
بسم الله الرحمن الرحيم
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَمَنْ عِندَهُ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ﴾ (سورة الأنبياء: 19)
اللہ رب العالمین، مالک الملک، خالقِ کل، عالم کل کی تعریف و ثناء۔ اس کے شکر اور اس کی حمد کے بعد، رسول اکرم ﷺ، جو ہادئ کائنات، رہنما عالم ہیں، اللہ کے سچے اور آخری نبی ہیں، ان پر درود و سلام اور صلوۃ و تسلیم کے بعد۔
قرآن کریم کی جو آیت کریمہ ابھی میں نے خطبہ مسنونہ کے ساتھ پڑھی، اس میں رب العالمین کا ارشاد ہے کہ جو اس کے یعنی اللہ کے پاس یا قریب ہیں، یعنی مقرب فرشتے، وہ بھی اس کی عبادت کرنے سے، اس کے سامنے جھکنے سے، عاجزی کرنے سے تکبر نہیں کرتے اور نہ وہ عاجزی اور عبادت کرتے ہوئے تھکتے ہیں، اسی طرح ان فرشتوں کے بارے میں دوسرے مقام پر فرمایا کہ مشرکوں اور کافروں نے زیادتی کرتے ہوئے انہیں اللہ کی بیٹیاں کہا ، حالانکہ وہ کیا ہیں؟ فرمایا:
﴿بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ﴾ (سورة الأنبياء: 26)
اللہ کے بندے ہیں، بس ان کی عزت ہے اللہ کے ہاں، لیکن وہ بندے ہیں۔
یہ تو فرشتوں کی بات تھی، انبیاء کے بارے میں بھی یہی فرمایا کہ وہ عاجزی کرنے والے تھے۔ عیسیٰ کی مثال دی، فرمایا:
﴿لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّهِ ﴾ (سورة النساء: 172)
مقرب فرشتوں کی طرح عیسیٰ ، جن کو غلطی کرنے والوں نے اللہ اور اللہ کا بیٹا کہا، وہ بھی اس کی عبادت اور اس کے سامنے عاجزی کرنے سے گھبراتے نہیں ہیں، تھکتے نہیں ہیں، اس کا انکار نہیں کرتے۔ آج ہم بات کر رہے ہیں تکبر سے بچنے کی اور یہ سلسلہ رمضان سے پہلے شروع ہوا تھا، ابھی تک جاری تھا۔ درمیان میں رمضان کے اپنے موضوعات آ گئے تھے۔
رمضان سے پہلے ہم ان صفات، خوبیوں اور اچھائیوں کا ذکر کر رہے تھے جو ہمارا دین ہمارے اندر بطور مسلمان پیدا کرنا چاہتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد تمہارے اندر یہ صفات ہونی چاہیں، جیسے صبر ہے، شکر ہے، توکل ہے، اللہ پر بھروسہ ہے، اللہ سے اُمید ہے، اس کا ڈر ہے۔ یہ ساری باتیں ان صفات میں شامل ہیں، جو ہمارا دین، ہمارے اندر چاہتا ہے اور انہی میں تکبر سے بچنے کی صفت بھی ہے کہ تم تکبر سے بھی بچو، نبی محترم ﷺ کی دعا ہوتی تھی:
«اَللَّهُمَّ اجْعَلْنِيْ فِيْ عَيْنِيْ صَغِيْرًا وَّفِيْ أَعْيُنِ النَّاسِ كَبِيْرًا» (مسند بزار: 10/315)
’’یا اللہ! لوگ بے شک مجھے بڑا عظیم سمجھتے رہیں، لیکن میں اپنی نظروں میں چھوٹا رہوں۔‘‘
کیسی عجیب دعا ہے!یا اللہ مجھے اپنی نظروں میں چھوٹا بنا دے، لوگ بے شک مجھے بڑا کہیں اور بڑا سمجھیں کہ آپ ہیں بھی بڑ ے، لیکن اپنے طور پر عاجزی کا اظہار کر رہے ہیں۔ صرف دعا نہیں، عمل بھی اسی پر تھا، عاجزی اختیار کرنا اور تکبر سے بچنا۔ حدیث میں ایک اور جگہ فرمایا: «لاَ تُطْرُونِي، كَمَا أَطْرَتْ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ، وَرَسُولُهُ» (صحیح بخاری:3445)
یعنی میرے مقام کو سمجھنے، بیان کرنے میں مبالغہ نہ کرو، غلو نہ کرو۔ افسوس! یہ ارشادات ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں کے اندر وہ طبقہ موجود ہے، جس نے آپ کو اس مقام سے اٹھا کر، جو اللہ نے آپ کو دیا تھا، حالانکہ وہ مخلوق میں سب سے بڑا مقام ہے ، اس مقام سے اٹھا کے اللہ کی ذات کے ساتھ ملا دیا۔ اس کی کیا ضرورت تھی؟نبی کریم ﷺ کی محبت، آپ کی عظمت کا دلی اعتراف ایمان کا لازمی حصہ ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم توحید پر کلہاڑے اور تیشے چلانا شروع کر دیں۔ توحید اپنی جگہ پہلا عقیدہ ہے ، اسلام کا، اور ہر دین کا، جو اللہ کی طرف سے آیا۔ آپ پر وحی آتی ہے، آپ نبی تھے، لیکن ہر چیز جاننے والے نہیں تھے، عالم کل اور عالم غیب نہیں تھے۔ آپ کی سیرت اور آپ کی تعلیم نورانی ہے، لیکن آپ کا وجود بشری تھا۔ سیدھی سیدھی باتیں قرآن میں ان پر کھول کر وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہیں، پھر بھی لوگ بھٹک گئے، گمراہ ہو گئے اور جو سیدھے راستے پر ہیں، ان کو طعنہ دیتے ہیں کہ تم حضرت کی وہ عزت نہیں کرتے اور ان سے محبت نہیں کرتے۔ بالکل جھوٹ ہے، بالکل غلط۔آپﷺ نے فرمایا:
«لاَ تُطْرُونِي، كَمَا أَطْرَتْ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ»’’جس طرح نصاریٰ نے، عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کی شان میں مبالغہ کیا، انہیں حد سے بڑھا دیا، بشر اور نبی ہونے کے درجے سے اٹھا کر اپنے عقیدے میں انہیں خدا بنا دیا، خدا کا بیٹا بنا دیا، تم میرے ساتھ اس طرح نہ کرنا، مسلمانو! میرے ساتھ یہ کام نہ کرنا۔‘‘مزید وضاحت کرتے ہوئے، آپﷺنے فرمایا:«فَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ، وَرَسُولُهُ»
’’ میرے بارے میں کہنا ہے تو کہو کہ وہ اللہ کے بندے ہیں، اللہ کے بندے پہلے ہیں اور اس کے بعد اللہ کے رسول بھی ہیں، لیکن رسول ہونے کے باوجود اللہ کے بندے ہیں۔‘‘ ایک مستند روایت میں ہے:
مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُونِي فَوْقَ مَنْزِلَتِي الَّتِي أَنْزَلَنِي اللهُ. (مسند أحمد:12251)
’’میں ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ تم مجھے اس مرتبے سے، اس مقام سے اوپر اٹھا دو، جو اللہ نے مجھے دیا ہے۔‘‘
آپ مزید کہتے ہیں: «أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَرَسُولُهُ» (مسند أحمد:12251) یعنی ’’میں عبداللہ کا بیٹا محمد ہوں اور اللہ کا رسول بھی ہوں۔‘‘
رکوع کے بعد نماز میں جہاں اور دعائیں ہیں، وہاں آپ کی ایک دعا یہ بھی ہے، جس میں مسلمان اللہ کی حمد اور تعریف کرتے ہیں:
«أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ» (صحيح مسلم:477)
’’یا اللہ جو بھی تعریف کرے، اس تعریف کا سب سے زیادہ حقدار تو ہے۔‘‘
الفاظ یہ ہیں: «أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ، وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ.» (صحيح مسلم:477)
’’تیرا بندہ تیری جو بھی تعریف کرے، تو اس کا حقدار ہے اور ہم سب تیرے ہی بندے ہیں۔‘‘
یہ آپ کی عاجزی تھی، تکبر سے بچنا تھا۔ آپ مجلس میں آتے، یا نماز کے لیے آتے، یا باہر کہیں جاتے،تو کوئی ہٹو بچو کی صدائیں نہیں ہوتی تھیں۔ آپ آرام سے باقی لوگوں کی طرح چلتے۔ ایک شخص نے آپ کو پہلی مرتبہ دیکھا، وہ آپ کے قدرتی رعب کی وجہ سے کانپنے لگا۔ آپ نے اسے تسلی دی اور اپنی عاجزی کا اظہار کیا، فرمایا: ’’ڈرتے کیوں ہو؟ میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہوں، اور ایسا انسان ہوں کہ جس کی ماں غریب ماں تھی، میں ایک غریب ماں کا بیٹا ہوں۔‘‘
یہ عاجزی ہے، میں غریب ماں کا بیٹا ہوں، اتنی غریب تھی کہ اسے تازہ گوشت کم ہی میسر آتا تھا۔ کبھی ملتا تو اسے دھوپ میں سکھاتی تھی، ہم سوکھا ہوا، پرانا گوشت کھایا کرتے تھے۔ تسلی دینے کے لیے یہ الفاظ آپ نے فرمائے۔ اللہ کے ایک اور پیغمبر، حضرت سلیمان ، اللہ نے دنیاوی طور پر بھی جنہیں جو مرتبہ دیا وہ اور کسی کو نہیں ملا۔ اللہ کے اس نبی حضرت سلیمان کی دعا تھی:﴿وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي﴾ (سورة ص:35)
’’ مجھے ایسی بادشاہی اور ایسی سلطنت اور ایسی حکمرانی ملے، جو میرے بعد کسی کو بھی نہ ملے۔‘‘
ایک دعا تھی، ایک خواہش تھی جو اللہ نے پوری کی اور انہیں پھر ایسا اقتدار اور اختیار دے دیا ۔ بے شمار انسانوں پر بھی، جنوں پر بھی، پرندوں پر بھی، درندوں پر بھی، ان سب کا حاکم بنا دیا، ان سب کو مسخر کر دیا۔ حضرت سلیمان کی یہ دنیاوی بڑائی تو تھی اور پھر روحانی بڑائی بھی تھی کہ وہ اللہ کے عظیم الشان پیغمبر اور رسول تھے لیکن ان کی عاجزی کا عالم یہ تھا کہ لکھاہے :”لَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ تَخَشُّعًا.” (الزهد ابن المبارك47)
اللہ کے ڈر سے اور عاجزی کے اظہار کے طور پر وہ آسمان کی طرف احتراماً نظر بھی نہیں اٹھاتے تھے کہ اوپر میرا اللہ ہے۔ یہ عاجزی نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں بھی موجود تھی۔
حضرت ابوبکر ، خلیفہ ہوئے،اس سے پہلے وہ عام آدمی کی طرح، ثواب حاصل کرنے کےلئے کسی ضرورت مند کے گھریلو کام کیا کرتے تھے۔ ایک بوڑھی عورت تھی، جس کی بس ایک بیٹی تھی اور آدمی گھر میں نہیں تھا۔ حضرت ابوبکر نے اس کی بکریوں کا دودھ دوہنے کی خدمت اپنے ذمے لے لی، جب انہیں خلافت ملی تو اس بچی نے اپنی ماں سے کہا: ’’اماں! اب ہماری بکریوں کا دودھ کون نکالے گا؟‘‘ جب حضرت ابوبکر کو اس بات کا علم ہوا، تو آپ نے فرمایا:اسے جا کے تسلی دو کہ خلیفہ ہو گیا ہوں تو کیا ہوا، ابھی تک میں ابوبکر ہوں، اللہ کا بندہ ہوں تو یہ خدمت میں ہی انجام دیا کروں گا، کوئی اور نہیں کرے گا۔
حضرت عمر ایک دن منبر پر آئے اور صرف اتنا ہی کہا کہ کوئی وقت تھا، کوئی دن تھا کہ میں معمولی اجرت پر اپنی خالہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔ یہ کہہ کر آپ منبر سے اتر آئے۔ لوگوں نے کہا کہ آج صرف اتنا ہی وعظ ہو گا؟ انہوں نے فرمایا: ’’اتنا ہی کافی ہے۔‘‘ اور یہ وعظ میں نے تم کو نہیں کیا بلکہ اپنے آپ کو کیا ہے۔‘‘ اور اس لئے کیا ہے کہ میرے دل میں آج خیال آیا کہ کتنی وسیع سلطنت کا میں مالک ہوں، کتنے بڑے ملک کا میں حکمران ہوں اور کتنے لوگ میرے ماتحت ہیں۔ شیطان نے میرے ذہن میں تکبر کی تھوڑی سی بات ڈالی، اس کا علاج میں نے علی الاعلان یہ اعتراف کر کے کیا کہ میرا ماضی یہ ہے۔ میں نہ کوئی پیدائشی امیر ہوں اور نہ ہی پیدائشی حکمران۔ میرا ماضی یہ ہے کہ میں ایک معمولی آدمی تھا اور یہ اسلام کی برکت ہے، جس نے مجھے یہاں تک پہنچایا اور بلند کیا کہ ایک اور موقع پر بھی انہوں نے فرمایا کہ” نَحْنُ قَوْمٌ أَعَزَّنَا اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ” (مستدرك حاکم:214)
ہم وہ قوم ہیں، ہم وہ لوگ ہیں کہ ہم بے عزت، بے نام اور گمنام لوگ تھے۔ ہم بکھرے ہوئے اور آپس میں لڑنے والے تھے۔ دنیا کی برادری میں اور قوموں کی صف میں ہماری کوئی عزت نہیں تھی۔ ہمیں عزت اسلام نے دی ہے۔ اپنے حال، اپنے ماضی کو یاد رکھنا کہ میں کیا تھا اور کیا ہوں، یہ ایک اچھے انسان اور اچھے مسلمان کی صفت اور امتیازی بات ہے۔
جیسے محمود کے غلام یا آزاد کردہ غلام ایاز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ محمود غزنوی اس کی اطاعت، فرمانبرداری، اچھائی اور نیکی کی قدر کرتا تھا اور اسے عزت کا مقام دیتا تھا۔ بعض لوگ اس سے حسد کرتے تھے اور جلتے تھے کہ یہ غلام جو کل تک غلام تھا، بادشاہ نے اسے اتنا بڑا مقام دے دیا ہے۔ وہ تاک میں رہتے تھے کہ اس کی کوئی کمزوری پکڑ کر بادشاہ کے کان بھریں اور اسے بدظن کر دیں۔
ایک موقع پر کسی نے کہا کہ اس کی کچھ عادتیں بڑی عجیب ہیں۔ وہ بعض اوقات اپنے آپ کو ایک چھوٹے سے کمرے میں بند کر لیتا ہے اور کافی دیر تک باہر نہیں نکلتا۔ لوگوں کو شبہ ہوا کہ شاید وہ کوئی سازش کر رہا ہے یا بادشاہ کے خلاف کوئی تیاری کر رہا ہے۔ بادشاہ نے کہا: ’’میں خود اس سے پوچھ لوں گا کہ وہ کیا کرتا ہے۔‘‘ جب اسے بلایا اور پوچھا گیا تو اس نے کہا: ’’یہ بتانے والی بات نہیں ہے، لیکن اب آپ نے پوچھا ہے تو بتانا پڑے گا۔ اگر آپ چاہیں تو خود جا کر دیکھ لیں کہ کمرے میں کیا ہے۔‘‘ بادشاہ اور دیگر لوگ جب کمرے میں گئے تو وہاں ایک پرانا لباس اور ایک کھُرپا پڑا ہوا تھا۔ بادشاہ نے پوچھا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’یہ میرا ماضی ہے۔ آپ نے مجھے شاہی لباس عطا فرمایا، یہ آپ کی مہربانی ہے، لیکن میرا اصل لباس یہی پرانا لباس ہے۔ جب بھی میرے دل میں تکبر آتا ہے کہ میں بہت بڑا آدمی بن گیا ہوں تو میں اس کمرے میں آتا ہوں، اپنا پرانا لباس پہنتا ہوں اور کھُرپا اپنے سامنے رکھتا ہوں تاکہ مجھے یاد رہے کہ میں اسی کھُرپے سے گھاس کاٹا کرتا تھا۔‘‘ اپنا ماضی یاد رکھتاہوں تاکہ میرے دل میں تکبر نہ آئے۔
بادشاہ نے یہ سن کر اطمینان کا اظہار کیا اور مخالفین سے کہا:’’تم خواہ مخواہ اس پر اعتراض کر رہے تھے، یہ تو ایک حقیقی انسان ہے۔‘‘
اسی طرح صحابہ کرام کا طرزِ عمل بھی تھا۔ حضرت ابوہریرہ اموی خلیفہ مروان کے عہد میں مدینے کے حاکم تھے، لیکن اس کے باوجود وہ لکڑیاں خود مدینے کے آس پاس کے جنگل سے کاٹ کر لاتے تھے اور اپنے گھر کے چولہے کے لیے استعمال کرتے تھے، لکھا ہے:
” وَيَمُرُّ أَبُو هُرَيْرَةَ فِي السُّوقِ، يَحْمِلُ الْحَطَبَ عَلَى ظَهْرِهِ” (البداية و النهاية: 8/ 114)
بازار سے خرید کر عام آدمی کی طرح اپنے سر پر اٹھا کر لے جاتے تھے۔اگر راستے میں بھیڑ ہوتی اور راستہ تنگ ہوتا تو وہ خود آواز لگا کر کہتے:
’’ او بھائی، اپنے امیر کو راستہ تو دے دو، اس نے سر پر لکڑیاں اٹھائی ہوئی ہیں۔‘‘
یہ عاجزی تھی، تکبر سے بچنے کی روش تھی، جس کی مثال ان عظیم شخصیات نے قائم کی۔
ایاز کے بارے میں فارسی میں ایک مشہور قول بھی ہے، جو اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔
جب میں یہاں بیٹھتا ہوں اور لباس پہن کے کھربہ سامنے رکھتا ہوں تو اپنے آپ کو مخاطب کر کے کہتا ہوں: ’’ایاز! قدر خود بشناس، ایاز! اپنی اصل قدر کو پہچانو کہ تمہاری اصل قدر کیا ہے، تمہاری اصلیت کیا ہے۔ اس کو پہچانو، اس کو یاد رکھو۔‘‘
بات یہ ہے کہ قیامت کے دن تو سب کو بندہ بن کے پیش ہونا ہے۔ قرآن نے کہہ دیا:
﴿وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ﴾ (سورة النمل: 87)
سب بندے بن کر آئیں گے، سب عاجز ، بے بس ہو کر اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔ بڑے سے بڑے، کوئی بادشاہ تھا، کوئی جرنیل تھا، کوئی فاتح تھا حتیٰ کہ کوئی نبی تھا، سب اللہ کے عاجز بندے بن کے پیش ہوں گے۔دوسرے مقام پر بھی فرمایا:
﴿إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَٰنِ عَبْدًا﴾ (سورة مريم: 93)
’’زمین و آسمان میں جو کوئی ہے، وہ اللہ کے سامنے پیش ہو گا، تو بندے یعنی غلام کی حیثیت سے پیش ہو گا، اس کی اور کوئی حیثیت نہیں ہو گی۔ سب بندے ہیں اور بندہ ہی بن کے رہنا چاہیے، بندے اپنے آپ کو سمجھ کے رہنا چاہیے۔‘‘
نبی اکرم ﷺ کی بندگی، تکبر سے بچنے کی باتیں دو تین پہلے میں بیان کر چکا ہوں۔ آخر میں بھی برکت کے لیے آپ ہی کی بات کرتے ہیں۔ آپ کی زندگی کے دو واقعات بڑے یاد رکھنے کے قابل ہیں، دو بڑے عظیم الشان ہیں اور قابل ذکر ہیں۔
آپ کے دنیاوی عروج کا سب سے بڑا دن فتح مکہ کا دن تھا اور بھی خوشیاں اللہ نے آپ کو عطا فرمائیں۔ جنگ بدر میں کامیابی، جنگ حنین اور دوسری جنگوں میں فتح اور کامیابی، عرب بھر میں دین کا آپ کی زندگی ہی میں پھیل جانا، سب چیزیں اپنی جگہ۔ لیکن جو Turning Point آپ کے Career میں یا زندگی میں آیا وہ فتح مکہ ہے۔ وہ تمام لوگ جو آپ کو ستانے والے تھے، آپ کے ساتھیوں پر ظلم کرنے والے تھے، وہ مغلوب اور مفتوح ہو کر آج آپ کے سامنے پیش ہیں، اپنی قسمت کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔
وہ شخصیت، جو تقریباً آٹھ دس سال پہلے مکے سے نکلنے پر مجبور کی گئی اور اس حالت میں کہ ایک ہی ساتھی ہمراہ ہے اور وہ بھی چھپتے چھپاتے کہ پیچھے سے تعاقب ہو رہا ہے۔کبھی غار میں پناہ لیتے ہیں، کبھی کہیں جاتے ہیں، کبھی کہیں نکلتے ہیں۔ پیچھا ہو رہا ہے، خون کے پیاسے تعاقب میں لگے ہیں۔ ان مشکل حالات میں آپ نے مدینے کو ہجرت کی اور کتنا بڑا انقلاب ہے، کتنی بڑی تبدیلی ہے کہ جب واپس آئے تو ایک نہیں، دس نہیں، دس ہزار جان نثار آپ پر صحیح معنوں میں، لغوی معنوں میں خون چھڑکنے والے، آپ کے پسینے کی جگہ خون بہانے والے، آپ کے ہم رکاب ہیں، آپ کے ساتھ ہیں۔ دشمن مغلوب ہو کر سامنے کھڑا ہے۔ بڑے سے بڑے دشمن بھی سر جھکائے حاضر خدمت ہیں۔ بہت عظیم دن تھا آپ کی زندگی میں۔ لیکن اس وقت بھی آپ کی زبان پہ جو الفاظ تھے، وہ بندگی کے تھے، تکبر سے بچنے کے تھے۔ صرف الفاظ نہیں، تاریخ میں لکھا ہے کہ آپ جب مکے میں فاتحانہ شان سے داخل ہوئے ، تو شان یہ تھی کہ گردن اور سینہ اکڑا ہوا نہیں تھا، تنا ہوا نہیں تھا۔ آپ کی گردن جھکی ہوئی تھی اور اتنی جھکی ہوئی تھی کہ سواری کی لگام کے ساتھ جا کے لگ رہی تھی۔ زبان پر ترانہ کیا تھا، الفاظ کیا تھے؟
«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَصَرَ عَبْدَهُ» (مسند أحمد:3856)’’تعریف اس رب کی‘‘ تعریف اپنی نہیں، اپنی جنگی قیادت کی نہیں، اپنے ساتھیوں کی بہادری کی نہیں۔ اپنے ساتھیوں کے تیروں، تلواروں، نیزوں کی نہیں، ان کی بہادری کی نہیں۔
تعریف اللہ کی، شکر اس کا، جس نے اپنے بندے کی مدد فرمائی۔ اللہ اکبر۔آپ آج بھی بندے ہیں، آج بھی بندگی کا احساس دل میں ہے۔ تکبر نہیں ہے، بڑائی نہیں۔
اسی طرح آپ کے روحانی عروج کا سب سے بڑا دن کون سا تھا؟ وہ جسے معراج کہتے ہیں۔ آپ کو آپ کی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے پہلے بیت المقدس پہنچا کے وہاں نبیوں کی امامت کرائی۔ عملاً بتایا کہ امام الانبیاء کون ہیں اور اس کے بعد خاص سواری عطا ہوئی اور خاص ہمراہی سفر کا، جبرائیل آپ کے لیے بھیجا، جو آپ کو لے کر گیا۔ آسمانوں کی سیر ہوئی، اللہ سے،اس کی شان کے مطابق ملاقات ہوئی، بات چیت ہوئی، تحفے ملے، سورہ بقرہ کی آخری آیات، نماز وغیرہ، یہ تحفے ملے۔ یہ آپ کی روحانی زندگی کا سب سے بڑا دن تھا، معراج کا۔ سب سے بڑی رات یا دن کہہ لیں۔لیکن اس کا بھی جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا تو کیسے فرمایا؟ اس کی ابتدا تھی، سفر بیت المقدس، پہلا حصہ سفر کا تو اس کا ذکر کیسے فرمایا؟ قرآن میں آج بھی موجود ہے:﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ﴾ (سورة الإسراء: 1)
پاک ہے وہ ذات ، بلندیاں اس کے لیے ہیں، قدرت اس کی ہے، وہ ذات جو لے کر گئی۔ کس کو؟ اپنے بندے کو۔ فتح مکہ کے دن بھی بندہ ہونے کی بات ، معراج کے وقت بھی بندہ ہونے کی بات، آپ نے ہر وقت بندگی کا احساس اپنے اوپر رکھا۔
سبق کیا ملتا ہے؟ کوئی چھوٹا ہے یا بڑا ہے، امیر ہے یا غریب ہے، حاکم ہے یا محکوم ہے، عالم ہے یا عامی ہے، مولوی ہے یا مقتدی ہے، جو بھی ہے، سب کو انکساری اور عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔ یہی بندگی اور عبدیت کی روح ہے، بندہ ہونے کا مغز یہی ہے کہ تکبر سے بچو۔ تکبر کیا ہے؟ تکبر کیا کرتا ہے؟ اس کا نقصان کیا ہے؟ یہ حق سے روکتا ہے، ہلاک کرتا ہے، اللہ کی ناراضگی کا سبب بنتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے، حدیث قدسی ہے:«الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي» (سنن أبي داؤد: 4090)
’’بڑائی میری چادر ہے، جو اس پر ہاتھ ڈالے گا، میں اس کا ہاتھ توڑوں گا اور اس کو سزا دوں گا۔‘‘
بڑائی میری چادر ہے۔ جس طرح کسی حکمران نے چادر اوڑھی ہوتی ہے، کوئی اس چادر کو کھینچے، کوئی اس پر ہاتھ ڈالے، اس کو نوچنے کی کوشش کرے یا اتارنے کی کوشش کرے، تو اس حاکم کے اندر اگر ہمت ہے تو کیا اسے ایسا کرنے دے گا؟ کبھی نہیں کرنے دے گا۔ ایسی گستاخی نہیں کرنے دے گا کہ کوئی اس کی چادر کو اتارے اور نوچے یا کھینچے۔ تو اللہ کہتا ہے کہ بڑائی میری چادر ہے، جو اس پر ہاتھ ڈالے گا، میں اس کا ہاتھ توڑ دوں گا اور اسے اس کی سزا دوں گا۔ اسے پتہ چلے گا کہ اللہ کی بڑائی پر ہاتھ ڈالنے کی کیا سزا ہے۔
بہت سے لوگ ایسے آئے جو اپنی چھوٹائی کو، چھوٹا ہونے کو بھول گئے۔ فرعون، شداد، ہامان اور کئی دوسرے، لیکن بعض کی زندگی میں پھر وہ وقت آیا، جس نے انہیں احساس دلایا کہ وہ کیا ہیں اور کتنے پانی میں ہیں۔ فرعون کو دیکھ لو، اس کی مثال سامنے ہے۔
﴿حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ﴾ (سورة يونس: 90)
جب وہ غرق ہونے لگا، پانی میں ڈوبنے لگا، تو پھر اس نے کہا: ’’میں اپنی بڑائی کا دعویٰ چھوڑ کر، اپنی خدائی کا دعویٰ چھوڑ کر، اس اللہ کو مانتا ہوں جو موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ آگے سے جواب ملا:
﴿آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ﴾ (سورة يونس: 91)
’’اب؟ جب مرنے لگے ہو، جب پانی میں غوطے کھا رہے ہو، جب آخری وقت آ گیا ہے؟‘‘
کہ جب وہ غرق ہونے لگا، پانی میں ڈوبنے لگا، تو پھر اس نے کہا کہ میں اپنی بڑائی کا دعویٰ چھوڑ کر، اپنی خدائی کا دعویٰ چھوڑ کر، اس اللہ کو، اس رب کو مانتا ہوں جو موسیٰ کا رب ہے، جس کی معرفت اور جس کی دعوت موسیٰ نے دی ہے۔ آگے سے جواب کیا ملا؟ اب؟ اب جب مرنے لگے ہو؟ جب پانی میں غوطے کھا رہے ہو، جب آخری وقت آ گیا ہے؟ اس سے پہلے تو تم بڑے نافرمان بنے ہوئے تھے، بڑے سرکش بنے ہوئے تھے۔ اپنے آپ کو خدا بنا کے لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے۔ تم لوگوں سے کہتے تھے،﴿ أَلَيْسَ لِي مُلْكُ مِصْرَ﴾ (سورة الزخرف: 51)
یہ دیکھ لو، مصر کا بادشاہ تو میں ہوں، اس کی نہریں میرے اختیار میں ہیں اور میرے حکم سے چلتی ہیں۔پھر مزید تکبر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کرتاتھا کہ
﴿أَمْ أَنَا خَيْرٌ مِّنْ هَٰذَا الَّذِي هُوَ مَهِينٌ﴾ (سورة الزخرف: 52)
یہ موسیٰ کہ جس کے بارے میں کہا کہ مہین ہے،اس کی تو حیثیت ہی کوئی نہیں۔ادنیٰ درجے کا بندہ ہے۔اس کے پیچھے لگتے ہو،اس کی بات مانتے ہو،مجھے دیکھو،میری جلالت کو دیکھو،اس کی بجائے میرے پیچھے لگو۔یہ جو کہاکرتاتھا ،بالآخر اسے بھی آخری وقت میں اقرار کرنا پڑا،اللہ کی بڑائی اور اپنی چھوٹائی کا۔
بندے کو یہ احساس پہلے ہونا چاہیئے اور ساری زندگی رہنا چاہیئے۔تکبر سے بچنے کا ایک طریقہ ، ہم پہلے بات کر چکے ہیں ،وہ ہے شکر کہ جتنی بڑائی اللہ نے دی ہے ،جنتی نعمتیں اس نے دی ہیں،دنیاوی ،دینی یا اخروی ،اس پر اللہ کا شکر کریں، دل سے اور زبان سے شکر کریں۔ یہ شکر تکبر کے جذبے کو توڑے گا۔ اسے احساس رہے گا کہ جو کچھ میراہے وہ میرا نہیں بلکہ اللہ کا دیا ہوا ہے۔
اللہ ہمیں شکر گزار بندہ بنائے۔ نبی کریمﷺ کی وہ دعا جس کا میں ذکر کر رہا تھا، اس میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں: «اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي شَكُورًا، وَاجْعَلْنِي صَبُورًا، وَاجْعَلْنِي فِي عَيْنِي صَغِيرًا، وَفِي أَعْيُنِ النَّاسِ كَبِيرًا» (مسند بزار:10/315)
یا اللہ! مجھے صبر کرنے والا بندہ بنا، یا اللہ! مجھے شکر کرنے والا بندہ بنا،لوگوں کی نظر میں اگرچہ میں بڑا ہوں، لیکن مجھے اپنی نظر میں چھوٹا بناکر رکھ۔ اللہ ہمیں صبر اور خاص طور پر شکر کرنے کی توفیق دے اور تکبر سے بچائے۔ تکبر دنیا اور آخرت میں تباہ کرنے والی چیز ہے۔
٭٭٭
ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی عمری کی یاد میں
جب ہوا فضل خدا اک ہندو ’بانکے رام‘ پر
بت کدے کو چھوڑ کر آئے رہِ اسلام پر
یہ رسول پاک کا فرمانِ عالی شان ہے
’فطرت اسلام پر پیدا ہر اک انسان ہے‘
طفل فطرت سیکھتا ہے سایے میں ماں باپ کے
جو یہودی اور نصرانی بناتے ہیں اسے
چوں کہ فطرت پر تھے بانکے حسب فرمان رسول
’دعوت حق‘ کو کیا فوراً دل و جاں سے قبول
ہو گئے بے کار سب ،ترغیب، دھمکی، احتجاج
خانداں دشمن ہوا اور خون کا پیاسا سماج
جاں بچا کر ، چھپ چھپا کر پہنچے وہ دار السلام
ہے جنوبی ہند میں جس کا بہت اونچا مقام
بن کے وہ ’عمری‘ یہاں سے چل دیے شہرِ نبی
تا کہ بجھ پائے وہاں کچھ ان کی علمی تشنگی
مستحق وہ جامعہ میں ٹھہرے اِس اعزاز کے
بن گئے شاگردِ خاص اَلبانی وبن باز کے
وہ برہمن زاد یوں شمعِ حرم تک آگئے
تیرگی بیزار تھے ، نورِ ہدایت پاگئے
طے کیا علمِ حدیث مصطفیٰ کا یوں سفر
بعد ایم اے کے بنے وہ اک محقق ڈاکٹر
پوجتے تھے باپ دادا جن کے پتھر کے صنم
بت پرستی چھوڑ کر وہ ہو گئے شیخِ حرم
جگ مگا یا ان کے دل میں اس طرح نورِ ہُدی
نام ابواحمد محمد ، عرف تھا ان کا ضیاء
وقف کردی یوں علومِ دیں کی خاطر زندگی
عام کی نطق و قلم سے عمر بھر یہ روشنی
چُن لیا اللہ نے ان کو ہدایت کے لیے
کر لیا ان کو پسند امت کی خدمت کے لیے
ڈیڑھ درجن میں تصانیف اور مضامیں بے شمار
علم کی خاطر بسر کرتے رہے لیل و نہار
بوہریرہؓ پر لکھی ایسی کتاب بے مثال
ہو گئے سب مطمئن، تشنہ نہ چھوڑے کچھ سوال
فیصلے عدلِ نبی کے کردیے یک جا تمام
تاکہ ہو آساں شریعت کی عدالت کا نظام
چھانٹ کے ساری الگ کر دیں احادیثِ صحیح
اک ذخیرے میں اکٹھی کیں احادیثِ صحیح
مختلف ادیان پر بھی ہیں تصانیفِ ضخیم
ہیں نصابِ جامعہ ان کے مضامینِ عظیم
بیہقی کی شرح نو جلدوں میں ہے ان کا کمال
ہے ’صحیح الجامع ‘ ان کی اک کتابِ بے مثال
دین کی دعوت ہو کیسے غیر مسلم کے لیے
اک کتاب ان کی ہے جس میں گُر یہ سب بتلا دیے
آپ بیتی ’ گنگا سے زم زم تک‘ ان کی داستاں
ہر ورق جس کا ہے اک راہِ ہدایت کا نشاں
اور بھی کتنے ہی ہیں ان کے قلم کے شاہ کار
جو بھی گوہر ہے وہی اپنی جگہ ہے تاب دار
تین کم اَسّی برس اس دارِ فانی میں جیے
’روز عرفہ‘ کو وہ راہِ آخرت پر چل دیے
زندگی میں وہ رہے اکثر مدینے کے مکیں
اب میں مدفونِ بقیع روضۂ خلدِ بریں
یا الٰہی ! صدقہ جاری بنادے ان کے کام
آخرت میں دے انہیں فردوس میں اعلیٰ مقام
غم زدہ اولاد ہے اور ان کا سارا خاندان
مل کے کرتے ہیں دعائے مغفرت پس ماندگان
اک ملال وصدمہ ہے ان کے تمام احباب کو
صبر کی توفیق یارب! ہر دلِ بے تاب کو
دے جزائے خیر تو دارین میں ربِ قدیر
کی جنہوں نے ان کی خدمت اور بنے ان کے نصیر
یا الہٰی ! فضل سے ثاقب کو بھی صالح بنا
دو جہاں میں نیک لوگوں کی رفاقت کر عطا
ڈاکٹر عبدالرب ثاقب عمری
تبصرہ کریں