ایک کرن: زہران ممد انی کی جیت !۔ مولانا عبد الہادی العمری

بالآخر زہران ممدانی نیو یارک سٹی کے میئر کا انتخاب جیت گئے ، اور گزشتہ ایک صدی میں منتخب ہونے والے سب سے کم عمر اور زیادہ لوگوں کو متاثر کرنے والے شخص کے طور پر امریکی سیاست کے افق پر چھا گئے ، سال نو جنوری 2026ء سے بطور میئر اپنی ذمہ داریاں شروع کر دیں گے، وہ اس شہر کے ایک سو گیارہویں میئر ہیں، اس کا خود بخود مطلب یہ ہوا کہ ان سے پہلے ایک سو دس (110) افراد نے یہ منصب سنبھالا، جو اپنی اپنی مدت پوری کرکے رخصت ہوتے رہے۔ گویا یہ روٹین کا کام ہے، ممدانی کا عہدہ سنبھالنے

میں نیا کیا ہے کہ ان کے انتخاب کے ساتھ ہی خلاف روٹین مقامی، ملکی، بین الاقوامی میڈیا کی سرخیاں کئی دنوں تک اس خبر کے گرد گھومتی رہیں ۔

عالمی ماہرین اور تجزیہ نگاروں نے اپنے اپنے حساب اور زاویہ نگاہ سے اظہار خیال کیا اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے، کچھ لوگوں نے ان کی اسلامی حیثیت اور شناخت پر گفتگو اس انداز سے کی کہ گویا ان میں کسی مسجد کے امام یا خطیب کی صفات تلاش کی جا رہی ہوں ، یقینا انہیں اپنی اس تلاش میں ناکامی ہوگی، کیونکہ ممدانی امریکی ماحول میں پرورش پانے والے ایک شخص ہیں، امریکی عوام کے رجحانات، چال چلن اور عادات کے اثرات ان پر بھی ہیں، اور جو لوگ ان کے مسلمان ہونے کے سسبب امت مسلمہ کے مسیحا کے طور پر انہیں دیکھ رہے ہیں وہ مغربی نظام حکومت سے واقف نہیں، یہاں اکیلا ایک آدمی چاہے وہ کتنا ہی اعلیٰ عہد یدار ہو اس کے اختیارات محدود ہوتے ہیں ، پورا ایک نظام یہاں ہوتا ہے۔

عوامی ووٹ لینے کے لئے مختلف پس منظر کے لوگوں کے ساتھ ممدانی کے روابط ہیں جیسا کہ ہر جگہ سیاسی رہنما کرتے ہیں، زیادہ سے زیادہ لوگوں کی تائید حاصل کرنے کے لیے ہر کوچہ اور نگر کی خاک چھانتے ہیں ۔ چاہے ذاتی خیالات اس طبقہ سے ملتے ہوں یا نہیں ۔ ممدانی کی جیت کے ساتھ ہی کئی سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے ، رائے دہندگاں کا تناسب ماضی کے مقابلہ میں حیرت انگیز طور پر زیادہ رہا، ووٹرز میں پینتالیس سال سے کم عمر والوں کی اکثریت رہی، وہ اپنی اسلامی شناخت کا بر ملا اعلان کرتے رہے۔ ان کی جیت اسر ائیلی لا بی کی شکست ، صدر ٹرمپ کی ناکامی اور امریکی سیاست کے سیاہ وسفید کے مالک سرمایہ دار طبقہ کی ہزیمت ثابت ہوئی۔

نیو یارک ایک کو سمو پولیٹن Cosmopolitan city ہے۔ متعدد ثقافتوں کے لوگ یہاں آباد ہیں، مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں، اس کا سالانہ بجٹ تقریباً 120 بلین ڈالر ہوتا ہے جو کئی ممالک کے مرکزی بجٹ سے زیادہ ہوتا ہے، سٹی میئر کے ماتحت مختلف شعبوں سے منسلک تقریباً تین لاکھ ملازمین ہوتے ہیں۔ میئر کی سالانہ تنخواہ دو لاکھ ساٹھ ہزار ڈالر، عالیشان رہائشی گھر اور دیگر سہولتیں حاصل ہوتی ہیں، لیکن ممدانی نے اعلان کیا کہ سرکاری رہائش گاہ کے بجائے وہ اپنے مختصر فلیٹ میں قیام کرنا پسند کریں گے۔ انہوں نے شاندار فتح حاصل کرنے کے بعد علاقہ کی مرکزی مسجد میں نماز جمعہ ادا کی اور کچھ دیر کے لیے نمازیوں کے ساتھ گھل مل گئے ۔

ایک آدمی خود کو مسلمان کہے، نازک حالات میں بھی اپنی اس شناخت کا اظہار کرے، مسلمانوں کے ساتھ مل کر نماز جمعہ ادا کرے، اس سے اتنا تو ثابت ہوا کہ وہ مسلمان ہے، کسی پر ظاہری حکم لگانے کے لیے اتنا کافی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :

مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا، وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا، وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا، فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ، فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي ذِمَّتِهِ (صحیح بخاری : 391 )

جو ہمارے حکم کے مطابق نماز ادا کرے، ہمارے قبلہ کی طرف رخ کر ے اور ہمارا ذبیحہ کھائے، وہ مسلمان سمجھا جائے گا ، یعنی چند ظاہری مراسم ادا کرنے سے وہ قانونی اعتبار سے مسلمان شمار ہوگا۔ دلوں کا حال، نیت اور اخلاص کا معاملہ اللہ کے ساتھ خاص ہے۔ وہی علیم بذات الصدور ہے ۔

امریکی سیاست میں دو پارٹیوں کا رواج ہے۔ مقامی اور قومی نمائندگان ان دو ہی پارٹیوں سے منتخب ہو کر اسمبلی اور پارلیمنٹ تک پہنچتے ہیں، چھوٹی اور مقامی پارٹیوں کی یہاں قابل ذکر حیثیت نہیں ہوتی، ان دونوں مرکزی پارٹیوں ڈیمو کریٹ اور ریپبلکن کے درمیان جزوی اختلافات اور ترجیحات کا فرق ضرور ہے لیکن مرکزی نکات قدر مشترک ہیں، دونوں جمہوری اقدار کا دعوی کرتی ہیں یعنی عوام کی رائے اور عوام کی مرضی ۔

معمولی مظاہر کی حد تک یہ بات درست ہے لیکن جتنا بڑا دعوی ہے اس کے پیچھے اتنی بڑی عملی دلیل نہیں، کیونکہ ان دونوں پارٹیوں کا سرا سرمایہ دار طبقہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے، ان کی مرضی کے بغیر اہم فیصلے نہیں کئے جاسکتے اور اس سرمایہ دار طبقہ کی اکثریت یہودیوں کی ہے ، جس کے قبضہ میں اکثر وسائل ہیں۔ خاص طور پر دولت اور میڈیا ان کے کنٹرول میں ہے۔اس کے ذریعہ آسانی سے عوام کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے، جسے چاہیں ہیرو اور چیمپین بنا ڈالیں اور جسے چاہیں زیرو اور ویلن کے روپ میں پیش کریں ۔ یہی بڑا سبب ہے کہ امریکی صدر چاہے مذکورہ کسی پارٹی سے ہو اس کا اسرائیل کے متعلق بیانیہ اور پالیسی ملتی جلتی ہوگی ۔ اقوام متحدہ میں اگر کوئی قرار داد اسرائیل کے خلاف ہو اس کو روکنے کے لیے فورًا حق ویٹو استعمال کیا جائے گا، چاہے وہ قرار داد کتنی ہی مبنی برحق ہو، ورنہ کوئی شخص یہودی سر پرستی کے بغیر کرسی صدارت پر براجمان نہیں رہ سکتار۔ کلنٹن ہو یا اوباما، جو بائیڈن ہو یا ٹرمپ سب اس کے اسیر نظر آئیں گے، حالیہ انتخابی مہم کے دوران امیدواران کے درمیان ہونے والے مباحثہ میں دریافت کیا گیا کہ میئر منتخب ہوں تو سب سے پہلے کس ملک کا دورہ کرنا پسند کریں گے، ممدانی کے علاوہ سارے ہی امیدواروں نے بلا کھٹکے اسرائیل کا نام لیا کہ منتخب ہونے کی صورت میں ارض مقدسہ بیت المقدس کا سفر ہماری اولین ترجیح ہوگی۔

اس جواب سے امریکی سیاست پر صیہونی قوتوں کے تسلط کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، ممدانی تنہا امیدوار تھا جس نے جرأتمندانہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میں اسی شہر میں رہتے ہوئے اس کے مسائل حل کرنے کو ترجیح دوں گا، مجھے بطور میئر کسی بیرونی شہر کے سفر کی ضرورت نہیں ۔

سابق صدر اوباما جو اسی ڈیمو کریٹ پارٹی کے نمایاں رہنما ہیں لیکن انتخابی مہم کے دوران کھل کر ممدانی کی حمایت نہیں کی، مبادا کہیں صیہونی قوتیں ناراض نہ ہو جائیں، البتہ فتح کے اعلان کے بعد مبارکباد دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ بدلتے ہوئے حالات میں پارٹی کی پالیسی پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے. کیونکہ عوام کو جمہوریت کے نام پر مزید دھوکہ دینے اور انہیں بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی طرح ہانکنا آسان نہیں، ایشوز کو سمجھنے کے پیمانے بدل چکے ہیں، مذہب، رنگ اور نسلی امتیاز کی بنیاد پر تعلیم یافتہ معاشروں میں اب انتخابات جیتنام آسان نہیں۔

صدر ٹرمپ نے تارکین وطن کے خلاف زبردست مہم چلا رکھی ہے۔ وہ سفید فام White Supremacy کی برتری اور بالا دستی کے قائل ہیں۔

خود ممدانی کے خلاف تو یہاں تک کہا گیا کہ اس کی امریکی شہریت واپس لینے کی کوشش کی جائے، کیونکہ ممدانی کی پیدائش افریقی ملک یوگنڈا کے شہر کمپالا میں ہوئی ، ان کے والد گجراتی اور والدہ انڈین پنجابی پس منظر سے ہیں، سات سال کی عمر میں نیو یارک آئے ، با پ کو لمبیا یونیورسٹی میں پروفیسر تھے بیٹے کو یہاں کے معیاری اسکول میں تعلیم دلوائی ، گریجویشن مکمل کرنے کے بعد یہ سماجی خدمات میں دلچسپ لینے لگے، خصوصاً کم آمدنی والوں کے کرایوں کے سلسلہ میں قانونی مدد کیا کرتے، جنوری 2025ء میں جب پارٹی کی طرف سے امیدواری میں لچسپی دکھائی، اس وقت ان کی تائید کرنے والے لوگ ایک فی صد سے کم تھے۔

ان حالات میں یہ خواب ہی لگتا تھا، لیکن مختلف مراحل طے کرتے ہوئے جون 2025ء تک اپنا وزن سیاسی طور پر ممدانی نے اتنا بڑھا لیا کہ ڈیموکریٹ پارٹی کو اپنے نمائندہ کی حیثیت سے نہیں نامزد کرنا پڑا ، حالانکہ ان کے مدمقابل برسر اقتدار میئر ایک تجربہ کار، مالدار طبقہ کا حمایتی اسرائیل نواز، شخص تھا، جو ممدانی کو کم عمر ، ناتجربہ کار غیر ملکی وغیرہ وغیرہ جسے القاب سے نوازتا رہا ، لیکن جلد ہی اس کم عمر نو وارد کے مقابلہ میں اس گورے چٹے شخص کو اپنی شکست تسلیم کرنی پڑی، اور پارٹی نے ممدانی کو نامزد کر دیا ، مگر جلد ہی نا کام لمخص نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا، گویا اپنے چاہنے والوں کو پیغام دیا کہ پارٹی پالیسی کے اعتبار سے میں اس دوڑ میں ہار گیا لیکن انتخابی دوڑ سے باہر نہیں ہوا، یوں خود اپنے پارٹی کے ووٹ تقسیم کرنے کی کوشش کی اور صدر ٹرمپ نے اس آزاد امیدوار کی تائید کی ۔

اس کے لیے اشتہاری مہم پر لاکھوں ڈالر خرچ کئے گئے۔ ممدانی نے انتخابی سرگرمیوں کے لیئے کسی سرمایہ دار کا زیادہ سہارا نہیں لیا، اس مہم کے دوران اپنی شناخت نہیں چھپائی اور نہ ہی معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا کہ وہ ایک مسلمان ہیں۔ وہ نہ صرف خود دوسرے ملک سے یہاں آکر آباد ہوئے بلکہ نیو یارک کے باشندوں کی اکثریت ایسے ہی لوگوں پر مشتمل ہے اور ان کے ہی دم سے شہر کی ترقی اور خوشحالی ہے ، اور موقف اپنایا کہ لوگوں کو مذہب کے نام پر متنفر کرنے کی غلط روایت ختم ہو جانی چاہیے ، یوں مختلف امیدواروں، ، اندیشوں اور مضبوط ایجنسیوں اور لابیوں کے باوجود ممد انی نے اکیلے پچاس فی صد سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے شاندا کامیابی حاصل کی، اور اپنی فاتحانہ تقریر کے آغاز میں کہا کہ آئندہ میری مخالفت کا مطلب ہم سب رائے دہندگان کی مخالفت متصور ہوگی ۔

مجھ تک پہنچنے کے لیے ہم سب سے گزرنا ہوگا۔ صدر ٹرمپ سے کہا کہ تم اپنے چینل کی آواز بلند کر لو :Turn voliom up

تاکہ میری بات اچھی طرح تمہارے ذہن نشین ہوسکے ۔ تارکین وطن کے خلاف ہرزہ سرائی ختم کرو، نیو یارک کی اکثریت تارکین وطن کی ہے بلکہ امریکی آبادی کا بڑا حصہ بیرونی لوگوں پر مشتمل ہے۔

اس کی ترقی اور خوشحالی ان ہی کی مرہون منت ہے ، انہیں ان کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا ، آئندہ سرمایہ داروں کی تائید سے مقابلہ جیتنے کی ریت ختم ہونی چاہیے ، جو بے دریغ دولت انتخابی مہم پر خرچ کرتے ہیں اور بعد میں پالیسی بناتے ہوئے اپنی خرچ کی ہو ئی رقم سود سمیت وصول کرتے ہیں ۔

یوں مالداروں کے مفادات کا بوجھ عوام پر ڈالا جاتا ہے ۔اب یہ نہیں ہوگا کہ سرمایہ دار ہی پالیسی بنائیں اور خود اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے عوام پر ٹیکس کا بوجھ ڈال دیں۔ امیر طبقہ کو مختلف سہولتیں حاصل ہوں، ان کے لیے ٹیکس سے استثناء کی راہیں ہموار ہوں اور متوسط اور مزدور طبقہ کی جیبیں خالی ہوتی رہیں، عوام کی امنگوں کے مطابق حکومتی پالیسی بنانے کے لیے امیدوار کا سرمایہ داروں کے تسلط سے آزاد ہونا ضروری ہے، لہٰذا اب دولتمندوں پر ضروری حد تک ٹیکس لگایا جائے گا ایسے کہ ان پر بھی بوجھ نہ ہو اور اس ٹیکس کا فائدہ عوام کو ہی پہنچایا جائے گا ، اسلام میں زکوٰۃ کا ایک فائدہ یہی تو ہے :

(تؤ خذ من اغنيائهم وترد على فقرائهم) (صحیح بخاری: 1395 ، صحیح مسلم: 19 )

مالداروں سے وصول کرکے ضرورت مندوں پر خرچ کی جائے ، مزید اعلان کیا کہ ہم بطور مذہب یہود کے خلاف نہیں، مذہبی یہودیوں اور صیہونی کارندوں کے درمیان فرق کرنا ہوگا، ہم حماس بطور تحریکیں اور تنظیم اس کی پالیسیوؤں کے خلاف ہیں لیکن اس کی آڑ میں فلسطینی عوام کا قتل عام ظلم اور بر بریت ہے وہاں انسانیت سسک رہی ہے۔ شاید ان کی یہی سچائی تھی کہ نیو یارک میں آباد تقریبا چالیس فی صد یہودیوں نے بھی ممدانی کے حق میں ووٹ ڈالا، حالانکہ صدر ٹرمپ نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ممدانی کی تائید کرتے ہوئے ووٹ ڈالنے والے یہودی احمق شار ہوں گے، لیکن مقامی یہودیوں نے خود صدر کو احمق اور مفاد پرست ثابت کر دیا ۔

ممدانی نے مخالفین کے اعتراضات اور افواہوں کے جوابات میں صلاحیتیں اور وقت ضائع کرنے کے بجائے رائے دہندگان کے ساتھ اپنے رابطہ کو مضبوط بنایا، ان کے ساتھ انتخابی مہم کے لیے رضا کاروں کی تعداد اسی ہزار سے متجاوز تھی جو کسی بھی میئر کی انتخابی مہم میں شامل ہونے والوں کے مقابلہ میں زیادہ تھی، انہوں نے عالمی مسائل اور تبصروں میں الجھنے کے بجائے مقامی اور متعلقہ مسائل پر توجہ مرکوز رکھی، اس کا میابی میں اس پالیسی کا کلیدی کردار رہا۔

ممدانی کی فاتحانہ تقریر صدر ٹرمپ کے لئیے زناٹے دار طمانچہ تھی کیونکہ ملک کے صدر ہوتے بھی ان کی مذہبی حیثیت کا مذاق اڑایا کہ نیو یارک کے میئر کے طور پر مسلمان کو ووٹ دینے کا مطلب 9/ 11 جیسا ایک اور دھماکہ کرکے کس ٹاور کو زمین بوس کرنے کا موقع دینا ہوگا ، ممد انی نے کہا کہ اسلامو فوبیا کی مزید گنجائش نہیں کہ لوگوں کو اسلام کا نام لے کر خوفزدہ کیا جائے ۔انتخابی مہم کے دوران خود کو مسلمان کہتا رہا اور اس فاتحانہ خطاب میں پرزور انداز سے اس کو دہرایا کہ میں ایک مسلمان ہوں اور اس پر معذرت خواہانہ رویہ نہیں اپناؤں گا، صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے عالمی فورم پر تقریر کرتے ہوئے بلا جواز لندن کے مسلم میئر صادق خان کو ہدف تنقید بنایا حالانکہ وہ اس عہدہ کے لیے تین مرتبہ عوامی ووٹ سے منتخب ہوئے ہیں۔ صدر کی اس اسلام دشمنی اور مسلم عداوت کا بھوت بوتل سے نکل چکا ، جب امریکا ہی کی ایک دوسری ریاست ور جینا کے حالیہ انتخابات میں ایک اور مسلم خاتون امید وار غزالہ ہاشمی نے کامیابی حاصل کرکے وہاں نئی تاریخ رقم کی اور اپنی تقریر میں کہا کہ میں پہلی مسلمان عورت ہوں جو اس نشست پر کامیابی حاصل کی۔ غزالہ حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئیں، چار سال کی عمر میں والدہ کے ہمراہ امریکا آئیں ،جہاں ان کے والد پروفیسر تھے، تعلیمی مراحل مکمل کرکے خود بھی پروفیسر بنیں اور اب لیفٹیننٹ گورنر کے عہدہ پر منتخب ہوئیں، ایک طرف امریکی صدر اور صہیونی لابی کی اسلام دشمنی اور عوام کو مسلمانوں سے خوفزدہ کرنے کی سعی مسلسل اور دوسری طرف ان نمائندوں کی کامیابی لندن کے میئر کے علاوہ برطانیہ میں کئی مرکزی وزارتوں بشمول وزارت داخلہ پر مسلم وزراء کی موجودگی اپنے آپ میں بڑا جواب ہے:الحق يعلو ولا يعلى عليه

اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے

اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے

بجا طور پر ان معاندین کی صفوں میں یہ کامیابیاں ماتم سے کم نہیں ، اسرائیل سے شائع ہونے والے بعض اخبارات میں یہ سرخی لگائی گئی کہ کیا اب شہر نیو یارک یہودیوں کے لیے محفوظ نہیں رہا، کیا یہودیوں کو یہاں سے نقل مکانی کرکے کہیں دوسری جگہ آباد ہونا چاہئے۔

باد رہے اسرائیل کے بعد سب سے زیادہ یہودی نیو یارک میں بستے ہیں، تقریبا اسی (80) لاکھ یہودی آباد ہیں، اسی ایک شہر میں دنیا کے ایک سو تئیس (123) ارب پتی رہتے ہیں، سرمایہ دارانہ نظام کا قلب ’’وال اسٹریٹ‘‘ اسی شہر میں ہے، اسی سبب سے مشہور ہے کہ نیو یارک سوتا نہیں ، یہاں ہر لمحہ دولت کا گراف زیر وزبر ہوتا رہتا ہے جس کے سبب دنیا بھر کی ایکسچینج مارکیٹ کا روبار کرتی ہیں۔ ممد انی نے اپنے تقریر میں پہلے انڈین وزیر اعظم جواہرلال نہرو کا ایک اقتباس نقل کر کے اپنے مشرقی تعلق کا اشارہ دیا کہ انسانی زندگی میں کبھی کبھار ایسے لمحات آتے ہیں جن میں قدیم طرز سے جدید انداز کی طرف ہم قدم بڑھاتے ہیں۔ اس اقتباس کو سنا کر گودی میڈیا پر ایک کاری ضرب لگائی جو تا ریخی حقائق مسخ کر کے پیش کرنے کا عادی ہے، جو ہردم ہندو مسلم کی رٹ لگائے رہتا ہے ، شاید یہ بھی ایک وجہ ہے کہ ممد انی کی جیت صدر ٹرمپ ، اسرائیل وزیر اعظم اور پرائم منسٹر مودی اور ان کے پروپیگنڈہ مشنیریز کے لیے بھی مایوس کن ثابت ہوئی ہوگی۔

تبصرہ کریں