نہیں اسی لئے یہ بات کہی جاتی ہے کہ
“اَلْوَقْتُ اَثْمَنُ مِنَ الذَّھَبِ “
وقت سونے وچاندی اور تمام ہیرے وجواہرات سے زیادہ قیمتی ہے کیونکہ اس کی ایک ایک گھڑی ،ہرسکنڈ اور ہرمنٹ اتنا قیمتی ہے کہ ساری دنیا کی دولت بھی اس کی قیمت ادا نہیں کرسکتی ہے،یہ وقت اتنا قیمتی ہےمگر افسوس کہ ہم سب اپنی زندگی کے قیمتی اوقات کو ضائع وبرباد کرنے میں لگے ہوئے ہیں ،دن پر دن ،مہینہ پر مہینہ اورسال پر سال گذرتا جا رہا ہےمگر ہم غفلت ولاپرواہی کے شکار ہیں۔
ابن انشا نے کیا ہی خوب کہا ہے:
اک سال گیا اک سال نیا ہے آنے کو
پر وقت کا اب بھی ہوش نہیں دیوانے کو
٭٭٭
آپ یہ بات یاد رکھ لیں کہ وقت یا تو آپ کا بہترین دوست ہے یا پھر آپ کا بدترین دشمن ہے اب آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ اس وقت کو اپنا دوست بناتے ہیں یا پھر اپنا دشمن۔
امام ابن قیم نے اس وقت کے بارے میں کیا ہی خوب کہا ہے کہ سال ایک درخت کے مانند ہےاور مہینے اس درخت کی شاخیں ہیں،دن اس درخت کی ڈالیاں اور گھنٹے اس کے پتے اور لمحات اس کے پھل ہیں ،اب اس دنیا میں جس انسان کے لمحات اللہ کی اطاعت وبندگی میں گذریں گےتو اس کے درخت کا پھل میٹھا ہوگا اور جس انسان کے زندگی کے لمحات اللہ کی نافرمانی میں گذریں گے تو اس کے درخت کا پھل کڑوا اور کسیلا ہوگا اور اس پھل کے کاٹنے اور توڑنے کا دن قیامت کا دن ہوگا اور پھر اس دن سب کو پتہ چل جائے گا کس کا پھل میٹھا ہے اور کس کا کڑاوکسیلا ہے۔(الفوائد لابن القیم:1؍164)
اسی لئے آج وقت کی قدرکرلوکسی عقلمند نے کیا ہی خوب کہا ہے کہ
وقت کی قدر کرو اس لئے کہ گذرا ہوا وقت لحد میں پڑے ہوئے ایک مردے کی طرح ہے جسے رونے دھونے سے کبھی بھی زندہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔(تحفۂ وقت:55)
٭٭٭
صبح ہوتی ہے ،شام ہوتی ہے
عمریوں ہی تمام ہوتی ہے
٭٭٭
تبصرہ کریں