ایمان باللہ واعمال صالح کے بغیر کامیابی ناممکن۔ مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی

انسان جب اپنے خالق و مالک سے غافل ہوجاتا ہے اور جب اس کی جہالت و غفلت کو دور کرنے کیلئے تشریف لانے والے انبیاء و مرسلین کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیتا ہے،جو اصل میں اسی مالک و آقا کی طرف سے مبعو ث کئے جاتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ لوگو تم ایک

’’مالک اور پروردگار عالم کے غلام ہولہٰذا اپنے آقا کی مرضیات کے عین مطابق اپنی زندگی کے شب وروز گذارو تو تمہارا آقا تم سے خوش ہوگا اور تمہیں انعام واکرام سے نوازے گا،الغرض اس کے جواب میں دو طرح کے گروہ ہوجاتے ہیں۔ جن میں ایک ’منکر‘ اور دوسرا ’مسلم‘۔

اس طرح انبیاء و مرسلین کا ایک عظیم سلسلہ چلتا رہا اور اس کا خاتمہ حضرت محمد ﷺ کی ذات گرامی بابرکت پر ہوا اور آپﷺ نے بھی وہی چیز دنیا والوں کے سامنے پیش فرمائی جو بنیادی طور پر ایک ہی ہے، یعنی اے لوگو! تم اپنے مالک حقیقی کو پہنچانو اور اپنے خود ساختہ طرزِ حیات کو چھوڑ کر میرے بتائے جانے والے راستہ پر گامزن ہو جاؤ جس میں فائدہ ہی فائدہ ہے اور فلاح و کامیابی کی اس سے بہتر اور دوسری چیز تمہارے لئے ہو ہی نہیں سکتی، میں یہ بات اپنی طرف سے تمہیں نہیں بتارہا ہوں بلکہ میرا رب جو تمہارا بھی رب ہے اور سارے جہاں کا رب ہے اس نے مجھے اپنا رسول بناکر تمہاری رہنمائی و رہبری کیلئے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے جس کا نام ’دین اسلام‘ ہے۔ اب اس دین اسلام پر انسان کو قائم رکھنی والی اولین جو چیز ہے وہ یہ کہ

’’اللہ تبارک و تعالیٰ کی یکتائی‘‘یعنی توحید باری تعالیٰ کا عقیدہ ۔

دوسری چیز رسالت اور تیسری چیز آخرت اس طرح توحید رسالت آخرت پر ایمان و یقین کے ساتھ انسان دائرے اسلام میں داخل و شامل ہوجاتاہے۔

لیکن اس کے کچھ لازمی شرائط ہیں جو عملی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں جسے قرآن حکیم اعمال صالحات کے نام سے پیش کرتا ہے جس کے بغیر انسان کامیابی کی منزل کو پہنچ نہیں سکتا اس طرح ایمان و عمل صالح لازم و ملزوم ہے۔ اللہ پر ایمان لاکر اس کے عین مطابق عمل اختیار کرنے والوں کو قرآن حکیم اس طرح خوشخبری دیتا ہے۔

﴿وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾

(سورۃ البقرہ:25)

’’اور اے پیغمبر جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئیں اور (اس کے مطابق ) اپنے عمل درست کرلیں انہیں خوشخبری دیجئے کہ ان کیلئے ایسے باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوگی۔‘‘

مذکورہ بالا آیت کریمہ سے اس بات کی نشاندہی ہو رہی ہے کہ انسان اس وقت تک کامیاب و کامران نہیں ہوسکتا، جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور اعمال صالحات اختیار نہ کرے۔ یعنی ایمان باللہ و اعمال صالحات کے بغیر کامیابی ناممکن۔۔۔۔۔! اس سلسلہ میں سیدنا معاذ فرماتے ہیں کہ

’’عمل صالح وہ ہے جس میں چار چیزیں ہوں۔ علم، نیت، صبر اور اخلاص (مظہری) اس طرح اب ہمارے سامنے یہ بات صاف طور پر روز روشن کی طرح آ رہی ہے کہ جنت و درجات جنت کا حقیقی امیدوار و مستحق وہی انسان ہوسکتا ہے، جو ایمان و عمل صالح ان دونوں سے متصف ہو۔

انسان کیلئے جتنا ضروری ہوا پانی اور غذا ہے جس پر انسان کی زندگی کی عمارت قائم ہے اس سے کہیں زیادہ اس کے لئے ضروری چیز اسلامی زندگی اور اسلام پر قائم رہنا ہے اس لئے کہ اسلام خدائی دین رحمت ہے اور سارے انبیاء کا دین ہے، لہٰذاسے قبول کرتے ہوئے اس پر قائم ہوجانے میں ہی بھلائی رکھد ی گئی ہے اور اسلام کو چھوڑ کر کوئی اور طریقہ اختیار کرنا اپنے آپ کو ہلاکت و بربادی میں ڈالدینا ہے۔ اس سلسہ میں ارشاد ربانی یوں ہوا:

﴿ وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾

(سورۃ آل عمران: 85)

’’اب جو شخص بھی گھاٹے سے بچنا چاہتا ہو اور اللہ تعالیٰ کا تابع فرمان بن جانا چاہتا ہو، اس کے لئے سوائے اسلام اور اسلامی طرز حیات کے کوئی اور راستہ ہی نہیں ہے۔‘‘

آیت مذکورہ بالا میں یہی بات بتلائی گئی کہ

’’اسلام کے سوا جو شخص کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہے اس کا وہ طریقہ ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام و نامراد رہے گا۔‘‘

نبی مکرم آنحضور ﷺنے ایک جنازہ کی نماز پڑھائی اور اس میں آپﷺ نے یہ دعا فرمائی، جو اسلام کی زندگی اور ایمان کی موت کی اہمیت کو واضح کرتی ہے جس کے راوی سیدنا ابو ہریرہ ہیں۔

اس دعا کے آخر حصہ کو یہاں نقل کیا جاتا ہے جو کہ مضمون کا اصل عنوان ہے۔

اَللَّهُمَّ مَنْ أَحَيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيْمَانِ

(سنن ابو داؤد؛ جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، مسند احمد، صحیح ابن حبان، مستدرک حاکم )

’’اے اللہ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے،اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جس کو موت دے اسے ایمان پر موت دے۔‘‘

نبی کریم ﷺکی مذکورہ بالا دعا پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک جامع دعا ہے جو آپﷺ نے فرمائی ہے حقیقت بھی یہی ہے کہ بندہ مومن ومسلم کی یہی شان ہے کہ وہ مرتے دم تک اللہ کی فرماں برداری او ر وفاداری پر قائم رہے۔ قرآن حکیم بھی اسی بات کی طرف متوجہ کرتا ہے،فرمان حق تعالیٰ یوں ہوا:

﴿‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ﴾ (سورۃ آل عمران: 102)’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو،اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘

اب ایک سوال ابھر کر سامنے آتا ہے کہ ایک ایمان والا ہے اور اس کا خاتمہ خیر نہ ہو ؟کیا یہ ممکن ہے؟

ہاں یہ بات ممکن ہے جب ہی تو قرآن میں اس بات کی تاکید آئی ہے کہ اللہ سے ڈر کر زندگی بسر کرو پورے اخلاص کے ساتھ اور اس بات پر خبردار کیا جارہا ہے کہ مرتے دم تک مسلمانیت کا حق ادا کرتے رہنا اور نبی محترم و مکرم ﷺ بھی ہمارے لئے یہی دعائیہ کلمات کو چھوڑا ہے جس میں اللہ سے یہ التجا کی جاتی ہے کہ اے اللہ ہماری پوری زندگی اسلام کے تقاضوں کے عین مطابق گذر جائے اور ہمارا خاتمہ ایمان کی حالت میں ہو۔

اصل میں ہوتا یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی زندگی خدا ورسول کی اتباع و پیروی میں گذارتا ہے لیکن شیطان جو انسان کا کھلا دشمن ہے اس بات کی کوشیش کرتا ہے کہ اللہ کے نیک بندوں کو راہ حق سے بھٹکا کر ایمان اور عمل صالح کے منافی کام کرواکر کفر میں مبتلا کردے۔

مثلاً،مال کی محبت میں گرفتار ہوکر حلال و حرام میں تمیز نہ کرنا،اولاد کی محبت میں مبتلا ہوکر حق و انصاف سے پھر جانا،رشتہ داری و برادری کا لحاظ کرتے ہوئے عدل و انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دینا،تکبر و کبر نفس میں مبتلا ہوکر اپنی زبان سے ایسے کلمات ادا کرنا جس سے فرعونیت ٹپکتی ہو،مرنے سے پہلے یا مرتے مرتے غلط قسم کی وصیت یا تاکید کرجانا جس سے حق داروں کا حق ضائع ہوکر رہ جائے۔

موروثی جائیداد یا دیگر مال و متاع میں بہنوں بھائیوں کو محروم کردینا، یہ اور اس طرح کی دیگر چیزیں دراصل آدمی کیلئے ایمان کی ہلاکت و خسران آخر ت کا باعث بن جاتی ہیں۔

علاوہ ازیں کسی شخص کو کسی معاملہ کی یکسوئی کیلئے دیندار بزرگ سمجھ کر بڑا بنالیا جاتا ہے یا کسی رقمی لین دین کے سلسلہ میں نزاع پیدا ہونے پر یا پھر کسی قضیہ کے موقع پر ’’حکم‘‘ (ثالث، پنچ یا منصف) بنایا جاتا ہے تو ایسے موقع پر حق و ایمان کے ساتھ فیصلہ صادر کرنا اہل ایمان کی شان ہے ورنہ آدمی اگر اپنے مفاد کو پیش نظر رکھے اور اپنی اولاد یا رشتہ دار کو فائدہ پہنچانے کیلئے ناحق فیصلہ کردے جبکہ وہ سبب قضیہ اور معاملہ کی گہرائی سے بخوبی واقف بھی ہو،ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ فاسق کا نام دیا ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہوئے اس کی اطاعت کی حد سے نکل جاتا ہے،غرور نفس اور اپنی بزرگی کی دھاگ جماتے ہوئے حدود اللہ سے آگے نکل کر طبع ذات فیصلہ کردینا گویا کہ شیطان کے ہاتھ پر بیعت کرلینا ہے۔

جھوٹے مقدمات کذب بیانی اور ظالموں کی وکالت اور اس قبیل کی جتنی بھی برائیاں ہیں یہ سب کے سب آدمی کے اسلام اور ایمان کو بگاڑ دیتی ہیں جو لوگ اپنے مقدمات جو کہ جھوٹ پر مبنی ہوتے ہیں اپنے حق میں کروانے کیلئے قاضی،حکم، یا منصف کے سامنے پیش کرتے ہیں اور اس بات کی کوشیش کرتے ہیں کہ

وہ کسی بھی طرح مقدمہ جیت جائیں اور جیت بھی جاتے ہیں خواہ جھوٹے دستاویز بناکر اور جھوٹی شہادت پیش کرتے ہوئے یا رشوت کے بل بوتے پر یا پھر اقتدار کا سہارا لے کر ایسے لوگوں کو جان لینا چاہئے کہ دنیا کی چند روز کی زندگی کیلئے آخرت کی ابدی زندگی کو عذاب میں مبتلا کردینا بڑے گھاٹے کا سودا ہے اور یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ

دنیا کی عدالتوں کے ختم ہونے کے بعد ایک عظیم عدالت قائم ہونے والی ہے جس میں شروع دنیاسے لے کر ختم دنیا تک جتنے بھی غلط فیصلہ دنیا میں ہوچکے ہوں گے اس میں مظلوموں کی دادرسی ہوگی اور ظالموں کو سزا دی جائے گی، وہاں پر نہ کوئی وکالت کرنے والے وکیل ہونگے اور نہ ہی کوئی جھوٹی شہادت چلے گی اور نہ ہی وہاں پر کوئی رشوت لینے والا ہوگا اور نہ ہی کسی کا اقتدار و دبدبہ چلے گا وہاں تو صرف اللہ کی عدالت ہوگی اور اس عدل کی کرسی پر مالک یوم الدین جلوہ افروز ہوگا اور حق کے ساتھ فیصلے صادر ہوتے چلے جائیں گے اور اس وقت دنیا کے سارے ظالم وجابر اور اللہ کے حقوق کی ادائیگی سے جی چرانے والے اور اس کے بندوں کے حقوق کو دبانے والے شرمندہ حالت میں ہاتھ ملتے رہ جائیں گے اس لئے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے یہاں جو کچھ بویا جائے گا آخرت میں اسی مناسبت سے فصل کاٹنی پڑے گی۔

حقیقت تو یہ ہے کہ انسان کی آخرت کو تباہی میں ڈالنے والی چیز دنیا و لذات دنیا ہے جو نا جائز طور پر حاصل کی گئی ہے اس سے اجتناب کرنا دانشمندی ہے۔

حضور سید عالم ﷺ نے دانا اور ہوشیار شخص اس آدمی کے بارے میں فرمایا: ’’جو اپنے نفس کو قابو میں رکھتے ہوئے موت کے بعد کام آنے والے اعمال اختیار کیا ہو۔ جو شخص آگ سے بچالیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ کامیاب ہوگیا۔‘‘

الغرض اب جو شخص بھی توحید،رسالت،آخرت پر ایمان رکھے گا اور اس کے مطابق اعمال اختیار کرے گا اور خیرامت ہونے کے احساس کے ساتھ زندگی بسر کرے گا اور کلمہ حق کو بلند کرنے اور کلمہ کفر کو پست کرنے کیلئے جان و مال اس راہ میں لگائے گا وہ یقیناً اپنے آپ کو اس بات کا مستحق کرلیتا ہے کہ

وہ جب تک دنیا میں رہے مسلمان بن کر رہے اور جب موت آئے ایمان کے ساتھ آئے۔اس بڑی کامیابی کیلئے دنیا کے سامنے دو بڑی اہم چیزیں موجود ہیں وہ ہے اللہ کی کتاب (قرآن مجید) دوسرا سنت نبویﷺ اس کے بغیر انسان راہ ہدایت پا نہیں سکتا اور اسے یہ معلوم ہی نہ ہوگا کہ وہ کون ہے کہاں سے آیا ہے وہ کس کا غلام ہے اور اسکا آقا کون ہے اسے کیاکچھ کرنا چاہئے اور کن چیزوں سے بچنا چاہئے، من چاہی زندگی گذارنے سے کیا نقصانات ہوں گے اور اپنے مالک حقیقی کی مرضیات پر چلنے سے کیا فائدہ ہوگا اور کن انعام و اکرام سے نوازے جائے گا۔

اسی کے پیش نظر حضرت سید عالم ﷺ نے حج وداع کے موقع پر جو خطبات ارشاد فرمائے ہیں اس میں خاص طور پر یہ بات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمائی کہ

’’ لوگو! میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم اسے مضبوطی کے ساتھ تھامیں رکھو گے کبھی گمراہ نہ ہوں گے ایک اللہ کی کتاب دوسری میری سنت۔‘‘

آپﷺ کی اس تقریر پر عمل کرنے والے دنیا وآخرت میں کامیاب ہوکر رہتے ہیں اور قرون اولیٰ میں اللہ تعالیٰ نے ایک کثیر جماعت صحابہ کو اس بات کی بشارت دے چکا کہ

﴿رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ﴾

کیونکہ ان سعید روحوں نے جب تک دنیا میں رہے مسلمانیت کا حق ادا کیا اور اللہ پر ایمان لانے کا حق ادا کرتے ہوئے رسول ﷺ کی اطاعت کی اور اللہ ورسولﷺ سے والہانہ محبت رکھی اور ان کے حکم پر لبیک کہا اور اپنی جان و مال سب ان پر نچھاور کردی۔

مختصر یہ کہ ہر آدمی کی، اپنی اس خواہش کے ساتھ مخلصانہ جدوجہد بھی اپنی طاقت کے مطابق ہونی چاہیے کہ ﴿وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ﴾

توآئیے ہم سب اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان نیک لوگوں کے راستے پر چلاے جس پر انعام فرمایا گیا ہے اور ان لوگوں کے راستے سے ہمیں بچالے جس پر اس کا غضب ہوا اور جو ناکام ہوکر رہے۔

ہے مسلماں تو زندگی رب چاہی گزارو

ملے گی حیاتِ اصلی من چاہی تمہیں

٭٭٭

مرکزی جمعیت اہلحدیث برطانیہ کے بانی رکن و ناظم اعلیٰ حافظ محمد یعقوب انتقال کر گئے

مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ کے بانی رکن اور پہلے ناظم اعلیٰ حافظ محمد یعقوب بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون

حافظ صاحب نے برطانیہ میں 1954ء میں حلال گوشت کا بزنس شروع کیا تھا۔ آپ برطانیہ میں حلال گوشت متعارف کرانے والے پہلے شخص تھے، اس لئے برطانیہ میں آپ کو فادر آف حلال میٹ سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ نہ صرف برطانیہ بلکہ پورپ میں بھی حلال گوشت سپلائی کرتے تھے۔ جمعیت اہل حدیث برطانیہ کی بنیادر کھنے والے چند با اثر ہستیوں میں آپ بھی شامل تھے۔ جب مولانا فضل کریم عاصم جمعیت کے امیر بنے تو آپ اس کے ناظم اعلیٰ بنائے گئے تھے۔ مولانا محمداحمد میر پوری جب مدینہ منورہ سے فارغ ہو کر برطانیہ پہنچے تو حافظ صاحب نے انہیں یہ عہدہ یہ کہہ کر حوالہ کردیا کہ اس کے مستحق مجھ سے زیادہ آپ ہیں۔ برمنگھم سنٹرل ماسک کے فونڈ رٹرسٹی بھی تھے۔ آپ ہی نے کونسل سے Negotiate کر کے سنٹرل ماسک کے لئے جگہ حاصل کی تھی۔ آپ مہمان نواز اور علماء کے قدر دان تھے۔ ابتداء میں ائمہ حرمین علامہ البانی﷫ اور دیگر علماء آپ ہی کے مہمان ہوتے تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ بیٹے زاہد یعقوب، شاہد یعقوب، دو بیٹیاں اور کئی پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں سوگوار ہیں۔ چند دن قبل پیر پھسل کر آپ گر گئے تھے اور شفایابی کے بالکل قریب تھے کہ تقدیر غالب آگئی اور آپ تقریباً 91 سال ہونے کے قریب تھے کہ قادر مطلق سے جاملے ۔ آپ ایک عبقری انسان تھے اور آج ہزاروں گوشت کی دوکانوں کے کاروبار والے حلال، حلال کا نام جپتے ہیں جو حافظ صاحب سے پہلے حلال نام سے لوگ واقف نہیں تھے۔

اللہ کریم ان کی نیکیوں کو شرف قبولیت سے نوازے اور ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے۔ سنٹرل ماسک میں مولانا محمد حفیظ اللہ خان المدنی نائب امیر اول مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ نے ان کی نماز سنت کے مطابق پڑھائی۔ اکثر لوگ بزرگوں کی جائز وصیتوں کو پامال کرتے ہیں اور مروت کے مارے مشرکوں اور قبر پرستوں سے اپنے موحد اور منبع سنت بزرگوں کے جنازے پڑھاتے ہیں، جو لوگ نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ ہی نہیں پڑھتے ہیں، جب سورۃ فاتحہ نہ پڑھیں تو وہ نماز جنازہ کیسے ہوئی۔ اس اعتبار سے حافظ محمد یعقوب کے بچوں کو سیلوٹ کرتا ہوں کہ وہ والد کی وصیت کے مطابق گرین لین مسجد کے کسی عالم سے نماز جنازہ پڑھائے اور سنٹرل ماسک کے امام اور انتظامیہ کمیٹی کی بھی اعلی ظرفی ہے کہ وہ دیگر مسلک کے علماء کو نماز جنازہ پڑھانے کی اجازت دیتے ہیں ورنہ ا کثر مساجد میں ائمہ مساجد خود نماز جنازہ پڑھاتے ہیں، دیگر علماء کو اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتے۔ نماز جنازہ سے قبل شیخ ڈاکٹر بانی البنا فونڈر آف اسلامک ریلیف یوکے، چوہدری ظفر ، بزنس مین طاہر محمود ذمہ دار سنٹرل ماسک برمنگھم، مولانا مولانا شعیب احمد امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ، چوہدری ظفر اسپین بر طانیہ،مولانا شیر خان جمیل احمدعمری، مولانا سرفراز مدنی سابق امیر اسلامک مشن یو کے، حاجی محمد صدیق چوہدری، محمد اکرم، حافظ عبدالواحد فر زند زاہد یعقوب، حافظ زین زاہد اور بہت سے لوگ خصوصاً تجار حضرات کی خاصی تعداد نماز جنازہ میں شامل تھی جبکہ مولانا عبد الہادی العمری اور ناظم اعلیٰ قاری ذکاء اللہ سلیم بیرون ملک ہیں ، جنازہ اور تدفین کے بعد بھی کئی دن تک زاہد یعقوب سنٹرل ماسک میں بیٹھے رہے تا کہ تعزیت کرنے والوں کے لئے آسانی ہو۔ ڈاکٹر عبدالرب ثاقب اور بہت سے لوگ زاہد یعقوب سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ کریم ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور ان کی لغزشوں سے در گزر فرمائے۔ آمین

بار دنیا میں رہو غمز وہ یا شاد ر ہو

ایسا کچھ کر کے چلو یاں کے بہت یادر ہو

ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

تبصرہ کریں