حضرت اویس قرنی کی کرامت (قسط20)۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

حضرت اویس قرنی کی کرامت

تابعین میں حضرت اویس قرنی کی کرامت بہت مشہور ہے ، یہ اپنی والدہ کے فرمانبردار تھے ، خود برص کی بیماری میں مبتلا تھے چنانچہ انہوں نے اللہ سے دعاکی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے شفا عطا فر مائی تھی۔ اس طرح وہ مستجاب الدعوات تھے، لوگ ان کے پاس آتے تھے اور شفا کی دعا کی درخواست کرتے تھے۔ حضرت اویس قرنی ان کے لئے دعا کرتے تھے، اللہ کریم نے انہیں شفا عطا فر مائی تھی، وہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں موجود تھے مگر آپﷺ سے ملاقات نہ کر سکے، نبی کریم ﷺ نے آپ کی مجبوری کی وجہ سے آپ سے ملاقات کرکے صحابی بن جانے پر اصرار نہیں فرمایا، بلکہ یہ فرمایا کہ اویس قرنی سے ملاقات ہو تو اُن سے اپنی بخشش کی دعا کی درخواست کرو ۔ (صحیح مسلم :221)

غار والوں کی کراما ت

حدیث میں ہے کہ تین آدمی پیدل چلے جا رہے تھے کہ انہیں بارش نے آ لیا، انہوں نے پہاڑ میں ایک غار کی پناہ لی، تو (اچانک) ان کے غار کے منہ پر پہاڑ سے ایک چٹان آ گری اور ان کے اوپر آ کر انہیں ڈھانک دیا، انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: تم اپنے ان نیک اعمال پر نظر ڈالو جو تم نے (صرف اور صرف) اللہ کے لیے کیے ہوں اور ان کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، شاید وہ اس بندش اور قید سے تمہیں آزاد کر دے۔ اس پر ان میں سے ایک نے کہا: «اللهم» اے اللہ! میرے انتہائی بوڑھے والدین، بیوی اور چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جن کی میں نگہداشت کرتا ہوں۔ جب شام کو میں اپنے جانور (چرانے کے بعد انہیں) ان کے پاس واپس آتا، ان کا دودھ دوہتا تو آغاز اپنے والدین سے کرتا اور اپنے بچوں سے پہلے انہیں پلاتا تھا۔ ایک دن (مویشیوں کے چرنے کے قابل) درختوں کی تلاش مجھے بہت دور لے گئی، میں رات سے پہلے گھر نہ پہنچ سکا۔ میں نے انہیں پایا کہ وہ دونوں سو چکے ہیں۔ میں نے جس طرح (ہر روز) دودھ نکالا کرتا تھا نکالا اور وہ دوھا ہوا دودھ لے کر ان کے سرہانے کھڑا ہو گیا۔ مجھے یہ بھی ناپسند تھا کہ ان کو نیند سے جگاؤں اور یہ بھی گوارا نہ تھا کہ ان سے پہلے بچوں کو پلاؤں، بچے بھوک کی شدت سے بلکتے ہوئے میرے قدموں میں لوٹ پوٹ ہو رہے تھے، میں اسی حال میں (کھڑا) رہا اور وہ بھی اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ صبح طلوع ہو گئی۔ (اے اللہ!) اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ صرف تیری رضا کے لیے کیا ہے تو اس (غار کے بند منہ) میں اتنا سوراخ کر دے کہ ہم آسمان کو دیکھ لیں۔ اللہ نے اس میں ایک سوراخ کر دیا کہ وہ آسمان کو دیکھنے لگے۔ اور دوسرا (ساتھی) کہنے لگا: «اللهم» اے اللہ! میری ایک چچا زاد تھی، میں اس سے وہی شدید محبت کرتا تھا جو ایک مرد عورت سے کرتا ہے۔ میں نے اس سے اپنے لیے (خود) اسی کو مانگا۔ اس نے اس وقت تک (میری بات ماننے سے) انکار کر دیا، یہاں تک کہ میں اسے (سونے کے) سو دینار لا کر دوں۔ میں انہیں حاصل کرنے میں لگ گیا یہاں تک کہ سو دینار اکٹھے کر لیے، پھر جب میں اس کے دونوں قدموں کے درمیان پہنچا تو وہ کہنے لگی: اللہ کے بندے! اللہ سے ڈر اور حق (نکاح) کے بغیر مہر (بکارت) نہ توڑ۔ تو (تیرا نام سن کر) میں اس سے (الگ ہو کر) کھڑا ہو گیا۔ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ تجھے راضی کرنے کے لیے کیا تھا تو اس میں (اور زیادہ) سوراخ کر دے۔ (اللہ نے) ان کے لیے (اور زیادہ) سوراخ کر دیا۔ اور تیسرے نے (دعا کرتے ہوئے) کہا: «اللهم» اے اللہ! میں نے ایک مزدور کو چاولوں کے ایک فرق (تین صاع، تقریباً ساڑھے سات کلو گرام) کی اجرت کے عوض کام پر لگایا۔ جب اس نے اپنا کام پورا کر لیا تو کہا: میرا حق (اجرت) ادا کرو۔ میں نے اسے اس کا فرق (تین صاع چاول) پیش کیا۔ وہ (اسے کم قرار دیتے ہوئے) اس کو چھوڑ کر چلا گیا۔ میں مسلسل اس (تین صاع چاولوں) کو کاشت کرنے لگا، یہاں تک کہ میں نے اس (کی آمدنی) سے گائے (کے بہت سے ریوڑ) اور ان کو چرانے والے (غلام) اکٹھے کر لیے۔ پھر (مدت بعد) وہ میرے پاس (واپس) آیا اور کہا: اللہ سے ڈرو، میرے حق میں مجھ پر ظلم نہ کرو۔ میں نے کہا: ان گایوں (کے ریوڑوں) اور انہیں چرانے والے (غلاموں) کی طرف جاؤ اور انہیں لے لو۔ اس نے کہا: اللہ سے ڈرو! میرے ساتھ مذاق تو نہ کرو۔ میں نے کہا: میں مذاق نہیں کر رہا، یہ سب گائیں اور ان کو چرانے والے (غلام) لے جاؤ، وہ انہیں لے کر چلا گیا۔ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ صرف تجھے راضی کرنے کے لیے کیا تھا تو جو حصہ باقی رہ گیا ہے، اسے بھی کھول دے۔ اللہ نے باقی حصہ بھی کھول دیا (اور وہ آزاد ہو کر غار سے باہر نکل آئے۔)“ (صحيح مسلم: 6949)

حضرت سارہ علیہا السلام کی کرامت

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیم ؑ نے حضرت سارہ کے ساتھ ہجرت کی اور انھیں لے کر ایک شہر پہنچے جہاں ایک سخت گیر ظالم حکمران تھا۔ اسے اطلاع دی گئی کہ حضرت ابراہیم ؑ ایک خوبروعورت کو لے کر آئے ہیں۔ اس نے حضرت ابراہیم ؑ کو پیغام بھیجا کہ تمہارے ساتھ یہ عورت کون ہے؟ انھوں نے فرمایا: یہ میری بہن ہے، پھر حضرت سارہ کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ تم نے میری بات کو جھٹلانا نہیں کیونکہ میں نے ان لوگوں کو بتایا ہے کہ تو میری بہن ہے۔ اللہ کی قسم!اس سرزمین پر میرے اورتیرے علاوہ کوئی دوسرا مومن نہیں ہے۔ پھر انھوں نے حضرت سارہ کو اس ظالم کے پاس بھیج دیا۔ وہ بادشاہ حضرت سارہ کی طرف بڑھنے کے لیے اٹھا تو انہوں نے کھڑے ہوکر وضو کیا، پھر نماز پڑھنے لگیں، پھر دعا کی: اے اللہ!اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور میں نے اپنی شرمگاہ کو اپنے شوہر کے سوا محفوظ رکھا ہے تو اس کافر کو میرے اوپر مسلط نہ ہونے دے۔ اس پر بادشاہ کاسانس گلے میں پھنس گیا اور وہ گر کر ایڑیاں رگڑنے لگا۔‘‘ حضرت اعرج نے ابو سلمہ بن عبدالرحمان سے حضرت ابوہریرہ ؓ کابیان نقل کیا کہ حضرت سارہ نے دعاکی: اے اللہ!اگر یہ مرگیا تو کہا جائے گا کہ اسے اس (سارہ) نے قتل کیا ہے، چنانچہ وہ درست ہوگیا۔ پھر وہ (بُری نیت سے) اٹھ کر حضرت سارہ کی طرف جانے لگا تو وہ انھیں اور وضو کرنے کے بعد نماز شروع کردی، پھر دعا کی: اے اللہ!اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے بجز اپنے خاوند کے کسی کو اجازت نہیں دی تو اس کافر کو مجھ پر مسلط نہ ہونے دے۔ اس پر وہ زمین پر گرا اور اس کا سانس حلق میں پھنس گیا حتیٰ کہ زمین پر ایڑیاں رگڑنے لگا۔‘‘ حضرت عبدالرحمان نے ابو سلمہ کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ ؓ کابیان نقل کیا کہ حضرت سارہ ؓ نے دعاکی: اے اللہ!اگر یہ ظالم مر گیا تو کہا جائے کہ اس عورت نے اسے قتل کیا ہے تو وہ دوسری دفعہ بھی اچھا ہوگیا۔ پھر جب تیسری دفعہ بھی ایسا ہوا تو بادشاہ نے کہا: اللہ کی قسم!تم لوگوں نے ایک شیطان عورت کومیرے پاس بھیج دیا ہے۔ اسے حضرت ابراہیم ؑ کے پاس لے جاؤ اور اسے آجر (حضرت ہاجرہ ؑ ) بھی دے دو، چنانچہ حضرت سارہ حضرت ابراہیم ؑ کے پاس واپس آئیں اورفرمایا: تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کو ذلیل وخوار کیا اور اس نے ایک لڑکی خدمت گزاری کے لیے بھی ساتھ دی ہے؟ (صحیح بخاری: 2217)

حضرت جریج راہب بھی اللہ کے ولی تھے !

حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ جریج ایک عبادت گزار آدمی تھے، انہوں نے بستی سے باہر ایک عبادت گاہ بنا لی تھی، جس میں وہ رہا کرتے تھے، ایک دن ان کی ماں آئیں اور جریج کو آواز دیں، جریج عبادت میں مصروف تھے، ماں کی پکار پر لبیک نہیں کہا، ماں واپس چلی گئی۔ دوسرے دن ماں پھر جریج کی عبادت گاہ کے قریب آئیں اورجریج کو آواز دی، جریج پھر عبادت میں مصروف تھے، مناسب نہیں سمجھا کہ عبادت چھوڑ کر ماں کی طرف جائیں، دوسرے دن بھی ماں واپس چلی گئیں، اسی طرح تیسرے دن بھی جریج کی ماں آئیں اور جریج کو آواز دی، جریج پہلے دو دن کی طرح تیسرے روز بھی عبادت میں مصروف رہے اور مناسب نہیں سمجھا کہ عبادت چھوڑ کر ماں کو جواب دیں۔ماں نے واپس جاتے ہوئے یہ بد دعا دی کہ اے اللہ ! جریج کو اسی وقت تک موت نہ دینا، جب تک وہ زانیوں کا منہ نہ دیکھ لے۔ ایک بدکار عورت جو بہت ہی خوبصورت تھی، جریج کو اپنے جال میں پھنسانا چاہا، مگر اس میں وہ کامیاب نہ ہو سکی اور جریج کی عبادت گاہ کے قریب ایک چرواہا رہتا تھا، اس سے زنا کیا، جس کی وجہ سے وہ حاملہ ہو گئی، جب اس کے بچے کی ولادت ہوئی تو لوگ اکٹھے ہو گئے اور اس عورتسے اس کے باپ کے متعلق پوچھنے لگآ، اسی عورت نے حضرت جریج کا نام بتایا تو لوگ غصہ میں جریج کی عبادت گاہ کو ڈھا دیا اور جریج کو زدوکوب کیا۔ جریج نے کہا کہ کیا بات ہے؟ کیوں مجھ پر ناراض ہو؟ لوگوں نے کہا کہ تم نے اس عورت سے بدکاری کی ہے۔ جریج نے کہا کہ اس بچے کو لے آؤ۔ وہ عورت بچہ لے آئی تو جریج نے کہا کہ مجھے کچھ عبادت کرنے کا موقع دیں، اس کے بعد اس نے بچہ سے پوچھا کہ اے بچے تیرے باپ کون ہے؟ بچہ نے جواب دیا کہ فلاں چرواہا! یہ سننا تھا کہ لوگ جریج کو چومنے لگے کہ ہماری تمہاری عبادت گاہ سونے کی بنا دیں گے۔ جریج نے کہا کہ نہیں، میری عبادت گاہ پہلے جیسی تھی وہی ہی مٹی کی بنا دو، چنانچہ لوگوں نے جریج کی عبادت گاہ کو مٹی کا بنا دیا۔

یہ جریج کی کرامت ہوئی کہ ایک نومولود بول اٹھا، جس سے لوگوں پر حقیقت حال آشکار ہوگئی اور جریج کی پارسائی لوگوں کے سامنے ہو گئی اور ماں کی بد دعا بھی پوری ہو گئی۔ (صحیح مسلم: 2550)

اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ہمیشہ عبادت کرنا اور ماں کے لیے وقت نہ دینا یہ بھی غلط ہے، حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کے لیے وقت نکالنا بھی ضروری ہے اور حقوق العباد میں ماں کا بہت بڑا درجہ ہے۔ اگر ماں تمہاری خدمت کی محتاج ہے تو ماں کے لیے بھی عبادت کم کر کے وقت دینا ضروری ہے۔

عبادت میں بھی اعتدال اور توسط چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب

تبصرہ کریں