
اسلام اور رمضان- فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ عواد جہنی
ترجمہ: محمد عاطف الیاس (فاضل ام القریٰ یونیورسٹی – مکہ مکرمہ)نظرثانی: محمد اجمل بھٹی(فاضل مدینہ یونیورسٹی)
پہلا خطبہ
ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ ہم اسی کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں، اسی پر بھروسہ اور اعتماد کرتے ہیں اور اسی سے معافی مانگتے ہیں۔ اپنے نفس کے شر سے اور اپنے برے اعمال سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرما دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے، تو اس کے لیے کوئی رہنما نہ پاؤ گے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ واحد ویکتا ہے۔ اکیلا اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ بیوی اور اولاد سے بالا تر ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنا، نہ کسی نے اُس کو جنا، نہ اس کا ہم پلہ یا برابری والا کوئی ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ خاتم الانبیاء والمرسلین ہیں۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، اہل بیت پر، تمام صحابہ کرام پر، آپ ﷺ کے رسول اور نبی بھائیوں پر، جنہیں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے بشارت دینے اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا، تو انہوں نے توحید کی دعوت دی، اللہ کے لیےعبادت کو خالص کرنے کی طرف بلایا، لوگوں کو شرک اور ہلاکت خیز باطل عقائد کی طرف جانے والے راستوں سے متنبہ کیا، مناسب طریقے سے ان سے بحث مباحثہ کیا، اس طرح وہ لوگوں پر اللہ کی حجت بن گئے۔
بعدازاں! اے مسلمانو! اللہ سے ڈرو، نصیحت کرنے والوں کی نصیحت قبول کرو، وعظ کرنے والوں کے وعظ سے فائدہ اٹھاؤ، یاد رکھو کہ یہ علم دین ہے، تم اپنے کاموں پر غور کرو کہ تم کیا کر رہے ہو، کس سے سیکھ رہے ہو، کس کے نقشِ قدم پر چل رہے ہو، دین کے معاملے میں کس پر اعتماد کرتے ہو۔ اللہ سے یوں ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے، کیونکہ پرہیز گاری میں ساری خیر ہے، اس کی پکڑ اور سزا سے ڈرو، کیونکہ وہ بہت درد ناک اور تکلیف دہ ہے۔ اس کی مغفرت اور خوشنودی پانے کے لیے مقابلہ کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک عظیم کام کے لیے پیدا کیا ہے، تمہیں ایک اہم چیز کے لیے تیار کیا ہے، تمہیں اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ تم اسے پہچانو اور اس کی عبادت کرو، اس نے تمہیں اپنی توحید اور فرمان برداری کا حکم دیا ہے، پھر تمہارے لیے ایک وقت مقرر کیا ہے، جس میں تم فیصلے کے لیے اللہ کے پاس جمع ہو جاؤ گے، تب اللہ تعالیٰ تمہارے بارے میں فیصلہ فرمائے گا، تو اس شخص کی بد بختی کی کوئی انتہا نہیں جسے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے خارج کر دے جبکہ وہ ہر چیز کے لیے کشادہ ہے، اس جنت سے نکال دے جس کی چوڑائی اتنی ہے جتنی آسمان وزمین کےدرمیان فاصلہ، روزِ قیامت امن وامان میں وہی ہو گا جو دنیا میں اللہ سے ڈرنے اور پرہیز گاری اپنانے والا ہو گا، جس نے بہت سے منافع کے ساتھ تھوڑی سے چیز کو بیچ ڈالا ہو گا، جس نے فنا ہونے والی چیز کے بدلے ہمیشہ رہنے والی چیز کو خرید لیا ہو گا، جس نے اپنی بدبختی کی جگہ اپنی سعادت کو پسند کر لیا ہو گا۔ یاد رکھو کہ دلی سکون اور اطمینان کے ایک ذریعہ، جس سے پریشانیاں اور تمام تر غم دور ہو جاتے ہیں، اور جس سے انسان کو اچھی زندگی، سرور اور خوشی نصیب ہوتی ہے، وہ ایمان باللہ، نیک عمل اور قول وعمل میں مخلوق کے ساتھ احسان کرنا ہے، ہر اس کام کو اختیار کرنا ہے جسے نیکی سمجھا جاتا ہو۔
اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کے لیے اسلام کو شریعت کے طور پر منتخب فرمایا ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نگہبانی کرتا ہے، ان سے محبت کرتا ہے، ان سے خوش اور راضی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ﴾ (سورة المائدة: 3)
’’آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے ۔‘‘
یہ آیت قرآن کریم کی ان آیات میں شامل ہے جو سب سے آخر میں نازل ہوئیں، جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں بتایا ہے، کہ اس نے امتِ محمد ﷺ کے لیے دین کو مکمل کر دیا ہے، انہیں اپنی کامل نعمت سے نوازا ہے، اور ان کے لیے دینِ اسلام پسند کیا ہے۔ اللہ نے اس امت کے لیے اس دین کو مکمل کیا، اس کی صورت میں انہیں نعمتِ کاملہ عطا فرمائی، اسی لیے اہلِ کفر اس بات سے مایوس ہو گئے کہ وہ اس دین میں کوئی تبدیلی واقع کریں، یا اس میں کوئی بیشی یا تحریف کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ کامل رہے گا، اور ہمیشہ باقی رہے گا، اسی لیے اس نے اس کی حفاظت ونگہداشت کی ذمہ داری بھی خود لی ہے۔ فرمایا:
﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾
’’ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘(سورة الحجر: 9)
اللہ تعالیٰ نے اپنی واضح آیات میں یہ بتایا ہے کہ محمد ﷺ کا پیغام انتہائی جامع اور ہمہ گیر ہے، اسی پر آسمانی پیغامات کا اختتام ہوا، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک، چنیدہ، مقرب اور اللہ کے ہاں اعلیٰ مقام رکھنے والے نبی کو بھیجا، تاکہ وہ یہ پیغام انسانوں اور جنوں تک پہنچا دیں۔ لوگوں کو بشارتیں دیں اور خبردار کریں، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو سارے جہانوں کے لیے رحمت اور سراج منیر بنا کر بھیجا، آپﷺ پر وہ کتاب نازل کی جو گزشتہ کتابوں کی تصدیق بھی کرتی ہے اور ان کی تکمیل کرنے والی بھی ہے۔ وہ وحی نازل فرمائی جو عقل اور فطرتِ سلیمہ سے مخاطب ہوتی ہے، جو زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کرتی ہے، انفرادی اور خاندانی زندگی کے بارے میں رہنمائی کرتی ہے، معاشرے اور ریاست کے معاملات میں بھی رہنمائی کرتی ہے۔ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسان کا اس کے خالق کے ساتھ تعلق بھی درست کیا ہے، مسلمانوں کے باہمی رابطے کے اصول وضوابط بھی وضع کیے ہیں، اور اغیار کے ساتھ طریقۂ برتاؤ کے بارے میں بھی رہنمائی فرمائی ہے۔ یہاں تک کہ جانوروں کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں بھی احکام صادر فرمائے، بلکہ کائنات کی ہربولنے والی اور خاموش چیز کے بارے میں بتایا، بہت سے مسائل کا علاج پیش کیا، چھوٹے اور بڑے، تمام معاملات میں نظام اصول وضوابط وضع کیے، حتیٰ کہ قضائے حاجت کا طریقہ بھی بتایا، تو جس نے آسمان کے آخری دستور کو نازل کیا ہے، اور اسے گزشتہ پیغامات کاناسخ بنایا ہے، وہ وہی ہے جس نے کائنات کو تخلیق کیا ہے اور جو جانتا ہے کہ اس میں کیا کچھ ہو چکا ہے، کیا کچھ ہو گا، کون کون سی ایجادات سامنے آئیں گی اور کیسی کیسی ترقی ہو گی، کون کون سی ضرورتیں لوگوں کو پیش آئیں گی، اسی لیے اس نے اپنے دستور کو اتنا کشادہ رکھا کہ تمام تر احتمالات میں بھی نظام عدل قائم کرنا ممکن رہے تقویٰ اور پرہیز گاری کو اپنانا ممکن رہے۔ اس لیے کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ یہ تصور کرے کہ یہ دین جامع نہیں ہے، یا اسے تکمیل کی ضرورت ہے، یا اس میں کمی یا زیادتی کی گنجائش ہے، یا اس کے احکام کو مزید منظم یا مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ تصور بالکل غلط تصور ہے جو حقیقتِ اسلام کے بالکل خلاف ہے۔ اس لیے امتِ مسلمہ کا فرض ہے کہ وہ نعمتیں دینے والے کا شکر ادا کریں، پوری ہمت اور لگن کے ساتھ اپنے پروردگار کے حقوق ادا کرے، اللہ کے انتخاب اور اسے خوش کرنے والے دستور پر راضی ہو جائے۔ پورے عزم وہمت کے ساتھ اپنے اس دین پر استقامت اختیار کرے جسے رب تعالیٰ نے اس کے لیے پسند کیا ہے، اسے اپنی مضبوط داڑھوں سے پکڑ لے۔
اے اللہ کے بندو! اسلام اللہ کا وہ دین ہے جس کے علاوہ اللہ کوئی دین قبول نہیں کرتا، اس میں رب العالمین نے دنیا وآخرت کا کمال اور سعادت رکھی ہے، اس لیے بندے کو چاہیے کہ اپنے صحیح اور راسخ عقیدے کے مطابق اللہ کی عبادت کرے، اس کی عبادت بجا لائے، اس کے احکام پر عمل کرے اور اس کے تجویز کردہ اخلاق وآداب کو اپنائے رکھے۔ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیطان مردود سے! اللہ کے نام سے جو رحمان ورحیم ہے۔
﴿وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾
’’اور جو اسلام کے علاوہ کوئی بھی دین تلاش کرے گا تو وہ دین اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ قیامت کے دن خسارہ پانےوالوں میں ہوگا۔‘‘(سورة آل عمران: 85)
اے اللہ! ہمیں قرآن عظیم سے برکت عطا فرما، اس میں آنے والی آیات اور ذکر حکیم سے فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے! ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ہماری توبہ قبول فرما! یقینًا! تو توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو بخش دے، یقینًا! تو معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔
دوسرا خطبہ
ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ وہی دن اور رات کا نظام چلانے والا ہے، مہینوں اور سالوں کو پھیرنے والا ہے، ہر لحاظ سے وہی کامل ہے، وہی بادشاہ ہے، انتہائی پاکیزہ اور سراسر سلامتی ہے۔ میں اس کی ایسی حمد وثنا بیان کرتا ہوں جو ہمیشہ باقی رہے، اس کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہوں، شرک، بتوں اور بت پرستی سے بے زاری کا اعلان کرتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ رمضان المبارک میں باقی مہینوں سے بڑھ کر نمازیں پڑھتے، تلاوت کرتے، صدقات کرتے، نیکی اور احسان کرتے۔ اے اللہ! رحمتیں نازل فرما، آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر اور پاکیزہ صحابہ کرام پر، جنہوں نے رضائے الٰہی کو اپنے نفس کی خواہشات پر مقدم رکھا، دنیا سے رخصت ہوئے تو اجر کے ساتھ ہوئے، اللہ کے ہاں ان کی کاوشیں قابلِ قدر ٹھہریں۔ اے اللہ! ان سب پر قیامت تک جاری رہنے والی سلامتی بھی نازل فرما!
بعدازاں! اے مسلمانو! اللہ سے ڈرو۔ یاد رکھو کہ تھوڑے ہی دن بچے ہیں، جن کے بعد ہم نیکی کے موسم کا استقبال کر رہے ہوں گے، جس میں مقابلہ کرنے والے خوب مقابلہ کرتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی معزز مہمان ہے، ایک قابلِ قدر مہمان ہے، جس کے لیے دل بیتاب ہیں، نفس اس کی راہ تک رہا ہے۔ یہ مہمان ماہِ رمضان ہے، جو کہ صیام وقیام اور آگ سے بچاؤ کا مہینہ ہے، نیکی، سخاوت اور احسان کا مہینہ ہے، طرح طرح کی نیکیوں اور قربتوں کا مہینہ ہے۔ اہلِ ایمان اس کی آمد سے خوش ہوتے ہیں، ایک دوسرے کو اس کی مبارک باد دیتے ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“إذا كان أوَّلُ لَيلةٍ من رَمَضانَ صُفِّدَتِ الشَّياطينُ، ومَرَدةُ الجِنِّ، وغُلِّقَتْ أبوابُ النَّارِ، فلم يُفتَحْ منها بابٌ، وفُتِحَتْ أبوابُ الجِنانِ، فلم يُغلَقْ منها بابٌ، ونادى مُنادٍ: يا باغِيَ الخَيرِ أَقْبِلْ، ويا باغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ، وللهِ عُتَقاءُ منَ النَّارِ” (رواه الترمذي).
’’جب رمضان کی پہلی رات آ جاتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کو قید کر دیا جاتا ہے، آگ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی کھلا نہیں رہتا۔ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی بند نہیں رہتا۔ ایک پکارنے والا پکارتا ہے: اے نیکی کرنے والے! آگے بڑھ۔ اور اے برائی کا ارادہ رکھنے والے! رک جا!، اس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگ سے محفوظ فرماتا ہے۔‘‘
سلف صالحین چھ ماہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے تھے کہ اللہ انہیں ماہِ رمضان نصیب فرما دے، پھر جب وہ اسے پا لیتے تو اگلے چھ ماہ اللہ سے یہ دعا کرتے کہ اللہ اس میں کی جانے والی عبادتوں کو قبول فرمائے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود سے پوچھا گیا: ہم رمضان کا استقبال کیسے کریں؟ آپ نے فرمایا: ’’ہم میں سے کوئی یہ جرات نہیں کرتا تھا کہ رمضان کے چاند کا استقبال کرتے وقت اس کے دل میں اپنے مسلمان بھائی کے لیے ذرہ برابر بھی برا خیال ہو۔‘‘ تو اللہ سے دعاکیا کرو کہ وہ آپ کو ماہِ صیام نصیب فرمائے۔ نعمتوں کا فائدہ اٹھاؤ کہ اب تم تندرست بھی ہو اور نیکیاں کر بھی سکتے ہو، کیونکہ بہت سے مسلمانوں نے تمنا کی تھی کہ انہیں رمضان مل جائے، تاکہ وہ اس میں محنت سے عبادتیں کریں، مگر ان کی عمریں اس سے پہلے ہی ختم ہو گئیں، بہت سے مسلمان ایسے بھی ہیں جو یہ تمنا کرتے ہیں کہ وہ روزہ رکھ سکیں اور تہجد پڑھ سکیں، مگر وہ اپنی بیماری کے باعث اس سے قاصر ہیں۔ بہت سے لوگوں پر شیطان بھی غالب آ چکا ہے، جو اپنی زندگی میں پریشان ہیں۔ انہیں کچھ سمجھ نہیں آتا۔ بہت سے مسلمانوں کی آنکھیں نم رہتی ہیں کہ وہ بیت اللہ کی زیارت نہیں کر سکتے، اور کتنے ایسے لوگ ہیں جن کی خواہشات ان پر چھا چکی ہیں، اور انہیں غفلت اور بھول میں ڈال چکی ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ہم مسلمان ہیں، مگر وہ شعائر اسلام ادا نہیں کرتے۔ تو اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو، اللہ اور اس کے رسول کی فرمان برداری میں محنت کرو، امن وسلامتی کی نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔ تم اللہ کے گھروں میں اپنے شعائر کو پوری عزت اور فخر کے ساتھ ادا کرتے ہو۔ بیماری سے پہلے تندرستی کو غنیمت جانو، فقر وفاقہ سے پہلے مال داری کو غنیمت جانو، بڑھاپے سے پہلے جوانی کو غنیمت جانو، موت سے پہلے اپنی زندگی کو غنیمت جانو۔ مصروفیت سے پہلے اپنی فراغت کو غنیمت جانو،
میں آپ کو ماہِ مبارک کے آداب کا خیال کرنے کی اور اس کا احترام کرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اس کا حق ادا کرو، اللہ کی رحمت اور اس کے احسانات کو پانے کی کوشش کرو، کیونکہ یہ مہینہ ایسا موقعہ ہے جو چھوٹ جائے تو اس کا تدارک ممکن نہیں رہتا۔ عین ممکن ہے کہ کسی کو ایسا مہینہ دوبارہ نصیب ہی نہ ہو۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں یہ ماہ نصیب فرمائے، اس میں ایمان اور اجر کی نیت سے روزہ رکھنے اور تہجد گزاری کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں جہنم کی آگ سے بچائے جانے والوں میں شامل فرمائے، اللہ کی رحمت اور خوشنودی سے کامیاب ہونے والوں میں شامل فرمائے۔ ہم سے اور تمام مسلمانوں سے قبول فرمائے۔
اے اللہ! تو نے ہم پر کچھ فرائض عائد کیے ہیں، تو ان فرائض کی ادائیگی میں ہماری مدد بھی فرما۔ ہمارے نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود وسلام بھیجو، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں آپ کو یہی حکم دیا ہے۔ فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (سورة الأحزاب: 56)
’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘
اسی طرح فرمانِ نبویﷺ ہے:
“مَنْ صَلَّى عَلَيَّ مَرَّةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا”.
’’جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے‘‘
اے اللہ! رحمتیں، برکتیں اور سلامتیاں نازل فرما، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ پر، اے اللہ! خلفائے راشدین سے راضی ہو جا! وہ اصحاب ہدایت ائمہ، جو حق کے مطابق فیصلے کرتے اور اسی کے مطابق عدل کرتے تھے۔ سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور سیدنا علی سے، تمام صحابہ کرام سے، آپ ﷺ کے پاکیزہ اہلِ بیت سے، تابعین سے اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہو جا۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنا خاص فضل وکرم اور احسان فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! شرک اور مشرکوں کو رسوا کر دے! اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! ہمارے حکمرانوں اور اماموں کی اصلاح فرما! حق کے ساتھ ہمارے حکمران اور امام کی تائید فرما۔ اے اللہ! اسے ہدایت کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما! اس کے اعمال اپنی رضا کے مطابق بنا۔ اے اللہ! اسے اور اس کے ولی عہد کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے، انہیں نیکی اور پرہیزگاری کی طرف لا۔ اے اللہ! تمام مسلمان حکمرانوں کو اپنی کتاب پر عمل کرنے، اپنی شریعت نافذ کرنے اور اپنے نبی ﷺ کی سنت پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! تو ہی اللہ ہے! تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں! تو بے نیاز ہے اور ہم فقیر اور محتاج ہیں۔ اے اللہ! ہم پر بارش نازل فرما اور ہمیں مایوس نہ فرما! اے اللہ! ہم پر بارشیں نازل فرما! اے اللہ! ہم تجھ سے معافی مانگتے ہیں! تو معاف فرمانے والا ہے! ہم پر آسمان کی موسلا دھار بارش نازل فرما!
اللہ کے بندو!
﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُون﴾
’’اللہ عدل، احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ بدی، بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے، تاکہ تم سبق لو۔‘‘(سورة النحل: 90)
اللہ عظیم وجلیل کو یاد کرو، وہ تمہیں یاد رکھے گا۔ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو، وہ تمہیں مزید عطا فرمائے گا۔ اللہ کا ذکر تو سب سے بڑی چیز ہے۔ اور اللہ آپ کے اعمال سے باخبر ہے۔
٭٭٭
تبصرہ کریں