
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِن قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ﴾ (سورۃ البقرہ: 183)
’’اے ایمان والو! تم پر رمضان کے روزے فرض کردیئے گئے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرص کردیئے گئے تھے تا کہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔‘‘
جس طرح ہم دنیا میں اپنی عمارتوں کی آہک پاشی کرتے اور داغ دوزی کی طرف توجہ کرتے ہیں اس کا صرف اور صرف یہی ایک مقصد ہوتا ہے کہ ہماری یہ عمارتیں گرنے جھڑنے اور بدنما ہونے سے محفوظ رہیں ٹھیک یہی حال ہمارے پروردگار آقا و مالک کا ہے جو ساری کائنات کا تنہا خالق و معمار بھی ہے۔
الغرض جس طرح اپنی عمارتیں ہم کوپیاری لگتی ہیں اس سے کئی گنا زیادہ اللہ رب العزت اپنے بندوں سے بے انتہا محبت رکھتے ہیں۔ اور اس کی محبت اتنی وسیع ہے کہ وہ اپنے بندوں کو دنیا کی ستر ماؤں سے زیادہ چاہتا ہے صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس دنیا کا خالق و مالک جو حقیقت میں( سلطان کائنات بھی ہے) اتنا حساس ہے کہ اپنے بندوں میں کسی قسم کی خرابی یا کجی ہر گز گوارہ نہیں کرتا یعنی اللہ عزوجل کریم یہ چاہتا ہے کہ اسکے بندے ہر وقت درست حالت میں اپنی زندگی کے شب و روزگذاریں۔
اس عظیم مقصد کیلئے رب العزت کریم نے اپنے بندوں کیلئے سال میں ایک مرتبہ ایک ایسے ماہ مبارک کو مقرر کردیاکہ ان مبارک ایام میں اپنے بندوں کی تربیت کا سامان ہوجائے۔
غرضیکہ آیت مبارکہ مذکورہ بالا کا آغاز’’اے ایمان والو‘‘ کے شاندار خطاب سے ہورہا ہے۔اور آگے فرمایا جارہا ہے تم پر روزے فرض کردیئے گئے اور روزے کیوں فرض کردیئے گئے اس کا فائدہ یہ بتایا جارہا ہے کہ تم میں تقویٰ پیدا ہو اس چھوٹی سی آیت مبارکہ کا بغور مطالعہ کرنے سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت تو عام ہے لیکن وہ بلخصوص ان بندوں سے بے انتہا محبت کرتا ہے جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی طرف سے روانہ کردہ انبیاء اور اس کی نازل کردہ کتابوں پر یقین کرتے ہیں، اور اپنی ابدی زندگی کے سلسلہ میں فکر مند رہتے ہیں یعنی توحید، رسالت،آخرت کا زبانی اقرار کرنے کے بعد اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے عملی میدان میں سرگرداں رہتے ہیں ایسے لوگوں کو بڑے پیار کے ساتھ اللہ تعالیٰ خطاب کرتے ہیں کہ ’’اے ایمان والو۔‘‘ لیکن اس کے بندے اپنی بشری کمزوریوں کی بناء پر اپنے آپ کو درست حال میں نہیں رکھ پاتے (جس طرح اللہ کو مطلوب ہے) ان کمزوریوں اور کوتاہیوں کو دور کرنے کیلئے اپنی بےپایاں محبت کے تقاضے کے تحت سال میں ایک مرتبہ ایک ایسا نسخہ اکسیر تجویز فرمایا جو یقیناًشفا بخش ہے اور یہ گذشتہ انبیاء کی امتوں کیلئے بھی عطا کیاگیا تھا تاکہ اس کے ذریعہ ایمان والوں کے اندر سے ہر قسم کا عیب ہر قسم کی کجی و نافرمانی عدول حکمی کی کیفیت (جو کہ بشری تقاضہ کے تحت ) پائی جاتی ہے اس کا خاتمہ کیا جائے اس ’’نسخہ اکسیر‘‘ کا قرآنی نام ’’صوم‘‘ (روزہ ) ہے اور روزے کی شان یہ بیان کی جارہی ہے کہ اسکے ذریعہ سے اہل ایمان میں تقویٰ پرہیزگاری وجود میں آئے۔ گویا روزہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نسخہ اکسیر اور روحانی امراض یعنی اللہ کے برابر کسی اور مخلوق کو سمجھنا اور انکی خوشنودی طلب کرنے انکے آگے جھکنا، ”فسخ وفجور“، “ریاکاری وبدکاری” جیسے ایمان کی ہلاکت والی بیماریوں کا بہترین علاج ہے۔
تقویٰ کے متعلق یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کیونکہ یہ دو طرح کا ہوتا ہے:
ایک تقویٰ دشمن کا ہوتا ہے اور ایک تقویٰ اللہ رب العزت کا ہوتا ہے لیکن ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یعنی دشمن کاتقویٰ دشمن سے دور کرتا ہے اور اللہ رب العالمین سے ” تقویٰ“ ؛ پرہیزگاری فرمانبرادری و اطاعت کا سبب بنتا ہے اور اللہ جل شانہ کے قریب کردیتا ہے۔ مثال کے طور پر اسی روزہ کو لے لیجئے کہ روزہ کی حالت میں انسان اگر چاہے تو چھپ چھپا کر کچھ کھاپی سکتا ہے لیکن ایک صائم (روزہ دار) ہر گز ہر گز اس طرح کا عمل نہیں کرتا۔ کیونکہ بحالت روزہ اس کے اندر خدا کا خوف حاوی رہتا ہے۔ یعنی روزہ کے ذریعہ اس کا ایمان اتنا قوی ہوجاتا ہے کہ روزہ دار کو اس بات کا یقین رہتا ہے، خواہ مجھے کوئی دیکھے یا نہ دیکھے لیکن وہ تو مجھے ضرور دیکھ رہا ہے جس کے نام پر اور جس کے حکم پر میں نے روزہ رکھا ہے۔ الغرض اس ماہ مبارک کی تربیت، اہل ایمان کے اندر اپنے کو ہر آن اللہ تعالی کی نگاہ میں ہونے کا احساس دلاتی ہےاور کل روز محشر جوابدہی کے احساس کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی صلاحیت ابھرنے لگتی ہے؛لیکن یہ یقینی کیفیت ماہ صیام میں جو پیدا ہوجا تی ہے ٫ دل و دماغ پر جس طرح چھاجاتی ہے؛ باقی آگے جو کچھ بچی ہوئ زندگی کے ایام بھی ٹھیک اسی یقینی کیفیات کے ساتھ گزارنے کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بطور رحمت ان کی زندگی میں ہر سال ’’ماہ صیام‘‘ (رمضان المبارک ) کو لاتے رہتا ہیے تا کہ اللہ پر ایمان لانے والے بندے، ارتقائی منازل ،حسن سلوک و اخلاص اور للہیت کے ساتھ طے کرتے ہوئے ایک صالح بندے مومن کی حیثیت سے اس دنیائے فانی سے منتقل ہوکر ابدی و ہمیشہ والی زندگی میں پہنچ کر جنت جیسی عظیم نعمت حاصل کرسکیں جو صرف مومنین، متقین کیلئے تیار کی گئی ہے۔ یہاں پر غور طلب بات یہ ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ اپنے محبوب بندوں ( ایمان والے مرد وعورت) کی تربیت کیلئے ماہ رمضان کو ہی کیوں منتخب فرمایا؟ یہ اس لئے کہ اس ماہ مبارک میں قرآن کا نزول ہوا لہٰذا قرآن حکیم کی نسبت سے اس ماہ کو ماہ صیام کی حیثیت سے عزت بخشی گئی اور اپنے بندوں کیلئے اسی ماہ بابرکت کا انتخاب فرمادیا گیا۔ یعنی تمام انسانوں کیلئے دستور حیات کو اسی ماہ میں نازل کیاگیا اور ان کی تربیت حیات کیلئے بھی اسی ماہ کو منتخب کردیاگیا گویا قرآن مجید اور ماہ رمضان کا ایک دوسرے سے بہت گہرا تعلق پیدا کردیا گیا۔
ایک دوسری جگہ اللہ فرماتے ہیں:
’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیاگیا جو انسانوں کیلئے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے ۔‘‘ یعنی قرآن کو رمضان کے ساتھ جوڑنے کا مقصد یہی ہے کہ روزہ حصول تقویٰ کیلئے ہے۔ جب انسانوں میں تقویٰ آجائے تو ان کی زندگی قرآن سے اور قرآنی احکامات سے قریب ہوگی ایمان میں توحید خالص قائم رہے گی اعمال میں سنتوں کا رواج ہوگا حق و باطل میں تمیز پیدا ہوگی من چاہی زندگی سے اجتناب کرتے ہوئے رب چاہی زندگی گذارنے کا جذبہ ابھرے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو پیدا فرمانے کے بعد یوں ہی نہیں چھوڑا ہے بلکہ ان کی رہنمائی اور رہبری کیلئے اپنے بندوں ہی میں سے معصوم افراد کا بہترین انتخاب فرماتے ہوئے مختلف ادوار میں انبیاء کو متعلقہ قوموں کے اندر سے مبعوث فرماتا رہا اور اس سلسلہ کو یوں ختم فرمایا کہ سید عالم محمد مصطفیٰ ﷺ کو نبی ورسول بناتے ہوے آپﷺ کے قلب اطہر پر ایک ایسی کتاب نازل فرمادی گئی جو اب رہتی دنیا تک خدائے واحدہُ لا شریک لہ کا بھیجا ہوا آخری پیغام ہے جسکا نام قرآن مجید ہے، فرقان حمید اور نور ہے۔ غرضیکہ روزوں کا فرض کیا جانا اور قرآن کا نازل کیا جانا اور محمدﷺ کو رسول بناکر روانہ کرنے کا صرف یہی ایک مقصد ہے کہ بندوں کی پوری زندگی اللہ کی مرضی کے عین مطابق گزرے چاہے اس کا تعلق معاشرت، معیشت، اخلاق سے ہو یا امارت و حکمرانی اور سیاست کا میدان ہو یہ ساری چیزیں شریعت محمدی کے عین مطابق ہوجائیں جس طرح ایک روزہ دار اپنے نفس پر قابو پاتے ہوے شیطان ملعون کا مقابلہ کرتا اور شیطانیت کو زیر کرتاہے؛ اپنے مالک کے احکام بجالتا ہے باقی عام دنوں (غیر رمضان) میں بھی باطل طاقتوں کے سامنے جھکنے سے انکار کرے اور اپنے مالک کو ہی حقیقی مقتدر اعلیٰ جانے اس کو اپنا حاکم و فرمانروا جانے جس طرح روزہ دار اللہ ہی سے ڈرتا ہے ٹھیک اسی طرح باقی تمام زندگی میں بھی صرف اور صرف اللہ ہی سے ڈرتا رہے ، اور باقی تمام زندگی بھی صرف اور صرف اللہ ہی کے خوف اور امید کے ساتھ زندگی بسر کرے۔ جب اہل ایمان میں یہ خصوصیات پیدا ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ایک ایسا عظیم الشان حوصلہ عطا فرماتے ہیں کہ تمام باطل خدائوں سے آدمی کو بے خوف و نڈر کردیتے ہیں مختصر یہ کہ روزہ ایک ایمان والے کو اپنی زندگی کی تمام مشکلات کو آسانی کے ساتھ برداشت کرنے کا حوصلہ بخشتا ہے اور حصول جنت کیلئے جوبھی رکاوٹیں آتی ہیں اسے دور کرتا ہے۔سب سے بڑی اور اہم بات یہ کہ روزہ اللہ کو راضی و خوش کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے اور جس شخص سے اللہ راضی ہوجائے اسے دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں نصیب ہوجاتی ہیں اور جس قوم و ملت سے اللہ تبارک تعالیٰ راضی ہوجائیں تو پھر دنیا کی بڑی سے بڑی فرعونی طاقت ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
اللہ سے دعا کریں کہ ہم اہل ایمان کو رمضان المبارک کے تمام فیوض و برکات سے مالا مال فرمادے اور روزے کے تقاضوں اور اسکے مقاصد کو پوری زندگی میں نافد کرنے کی صلاحیت و قوت طاقت اور حوصلہ عطا فرمائے۔
اہل ایمان کے لیے ہے یہ مسرت کاپیغام
آگیا ہے سرچشمۂ فضلِ خدا ماہِ صیام
٭٭٭
برکت
شیخ محمد بن صالح العثیمین فرماتے ہیں:
إذا رأيت نفسك مُتحيِّرًا فالزم الاستغفار، فإن الاستغفار مما يفتح الله بِه على العَبْد
’’جب آپ نے نفس کو حیران پائے (کسی معاملے میں)، تو استغفار کو لازم پکڑیں، کیونکہ استغفار ان چیزوں میں سے ہے جن کے ذریعے اللہ بندے پر دروازے کھول دیتے ہے۔ (شرح الكافیۃ الشافیہ: 3؍189)
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہفرماتے ہیں: جب بھی کوئی مسئلہ مجھے سمجھ نا آتا تو میں 1000 مرتبہ (غالبا) استغفار کرتا اور اللہ تعالیٰ وہ مسئلہ مجھے سمجھا دیتا۔
تبصرہ کریں