
بسم الله الرحمن الرحيم
﴿ يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا ۖ قُل لَّا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُم ۖ بَلِ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلْإِيمَانِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ﴾ (سورة الحجرات:17)
ہر طرح کی تعریف اور حمد و ثنا اللہ رب العالمین کے لیے، بہترین اور افضل ترین درود، افضل انبیاء سیدنا محمد مصطفی ﷺکے لیے۔ ابھی خطبہ مسنونہ کے ساتھ جو آیت کریمہ میں نے پڑھی، وہ سورۂ حجرات کے آخر سے ہے۔
رب العالمین کا ارشاد ہے کہ وہ، یعنی کچھ دیہاتی بدو،نئے مسلمان ہونے والے لوگ، اے نبی ﷺ! آپ پر احسان جتاتے ہیں، احسان چڑھاتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کیا، وہ مسلمان ہوئے، ان کے بقول، ان کے اسلام لانے کا یہ آپ پر احسان ہے ، آپ ان سے فرمائیں کہ اپنے اسلام لانے کا احسان مجھ پر نہ جتاؤ۔ مجھ پر احسان نہ چڑھاؤ۔ یہ کوئی احسان نہیں بلکہ اللہ نے تم پہ احسان کیا ہے کہ اس نے ایمان کی روشنی کی طرف تمہاری رہنمائی کر دی۔ یہ اللہ کا احسان ہے، تمہارا احسان نہیں ۔ اگر تم اپنے دعویٰ ایمان میں سچے ہو تو پھر یہ دعویٰ ایمان کا جو تم کرتے ہو، یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ ایمان اللہ کی طرف سے ہے، سو یہ اس کا احسان ہے۔ حق و باطل اور کفر اور اسلام کا عظیم معرکہ ہماری تاریخ میں پہلی بار جنگ بدر کے عنوان سے شروع ہوا۔ ویسے تو حق و باطل اور اسلام و کفر کی جنگ پرانے زمانے سے جاری ہے، یہ آپس میں ٹکراتے رہے ہیں، کیونکہ اسلام ہی اصل دین ہے، جو شروع سے چلا آ رہا ہے۔ اس کے خلاف جو کچھ ہے، وہ باطل ہے، اس کے سوا، اس سے ہٹ کر جو کچھ ہے، وہ غلط ہے، نا حق ہے اور باطل ہے اور ان کی کشمکش آپس میں چلتی آ رہی ہے۔
حق وباطل کا معرکہ کبھی نوح اور ان کی قوم کی شکل میں سامنے آیا ،یہ معرکہ، یہ آویزش اور یہ کشمکش ، نمرود اور ابراہیم اور ان کی قوم اور ان کے خاندان کے باہمی ٹکراؤ سے حق و باطل کی کشمکش کا معرکہ بپا ہوا۔ سیدنا موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق وباطل کا معرکہ ہوا اور اسی طرح چلتا چلتا یہ نبی کریم ﷺ کے دور تک پہنچا اور آپ کے دور میں بھی حق و باطل کا معرکہ بلکہ معرکے ہوتے رہے، جن میں سے پہلا معرکہ جنگ بدر کا تھا۔ جنگ بدر میں کافروں اور قریشیوں کے مقابل جو لوگ کھڑے ہوئے۔ وہ مصائب کی اور ظلم کی چکی سے گزر کر آئے تھے۔ آزمائشوں سے گزر کر آئے تھے اور ان آزمائشوں، ان مصائب اور اس ظلم نے ان کو سونے سے کندن بنا دیا تھا۔ چمکا دیا تھا۔ آزمائشوں اور مصائب کی بھٹی نے ان کو اصلی سونا بنا دیا تھا اور اس کی وجہ سے وہ دین کی قدر کرنے والے بھی تھے، کیونکہ انہوں نے اس کے لیے Pay کیا تھا۔ اس کے لیے انہوں نے قیمت ادا کی تھی۔ اپنی جانوں کی شکل میں، اپنے جسموں کے اوپر گزرنے والے ظلم کی شکل میں، اذیتوں کی شکل میں، نبی اکرم ﷺ سے لے کر ان صحابہ تک سب نے اپنے ایمان کی قیمت ادا کی تھی اور اس وجہ سے وہ ایمان کی قیمت جانتے تھے اور اسے اللہ کا احسان مانتے تھے۔ ان لوگوں کے برعکس جن کا اس آیت میں ذکر ہوا۔
دنیا میں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بہت ہیں لیکن ان میں سے سب سے بڑی نعمت کونسی ہے؟ سب سے بڑی دولت، ہدایت کی دولت ہے، وہ ایمان ہے اور اسلام ہے۔ اس لیے کہ وہ صرف دنیا میں کام نہیں آتا۔ آخرت جو ہمیشہ کا گھر ہے، وہاں بھی کام آئے گا۔ وہاں کی کامیابی کی بنیاد ایمان ہے۔ اسلام اور دین ہے۔ دین کو اپنانا اور دین پر چلنا ،وہاں کی کامیابی ہے اور دین پر چلتے وہ ہیں جو دین کی قدر دل میں رکھتے ہیں، دین کی قدر پہچانتے ہیں اور اس کی قدر وہی پہچانتے ہیں،جنہوں نے اس کے لیے کچھ قیمت ادا کی ہو۔ ہم نے کیا قیمت ادا کی؟ہم تو پیدائشی مسلمان ہیں۔ اللہ نے فضل کیا، مسلمانوں کے گھروں میں پیدا کیا۔ کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ اس لیے دین کی صحیح قدر شاید ہم نہیں پہچانتے۔ قدر پوچھنی ہے تو پہچاننے والوں سے پوچھو، بلال سے پوچھو، صہیب سے پوچھو، عمار سے پوچھو، یاسر سے پوچھو۔ انہیں پتا ہے کہ ایمان کی دولت کیا چیز ہے، جس کے لیے سب کچھ لٹایا جا سکتا ہے، جس کے لیے سب کچھ قربان کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے جسم کٹوائے جا سکتے ہیں، جس کے لیے اذیتیں سہی جا سکتی ہیں۔ سو دین کی قیمت پوچھنی ہے تو ان سے پوچھو، وہ بلال جنہیں ایمان لانے کی پاداش میں رسیاں باندھ کے مکے کی گلیوں کے اندر گھسیٹا گیا، وہ جانتے ہیں، اسلام کیا ہے؟ ایمان کیا ہے؟ اس کی قیمت کیا ہے؟ جن کے سینے پر بھاری پتھر رکھ کے انہیں کہا گیا ، اٹھنے نہیں دیں گے، یہاں تک کہ اپنے دین کو چھوڑ نہ دو اور اس حالت میں بھی انہوں نے ایک ہی نعرہ لگایا، احد احد، اللہ ایک ہے، اس کو ایک ہی کہتے رہیں گے۔ دین صرف اسلام ہے، اسی کو اپناتے رہیں گے اور کسی دین کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گے۔ خباب سے پوچھو کہ دین کم ازکم اتنا قیمتی تو ہے کہ اس کے لیے زندہ بدن کو انگاروں پر جلتے ہوئے کوئلوں پر بھی لٹایا جا سکتا ہے، تڑپنے کے باوجود انہیں اٹھنے کی اجازت نہیں تھی۔ کہتے ہیں، جب تک میرے جسم سے نکلنے والے خون نے نکل کر آگ کو ٹھنڈا نہیں کیا، ظالموں نے مجھے اٹھنے نہیں دیا، وہ اللہ کے دین پر قائم رہے، اس لیے کہ اس کی قدر پہچانتے تھے، اس کی قیمت جانتے تھے اور وہ قیمت انہوں نے ادا کی تھی، ان سے پوچھئے،اگر دین کی قدر جاننی ہے، دین کی قدر عثمان سے پوچھو، عثمان بن مظعون ، عثمان بن عفان کی بات نہیں کر رہا،یہ دوسرے عثمان ہیں، یہ بھی ابتدائی دور میں ایمان لانے والے ہیں، چونکہ مسکین تھے تو ظالموں نے ان کو منہ پہ مارا اور اس بے دردی سے منہ پر مارا کہ ان کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی۔ مارنے والے نے کہا، اب تو سبق ملا، اب تو پتہ چلا، اب تو معلوم ہوا کہ اس نئے دین کو اختیار کرنے کی کیا سزا ہے؟ کتنا اس دین کو ہم قابل نفرت سمجھتے ہیں۔ تم نے اس دین کے لیے اپنی آنکھ گنوا دی۔ جواب کیا تھا؟”وَاللهِ إِنَّ عَيْنيِ الصَّحِيْحَة لَفَقِيْرَةٌ إِلَى مَا أَصَابَ أُخْتُهَا فِي اللهِ”(أسد الغابة: 3/ 589-590)
اللہ کی قسم کھا کے کہا کہ جو میری آنکھ بچ گئی ہے، جو صحیح ہے، وہ بھی محتاج ہے اس چیز کی کہ وہ بھی اللہ کی راہ میں اسی طرح ختم ہو جائے۔
یہ تھے وہ لوگ جو جانتے تھے،دین کیا ہے؟ دین کی قدر کیا ہے؟ اس کے لیے قیمتیں انہوں نے ادا کی تھیں، اپنے جسم سے اذیتیں سہہ کر تکلیفیں اٹھا کر اور خود رسول اکرمﷺ، طائف کے موقع پہ جس طرح آپ کا پیچھا کیا گیا۔ پتھر مارے گئے۔ زخمی کیا گیا۔ پاؤں، قدم، ٹانگیں لہو لہان ہوئیں۔ بیٹھتے تھے تو پھر اٹھنے پر مجبور کیے جاتے تھے۔ چلائے جاتے تھے۔
اوباش لڑکے جو آپ کے پیچھےلگائے گئے تھے۔ وہ بغلوں میں ہاتھ دے کے زبردستی اٹھاتے تھے ۔چلنے پر مجبور کرتے تھے۔ چلتے تھے تو پھر پیچھے سے پتھر مارتے تھے۔ دین کی قیمت آپ نے بھی ادا کی۔ غار میں کی، شعب ابی طالب میں کی، بدر میں کی، جنگوں میں کی، مگر دین پر قائم رہے۔ مصیبتیں سہیں۔ مصائب برداشت کیے، اپنی اور اپنے صحابہ کی اذیتیں دیکھیں اور سہیں، ان کے باوجود خود بھی دین پر چلے اور لوگوں کو بھی دین پر چلایا اور دین کی قدر سکھائی۔
ان مصائب سے گزرتے ہوئے صحابہ کو حکم یہ تھا اللہ تعالیٰ کا کہ﴿کُفُّوْا أَیْدِیَکُمْ﴾ظلم کے مقابلے میں اپنے ہاتھ باندھ کر رکھو ،اپنے ہاتھ استعمال نہ کرو، یعنی اس کا جواب نہ دو، اس میں مصلحت تھی، یہ نہیں کہ اسلام خاموشی سے ظلم سہنا ہی سکھاتا ہے، ایسی بات نہیں ہے، لیکن تربیت ہو رہی تھی اور اس میں مصلحت تھی۔کوئی باقاعدہ Force نہیں تھی، کوئی باقاعدہ جماعت نہیں تھی، کوئی اسلحہ نہیں تھا، کوئی ذرائع نہیں تھے، مقابلہ کرنے کے لیے۔ اس لیے کہا : ﴿کُفُّوْ أَیِدْیِکَمْ﴾ ابھی اپنے ہاتھوں کو باندھ کر رکھو۔
پھر وقت آیا تو قتال کا، جہاد کا حکم آ گیا۔مدینے میں ہجرت ہو گئی۔ ایکCenter، ایک مرکز، ایک جگہ، ایک ملجا اور ایک ماویٰ مل گیا ،انصار جیسے جاں نثار ساتھی مل گئے، وسائل مل گئے، تھوڑا بہت اسلحہ وغیرہ، سواریاں اور جنگ میں لڑنے کی وہ قوت مل گئی، جو مکے میں نہیں تھی۔پہلے حکم تھا :﴿وَيَكُفُّوا أَيْدِيَهُمْ﴾ (سورة النساء: 91)
ہاتھ باندھ کے نمازیں پڑھتے رہو بس صبر کرو ۔
پھر وقت آیا تو فرمایا:﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ﴾ (سورة البقره: 216)
تم پر قتال اور جہاد لکھ دیا گیا، یعنی فرض کر دیا گیا، کیونکہ اب تیار ہو گئے تھے۔ اب تم تیار ہو گئے ہو، تم ایک چٹان ہو۔ مصائب کی بھٹی سے گزر کر آئے ہو۔ ایک چٹان بن گئے ہو۔اب ظالم اور ظلم ٹکرائے گا، تو پاش پاش ہو جائے گا۔ ایسا ہی ہوا، جنگ بدر میں تین سو تیرہ تربیت یافتہ، مصائب سے گزرے ہوئے، تربیت یافتہ لوگ کھڑے تھے، جن کی مدد کے لیے رسول اللہ ﷺ کی دعائیں بھی تھیں، آپ نے دعائیں کیں ، اللہ سے مانگا، رو رو کے مانگا، اللہ ہی سے مانگا، کسی اور سے نہیں مانگا۔اللہ نے مدد بھیجی، فرشتے بھی آئے، اللہ کی مدد بھی آئی ۔ آپ کی دعا کیا تھی؟ دعا یہی تھی کہ تیرے دین کو اپنانے والے اور دین کی قیمت جاننے والے یہ تھوڑے سے لوگ میں نے تیار کیے ہیں۔ اگر یہ ختم ہو گئے تو روئے زمین پر تیری عبادت کون کرے گا؟اس طرح کے الفاظ تھے۔ یہ وہ ہیں کہ جن سے جب مشورہ کیا گیا، پوچھا گیا کہ بھئی ہماری تعداد کم ہے، مدینے میں رہ کے اپنا دفاع کرنا ہے یا کھلے میدان میں باہر نکل کر مقابلہ کرنا ہے؟ تمہاری کیا رائے ہے؟ جواب یہ تھا،حضور آپ میدان میں نکلنے کی بات کرتے ہیں۔ اگر آپ سمندر میں چھلانگ لگانے کا حکم دیں،ہم دین کے دفاع کی خاطر اس کے لیےبھی تیار ہیں۔ اس لیے کہ دین ہمارے نزدیک قیمتی ہے۔ ان میں عبیدہ بن حارث جیسے جانباز بھی شامل ہیں۔خود بدر کی لڑائی میں تھے، اسی لڑائی میں پاؤں کٹ گیا۔ اس سے خون نکل رہا تھا۔ کمزوری بدن میں آ گئی۔ نبی اکرم ﷺ ساتھیوں کا معائنہ کرتے کرتے گزرے تو یہ زمین پر پڑے تھے، پاؤں سے خون نکل رہا تھا، پاؤں کٹا ہوا تھا، آپ ﷺپیار سے ،شفقت سے نیچے بیٹھے۔ آپ ﷺنے اپنے دست شفقت سے، وہ جو زمین کی گرد اور خاک ، میدان جہاد کی خاک چہرے پر لگی تھی۔ اپنے دستِ شفقت سے آپ نے صاف کی، لیکن اس وقت بھی ان کو فکر کس بات کی تھی؟ اس وقت جبکہ وہ نزع کے عالم میں تھے، دنیا اور آخرت کی دہلیز پہ کھڑے تھے۔موت کے دروازے پر کھڑے تھے، شہادت قریب تھی مگر فکر کس بات کی تھی؟ بیوی کی؟ بچوں کی؟ گھر کی؟ مال کی؟ نہیں! کہا:
اللہ کے رسول! ایک بات مجھے بتا دیں، تاکہ میں تسلی کے ساتھ دنیا سے جاؤں۔کیا اللہ مجھے شہید شمار کرے گا یا نہیں کرے گا؟جواب کیا تھا؟ آپﷺ نے فرمایا:
«بَلیٰ وَأَنَا شَاهِدٌ» میرے پیارے! میرے جانثار! کیوں نہیں، میں گواہ ہوں، میں اللہ کا نبی گواہ ہوں کہ تم اللہ کے راستے پہ شہید ہو۔ (سیرت ابن ہشام:2؍24)
اس میں عمرو بن جموح جیسے جانباز بھی شامل ہیں، دین کی قدر کرنے والے، دین کے لیےقربانیاں دینے والے، دین کو قیمتی سمجھتے ہوئے، اس کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے عمرو بن جموح شہید ہوئے ،احد کی جنگ میں شہید ہوئے۔
عمرو بن جموح کو ساتھیوں نے چاہا کہ اونٹ پر لاد کے واپس مدینے لے جائیں، وہاں ان کو دفن کیا جائے۔ اونٹ پر لادا، اونٹ کو اٹھایا ، اس کو چلنے کے لیے کہا، مارا، پیٹا، کوڑے مارے،مگر اونٹ چلتا ہی نہیں تھا۔ دو قدم چلتا تھا تو واپس آ جاتا تھا۔ بڑی کوشش ہوئی، مگر اونٹ نے چلنے سے انکار کیا، نہیں چلا۔حیران ہو کے نبی کریم ﷺ کے سامنے مسئلہ پیش ہوا کہ حضور اس طرح کی بات ہوئی ہے، یہ اونٹ چلتا نہیں ہے، ہم اس کی لاش لے کے جانا چاہتے ہیں۔فرمایا، پتہ کرو، اللہ کے نبی تھے، وحی بھی آئی تھی ،فرمایا، پتہ کرو کہ گھر سے چلتے ہوئے اس نے کوئی دعا تو نہیں کی؟ کی ہے تو کیا کی ہے؟ ادھر ادھر سے پوچھا، جاننے والوں نے کہا ، ہاں دعا تو کی تھی ، گھر سے نکلتے ہوئے کہا تھا:
«اَللهم ارْزُقْنِي الشَّهَادَة، وَلَا تَرُدَّنِي إِلَى أَهْلِي» (شهداء أحد: ص 480)
’’ یا اللہ! تیرے راستے میں نکل رہا ہوں، واپس اس گھر میں لوٹ کے آنا نہیں چاہتا، شہادت چاہتا ہوں۔‘‘
اللہ مجھے واپس نہ لے کر آنا۔ آپﷺ نے فرمایا: اس کی دعا قبول ہو چکی ہے، اب یہ اونٹ نہیں چلے گا، اس کو یہیں دفن کر دو۔ یہ وہ لوگ تھے،جنہوں نے دین کے لیے قربانیاں دیں، اس لیے کہ وہ دین کو قیمتی سمجھتے تھے۔
اور پھر ان میں شامل ہیں، عبداللہ بن جحش جیسےصحابی، جنگ سے پہلے اپنے دوست سے کہا ، اسی جنگ احد کی بات ہے شاید، اپنے دوست سعد بن ابی وقاص سے کہا، میں بھی دعا کرتا ہوں ، تم بھی دعا کرو۔ تم دعا کرو،میں آمین کہتا ہوں۔ میں دعا کروں گا، تم بھی آمین کہنا۔ اس نے کہا ٹھیک ہے، پہلے میں دعا کرتا ہوں ، اس نے شہادت کی دعا کی، آپ نے کہا : آمین۔ اللہ تمہیں اپنے راستے کا شہید بنائے۔ اب میں دعا کرتا ہوں۔
یا اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت دے دے اور شہادت کے بعد میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہوں۔ میرے کان، میری ناک،میرے اعضاء کاٹے جائیں۔ اسی حالت میں تیرے سامنے کل قیامت کے روز پیش ہو جاؤں۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ تو مجھ سے پوچھے، عبداللہ میں نے دنیا میں تجھے بھیجا تھا، کان بھی تھے، ناک بھی تھی، سب کچھ تھا، کہاں گم کر کے آئے ہو، کہاں گنوا کے آئے ہو؟اور میں بس اتنا کہوں کہ سب تیرے راستے میں کاٹے گئے ۔ تیرے ہی راستے میں کاٹے گئے تھے۔ )مستدرک حاکم:2409( یہ ان کی دعا تھی کہ شہادت کے بعد بھی، مر کر بھی، شہادت قبول کر کے بھی وہ مزید پیش کرنا چاہتے تھے، یعنی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
اس کے بعد جسم بھی کاٹا جائے، اس کا مثلہ بھی کیا جائے، اس کے ٹکڑے بھی کیے جائیں ،وجہ یہ کہ وہ دین کی قدرو قیمت جانتے تھے، دین کی قیمت پہچانتے تھے۔ ہمارے لیے سبق کیا ہے؟ دین کی قدر کریں، یہ ہمیں مفت میں ملا ہے، اس کی قدر کریں۔ ان کے لیے شاید مشکل نہیں تھا، قدر کرنا، اس لیے کہ انہوں نے قیمت ادا کی تھی۔ ہمارے لیے اس لیے مشکل ہے کہ ہم نے قیمت ادا نہیں کی، لیکن اس کی قدر پہچانیں ، دین کی عظمت پہچانیں، یہ وجۂ نجات ہے، یہ جنت میں جانے کا سبب ہے۔ اپنے رب کو راضی کرنے کا ذریعہ ہے۔
دین کو اپنانا،اس پر چلنا ، اس کی بڑی قیمت ہے،اس کی بڑی قدر ہے۔ تو قرآن نے کہا کہ تم نے کس طرح سمجھ لیا ، کیسے سمجھ لیا کہ تم سیدھے جنت میں جاؤ گے؟ تمہیں تو ابھی وہ تکلیفیں، وہ مصیبتیں، وہ آزمائشیں نہیں پہنچی ہیں ، جو تم سے پہلے لوگوں کو پہنچیں اور اس سے وہ گزرے، اس قیمتی خزانے کو،جسے دین کہتے ہیں، جسے اسلام کہتے ہیں، جسے ایمان کہتے ہیں۔ اس قیمتی خزانے کے قدردان شروع سے، نبی کریم ﷺ کے دور سے پہلے سے، اس کی قیمتیں ادا کرتے آئے ہیں۔ جیسے آپﷺ نے فرمایا:
ایسے بھی تھے جن کے زندہ جسم لوہے کے کنگھیوں سے یا کنگھوں سے چیرے اور نوچے گئے۔ ان کا زندہ گوشت نوچا گیا۔ جرم یہ کہ مسلمان کیوں ہوئے؟ اسلام کیوں لائے؟ دین اور نبی کو کیوں قبول کیا؟ وہ بھی تھے،جن کو لکڑی کی طرح، لکڑی کے بڑے ٹکڑے کی طرح، آرے کے ساتھ چیر کر دو ٹکڑے کیا گیا۔ دین کی قیمت اس طرح بھی ادا ہوئی اور نبی کریم ﷺ کے زمانے کی طرف لوٹتے ہوئے، پھر میں کہتا ہوں۔ یہ دین کی قدر جاننے والے اور دین کے حوالے سے ملنے والی جنت کی قدر جاننے والے لوگ تھے ، وہ تو جب تیر لگتا تھا، خود کو کامیاب سمجھتے تھے،ایک صحابی کو تیر لگا، خون کا فوارہ جسم سے نکلا، موت سامنے نظر آئی مگر شہادت کو گلے لگانے سے پہلے دو لفظ کہے:
«فُزْتُ وَرَب الكَعْبَةِ» (صحيح بخارى: 2801)
کعبے کے رب کی قسم! میں کامیاب ہوگیا ۔ کامیاب ہو گیا میں، تیر کھا کر، خون نکلوا کر، مر کر، شہادت قبول کر کے کامیاب ہو گیا۔ وہ جانتے تھے ، دین کی قدر اور دین کے حوالے سے ملنے والی جنت کی قدر۔ اسلم اسدی صحابی ہیں، ان کو دیکھ لو، جنگ میں خطرناک مقام کی طرف بھاگے جا رہے تھے، جہاں مرنے کا، شہادت کا خطرہ اور خدشہ بہت زیادہ تھا۔ ان کے دوست تھے،سلمہ بن اکوع ، انہوں نے انہیں روکا۔ انہوں نے کہا، یہیں لڑنا ہے، اللہ کی راہ میں لڑ رہے ہو، یہیں کھڑے ہو کر لڑو۔ دوڑ کے خطرے کے مقام پہ جانے کی وجہ کیا ہے؟ کیوں جا رہے ہو؟ نہ جاؤ، راستے میں کھڑے ہو کر آگے سے ان کو روکتے ہیں، انہوں نے کیا کہا ؟
“يَا سَلَمَةُ، إِنْ كُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ، وَالنَّارَ حَقٌّ، فَلَا تَحُلْ بَيْنِي وَبَيْنَ الشَّهَادَةِ.” (صحیح مسلم: 1807)
میرے دوست سلمہ! اگر تم واقعی اللہ اور قیامت پر ایمان رکھنے والے مسلمان ہو اور تم جنت اور دوزخ کو حق مانتے ہو، تو وہ دونوں یقیناً سامنے آئیں گی ۔ جنت بھی آئے گی، دوزخ بھی آئے گی۔ یہ چیزیں حقیقی ہیں ، فرضی نہیں ہیں۔ اگر ان سب کو مانتے ہو تو میرے اور شہادت کے درمیان حائل ہونے کی کوشش نہ کرو۔ پیچھے ہٹ جاؤ ۔ میں یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ صحابہ کے نزدیک دین کی قیمت کیا تھی؟ جنت کی قیمت کیا تھی؟ رب کی خوشنودی کی قیمت کیا تھی؟ ان کی قربانیوں سے یہ دین ہم تک پہنچا ہے۔ اگر وہ یہ قربانیاں نہ دیتے، وہیں ساری بات دفن ہو جاتی، ختم ہو جاتی۔
ہمارے لیے تو نسبتاً بہت آسانیاں ہیں۔ زیادہ آزمائشیں نہیں ہیں، زیادہ تکلیفیں نہیں ہیں۔ کوئی غربت کی تکلیف آ گئی، کوئی بیماری آ گئی، کوئی اور مصیبت آ گئی۔ ان مصیبتوں کے مقابلے میں، اِن آزمائشوں کے مقابلے میں، اِن کی کیا حیثیت ہے؟ جن سے وہ گزرے؟ تو محض ایمان کا یا کوئی اور دعویٰ کرنے کی بجائے ، عملاً دین کو اپناؤ، دین کی قدر کرو اور اس کو اپناؤ۔ دعوے نہ کرو۔
قرآن نے کہا :
﴿وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِنْ أَمَرْتَهُمْ لَيَخْرُجُنَّۖ قُل لَّا تُقْسِمُواۖ طَاعَةٌ مَّعْرُوفَةٌۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ﴾ (سورة النور: 53)
کچے ایمان والے، منافق، نئے ایمان والے، جن کے دل میں ایمان اترا نہیں ہے، جنہوں نے ایمان اور اسلام کی قدر نہیں جانی، وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اے نبی! آپ حکم تو دیں، ہم اپنے گھر بار، مال و منال اور اولاد سب چھوڑ کر نکل جائیں گے، جدھر آپ فرمائیں گے۔ آپ حکم دیں، فرمایا:
﴿لَّاتُقْسِمُوا﴾ جھوٹی قسمیں نہ کھاؤ۔ کیا کرو؟
﴿طَاعَةٌ مَّعْرُوفَةٌ﴾ بس اللہ کی مان کر، اللہ کے دین کی مان کر چلو، اپنی زندگی میں چھوٹے بڑے احکام، بڑی بڑی قربانیوں سے ہٹ کر، جو عام احکام ہیں، دین کے، نماز، روزہ اور فرض، ان کی ادائیگی کرو، ان کو اپناؤ، ان پر چلو۔ یہ کافی ہے تمہارے لیے۔ مال و منال، گھر بار چھوڑ کر نکل جانے والی بات تم سے نہیں ہے، تم سے یہ مطالبہ ہم نہیں کرتے۔ جو دین کے عام احکام ہیں، روزمرہ زندگی میں جو دین کے احکام ہیں ، ان پر چلو۔ یہی تمہارے لیے کافی ہیں۔ تو دین کی قدر کریں، دین کی قدر پہچانیں۔ دین بڑا قیمتی ہے، سو اس کے احکام پر چل کر اپنی آخرت کی کامیابی کو یقینی بنائیں۔
٭٭٭
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ اگر تم درست عقیدہ سیکھنا چاہتے ہو تو تم پر لازم ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ابن القیم کی کتب کی طرف رجوع کرو۔‘‘ (تفسیر سورة الأنعام، ص 139)
امام البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’میں عمومی طور پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ابن قیم الجوزیہ کی کتابوں کی نصیحت کرتا ہوں۔
ان کی تمام کتابیں، چاہے اصول (عقیدہ) میں ہوں یا فروع (فقہی مسائل) میں، سب فائدہ مند ہیں۔‘‘
(سلسلة الہدى والنور، شريط: 539)
٭٭٭
سفیان ثوری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جعفر بن محمد رحمہ اللہ نے فرمایا:
جب تمہیں کوئی پسندیدہ چیز ملے تو “الحمدُ لِلّٰهِ” بہت زیادہ کہا کرو۔ اور جب کوئی نا پسندیدہ موقع آئے تو ” لا حول ولا قوة إلا بالله” بہت زیادہ کہا کرو۔ اور جب رزق میں دیر محسوس ہو تو ’استغفار‘ بہت زیادہ کیا کرو۔
سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’میں نے اس نصیحت سے بہت فائدہ اٹھایا۔‘‘ (المجالسۃ وجواہر العلم: 1797)
٭٭٭
تبصرہ کریں