احترام انسانیت؛ فقہ الاقلیات کے تناظر میں(قسط4)۔ڈاکٹر سید حسین مدنی

احترام انسانيت اور مظلوم کی مدافعت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ! الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا»

’’کیا میں تمہیں سب سے بہترین گواہ کے متعلق اطلاع نہ دوں ؟ (سب سے بہترین گواہ وہ ہے ) جو گواہی دینے کی گزارش سے پہلے سبقت کے ساتھ گواہی دے دے۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الأقضیۃ: 1719)

یہ بالخصوص ایسی گواہی ہے جس سے اگر صاحب معاملہ یا ارباب حل وعقد حقیقت حال کے تئيں واقف نہ ہوں اور کسی کے پاس حقیقت کا علم ہو تو وہ حق تلفی کے ڈر سے آگے بڑھے اور صاحب معاملہ یا ارباب حل وعقد کو آگاہ کرے۔(فتح البارى: 5؍260)

شاعر مشرق نے کہا:

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے

آتے ہیں جو کام دوسروں کے

احترام انسانيت اور حق جوار

نبی ﷺ نے فرمایا :

«مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ»

’’ جس کا ایمان اللہ اور آخرت کے دن پر ہے اسے اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الإیمان: 77)

ابن حجر﷫ نے فرمايا:

” اسْمُ ‌الْجَارِ ‌يَشْمَلُ الْمُسْلِمَ وَالْكَافِرَ وَالْعَابِدَ وَالْفَاسِقَ وَالصَّدِيقَ وَالْعَدُوَّ وَالْغَرِيبَ وَالْبَلَدِيَّ وَالنَّافِعَ وَالضَّارَّ وَالْقَرِيبَ وَالْأَجْنَبِيَّ وَالْأَقْرَبَ دَارًا وَالْأَبْعَدَ “

’’ لفظ پڑوسی مسلمان، کافر، عبادت گزار، گناہ گار ، دوست، دشمن، مسافر، مقامی، نفع بخش، نقصان دہ ، رشتہ دار، غیر رشتہ دار اجنبی، قریبی گھر والے اور دور کے گھروالے سب کے لیے بولا جاتا ہے۔ (فتح الباری)

الطاف حسین حالی نے کہا:

یہی ہے عبادت یہی دیں وایماں

کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں

احترام انسانيت اور خدمت خلق

اللہ نے فرمایا :

﴿وَأَمَّا مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ﴾

’’جو انسانوں کے لیے نفع بخش ہو اسے زمین میں پائیداری ملتی ہے۔ ‘‘ (سورة الرعد: 17)

اورنبی ﷺ نے فرمایا:

« أحبُّ الناسِ إلى الله ‌أنْفَعُهم ‌لِلنَّاسِ »

’’ اللہ کے یہاں محبوب ترین شخص وہ ہے جو انسانوں کے لیے زیادہ نفع بخش ثابت ہو۔‘‘ (صحيح الترغیب والترہیب: 2623)

امام ابن قیم﷫نے فرمایا:

“مَا اسْتُجْلِبَتْ نِعَمُ اللّهِ، وَاسْتُدْفِعَتْ نِقْمَتُهُ بِمِثْلِ طَاعَتِهِ وَالتَّقَرُّبِ إِلَيْهِ وَالْإِحْسَانِ إِلَى خَلْقِهِ”

’’ اگر اللہ کی نعمتیں حاصل کرنی ہو اور عذاب الٰہی سے بچنا ہو تو اطاعت الٰہی وتقرب الٰہی کے بعد عمدگی کے ساتھ خدمت خلق سے بڑھ کر کوئی اور راستہ نہیں۔‘‘ (الداء والداء و الجواب الکافی: ص 18)

الطاف حسین حالی نے کہا:

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر

خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر

خدمت خلق کی ایک عمدہ شکل اصلاح معاشرہ ہے جو درحقیقت نبوی مہم ہے ٗ اور اس کے لیے شریعت نے اس قدر لچک رکھی ہے کہ انسانوں کے درمیان اصلاح یا مصالحت کرنی ہوتو خلاف واقعہ بیان کی بھی گنجائش بوقت ضرورت اور بقدر ضرورت ہے ٗ جیسا کہ نبی ﷺنے فرمایا:

«لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ الناس فينمي خيرا أو يقول خيرا.»

’’وہ شخص قطعاً جھوٹا نہیں جو اصلاح کی غرض سے خیر کی بات پہنچاتا یا کہتا ہو۔‘‘ (صحیح بخاری: 2546)

احترام انسانيت اور تحفظ ماحولیات (Ecology/ Environmental) وتحفظ نباتیات (Botany)

پاکی صفائی اسلامی تعلیمات کا اہم ترین حصہ ہے، اسی لیے ایک ذمہ دار مسلمان کو ہر طرح کی پاکی صفائی کا لحاظ رکھنا چاہیے اور معاشرے کو آلودگی سے بچانا چاہیے، کیونکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :

“اتَّقُوا اللاعِنَينِ” قالوا: وما اللاَّعِنانِ يا رسولَ الله؟ قال: “الذي يَتَخَلَّى في طريقِ النَّاسِ أو ظِلِّهم “

’’تم لعنت کے دو اسباب سے بچو ٗ صحابہ نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! وہ کون سے دو اسباب لعنت کے ہیں ؟ فرمایا جو عامۃ الناس کے راستوں پر یا ان کے سائبان میں حاجت سے فارغ ہو(وہ ملعون ہے)۔ (سنن ابو داؤد: 25)

انسانی معاشرے کے حفظان صحت اور سرسبزی وشادابی کی برقراری کے لیے نبی ﷺ نے فرمایا :

«إنْ قَامَت السَّاعةُ وَفِي يَد أَحَدِكُم ‌فَسِيلةٌ فَإنْ استَطاعَ أنْ لَا تَقُومَ حَتى يَغرِسَهَا فَليَغِرسْهَا»

’’اگر قیامت قائم ہونے لگے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہواور قیامت قائم ہونے سے پہلے وہ اسے بو سکتا ہو تو اسے بو دے۔ ‘‘(الأدب المفرد للبخاری: 479)

انسانیت کی خدمت اور ماحولیات کی حفا ظت کے لیے جہاں ایک جانب ضروری شجرکاری کی ترغیب دلائی گئی وہاں انسانیت کے لیے تکلیف دہ درخت کی ٹہنی راستے سے ہٹانے پر جنت کی بشارت بھی سنائی گئی ٗجیساکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«كَانَ عَلَى الطَّرِيقِ غُصْنُ شَجَرَةٍ يُؤْذِي النَّاسَ فَأَمَاطَهَا رَجُلٌ فَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ»

’’راستے پر انسانوں کے لیے تکلیف دہ درخت کی ٹہنی تھی، تو اسے ايك شخص نے فوراً ہٹایا ، نتیجتاً اسے جنت میں داخل کیا گیا۔ ‘‘(سنن ابن ماجہ: 3682)

بلکہ عامۃ الناس کے راستے سے کسی بھی تکلیف دہ شے کو ہٹانا جنت میں داخلے کا سبب ہے ٗ کیوں کہ جب ابو برزہ اسلمی نے رسول اللہﷺ سے گزارش کی کہ کوئی ایسے عمل کی نشان دہی کی جائے جو انھیں جنت میں داخل کردے تو فرمایا :

” أمطِ الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ ‌النَّاسِ”

’’انسانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹاؤ۔‘‘ ( الأدب المفرد: 228)

برقی اعظمی نے کہا:

انسانیت نہ جس میں ہو وہ آدمی نہیں

جس میں حضور قلب نہ ہو بندگی نہیں

احترام انسانيت و تحفظ حیوانیات(Zoology)

دین اسلام نے صرف احترام انسانیت ہی ملحوظ نہیں رکھا بلکہ ہر جان دار کے ساتھ حسن سلوک اختیار کرنے پر ابھارا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے غذا کی فراہمی کے بغیر بلی کو باندھ کر رکھنے والی بے رحم خاتون کے تئیں جہنم رسید ہونے کی وعید سنائی۔ (صحیح مسلم: 2619)

اور جب کتے کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے شخص کی مغفرت کی بشارت سنائی اس وقت صحابۂ کرام نے سوال کیا :

” إِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا؟ فَقَالَ: في كل ذات كبد رطبة أجر “

’’کیا جانوروں کے ساتھ بھی حسن سلوک پر ہمیں اجر ملے گا تو فرمایاکہ ہر جان دار کے ساتھ حسن سلوک پر اجر ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 2334)

خواجہ میر درد نے کہا:

درد دل کے واسطے پیدا کیا انساں کو

ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

احترام انسانيت اور نظام کائنات(Universal System)

انسانیت کے تئیں ربانی والٰہی تکریم کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض وسما کی ساری اشیا کو انسانوں کے لیے مفید اور تابع بنا دیا :

﴿ أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ﴾

’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں اورزمین کی چیزیں تمہارے لیے نفع بخش بنادیں؟‘‘

اور یاد رہے کہ انسانیت کو نوازنے میں نوازش ربانی کی کوئی انتہا نہیں۔(سورۃ لقمان: 20)

خلاصۂ کلام

اسلام ایک ہمہ گیر، نظام فطرت سے ہم آہنگ ، انسانیت کا علم بردار وانسانيت نواز، عالم گیر اور آفاقی مذہب ہے،جس کی اولین ترجیح امن وامان کی حفاظت اور انسانیت کی پاس داری وغمگساری اور رواداري ہے ، جس کا اہتمام قرآنی آیات ونبوی روایات میں کیا گیا ، سیاسی شخصیات، مذہبی جذبات، امور اقلیات، ماحولیات، نباتیات وحیوانیات سے متعلق بھی یہ موضوع بالکل واضح ہے، بالخصوص تحفظ جان، تحفظ مال، تحفظ املاک، تحفظ آبرو، برادران وطن کے ساتھ منصفانہ ورحم دلانہ رویہ اور خدمت خلق جیسے موضوعات میں احترام انسانیت مکمل عیاں ونمایاں ہے اور انسانیت کی حقیقی تکریم دین وایمان سے وابستگی، اعمالِ صالحہ، حق کی نشرو اشاعت اور ان امور پر صبر واستقامت کے ذریعے ممکن ہے۔

والله أعلم، وصلى الله علي النبي وسلم

٭٭٭

عید الفطر کے فورا بعد روزے رکھنا لازم نہیں ، بلکہ جائز ہے کہ عید کے ایک یا دو دن بعد روزے رکھنے جائز ہیں ، لیکن اگر وہ مسلسل یا علیحدہ علیحدہ شوال میں ہی روزے رکھے تویہ بھی جائز ہے ، اس معاملہ میں وسعت ہے اورپھر یہ روزے رکھنا سنت ہیں نہ کہ فرض۔ اللہ تعالیٰ ہی توفیق بخشنے والا ہے اللہ تعالیٰ ہمارے نبی محمد ﷺ ان کی آل اورصحابہ کرام﷩ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ۔

تبصرہ کریں