
عالم عیسائیت کی اہم اور بڑی شاخ چرچ آف انگلینڈ کی روحانی قیادت اور امامت کے لئے تاریخ میں پہلی مرتبہ آرچ بشپ آف کنٹابری Archbishop of Canterbury کی حیثیت سے ایک خاتون کو منتخب کیا گیا ہے ، شاھی موافقت کے بعد اس ماہ سے انہوں نے برطانیہ کی مرکزی کنیسا میں امامت کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں ، اس اعلیٰ منصب پر برطانیہ میں فائز ھونے والوں کی فہرست میں ان کا نمبر ایک سو چھ ہے، ان سے پہلے ایک سو پانچ مرد رہنماوں نے یکے بعد دیگرے یہ عہدہ سنبھالا ، یہ پہلی خاتون ہیں جو اس عہدہ پر متمکن ہوئیں ، اگر چہ کہ چرچ آف انگلینڈ کا سربراہ انگلستان کا بادشاہ ہوتا ہے لیکن ان کے لئے یہ ایک رسمی اور علامتی عہدہ ہے ، ورنہ مذھبی اختیارات اور یومیہ دینی ذمہ داریوں کی انجام دھی عبادات ، نکاح ، جنازہ ، فتاوی وغیرہ آرچ بشپ کے سپرد ہوتے ہیں، بنیادی طور پر یہ مذھبی اور روحانی نوعیت کا عہدہ ہے لیکن اس کا سیاسی اور سماجی معاملات میں قابل لحاظ وزن ھوتا ھے ، اس عہدہ کے بعد وہ برطانوی پارلیمنٹ ھوس آف لارڈز کا مستقل رکن شمار ھوگا اس کے لئے گرانقدر تنخواہ ، عالی شان رھائش Lambeth palace جو دریاے ٹیمز کے کنارہ واقع ہے اور دیگر بہت سی سہولتیں حاصل ھوتی ہیں۔
ماضی میں برطانیہ کا مذھب رومن کیتھولک ہی تھا ، سن 1553 ء کنگ ہنری ششم کے دور میں چرچ آف انگلینڈ کا مستقل وجود کیتھولک سے علیحدگی کی شکل میں ہوا ، یہ دراصل کیتھولک میں پائی جانے والی غیر ضروری مذھبی سختیوں اور پابندیوں کے خلاف اعلان بغاوت تھا ،مثلا ً نصرانی جوڑے کے لیے ایک بار رشتہ ازدواج میں منسلک ہو جائیں تو طلاق کی سہولت نہیں تھی چاہے حالات کچھ بھی ہوں، چرچ کے امام اور پیشوا کے لے بیوی بچے رکھنے کی اجازت نہیں تھی ، ان کے لیے ضروری ہے کہ ان کثافتوں سے خود کو پاک و صاف رکھیں ، لیکن چرچ آف انگلینڈ میں اجازت دی گئی۔ بہرحال نصرانیت میں وقتاً فوقتاً ان فقہی اور مذہبی تبدیلیوں کے باوجود زمینی حقائق یہ ہیں کہ نصرانیت کی کشتی مادیت کے سمندر میں ہچکولے کھا رہی ہے، بیشتر نصاریٰ کا حال یہ ہے کہ وہ خاندانی یاصرف جذباتی طور پر خود کو کرسچن کہتے یا شمار کرتے ہیں ورنہ عقیدہ و اعمال کے اعتبار سے وہ مذہب سے بہت دور لادینی کے دلدل میں پھنسے ہوے ہیں اور آئے دن اس سوسائٹی میں مادیت کا کلچر غالب آرہا ہے، دین و دنیا کی کشمکش میں دینی اور روحانی پلڑا بہت ہی ہلکا دکھائی دیتا ہے ۔ اس کے مختلف اسباب میں سے ایک مذھبی پیشواؤں کی بے جا ضد ، غیر منطقی اسلوب، مسائل میں جمود اور اکابر پرستی پر اصرار ہے۔
چرچ آف انگلینڈ میں کی جانے والی مختلف تبدیلیوں میں سے ایک عورت کی امامت اور مذہبی قیادت کا مسئلہ ہے ، اس نئی تبدیلی کے متعلق مختلف تبصرے اور تجزئے کئے جا رہے ہیں ، رومن کیتھولک ہنوز عدم جواز پر قائم ہے ان کےاستدلال کی بنیاد یہ ہے کہ سیدنا عیسی علیہ السلام کے حواری صرف مرد تھے، لہٰذا امامت صرف مردوں کی ہوگی ، البتہ دیگر ذیلی شعبوں کی حدتک خواتین کو موقع دیا جاسکتا ہے ۔ لیکن امامت ان کے حوالہ نہیں کی جاسکتی ، ان تبصروں کو پڑھ کر ہمارے ذہن میں رسول اکرمﷺ کی ایک حدیث گردش کرنے لگی، عہد نبوی میں جب فرمانروا ے کسری شیرویہ پرویز ھرمز کی ھلاکت کے بعد اس کی بیٹی بوران کو اس منصب پر براجمان کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
«لن يفلح قوم ولوا أمرهم امرأة » (صحیح بخاری : 7099 )
’’ اب یہ قوم کامیابی سے ھمکنار نہیں ہوگی جنہوں نے اپنی قیادت ایک عورت کے سپرد کردی ہے ۔‘‘ گو کہ یہ فرمان نبوی ﷺ ایک خاص پس منظر سے تعلق رکھتا ہے لیکن اس میں ایک تلمیح بھی پائی جاتی ہے غور کرنے والوں کے لئے۔
یہاں یہ واضح کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ ہم خواتین کے عبادت گاہوں میں آنے کے خلاف نہیں، نہ ہی شریعت اسلامیہ میں ممانعت کی گنجائش ہے ، کیونکہ یہاں تو حکم ہے:
عن عبد الله بن عمر قال سمعت رسول الله ﷺ يقول لا تمنعوا نساءكم المساجد إذا استأذنكم اليها (صحیح بخارى :873 ؛ صحیح مسلم : 442 )
كہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺم کو فرماتے ہوے سنا ہے کہ اپنی عورتوں کو مساجد جانے سے نہ روکو اگر وہ تم سے اس کی اجازت طلب کریں ، اس اعتبار سے انہیں منع کرنا اس صریح حکم کی خلاف ورزی ھوگی ، ایک اور حدیث ہے :
عن أبى هريرة رضى الله عنه ان رسول الله ﷺ قال لا تمنعوا إماء الله مساجد الله ليخرجن تفلات (سنن ابو داؤد: 565 )
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم اللہ کی بندیوں کو مساجد سے نہ روکو ، البتہ ان کے لئے آداب یہ ہیں کہ جو خواتین مساجد میں آئیں وہ بغیر کسی میک اَپ اور بناؤ سنگھار کے آئیں ۔
عہد نبوی میں خواتین نماز فجر اور عشاء کے لئے بھی آیا کرتی تھیں۔
عن عائشة قالت ان كان رسول الله ﷺ ليصلي الصبح فينصرف النساء متلفعات بمروطهن ما يعرفن عن الغلس (صحیح بخارى: 867 )
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز پڑھاتے تو عورتیں نماز کے بعد اپنی چادروں میں لپٹی واپس ہوتیں اور تاریکی کی وجہ سے انہیں کوئی پہچانتا نہیں تھا۔
عن عائشة قالت اعتم رسول الله ﷺ بالعتمة حتى ناداه عمر نام النساء و الصبيان فخرج النبي ﷺ… (صحیح بخارى : 864 )
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ عشاء کی نماز کے لئے رسول اللہ ﷺ کو اپنے حجرہ سے باہر تشریف لانے میں تاخیر ھوگئی ، حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آواز دی عورتیں اور بچے سو گئے ہیں پھر نبی کریم ﷺ تشریف لے آئے۔
ان احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خواتین کو مسجد میں آنے اور جماعت میں شامل ہو کر نماز ادا کرنے کی اجازت ہے ، لیکن مردوں کی طر ح ان پر جماعت واجب نہیں جیسے کہ فرمان نبوی ﷺ ہے :
لا تمنعوا نساؤكم المساجد و بيوتهن خير لهن ( أبو داود نمبر 567 )
’’تم عورتوں کو مساجد سے نہ روکو ، اگر چیکہ ان کے لئے گھر بہتر ہیں ۔‘‘ لیکن یہاں بات ہو رہی ہے عبادت گاہ میں امامت و قیادت اور پیشوا ئی کی ، چونکہ نصرانیت کی کشتی مادیت اور عیش پرستی کے بھنور میں ہچکولے کھا رہی ہے اس ڈوبتی نیا کو بچانے کے لئے عیسائی پنڈتوں نے اپنے مذھبی افکار و نظریات اور فقہی مسائل میں اپنی فہم و فراست کے مطابق بہت سی تبدیلیاں کی ہیں کہ شاید چرچ کے ساتھ لوگوں کی عقیدت اور رابطہ برقرار رکھا جاسکے، ان میں سے ایک چرچ میں عورت کی قیادت ہے۔
لیکن ان ترامیم سے قابل ذکر فائدہ نظر نہیں آتا بلکہ صورتحال یہ ھے کہ
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
حتی کہ نصرانیت کے مرکز برطانیہ میں کئی کنیساوں کے گیٹ پر چرچ برائے فروخت کی تختی آویزاں دکھائی دیتی ہے، یومیہ جماعت (سرویس ) میں پابندی سے حاضری تو ایک طرف رکھے ہفتہ واری اتوار کی سرویس بھی بہت سی کنیساؤں میں نہیں ہوتی ، گویا یوں سمجھئے نماز جمعہ کے بغیر مسجد بند اور جن بڑے مرکزی کنیساؤں میں سرویس ہوتی بھی ہے، ان میں شرکاء انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں ، بلکہ خاص موقعوں پر جیسے سالانہ کرسمس تہوار کے دن بھی چرچ میں کچھ ضعیف عمر بوڑھے کہیں بیٹھے دکھائی دیتے ہیں اور کبھی کسی کے ساتھ کم عمر بچے ہوتے ہیں، نوجوان اور درمیانی عمر والے تو دور دور تک نظر نہیں آتے ، بعض یورپی ممالک جیسے اٹلی اسپین پولینڈ و غیرہ میں یہ تعداد کچھ زیادہ ہوتی ہے ، ورنہ عام طور پر لوگوں کا عیسائیت کے ساتھ بطور مذہب کے تعلق کمزور ہو رہا ہے اور ایک ثقافت اور کلچر کی حیثیت سے یہ رشتہ نازک سا کچھ باقی رہ گیا ہے۔ اس لئے ان بیچاروں کو مساجد کی تنگ دامنی کا منظر باعث حیرت ہوتا ہے ۔ بعض مساجد میں عام نمازوں کے لئے بھی حاضری قابل رشک ہوتی ہے ۔ الحمدللہ، جمعہ اور عیدین کے لئے حاضری تو باعث حیرت اور ہمارے لئے موجب مسرت ہوتی ہے۔
شاید ان ہی حقائق کے سبب کنگ چارلس نے ایک موقع پر کہا تھا جب وہ ولی عہد تھے میں اپنی تقریب حلف برداری میں خود کو کسی مخصوص مذہب کے محافظ کے بجاے تمام مذاہب کا محافظ کہلانا پسند کروں گا ، گو کہ یہ بات برطانیہ کے بدلتے ہوے سماجی اور مذہبی حالات کے پیش نظر حقیقت پر مبنی تھی لیکن اس حقیقت پسندانہ بات کے خلاف کرسچن رہنماؤں نے طوفان کھڑا کردیا ، کیونکہ ان کے نزدیک برطانیہ کا کنگ اصلا نصرانیت کا محافظ ہوتا ہے، ضمناً دیگر مذاہب کا بھی خیر خواہ ہو تو قابل قبول ہے لیکن اس کے اظہار یا اعلان کی ضرورت نہیں ، ورنہ چرچ آف انگلینڈ کی امتیازی شان متاثر ہوگی ، اس احتجاج کے آگے ولی عہد کو ہتھیار ڈالنا پڑا ، اور جب بادشاہت کے لئے ان کی تقریب حلف برداری ہوئی انہوں نے یہی کہا کہ میں مذہب خاص نصرانیت کا محافظ رہوں گا۔ میدان سیاست کے انداز اور پیمانے نرالے ہوتے ہیں یہاں بار بار آدمی کو سچائی اور انصاف سے پیچھے ہٹنا ہوتا ہے ، یہاں مکر و فریب خود غرضی اور مفادات کا راج ہوتا ہے ۔ چرچ آف انگلینڈ میں کی جانے والی مختلف تبدیلیوں میں سے ایک زیر بحث مسئلہ بھی ہے کہ اس اہم ذمہ داری کے لئے ایک خاتون سارہ مولالی Sarah Mullally کو منتخب کیا گیا ہے ، یہ لندن کی رہنے والی ہیں ، صحت کے شعبہ نرسنگ میں گریجویشن کی ، وہ نیشنل ہیلتھ سروس میں بطور چیف نرس جاب کرتی رہیں، کم عمری میں اس اہم عہدہ سے انہیں خاصی شہرت حاصل ہوئی پھر بتدریج چرچ کے ساتھ ان کاتعلق بڑھتا گیا ، دینیات میں لندن یونیورسٹی سے ایم اے کیا اور عیسائیت میں ہائر ڈپلوما کیا ، اس اہم منصب کے بعد وہ برطانیہ میں پھیلے کروڑوں لوگوں کی دینی اور روحانی سربراہ بن چکی ہیں ، ان کے لئے وہ تمام اعزازات اور سہولتیں حاصل ہوں گی جو ان کے پیش روؤ ں کو میسر تھیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ مادیت اور لا دینی کے طوفان میں نصرانیت کی ڈوبتی ناؤ کو مادام سارا کس حدتک سہارہ دے پائیں گی ۔
٭٭٭
اے مہِ عید
مہِ عید ، جلوہ نما ہو گیا تو
تری آمد آمد کا چرچا ہے ہر سو
ہمیشہ خدا کا طلبگار ہوں میں
اُسی کی محبت میں سرشار ہوں میں
چمکتا ہے تو جیسے چرخ بریں پر
اُسی طرح میں جگمگاؤں زمیں پر
ہے مشتاق اب تیری ساری خدائی
کہ تونے نوید مسرت سنائی
تجھے دیکھنے کے لئے میں کھڑا ہوں
تو روپوش ہو کر نہ کر مجھ کو محزوں
یہ مانا کہ تجھ سے بہت دور ہوں میں
مگر تیری الفت سے معمور ہوں میں
نظر آرہا ہے تجھے گھر ہمارا
جہاں ہم نے اپنا لڑکپن گزارا
مری گود میں اے مرے چاند! آجا
کوئی نغمۂ آسمانی سنا جا
تجھے ننھا منھا کھلونا سمجھ کر
چھپا کر رکھوں گا میں سینے کے اندر
تجھے رازداں اپنا میں جانتا ہوں
تو ہمدرد میرا ہے یہ مانتا ہوں
کئی داستانیں اب آئی ہیں جی میں
نہ معلوم کیا کہہ چلوں بے خودی میں
مجھے گریۂ غم سے خاموش کردے
مری ہر شکایت فراموش کردے
ستارے مرا حال پوچھیں جو تجھ سے
یہ پیغام میرا اُنہیں تو سنادے
’’مہِ نَو‘‘ ! بتا تو یہ کیا ماجرا ہے
مسلمان کیوں نا مسلماں ہوا ہے
کبھی عرش تک بھی تھی اُس کی رسائی
مگر آج ہوتی ہے کیوں جگ ہنسائی
نہیں ہے اُسے کچھ سروکار ، حق سے
سر اپنا جھکاتا ہے باطل کے آگے
نہ جانے وہ کب راہِ حق دیکھ پائے
قدم اپنی منزل کی جانب بڑھائے
میں کرتا ہوں یہ التجا کبریا سے
الٰہی نظام جہاں اب بدل دے
’’مہِ نَو‘‘! و بتا تو کہاں جارہا ہے
بتا کس لئے دل کو تڑپا رہا ہے
مبارک تجھے اے مہِ نو! یہ رفعت
یہ حماد بھی تجھ سے ہوتا ہے رخصت
ابولبیان حماد العمری رحمہ اللہ
٭٭٭
نماز پڑھتے ہی انتقال
برادر عم جناب عبد الغفار خان مقیم شکاگو امریکہ کی ہمشیرہ محترمہ ذکیہ بیگم کے شوہر نامدار جناب سید عبد الوحید 26 فروری بمطابق 9 رمضان المبارک کو نماز عصر پڑھنے کے فوری بعد داعی اجل کو لبیک کہہ گئے اور 10 رمضان کو بعد نماز جمعہ نماز جنازہ ادا کی گئی اور تدفین عمل میں آئی۔ مرحوم نے 65 سال عمر پائی اور زندگی کا ایک بیشتر حصہ حصول روزگار کی خاطر سعودی عرب اور دبئی میں گزارا۔ مرحوم انتہائی سنجیدہ، بااخلاق اور کم سختی تھے، پسماندگان میں چار بیٹیاں اور ایک بیٹا سید سلمان شامل ہیں، زندگی میں انہوں نے پانچ بچوں کی شادیاں کر دیں تھیں جو تمام صاحب اولاد ہیں، مختلف ممالک میں مقیم احباب و اقرباء نے سید سلمان اور جناب عبد الوحید خان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ کریم مرحوم کو جنت الفردوس میں داخل فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل بخشے۔ آمین
برطانیہ سے مولانا عبد الہادی العمری اور ڈاکٹر عبد الرب ثاقب نے اظہار تعزیت کیا ہے۔
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ کل ہماری باری ہے
٭٭٭
ڈڈلی کے پرویز جنجوعہ کی اہلیہ چل بسیں!
ڈڈلی کی زندہ دل شخصیت جناب پرویز احمد جنجوعہ کی اہلیہ فاطمہ منظور 66 سال کی عمر میں کچھ عرصہ علالت کے بعد داعی اجل کو لبیک کہہ گئیں۔ محترمہ بااخلاق اور مہمان نواز تھیں۔ یہ ڈڈلی کے حاجی دلپذیر احمد جنجوعہ کی سگی بہن تھیں، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب نے جامع مسجد کوئینس کراس ڈڈلی میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی، جس میں برطانیہ بھر میں پھیلے ہوئےاعزاء و اقربا شریک تھے۔ مرحوم کے پسماندگان میں چار بیٹیاں اور تین بیٹے سہیل، انسب اور عقیل شامل ہیں۔ سوائے ایک کے سب شادی شدہ ہیں، نماز جنازہ کونسلر ڈڈلی جناب محمد شوکت اور سابق کونسلر جناب ظفر الاسلام اور بہت سے احباب شریک تھے۔ بچوں کی خواہش پر ماں کی میت کو پاکستان لے جایا گیا اور کوٹلی آزاد کشمیر میں جناب پرویز جنجوعہ کے پہلو میں ان کی تدفین عمل میں آئی، دعا ہے کہ اللہ پاک باجی کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے۔ آمین
آگاہ ہے اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
تبصرہ کریں