
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسوله الأمين وعلى آله وصحبه أجمعين
تمہید:دور حاضر میں انشورنس کا موضوع اس لیے اہم ہے، کیونکہ اللہ نے باطل ذریعے سے مال کھانے سے منع کیا اور فرمایا :
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ﴾
’’اے ایمان والو! اپنے آپسی مال ناجائز طریقے سے مت کھاؤ مگر یہ کہ خرید و فروخت تمہاری آپسی رضامندی سے ہو۔‘‘ (سورۃ النساء: 29)
اور رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
«مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَ أَنْفَقَة »
’’(روز قیامت سوال ہوگا کہ ) اپنا مال کہاں سے کمایا اور اسے کہاںپر خرچ کیا؟‘‘ (جامع ترمذی، ابواب الصفۃ، باب فی القیامۃ: 2416)
انشورنس کا موضوع اس قدر طویل اور اہم موضوع ہے کہ جس کی صرف ایک شکل تعاونی ہیلتھ انشورنس پر جامعۃ الملک میں ماجستیر Master’s degree کی گئی اور صرف ہیلتھ انشورنس پر جامعہ الامام میں دکتو راہ Doctorate کیاگیا۔
انشورنس کا موضوع اس قدر پیچیدہ اور قابل احتیاط بھی ہے کہ شیخ صالح بن حمید حفظہ اللہ جیسے جید و متبحر عالم نے کچھ دن پہلے فرمایا کہ میرے پاس انشورنس کی بعض شکلوں کا مکمل تصور نہیں ۔
مفہوم وابتدا: انشورنس کو ہندی اور اردو میں بیمہ اور جدید عربی میں تامین کہا جاتا ہے،اور قدیم علما نے انشورنس کو سوکرہ کا نام دیا جو SECURITY کا معرب ہے اور تجارتی انشورنس کا عمومی مفہوم یہ ہے کہ ایک فریق دوسرے فریق کو کسی تحفظ یا تلافی نقصان کی غرض سے یک مشت یا اقساط پر مخصوص اور متعین رقم فراہم کرتا ہے اور دوسرا فریق اس کے عوض حسب معاہدہ بھی رقم تو کبھی کوئی شے تو کبھی کوئی خدمت ومنفعت فراہم کرتا ہے اور کبھی کچھ کمپنیوں اور حکومتوں کی جانب سے اپنے ملازمین و باشندوں کے لیے فریق ثالث کے طور پر رقم کی ادائی ہوتی ہے۔
انشورنس کی ابتدا تو سمندری تجارتی سفر کو محفوظ بنانے کی غرض سے چودہ ویں صدی عیسوی میں جنوبی یورپ کے ملک اٹلی ITALY میں ہوئی، لیکن انشورنس کی شکلیں بیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں متعارف ہوئیں اور اس سے متعلق پہلا قانون بھی اسی وقت Germany میں بنا۔
انشورنس کے موضوع پر عدم گفتگو متاخرین فقہاء میں سب سے پہلے امام ابن عابدین دمشقی (ت 1252) نے کی اور دیار اسلام میں نہیں بلکہ صرف دار الحرب میں حربی کی رضامندی سے سوکرہ کا مال لینے کی اجازت دی۔( حاشیہ ابن عابدين رد المحتار : 4؍ 170)
انشورنس کی اقسام: انشورنس کا تعلق فقہ النوازل والمستجدات سے ہونے کے ساتھ ساتھ فقہ الاقليات، فقہ المآلات، فقہ الاولويات، فقہ الموازنات اور فقہ الواقع سے بھی ہے۔
علمی و اصولی اور فرضی طور پر انشورنس کی متعدد قسمیں بتائی گئیں، لیکن بنیادی طور پر رائج یا علماء کے یہاں معروف دو بڑی قسمیں ہیں:
1۔تعاونی 2۔تجارتی۔
تعاونی Cooperative انشورنس: فریق اول کی جانب سے کسی بھی طرح سے رقم کی ادائی کے بغیر انشورنس اگر حکومت یا اصحاب خیر کی جانب سے تعاونی Cooperative ہو تو شیخ عبد اللہ بن منبع حفظہ اللہ کے علاوہ سب کے یہاں متفقہ طور پر جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى ﴾ (سورۃ المائدہ: 2)
’’اور تم نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں ہاتھ بٹاؤ۔‘‘ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ الْأَشْعَرِنِينَ إِذَا أَرْ مَلُوا فِي الْغَزْوِ أَوْ قَلَّ طَعَامُ عيالِهِمْ بِالْمَدِينَةِ جَمَعُوا مَا كَانَ عِندَهُمْ فِي ثَوْبِ وَاحِدِ ثُمَّ اقْتَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ بالسوية»( صحيح بخاری : 2354)
’’اشعری قبیلے کا تو شہ میدان جنگ میں جب ختم ہو جاتا یا مدینے میں ان کے اہل خانہ کا غلہ کم پڑ جاتا تو وہ ایک کپڑے میں اپنی ساری پونجی اکھٹا کر لیتے، پھر ایک برتن سے اسے برابر برابر اپنے درمیان تقسیم کر دیتے۔
تجارتی Commercial انشورنس: انشورنس اگر تجارتی Commercial ہو تو اس کی فقہی تکییف و تصویر کرنے میں اختلاف کی بنا پر حکم بیان کرنے میں بھی اجتہادی اختلاف پایا جاتا ہے۔
بلاد اسلامیہ یا غیر بلاد اسلامیہ کی تمیز و تفریق کے بغیر جمہور اور بیشتر اہل علم نے بالخصوص مجمع الفقہ الإسلامی الدولی International Islamic Fiqh Academy کی اکثریت ہیئۃ كبار العلماء سعودیہ لجنۃ دائمہ للبحوث العلمیہ والافتاء سعودیہ امریکی مجمع فقہاء الشريعۃ شیخ ابن عثیمین، شیخ البانی، شیخ بن باز سابق مفتی دیار مصر شیخ محمد بیت المطیعی اور ملک شام کے معاصر فقیہ دکتور و ہبہ زحیلی رحمہم اللہ دیگر نے تجارتی انشورنس کو کئی وجوہات کے پیش نظر حرام قرار دیا، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
1۔ غرر اور ضرر: تجارتی انشورنس میں غرر Uncertainty اور ضرر پایا جاتا ہے اور انشورنس میں عقود کی مکمل وضاحت اور پابندیوں کی صراحت نہیں ہوتی، اس لحاظ سے اس نوعیت والا معاملہ منع ہے کیونکہ نبی ﷺ نے :
” نَهَى رَسُولُ اللهِ ﷺ … عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ ” ’’نبیﷺ نے غرر والے معاملے سے منع کیا۔‘‘ (صحیح مسلم، كتاب البيوع : 1513)
غرر یعنی جہل اور معاملہ کی عدم شفافیت ہے اور کبھی غرر دھو کے یا دھو کے کے شبہ اور خطرے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور انشورنس میں غرر غرر فاحش یعنی بے تحاشا ہے، اس اعتبار سے کہ انشورنس کرانے والے کو ضرورت پڑے گی یا نہیں، اگر پڑے گی تو کم ہوگی یا زیادہ ہوگی، ضرورت نہ پڑنے یا کم پڑنے کی صورت میں انشورنس کرانے والے کو نقصان ہوگا اور ضرورت زیادہ پڑنے کی صورت میں کمپنی کو نقصان ہوگا۔
2۔ میسر و قمار اور رہان یا مراہنہ : قمار۔۔جوا۔۔ Gambling کی شکل ہے، اس لحاظ سے کہ انشورنس کرانے والا کبھی بغیر غلطی اور بغیر زیادتی رقم ادا کر کے نقصان میں رہتا ہے اور فائدہ نہیں اٹھا پاتا، تو بھی کمپنی بغیر محنت فائدے میں رہتی ہے اور جب بھی اس طرح سے معاملہ داری میں جہالت اور لا علمی یقینی طور پر ہو تو وہ میسر قمار اور جوا شمار ہوتا ہے، جس سے اللہ نے منع فرمایا اور جب منع فرمایا تو اس قمار کو شراب اور بت پرستی کے ساتھ ذکر کیا ۔
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ 0 إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ ﴾
’’اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب جو تھان اور فال نکالنے کے تیر یہ سب گندی باتیں اور شیطانی حرکتیں ہیں، لہٰذا ان کاموں سے بالکل الگ رہو تا کہ تم فلاح یاب ہو، شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے آپسی بغض و دشمنی ڈال دئے اور اللہ کی یاد اور نماز سے تم کو باز رکھے تو کیا تم باز آنے والےہو؟‘‘
اور یہ انشورنس اُس رہان یا مراہنہ یعنی شرط لگانا داؤ لگانا یا سٹے بازی Betting کی شکل بھی ہے جس کی اسلام نے اجازت نہیں دی۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: « لَا سَبَقَ إِلَّا فِي خَفْ أَوْحَافِرٍ أَوْ نَصْلٍ»(سنن ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فی السبق: 2574)
’’ شرطیہ مقابلہ صرف اونٹوں اور گھوڑوں کے مقابلے اور تیراندازی کے مقابلے ہی میں درست ہے۔ ‘‘
3۔ باطل ذریعے سے مال کمانا : انشورنس میں طرفین دلی اور حقیقی رضامندی کے بغیر ناحق اور باطل ذریعے سےUnjustly /Unlawfully مال کماتے اور کھاتے ہیں، جب کہ اللہ نے اسے فرمایا:
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ﴾
’’اے ایمان والو ! تم آپس میں اپنا مال باطل ذریعے سے نہ کھاؤ۔ ‘‘ (سورۃ النساء: 29)
4۔ ربا: انشورنس کی غرض سے کمپنی کو مال کم دیا جاتا ہے، لیکن واپس زیادہ لیا جاتا ہے یا قسط وقت پر ادا نہ کرنے کی صورت میں کمپنی کو زائد رقم دینی پڑتی ہے تو یہ ربا الفضل ہے اور کمپنی وہی رقم بعد میں ادا کرتی ہے تو یہ ربا النسیئۃ ہے اور اگر کمپنی زائد رقم بعد میں ادا کرتی ہے تو ایسی صورت میں ربا الفضل اور ربا النسيئة دونوں بھی پائے جاتے ہیں۔
انشورنس کمپنیاں اپنی آمدنی کی رقم سودی معاملات میں لگاتی ہیں اور سودی منافعے سے اپنا کام کرتی ہیں، جب کہ اللہ نے سود کو حرام قرار دیا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (سورۃ البقرہ: 275) ’’اللہ نے تجارت حلال کی اور سود حرام کیا۔‘‘
تنبیہ: بالخصوص اس تعلیل و توجیہ سے دیگر اہل علم نے اختلاف کیا کیوں کہ لائف انشورنس کے علاوہ دیگر قسموں میں پیسے کا تبادلہ پیسے سے نہیں ہوتا بلکہ کبھی ٹھوس چیز Commodity تو بھی منفعت و خدمت Service سے ہوتا ہے جو کہ سود نہیں ۔
کچھ دیگر افراد جیسے شامی عالم مصطفى زرقاء رحمہ اللہ ، باحث مجمع الاسلامي الدولي ، مصری فقیہ عبد الوہاب خلاف رحمہ اللہ و دیگر نے عمومی طور پر تجارتی انشورنس کو جائز قرار دیا، کیونکہ ان کے یہاں جواز کی چودہ سے زائد وجوہات ہیں، جن میں کچھ نمایاں وجوہات درج ذیل ہیں:
اعتبار اصل: معاملات میں اصل اباحت ہے اور انشورنس کی حرمت منصوص نہیں ۔
باہمی تعاون: انشورنس نیکی اور پرہیز گاری میں تعاون کی بنیاد پر قائم ہے۔ (جاری ہے)
٭٭٭
تبصرہ کریں