
بسم الله الرحمن الرحيم
﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾ (سورة آل عمران: 31)
ہمارے دین اسلام میں،عمل صالح،یعنی اچھا کام اور اچھا عمل کون سا ہے؟ وہ جو اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔ اس میں دکھاوا نہ ہو، ریا نہ ہو۔ ایمان کی حالت میں کیا جائے، دوسری شرط بلکہ پہلی شرط ایمان ہے، اس کے بعد اخلاص ہے اور تیسری ضروری شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی سنت کے، آپ کے طریقے کے مطابق ہو۔سنت کے خلاف اور سنت سے ہٹا ہوا عمل،اچھے اعمال میں اور قابل قبول اعمال میں شامل نہیں ہوتا۔
دو چیزیں ، دو الفاظ سمجھ لینے چاہیئں۔ ایک ہے اطاعت اور ایک ہے اتباع۔ اطاعت کسے کہتے ہیں؟ بات ماننا، فرمانبرداری کرنا، جو حکم ہو اس کی تعمیل کرنا اور اتباع میں حکم والی بات نہیں ہوتی۔ نقل کرنا، پیروی کرنا، اتباع ہوتی ہے، کسی کے عمل کے نمونے کی پیروی کرنا، اس کے پیچھے لگنا، اس کی طرح کا عمل کرنے کی کوشش کرنا، یہ اتباع ہے۔
آج جو آیت خطبۂ مسنونہ کے ساتھ میں نے پڑھی ہے۔ اس میں اسی اتباع کا ذکر ہے۔ اور اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اس کا حکم بھی ہے، اس کی فضیلت بھی ہے۔ نبی کریمﷺ کو اللہ کی طرف سے حکم ہوا۔ آپ اعلان کر کے کہہ دیں اور فرما دیں کہ
﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾ (سورة آل عمران: 31)
اگر تم بحیثیت مؤمن و مسلمان اللہ پر یقین ایمان رکھنے کے ساتھ، اس سے گہری محبت اور گہرا تعلق بھی رکھتے ہو، اگر تمہارا رب سے ،ایمان والا محبت والا تعلق ہے ، تو اس کا ثبوت یہ ہونا چاہیے کہ تم میری یعنی اس رسول کی، اس نبی کی اتباع کرو۔
اتباع کا نتیجہ کیا ہوگا؟ پھر تم یک طرفہ اللہ سے محبت کرنے والے نہیں ہو گے بلکہ وہ بھی تم سے محبت کرے گا۔ وہ تمہیں اپنا پیارا بندہ بنا دے گا اور یہ بہت بڑی چیز ہے، بہت بڑا انعام ہے، کسی بندے کے لیے کہ اللہ اس کو اپنا پیارا بندہ کہے۔
دوسرا فائدہ اور دوسرا انعام اتباع کا کیا ہے؟ جب تم اس کے پیارے ہو گئے تو وہ تمہاری غلطیاں بھی معاف کر دے گا، کوتاہیاں، غلطیاں اور گناہ بھی معاف ہو جائیں گے، اس لیے کہ وہ تو ہے ہی بخشنے والا اور مہربانیاں کرنے والا، تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کی اتباع کی تعلیم دی اورتلقین کی اور اس کا فائدہ بھی بتا دیا بلکہ دو فائدے بتا دیئے۔ اللہ کی محبت کا حاصل ہونا اور گناہوں کا معاف ہو جانا۔یہ اتباع کی بات ہے،تاکید اطاعت کی بھی کی گئی ہے۔ اس کا بھی ذکر ہے،قرآن پاک میں ہے:﴿مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ﴾ (النساء: 80)
جو اللہ کے رسول کی بات مانتا ہے، وہ اصل میں کس کی بات مانتا ہے؟ وہ اللہ کی بات مانتا ہے کیونکہ آپ کی بات اور اللہ کی بات ایک ہے۔ ذات مختلف ہے، بات ایک ہے۔ اسی اطاعت کی مزید تاکید کرتے ہوئے فرمایا :
﴿أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ﴾ (سورة محمد: 33)
اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اپنے عملوں کو ضائع نہ کرو، برباد نہ کرو۔ کیا مطلب؟ یہ کہ اللہ رسول کی اطاعت سے ہٹے ہوئے عمل کرو گے تو برباد ہو گے، کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
اتباع کس کا طریقہ ہے؟ مومنوں کا، مسلمانوں کا، اطاعت بھی اور اتباع بھی۔ جو نہ کرے،جو آپ کی اتباع کرنے کی بجائے،آپ کے نمونے کی پیروی اور نقل کرنے کی بجائے کسی اور کو اپنا نمونہ بنا لے۔ دوسرے لفظوں میں کسی اور کو اپنا رہنما بنا لے۔ اس کا فیصلہ بھی قرآن نے کیا ہے:
﴿وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا﴾ (سورة النساء: 115)
جو اللہ کے رسول کی مخالفت کرتا ہے، اطاعت کی بجائے مخالفت کرتا ہے۔ آپ کے حکم سے ہٹ کر چلتا ہے۔ وہ مؤمنوں کی راہ سے بھی ہٹ جاتا ہے۔ مؤمن کی راہ، مؤمنوں کی راہ کیا ہے؟ نبی کی اتباع اور اطاعت کرنا۔ اس کے بارے میں فرمایا کہ اسے پھر ہم اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کو پھر ہدایت نہیں ملتی۔ اس کے ساتھ اللہ کی نصرت، مدد اور ہدایت نہیں ہوتی۔ جدھر جاتا ہے، اللہ کہتا ہے، جاؤ، دفع ہو جاؤ۔ جہاں جاتے ہو، جدھر جاتے ہو جاتے رہو۔ پھر اللہ اپنی راہ کی طرف اسے کھینچ کر لانے کی طرف توجہ نہیں کرتا کہ یہ باغی ہو گیا ہے تو پھر رہے بغاوت کے راستے پر اور پھر ایسے آدمی کا انجام کیا ہو گا؟ ایسے بندے کو پھر جہنم میں داخل کیا جاتا ہے۔تو یہ الفاظ بڑے قابل غور ہیں کہ ایسا شخص مؤمنوں کے راستے سے ہٹ جاتا ہے۔ مومنوں کا راستہ بھی قرآن نے بتا دیا، فرمایا:
﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ﴾ (سورة الأحزاب: 36)
مرد ہو یا عورت ہو، کسی مؤمن کے لیے یہ جائز ہی نہیں، روا نہیں، مناسب نہیں کہ اللہ اور رسول کی طرف سے کسی بات کا فیصلہ ہو جائے کہ یہ اس طرح کرنی ہے تو پھر وہ اس سے ہٹ کر کوئی چیز کرے۔ اللہ اور رسول کے فیصلے، امر یا حکم سے ہٹ کر کچھ اور کام کرے، کوئی اور راہ اپنائے۔یہ اللہ فرماتا ہے کہ یہ مؤمن کر ہی نہیں سکتا۔ اس کے لیے مناسب ہی نہیں ہے۔ مؤمن ہو تو ایسا کام نہیں کرے گا۔ اتباع اور اطاعت کی اہمیت بھی آئی اور نہ کرنے والوں کا انجام بھی بتا دیا گیا ہے۔ سبیل المؤمنین کے بارے میں قرآن مجید سے ایک اور رہنمائی کہ مسلمانوں کا راستہ کیا ہے؟
﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا﴾ (سورة الحشر: 7)
لائحہ عمل کیا ہے؟ زندگی گزارنے کا طریقہ کیا ہے؟ یہ لائحہ عمل ہے، مسلمان کی پوری زندگی کے لیے ہے کہ جو رسول کی طرف سے حکم آتا ہے ،اسے لے لو، اپنا لو، پکڑ لو اور جس سے وہ منع کرتے ہیں، اس سے منع ہو جاؤ۔ یہ ہے مسلمانوں کا راستہ۔ سبیل المؤمنین۔ یہ ہے مسلمان کا طریقہ۔ یہ ہے مسلمان کے لیے پوری زندگی کا لائحہ عمل ، اس کی مخالفت، حکم نبی کی مخالفت کے بارے میں مزید فرما دیا:
﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴾ (سورة النور: 63)
جو لوگ آپ کے، رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں یعنی آپ کے نمونے کی اور آپ کے حکم کی پیروی نہیں کرتے۔ انہیں ڈرنا چاہیے،اس بات سے کہ انہیں اللہ کی طرف سے اس جرم کی پاداش اور اس جرم کی سزا میں دنیا میں کوئی تکلیف آ سکتی ہے یا پھر آخرت میں عذاب الیم ان کا انتظار کر رہا ہے۔ عذاب الیم کیا ہے؟ درد ناک عذاب!
صحابہ کے نزدیک اطاعت کی اور پھر خاص طور پہ اتباع سنت کی اہمیت کیا تھی؟ وہ جانتے تھے کہ اتباع کتنی اہم ہے۔ حضرت ابوبکر کا فرمان موجود ہے۔ صحیح بخاری میں:
«فَإِنِّي أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ» (صحيح البخارى: 3093)
مجھے اس بات کا ڈر رہتا ہے کہ اگر میں نے آپ کے یعنی رسول اللہ ﷺ کے احکام میں سے ایک کو بھی چھوڑ دیا، تو میں گمراہ ہو جاؤں گا۔ ٹیڑھے ٹیڑھے راستے پر چلا جاؤں گا۔ گمراہی کے راستے پر چلا جاؤں گا۔ اسی طرح حضرت عمر نے کہا۔ صحیح مسلم میں ہے:
«لانَتْرُكُ كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا ﷺ» (صحيح مسلم: 3710)
ہم مسلمان اگر مسلمان ہیں تو دو چیزوں کوکبھی نہیں چھوڑیں گے۔ ایک مسلمان دو چیزوں کو کبھی نہیں چھوڑے گا ، وہ کیا ہیں؟
«كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا»
اللہ کی کتاب اور ہمارے نبی کی سنت ﷺ۔ سیدنا عمر اپنے ماتحت حکام، مختلف صوبوں کے گورنر وغیرہ کو مقرر فرماتے تو ان کو مقرر کرنے کی بنیادی وجہ کیا بتائی؟ ان کے تقرر کا فلسفہ کیا بتایا؟
” لِيُعَلِّمُوكُمْ دِينَكُمْ وَسُنَّتَكُمْ.” (تاریخ طبری: 4/204)
لوگوں کو کہا کہ میں اپنے یہ حکام اس لیے مقرر کرتا ہوں تاکہ وہ تمہیں دین سکھائیں۔ صرف دنیاوی کاموں کے لیے نہیں مقرر کرتا۔ اس لیے مقرر کرتا ہوں کہ تمہیں دین سکھائیں اور تمہارے نبی کی سنت بھی ساتھ سکھائیں۔ دین کہہ دیتے ، کافی تھا، لیکن سنت کی اہمیت کے پیش نظر فرمایا کہ دین سکھائیں اور خاص طور پہ نبی کی سنت سکھائیں کہ آپ کے طریقے یہ ہیں۔ حضرت علی سے بھی ملتے جلتے الفاظ ملتے ہیں جو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے فرمائے۔ وہ فرماتے ہیں:
«لَا نَدَعُ كِتَابَ رَبِّنَا وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا ﷺ» (مسند إسحاق بن راهوية: 623)
ان دو چیزوں کو یعنی اللہ کی کتاب اور نبی کی سنت ﷺ کو ہم نہیں چھوڑ سکتے ہم نہیں چھوڑیں گے اور اپنے لخت جگر حضرت حسن سے انہوں نے فرمایا تھا:
” وَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ لَا تُوقَفَ عَلَى الصِّرَاطِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى تَدْخُلَ الْجَنَّةَ، فَلَا تُحْدِثْ فِي دِينِ اللَّهِ حَدَثًا بِرَأْيِكَ.” (مسند بزار: 2255)
بیٹے اگر تم چاہتے ہو کہ تم آنے والے کل پل صراط پر آسانی سے گزر جاؤ اور تمہیں کوئی طاقت روک نہ سکے۔ اس پل پر ہمارا راستہ نہ روک سکے تو اس کا طریقہ کیا ہے؟ اس کے لیے نسخہ کیا ہے؟ نسخہ یہ ہے کہ اللہ کے دین میں اپنی مرضی سے کوئی کمی اور کوئی اضافہ نہ کرنا۔ کوئی نئی بات اللہ کے دین میں شامل نہ کرنا۔ یعنی بدعت سے ڈرا رہے ہیں کہ بدعت سے بچو گے تو پل صراط پر سے گزرنا تمہارے لیے آسان ہو جائے گا۔ یہ تو صحابہ کی بات تھی۔ خود نبی محترم ﷺ کا فرمان ترمذی میں موجود ہے۔
«ومَنْ أحبَّ سُنَّتِي؛ فقدْ أحبَّنِي؛ ومَنْ أحبَّنِي؛ كان مَعِيَ في الجنَّةِ» (مسند أبو يعلى: 3624)
آپ نے بڑے جامع اور مختصر الفاظ میں سنت کی اہمیت بتا دی ۔ مفہوم ہے کہ مجھ سے محبت کرنے کے دعوے دار بہت ہوں گے لیکن سچی محبت رکھنے والا کون ہے؟ ان دعوے داروں میں سچی محبت رکھنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری سنت سے محبت رکھے گا، وہی مجھ سے حقیقی محبت رکھتا ہو گا۔ مجھ سے سچا پیار کرنے والا میرے طریقوں سے، میری سنت سے، میرے عمل سے پیار کرے گا۔ پیار کی وجہ سے ان کو اپنائے گا۔ خوشخبری بھی دے دی کہ جو اس طریقے سے مجھ سے محبت رکھے گا، وہ میرے ساتھ ہی جنت میں ہو گا۔ جنت میں بھی میرے ساتھ ہو گا۔
صحابہ کی مجلس میں حوضِ کوثر کی بات ہو رہی تھی۔ صحابہ نے ساقی کوثرﷺ سے پوچھا کہ جناب جب آپ سے ہماری حوض کوثر پر ملاقات ہو گی تو آپ اپنے امتیوں کو اور مسلمانوں کو کیسے پہچانیں گے؟ آپﷺ نے اپنے امتیوں کو کوثر کے جام پلانے ہیں تو پلانے سے پہلے آپ انہیں کیسے پہچانیں گے؟ آپﷺ نے فرمایا:
آثار وضو سے، وہ اپنے بدن کے جن اعضاء کا وضو کرتے رہے ہیں۔جن پر وضو کا پانی بہاتے رہے ہیں۔ جیسے ہاتھ ہیں، چہرہ ہے، بازو ہیں، پاؤں ہیں۔ یہ سب چمک رہے ہوں گے، اس سے پہچانوں گا کہ یہ نمازی ہیں لیکن ساتھ ہی آپﷺ نے فرمایا کہ ان میں سے بعض لوگوں کو پہچان کر یا یہ سمجھ کر کہ یہ میرے امتی ہیں، جب میں کوثر کا جام پلانا چاہوں گا ، تو فرشتے مجھے روک دیں گے کہ یہ اس قابل نہیں، کیوں قابل نہیں؟ ان کے اعضا تو چمک رہے ہیں؟ ٹھیک ہے، اعضا چمک رہے ہیں لیکن بتایا جائے گا کہ :
« إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ » (صحيح بخارى: 6584)
آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد انہوں نے دین میں کون سی نئی نئی چیزیں شامل کر دی تھیں۔ کون سی بدعات انہوں نے رائج کر دی تھیں اور ان پر چلتے تھے تو جب مجھے معلوم ہو گا کہ یہ بدعتی ہیں تو پھر میں بھی کہوں گا کہ
«فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَيَّرَ بَعْدِي » (صحيح بخارى: 6584)
ان کو پرے کر دو، ان کو دور کر دو، یہ بدعتی دفعہ ہو جائیں،رحمت للعالمین بھی ان کو اپنے سے دور کر دیں گے، ایسے لوگ اللہ کی رحمت سے دور اور رحمت للعالمین سے دور ہو جائیں گے۔صحابہ اس حوالے سے چھوٹی سے چھوٹی چیز سے لے کر بڑی بڑی چیزوں تک اتباع سنت کا اہتمام کرتے تھے۔ آپ کی پیروی کرتے تھے، نقل کرتے تھے حتیٰ کہ مسجد سے باہر کہیں، غالباً سفر پہ ایک نماز ہو رہی تھی ، نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھاتے پڑھاتے، اپنا جوتا جو آپ نے پہنا ہوا تھا، کسی ضرورت کے تحت اتار دیا ، جوتے صاف ہوں تو جوتوں سمیت نماز پڑھ سکتے ہیں ، تو آپ پڑھ رہے تھے، صحابہ بھی پڑھ رہے تھے۔ ہمارے ہاں جنازے میں کئی لوگ کھڑے ہوتے ہیں، جنازے کا وقت ہوتا ہے تو وہ پاؤں کو جوتے سے نکال کے، جوتے کے اوپر رکھ لیتے ہیں۔ بھئی فرق کیا پڑا؟ پاؤں جوتے کے اندر ہے یا باہر ہے، جوتا تو ادھر پاؤں کے نیچے ہی ہے ، اگر جوتا صاف ہے تو اسی طرح رہنے دیں۔ صاف نہیں ہے، تو الگ کر دیں۔ بدستور پاؤں کے نیچے رکھنے کی کوئی ضرورت یا صورت نہیں۔ خیر،آپ نے نماز پڑھتے ہوئے جوتا ایک طرف کر دیا۔ صحابہ کہتے ہیں، آپ کی اتباع میں ہم نے بھی ایسا ہی کیا ، یہ اتباع کا جذبہ تھا۔ ہم نے بھی جوتے اتارے دیئے۔ نماز میں تو گفتگو نہیں ہوتی، بعد میں آپ نے پوچھا کہ بھائی میں نے ایک خاص وجہ سے جوتے اتارے تھے، تم نے کیوں اتارے؟ میں نے تو اس لیے اتارے تھے کہ مجھ پر وحی آتی ہے،مجھ پر وحی آ گئی، جبرائیل نے کہا کہ آپ کے جوتے تلے کوئی غلاظت اور گندگی ہے،جو راہ چلتے ہوئے لگ گئی تھی تو میں نے جوتے ہٹا دیئے، تم نے کیوں ہٹائے؟ صحابہ کا جواب بڑا سادہ اور بڑا عجیب تھا:
«رَأَيْنَاكَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْكَ فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا» (سنن أبو داؤد: 650)
ہم نے صرف یہ دیکھا کہ آپ نے جوتے اتارے ہیں، تو ہم نے بھی اتاردیئے ،وجہ جاننے کی ہمیں ضرورت نہیں تھی۔ حکمت جاننے کی ضرورت نہیں تھی کہ آپ نے یہ کام کیا تو اس کی حکمت کیا ہے؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کا فلسفہ کیا ہے؟ ان باتوں میں نہیں ہم پڑے۔ جو دیکھا، وہ ہم نے کیا۔ یہ جذبہ ہے۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت عمر ساتھیوں کے ہمراہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں۔ حجر اسود کے قریب سے گزرتے ہیں تو اس کا استلام کرتے ہیں۔ استلام، اشارہ کو بھی کہتے ہیں؟ ہاتھ سے حجر اسود کو چھونا اور اسے بوسہ دینا استلام ہے۔ ایک ہے تقبیل، یعنی حجر اسود کو بوسہ دینا، ایک ہے استلام یعنی قریب آنے کا موقع نہ ملے تو دھکم پیل کرنے کی بجائے دور سے اشارہ کر دینا یا لاٹھی وغیرہ پاس ہے تو وہ لگا لو اس کو یا ایسے ہی اشارہ کر دو ہاتھ سے۔ اسے استلام کہتے ہیں۔ تو سیدنا عمر طواف کر رہے ہیں، استلام بھی کر رہے ہیں، حجرِ اسود کے پاس آئے۔ پھر ساتھیوں کو اور لوگوں کو سمجھانے کے لیے آپ نے ایک بات فرمائی اور وہ بات حجر اسود کو مخاطب کر کے فرمائی ، حجر اسود سنتا نہیں ہے۔ سنانا لوگوں کو تھا۔یہ بھی طریقہ ہے بات کرنے کا۔ کیا فرمایا ؟ فرمایا:
«إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ» (صحيح بخارى: 1597)
اے پتھر! میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تیرے ہاتھ میں میرا یا کسی کا نفع ونقصان نہیں ہے، تو کچھ بھی نہیں کر سکتا، تیرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے تو بس پتھر ہے۔ تو ہمارا کوئی معبود نہیں ہے، خدانخواستہ۔اگر میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں کبھی تیرا بوسہ نہ لیتا لیکن ہم نے آپﷺ کو دیکھا ہے، یہ آپﷺ کی سنت ہے، ہم بھی سنت پر عمل کرتے ہیں۔ اس عمل کی وجہ جاننے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی طرح رمل کے بارے میں بھی آپ نے فرمایا:
«فَمَا لَنَا وَلِلرَّمَلِ إِنَّمَا كُنَّا رَاءَيْنَا بِهِ المُشْرِكِينَ وَقَدْ أَهْلَكَهُمُ اللَّهُ»، ثُمَّ قَالَ: «شَيْءٌ صَنَعَهُ النَّبِيُّ ﷺ فَلاَ نُحِبُّ أَنْ نَتْرُكَهُ» (صحیح بخاری:1605)
رمل کیا ہے؟ طواف کے دوران پہلے تین چکروں میں تیز چال سے چلنا، جب حاجی یا عمرہ کرنے والا پہلا طواف کرتا ہے ، خاص طور پہ طواف قدوم، پہلا طواف، عمرہ یا حج کا پہلاطواف، پہلے تین چکر اگر جگہ ہو اور اگر گنجائش ہو تو لوگوں کو تنگ کر کے نہیں، دھکے دے کر نہیں، اگر گنجائش ہو تو تیز چلنا چاہیے اور ذرا جوانوں کی طرح،پہلوانوں کی طرح یہ تین چکر کاٹنے چاہئیں، اس طرح تین چکروں میں ذرا تیز چال سے چلے۔ تو حضرت عمر نے فرمایا رمل کیا ہے؟ سوال اٹھایا اور سوال کا خود ہی جواب دیا۔ سوال کیا اٹھایا؟ سوال یہ اٹھایا کہ ” فَمَا لَنَا وَلِلرَّمَلِ؟”
ہم یہ رمل کیوں کرتے ہیں؟ اس کی کیا ضرورت ہے؟ اب کیا ضرورت ہے؟
“شَيْءٌ صَنَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلاَ نُحِبُّ أَنْ نَتْرُكَهُ.”
بتایا کہ یہ تو اللہ کے نبی نے کیا تھا۔ مشرکوں کو دکھانے کے لیے۔ مشرکوں پر رعب ڈالنے کے لیے کیا تھا۔ اس وقت کیا دکھانا تھا؟ کیا رعب ڈالنا تھا؟ واقعہ یہ ہے کہ فتح مکہ سے پہلے جو عمرہ آپ نے کیا، اس میں آپ طواف کر رہے تھے، آپ کو خبر ملی کہ مشرکین جو ایک معاہدے کے تحت خاموش تھے کہ چلو مسلمان عمرہ کر لیں۔ وہ آپس میں باتیں کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ مدینے کی آب و ہوا نے مکے سے جانے والے مسلمانوں کو کمزور کر دیا ہے۔ اب یہ ہم سے جنگ میں جیت نہیں سکتے۔ دیکھو کیسی مریل چال چل رہے ہیں۔ آپ کو پتہ چلا تو آپ نے کہا کہ جوانوں کی طرح چلو، پہلوانوں کی طرح چلو، اکڑ کے چلو۔حضرت عمر نے فرمایا کہ وجہ تو یہ تھی، اب وہ مشرک جو اعتراض کرنے والے اور ہنسنے والے تھے، مذاق کرنے والے تھے کہ کیسی نرم سی مریل چال چل رہے ہیں۔ اللہ نے ان کو ختم کر دیا۔ اب رمل کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ وہ تو ختم ہو گئی ضرورت۔ وجہ تو ختم ہو گئی۔ پھر آپ نے خود ہی جواب دیا اور سنت کی اہمیت بتا دی، بتایا کہ یہ ایک عمل ہے، جس کو اللہ کے نبیﷺ نے کیا تھا۔ اللہ کے نبی نے یہ عمل کیا تھا۔ اس لیے ہم اسے چھوڑنا پسند نہیں کرتے، اسے کرتے رہیں گے۔ اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ یہ ہے سنت کی اہمیت۔
حضرت عثمان کو کسی نے کہا کہ آپ رکن عراقی کو ہاتھ لگانے سے منع کیوں کرتے ہیں؟ رکن عراقی کیا ہے؟ کعبے کے چار کونے ہیں، حجر اسود سے آگے آئیں تو مقام ابراہیم سے گزر کے آگے حطیم آ جاتا ہے۔ حطیم سے بھی آگے بڑھیں۔ تو وہ کونا جو حجر اسود والے کونے سے پہلے آتا ہے، اسے رکن یمانی کہتے ہیں، اس سے پہلا جو ہے، اسے رکن عراقی کہتے ہیں،کیونکہ اس کا رخ عراق کی طرف ہے۔ رکن یمانی کو ہاتھ لگا سکتے ہیں، بوسہ نہیں لے سکتے۔ بوسہ لینا خلاف سنت ہے۔ بوسہ صرف حجر اسود کا ہے۔ اس سے پہلے جو کونا ہے رکن یمانی اسے ہاتھ لگا سکتے ہیں۔ اگر موقع ہو۔ اس سے پہلے جو رکن عراقی ہے، اسے ہاتھ نہیں لگانا، اس لیے کہ اللہ کے رسول نے نہیں لگایا، تو آپ سے پوچھا گیا۔ حضرت عثمان سے کہ آپ رکن عراقی کو ہاتھ لگانے سے منع کیوں کرتے ہیں ، تو آپ نے فرمایا کہ
” أَلَيْسَ رَسُول اللَّهِ أُسْوَة حَسَنَة؟” (مسند أحمد:512)
اس لیے کہ اس حوالے سے اللہ کے رسول کا نمونہ موجود نہیں ہمارے پاس ۔ آپ کا نمونہ یہی بتاتا ہے کہ اس کو ہاتھ نہیں لگانا تو بس نہیں لگانا۔ اللہ اللہ خیر صلا ۔ وجہ پہ مت جائیں۔ حکمت اور فلسفے پہ مت جائیں۔ وجہ معلوم ہو یا نہ ہو۔ کرنا وہی ہے جو آپ نے کیا۔ یہ تو عبادت سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں۔ صحابہ تو آپ کی پیروی اور اتباع ان چیزوں میں بھی کرتے تھے۔ جو بظاہر عبادت کی نہیں ہیں۔ جن کا براہ راست عبادت سے تعلق نہیں ہے، صحابہ ان کی بھی پیروی کرتے ہیں۔ اس کی ایک مثال۔عبداللہ بن عمر سے ملتی ہےکہ
” كَانَ يَقِيلُ تَحْتَ شَجَرَةٍ.” (إبانة الكبرى:1/ 241)
سفر کے دوران ضرورت ہو یا نہ ہو، عبد اللہ بن عمر ایک درخت کے نیچے رک جاتے تھے۔ سفر کے دوران ایک درخت کے پاس آتے تھے۔ وہاں تھوڑا سا آرام کرتے تھے، ضرورت آرام کی ہو یا نہ ہو اور فرماتے تھے کہ میں نے اللہ کے رسول کو اس درخت کے نیچے آرام کرتے دیکھا ہے، اس لیے میں یہ کرتا ہوں۔ آپ کے طریقوں سے اور آپ سے یہ محبت ہے ، یہ تو ہوا اتباع سنت کا جذبہ۔اتباع سنت کا جذبہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا، جب تک بدعت سے نہ بچا جائے۔اجتنابِ بدعت اتباع سنت کا ایک لازمی حصہ ہے ۔
اس کے بارے میں بھی صحابہ و تابعین کے واقعات موجود ہیں۔ حضرت علی عید گاہ میں تشریف لائے۔ کچھ لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔ کیا نماز کوئی برا فعل ہے؟ سب سے اچھا فعل ہے، لیکن عیدگاہ میں رسول اللہ ﷺ نے اور صحابہ نے کبھی نماز نہیں پڑھی۔ سوائے عید کی دو رکعت کے نماز نہیں پڑھی۔آپ نے دیکھا کچھ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں، تو آپ نے کیا فرمایا: بڑے اہم الفاظ ہیں، حضرت علی کے الفاظ اور ساری بات کا خلاصہ یہ ہے:
“إِنَّ اللَّهَ لَا يُثِيبُ عَلَى فِعْلٍ حَتَّى يَفْعَلَهُ وَيَحُثَّ عَلَيْهِ”
بھائی! یاد رکھو، اللہ تعالیٰ اس کام پر کوئی ثواب نہیں دیتا،جس کو اللہ کے رسول نے نہ کیا ہو، یا اس کی طرف لوگوں کو آمادہ نہ کیا ہو ،جس کا حکم دیا ہو یا آپ نے خود کیا ہو ۔ اس کا ثواب ملتا ہے۔ حضرت علی ہی کی بات ہے۔ کوفہ کی مسجد کی بات ہے، جب آپ کوفے تشریف لے گئے تھے اور اسے دارالحکومت بنایا تھا تو مسجد کوفہ میں اذان ہوئی اور اذان کے بعد اقامت سے پہلے ایک شخص نے پکارنا شروع کیا، “الصلاة الصلاة”’’آؤ بھئی نماز پڑھو۔‘‘ آپ نے فرمایا، یہ کیا ہے؟ نماز کے لیے یااذان ہے یا اقامت ہے؟ تیسری کوئی چیز نہیں۔ یہ جو اذان کے ساتھ، اس کے آگے، پیچھے، پہلے، شروع میں تھا اور اب اس کے بعد بھی شروع ہو گیا۔درود شریف پڑھنا بہترین عمل ہے، لیکن ہر عمل کا ایک مقام اور ایک وقت ہے۔ جو اللہ کے رسول نے کیا،اس طرح کرنا چاہیے۔ اذان کے ساتھ اس طرح کوئی نہیں پڑھتا تھا۔ ان کو یہ بات نوٹ کرنی چاہیے، سمجھ لینی چاہیے تو کوفہ کی مسجد میں وہ بندہ الصلاة والصلاة کہہ رہا تھا ۔ آپ حاکم بھی تھے، آپ کا حکم چلتا تھا تو آپ نے فرمایا :
” أَخْرِجُوا هَذَا الْمُبْتَدِعَ مِنْ هَذَا الْمَسْجِدِ.” (المبسوط: 1/130)
اس بدعتی کو مسجد سے نکال دو۔ یہ الصلاة کہہ کے بظاہر اچھا عمل کر رہا ہے، لوگوں کو نماز کے لیے بلا رہا ہے لیکن سنت میں یہ چیز موجود نہیں ہے، سنت میں یا اذان ہے یا تکبیرِ اقامت ہے۔
اسی طرح کا واقعہ حضرت عبداللہ بن عمر کے بارے میں بھی ہے۔ آخری عمر میں انہیں کچھ نظر کا مسئلہ تھا۔ بینائی کم تھی، تو کسی شاگرد وغیرہ کو ساتھ لے کے مسجد میں گئے۔ شاگرد ساتھ تھا، مجاہد اس کا نام تھا۔ ایک مسجد میں گئے،اتفاق سے وہاں بھی اسی طرح کوئی “الصلاة الصلاة” کے الفاظ کہہ رہا تھا۔ حضرت علی تو حاکم تھے، انہوں نے کہہ دیا تھا، اس کو نکالو۔ اب یہ تو نکال نہیں کہہ سکتے تھے، خود نکل آئے اور اپنے ساتھی سے کہا :
«اخْرُجْ بِنَا فَإِنَّ هَذِهِ بِدْعَةٌ» (سنن أبو داؤد: 538)
یہ بدعت ہو رہی ہے، اس مسجد میں ہم نماز نہیں پڑھیں گے ،نکلو یہاں سے ، کہیں اور چلتے ہیں۔
صوفیاء کرام کے بارے میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ نئی باتیں کرنے والے ہیں اور بدعتوں میں پڑنے والے ہیں، سب صوفی ایسے نہیں ہوتے۔ بڑے نیک لوگ گزرے ہیں جو سنت کے تابعدار اور اتباع کرنے والے تھے۔ ذوالنون مصری مشہور صوفی ہیں، لوگوں نے پوچھا ، حالات میں خرابی کا سبب کیا ہے؟ ہمارے حالات کیوں بگڑ گئے؟ فرمایا: لوگوں نے اپنے نبی کی سنت کو چھوڑ دیا ہے اور خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں، اس لیے حالات خراب ہوئے ہیں:
” اتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ وَتَرَكُوا سُنَّةَ نَبِيِّهِمْ”
لوگوں نے اپنے نبی کی پیروی کو چھوڑ دیا اور اپنی خواہشوں کے پیچھے چلنےلگے،اس لئے یہ نتیجہ نکلا ہے۔
خواجہ ابراہیم ادھم ایک اور اچھے بزرگ ہیں۔ ان سے پوچھا گیا، ہماری دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں؟ ہمارے لوگ بھی سوال کرتے ہیں کہ دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟ فرمایا:”ادَّعَيْتُمْ حُبَّ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَتَرَكْتُمْ سُنَّتَهَ.” (حلية الأولياء: 8/15)
دعویٰ تم کرتے ہو ، اللہ کے نبی کی محبت کا اور اس کی سنتوں کو چھوڑتے ہو تو تمہاری دعائیں کیسے قبول ہوں گی؟ تو یہ سنت کی اہمیت ہے،بدعت سے بچنے کی اہمیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں متبع سنت بنائے اور نبی کریم ﷺ کی سنت کی پیروی اور آپ کی اطاعت کر کے جنت کا وارث بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
٭٭٭
صدقۃ الفطر کن چیزوں سے دیا جائے
جن غلہ جات کو انسان بطور خوراک استعمال کرتا ہے، ان سے صدقۃ الفطر ادا کر سکتا ہے، آنحضرتﷺ کے زمانہ میں عموماً جو، کھجور، منقہ اور پنیر کھاتے تھے، اس لیے آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان اجناس سے صدقۃ الفطر ادا کرنے کا حکم دیا، چنانچہ حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں، کہ ہم رسول اللہﷺ کے زمانہ میں عید الفطر کے دن (فی کس) کھانے کا ایک صاع دیا کرتے تھے، اور اس وقت ہمارا کھانا جو ، کھجور، منقہ اورپنیر پر مشتمل ہوا کرتا تھا۔
ہمارے ملک میں گیہوں، چنا، جو ، مکی، باجرہ، جوار وغیرہ اجناس خوردنی ہیں، اور لوگ انہیں خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں، لہٰذا ان میں جو جنس عموماً زیادہ استعمال کرتے ہیں، اس سے صدقۃ الفطر ادا کر سکتے ہیں۔
تبصرہ کریں