
یاد رکھیں کہ مال و دولت بذات خود بری چیز نہیں ہے ، نہ ہی مالدار لوگ برے ہوتے ہیں ، اگر یہ مال حلال آمدن سے آئے تو مال کے کئی فوائد ہیں ، باقی یہ بات مسلم ہے کہ حرام آمدن سے کمایا ہوا مال وبال ہے ، مال کے ذریعے انسان کئی خیر کے کام کر سکتا ہے ، دنیا و آخرت کی بھلائیوں کو سمیٹ سکتا ہے ، جنت کا سودا بھی مال کے ذریعے کر سکتا ہے ۔
1۔اسلام ترک الدنیا کی تعلیم نہیں دیتا ہے:
دیگر مذاہب کی طرح اسلام ترک دنیا کی تعلیم نہیں دیتا ہے ، باقی مذاہب میں نیک اور متقی انسان اس کو کہا جاتا ہے ، جو پوری دنیا کو ترک کرکے آ کر عبادت خانے میں بیٹھ جائے ، اسلام میں یہ تعلیم نہیں ہے ، بلکہ نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ
﴿وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا﴾
’’اور دنیا سے اپنا حصہ مت بھول۔‘‘( القصص : 77)
اس طرح نبی کریم ﷺ کثرت کے ساتھ مندرجہ ذیل دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! مجھے دنیا و آخرت کی بھلائی نصیب فرما ۔
﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ (سورۃ البقرة : 201)
’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘
2۔نبی کریم ﷺ کی غِنیٰ کے لیے التجائیں
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ
«أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَی وَالتُّقَی وَالْعَفَافَ وَالْغِنَی» (صحيح مسلم : 2721)
’’آپﷺ «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَی وَالتُّقَی وَالْعَفَافَ وَالْغِنَی» دعا فرماتے تھے اے اللہ میں تجھ سے ہدایت تقوی پاکدامنی اور غنی مانگتا ہوں۔‘‘
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں
“أَنَّ مُكَاتَبًا جَاءَهُ، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ عَجَزْتُ عَنْ كِتَابَتِي فَأَعِنِّي، قَالَ: أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلِ صِيرٍ دَيْنًا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْكَ ؟ قَالَ: قُلْ: اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ”
’’ایک مکاتب غلام نے ان کے پاس آ کر کہا کہ میں اپنی مکاتبت کی رقم ادا نہیں کر پا رہا ہوں ، آپ ہماری کچھ مدد فرما دیجئیے تو انہوں نے کہا: کیا میں تم کو کچھ ایسے کلمے نہ سکھا دوں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سکھائے تھے ؟ اگر تیرے پاس ’صیر‘ پہاڑ کے برابر بھی قرض ہو تو تیری جانب سے اللہ اسے ادا فرما دے گا، انہوں نے کہا: کہو : «اَللهم اکْفِنْيْ بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأْغْنِنِيْ بِفَضْلِكَ عَمّْنْ سِوَاك»’’اے اللہ! تو ہمیں حلال دے کر حرام سے کفایت کر دے، اور اپنے فضل (رزق، مال و دولت) سے نواز کر اپنے سوا کسی اور سے مانگنے سے بے نیاز کر دے۔‘‘(جامع ترمذی: 3563)
ملاحظہ : اگر مال و دولت بری چیز ہوتی تو نبی کریم ﷺ نے غنی کے لیے دعائیں نہیں کرتے ، نبی کریم ﷺ کا غنی کے لیے دعائیں کرنا یہ دلیل ہے کہ مال و دولت بری چیز نہیں ہے۔
3۔نبی کریم ﷺ کا فقر سے پناہ مانگنا:
مسلم بن ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے ۔
“اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، فَكُنْتُ أَقُولُهُنَّ، فَقَالَ أَبِي: أَيْ بُنَيَّ، عَمَّنْ أَخَذْتَ هَذَا، قُلْتُ: عَنْكَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَقُولُهُنَّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ” (سنن نسائی : 1348)
«اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ» ’’اے اللہ میں کفر سے، محتاجی سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں تو میں بھی انہیں کہا کرتا تھا، تو میرے والد نے کہا: میرے بیٹے! تم نے یہ کس سے یاد کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ سے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ انہیں نماز کے بعد کہا کرتے تھے۔‘‘
ملاحظہ : نبی کریم ﷺ نے دعا میں کفر و فقر کو ملا دیا ہے ، اس لیے کہ فقر کفر کی طرح خطرناک ہے ، کیونکہ فقیر بندہ ایک ایک لقمے کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے ، جب اپنے بچوں کو فقیر ہاتھ پھیلاتے دیکھتا ہے ، تو اس سے یہ منظر کیسے برداشت ہوگا ، فقیر سے یہ بعید نہیں ہے کہ وہ حرام کھائے ، فقیر حلت و حرمت کا لحاظ نہیں رکھے گا ۔ اس لیے نبی کریم ﷺ نے فقر سے پناہ طلب کی ہے ۔
4۔نبی کریم ﷺ کی زبانِ مبارک سے صحابہ کو مالداری کی دعائیں:
نبی کریم ﷺ نے صحابہ کو مال کے حوالے سے دعائیں دی تھی ۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا : یا رسول اللہ! انس رضی اللہ عنہ آپ کا خادم ہے اس کے لیے دعا فرما دیں ۔ نبی کریم ﷺ نے دعا کی تھی کہ
“اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ” ’’اے اللہ! اس کے مال و اولاد کو زیادہ کر اور جو کچھ تو نے اسے دیا ہے اس میں برکت عطا فرما۔‘‘ (صحيح بخاری: 6344)
5۔نبی کریم ﷺ کا صحابی کو مکمل مال وصیت کرنے سے روکنا
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔
“جَاءَ النَّبِيُّ ﷺ يَعُودُنِي وَأَنَا بِمَكَّةَ، وَهُوَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا، قَالَ: يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ عَفْرَاءَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ، قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَالشَّطْرُ، قَالَ: لَا، قُلْتُ: الثُّلُثُ، قَالَ: فَالثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ فِي أَيْدِيهِمْ، وَإِنَّكَ مَهْمَا أَنْفَقْتَ مِنْ نَفَقَةٍ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ حَتَّى اللُّقْمَةُ الَّتِي تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ، وَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَرْفَعَكَ فَيَنْتَفِعَ بِكَ نَاسٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا ابْنَةٌ”
’’نبی کریم ﷺ حجۃ الوداع میں میری عیادت کو تشریف لائے ، میں اس وقت مکہ میں تھا ۔ نبی کریم ﷺ اس سر زمین پر موت کو پسند نہیں فرماتے تھے جہاں سے کوئی ہجرت کر چکا ہو ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ ابن عفراء (سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ) پر رحم فرمائے ، میں عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اپنے سارے مال و دولت کی وصیت کر دوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ نہیں ، میں نے پوچھا پھر آدھے کی کر دوں؟ آپ ﷺ نے اس پر بھی یہی فرمایا نہیں ، میں نے پوچھا پھر تہائی کی کر دوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا تہائی کی کر سکتے ہو اور یہ بھی بہت ہے ، اگر تم اپنے وارثوں کو اپنے پیچھے مالدار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب تم اپنی کوئی چیز (اللہ کے لیے خرچ کرو گے) تو وہ خیرات ہے ، یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے (وہ بھی خیرات ہے) اور (ابھی وصیت کرنے کی کوئی ضرورت بھی نہیں) ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں شفاء دے اور اس کے بعد تم سے بہت سے لوگوں کو فائدہ ہو اور دوسرے بہت سے لوگ (اسلام کے مخالف) نقصان اٹھائیں ۔ اس وقت سعد رضی اللہ عنہ کی صرف ایک بیٹی تھی۔‘‘(صحيح بخاری: 2742)
6۔قرآن کا مال کو فضل اور خیر کہنا
1۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
﴿فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾(سورۃ الجمعہ : 10)
’’پھر جب نماز پوری کر لی جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل سے (حصہ) تلاش کرو اور اللہ کو بہت یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘
مندرجہ بالا آیت میں مال کو فضل کہا گیا ہے کہ جب تم جمعے کی نماز سے فارغ ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل یعنی مال تلاش کرو ۔
2۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
﴿كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ﴾ (سورۃ البقرة : 180)
’’تم پر لکھ دیا گیا ہے، جب تم میں سے کسی کو موت آپہنچے، اگر اس نے کوئی خیر چھوڑی ہو، اچھے طریقے کے ساتھ وصیت کرنا ماں باپ اور رشتہ داروں کے لیے، متقی لوگوں پر یہ لازم ہے۔‘‘
مندرجہ بالا آیت میں مال کو خیر کہا گیا ہے ، موت کے وقت خیر یعنی مال چھوڑا ہو تو وہ وصیت کرے ۔
7۔مال: اعانت کا مؤثر وسیلہ
ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
﴿ وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا﴾
’’اور وہ مالوں اور بیٹوں کے ساتھ تمہاری مدد کرے گا اور تمھیں باغات عطا کرے گا اور تمھارے لیے نہریں جاری کردے گا۔‘‘(سورۃ نوح : 12)
8۔مال کی حفاظت پر شہادت کا درجہ:
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا :
“مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ” (صحيح بخاری: 2480)’’جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کردیا گیا وہ شہید ہے۔‘‘
9۔کمانے والا، شریعت کی نظر میں معزز
یاد رکھیں کہ مال انسانی ضرورت ہے اور مال مقاصد شریعہ میں سے ہے ، آپ کا کھانا پینا ، علاج معالجہ اور تعلیم مال سے وابستہ ہے ، اس لیے ہر انسان کا اتنا مال کمانا واجب ہے کہ اس مال سے اس کی ضرورتیں پوری ہوں ۔ وہ اپنی ، بچوں کی اور گھر والوں کی ضروریات احسن درجے سے مکمل کر سکے ۔ اس لیے شریعت کمانے والے کی حوصلہ افزائی کی ہے ۔
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
“لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ أَحْبُلَهُ، فَيَأْتِيَ الْجَبَلَ، فَيَجِئَ بِحُزْمَةِ حَطَبٍ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا فَيَسْتَغْنِيَ بِثَمَنِهَا، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ، أَوْ مَنَعُوهُ”
’’اگر تم میں سے کوئی اپنی رسی لے اور پہاڑ پر جا کر ایک گٹھا لکڑیوں کا اپنی پیٹھ پر لادے، اور اس کو بیچ کر اس کی قیمت پر قناعت کرے، تو یہ اس کے لیے لوگوں کے سامنے مانگنے سے بہتر ہے کہ لوگ دیں یا نہ دیں۔‘‘(سنن ابن ماجہ: 1836)
دیکھیں کہ اگر مانگنے پر دیا جائے تو مانگنے والی کی ایک ذلت ہوئی ، اور نہ دیا جائے تو دوہری ذلت مانگنے والی کی ، اور مانگنے پر نہ ملنے کی ، بر خلاف اس کے اپنی محنت سے کمانے میں کوئی ذلت نہیں اگرچہ مٹی ڈھو کر یا لکڑیاں چن کر اپنی روزی حاصل کرے ، یہ جو مسلمان خیال کرتے ہیں کہ پیشہ یا محنت کرنے میں ذلت اور ننگ و عار ہے ، یہ سب شیطانی وسوسہ ہے ، اس سے زیادہ ننگ و عار اور ذلت و رسوائی سوال کرنے اور ہاتھ پھیلانے میں ہے ، بلکہ پیشے اور محنت میں گو وہ کتنا ہی حقیر ہو بشرطیکہ شرع کی رو سے منع نہ ہو کوئی ذلت نہیں ہے ۔
10۔اسلام کی نظر میں سوال کرنا معیوب
اسلام نے سوال کرنے والے کی حوصلہ افزائی نہیں کی ہے ، بلکہ اس کو معیوب سمجھا ہے ، اس لیے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچنا چاہیے ، نبی کریم ﷺ نے بھی سوال کرنے اور ہاتھ پھیلانے سے منع فرمایا ہے ۔
1۔سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
“مَنْ يَتَقَبَّلُ لِي بِوَاحِدَةٍ، وَأَتَقَبَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ، قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: لَا تَسْأَلِ النَّاسَ شَيْئًا، قَالَ: فَكَانَ ثَوْبَانُ يَقَعُ سَوْطُهُ وَهُوَ رَاكِبٌ، فَلَا يَقُولُ لِأَحَدٍ نَاوِلْنِيهِ، حَتَّى يَنْزِلَ فَيَأْخُذَهُ” (سنن ابن ماجہ: 1837 )
’’کون میری ایک بات قبول کرتا ہے؟ اور میں اس کے لیے جنت کا ذمہ لیتا ہوں ، میں نے عرض کیا : میں قبول کرتا ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا : لوگوں سے کوئی چیز مت مانگو ، چناچہ ثوبان رضی اللہ عنہ جب سواری پر ہوتے اور ان کا کوڑا نیچے گر جاتا تو کسی سے یوں نہ کہتے کہ میرا کوڑا اٹھا دو، بلکہ خود اتر کر اٹھاتے۔‘‘
یہ ایمان و توکل علی اللہ کا بڑا اعلیٰ درجہ ہے حالانکہ اس قسم کا سوال مباح اور جائز ہے ، مگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان بڑی تھی انہوں نے مخلوق سے مطلقاً سوال ہی چھوڑ دیا ، صرف خالق سے سوال کرنے ہی کو بہتر سمجھا ہے ۔
2۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ
“مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرَ جَهَنَّمَ، فَلْيَسْتَقِلَّ مِنْهُ، أَوْ لِيُكْثِرْ”
’’جس نے لوگوں سے مال بڑھانے کے لیے مانگا ، تو وہ جہنم کے انگارے مانگتا ہے، چاہے اب وہ زیادہ مانگے یا کم مانگے۔‘‘(سنن ابن ماجہ: 1838)
11۔نبی کریم ﷺ کا مالی پس منظر
نبی کریم ﷺ خود تاجر اور مالدار تھے ، نبی کریم ﷺ کی شادی مالدار عورت سے ہوئی تھی ، مکہ میں نبی کریم ﷺ مالدار ہی تھے ، باقی یہ بات ہے کہ آپ ﷺ نے جب ہجرت کی تھی ، تو ہجرت کے بعد چند سال بڑے مشکل سے گذرے ، ظاہر کہ اتنے لوگ جنہوں نے اپنے گھر و مال اللہ کی رضامندی کے لیے چھوڑ دیے ہوں ، ان کو سنبھلنے میں وقت لگ سکتا ہے ، مدینہ میں ابتدائی ایام بڑے مشکل تھے ، خیبر کے بعد مسلمان آسودہ حال ہوگئے تھے ، نبی کریم ﷺ کے لیے مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ، مال فیء اور باغ فدک بھی تھا ۔ معلوم یہ ہوا ہے کہ نبی کریم ﷺ مالدار تھے ۔ نبی کریم ﷺ کی نو بیویاں تھی ، ان تمام کا خرچہ نبی کریم ﷺ کی ذمے داری تھی ۔ پھر نبی کریم ﷺ کا ماہ رمضان میں تیز آندھی کی طرح خرچ کرنا ، یہ تمام دلائل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو مال سے نوازا تھا ، لیکن آپ ﷺ سب اللہ کے راستے میں لوٹا دیتے تھے ۔
12۔مال سخاوت کا وسیلہ
یاد رہے کہ مال سخاوت کا ایک اہم ذریعہ ہے ، مالدار انسان فقیر کے مقابلے میں کئی نیکیاں سمیٹ سکتا ہے ، مثلاً : مالدار انسان خود بھی روزہ رکھے اور شام کے وقت تیس بندوں کو افطاری کروائے تو اس نے گویا خود کے روزے کے علاؤہ تیس روزوں کا ثواب کمایا ہے ۔ اس کے علاؤہ کئی ایسے مواقع موجود ہیں ، جن کے ذریعے مالدار اپنے نامہ اعمال کو نیکیوں سے بھر سکتا ہے ۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : “مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْئًا” (جامع ترمذی: 807)
’’جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو اسے بھی اس کے برابر ثواب ملے گا، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں سے ذرا بھی کم کیا جائے۔‘‘
14۔مال کے ذریعے جنت کی خریداری
ارشاد باری تعالیٰ ہے :﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ 0 تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں تمھاری ایسی تجارت کی طرف رہنمائی کروں جو تمھیں دردناک عذاب سے بچا لے ؟ تم اللہ اور اس کے رسو ل پر ایمان لاؤ اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔‘‘(سورۃ الصف:10۔11)
14۔دیندار کے ہاتھوں میں دولت ، امت کی بھلائی
معاشرے میں مال دینداروں کے پاس ہونا ضروری ہے ، دیندار لوگوں کی معیشت اچھی ہونی چاہیے ، کیونکہ دینداروں کے ہاتھ میں مال کے کئی اجتماعی فوائد ہیں ، اور وہی مال کے حقیقی محافظ ہیں ، اس سے معاشرہ خوشحال رہے گا ، صاحب نصاب زکاۃ فقراء کو ادا کریں گے ، مال فضولیات اور غلط کاموں میں استعمال نہیں ہوگا ، بلکہ دیندار مال مدارس ، مساجد اور فقراء پر صرف کریں گے ، جس طرح صحابہ کرام نے مال اللہ کے راستے خرچ کیا تھا ۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
«قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَآخَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ وَكَانَ كَثِيرَ الْمَالِ، فَقَالَ سَعْدٌ: قَدْ عَلِمَتْ الْأَنْصَارُ أَنِّي مِنْ أَكْثَرِهَا مَالًا سَأَقْسِمُ مَالِي بَيْنِي وَبَيْنَكَ شَطْرَيْنِ، وَلِي امْرَأَتَانِ فَانْظُرْ أَعْجَبَهُمَا إِلَيْكَ فَأُطَلِّقُهَا حَتَّى إِذَا حَلَّتْ تَزَوَّجْتَهَا، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ فَلَمْ يَرْجِعْ يَوْمَئِذٍ حَتَّى أَفْضَلَ شَيْئًا مِنْ سَمْنٍ وَأَقِطٍ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَهْيَمْ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: مَا سُقْتَ فِيهَا، قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، أَوْ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ.
’’جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ (مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو) رسول اللہ ﷺ نے ان کے اور سعد بن ربیع ؓ کے درمیان بھائی چارہ کرا دیا ۔ سعد رضی اللہ عنہ بہت دولت مند تھے ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا : انصار کو معلوم ہے کہ میں ان میں سب سے زیادہ مالدار ہوں اس لیے میں اپنا آدھا آدھا مال اپنے اور آپ کے درمیان بانٹ دینا چاہتا ہوں اور میرے گھر میں دو بیویاں ہیں جو آپ کو پسند ہو میں اسے طلاق دے دوں گا اس کی عدت گزر جانے پر آپ اس سے نکاح کرلیں ۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تمہارے اہل و مال میں برکت عطا فرمائے ، (مجھ کو اپنا بازار دکھلا دو ) پھر وہ بازار سے اس وقت تک واپس نہیں آئے جب تک کچھ گھی اور پنیر بطور نفع بچا نہیں لیا ۔ تھوڑے ہی دنوں کے بعد جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں وہ حاضر ہوئے تو جسم پر زردی کا نشان تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ بولے کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی ہے ۔ آپ ﷺ نے پوچھا مہر کیا دیا ہے ؟ بولے ایک گٹھلی کے برابر سونا یا (یہ کہا کہ) سونے کی ایک گٹھلی دی ہے، اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا اچھا اب ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ہی سے ہو۔‘‘(صحيح بخاری: 3781)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
“كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ الْأَنْصَارِ بِالْمَدِينَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ، وَكَانَ أَحَبُّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ [آل عمران: 92] قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ [آل عمران: 92] وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءَ، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا، وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللَّهُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: بَخٍ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ: وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ” (صحيح بخاری: 1461)
’’ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار تھے ۔ اپنے کھجور کے باغات کی وجہ سے ۔ اور اپنے باغات میں سب سے زیادہ پسند انہیں بیرحاء کا باغ تھا۔ یہ باغ مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا۔ اور رسول اللہ ﷺ اس میں تشریف لے جایا کرتے اور اس کا میٹھا پانی پیا کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:
“لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون”
یعنی تم نیکی کو اس وقت تک نہیں پاسکتے جب تک تم اپنی پیاری سے پیاری چیز نہ خرچ کرو ، یہ سن کر ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پاسکتے جب تک تم اپنی پیاری سے پیاری چیز نہ خرچ کرو ۔ اور مجھے بیرحاء کا باغ سب سے زیادہ پیارا ہے ۔ اس لیے میں اسے اللہ تعالیٰ کے لیے خیرات کرتا ہوں ۔ اس کی نیکی اور اس کے ذخیرہ آخرت ہونے کا امیدوار ہوں۔ اللہ کے حکم سے جہاں آپ ﷺ مناسب سمجھیں اسے استعمال کیجئے ۔ راوی نے بیان کیا کہ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خوب! یہ تو بڑا ہی آمدنی کا مال ہے ۔ یہ تو بہت ہی نفع بخش ہے ۔ اور جو بات تم نے کہی میں نے وہ سن لی۔ اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اسے اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو دے ڈالو۔ ابوطلحہ ؓ نے کہا ۔ یا رسول اللہ! میں ایسا ہی کروں گا ۔ چناچہ انہوں نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا کے لڑکوں کو دے دیا۔‘‘
15۔اسلام کی تقویت میں مالی تعاون کا کردار
دین اسلام میں جہاں صحابہ کی صداقت اور شجاعت کام آئی وہاں صحابہ کا مال بھی کام آیا تھا ، کیونکہ بغیر معیشت کے جنگیں نہیں لڑی جاتی ہیں ، بدر ، احد ، احزاب اور تبوک ان سب میں مال صرف ہوا تھا ، کیونکہ جنگ میں مجاہدین کے لیے اسلحہ ، سواری اور کھانے پینے کا بندوست کرنا یہ سب مال و دولت سے ہوتا ہے ، ان تمام جنگوں کے اندر صحابہ کرام نے اپنے مال کو خرچ کیا تھا ، آج بھی دین اسلام کو تقویت دینے لیے مال صرف کرنے کی ضرورت ہے ، مدارس و مساجد اور علماء پر مال صرف کیا جائے تاکہ یہ لوگ دین کے محافظ بنیں ۔
سیدنا عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
“جَاءَ عُثْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ بِأَلْفِ دِينَارٍ، قَالَ الْحَسَنُ بْنُ وَاقِعٍ: وَكَانَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنْ كِتَابِي فِي كُمِّهِ حِينَ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَيَنْثُرُهَا فِي حِجْرِهِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ يُقَلِّبُهَا فِي حِجْرِهِ وَيَقُولُ: مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ” (جامع ترمذی: 3701 )
’’سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک ہزار دینار لے کر آئے ، (حسن بن واقع جو راوی حدیث ہیں کہتے ہیں: دوسری جگہ میری کتاب میں یوں ہے کہ وہ اپنی آستین میں لے کر آئے) ، جس وقت انہوں نے جیش عسرہ کو تیار کیا، اور اسے آپ کی گود میں ڈال دیا، میں نبی اکرم ﷺ کو اسے اپنی گود میں الٹتے پلٹتے دیکھا اور یہ کہتے سنا کہ آج کے بعد سے عثمان کو کوئی بھی برا عمل نقصان نہیں پہنچائے گا ، ایسا آپ نے دو بار فرمایا۔‘‘
16۔جب مال بے دین کے ہاتھ میں ہو
جب معاشرے میں بے دین لوگ مالدار بنیں گے تو اس کا معاشرے کو بڑا نقصان ہوگا ، برائیوں کو فروغ ملے گا ، مال فضولیات ، عیش و عشرت پر صرف ہوگا ۔ بلکہ وہ مال کے ذریعے فخر محسوس کریں گے ، فقراء و مساکین کو اہمیت نہ دیں گے ، جس طرح قارون کے پاس مال تھا ، لیکن اس مال کا موسی علیہ السلام کی قوم کو کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا ، وجہ یہ تھی کہ وہ بے دین اور سرمایہ دار منافق تھا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيْهِمْ ۖ وَآتَيْنَاهُ مِنَ الْكُنُوزِ مَا إِنَّ مَفَاتِحَهُ لَتَنُوءُ بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ لَا تَفْرَحْ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ ﴾ (سورۃ القصص : 76)
’’بے شک قارون موسیٰ کی قوم سے تھا، پس اس نے ان پر سرکشی کی اور ہم نے اسے اتنے خزانے دیے کہ ان کی چابیاں ایک طاقت ور جماعت پر بھاری ہوتی تھیں۔ جب اس کی قوم نے اس سے کہا مت پھول، بے شک اللہ پھولنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔‘‘
٭٭٭
دشت کربلا
میری زباں پہ رب محمدؐ کا نام ہے
اور شغل خاص اپنا یہی صبح و شام ہے
کتنا بلند ابن علیؓ کا مقام ہے
دنیا کا پیشوا ہے تو دیں کا امام ہے
خیر و فلاح و امن و اماں کا پیام ہے
اسلام کا نظام ، مبارک نظام ہے
وہ فاطمہ کا لال جو ماہِ تمام ہے
پور علی و سبط رسول انام ہے
ہر اک شقی جو کیفر کردار پا گیا
اللہ کا انتقام بھی کیا انتقام ہے
جس نے سر اپنا کفر کے آگے جھکا دیا
کیا آبرو ہے اس کی وہ بے ننگ و نام ہے
شیرِ خدا کا لخت جگر شیرِ کربلا
مسند نشین محفل دار السلام ہے
گلگونہ جس کو خونِ شہادت کا مل گیا
وہ سرخرو ہے اس کو ثبات و دوام ہے
اس کا جواب کوئی نہ لایا نہ لائے گا
لاریب بے مثال ، خدا کا کلام ہے
رندانِ معرفت کو تامل ہے کس لئے
جب بادۂ طہور ہے ، ساقی ہے جام ہے
اب دشتِ کربلا ہے ہر اک خطۂ جہاں
اور صبحِ زندگی ہے کہ مغلوب شام ہے
باطل نے ظلم کا اگر آغاز کر دیا
شمشیرِ حق بھی ، اپنی جگہ بے نیام ہے
کیجئے طواف روح کبھی رقص جاں کبھی
دار و رسن تو عشق کا بیت الحرام ہے
حاجت ہے آج بھی کسی شبیرِ وقت کی
ریگِ فرات دیر سے پھر تشنہ کام ہے
کٹ جائے سر جھکے نہ وہ باطل کے سامنے
اعلیٰ مقام سید عالی مقام ہے
حماد بے نوا وہ غلام اہل بیت کا
گرویدہ حسین ؓرفیع احترام ہے
ابولبیان حماد
٭٭٭
تبصرہ کریں