جماعت کے ایک محسن حاجی مصدق حسین صاحب کی رحلت۔ شیرخان جمیل احمد عمری

برطانوی مسلم کمیونٹی کی بالعموم اور مركزى جمعيت اہل حدیث برطانیہ کی بالخصوص ایک نامور اور ممتاز شخصیت جناب حاجی مصدق حسین صاحب 4؍جنوری 2025 کی شام کو لاہور کے ایک ہسپتال میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے۔

إن العين لتدمع والقلب ليحزن وإنا بفراقك يا حاجى صاحب لمحزونون ولا نقول إلا بما يرضى ربنا؛ إنا لله وإنا إليه راجعون

دوسرے دن اتوار کو بعد نماز ظہر آپ کے آبائی شہر سیالکوٹ میں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سنیٹر پروفیسر علامہ حافظ ساجد میر ﷾ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور اسی شہر کے قبرستان میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔

حاجی مصدق حسین صاحب پچھلے دو سالوں سے بوجوہ اپنے مادر وطن سیالکوٹ پاکستان میں مقیم تھے، وہاں بھی آپ کا کاروبار تھا۔ آپ کو شوگر کا مرض پہلے ہی سے لاحق تھا لیکن ادھر کچھ عرصہ سے عارضہ قلب میں بھی مبتلا ہو گئے تھے۔ 4؍جنوری 2025 کو آپ کو ہارٹ اٹیک ہوا، آپ کے عزیز آپ کو فوراً لاہور لے گئے اور اچھے ہسپتال میں داخل کروایا لیکن قلب پر حملہ اس قدر شدید تھا کہ آپ جانبر نہ ہوسکے۔ تقریباً 75 سال کی عمر پاکر آخرت کی طرف روانہ ہوگئے۔ آپ کی اہلیہ محترمہ اور دو بیٹے آپ کے ساتھ ہی تھے ، بیٹی اور داماد یہ غمناک خبر سنتے ہی برطانیہ سے پاکستان روانہ ہو گئے اور اپنے والد محترم کے جنازہ میں شریک ہوکر دعائیں دیں۔

حاجی مصدق حسین صاحب کی وفات کی خبر نے مجھے بہت متأثر کیا اور بڑا صدمہ پہنچایا بلکہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرا کوئی عزیز مجھ سے جدا ہوگیا ہے۔

حاجی صاحب کے ساتھ میرے بڑے دیرینہ تعلقات تھے۔ ہم دونوں کا تنظیمی ذہن، جمعیت وجماعت کے لئے حساس دل نے ہمیں بہت قریب کر رکھا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپس میں ہماری بہت چھنتی تھی۔ دل، دماغ ، فکر اور سوچ تو ملتی ہی تھی لیکن جماعتی کاز کو آگے بڑھانے میں بھی ہم ایک لمبے عرصہ تک ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ دونوں کو نہ صرف ایک دوسرے پر اعتبار تھا بلکہ قابل رشک اعتماد بھی تھا۔ میری آراء ، نشاطات اور جماعت کے تئیں میری فکر مندی کو آپ بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور احباب کے درمیان ہمیشہ اس کو سراہتے بھی تھے۔ چہرہ پر تو عموما سب ایک دوسرے کی تعریف کرکے نمبر بنانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن حاجی مصدق حسین ﷫ میری غیابت میں بھی میرا دفاع کرتے تھے۔ عاملہ وشوری میں میری دستوری گفتگو اور حق گوئی کی ہمیشہ تائید کرتے تھے۔ آپ بڑے جہاندیدہ شخص تھے، مردم شناس بھی تھے۔ ذہن جماعتی تھا، اس لئے شخصیات کو ناپنے کا پیمانہ بھی جماعتی ہی تھا۔

نومبر 1988 میں پہلی مرتبہ اور کچھ سالوں کے بعد 1996 سے تادم تحریر میں مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ سے جڑا ہوا ہوں، میرا مشاہدہ ہے کہ جمعیت کے اندر غیر علماء ميں جن ساتھیوں کو میں نے جمعیت میں سب سے زیادہ مخلص ، پرعزم، کمیٹڈ ، ہمدرد اور متحرک دیکھا ہے ان میں بریڈفورڈ شہر کے حاجی مصدق حسین سیالکوٹی ﷫ کا بھی ایک نام شامل ہے۔ آپ مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ کے نہ صرف سابق رکن شوری وعاملہ تھے بلکہ جمعیت کے حقیقی معنی میں دست وبازو بھی تھے، ہر آڑے وقت میں جمعیت کی مدد کرتے تھے وہ امداد چاہے مالی ہو کہ اخلاقی۔ جمعیت جب بھی کسی بحران کا شکار ہوئی آپ نے دست تعاون آگے بڑھاکر جماعت کو سنبھالا۔ میرے سامنے اس کی دسیوں مثالیں ہیں۔ لیکن طوالت کے خوف سے میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا ہوں۔ مرکزی جمعیت پر آپ کے بڑے احسانات ہیں۔

برطانیہ کے بڑے مسلم تاجروں میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ مرکزی جمعیت کا مسئلہ ہو یا اس کی کسی برانچ کا مسئلہ یا کوئی اور تعلیمی یا رفاہی ادارہ، اگر وہاں کسی پروجکٹ کی تکمیل کے لئے مالی تعاون کی ضرورت ہوتی تو احباب بلا تردد آپ سے رابطہ کرتے، آپ کی وزٹ کرتے، شاید ہی ایسا کوئی ساتھی ہو جو آپ کے در سے خالی ہاتھ لوٹا ہو۔ آپ سبھوں کی دامے درمے سخنے مدد کرتے تھے۔ اللہ نے آپ کو مال کے ساتھ ساتھ ذہانت وفطانت سے بھی نوازا تھا اور دل بھی بڑا تھا، ساتھ میں حوصلہ بھی بڑا کمال کا پایا تھا۔ آپ بڑے مہمان نواز تھے۔ جماعت کے مہمان چاہے جتنے بھی ہوں آپ انہیں اپنے گھر لے جاتے، ان کی تکریم کرتے اور انہیں کھانا کھلاتے۔ کئی مرتبہ آپ کی آفس کی میٹنگ روم میں جمعیت کی میٹنگز ہوئیں۔ خنداں پیشانی سے آپ سب کا استقبال کرتے اور ان کی خاطر تواضع کرتے۔ اللہ تعالی نے آپ کو مال ودولت سے خوب نوازا تھا، مسلم کمیونٹی کے تعلیمی، رفاہی اور فلاحی کاموں میں پیش پیش رہتے تھے یہی وجہ تھی کہ کمیونٹی میں آپ کو بڑا رتبہ حاصل تھا، نہ صرف برطانیہ بلکہ اپنے مادر وطن پاکستان اور کشمیر میں بھی آپ کئی اداروں کی سرپرستی فرماتے رہے، حقیقی معنی میں ایک اچھے اور نفع بخش انسان تھے۔ عزت ومرتبہ اور بلند مقام پانے کے باوجود آپ کے اندر اس قدر تواضع وانکساری تھی کہ ہر کسی سے خندہ پیشانی سے ملتے تھے، ہر ایک کی بات کو بڑی توجہ سے سنتے تھے۔ کبر و نخوت نام کی کوئی چیز آپ کو چھوکر بھی نہیں جاتی تھی۔ وقار ، سنجیدگی ، متانت بردباری آپ کا شعار تھا۔ حق گوئی اور بے باکی میں لاثانی تھے۔ اصولوں، وعدوں اور اوقات کے بڑے پابند تھے، ذہن بڑا تنظیمی تھا، مسلک کا بڑا درد رکھتے تھے، یہی وجوہات تھیں کہ مجھ سے آپ کی بہت جمتی تھی۔ انہی بنیادوں نے ہم دونوں کو ایک دوسرے سے بہت قریب کر رکھا تھا۔ جمعیت کے پلیٹ فارم پر ارکان اور شخصیات کو پرکھنے کا پیمانہ صرف اور صرف جماعت وجمعیت اور مسلک ہوتا تھا، اس معیار پر جو بھی پورا اترتا وہ ان کے نزدیک محبوب ومعتبر ہوتا اور جو اس پیمانے پر پورا نہیں اترتا وہ ان کے نزدیک غیر معتبر ہوجاتا چاہے وہ ان کا کتنا ہی قریبی ہو، اور کتنا ہی بڑا شخص کیوں نہ ہو اور کتنے ہی بڑے عہدہ پر فائز ہو۔ میں نے اور اہل جماعت نے دسیوں مرتبہ اس کا تجربہ کیا ہے۔ بڑے حق شناس تھے، حق گو تھے، حق اور سچ ہی کو سننا پسند کرتے تھے اور حق ہی کا ساتھ بھی دیتے تھے۔ نفاق اور دوغلے پن کا شائبہ تک آپ میں موجود نہ تھا۔ چہرے ہی پر اختلاف رائے کرتے، کسی ملامت کرنے والے سے کبھی خائف نہ ہوتے۔

آپ بریڈفورڈ شہر کی مرکزی مسجد اہل حدیث ’مسجد محمدی لمب لین ‘کے بانی ارکان میں سے تھے اس وسیع وعریض مسجد کی تعمیر اور ترقی میں آپ کا بڑا رول تھا۔ آپ ہی کی شخصیت کا وزن تھا کہ مخالفین اس وسیع وعریض اور شاندار مسجد کی تعمیر کو چاہ کر بھی روکنے میں کامیاب نہ ہوسکے تھے۔

ایک لمبے عرصہ تک آپ اس مسجد کے صدر اور منتظم اعلی رہے۔ دراصل حقیقت یہ تھی کہ آپ کو کمیونٹی میں عزت پانے کے لئے کسی عہدہ یا منصب کی چنداں ضرورت نہ تھی، اللہ نے آپ کو بڑی عزت سے نوازا تھا۔ جس مسجد، ادارہ یا تنظیم وغیرہ میں آپ کسی منصب پر فائز کئے جاتے تو وہ مسجد، تنظیم اور ادارے معتبر ہوجاتے۔ آپ کی سرپرستی سے اداروں کو عزت مل جاتی اور انہیں اعتبار حاصل ہوجاتا۔

تقریباً تین دہائیوں کے عرصہ میں مجھے کبھی بھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ آپ نے کبھی کوئی غیر اصولی بات کی ہو، یا کوئی غلط بات کا مطالبہ کیا ہو، جمعیتوں میں عموما مرکزی عہدیدار جب کسی رکن کو اپنی کابینہ یا عاملہ میں لے لیتے ہیں تو ان کا عموما یہ تصور ہوتا ہے کہ یہ منتخب ساتھی ان کی ملکیت ہیں، انہیں ان کی ہاں میں ہاں ملانا ہے بس، ورنہ وہ معتوب ہوجاتے یا باغی ٹھہرائے جاتے ہیں۔ لیکن حاجی مصدق صاحب کو میری طرح کبھی بھی اس کی پرواہ نہ تھی کہ ان سے کوئی راضی ہو یا ناراض، ان کے مطمح نظر بس ایک بات ہوتی کہ جماعت کے حق میں جو بہتر ہوتا وہی بات وہ کہتے اور کرتے اور اسی موقف کا ساتھ دیتے جس میں جماعت کی بہتری ہوتی چاہے وہ موقف، بات اور رائے مرکزی عہدیداران کی رائے اور موقف کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

حاجی مصدق حسین ﷫ چونکہ ایک بڑے تاجر تھے جس کی وجہ سے مختلف مسالک اور مذاھب اور فیلڈ کے لوگوں سے آپ کا رابطہ رہتا۔ آپ کی حکمت عملی، بردباری اور ذہانت کا کمال تھا کہ آپ سبھوں کے درمیان قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

جناب مصدق صاحب کی باتیں، خوبیاں اور خدمات اسقدر وسیع ہیں کہ ان کے احاطے کے لئے مجلہ نہیں بلکہ مجلات درکار ہیں۔

مجھ سمیت جماعت کے حقیقی مخلصین کو یہ دکھ ضرور ہے کہ جمعیت کے اس محسن کی کما حقہ قدر نہیں کی گئی بالخصوص ابھی دیڑھ سال قبل مرکزی جمعیت کے انتخابات سے سال دوسال قبل ایک مرکزی عہدیدار کی جانب سے ان کے ساتھ جو نا روا سلوک ہوا اور ان کے تئیں بے نیازی کا جو مظاہرہ ہوا وہ نہ صرف نا قابل فہم تھا بلکہ نا قابل قبول بھی۔ کچھ ساتھیوں نے اس سلوک پر احتجاج بھی کیا۔ اس واقعہ سے حاجی مصدق صاحب کافی دلبرداشتہ ہوئے اور اسی میٹنگ میں یہ کہ دیا کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر ہماری یہاں کیا ضرورت ہے! اس میٹنگ کے بعد آپ پھر جمعیت کے کسی اجلاس میں شریک نہ ہوئے۔ حاجی صاحب کو جمعیت کی ضرورت نہیں تھی لیکن بلاشبہ جمعیت کو ان کی ضرورت تھی۔ جمعیت پہلے ہی سے ایک سچے اور مخلص ساتھی سے محروم ہوگئی تھی، اب آپ کے انتقال سے جمعیت آپ سے ہمیشہ کے لئے محروم ہوگئی۔ جمعیت کے ہر قسم کے بحران میں آپ نے جمعیت کا ساتھ دیا اور جمعیت کی عزت ، وقار اس کے تشخص کی بحالی کے لئے آخری حد تک اور آخری وقت تک جدوجھد کرتے رہے۔ فجزاہ اللہ خیرا !

اللہ تعالی حاجی مصدق حسین صاحب کی بشری لغزشوں کو درگذر فرمائے، ان کی جملہ حسنات اور خدمات کو قبول فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں داخل کرے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل دے آمین

٭٭٭

تبصرہ کریں