ایک نو مسلم بانکے رام کی دوسری بڑی کرامت!(25)۔ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

ایک نو مسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنا ولی اور محدث بنا لیا !
محترم قارئین کرام ! آپ نے یہ مضمون اچھی طرح پڑھ لیا ہو گا ۔جو صراط مستقیم کے شمارہ ماہ فروری اور مارچ 2026ء میں دو قسطوں میں شائع ہوا ہے۔ اس میں حضرت ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن اعظمی کی ایک ایسی تحقیق پیش کی گئی ہے ، جو ڈیڑھ ہزار سالہ اسلامی تاریخ میں کسی نے بھی نہیں کی ، وہ یہ ہے کہ ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن اعظمی نے دیکھا کہ قرآن حکیم ہمارے پاس ہر طرح سے ایک جلد میں محفوظ ہے، لیکن احادیث رسول ﷺایک جگہ محفوظ نہیں ہیں، بلکہ وہ تقریباً دو سو حدیث کی کتابوں میں بکھری ہوئی ہیں اور احادیث کی مکمل کتب تک رسائی ہر ایک کی بس میں نہیں ہے ۔ ہماری رسائی صحاح ستہ اور چند احادیث کی معروف کتب تک محدود ہے۔ دنیا میں موجود پوری کتب حدیث تک ہماری رسائل ممکن نہیں ہے۔ ڈاکٹر ضیا الرحمن اعظمی عمری مدنی سعودی (اللہ تبارک و تعالیٰ نے ڈاکٹر اعظمی کو سعودی نیشنلٹی عطا فرمائی تھی) نے دنیا میں موجود تمام کتب احادیث کو جمع کیا اور ان کی تمام احادیث پر تحقیق کی اور جو احادیث صحیح اور مرفوع تھیں ان کو اپنی کتاب میں جمع کیا اور اپنی اس کتاب کا نام ’ الجامع الکامل فی الحدیث الصحیح الشامل‘ رکھا، جس میں کل 16 ہزار 5 سو 46 (16546) احادیث کو جمع کیا اور ان پر تحقیق کی، چونکہ وہ چالیس سال تک حدیث کے استاذ تھے، انہوں نے تحقیق کیا تو معلوم ہوا کہ کل کتب احادیث کی تعداد دوسو سے زائد ہے۔ مگر 165 کتب تک ڈاکٹر اعظمی کی رسائی ہو سکی۔ بقیہ 5 فیصد احادیث ہوں گی جو ان سے چھوٹ گئی ہوں گی۔ چونکہ وہ ایک عرصہ تک الجامعۃ الاسلامیہ مدینہ منورہ میں حدیث کے استاذ تھے اور دو مرتبہ کلیۃ الحدیث کے ڈین بھی رہے، اس لئے حدیث کی تخریج میں اللہ کریم نے انہیں ید طولیٰ عطا فرمایا تھا، اس لیے وہ کام خود انجام دیئے۔ دوسروں کی تحقیق پر اپنی تحقیق کا انحصار نہیں کیا ، حتی کہ اپنے استاد گرامی علامہ البانی کی تحقیق کو بھی انہوں نے اپنے انتخاب کی بنیاد نہیں بنایا ، کیونکہ اپنی تحقیق ہو تو اس کی صحت اور سقم کا مرجع ڈاکٹر اعظمی ہوں گے ، نہ کہ استاذ گرامی علامہ الشیخ ناصر الدین البانی ۔
اس تمہید کا مقصد یہ ہے کہ اس سے پہلے کی قسط میں ڈاکٹر اعظمی کی کتاب حضرت ابو ہر یرہ پر تھی کہ اس پر ایسی تحقیق کسی نے بھی نہیں کی تھی، بلکہ ان کے استاذ علامہ البانی نے بھی نہیں کی تھی۔
بلکہ ان کے استاذ محترم علامہ البانی اپنے شاگرد کو صاحب ابو ہریرہ ؓسے یاد کرتے تھے جس کی وجہ سے انہیں ’اللہ کے ولی‘ کے خطاب سے سرفراز کیا گیا تھا۔ اب اس مضمون میں ان کا وہ کارنامہ بیان کیا گیا ہے ، جو اس کا رنامہ سے بڑا کارنامہ ہے۔ اللہ نے اُن سے وہ کام لیا جو اسلامی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ میں کسی سے نہیں لیا ، جو انڈیا کے صوبہ اتر پردیش (U.P) کے ایک نو مسلم بانکے رام‎ سے لیا ، جس پر دنیا رشک کناں ہے۔ ان کا یہ کارنامہ پہلے کا رنامہ سے بھی بڑھ کرہے۔ انہوں نے اللہ حی وقیوم سے اس پروجیکٹ کی تکمیل کے لیے دس سال کی عمر مانگی تھی مگر اللہ نے انہیں 20 سال عطا کئے ، اس لیے کہ یہ کام دس سال میں نہیں بلکہ بیس سال میں تکمیل کو پہنچا اور ڈاکٹر اعظمی صاحب نے اسی کتاب کا اختصار بھی کر دیا جو پانچ جلدوں پر مشتمل ہے اور اس کی مکمل 19 جلدیں تیار ہوگئیں، اس اعتبار سے بھی یہ اللہ کے ولی قرار پائے۔
﴿ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ﴾
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
اور اس پروجیکٹ پر مضمون لکھنے والے نوجوان عالم دین مولانا حافظ عبد الحسيب عمرمى مدنى استاذ جامعہ محمدیہ بنگلور جو شہر حید ر آباد دکن کے معروف تاجر اور اہل علم کے قدرداں بار کس کے شیخ عبود ﷾ کے لائق و فائق داماد ہیں، ان کی قابلیت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ اللہ کے ولی ڈاکٹر اعظمی نے 2019ء میں مولانا عبد الحسیب عمری مدنی کو الجامع الکامل عطا فر مایا، بلکہ اعظمی صاحب سے اللہ کے نبی ﷺتک اس مجموعہ الجامع الکامل فی الحدیث الشامل کی تمام احادیث کو روایت کرنے کی اجازت بھی عطا فرمائی اور کسی بھی زبان میں اس کے ترجمہ و تلخیص کی بھی اجازت مرحمت فرمائی۔ چنانچہ آپ کے معاون مولانا حافظ عبد الحسیب عمری مدنی نے اس کے خلاصہ کا اُردو ترجمہ اپنے اشراف میں مکمل کر لیا ہے اور انگریزی کا کام برطانیہ میں مکمل ہو چکا ہے۔ ان شاءاللہ اپنے وقت پر یہ تراجم منظر عام پر آئیں گے، جس سے دنیا استفادہ کرے گی۔ ان شاء اللہ
یہاں ایک ضروری بات کی طرف اشارہ کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ اس نئی اور کم یاب کتاب کو ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن اعظمی کے نام سے تلاش کریں گے تو نہیں ملے گی بلکہ یہ نئی کتاب جو 19 جلدوں پر مشتمل ہے، اس پر ان کا نام ابو احمد محمد عبداللہ درج ہے۔
کیونکہ میرے خیال میں ضیاء الرحمٰن سے عجمیت کا رنگ جھلک رہا ہے، اس لیے اپنےبڑے فرزند احمد کی مناسبت سے کنیت ’ابو احمد‘ رکھی اور اپنا نام محمد عبد اللہ رکھا ، اس کے لئے شاید مصنف نے کسی کے مشورہ سے اپنا نام تبدیل کرلیا ہو گا۔ اس لئے اس کا خیال رکھیں، اس دوسری اور اہم ترین کتاب کو پیش کرنے کا مقصد یہی ہے کہ اس کتاب سے بھی ولایت چھلکتی ہے اور آپ کے ولی ہونے میں کسی قسم کا کوئی شک باقی نہیں رہتا ہے، اس لئے اس کتاب کو سمجھنے کے لئے مولانا حافظ عبد الحسیب عمری مدنی صاحب کا یہ مضمون پیش کیا گیا ہے جو ’راہ حق کا مسافر‘ نامی کتاب ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی عمری رحمہ اللہ کی کی وفات پر ستمبر 2020 میں جامعہ دار السلام عمر آباد سے شائع ہوئی ہے، اس میں یہ مضمون موجود ہے۔
واضح ہو کہ ان دو کارناموں کے علاوہ ڈاکٹر اعظمی صاحب کے اور بھی بہت سے کارنامے ہیں لیکن ہم ان دو پر ہی اکتفا کرتے ہیں، ویسے جامعہ دار السلام عمر آباد کے فارغین میں یہ ایک عبقری عمری ہیں۔
اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه و أكرم نزله … آمين
٭٭٭
ماہِ رمضان کے چھوٹے ہوئے روزے کی قضا کو شوال کے روزے پر مقدم کیا جائے یا پھر پہلے شوال کے روزے رکھے جائیں؟
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:«مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ» (صحيح مسلم: 1164)’’جو ماہ رمضان کا روزہ رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے اسے پوری زندگی روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا۔‘‘
قارئین کرام: شریعت نے شوال کے روزے کی فضیلت کو ماہ رمضان کے روزے سے جوڑا ہے وہ بایں طور کہ ماہ رمضان کے بعد ان چھ روزوں کے رکھنے سے پورے سال روزہ رکھنے کا ثواب ملتا ہے، اس فضیلت کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب ماہ رمضان کے روزے کی تکمیل کے بعد شوال کے روزے رکھے جائیں، کیوں کہ ماہ رمضان کے روزے دس مہینے کے روزے کے برابر ہیں، اور شوال کے چھ روزے دو مہینے کے برابر ہوئے جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ صَامَ رَمَضَانَ فَشَهْرٌ بِعَشَرَةِ أَشْهُرٍ، وَصِيَامُ سِتَّةِ أَيَّامٍ بَعْدَ الفِطْرِ فَذَلِكَ تَمَامُ صِيَامِ السَّنَةِ» (مسند أحمد :22412؛صحيح الترغيب: 1007) ’’جو ماہ رمضان کا روزہ رکھے تو ایک مہینہ دس ماہ کے برابر ہوتا ہے، اور عید الفطر کے بعد شوال کے چھ روزے (دو ماہ کے برابر ہوتے ہیں) اس طرح سے پورے ایک سام مکمل ہو جاتے ہیں۔‘‘
اگر کسی کے ماہ رمضان کے بعض روزے فوت ہوجاتے ہیں تو گویا کہ ان کا ماہ رمضان دس مہینے کے برابر نہیں ہوا چنانچہ جب تک وہ چھوٹے ہوئے روزوں کو مکمل نہ کرلیں اس وقت تک شوال کے روزے کی فضیلت ممکن نہیں۔
اور یہ بات بھی جاننا بہت اہم ہے کہ انسان سے فرائض کے بارے میں باز پرس ہوگی نوافل کے بارے میں نہیں، اس لئے اللہ رب العالمین کا حق پہلے ادا کیا جانا چاہئے پھر اس کے بعد نوافل وغیرہ کا اہتمام ہونا چاہئے،حدیث قدسی میں اللہ رب العالمین فرماتا ہے کہ«وما تقرب إلي عبدي بشيء أحب إلي مما افترضته عليه»(صحيح بخاری :6137)
’’جن چیزوں کے ذریعہ بندہ میرا تقرب حاصل کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ محبوب شی میرے نزدیک فرائض ہیں۔‘‘ اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ فرائض نوافل پر مقدم ہیں، اور جس قدر جلدی ہو پہلے فرائض کی ادائیگی کرنی چاہیے۔
اس سلسلے میں سلف صالحین کی رائے بھی یہی ہے کہ پہلے فرض روزوں کی قضا کی جائے پھر نوافل کا اہتمام کیا جائے، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ میرے ذمے رمضان کے کچھ روزے باقی ہیں اور میں عشرہ ذی الحجہ کے روزے رکھنا چاہتا ہوں (کیا ایسا کرنا میرے لئے درست ہے؟)، تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: نہیں، بلکہ پہلے اللہ کا حق ادا کرو یعنی ماہ رمضان میں چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرو پھر اس کے بعد جتنے نفلی روزے رکھنا چاہو رکھو۔ (سنن الکبری للبیہقی :8178)
اسی طرح سعید بن جبیر اور عطاء بن ابی رباح رحمہما اللہ کا بھی فتوی موجود ہے کہ پہلے فرض روزے کی قضا کی جائے پھر نفلی روزے رکھے جائیں۔ (مصنف عبد الرزاق: 7713؛ مصنف عبد الرازق :7716)
قارئین کرام: مذکورہ آثار سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سلف کرام فرض روزے کی قضا کو نفلی روزے پر مقدم سمجھتے تھے، جیسا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا فتویٰ گذرا جس میں انہوں نے پہلے فرض روزے کی قضا کا حکم دیا اور بعد میں نوافل کا اہتمام کرنے کیلئے کہا، یہاں پر غور کرنے کا مقام ہے کہ عشرہ ذی الحجہ کے روزوں کا ماہ رمضان کے روزے سے کچھ بھی تعلق نہیں ہے، پھر بھی سلف نے پہلے فرض روزوں کی قضا کا حکم دیا تو پھر شوال کے روزے کا تو ماہ رمضان سے براہ راست تعلق ہے، اور شوال کے چھ روزوں کا ثواب ماہ رمضان کے روزوں کی تکمیل پر ہی منحصر ہے تو یہاں نفلی روزے کو فرض روزے پر مقدم کیسے کیا جا سکتا ہے؟اگر کوئی یہ کہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کو تو ماہ شعبان میں قضا کرتی تھیں، جس پتا چلتا ہے کہ چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا میں تاخیر کی جا سکتی ہے۔
یہ بات بالکل صحیح ہے کہ وہ رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کو تاخیر سے ماہ شعبان میں رکھا کرتی تھیں، لیکن انہوں نے اس کی وجہ بھی بتائی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی وجہ کر نہیں رکھ پاتی تھیں، البتہ ان کے اس عمل سے یہ استدلال کرنا بالکل درست نہیں کہ وہ نفلی روزے کو رمضان کی قضا پر مقدم کرتی تھیں اور یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہوگا کہ ہو سکتا ہے کہ وہ نوافل روزے رکھتی رہی ہوں اور رمضان کی قضا کو مؤخر کرتی رہی ہوں کیوں کہ ایسی کوئی دلیل ان کے متعلق نہیں ملتی، جبکہ اس کے برعکس بعض صحابی کا اور تابعین کا موقف ہے کہ فرض کی ادائیگی نوافل سے پہلے کی جائے۔
اس لئے کم از کم احتیاط کا یہی تقاضا ہے کہ پہلے رمضان المبارک میں چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کی جائے، اور پھر شوال کے چھ روزے رکھے جائیں۔

تبصرہ کریں