
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو تمام جہانوں کا رب ہے، اور درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد ﷺ پر، ان کے آل، اصحاب اور ان کے نیک پیروکاروں پر۔
اما بعد!اے حجاج کرام! میں آپ سب کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے (تقویٰ اختیار کرنے) کی وصیت کرتا ہوں۔ اللہ تم پر رحم فرمائے۔اللہ سے ڈرو! اللہ سے ڈرو! اس کے احکام پر عمل کر کے اور اس کی ممانعت کردہ چیزوں سے بچ کر اس سے ڈرو۔ بے شک اللہ متقیوں سے محبت کرتا ہے، اس نے انہی کا انجام بہتر بنایا ہے۔
اے اللہ کے بندو! تقویٰ دنیا اور آخرت کی بھلائی کا ذریعہ ہے۔
﴿لِلَّذِينَ اتَّقَوْا عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّهِ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ﴾
’’جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے لیے پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور اللہ کی طرف سے رضامندی۔ اور اللہ بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے۔‘‘ (آل عمران: 15)
﴿وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ﴾
’’اگر بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے، تو ہم ان پر آسمان و زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔‘‘ (الأعراف: 96)
اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے اپنے گھر کے حجاج کو مخاطب کرتے ہوئے تقویٰ کا حکم دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ﴾(البقرة: 197)
‘’اور زادِ راہ لے لو، پس بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے، اور اے عقل والو! مجھ سے ڈرو۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو آپس میں تقویٰ پر تعاون کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:
﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ (المائدة: 2)
‘’اور نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی پر تعاون نہ کرو، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘
اے بیت اللہ کے حجاج کرام! تقویٰ کا مطلب ہے اللہ سے اجر کی امید اور اس کے عذاب کا خوف رکھتے ہوئے دین پر مضبوطی سے قائم رہنا اور اس کے احکام پر عمل کرنا ہے۔ یہی وہ دین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آج ہی کے دن مکمل فرمایا، جب یہ آیت نازل ہوئی:
﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾ (المائدة: 3)
‘’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند فرمایا۔‘‘
اے مسلمانو!دینِ اسلام کے تین بڑی درجے (مراتب) ہیں:پہلا درجہ احسان کا درجہ جو کہ سب سے اعلیٰ مقام ہے، جس کی وضاحت نبی کریم ﷺ نے یوں فرمائی:
«الإحسان أن تعبد الله كأنك تراه، فإن لم تكن تراه فإنه يراك»
’’ا حسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت ایسے کرو گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اُسے نہیں دیکھ رہے، تو یقین رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔‘‘(صحیح بخاری: 50؛ صحیح مسلم: 9)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرٌ وَلَا ذِلَّةٌ ۚ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾
‘’جنہوں نے نیکی کی، ان کے لیے دنیا میں بھی بھلائی ہے، اور آخرت کا گھر تو بہت ہی بہتر ہے، اور وہ بہترین ٹھکانا ہے متقیوں کے لیے۔‘‘ (يونس: 26)
دوسرا درجہ ایمان کا درجہ، جو کہ زبان سے اقرار، دل سے تصدیق، اور اعضاء کے عمل کا نام ہے۔ یہ طاعت سے بڑھتا ہے، اور گناہوں سے کم ہوتا ہے۔ ایمان کی شاخیں ستر سے کچھ زیادہ ہیں، سب سے اعلیٰ شاخ “لا إله إلا الله” کہنا ہے، اور سب سے ادنیٰ شاخ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔
اللہ تم پر رحم فرمائے! والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، رشتہ داروں سے تعلق جوڑنا، سچ بولنا، خوش کلامی اختیار کرنا، وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری کرنا، اور عمدہ اخلاق اپنانا۔یہ سب اعمال دین اور ایمان کی پختگی کی علامت ہیں۔
﴿وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا﴾ (النساء: 36)
’’اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، والدین کے ساتھ احسان کرو، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریبی اور دور کے ہمسایوں، راہ کے ساتھیوں اور اپنے ماتحتوں سے نیکی کا سلوک کرو۔ بے شک اللہ تکبر کرنے والے فخر جتانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ﴾
’’اے ایمان والو! وعدوں کو پورا کرو۔‘‘(المائدة: 1)
﴿وَقُل لِّعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنزَغُ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوًّا مُّبِينًا﴾ (الإسراء: 53)
’’میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ ایسی بات کہا کریں جو سب سے بہتر ہو۔ بے شک شیطان لوگوں کے درمیان فساد ڈالتا ہے۔ بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔‘‘
﴿وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ 0وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا ۖ وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ﴾ (فصلت: 34-35)
’’نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتی۔ برائی کو اس طریقے سے دفع کرو جو بہترین ہو، تب تم دیکھو گے کہ جس کے درمیان اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، وہ گویا گہرا دوست بن جائے گا۔ اور یہ بات صرف انہی کو حاصل ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں، اور اسے وہی حاصل کرتے ہیں جو بڑے نصیب والے ہیں۔‘‘
ایمان کے تقاضوں میں سے یہ بھی شامل ہے کہ نعمت ملنے پر شکر کیا جائے، مصیبت آنے پر صبر کیا جائے، گناہ ہونے کے بعد سچی توبہ اور ندامت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ (الزمر: 10)
’’بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔‘‘
اور فرمایا:﴿وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ﴾ (إبراهيم: 7)
’’تمہارے رب نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا۔‘‘
اسی طرح فرمایا:
﴿وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ﴾ (هود: 3)
’’اپنے رب سے معافی مانگو، پھر اس کی طرف توبہ کرو، وہ تمہیں ایک مقررہ مدت تک اچھا سامانِ زندگی دے گا، اور ہر صاحبِ فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا۔‘‘
اے حجاجِ کرام! ایمان کے چھ ارکان ہیں:اللہ پر ایمان، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، قیامت کے دن پر اور تقدیر پر ایمان، خواہ وہ اچھی ہو یا بری۔
﴿لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ﴾ (البقرة: 177)
’’نیکی صرف یہ نہیں کہ تم اپنے چہرے مشرق یا مغرب کی طرف پھیر لو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ، آخرت، فرشتوں، کتاب اور نبیوں پر ایمان لائے۔‘‘
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ﴾ (القمر: 49)
’’ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے کے مطابق پیدا کیا ہے۔‘‘
ایمان کے ذریعے ہی دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
﴿وَعَدَ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ۚ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّهِ أَكْبَرُ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ (سورۃ التوبہ: 72)
’’اللہ تعالیٰ نے مؤمن مردوں اور عورتوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کو ایسی جنتیں عطا فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور ان کے لیے جنتِ عدن میں پاکیزہ رہائشیں ہوں گی، اور اللہ کی رضا ان سب نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔ یہی عظیم کامیابی ہے۔‘‘
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ﴾
’’جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم (شرک) سے آلودہ نہ کیا، انہی کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘(سورۃ الأنعام: 82)
اللہ پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اللہ کو اپنا رب، خالق اور مدبر مانے، اس کے صفاتِ کمال اور اسماء الحسنیٰ کو بھی پہچانے۔
﴿إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ ۗ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ 0 ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ 0وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا ۚ إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ﴾ (الأعراف: 54-56)
’’اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر عرش پر جلوہ فرما ہوا۔ وہ رات کو دن پر لپیٹ دیتا ہے، دن کو پیچھے پیچھے لاتا ہے، سورج، چاند اور ستارے اس کے حکم کے تابع ہیں۔ خبردار! اسی کے لیے ہے پیدا کرنا اور حکم دینا۔ بڑا بابرکت ہے اللہ جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ اپنے رب کو عاجزی اور نرمی سے پکارو، وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ جبکہ وہ سنور چکی ہو، اور اللہ کو خوف اور امید کے ساتھ پکارو، بلاشبہ اللہ کی رحمت نیکوکاروں سے قریب ہے۔‘‘
فرشتوں پر بھی ایمان رکھنا لازم ہے۔
﴿لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ﴾ (التحريم: 6) ’’وہ اللہ کے نافرمان نہیں ہوتے، جو حکم دیا جائے وہی کرتے ہیں۔‘‘
﴿بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ0 لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ﴾ (الأنبياء: 26-27)
’’وہ معزز بندے ہیں، اللہ سے پہلے کلام نہیں کرتے، اور اسی کے حکم سے عمل کرتے ہیں۔‘‘
﴿يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَن فِي الْأَرْضِ﴾ (الشورى: 5)
’’ وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور زمین والوں کے لیے استغفار کرتے ہیں۔‘‘
اللہ کی نازل کردہ کتابوں پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ جن میں تورات، انجیل، زبور اور دیگر صحائف شامل ہیں۔ قرآن مجید تمام کتابوں کا خلاصہ ہے، ان کی تصدیق کرنے والا اور ان پر غالب ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ0 نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنزَلَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ 0مِن قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَأَنزَلَ الْفُرْقَانَ﴾ (آل عمران: 2-4)
’’الف لام میم، اللہ، وہ زندہ جاوید ہستی، جو نظام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، حقیقت میں اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، اُس نے تم پر یہ کتاب نازل کی ہے، جو حق لے کر آئی ہے اور اُن کتابوں کی تصدیق کر رہی ہے جو پہلے سے آئی ہوئی تھیں اس سے پہلے وہ انسانوں کی ہدایت کے لیے تورات اور انجیل نازل کر چکا ہے، اور اس نے فرقان کو بھی اتارا ۔‘‘
﴿وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ﴾ (المائدة: 48)
’’پھر اے محمدؐ! ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اُس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ و نگہبان ہے۔‘‘
اللہ کے رسولوں پر ایمان بھی فرض ہے۔
﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ﴾ (البقرة: 285)
’’رسول بھی ایمان لائے ان سب پر جو ان پر نازل ہوا، اور مؤمنین بھی۔ ہم اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، ہم رسولوں کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔‘‘
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَانتَقَمْنَا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا ۖ وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ﴾ (الروم: 47)
’’ہم نے آپ سے پہلے بھی رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا، انہوں نے ان کے پاس واضح نشانیاں لائیں، پھر ہم نے مجرموں سے بدلہ لیا۔ اور مؤمنوں کی مدد کرنا ہمارے ذمے حق ہے۔‘‘
اسی طرح قیامت پر یقین رکھنا بھی ضروری ہے ، حساب کے دن اور جزا و سزا کے دن پر۔ جس میں اللہ کے اولیاء کے لیے جنت ہو گی اور اللہ کے دشمنوں کے لیے جہنم ہو گی۔
﴿وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ اتَّقَوْا أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴾ (الأعراف: 169)
’’آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔‘‘
اس بات پر ایمان رکھنا بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کو تقدیر کے مطابق پیدا کیا ہے، جو کچھ ہو چکا ہے اور جو کچھ ہونا ہے، سب لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ اللہ کی مرضی سے اور اس کی تخلیق کے مطابق ہو رہا ہے اور وہی انہیں وجود بخشتا ہے۔
﴿إِنَّ أَمْرَ اللَّهِ كَانَ فَعْلًا مَّقْدُورًا﴾ (الأحزاب: 38)
’’اللہ کا حکم ایک قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے ۔‘‘
﴿وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَّقْدُورًا﴾
’’اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے ۔‘‘ (الأحزاب: 38)
اے مسلمانو! اللہ کے مہمان حاجیو!رہی بات اسلام کی تو ہمارے نبی محمد ﷺ نے اس کی وضاحت یوں فرمائی:‘’الإسلام أن تشهد أن لا إله إلا الله، وأن محمدًا رسول الله، وتُقيم الصلاة، وتؤتي الزكاة، وتصوم رمضان، وتحج البيت إن استطعت إليه سبيلًا.’’ (رواه مسلم: 8)
‘’اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، اور اگر استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرو۔‘‘
تو ‘’لا إله إلا الله’’ کہنے کا تقاضا یہ ہے کہ عبادت صرف اللہ ہی کا حق ہے۔ کسی اور کو عبادت کا کوئی سر انجام دینا، چاہے وہ فرشتہ، نبی، نیک آدمی ہو یا ولی ہی کیوں نہ ہو، سراسر شرک ہے۔
قرآن کہتا ہے:
﴿قُلِ اللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهُ دِينِي﴾
’’کہہ دو! میں اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں، دین کو اسی کے لیے خالص رکھتے ہوئے۔‘‘(الزمر: 14)
اسی طرح فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ (البقرة: 21)
‘’اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا، تاکہ تم پرہیزگار بنو۔‘‘
پھر خبردار فرمایا:﴿فَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَتَكُونَ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ﴾ (الشعراء: 213)
‘’اللہ کے سوا کسی کو نہ پکارو، ورنہ تم عذاب پانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔‘‘
اور اہلِ کتاب کے بارے فرمایا گیا:
﴿قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍۢ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا ٱللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِۦ شَيْـًٔا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ ٱللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا ٱشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ﴾ (آل عمران: 64)
‘’کہہ دیجیے کہ اے اہلِ کتاب! آؤ! ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے: کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے، اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں۔‘‘
اے مسلمانو!توحید کو قائم رکھنا اور عبادت کو خالص کرنا عزتِ نفس اور روحانی بلندی کا ذریعہ ہے، کیونکہ بندگی صرف اللہ کے لیے ہے:
﴿وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ ۚ يُصِيبُ بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾ (يونس: 107)
‘’اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی دور کرنے والا نہیں، اور اگر وہ تم پر کوئی بھلائی نازل کرے تو کوئی اس کے فضل کو روک نہیں سکتا۔ وہ جسے چاہے نوازتا ہے، اور وہ غفور و رحیم ہے۔‘‘
اسی طرح محمد رسول اللہ کہنےکا تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ کے ہر حکم کی اطاعت کی جائے۔ آپ ﷺ کی دی ہوئی خبر پر یقین کیا جائے۔آپ ﷺ کے طریقے پر چلا جائے۔
یعنی اللہ کی عبادت صرف اسی طریقے سے کی جائے جو نبی ﷺ لے کر آئے ہیں۔فرمایا:
﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ﴾ (التوبة: 128)
‘’بے شک تمہارے پاس ایک ایسا رسول آیا ہے جو تم ہی میں سے ہے، تمہاری مشقت اس پر بھاری ہے، وہ تمہاری بھلائی کا خواہاں ہے، اور مومنوں پر نہایت شفقت و مہربانی کرنے والا ہے۔‘‘
اسی طرح فرمایا:
﴿الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ (الأعراف: 157)
’’جو اِس پیغمبر، نبی امی کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر اُنہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال او ر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے لہٰذا جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور نصرت کریں اور اُس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘
اسی طرح فرمایا:﴿فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾ (النساء: 59)
‘’اگر کسی بات میں تمہارے درمیان اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم واقعی اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی سب سے بہتر اور انجام کے لحاظ سے اچھا طریقہ ہے۔‘‘
رسالتِ محمدیہ ﷺ کو تسلیم کرنےاور آپ ﷺ کی سنت کی پیروی کرنے میں امت کے اختلافات کا علاج ہے، یہی دین کا ایک واضح سرچشمہ ہے، بدعات سے نجات کا ذریعہ ہے، دلوں کو جوڑنے کا راستہ ہے، امت میں اتحاد پیدا کرنے کا طریقہ ہے۔
پیارے بھائیو! اسلام کا دوسرا رکن: نماز کا قیام ہے، نماز بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کا ذریعہ ہے، بندے کی نجات کا راستہ ہے، بندے کے اندر اللہ کی نگرانی کا شعور پیدا کرتی ہے۔
نماز باطنی و ظاہری پاکیزگی عطا کرتی ہے، جسم و روح کی طہارت کا ذریعہ ہے۔
جماعت کی نمازمعاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے، باہمی محبت اور بھائی چارہ پیدا کرتی ہے۔قرآن کریم میں آیا ہے کہ ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ (البقرة: 238)
‘’نمازوں کی اور درمیان والی نماز کی حفاظت کرو، اور اللہ کے حضور عاجزی سے کھڑے ہو۔‘‘
﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ 0 الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾ (المؤمنون: 1-2)
‘’یقیناً کامیاب ہو گئے وہ مومن جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔‘‘
﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّاكِرِينَ﴾ (هود: 114)
‘’دن اور دیکھو، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں ‘’
اسلام کا تیسرا رکن: زکوٰۃ کی ادائیگی ہے۔ زکوٰۃ مال کا ایک مقررہ حصہ ہے جو خاص مقاصد کے لیے خرچ کیا جاتا ہے۔ اس سے معاشرے کو فائدہ پہنچتا ہے۔ دلوں سے بخل، حرص اور خود غرضی کا خاتمہ ہوتا ہے۔ انسان کو ایثار اور سخاوت کا خوگر بناتی ہے۔محتاجوں کی ضروریات پوری کرتی ہے۔معاشرتی ہم آہنگی بڑھاتی ہے۔محبت اور بھائی چارہ پروان چڑھاتی ہے۔ سماجی ربط کا عملی مظہر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ۖ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴾
‘’نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، اور جو بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے، اللہ کے پاس اس کو پاؤ گے، بے شک اللہ تمہارے عملوں کو دیکھ رہا ہے۔‘‘(البقرة: 110)
اسی طرح فرمایا:
﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾ (التوبة: 103)
‘’اے نبی! ان کے مال میں سے صدقہ لو تاکہ تم انہیں پاک کرو، اور ان کا تزکیہ کرو، اور ان کے لیے دعا کرو۔‘‘
حجاجِ کرام! چوتھا رکنِ اسلام رمضان کے روزے ہیں۔ یہ صبر، خواہشاتِ نفس کی مزاحمت، ناداروں کی بھوک و پیاس کا احساس، برے عادات سے نجات، اور عاجزی و انکساری کی تربیت کا مہینہ ہے۔ یہ بدن کی تندستی کا ذریعہ ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ 0 أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ﴾ (البقرة: 183–184)
‘’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔‘‘ یہ چند گنے چنے دن ہیں۔‘‘
پانچواں رکن بیت اللہ کا حج ہے، فرمانِ الٰہی ہے:
﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ (آل عمران: 97)
‘’اور اللہ کے لیے لوگوں پر بیت اللہ کا حج فرض ہے، جو بھی اس تک جانے کی استطاعت رکھتا ہو۔‘‘
حجاجِ بیت اللہ!اللہ نے تمہیں اپنے گھر کی حاضری اور مناسکِ حج کی ادائیگی کی توفیق دی ہے۔ حج، آخرت کی یاد دہانی، رب کی عظمت کے دلوں میں نقش ہونے، اس کے احکام کو قبول کرنے، رضا و تسلیم، اور جماعتی نظم و ضبط کی عملی تربیت ہے۔ اس میں مہمان نوازی، وقت کی پابندی، اور نفع بخش مصروفیات کا درس موجود ہے:
﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ (البقرة: 196)
‘’اور حج اور عمرہ اللہ کے لیے مکمل کرو۔‘‘
‘’حج کے مقرر دنوں میں جو شخص فرض کر لے، تو اس میں نہ بے حیائی کی بات ہے، نہ گناہ، نہ جھگڑا۔ اور جو بھی تم نیکی کرو، اللہ اسے جانتا ہے۔‘‘ (البقرہ: 196-197)
اے معزز حجاج! اللہ تعالیٰ آپ کا حج قبول فرمائے، اسے حجِ مبرور، آپ کی سعی کو مشکور، اور آپ کے گناہوں کو مغفور فرمائے۔
حجاجِ کرام! سعودی عرب کی قیادت، جو سرزمین حرمین ہے، مسجد الحرام اور دیگر مقدس مقامات کی تعمیری خدمت، حجاجِ کرام کی میزبانی، سکیورٹی، سہولیات اور خدمت کے تمام پہلوؤں میں جو غیر معمولی توجہ دیتی ہے۔ یہ سب اللہ کے فضل سے ممکن ہوا ہے، جس کے نتیجے میں آج مناسکِ حج باحفاظت، سکون و اطمینان سے ادا کیے جا رہے ہیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم حج کے نظام، قوانین، اور ہدایات کی مکمل پابندی کریں، کیونکہ یہ مقاصدِ شریعت کا ایک حصہ، ایک دینی و اخلاقی فریضہ، اور ایک مہذب طرزِ عمل ہے جو نظم، تعاون، اور آسان ادائیگیِ مناسک کو ممکن بناتا ہے۔
حجاجِ بیت اللہ! رسول اللہ ﷺ عرفات میں خطبے کے بعد ظہر و عصر کی نماز قصر و جمع کے ساتھ ادا فرماتے، سورج کے غروب تک وقوف کرتے، پھر مزدلفہ جاتے اور وہاں مغرب تین رکعت اور عشاء دو رکعت پڑھتے، اور رات وہیں بسر کرتے۔ صبح فجر کے بعد ذکر و دعا میں مشغول رہتے، پھر منیٰ جاتے، جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں مارتے، قربانی کرتے، سر منڈواتے اور پہلا تحلل حاصل کرتے۔ پھر بیت اللہ جا کر طوافِ افاضہ کرتے، بعد ازاں ایامِ تشریق کی راتیں منیٰ میں گزارتے اور ہر روز 21 کنکریاں تینوں جمرات کو مارتے، پہلے صغریٰ، پھر وسطیٰ، پھر عقبہ کو، اور پہلی دو کے بعد دعا کرتے۔ دو دن میں واپسی کی اجازت ہے:
﴿فَإِذَا قَضَيْتُم مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا ۗ فَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ 0 وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ 0 أُولَٰئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّمَّا كَسَبُوا ۚ وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ 0 وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ ۚ فَمَن تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ لِمَنِ اتَّقَىٰ ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾
‘’پھر جب تم اپنے کام پورے کر چکو تو اللہ کو یاد کرو، جیسے تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا ہی میں دے دے، ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ ‘’اور کچھ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا، یہی لوگ ہیں جنہیں ان کے اعمال کا حصہ ملے گا، اور اللہ حساب میں جلدی فرمانے والا ہے۔ اور اللہ کو ان گنے چنے دنوں میں یاد کرو۔ پس جو دو دن میں واپس ہو جائے، اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو تاخیر کرے، اس پر بھی کوئی گناہ نہیں—بشرطیکہ وہ تقویٰ اختیار کرے۔ اور اللہ سے ڈرو، اور جان لو کہ تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ (البقرة: 200)
اے مسلمانو! اللہ کے مہمانو! آج کا دن بہت عظمت و فضیلت کا حامل ہے، ایک ایسا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ بندوں کو جہنم سے نجات عطا فرماتا ہے، اور اپنے سامنے کھڑے ہوئے ان حاجیوں پر فخر کرتے ہوئے فرشتوں کے سامنے ان کی تعریف فرماتا ہے۔ پس تم اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول رہو، اس کا ذکر کرو، شکر بجا لاؤ، اور دعائیں مانگو، کیونکہ تم ایک ایسی جگہ پر ہو جہاں دعا ضرور قبول ہوتی ہے، اور سب سے افضل دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
﴿ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ (غافر: 60)
’’مجھے پکارو، میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔‘‘
پس دعاؤں میں محنت کرو اور خوشخبری پاؤ، یہ کہو:
’’اے اللہ! ہمارے گناہوں کو بخش دے، ہمارے گناہوں کو بخش دے، ہمارے گناہوں کو بخش دے!۔‘‘
اے اللہ! ہمارے معاملات کو آسان فرما، ہمارے سینوں کو کھول دے، ہمارے دلوں کو منور فرما، ہمارے اعمال اور انجام کو نیکی پر مکمل فرما! اے اللہ! ہماری اولاد کو صالح بنا، ہمیں جنت میں داخل فرما، ہمیں جنت میں داخل فرما، اور ہمیں دوزخ سے محفوظ رکھ! اے اللہ! ہمارے حج کو قبول فرما، ہماری عبادتوں اور نیک اعمال کو قبول فرما! اے اللہ! ہمیں اپنا ذکر کرنے، تیرا شکر ادا کرنے، اور تیری بہترین بندگی کرنے کی توفیق عطا فرما! اے اللہ! ہم تجھ سے دنیا، دین اور آخرت میں عافیت و سلامتی اور دائمی خیریت مانگتے ہیں!اے اللہ! مسلمانوں کے حالات کو بہتر فرما! ان کے دلوں کو باہم جوڑ دے، ان کے درمیان محبت، الفت اور اتحاد پیدا فرما! اے اللہ! ہمارے فلسطینی بھائیوں کی مدد فرما! ان کی کفالت فرما، ان کے بھوکوں کو کھانا عطا فرما، ان کے ننگوں کو لباس عطا فرما، ان کے بے سروسامانوں کو سہارا دے، ان کے زخمیوں کی مرہم پٹی فرما، ان کی خواتین کی حفاظت فرما، ان کو ان کے دشمنوں کے شر سے محفوظ فرما! اے اللہ! اپنی قوت و عزت کے ساتھ ان کے دشمنوں پر ان کی مدد فرما، اے زبردست و غالب ذات!اے اللہ! ہمارے حکمرانوں کو ہر بھلائی کی توفیق عطا فرما، انہیں ہدایت اور تقویٰ کا ذریعہ بنا! اے اللہ! ہمارے امام اور خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو توفیق عطا فرما! اے اللہ! ان دونوں کو ان کے اسلام اور مسلمانوں کے لیے کیے گئے عظیم خدمات کا بہترین بدلہ عطا فرما!
﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ (البقرة: 201)
’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھ!۔‘‘
﴿سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ 0 وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ 0 وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (البقرة: 201)
’’پاک ہے تیرے رب کی ذات، جو ہر اس بات سے منزہ ہے جو یہ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں! سلام ہو اللہ کے رسولوں پر! اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، جو تمام جہانوں کا رب ہے!
اللہ تعالیٰ کی رحمتیں، برکتیں اور سلام ہوں ہمارے نبی محمد ﷺ پر، آپ کے آل و اصحاب پر، تمام کے تمام۔
تبصرہ کریں