
ہر طرح کی حمد وثنا اللہ ہی کے لیے ہے، وہ حکیم و خبیر ہے، علیم و قدیر ہے۔
﴿يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ ۗ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ﴾
’’ جو رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے جس نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کیے سب اس کے فرمان کے تابع ہیں خبردار رہو! اُسی کی مخلوق ہے اور اسی کا امر ہے بڑا با برکت ہے اللہ، سارے جہانوں کا مالک وپروردگار ۔‘‘ (سورۃ الأعراف: 54)
﴿ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ ﴾
’’یہ ہے اللہ تمہارا رب، کوئی الٰہ اس کے سوا نہیں ہے، ہر چیز کا خالق، لہٰذا تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز کا کفیل ہے۔‘‘ (سورۃ الانعام: 102)
اس نے قرآن کریم کو مخلوق پر رحمت کے طور پر ان کے حالات کی اصلاح کے لئے نازل کیا، فرمایا:
﴿كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِن لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِير﴾
’’ یہ ایسی کتاب ہے، جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوئی ہیں، ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے۔‘‘ (سورۃ هود: 1)
﴿إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا﴾
’’بیشک یہ قرآن اس راستے کی ہدایت دیتا ہے جو سب سے سیدھا ہے اور خوشخبری دیتا ہے ان مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں کہ ان کے لئے بڑا اجر ہے۔‘‘ (سورۃ الإسراء: 9)
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ نے مہربانی فرما کر محمد ﷺ کو لوگوں کی طرف بھیجا تاکہ وہ ان کو بھلائی کی طرف بلائیں، ان کے ذریعے لوگوں پر رحمت نازل ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُمْ بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ * الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾
’’ میری رحمت تمام چیزوں کے لیے کشادہ ہے، تو میں اسے ان لوگوں کے لئے لازم کر دوں گا جو تقوی اختیار کرتے ہیں، زکوٰة دیتے ہیں، جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں، جو رسول نبیِّ امی کی پیروی کرتے ہیں جن کو وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، وہ ان کو نیک باتوں کا حکم دیتا ہے اور برے کاموں سے روکتا ہے اور پاک چیزوں کو ان کے لئے حلال کرتا ہے اور گندی چیزوں کو ان پر حرام کرتا ہے، ان سے ان کے بوجھ اور وہ زنجیریں اتارتا ہے جو ان پر تھیں، جو لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں، اس کی تعظیم کرتے ہیں، اس کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کی پیروی کرتے ہیں جو اس کے ساتھ اتارا گیا ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ (سورۃ الأعراف: 156-157)
﴿قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَاتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ﴾
’’کہہ دو کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں جس کی بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین میں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، پس اللہ اور اس کے رسول نبی امی پر ایمان لاؤ جو اللہ اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے اور اسی کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ۔‘‘ (سورۃ الأعراف: 158)
تو اللہ کی رحمتیں اور سلامتیاں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے اہل بیت پر، صحابہ کرام پر اور آپ ﷺ کی پیروی کرنے والوں پر۔
بعدازاں!
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَالِدِهِ شَيْئًا ۚ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ﴾
’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، اس دن سے ڈرو جب کوئی باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام نہ آئے گا، نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کے ہی کچھ کام آ سکے گا۔ بے شک اللہ کا وعدہ سچ ہے، تمہیں دنیا کی زندگی دھوکہ نہ دے اور نہ تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ باز دھوکہ دے۔ ‘‘ (سورۃ لقمان: 33)
بے شک جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں، ان کے لئے بہترین انجام اور دنیا اور آخرت کی کامیابی یقینی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَيُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ لَا يَمَسُّهُمُ السُّوءُ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾
’’ اللہ ان لوگوں کو بچا لے گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، انہیں کوئی برائی نہیں چھوئے گی اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘ (سورۃ الزمر: 61)
﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا * وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ﴾
’’اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لئے راستہ نکال دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا، اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اسے کافی ہے۔‘‘ (سورۃ الطلاق: 2-3)
﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا﴾
’’جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے کام میں آسانی پیدا کر دیتا ہے۔‘‘ (سورۃ الطلاق: 4)
﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُعْظِمْ لَهُ أَجْرً﴾
’’ جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کی برائیاں دور کر دیتا ہے اور اس کا اجر بڑا بنا دیتا ہے۔‘‘ (سورۃ الطلاق: 5)
اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی عبادت کو صرف اپنے رب کے لئے مخصوص کریں اور کسی دوسرے کو اس میں شریک نہ کریں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾
’’حکم تو صرف اللہ کا ہے، اس نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ (سورہ يوسف: 40)
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾
’’اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم متقی بنو۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 21)
کلمہ شہادت کا یہی مفہوم ہے کہ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، یہ اسلام کی علامت ہے اور یہی نجات کا ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ﴾ (البقرة: 163)
’’اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ رحمٰن اور رحیم ہے‘‘ (البقرة: 163)
﴿هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾
’’وہی ہے جو تمہیں رحم مادر میں جیسی چاہتا ہے صورتیں دیتا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 6)
کلمہ شہادت میں توحید کی گواہی کے ساتھ رسالت کی گواہی بھی شامل ہے، کہ محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَٰكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا﴾
’’محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں، اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘ (سورۃ الأحزاب: 40)
یہ دونوں گواہیاں اسلام کا پہلا رکن ہیں۔ ان کے بعد اسلام کے ارکان میں نماز قائم کرنا بھی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ﴾
’’ نماز قائم کرو، بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے، اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے، اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘ (سورۃ العنكبوت: 45)
پھر زکوٰة کی ادائیگی بھی ارکانِ اسلام میں شامل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾(التوبة: 103)
’’ان کے مالوں میں سے صدقہ لو تاکہ تو انہیں پاک کرے اور ان کا تزکیہ کرے، اور ان کے لئے دعا کر، بے شک تیری دعا ان کے لئے باعث سکون ہے، اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے‘‘ (التوبہ: 103)
اسی طرح رمضان کے روزے رکھنا بھی ارکانِ اسلام میں سے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾
’’رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور ہدایت کی واضح نشانیاں ہیں اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے، پس تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پائے وہ اس کے روزے رکھے۔‘‘ (سورۃ البقرة: 185)
اللہ کے گھر کا حج کرنا بھی ارکانِ اسلام میں سے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ * لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ﴾
’’لوگوں میں حج کا اعلان کرو، وہ تمہارے پاس پیدل آئیں گے اور ہر دور دراز راستے سے سفر کرنے والی اونٹنیوں پر آئیں گے، تاکہ وہ اپنے فائدے حاصل کریں ۔‘‘ (سورۃ الحج: 27)
نبی ﷺ نے فرمایا:
«الإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلً»
’’اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکوٰة دو، رمضان کے روزے رکھو، اگر استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرو۔‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ایمان یہ ہے کہ
تم اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، آخرت کے دن، اور تقدیر کے اچھے اور برے حصے پر ایمان لاؤ۔ احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہو سکے تو کم از کم ایسے کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔
اے مومنو! یہ اللہ کا دین اور اس کی شریعت ہے جو اس نے اپنی مخلوق کے لئے پسند کی ہے۔ یہ اس کی مہربانی ہے کہ یہ شریعت ان کے لئے بھلائیاں اور فائدے لاتی ہے اور ان سے برائیوں اور نقصانات کو دور کرتی ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر عرفات کے دن یہ آیت نازل فرمائی:
﴿ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلْإِسْلَامَ دِينًا﴾ (المائدة: 3)
’’آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا، اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا”‘‘(المائدة: 3)
اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾
’’ ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ (سورۃ الأنبياء: 107)
اسی واضح اصول کے تحت اس مبارک شریعت نے فائدوں کو حاصل کرنے اور نقصانات کو دور کرنے یا ان میں کمی کرنے کی تلقین کی ہے، نقصانات کو دور کرنا فائدوں کو حاصل کرنے پر مقدم ہے، اہم تر فوائد کو حاصل کرنے کے لئے کم اہمیت رکھنے والے فائدے کو چھوڑا جا سکتا ہے اور بڑے نقصانات سے بچنے کے لیے چھوٹے نقصانات کو برداشت کیا جا سکتا ہے۔ شریعت نے تاکید کی ہے کہ نقصان کو دور کیا جائے، جیسا کہ حدیث میں ہے:
«لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ»
’’نہ کسی کو نقصان پہنچاؤ اور نہ کوئی آپ کو نقصان پہنچائے۔‘‘
نقصان کو جتنا ممکن ہو دور کیا جائے۔ اسی اصول کے تحت شریعت نے ہر اس چیز کا حکم دیا ہے جو زندگی کو خوشحال اور ترقی کی طرف لے جانے والی ہے، اسی طرح دوسروں کو نقصان پہنچانے یا ان کو اذیت دینے سے روکا ہے۔ پھر انصاف، اچھے اخلاق، والدین کی خدمت، رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ تعلق، سچائی، حقوق کی حفاظت، امانتوں کی ادائیگی، معاہدوں کی پابندی، اورحکمرانوں کی اطاعت کا حکم دیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ﴾
’’بے شک اللہ عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور بے حیائی، برے کاموں اور سرکشی سے روکتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سمجھو۔‘‘ (سورۃ النحل: 90)
اسی طرح فرمایا:
﴿وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدتُّمْ وَلَا تَنقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا ۚ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ﴾
’’ اللہ کا عہد پورا کرو جب تم نے عہد کیا ہو، قسموں کو مضبوط کرنے کے بعد نہ توڑو جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہو، بے شک اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘ (سورۃ النحل: 91)
اسی طرح فرمایا:
﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ۚ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا﴾
’’بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کو پہنچاؤ، اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو، بے شک اللہ تمہیں بہترین نصیحت کرتا ہے، بے شک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔‘‘ (سورۃ النساء: 58)
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾
’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو، اور تم میں سے جو حکام ہیں ان کی بھی، پھر اگر تم کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو، یہی بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے اچھا ہے۔‘‘ (سورۃ النساء: 59)
حکمتوں بھری شریعت نے ضروریاتِ خمسہ کی حفاظت کی تاکید کی ہے، جنہیں تمام شریعتوں میں معتبر رکھا گیا ہے، یعنی دین، نفس، عقل، مال، اور عزت آبرو۔ شریعت اسلامی نے ان پر دست درازی کو قابل سزا جرم قرار دیا ہے۔
ان بنیادی ضرورتوں کی حفاظت جنت میں داخل ہونے، اللہ کی رضا، اور دنیا میں امن، خوشحالی، اور ترقی کا سبب ہے۔ ان پر دست دارزی آخرت کی سزا کا باعث ہے۔ اسی لئے حج کے خطبے میں نبی ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا»
’’بیشک تمہارے خون، تمہارے مال، اور تمہاری عزتیں تم پر حرام ہیں، جیسے کہ آج کا دن تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں تمہارے لئے حرام ہے ۔‘‘(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
دین ایک ضرورت ہے، کیونکہ انسان اپنے رب کی عبادت کے بغیر نہیں رہ سکتا، اسی کے لئے تو اسے پیدا کیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾ (الذاريات: 56)
’’ میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے‘‘ (الذاريات: 56)
﴿قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُون﴾
’’کہو! میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے، اور ہر مسجد میں اپنے چہروں کو سیدھا رکھو اور دین کو اس کے لئے خالص کرتے ہوئے اس سے دعا کرو، جیسے اس نے تمہیں پیدا کیا ویسے ہی تم واپس جاؤ گے۔‘‘ (سورۃ الأعراف: 29)
﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ فَمِنْهُمْ مَنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُمْ مَنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ﴾
’’ ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو، پھر ان میں سے کچھ کو اللہ نے ہدایت دی، اور کچھ پر گمراہی ثابت ہو گئی، تو زمین میں چلو پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔‘‘ (سورۃ النحل: 36)
اللہ تعالیٰ نے جان کی حفاظت اور خونریزی کو حرام قرار دیتے ہوئے فرمایا:
﴿وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا * وَمَنْ يَفْعَلْ ذَٰلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا﴾
’’اس جان کو نہ مارو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ، اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر رحم کرنے والا ہے، جو بھی ظلم اور زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا ، تو ہم اسے آگ میں داخل کریں گے، اور یہ اللہ کے لئے آسان ہے۔‘‘ (سورۃ النساء: 29-30)
اسی طرح مال کی حفاظت کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ﴾
’’اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ، سوائے اس کے کہ تجارت ہو آپس کی رضامندی سے۔‘‘ (سورۃ النساء: 29)
پھر عقل کی حفاظت کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ * إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ﴾
’’اے ایمان والو! بے شک شراب، جوا، بت، اور پانسے ناپاک ہیں، شیطانی عمل ہیں، ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ، شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روکے، تو کیا تم باز آؤ گے؟‘‘ (سورۃ المائدة: 90-91)
پھر لوگوں کی عزتوں پر حملے سے منع کرتے ہوئے فرمایا:
﴿وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا﴾
’’ جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بغیر ان کے کئے ستاتے ہیں، انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اٹھایا۔‘‘ (سورۃ الأحزاب: 58)
اسی طرح فرمایا:
﴿إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾
’’بے شک جو لوگ پاکدامن، بھولی بھالی مومنہ عورتوں پر بہتان باندھتے ہیں، ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے، اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔‘‘ (سورۃ النور: 23)
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَىٰ أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ ٱلِٱسْمُ ٱلْفُسُوقُ بَعْدَ ٱلْإِيمَانِ ۖ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ﴾
’’اے ایمان والو! نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں، اور اپنے آپ کو عیب نہ لگاؤ، اور ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو، ایمان کے بعد فسق برا نام ہے، اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔‘‘ (سورۃ الحجرات: 11)
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ﴾
’’اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہیں، اور جاسوسی نہ کرو، اور نہ تم میں سے کوئی دوسرے کی غیبت کرے، کیا تم میں سے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ تو تم اسے ناپسند کرو گے، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔‘‘ (سورۃ الحجرات: 12)
پھر شریعت نے مزید یہ فرمایا کہ وسائل وذرائع کے احکام بھی مقاصد اور نتائج کے مطابق ہوتے ہیں، جو واجب کو تکمیل کے لئے ضروری ہو وہ بھی واجب ہے۔ جو چیز شریعت کے مقاصد کی تکمیل کے لئے ضروری ہو، وہ شرعی طور پر مطلوب ہے۔ کیونکہ جب بنیادی مقاصد اور مصلحتوں تک رسائی اسباب اور وسائل کے بغیر ممکن نہیں، تو ان کے احکام بھی مقاصد کے مطابق ہونے ضروری تھے۔ اس لئے ہر مومن کے لئے لازم ہے کہ وہ ان پانچ بنیادی ضرورتوں کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کرے، کیونکہ یہ مخلوق کی سلامتی، زندگی کے استحکام، امن کی فراہمی، اور لوگوں کے دینی اور دنیاوی فوائد کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ہیں۔ ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ شریعت کے مقاصد کی تکمیل میں تعاون کرے۔ ہر ایک کے عہدے اور حیثیت کے مطابق، اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کی حفاظت کرے، ہمیں اپنی، خصوصاً اپنی نئی نسلوں کی تربیت کرنی چاہئے تاکہ وہ بھی ان ضروریات کی قدر کریں۔ اگرچہ ان پانچ بنیادی ضروریات کی حفاظت ہر جگہ اور ہر وقت واجب ہے، مگر ان مقاماتِ مقدسہ میں اس کی حفاظت کی تاکید زیادہ ہو جاتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ﴾
’’ جو بھی اس میں ظلم کے ساتھ الحاد کی ارادہ کرے گا، ہم اسے دردناک عذاب کا مزا چکھائیں گے۔‘‘ (سورۃ الحج: 25)
حج میں شعائر اللہ کا اظہار بھی ہے، اللہ کی عبادت میں اخلاص بھی ہے، یہ سیاسی نعروں یا گروہ بندیوں کی جگہ نہیں ہے، اس لیے ان قوانین اور تعلیمات کی پابندی ضروری ہے جو مناسک اور شعائر کی پرامن ادائیگی کے لیے ضروری ہیں۔
اے بیت اللہ کے حجاج! آپ میدانِ عرفات کے عظیم مقام پر ہیں، اللہ آپ پر اپنے فرشتوں کے سامنے فخر کرتا ہے، یہ ایک مقدس مقام ہے اور فضیلت والا زمانہ ہے، جس میں نیکیاں بڑھ جاتی ہیں، گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے، اور درجات بلند ہوتے ہیں۔ اللہ کو اپنے عمل کی بہتری دکھاؤ، سنت کی پیروی کرو، نبی کریم ﷺ کی اقتدا کرو، آپ ﷺ نے اس مقام پر خطبہ ارشاد فرمایا، پھر بلال کو اذان دینے کا حکم دیا، پھر اقامت کہی، آپ ﷺ نے یہاں دو رکعت نماز ظہر پڑھائی، پھر بلال نے دوبارہ اقامت کہی، اور آپ ﷺ نے دو رکعت نماز عصر پڑھائی، جمع اور قصر کے ساتھ، پھر نبی ﷺ اپنی اونٹنی پر کھڑے ہو کر اللہ کو یاد کرنے اور دعا کرنے میں مصروف رہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، پھر وہ سکون اور وقار اور نرمی کی تاکید کرتے ہوئے مزدلفہ کی طرف چل پڑے، وہاں تین رکعت مغرب اور دو رکعت عشاء کی نماز پڑھائی، پھر وہیں پر رات بسر کی، فجر بھی وہیں پڑھی، پھر دعا میں مصروف ہو گئے یہاں تک کہ روشنی پھیل گئی، پھر منیٰ کی طرف گئے ، اور جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں، قربانی کی، اور اپنے بال منڈوائے، پھر طواف افاضہ کیا، پھر منیٰ واپس گئے اور ایام تشریق میں اللہ کی یاد کثرت سے کرتے رہے، تکبیر، تحمید، اور تہلیل کرتے رہے، تین جمرات کو زوال کے بعد کنکریاں ماریں، جمرہ صغری اور وسطی کے بعد دعا کی، اہل اعذار کو منیٰ میں رات نہ گزارنے کی اجازت دی۔ رسول اللہ ﷺ کی سنت یہ ہے کہ تیرہویں دن تک منیٰ میں قیام کیا جائے، جو کہ افضل ہے، بارہویں دن جلدی نکلنے کی اجازت بھی دی۔ جب حج سے فارغ ہو گئے اور سفر کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے طواف وداع کیا۔
اے بیت اللہ کے حجاج! رسول اللہ ﷺ نے عرفات میں روزہ نہیں رکھا تاکہ ذکر اور دعا میں آسانی ہو، بلکہ عرفات میں اللہ کو یاد کیا اور دعا میں وقت گزارا، آپ بھی رسول اللہ ﷺ کی پیروی کریں۔ اپنے رب سے عاجزی اور خفیہ طریقے سے دعا کریں، بے شک اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، اس سے خوف اور امید کے ساتھ دعا کریں، بے شک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔ اپنے لئے، اپنے والدین کے لئےاور جو آپ سے تعلق رکھتے ہیں ان کے لئے دعا کریں، کیونکہ جو شخص اپنے بھائی کے لئے اس کی غیر موجودگی میں دعا کرتا ہے، فرشتہ اس کے لئے کہتا ہے آمین اور تمہارے لئے بھی۔
فلسطین میں اپنے بھائیوں کے لئے دعا کریں جن پر مصیبت آئی ہے اور وہ دشمن کی ایذا رسانی سے تکلیف میں ہیں، خونریزی اور فساد سے تنگ آ چکے ہیں، کھانا، دوا، اور کپڑے جیسی ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔ ان لوگوں کے لئے دعا کریں جو ان کا بھلا کرنے والے ہیں، ان میں حرمین شریفین کی خدمت کرنے والے شامل ہیں، جو مہمانانِ رحمٰن کے آرام کے لئے محنت کرتے ہیں، جن میں سر فہرست خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد شامل ہیں۔
اے اللہ! اے زندہ وجاوید! اے رب ذو الجلال! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ اپنے فضل اور احسان کے ساتھ خادم حرمین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کو ہر خیر کی توفیق دے۔
اے اللہ! ان کا مددگار اور نصرت کرنے والا بن جا، اے اللہ! انہیں ان کی عظیم خدمات پر بہترین اجر عطا فرما، ان کی نیکیوں میں اضافہ فرما، ان سے راضی ہو جا۔
اے اللہ!حاجیوں کا حج قبول فرما، ان کے معاملات آسان بنا، انہیں ان کے ممالک میں سلامتی اور فوائد کے ساتھ لوٹا، ان کے گناہوں کو معاف فرما، ان کی توبہ قبول فرما، اور ان کی حاجات کو پورا فرما۔
اے اللہ! مسلمانوں اور مومنوں کو معاف فرما، انہیں ہر برائی اور تکلیف سے محفوظ فرما، ان کے دین، امن، خون، مال، عقل، اور عزتوں کو محفوظ فرما، ان کے لئے فائدے اور خیرات لکھ دے، ان سے شرور اور برائیوں کو دور فرما۔
اے اللہ! ان کے دلوں کو درست فرما، انہیں ان کے وطنوں میں امن عطا فرما، ان کی بھوک دور فرما، ان کی روزی میں برکت دے، ان کے تمام معاملات کو سنبھال لے۔
﴿سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ * وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ * وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾
’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، ان باتوں سے یہ جو یہ لوگ بنا رہے ہیں، سلام ہے مرسلین پر، اور ہر طرح کی حمد وثا اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔‘‘ (سورۃ الصافات: 180-182)
٭٭٭
عاشورہ کا روزہ
سیدنا عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ نبی ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے، اور یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: (یہ (روزہ)کیوں رکھتے ہو؟) تو انہوں نے کہا: ’’(اس لئے کہ )یہ خوشی کا دن ہے، اس دن میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دشمن سے نجات دلائی تھی، تو سیدنا موسیٰ نے روزہ رکھا۔‘‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا: (میں سیدنا موسیٰ کے ساتھ تم سے زیادہ تعلق رکھتا ہوں) تو آپ ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا، اور روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا۔‘‘
عاشوراء کے روزے سے صرف صغیرہ گناہ مٹتے ہیں، جبکہ کبیرہ گناہوں کیلئے خصوصی توبہ کی ضرورت ہوگی۔امام نووی کہتے ہیں:
’’عرفہ کے دن کا روزہ تمام چھوٹے گناہوں کو مٹا دیتا ہے، تو حدیث کا مفہوم یہ ہوگا کہ: کبیرہ گناہوں کے علاوہ تمام گناہ مٹ جاتے ہیں۔‘‘
اس کے بعد امام نووی کہتے ہیں کہ
’’عرفہ کے دن کا روزہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، جبکہ عاشوراء کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے، اسی طرح جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔‘‘
مذکورہ تمام اعمال گناہوں کو مٹانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور چنانچہ اگر کوئی صغیرہ گناہ موجود ہوا تو وہ مٹ جائے گا، اور اگر صغیرہ یا کبیرہ کوئی بھی گناہ نہ ہوا تو اس کے بدلے میں نیکیاں لکھ دی جائیں گی، اور درجات بلند کر دئیے جائیں گے، اور اگر کوئی ایک یا متعدد کبیرہ گناہ ہوئے، لیکن کوئی صغیرہ گناہ نہ پایا گیا ، تو ہمیں امید ہے کہ ان کبیرہ گناہوں میں کچھ تخفیف ہو جائے گی۔‘‘(المجموع شرح المهذب )
شیخ الاسلام ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ
’’وضو، نماز، ایسے ہی رمضان ، یوم عرفہ ، اور عاشوراء کے روزے صرف صغیرہ گناہوں کو ہی مٹا سکتے ہیں۔‘‘
(الفتاوى الكبرىٰ)
٭٭٭
تبصرہ کریں