جائفل اور جاؤتری کا استعمال۔ ڈاکٹر سید حسین مدنی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ والصلاة والسلام علی رسول اللہ وعلی آله وصحبه ومن والاہ

جائفل اور جاؤتری کا استعمال

جائفل ، جائے پھل ، جاؤتری یا جلوتری جسے عربی میں جوز الطیب ، جوزۃ الطیب اور جوز بوّا ء ، اور انگریزی میں NUTMEG کہا جاتا ہے جو پچیس قسموں پر مشتمل ، ناشپاتی سے مشابہ انتہائی دل کش مہک کا حامل ایک قسم کا پھل ہے جو کھانے کو نہایت ہی خوش بو دار بلکہ خوش ذائقہ بھی بناتا ہے ۔

تھوڑی سی مقدار میں جائفل اگر استعمال کیا جائے تو اس کے طبی ونفسیاتی فوائد کی فہرست طویل اور متاثر کن ہے ، کیوں کہ یہ مقوی اور مفرح ہونے کے ساتھ ساتھ خون کی گردش ، زبانی ودماغی صحت ، مدافعتی نظام اور تحسین ہاضمہ ، بلڈ پریشر اور شوگر کو متوازن رکھنے میں مددگار ، بے خوابی کا عمدہ معالج ، اور ڈپریشن سے نکلنے میں موثر و معاون ثابت ہوتا ہے ، عام دردوں کو بالخصوص سوزش سے منسلک درد کو کم کرتا ہے ، گردے کی پتھری کو پگھلانے اور جگر کی کارکردگی کو بڑھانے کا سبب بنتا ہے ، علاوہ ازیں وائرس ، فنگس اور انفیکشن کو مارتاہے ، بلکہ پورے جسم کو Detoxifies کرتا ہے ۔

اس خشک پھل کے شرعی حکم سے متعلق علمائے کرام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے :

٭امام ابن دقیق العید ، اور امام ابن حجر ہیتمی (الزواجر عن اقتراف الکبائر ، ج/1 ، ص/ 354-355) ، شیخ مقبل بن ہادی الوادعی رحمہم اللہ ، استاذ محترم شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ اور بیشتر علما نے فرمایا:

یہ عمومی طور پر نشہ آور ہونے کی وجہ سے مطلقاً حرام ہے۔

٭کچھ معاصر اہل علم کا موقف ہے کہ کھانے کے ساتھ استعمال کی صورت میں یہ حرام نہیں لیکن اسے تنہا کھانا ممنوع ہے۔

٭بعض علما کا ماننا ہے کہ جائفل اگر مسکر ومضر یعنی نشہ آور اور نقصان دہ مقدار میں استعمال ہونے لگے تو حرام ہے ، کیوں کہ

نبی ﷺ نے ہر مسکر ومفتر سے منع کیا ہے ، ( سنن أبي داود ، کتاب الأشربۃ ، باب ما جاء في السکر ، ح/3686 ، بروایت ام سلمہ رضي اللہ عنہا ، اس حدیث کو امام عراقی اور شیخ البانی نے صحیح اور امام ابن حجر نے حسن بتایا ہے۔) اور مفتر نشے کے مقدمے اور ذریعے کو کہا جاتا ہے۔

٭دیگر علما نے تفصیل بیان کی کہ جائفل کی کم مقدار جائز اور زیادہ مقدار حرام ہے ، کیوں کہ جائفل کی قلیل سی مقدار عقل میں

فتور کا باعث بنتی ہے اور نہ ہی نشہ کا سبب ثابت ہوتی ہے۔

امام ابن عابدین حنفی (ت 1252ھ )نے ذکر کیا کہ ما أسکر کثیرہ فقلیلہ حرام (السنن الکبری للنسائي ، کتاب الأشربۃ ، باب تحریم کل شراب … ، ح/5097 ، برایت عبد اللہ بن عمرو رضي اللہ عنہما ، بسند صحیح) یعنی زیادہ مقدار میں جس چیز کا استعمال نشہ پیدا کردے تو اس کا کم مقدار میں استعمال بھی حرام ہوگا یہ ضابطہ مائع یعنی سیال مسکر و نشہ آور کے ساتھ ہی خاص ہے اور جامد کا حکم الگ ہے ، اس حیثیت سے کہ جامد نشہ آور مقدار میں استعمال ہو تو حرام ہوگا لیکن قلیل (کم) مقدار میں اور نفع بخش استعمال ہوتو جائز ہوگا ، کیوں کہ اس کی حرمت خود اس (عین) سے وابستہ بذات خود اور بنفس نفیس نہیں بلکہ خارجی وجہ یعنی نقصان دہ ہونے کی وجہ سے ہے۔(حاشیۃ ابن عابدین ، ج/6 ، ص/457-458 ، وعون المعبود للعظیم آبادی مع حاشیۃ ابن القیم شرح سنن أبی داؤد ، ج/10 ، ص/95 ، اور اس سے ملتاجلتا موقف مجمع الفقہ الإسلامي کا بھی ہے ، مجلۃ المجمع الفقہ الإسلامي ، ج/8 ، ص/1172۔اس سے مشابہ موقف دیوبندی مکتب فکر اور دیگر اہل علم کا بھی ہے۔)

امام حطاب رعینی مالکی(ت954 ھ )نے امام ابن فرحون کے حوالے سے فرمایاکہ عمومی طور پر تھوڑی سی مقدار میں جائفل تناول کرنا جائز ہے اور وہ طاہر بھی ہے۔ (مواہب الجلیل في شرح مختصر خلیل ، ج/1 ، ص/90)

امام خرشی یا خراشی مالکی(ت1189ھ) نے فرمایاکہ قابل اطمینان فردکو جائفل بیچنا جائز ہے۔( شرح الخرشي علی مختصر خلیل ، ج/1 ، ص/84)

امام شہاب الدین رملی شافعی(ت957ھ) نے فرمایاکہ قلیل مقدار میں ہوتو کھانا جائز اور کثیر مقدار میں ہوتو کھانا حرام ہے۔ (فتاوی الرملي ، ج/4 ، ص/71)

امام احمد المنقور حنبلی رحمہ اللہ(ت1125ھ) نے فرمایا کہ عام طور پر جس تھوڑی سی مقدار میں نشہ پیدا نہ ہوتا ہو وہ حرام نہیں ، اور وہ پاک بھی ہے۔(الفواکہ العدیدۃ في المسائل المفیدۃ ، ج/1 ، ص/352)

امام ومحدث شمس الحق یا شرف الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ(ت 1329ھ) نے فرمایاکہ جائفل میں نشہ نہیں ۔۔۔ لہذا کھانے اور دواؤں میں اس کا قلیل استعمال حرام نہیں۔(عون المعبود وحاشیہ ابن القیم شرح سنن أبي داود ، ج/10 ، ص/ 96)

عالم ربانی ومحدث دوراں علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ(ت1420ھ) نے کھانے کو لذیذ اور خوش ذائقہ بنانے کے لیے مصالحے (مسالے) کے طور پر کم مقدار میں استعمال کرنے میں کوئی مضایقہ نہیں جانا۔ ( سلسلۃ الہدی والنور ، شریط /21 ، مقطع /7)

ملک شام کے عالم دکتور وہبہ زحیلی نے کم مقدار میں جائفل کے استعمال میں کوئی حرج اور مانع نہیں سمجھا۔ (الفقہ الإسلامي وأدلتہ ، ج/ 7 ، ص/5266 ، و5513(

مورخہ 22-24 / مئی / 1995ء کو کویت میں منعقدہ طبی علوم سے متعلق اسلامی تنظیم کے آٹھ ویں اجلاس میں قرارداد منظور کی گئی کہ ذائقہ کی بہتری کے لیے جائفل کو تھوڑی سی مقدار میں استعمال کرنے اور اسے فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔(موسوعۃ صناعۃ الحلال ، ج/3 ، ص/55(

دار الافتاء المصریہ ، دار الافتاء آسٹرلیا ، اورسعودیہ کے مشایخ میں دکتور خالد المصلح ودیگر علما کا بھی یہ موقف ہے۔

شائد اس موقف کے لیے اصولی قاعدے الحکم یدور مع علتہ وجودا وعدما یعنی اگر نشہ پایا جائے تو منع اور اگر نشہ نہ پایا جائے تو اس کی اجازت سے بھی استدلال کیا جاسکتا ہے۔

علاوہ ازیں امریکہ کی وزارت صحت سے وابستہ تحقیقاتی وتجزیاتی ادارہ National Institutes of Health نے بتایاکہ عام طور پر جائفل کا نشہ نہیں پایا جاتا ہے۔

(Nutmeg Intoxication: A Case Report, Cureus. 2023 Sep)

نوٹ : ماہرین نے زیادہ مقدار کا ضابطہ پانچ سے دس گرام یا اس سے زیادہ بتایا ہے ، کم اور معمولی مقدار ایک چٹکی سے چار گرام کے درمیان بتائی ہے۔

٭٭٭

محرم کے روزوں کی فضیلت

رمضان المبارک کے روزے سال بھر کے دیگر تمام روزوں سے افضل ہیں۔ البتہ رمضان کے ماسوا محرم کے روزوں کی فضیلت سب سے بڑھ کر ہے جیسا کہ درج ذیل صحیح احادیث سے ثابت ہے :

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

’’رمضان المبارک کے بعد اللہ کے مہینے محرم کے روزے سب روزوں سے افضل ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز آدھی رات (یعنی تہجد) کے وقت پڑھی جانے والی نماز ہے۔‘‘

صحیح مسلم ہی کی دوسری روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا کہ

’’فرض نمازوں کے بعد کون سی نمازسب سے افضل ہے اور رمضان المبارک کے بعد کون سے روزے سب سے افضل ہیں؟ تو آپﷺ نے وہی جواب دیا جو پہلی حدیث (صحیح مسلم: 1163) میں مذکور ہے۔‘‘

3۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ سے ایک آدمی نے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول(ﷺ)! اگر رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں، میں روزے رکھنا چاہوں تو آپﷺ کس مہینے کے روزے میرے لئے تجویز فرمائیں گے؟ آپﷺ نے فرمایا کہ

اگر تو رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں روزے رکھنا چاہے تو محرم کے مہینے میں روزے رکھنا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے۔ اس میں ایک دن ایسا ہے کہ جس دن اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی اور ایک قوم کی توبہ (آئندہ بھی) قبول فرمائیں گے۔‘‘ (جامع ترمذی: 741)

محرم کا ’شہراللہ‘ ہونا اور اس کے روزوں کا رمضان کے سوا دیگر مہینوں کے روزوں سے افضل ہونا دیگر صحیح روایات سے ثابت ہے۔

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’ مجھے اللہ تعالیٰ سے اُمید ہے کہ یوم عاشورا کا روزہ گذشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔‘‘ (صحیح مسلم : 1162)

واضح رہے کہ

’’ عاشوراء ‘‘ عشر سے ہے جس کا معنی ہے دس10 ؛ اور محرم کی دسویں تاریخ کو عاشوراء کہا جاتا ہے۔ البتہ مذکورہ فضیلت دسویں تاریخ کے روزے کی ہے یا نویں کی، اس میں اہل علم کا شروع سے اختلاف چلا آتا ہے۔

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ

’’قریش کے لوگ دورِ جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے اور نبی اکرم ﷺ بھی یہ روزہ رکھتے تھے۔ پھر جب آپؐ مدینہ تشریف لے آئے تو تب بھی عاشوراء کا روزہ رکھتے اور صحابہ کرام کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا آپؐ نے حکم دے رکھا تھا۔ البتہ جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کی فرضیت ختم ہوگئی۔ لہٰذا اب جو چاہے یہ روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔‘‘ (صحیح بخاری: 2003)

٭٭٭

تبصرہ کریں