
رمضان کی آمد کی مناسبت سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ہد یہ مبارکباد ANTONIO GUTERRE پیش کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش انگریزی نام نے چند گرانقدر باتیں اقوام متحدہ کے اجلاس میں کہیں، اگر چیکہ اس تقریر کو کچھ عرصہ گزر گیا لیکن تازگی ابھی تک باقی ہے، اگر یہ باتیں کسی مسجدسے پیش کی جاتیں تو طرف داری کا لیبل لگا کر اس کی اہمیت گھٹائی جاسکتی تھی یا مسلمانوں کی زیر نگرانی منعقد ہونے والے کسی جلسہ میں کہیں جاتیں تو چاپلوسی کا عنوان دے کر اس کی افادیت کم کی جاسکتی تھی ، یا کسی علاقائی انجمن کے اجتماع میں کی جاتیں تو وقتی جذبات کا نام دیا جاسکتا تھا، لیکن دنیا کے ایک مرکزی فورم جس کے 193 ممالک بطور رکن کے شامل ہوں ،اس کے اجتماع میں بحیثیت سیکرٹری جنرل ان خیالات کا اظہار کیا جائے تو اس کا کوئی معنی اور مفہوم ہوتا ہے اور کسی رکن ملک نے اس کی تردید نہیں کی تو گو یا سبھوں نے اپنی خاموشی سے مذکورہ خیالات پر مہر تصدیق ثبت کی۔
ایک طرف اسلاموفوبیا Islamo Phobia کی میڈیائی یلغار یعنی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف حقارت اور نفرت کا پروپیگنڈہ اور دوسری طرف سربراہان عالم کی مسلمانوں کے حق میں شہادت بجائے خود کئی سوالات کا اپنے آپ میں جواب ہے :
﴿ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ ﴾ (سورہ ق: 37)
اقوام متحدہ کی بنیاد ہی اس مقصد کے لئے رکھی گئی کہ عالمی جنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پایا جا سکے ، جس میں لاکھوں انسان موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے تھے اور مختلف علاقے اور ملک تباہ کر دیئے گئے تاکہ پھر کبھی ایسی عالمگیر تباہی سے دنیا دو چار نہ ہونے پائے ، لہٰذا تمام ممالک کا ایک مشترکہ اور مؤثر ادارہ یا انجمن ہونی چاہیے جس کے ذریعہ عالمی جنگ کی سی صورت اور تباہی کو آئندہ روکا جاسکے، دعویٰ کی حد تک یہ بات درست ہے لیکن حقیقت کے اعتبارے ادارہ خود اپنے غلط بنیادی پالیسی کے سبب نفاق اور چند ممالک کی اجارہ داری (Monopoly)کا مرکز بن کر رہ گیا، وہ اس طرح کہ دنیا کے پانچ ممالک کو ویٹو کا حق دیا گیا جو کہ کرۂ ارض پر طاقتور ترین ممالک تھے، امریکا، روس، چین، برطانیہ اور فرانس اس میں ایک بھی مسلم عربی یا افریقی ملک نہیں، اس کا نقصان عملی اعتبار سے یہ ہوا کہ جب کبھی کوئی ایسی قرار داد یا تجویز پیش کی جائے جسے صاحب اثر و رسوخ طاقتیں پسند نہ کرتی ہوں، وہ مذکورہ کسی ملک کی پشت پنا ہی سے اس قرار داد کو ناکام بنا سکتی ہیں، چاہے وہ کتنی ہی مبنی برحق ہو، جیسے اسرائیلی مظالم کے خلاف پیش ہونے والی ہر قرار داد کو امریکا نے حق ویٹو استعمال کر کے ناکام بنا دیا ،عملی طور پر صرف جزوی مسائل اور ایشوز پر کوئی تجویز پاس ہو سکتی ہے جیسے کہیں سیلاب یا قدرتی آفات سے ہونے والی تباہی کے لیے ہنگامی امدادیا کہیں تعلیمی اور صحت کے مسائل میں مدد و غیره ، یوں سارے ممالک اور قوتیں عملی اعتبار سے پانچ ممالک کے شکنجہ میں ہوتی ہیں۔ صرف ضروری حد تک ہی انہیں آزادی حاصل ہے۔باقی امور میں طاقتور ممالک کی پشت پنا ہی ضروری ہے ۔
اقوام متحدہ کے موجودہ جنرل سکریڑی جن کی پیدائش 30 ؍اپریل 1949ء پرتگال کے شہر لشبونہ میں ہوئی، وہیں ان کی تعلیم مکمل ہوئی، لشبونہ سے الیکٹرک انجنیئرنگ کی ڈگری حاصل کی، مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے ۔ 1995ء تا 2002ء پرتگال کے وزیر اعظم کا منصب سنبھالا، جنوری 2017ء سے تاحال اقوام متحدہ کے پروقار منصب جنرل سیکرٹری کے عہدہ پر فائز ہیں۔ وہ خود اگرچیکہ ایک مسیحی رومن کیتھولک گھرانہ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن مختلف مناسبتوں سے اسلام اور مسلمانوں کے حق میں اپنے متوازی بیانات اور معتدل مؤقف کے سبب احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں ۔ فلسطین میں اسرائیلی مظالم کے خلاف وقتاً فوقتاً آواز بلند کرتے رہے ہیں کہ حماس کے اقدامات کو بنیاد بنا کر عام فلسطینیوں کے قتل عام کی ہرگز گنجائش نہیں،اسرائیلی حکومت وہاں فلسطینیوں کی نسل کشی کی مرتکب ہو رہی ہے ،یہ اور بات ہے کہ جنرل سکریڑی کے ذاتی خیالات کے برعکس اقوام متحدہ کے اجلاس میں جب بھی اس مسئلہ پر سنجیدہ بحث ہوئی ،دنیا کی سیر پاور طاقت امریکا نے حق ویٹو استعمال کرتے ہوئے اس آواز اور قرار داد کو نا کام بنا دیا۔
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اقوام متحدہ جس قرار داد پر عمل کرنے میں ان کی اپنی مصلحت ہو فوری وہ منظور کرلی جائے گی اور اقوام متحدہ کی چھتری تلے اس پر عمل درآمد بھی ہوگا، اور اگر ان ممالک کی مصلحت نہ ہو تو یا تو قرار داد پاس ہی نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی جائے تو اس پر عمل نہیں ہوتا ، کئی قرار دادیں ایسی ہیں جو منظور تو ہوئیں، مگر سرد خانہ میں ڈال دی گئیں۔
193 ممالک جو اس وقت اقوام متحدہ کے رکن ہیں، پانچ ممالک کے عملی لحاظ سے تابع ہوتے ہیں، اس فورم کی ایک جنرل اسمبلی ہوتی ہے ،سرکاری وفود اور نمائندوں کے خطابات، تجاویز و غیره وہیں پیش کی جاتی ہیں اور ایک مجلس خاص سیکیوریٹی کونسل ہے جس کے مستقل پانچ ممبرز ہیں اور کبھی اعزازی طور پر کسی کو عارضی رکنیت دی جاتی ہے، یوں یہ ادارہ آزادی کے نام پر غلامی اور تحفظ حقوق کے نام پر استحصال کا مرکز ہے، اس لئے گا ہے گا ہے اس اجارہ داری کے خلاف آوازیں اٹھتی رہتی ہیں کہ پانچ ممالک کی چود ہراھٹ مناسب نہیں لیکن ان احتجاجی صداؤں کی حیثیت نقار خانہ میں طوطی کی آواز سے زیادہ نہیں۔ پس ماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ تو روا ہے کہ وہ بڑے ہتھیار جنگی اسلحہ ان ممالک سے خریدیں ان کے ساتھ سمجھوتہ اور سودے بازی کریں، لیکن خود اپنے ملک میں یہ ہتھیار بنائیں، اس کی اجازت نہیں ۔
ہاں معمولی نوعیت کے اسلحہ سازی کی حد تک اجازت ہوتی ہے۔ان طاقتور ترقی یافتہ ممالک سے ہتھیاروں کی خریداری میں طرفداری مالی مفادات ، لوٹ مار خوب ہوتی ہے، ان پس ماندہ ممالک میں بااثر شخصیات کے دام لگا کر انہیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تیار کیا جاتا ہے. بلکہ طرفہ تماشہ یہ کہ بعض اوقات اقوام متحدہ کی دعوت پر اجلاس میں شرکت کے لئے اور بعض مدعوین کو امریکی حکومت ویزا دینے سے بھی انکار کر دیتی ہے حالانکہ طے شدہ قوانین کے مطابق اقوام متحدہ کے لیے مدعو کسی شخص کو ویزا دینے سے انکار نہیں کیا جاسکتا ،اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے امریکی طاقت کا۔ بہر حال ہم بات کر رہے تھے سربراہان عالم کی شہادت کے حوالہ سے مسلمانوں کے جذبہ خیرسگالی و سخاوت کی ، مسٹر انتھونیو نے کہا کہ اسلام ایک مضبوط ستون ہے ۔سلامتی عالم کے لیے، لفظ اسلام خود اپنی اصل اور مادہ کے اعتبار سے سلامتی اور امن کا مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے ۔مسلمان ایک ایسی قوم ہے کہ جب لوگوں نے مختلف آفتوں اور مصیبتوں کے بارے پناہ گزینوں کے لیے اپنے اپنے دروازےبند کر لئے، مسلمانوں نے انہیں خوش آمدید کہا اور ہر طرح کی ان کے لیے سہولت پہنچائی، شاید اس کا ایک سبب قرآن مجید پر ان کا ایمان ہے جس میں کہا گیا اگر کوئی مشرک تم سے پناہ طلب کرے تو پناہ دیجئے تاکہ وہ اللہ کا پیغام سن سکے ،پھر انہیں محفوظ ٹھکانہ تک پہنچائیے ۔
﴿ وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُونَ﴾ (سورۃ التوبہ: 6)
قرآنی تعلیمات کے مطابق یہ خیرات و سخاوت، عفو و در گذر صرف کلمہ گو مسلمانوں کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ یہ حکم قرآنی سب کے لیے عام ہے چاہے وہ مجبور شخص مسلمان ہو یا غیر مسلم ۔
سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ مسلمانوں کا کردار دنیا کی ترقی میں ناقابل فراموش ہے، چاہے وہ تہذیب و ثقافت میں ہو یا تاریخ و فلسفہ میں یا سائنسی ایجادات ہوں یا طب اور ریاضی یا آرٹ میں ، ابن سينا، الخوارزمى، الجبران وغیرہ وغیرہ کی متعدد درخشاں مثالیں موجود ہیں، جن کی کاوشوں سے دنیا کو فائدہ پہنچا، لیکن موجودہ زمانہ میں اسلا م بطور دین اور مسلمان بطور کمیونٹی ان کے ساتھ سخت ناروا سلوک اختیار کیا گیا، آج کی ایک بڑھتی ہوئی آفت islamophobia اسلامو فوبیا ہے جو دنیا بھر میں ایک مخصوص طریقہ سے پھیلائی جا رہی ہے، اس سے اسلام اور مسلمانوں کو حقارت اور نفرت سے دیکھا جانے لگا، نتیجہ میں ان کے ساتھ عدم مساوات کی روش عام ہو رہی ہے ، امیگریشن پالیسی میں تعصب، حصول شہریت میں سختی برتی جا رہی ہے جو عالمی قانون مساوات کے منافی ہے حتی کہ عام انسانی اقدار اور عدل اجتماعی کے خلاف ہے، میڈیا کے منفی کردار نے مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن بنادی، ان کے خلاف منصوبہ بندی کے ساتھ ہونے والے پروپیگنڈہ کے شدید نقصانات ہر جگہ دیکھے جا سکتے ہیں، اور ان سب کا بنیادی سبب سیاسی مذموم مقاصد کا حصول ہے، زمانہ قدیم سے یہ روش عام رہی ہے کہ لوگوں کو مذہب کے نام پر تقسیم کر کے اپنا الو سیدھا کیا جائے۔
سابق امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ مسلمانوں کے ہاں محتاجوں کی مدد زکوة ، صدقات کسی پر احسان نہیں بلکہ خوشحال لوگوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ گرد و نواح کے ضرورت مندوں کی خبر گیری کریں، یہ بلاشبہ ایسا جذبہ ہے جس سے ساری دنیا کو سیکھنا چاہئے۔ دنیا کے ایک ارب سے زیادہ لوگ یو نہی جذباتی طور پر اسلام سے محبت نہیں کرتے ۔ اسلامی تعلیمات کے گہرے نقوش سماج پر اثر انداز ہوتے ہیں، یہاں ضرورت مندوں کی مدکرنا ہر شخص اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔
کنگ چارلس نے کئی مرتبہ مسلمانوں کے جذبہ تعاون کا برملا اعتراف کیا، خود وہ چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ ہیں، برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے رمضان کی مناسبت سے اس حقیقت کو ان الفاظ میں تسلیم کیا کہ برطانیہ میں مسلم کمیونٹی سب سے زیادہ سخاوت پسند ہے ۔
The most generous community is the Muslim Community
بہت سے غیر مسلم قائدین کے لیے یہ نکتہ نا قابل فہم ہے کہ آخر وہ کیا اسباب ہیں مسلمان زکوٰۃ کی ادائیگی بغیر کسی مطالبہ یا دباؤ کے خود ہی رضا کارانہ اپنی دولت کا حساب کر کے ڈھائی فی صد کار خیر میں خرچ کرتے ہیں، دراصل اس نکتہ کو سمجھنے میں دشواری اس لیے پیش آتی ہے کہ وہ زکوة کو ٹیکس کے نظام پر قیاس کرتے ہیں، ٹیکس کی ادائیگی کے لیئے عموماً محاسب Accountant کی خدمات جاتی ہیں۔ جو آمد وخرچ کے اندارج اور ٹیکس کی بچت کے لیے ملکی قوانین کی کمزوریوں کا سہارہ لے کر ٹیکس بچانے کی راہیں تلاش کرتا ہے، اور اکثر دولت مند لوگ اور بڑے تاجر ہی ان قانونی موشگافیوں سے مستفید ہوتے ہیں، ٹیکس کی ادائیگی میں بے ضابطگیاں اور ہیرا پھیری کے ماہرین جب مسلم سماج کو دیکھتے ہیں کہ زکوة کے لیے وہ اپنی مرضی سے اپنی دولت کا حساب کر کے ادا کرتے ہیں ، بلکہ زکوٰة کے علاوہ عام صدقات کی شکل میں مزید تعاون کرتے ہیں یہی نکتہ ان کے لیے باعث حیرت ہوتا ہے، لیکن اس نکتہ کو سمجھنے کے لیے قانونی مہارت کی نہیں ایمان کی حلاوت اور عند اللہ بدلہ پر یقین کی ضرورت ہے ۔
انفاق کی مثال ایک ایسے سدابہار درخت کی ہے، جسے اندیشہ خزاں نہیں، یہ ایسا صدقہ جاریہ ہے جس کے برگ وبار سے ہردم وه مستفید ہوتا ہے زندگی میں جیتے جی ، قبر میں اور میدان محشر میں، لہٰذا جو بھی ادنی درجہ کا ایمان رکھتا ہو ، وہ خود ہی اس کار خیر میں شریک و سہیم بننا چاہے گا، کیونکہ اس مسودہ میں نقصان یا خسارہ کا کوئی اندیشہ نہیں، اسے تو خالق کائنات نے قرض سے تعبیر کیا:
﴿مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً﴾ (سورۃ البقرة :245)
اس راہ میں کمیت کہ کتنا خرچ کیا جا رہا ہے اس کی اہمیت نہیں، بلکہ کیفیت کس جذبہ سے کیا جا رہا ہے، اس کا وزن ہے ، فرمان نبوی ﷺ ہے :
«اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ»
’’تم جہنم کی آگ سے بچ سکتے ہو چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے سے ہی ہو۔‘‘ (صحیح بخاری)
بظا ہر ایک کھجور کی اہمیت نہیں لیکن اس کے اخلاص کی اہمیت ہے، اگر کوئی حسن نیت سے اتنا ہی خرچ کر سکتا ہو تو اس کے لیے وہ تنکا بھی عذاب نار سے بچنے کا سہارا ثابت ہوگا۔
بجا طور پر ایک طرف مسلمانوں کا یہ اشتیاق اور ان ہی میں ایسے نیکو کار اور اصحاب خیر بھی ہیں جو اپنی دولت کا وافر حصہ اس راہ میں اس انداز سے خرچ کرتے ہیں، اپنا نام تک ظاہر کرنے کے بجائے صرف صاحب خیر کہہ دینا کافی سمجھتے ہیں کہ وہ جس ذات وحدہ حدہ لاشریک کی راہ میں یہ عطیہ دے رہا ہے وہ عالم الغیب ہے، اس کی راہ میں خرچ کی جانے والی دولت رائیگاں نہیں جاتی۔ اگر کسی کے دل میں ایمان کی یہ پختگی ہو تو پھر وہ کسی محتسب یا وصول کنندہ کا انتظار کیوں کرے گا ۔
کسی کا انتظار کئے بغیر خود ہی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ضرورت مند کو تلاش کر کے اس تک امداد پہنچائےگا۔
اختتام رمضان کے موقع پر صدقۃ الفطر کی ادائیگی میں اس کیفیت کا مشاہدہ نسبتاً آسان ہوتا ہے کہ زیر کفالت افراد خانہ کے حساب سے فطرانہ نماز عید سے قبل غریب کی چو کھٹ تک پہنچانے کے لئے امیر بے چین رہتے ہیں، ان کی کوشش ہوتی ہے کہ نماز سے پہلے پہلے ضرورت مند تک اس کا یہ صدقہ پہنچ جائے ، اگر اطاعت و یقین کے جذبہ کو نکال دیا جائے تو اس جستجو اور تڑپ کو کیا نام دیا جائے گا کہ خود حساب کرو، ضرورت مند کو تلاش کر کے اس کے گھر تک امدا د پہنچاؤ ۔ مغربی ممالک میں بڑے بڑے ناموروں کو ٹیکس چوری کے الزام میں آئے دن سزاؤں کا سامنا کرنا ہوتا ہے اور جن ممالک میں قانون پر عمل درآمد میں کمزوریاں ہوتی ہیں وہاں ٹیکس چوری کے گر سکھانے والے ماہرین بعوض فیس یہ خدمت انجام دیتے ہیں، یقیناً ان لوگوں کے لیئے زکوة کی ادائیگی اور صدقات و خیرات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا جذبہ باعث حیرت ہی ہوگا۔
ایک موقع پر مشہور عربی ٹی وی چینل الجزیرہ نے ایک دستاویزی پروگرام نشر کیا جب صدر مشرف کے دور میں حکومتی پالیسی کے تحت کئی خانگی تعلیمی ادارے متاثر ہوئے، ایک ادارہ میں زیر تعلیم وکفالت کچھ لڑکیوں کا انٹرویو دکھایا گیا ۔ اس ادارہ میں تقریباً تین ہزار لڑکیاں زیر تعلیم تھیں، ان کی مکمل کفالت، رہائش، خوراک لباس، تعلیم وغیرہ سب ادارہ کے ذمہ تھی، حکومتی پالیسی کے سبب یہ اور ایسے کئی اداروں کو بند کیا جا رہا تھا ، بعض بچیوں نے اقوام عالم کے ضمیروں کو جھنجوڑنے والے حقائق بتائے کہ جب سے ہم نے ہوش سنبھالا یہاں کا عملہ ہی ہمارے حق میں ماں اور باپ کی حیثیت رکھتا ہے، ان کے علاوہ ہم نے کبھی اپنے والدین کو نہیں دیکھا ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ وہ وفات پا چکے ہیں، اور یہی مدرسہ ہمارا ٹھکانہ ہے اس کے سوا ہمارا کوئی دوسرا ٹھکانہ نہیں۔ ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ اب اس بندش کے بعد ہم کس شہر کا رخ کریں، لیکن اس واقعہ میں ناظرین کو حیرت زدہ کرنے والی اس حقیقت کا بھی ذکر کیا گیا کہ اتنی بڑی تعداد میں بچیوں کی مکمل کفالت کرنے والوں کے نام تک نہیں معلوم کہ اس طویل عرصہ سے کون مسیحا ان کی کفالت کر رہا ہے، اللہ ایسے محسنین کو اجر عظیم سے نوازے، یہ ایک مثال ہے ان دسیوں مثالوں میں جن کے فیوض وبرکات سے ایشیا، افریقہ، امریکا، یورپ کے متعدد لوگ مستفید ہو رہے ہیں ، نہ جانے کتنے ایسے عرب مخیر بھائی ہیں ، خاص طور پر جن کے فی سبیل اللہ انجام دیئے جانے والے کاموں کا دسواں حصہ بھی کسی غیر مسلم کی طرف سے ہو تو اسے نہ جانے کن کن القاب اور خطابات سے نوازا جاتا، لیکن یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ ان کے ناموں سے تک دنیا نا واقف ہے ، انہیں فرمان نبوی ﷺ پر یقین ہے ۔
صادق مصدوق علیہ افضل الصلاة والسلام نے فرمایا :
«وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ يَمِينُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ» (صحيح بخاری : 1423؛ صحیح مسلم : 1031)
خفیہ طور پر صدقہ کرنے والے قیامت کے دن خصوصی سائبان میں جگہ پائیں گے ۔
٭٭٭
اے ارض فلسطین
ہر ذرہ تیرا خونِ شہیداں سے ہے رنگین
پی پی کے لہو کیوں نہیں ہوتی تیری تسکین
ہر آن تیری خاک پہ انساں کی ہے تو ہین
اے ارض فلسطین
اکسیر ہے انجیر ، نہ تریاق ہے زیتون
روتا ہوں لہو پڑھتا ہوں جو سورۂ والتین
ہر خوشۂ انگور سے رہتا ہے تیرا خون
اے ارض فلسطین
یا رب یہ تِرے پیارے براہیم کی بستی
آتا ہے نظر حشر کا منظر سرِ سینین
انساں کا مقدر ہے جہاں ذلت و پستی
اے ارض فلسطین
ہاتھی کو یہ حق ہے کہ وہ چیونٹی کو کچل دے
اس دور کی تہذیب میں نافذ ہے یہ آئین
چیونٹی کو نہیں حق کہ وہ اس ظلم پہ بولے
اے ارض فلسطین
ملبے تلے بچے بھی ہیں ، بوڑھے بھی جواں بھی
اٹھتا ہے جنازہ ، نہ ہے تکفین نہ تدفین
لاشوں کے ہیں انبار میں گم باپ بھی ماں بھی
اے ارض فلسطین
یحیٰ ہیں جو مقتول تو مضروب ہیں عیسیٰ
قابض ہیں رسولوں کی وراثت پر شیاطین
محفوظ شفا خانے،نہ مسجد نہ کلیسا
اے ارض فلسطین
دعوی ہے کہ ہیں موسیٰ و ہارون کے پیرو
انسان سمجھنا انہیں انساں کی ہے تو بین
کردار میں فرعون سے بد تر ہیں مگر جو
اے ارض فلسطین
پتھر کے نہیں ہیں یہ مگر لگتے ہیں پتھر
مُردوں سے گئے گزرے ہیں سب شیخ و سلاطین
احساس نہیں ان کو گزرتی ہے جو تجھ پر
اے ارض فلسطین
بہتے ہیں لہو بن کے مسلسل مِرے آنسو
جنت میں ہیں اولاد کے اس ظلم پر غمگین
تھمتے ہی نہیں دیدۂ یعقوب سے آنسو
اے ارض فلسطين
دیتا ہوں جو بیداد و ستم پر میں دہائی
مانگوں جو دعا میں تو فرشتے کہیں آمین
فریاد مِری عرش معلیٰ کو چھو آئی
اے ارض فلسطین
خواجہ محمد عارف
٭٭٭
بھنووں کے درمیان ناک کے اوپر اگنے والے بالوں کو کاٹنے کا حکم
سوال: کیا وہ بال جو بھنوؤں کے درمیان ناک کے اوپر اُگتے ہیں، اگر بہت زیادہ ہوں اور شکل بگاڑتے ہوں، تو کیا انہیں نکالنا جائز ہے؟ خاص طور پر جب یہ بال لمبے ہوں اور نقصان دیتے ہوں؟
میں اللہ کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ میں نہ کافروں کی مشابہت اختیار کرنا چاہتی ہوں، نہ ہی یہودیوں کی، نہ بناؤٹ کے لیے کرتی ہوں۔
بس چہرہ بگڑ رہا ہے، اور یہ پورے بھنوؤں کے بال نہیں، بلکہ صرف وہ جو ناک کے اوپر جڑ کر آئے ہیں، یہی مجھے نقصان دیتے ہیں۔ والسلام علیکم।”
جواب (شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ):
جہاں تک ان بالوں کو نوچ کر (چِمٹی وغیرہ سے جڑ سے اکھاڑ دینا) نکالنے کا تعلق ہے، تو یہ حرام ہے، کیونکہ یہ نمص میں داخل ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمص (چہرے کے بال نوچنے والی) اور جس کے لیے نوچا جائے ۔۔۔ دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
لیکن اگر ان بالوں کو نوچنے کے علاوہ کسی اور طریقے سے مثلاً کاٹ کر یا مونڈ کر صاف کیا جائے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
اگرچہ بعض علماء یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بھی حرام ہے اور نمص میں داخل ہے۔
اور بہتر یہ ہے کہ عورت ان بالوں کو چھوڑ دے، یعنی انہیں چھیڑے نہیں ۔
سوائے اس صورت کے جب یہ بال اسے نقصان دیں، جیسے ان کا کوئی حصہ آنکھوں پر آ جائے، آنکھوں کو تکلیف دے، یا نظر میں رکاوٹ بنے۔ اس صورت میں اتنا حصہ کاٹنے میں کوئی حرج نہیں جو نقصان دے رہا ہو۔
٭٭٭
تبصرہ کریں