ملک الموت سے منکر ونکیر تک۔ محمد عبد الحی عامر عمری

تمہيد

الحمد لله رب العالمين والصلاة و السلام على محمد خاتم النبيين و المرسلین و علی آله و صحبه أجمعين. أما بعد

’’حرمین شریفین ‘‘ مملکت سعودی عرب کی آن بان شان اور پہچان ہیں۔ ان کے علاوہ ملک کے طول وعرض میں پھیلے کشادہ اور خوب صورت مسجدوں کے جال کے سبب اسے ’’مملکت مساجد ‘‘ کہنا غلط نہ ہو گا۔ مساجد کے مطلوبہ کردار کے پیش نظر ، ان میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی عبادت کے علاوہ مختلف سماجی سرگرمیوں کے ذریعے ، انسانوں کی خدمت بھی کی جاتی ہے۔ (سعودی عرب کے باہر رہنے والے حضرات کیلیے ایک ضروری وضاحت یہ ہے کہ سعودی عرب میں ’جامع ‘ اس مسجد کو کہا جاتا ہے جس میں پنج وقتہ نمازوں کے علاوہ نماز جمعہ بھی قائم کی جاتی ہو اور جس مسجد میں نماز جمعہ کے سوا باقی فرض نمازیں ادا کی جاتی ہوں اسے ’مسجد ‘ کہتے ہیں۔ قارئین کی آسانی کے لیے ، وقت ضرورت ، اس کتابچے میں بعض مقامات پر ’جامع ‘ کی جگہ لفظ ’مسجد‘ لکھا گیا ہے۔)

دار الحکومت ریاض میں واقع ، قلعہ نما، عظیم الشان مسجد ’ جامع الشيخ سلیمان الراجحی ‘ کا شمار ، ملک کی بڑی مساجد میں ہوتا ہے۔ اٹھارہ ہزار مصلیوں کی گنجائش والی یہ مسجد ، مسلسل دو دہائیوں سے ، متعدد میدانوں میں انسانیت کی مثالی خدمت انجام دیتی آرہی ہے۔ بالخصوص دو میدان ایسے ہیں کہ جن کے سبب اس مسجد کی شہرت کو چار چاند لگ گئے ؛

پہلا میدان : ’’علوم شرعیہ کی نشر و اشاعت‘‘:

یہاں مرد و خواتین کے لیے حفظ قرآن مجید ، حفظ احادیث نبویہ اور حفظ متون علمیہ کے حلقات ، کبار اہل علم کے دروس اور ہزار ہا کتب پر مشتمل لائبریری وغیرہ کی شکل میں ، ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے کچھ چشمے موجود ہیں جن سے تشنگان علوم شریعت، اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔

دوسرا میدان : ’’جنازوں کی تجہیز و تکفین کے بعد نماز جنازہ اور تدفین‘‘

ایک طرف علم کی نشر و اشاعت کی شکل میں ، زندہ انسانوں کے دلوں کی زندگی کا سامان موجود ہے تو دوسری جانب، ان بے جان جسموں کی خدمت کا بھی انتظام ہے جن کی روحیں، عالم برزخ میں پہنچ چکی ہوتی ہیں۔ دین اسلام زندہ انسانوں کے علاوہ فوت شدہ انسانوں کے حقوق کا بھی ضامن ہے۔ جب کسی مسلمان کی وفات ہوتی ہے تو دیگر مسلمانوں پر یہ شرعی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کی تجہیز وتدفین کا انتظام کریں۔ اسلام میں فوت شدہ کے ساتھ کیے جانے والے حسن سلوک اور اکرام واحترام کے مشاہدے کے لیے ، ہمیں ان جیسی مساجد کا دورہ ضرور کرنا چاہیے۔

ملک الموت سے منکر و نکیر تک

کتابچے کے عنوان کی وضاحت : ملک الموت (موت کے فرشتہ) کی جانب سے کسی انسان کی روح قبض کیے جانے کے چند گھنٹوں بعد ، قبر میں دو فرشتے (منکر اور نکیر ) اس میت سے سوالات کرتے ہیں۔ انسانی جسم سے روح نکلنے اور قبر کے سوالات کے درمیانی وقت میں ، جامع الراجحی کی جانب سے جو بے نظیر خدمات انجام دی جاتی ہیں ، زیر نظر کتابچے میں ان کا بالاختصار ذکر کیا جارہا ہے تاکہ قارئین بھی اس راستے سے انسانوں کی خدمت کر سکیں۔

آخری غسل اور آخری لباس

تجہیز و تکفین کے پہلے مرحلے میں ، میت کو خصوصی گاڑی کے ذریعے کسی ایسی مسجد منتقل کیا جاتا ہے جہاں تجہیز و تکفین کا انتظام ہوتا ہے۔

جامع الراجحی کے احاطے میں مردوں اور عورتوں کے لیے دو الگ الگ غسل خانے تعمیر کیے گئے ہیں ؛ جہاں بیک وقت کئی جنازوں کو غسل دیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر میت کے جسم سے ، آخری سلا ہو الباس اور دیگر اشیاء اتار لینے اور اسے آخری مرتبہ غسل دینے اور آخری لباس (کفن پہنانے کا منظر نہایت سبق آموز ہوتا ہے۔ دوران غسل استعمال کی جانے والی اشیاء اور کفن اعلیٰ معیار کے ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوش نودی کی خاطر ، میتوں کو بلا معاوضہ غسل دیتے ہیں۔ انھیں سعادت مند لوگوں میں سعودی فٹ بال ٹیم کے سابق کھلاڑی اور سابق عالمی ریفری Referee ، حسن البحیری – رحمہ اللہ ۔ بھی تھے جنھوں نے 25 سال تک میتوں کو بلا معاوضہ غسل دیا۔

غسل سے فراغت کے بعد میت کو کچھ دیر کے لیے ’غرفۃ السلام ‘ نامی کمرے میں رکھا جاتا ہے جہاں میت کے لواحقین ، اس کا آخری دیدار کرتے ہیں۔ اس وداعی ملاقات کے لیے کل چھ کمرے بنائے گئے ہیں۔ قریب ہی الکٹرانک اسکرینوں پر میت کے نام کے آگے ، کمرہ نمبر کے ساتھ قبر نمبر بھی لکھا ہوتا ہے۔

تجہیز و تکفین کے دوران، انتظار گاہ میں بیٹھے لوگوں کی کھجور ، قہوہ اور پانی سے ضیافت کی جاتی ہے۔

نماز جنازہ اور تدفین کا جبل احد سے اٹوٹ رشتہ

امت محمدیہ کے افراد کی عمر ، سابقہ امتوں کے افراد کی عمر کے مقابلے میں کم ہے۔ اس مختصر زندگی میں ہمیں بہت سارے ہلکے پھلکے آسان اعمال کے مواقع حاصل ہیں جن کے ذریعے ہم اجر عظیم کما سکتے ہیں۔ نماز جنازہ کی ادائیگی اور تدفین کے وقت حاضر رہنے کا تعلق بھی ان ہی اعمال سے ہے۔

ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر جو حقوق عائد ہوتے ہیں ، ان میں سے ایک حق یہ ہے کہ جب اس کی وفات ہو جائے تو وہ اس کی نماز جنازہ ادا کرے اور ممکن ہو تو اس کی تدفین میں بھی شرکت کرے۔

نماز جنازہ کے کئی دینی اور دنیوی فائدے ہیں جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

یہ ایک سفارش ہے جو رحمت الٰہی کا سبب بنتی ہے ، ایک فوت شدہ مسلمان کے حق کی ادائیگی ہے ، اس کا اکرام و احترام ہے ، اس کے حق میں دعا کرنے کا ایک اہم موقع ہے اور اس کے لواحقین کے لیے تسلی کا سامان بھی ہے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ( اللہ تعالیٰ ان کی اور ان کی والدہ محترمہ کی مغفرت فرمائے) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ’’کیا آج تم میں سے کوئی روزے سے ہے ؟‘‘ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں۔ آپﷺ نے پوچھا: ’’کیا آج تم میں سے کسی نے جنازے میں شرکت کی؟‘‘ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ’’کیا آج تم میں سے کسی نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا؟‘‘ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ’’کیا آج تم میں سے کسی نے مریض کی عیادت کی ؟‘‘ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص میں یہ خصلتیں جمع ہو جائیں ، وہ جنت میں ضرور داخل ہو گا ۔‘‘ ( صحیح مسلم : 1028)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’جو شخص کسی میت کی نماز جنازہ ادا کرے تو اس کے لیے ایک قیراط ( کے برابر اجر ) ہے اور جو شخص نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد (قبرستان جا کر)، اس میت کی تدفین تک انتظار کرتا رہے تو اس کے لیے دو قیر اطوں (کے برابر اجر ) ہے۔ اور دو قیراط ، دو بڑے پہاڑوں کے برابر ہوتے ہیں۔‘‘ ( صحیح النسائی: 1993)

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو شروع میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث کا علم نہیں تھا جس میں میت کی تد فین تک قبرستان میں انتظار کرنے پر حاصل ہونے والے دوسرے قیراط کا ذکر ہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ صرف نماز جنازہ ادا کر کے لوٹ جایا کرتے تھے۔ کچھ مدت بعد ، جب انہیں اس حدیث کا علم ہوا تو حسرت اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ’’ہم سے بہت سارے قیراطوں کے (برابر اجر وثواب) حاصل کرنے میں کو تاہی ہو گئی۔‘‘ (صحیح الترمذی: 1040)

معزز قارئین ! قیراطان ( دو قیر اطوں) کی پیمائش (size سائز) کی تفصیل ، کئی احادیث میں بیان ہوئی ہے جو اس قدر دل چسپ ہے کہ اجر و ثواب کے شوقین افراد کے قدم خود بخود جنازے اور قبرستان کی طرف اٹھ جائیں ، کبھی ان دو قیر اطوں میں سے ایک کو احد پہاڑ کے برابر (اور دوسرے کو احد سے چھوٹا)، کبھی دونوں میں سے ہر ایک کو احد کے برابر ، کبھی دونوں میں سے چھوٹے کو مد کے برابر ، کبھی دونوں ہی کو احد سے بڑے تو کبھی دونوں کو دو بڑے پہاڑوں کے برابر قرار دیا گیا۔ (مذکورہ پانچ احادیث کے حوالہ جات کو ذیل میں بالترتیب ذکر کیا جارہا ہے : (1۔ صحیح ابی داود : 3168؛ 2۔صحیح بخاری : 47؛ 30 صحیح ابی داؤد : 3168؛ صحیح النسائی: 1996؛ 5۔صحیح النسائی: 1993)

احادیث نبویہ کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ مسلمان کی نماز جنازہ ادا کرنے اور تدفین کے وقت حاضر رہنے سے جبل احد کا اٹوٹ تعلق ہے۔

اس موقع پر مناسب ہو گا کہ احد پہاڑ کے متعلق کچھ اہم معلومات ذکر کی جائیں تا کہ اس کی اہمیت، فضیلت اور محبت ، ہمارے دلوں میں راسخ ہو جائے۔ مدینہ نبویہ میں واقع اس پہاڑ کی لمبائی سات کلو میٹر ، چوڑائی 2 سے 3 کلو میٹر اور اونچائی تقریبا 350 میٹر ہے۔ یہ محض ایک پہاڑ ہی نہیں بلکہ مدینہ طیبہ میں اسلامی تاریخ کا ایک اہم جغرافیائی لینڈ مارک ہے۔

أحد! وما أدرك ما أُحد !! جبل احد کی عظمت ورفعت کے کیا کہنے! یہ وہی احد ہے ، جس کے بارے میں آپﷺنے فرمایا تھا: “جبل يحبنا و نحبه” ’’کہ ( احد ) وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘ یہ وہی احد ہے کہ جب اس پر نبی کریم ﷺ ، سیدنا ابو بکر ، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان کھڑے ہوے تو وہ خوشی سے حرکت کرنے لگا۔

جب آپ احد کے بلند قد و قامت کا تصور کریں تو ذرا اس بات کا بھی تصور کریں کہ احد اور اس سے بڑے پہاڑوں کےبرابر اجر و ثواب کس قدر وزنی ہو گا۔

سبحان اللہ !

ایک ضروری وضاحت: اس عظیم اجر کے حصول کے لیے دو شرطیں ہیں: ’’ایمان اور احتساب ‘‘ ( صحیح بخاری : 47)

یہاں ’ ایمان‘ سے مراد یہ ہے کہ اس عمل کی شرعی حیثیت اور اس کی فضیلت پر کامل ایمان رکھنا اور ’احتساب ‘ کا معنی یہ ہے کہ اس عمل کو صرف اللہ سبحانہ و تعالی کے لیے خالص کرتے ہوئے نیز اجر و ثواب کی نیت اور خواہش رکھتے ہوئے انجام دینا۔

محترم مصلیان کرام! احد پہاڑ کے برابر یا اس سے بھی زیادہ اجر و ثواب کے حصول کی خاطر ، ہر دن شہر ریاض کے اطراف واکناف سے سینکڑوں لوگ صرف نماز جنازہ ادا کرنے کے لیے جامع الراجھی کا رخ کرتے ہیں۔

پرسہ دینے والے مردو خواتین، نماز جنازہ سے پہلے ہی مسجد پہنچ کر میت کے لواحقین کو پرسہ دیتے ہیں۔

نماز جنازہ سے پہلے ، الکٹرانک اسکرینوں پر ، نماز جنازہ کا مکمل طریقہ پیش کیا جاتا ہے۔ ایک نا قابل فراموش واقعہ : چند سال قبل اس مسجد میں بیک وقت اکتالیس (41) لوگوں پر نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ذرا تصور کیجیے کہ کس قدر دل دہلا دینے والا منظر رہا ہو گا!

لمحہ فکریہ:کچھ لوگ جنازے میں شریک نہیں ہوتے کیوں کہ وہ میت کو دیکھنے اور اس سے قریب ہونے سے گھٹن اور وحشت محسوس کرتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ ، میت کی تدفین کے بعد ، اس کے اہل خانہ سے ملاقات کر کے انھیں پرسہ دینے ہی پر اکتفا کرتے ہیں۔ ایک کڑوا سچ ہے کہ جب اس دھو کے باز دنیا کی محبت ، دل میں رچ بس جاتی ہے تو انسان موت کو نا پسند کرنے لگتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ نماز جنازہ جیسی بیش بہا عبادت سے دور رہنا، در حقیقت اپنے آپ کو خیر عظیم سے محروم رکھنا ہے۔ لہذا جب بھی موقع ملے ، نماز جنازہ ضرور پڑھنی چاہیے بلکہ ہمیشہ اس سنہرے موقع کی تلاش اور انتظار میں رہنا چاہیے۔

ان کے ہم نشین بد بخت نہیں ہوا کرتے !

جامع الراجحی میں نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد ، تدفین میں شرکت کرنے والوں کو مسجد سے قبرستان لے جانے اور تدفین کے بعد واپس مسجد تک پہنچانے کے لیے بسوں کا انتظام رہتا ہے۔ کچھ سال پہلے ، اس خاک سار کو بھی ، یہاں سے بذریعہ بس ، قبرستان جانے کا موقع ملا۔ کم و بیش پندرہ منٹ کے اس مختصر سفر کے دوران ، بس میں سوار لوگ، تین میں سے ایک کام میں مشغول تھے :

1۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر 2۔ تلاوت قرآن مجید

3۔کسی دینی موضوع سے متعلق گفتگو۔ اس دوران انھوں نے دنیوی امور سے متعلق گفتگو نہ کی ، گویا زبان حال سے وہ یہ کہہ رہے تھے:

’’قبرستان کی زیارت کا ایک اہم مقصد ، عبرت و نصیحت حاصل کرنا ہے۔‘‘

بس میں ایک بزرگ بھی تھے (جو اس دن روزہ رکھے ہوئے تھے ) اور ایک شخص کا ہاتھ پکڑ کر اسے نصیحت کرتے ہوے ، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے متعلق، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث بیان کر رہے تھے جس میں چار مخصوص اعمال، ایک دن میں کرنے پر جنت کی خوش خبری سنائی گئی۔ مجھے اس نتیجے پر پہنچنے میں دیر نہیں لگی کہ یہ بزرگ، شاید اسی حدیث پر عمل کرتے ہوئے آج روزہ رکھے ہوئے ہیں، جنازے کی نماز ادا کرنے کے بعد تدفین میں بھی شریک ہو رہے ہیں ، ہو سکتا ہے کہ آج انھوں نے کسی مسکین کو کھانا بھی کھلایا ہو اور کسی مریض کی عیادت بھی کی ہو تا کہ ان چار نیک کاموں کے ذریعے جنت

کے حق دار بن سکیں، واللہ اعلم۔ پھر انھوں نے کچھ کلمات کہے جنھیں میں آج تک نہیں بھولا :

“إياكم و أموال الناس و دماءهم وأعراضهم .”

’’خبر دار !لوگوں کے مال کو ناجائز طریقے سے ہڑپنے ، ان کی جانوں کو نقصان پہنچانے اور ان کی عزت و آبروسے کھلواڑ کرنے سے بچے رہو۔‘‘

سعودی عرب کے امن ، ترقی اور خوش حالی کا ایک اہم سبب یہ ہے کہ یہاں کے شہری ، شرعی احکام پر عمل کرتے ہوئے اپنے حکم ران کے فرماں بردار اور وفادار ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ، یہ لوگ علماء کرام سے جڑ کر ، ان سے براہ راست شرعی علم حاصل کرتے ہیں ، جس کے سبب ، وہ ہر قسم کے فتنہ اور شر و فساد سے محفوظ رہتے ہیں۔ بس میں سوار بعض عام مسلمان بھی دوران گفتگو، ہيئۃ كبار العلماء ( علماء کی اعلی کو نسل) میں سے بعض علماء کرام کے نام کے ساتھ ان کے اقوال اور فتووں کا ذکر کر رہے تھے۔ یہ اور اس جیسے بے شمار واقعات ، در حقیقت اللہ تعالیٰ کے فضل کے بعد ، یہاں کے علماء کرام کی تعلیم و تربیت کے ثمرات ہیں۔ ان خیر خواہ علماء کرام کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے :

هُمُ القَوْمُ لا يَشْقَى بِهِمْ جليسُهُمْ

’’یہ وہ نیک بخت لوگ ہیں جن کے ہم نشین (ساتھی)، کبھی بد بخت نہیں ہوا کرتے ۔‘‘

ایک کھیت جو ’’آخرت کی کھیتی ‘‘ بن گیا (قبرستان کی داستان)

جامع الراجحی میں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد ، اکثر جنازوں کو ، ریاض کے مشرقی حصے میں واقع وسیع و عریض “مقبرة النسيم (قبرستان نسیم) میں دفن کیا جاتا ہے، جو کہ مملکت کے بڑے قبرستانوں میں سے ایک ہے۔

یہ قبرستان کم و بیش ساٹھ سال قبل ، در اصل ایک کھیت تھا جس کے خوش نصیب مالک کو اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی کہ وہ اس فناہو جانے والے دنیوی کھیت کو ’’آخرت کی دائمی کھیتی ‘‘ میں بدل دیں۔ چنانچہ وہ اس قیمتی زمین کو مسلمانوں کے لیے بطور ’’قبرستان ‘‘ وقف کر دیتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

(مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ﴾ (الشورى:20)

’’ جو شخص آخرت کی کھیتی ( اجر و ثواب کا طلب گار ہو ، ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کریں گے۔‘‘

اس عظیم شخصیت و دنیا ’’سماحۃ الشیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ – رحمہ اللہ ‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔ آپ شیخ الاسلام مجد د محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کی پانچویں پشت میں پیدا ہوئے ، بعد از آں، متعدد اعلی مناصب کے علاوہ تقریباً پندرہ سال تک ’’مملکت کے مفتی عام‘‘ کے باوقار عہدے پر فائز رہے۔ آپ کا سنہ وفات 1389 ہجری ہے۔ أسكنهم الله جنة عرضها السموات و الأرض۔ آمین۔

 مملکہ کے قبرستانوں کے باب الداخلہ پر زیارت قبور کی دعا لکھی ہوتی ہے۔

 قبرستان میں ایک آفس موجود ہوتا ہے جہاں اس قبرستان میں مدفون ہر شخص سے متعلق تمام ضروری معلومات درج ہوتی ہیں۔ ہر قبر کا ایک خاص نمبر ہو تا ہے۔

 قبرستان آنے والوں کو راحت پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔ تدفین کے دوران یا اس کے بعد، بیٹھنے کے لیے ، ایک سائبان shade کے نیچے ، کرسیاں رکھی ہوتی ہیں۔ ٹھنڈے پانی کی بوتلیں ، وافر مقدار میں موجود ہوتی ہیں۔ موسم گرما میں ، ہوا کو ٹھنڈی کرنے اور درجہ حرارت کو کم کرنے کے لیے ، پانی کی پھوار والے پنکھے (Mist Fans) نصب کیے جاتے ہیں۔ قبرستان کی گیٹ کے قریب صاف ستھرے بیت الخلاء اور وضو خانے موجود ہوتے ہیں۔ قبر میں مٹی ڈالنے کے لیے چھوٹی JCB مشین کا استعمال کیا جاتا ہے ، جس کے سبب، تدفین میں شرکت کرنے والوں کو پھاوڑوں سے مٹی ڈالنے کی مشقت نہیں اٹھانی پڑتی اور کم وقت میں تدفین بھی ہو جاتی ہے۔ قبرستان کو حسی گندگی (کوڑا کرکٹ وغیرہ) سے پاک رکھنے کے ساتھ ساتھ ، معنوی گندگی (شرک و بدعات وغیرہ)، سے بھی مکمل طور پر پاک رکھا جاتا ہے۔

 یہاں شرعی حکم پر عمل کرتے ہوئے عور تیں قبرستان نہیں جاتیں۔

 جو لوگ کسی وجہ سے مسجد میں نماز جنازہ نہیں پڑھ پاتے ، وہ قبرستان میں نماز جنازہ باجماعت ادا کرتے ہیں۔ کچھ ایسے بے غرض لوگ بھی ہیں جو اپنے رشتے دار کی تدفین کے بعد ، فورا نہیں لوٹ جاتے بلکہ دیگر جنازوں کی تدفین کے بعد ، ان کی قبروں تک پہنچ کر ، ان کے لواحقین کو بھی پرسہ دیتے ہیں۔

 کچھ مخلص رضا کار Volunteers تدفین میں مدد کے لیے موجو د رہتے ہیں ، جو ریا کاری سے بچنے کے لیے اپنے چہروں کو شماغ ( عربوں کے مخصوص رومال) سے چھپائے ہوتے ہیں تاکہ کوئی انھیں پہچان نہ پائے۔ میری ایک رشتے دار خاتون-رحمہا اللہ و غفر لھا۔ کی تدفین کے موقع پر ایک نامعلوم نوجوان آپہنچا، جب اسے علم ہوا کہ جنازہ ایک خاتون کا ہے تو وہ کچھ دور کھڑا، میت کے قبر میں اتارے جانے کا انتظار کرتارہا۔ جب میت کو مٹی کی اینٹوں سے مکمل طور پر چھپا دیا گیا اور اینٹوں کے در میان خالی جگہوں کو کچی مٹی سے بھرا جانے لگا تو ہم (لواحقین) سے اجازت لے کر وہ بھی قبر میں اترا اور تدفین کے آخر تک ہاتھ بٹاتا رہا۔ تدفین کے بعد جب وہ اپنے مقصد (اجر وثواب کے حصول ) میں کام یاب ہو کر تیزی سے لوٹ رہا تھا تو میں اس کے پیچھے چل پڑا اور گراں قدر تعاون پر اس کا شکر یہ ادا کیا۔ نام پوچھنے پر اپنی شناخت پوشیدہ رکھتے ہوے صرف اتنا کہا: ’’اللہ قبول کرے ‘‘ اور دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ جزاہ اللہ خیرا

میرے کچھ محترم رشتے دار بھی “ قبرستان نیم ” میں مدفون ہیں۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور جنات الفردوس میں انہیں جگہ نصیب فرمائے۔ آمین۔

ہائے افسوس ! قبروں کی زیارت ہی اگر بے روح ہو جائے ۔ ۔ ۔ !

اہل علم عام طور پر ، قبروں کی زیارت کے تین مقاصد ذکر کرتے ہیں :

1۔ فوت شدہ لوگوں کو سلام کرنا اور ان کے حق میں رحمت ، عافیت اور مغفرت کی دعا کرنا۔

2۔ موت اور آخرت کو یاد کرنا۔

3۔ سنت نبویہ کو زندہ کرنا کیوں کہ خود نبی کریمﷺ نے قبروں کی زیارت فرمائی اور اپنی امت کو اس بات کا حکم بھی دیا۔

قبروں کی زیارت ، اخروی زندگی کی یاد تازہ کرواتی ہے۔ دنیوی زندگی اس قدر قیمتی ہے کہ اس ابدی آخرت کو کمانے کا یہی ایک موقع ہے؛ لہٰذا ہمیں زندگی کے باقی ماندہ لمحات کو غنیمت سمجھتے ہوئے، آخرت کے لیے تیاری کرنی چاہیے تا کہ دائمی حسرت وندامت سے بچنا ممکن ہو سکے۔

گوہر سے گراں تر ہیں تری عمر کے لمحات

ہشیار! کہ ہو جائیں نہ یہ نذر خرافات

کٹ جائے نہ غفلت ہی کے رستے میں یہ مہلت

لب پر نہ ترے وقت اجل ہو کہیں “ہیہات”

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ۔ قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو اس قدر روتے کہ ان کی داڑھی بھیگ جاتی۔

یہ ڈھیر خاک کا اور اس میں لاش انساں کی

مقام فکر ہے کتنا مہیب منظر ہے

ایک مرتبہ، میں نے دیکھا کہ ایک بزرگ ، ڈولے (جنازے کی چار پائی) کے قریب کھڑے ہو کر، لوگوں سے کہہ رہے تھے: ((هذا سريركم الأخير في الدنيا فاستعدوا للموت))

’’لوگو! یہ (ڈولا) اس دنیا میں تمھارا آخری پلنگ ہو گا (جس پر تمہیں اس میت کی طرح لٹا کر ، قبرستان لایا جائے گا۔‘‘

لہذا اپنی موت کی تیاری کر لو!

فائدہ: امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا قول ہے:

((قولوا لأهل البدع ، بيننا وبينكم يوم الجنائز))’’اہل بدعت سے کہہ دو کہ ہمارے اور تمہارے درمیان ، جنازوں کے دن فیصلہ ہو گا۔‘‘

اہل علم اس قول کا ایک معنی یہ بیان کرتے ہیں کہ اہل سنت کے جنازوں میں اہل سنت شریک ہوتے ہیں اور اہل بدعت کے جنازوں میں اہل بدعت۔ فوت شدہ علماء اہل سنت کی نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس موقع پر موجود ، علماء اہل سنت سے بھی ملاقات ہو جاتی ہے ، خاص طور پر وہ علماء کرام جن سے کبھی ہماری ملاقات نہ ہوئی ہو۔

تنبیہات:بعض لوگ مسجد میں نماز جنازہ پڑھ کر لوٹ جاتے ہیں حال آں کہ ان کے پاس تدفین کے لیے قبرستان جانے کا وقت بھی ہوتا ہے۔ صرف نماز جنازہ پڑھ کر لوٹ جانے سے موت اور آخرت کی یاد دہانی اس قدر نہیں ہو پاتی جس قدر قبرستان جانے سے ہوتی ہے۔ بعض لوگ اپنے کسی رشتے دار یا شناسا ہی کی تدفین کے موقع پر قبرستان جاتے ہیں۔ پھر ایک لمبی مدت تک قبرستان سے ان کا کوئی تعلق باقی نہیں رہتا۔ یہ طرز عمل مناسب نہیں۔ ہر مسلمان مرد کو چاہیے کہ وہ وقتاً فوقتاً قبرستان کی زیارت کرتارہے تاکہ اسے نبی کریمﷺ کے حکم کی تعمیل کا اجر بھی مل سکے۔

محترم زائرین !ایک نہایت تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک، قبرستان کی زیارت ، عبرت و نصیحت حاصل کرنے کے ایک ذریعے کی بجائے ، محض ایک رسم بن کر رہ گئی ہے۔ قبرستان میں دنیوی امور سے متعلق گفتگو کر نا عام ہوتا جارہا ہے۔ کبھی کچھ لوگ ہنستے ہنساتے بھی نظر آتے ہیں۔ یہ نہایت ہی افسوس کا مقام ہے۔ کیا ہمارے دل اس حد تک مردہ ہو چکے کہ قبرستان اور غیر قبرستان کے درمیان فرق ہی نہیں کر پارہے ؟

مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مرجائے

کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے

علامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’علماء کرام کا قول ہے کہ جنازے میں شرکت کرنے والے شخص کا، دنیوی امور سے متعلق گفتگو کرنا یا مسکرانا یا ہنسنا، ایک مکر وہ عمل ہے۔‘‘ (شرح ریاض الصالحین : 2؍ 598)

علامہ اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ ہم جنازے میں شریک ہوتے ، اس موقع پر رونے والوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہوتی کہ ہم نہیں جان پاتے (ہم نہیں فرق کر پاتے ) کہ (کس کے رشتے دار کی وفات ہوئی ہے اور) کسے پرسہ دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کا رونا، خود اپنے آپ پر اور اپنی حالت پر ہو تا تھا، میت پر نہیں۔‘‘ ( العاقبة فی ذكر الموت:154)

ثابت البنانی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم جنازے میں شریک ہوتے تو ہمیں رونے والوں کے سوا کوئی اور نظر نہ آتا۔ (سابق حوالہ)

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو جنازے کے موقع پر ہنستے دیکھاتو فرمایا: کیا تم جنازے کے موقع پر ہنس رہے ہو؟ اللہ کی قسم! میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔ (سابق حوالہ)

قبرستان کی زیارت سے اگر موت اور آخرت کی یاد دہانی نہ ہو ، تو پھر ایسی بے روح زیارت کا کیا فائدہ؟ واللہ المستعان۔

معزز قارئین!انسان کی موت کا دن، اس کے لیے اس دنیا کا آخری اور سفر آخرت کا پہلا دن ہو تا ہے۔ موت کا فرشتہ روح قبض کرتا ہے پھر چند گھنٹوں بعد “منکر اور نکیر ” میت سے سوالات کرتے ہیں۔ عالم غیب سے متعلق ان دو مرحلوں کے درمیان کی نصیحت آموز روداد کا نہیں اختتام ہوتا ہے۔

دعا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ زندہ اور فوت شدہ مسلمانوں کی مثالی خدمت کرنے والوں اور ان کے قبرستان کے لیے زمین وقف کرنے والوں کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین۔

سعودی عرب کے حکم ران اور ان کی رعایا، قابل مبارک باد ہیں جو دنیا بھر میں انسانیت کی ہمہ جہت خدمات میں ہمیشہ صف اول میں نظر آتے ہیں۔ تاریخ کے اوراق میں ان کے کارنامے سنہرے حروف میں درج ہوں گے۔ ان کا اجر تو اللہ تبارک و تعالی کے پاس محفوظ ہے۔ ہم ان کے حق میں دنیا اور آخرت کی بھلائی کی دعا کرتے ہوے صرف اتنا کہیں گے کہ جس فراخ دلی اور انوکھے انداز سے آپ حضرات، نسل در نسل انسانیت کی مسلسل خدمت کرتے چلے آرہے ہیں، وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔ کسی اور کا، اس بلندی تک پہنچنا اتنا آسان نہیں!

کچھ گزارشات

 ہر مسلمان کو تجہیز، تکفین، نماز جنازہ، تدفین اور قبروں کی زیارت کے احکام و مسائل ، کتاب وسنت کی روشنی میں سیکھنے چاہیے۔

 بلد توحید وسنت، مملکت سعودی عرب میں دیگر امور ہی کی طرح تجہیز ، تکفین، تدفین اور زیارت قبور کے موقع پر بھی کسی شرکیہ عمل یا بدعت کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہوتا؟ اس سے سبق لیتے ہوے ، ہمیں اللہ تعالیٰ کی زمین کو شرک و بدعت سے پاک کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔

 غسل، تکفین اور تدفین کے لیے کچھ رضاکار ہمیشہ تیار ہوں۔ عورتیں بھی عورت کی تجہیز و تکفین کا طریقہ سیکھیں۔

 ہر چھوٹے بڑے شہر میں واٹساپ یا کسی اور سوشل میڈ یا پلاٹ فارم کے ذریعے ، عوام کو نماز جنازہ سے متعلق اطلاع دی جانی چاہیے کہ کس مسجد میں ، کس وقت ، کتنے جنازے موجود ہوں گے تاکہ لوگوں کو اجر عظیم حاصل کرنے کا موقع مل سکے اور وقتا فوقتا موت کی یاد بھی تازہ ہوتی رہے۔ شہر ریاض میں مختلف سوشل میڈ یا پلاٹ فار مس پر روزانہ اطلاع دی جاتی ہے کہ شہر کی کس مسجد میں ، کس نماز کے بعد ، کتنی میتوں پر نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔ ساتھ ہی ساتھ اس بات کی بھی اطلاع دی جاتی ہے کہ کس قبرستان میں ، کتنی میتوں کی تدفین عمل میں آئے گی۔ اس منفرد و مثالی خدمت کو ’’قیراط الریاض‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے کسی سرچ انجن میں ’’قیراط مدینۃ الرياض‘‘ یا ’’جنائز جوامع الریاض‘‘ ٹائپ کریں۔

 ہر خود دار غریب و مفلس شخص کو یہ غم بھی کھائے جاتا ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرے گھر والے، میرے کفن دفن کا انتظام کیسے کر پائیں گے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ میرے آخری سفر کے بہتر بند وبست کے لیے قرض کے دلدل میں پھنس جائیں۔

لہٰذار فاہی اداروں اور مساجد وغیرہ کے ذمہ داران اور اہل خیر سے گزارش ہے کہ وہ کچھ ایسے غسل خانے بھی تعمیر کروائیں جہاں میتوں کو بلا معاوضہ غسل دینے کا انتظام ہو۔ ساتھ ہی ساتھ فقراء اور مساکین کے کفن دفن کے اخراجات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اللہ تعالی کی عطا کر دہ دولت کے صحیح استعمال کے ذریعے ، اسے خود اپنی ذات کے لیے اور دوسروں کے لیے بھی فائدہ مند بناتے ہوئے، ایک قابل تقلید نمونہ پیش کریں۔

وہ حضرات و خواتین جنہیں اللہ تعالیٰ نے خوش حال رکھا ہے ، انہیں چاہیے کہ وہ اس عظیم خدمت کے ذریعے فقراء و مساکین کو مطمئن کر دیں کہ آپ کی وفات، آپ کے گھر والوں پر دوہری مصیبت کی شکل میں نہیں اترے گی ؛ موت کی مصیبت اور کفن دفن کے لیے قرض کی مصیبت۔ اس طرح عزت نفس کو سرمایۂ حیات سمجھنے والے لوگ اپنی وفات سے پہلے ، کم از کم اپنے کفن دفن کے اخراجات کے غم سے تو بے فکر ہو جائیں گے۔ زمین کے اوپر بسنے والے بے گھر افراد کے لیے مناسب ٹھکانے کا انتظام کر نا یقینا نیکی کا کام ہے ، دوسری جانب ہمیں ان نادار اور تنگ دست افراد کو بھی (ان کے کفن دفن کے موقع پر) ہر گز فراموش نہیں کرنا چاہیے جو اپنے پیچھے اتنا بھی مال نہیں چھوڑ جاتے کہ جس سے ان کے زیر زمین گھر (قبر) کے لیے دو گز زمین کا ٹکڑاہی خرید اجاسکے !

مسجد کی تعمیر میں حصہ لینے والے خوش نصیب افراد کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ نے اپنی حلال کمائی، مسجد کی تعمیر میں لگائی۔ اللہ تعالی آپ کو اس کا بہترین بدلہ دے۔ آمین۔ ہاں! ایک بات ضرور یاد رہے کہ مسجد کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد ، اسے مختلف عبادات ( نماز ، تلاوت قرآن مجید اللہ تعالیٰ کے ذکر، تعلیم دین، وغیرہ) کے ساتھ ساتھ مختلف خیر کے کاموں کے ذریعے آباد رکھنا بھی ضروری ہے۔ ہمارا عمل، شاعر محمد اقبال کے اس مشہور شعر کے بالکل بر عکس ہونا چاہیے:

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے

من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

صرف ایک مثال کے ذریعے ، بات مزید واضح ہو گی۔ ’’جامع الشیخ سلیمان الراجحی‘‘ تعمیر کروانے والے مشہور و معروف تاجر شیخ سلیمان الراجحی حفظہ اللہ نے ایک عالی شان مسجد بنانے کے بعد ، مسجدوں سے دوری نہیں اختیار کی بلکہ خود ان کا کہنا ہے کہ وہ فرض نماز ادا کرنے کے لیے اذان سے پہلے مسجد پہنچ جاتے ہیں اور روزانہ پانچ پارے تلاوت کرتے ہیں۔ اذان سے پہلے مسجد پہنچ کر ، وہ یقینا نفل نماز ، تلاوت قرآن مجید ، دعاء اور ذکر الٰہی جیسی عبادتوں کے ذریعے مسجد کو آباد رکھنے کی بھر پور کوشش کرتے ہوں گے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: في بُيُوتٍ أَذِنَ اللهُ أَن تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُةِ وَالْآصَالِ 0 رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ 0 لِيَجْزِيَهُمُ اللهُ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَيَزِيدَهُم مِّن فَضْلِهِ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابِ 0 ( النور : 36-38)

’’ان گھروں میں جن کے بلند کرنے اور جن میں اپنے نام کی یاد کاء اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ، وہاں صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جنھیں تجارت اور خرید و فروخت، اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اور نماز کے قائم کرنے اور زکوۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی ، اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہو جائیں گی۔ اس ارادے سے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دے بلکہ اپنے فضل سے انہیں مزید عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے بے حساب رزق دیتا ہے۔‘‘

موت آنے سے پہلے ، اللہ تعالی کی راہ میں دل کھول کر انفاق کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَأَنفِقُوا مِن مَّا رَزَقْنَاكُم مِن قَبْلِ أَن يَأْتِي أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَرْتَنِي إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَدِّقَ وَأَكُن مِّنَ الصَّالِحِينَ 0وَلَن يُؤْخَرَ اللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ0 (المنافقون : 10-11)

’’اور جو کچھ ہم نے تمھیں دے رکھا ہے، اس میں سے (ہماری راہ میں ) اس سے پہلے خرچ کرو، کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو کہنے لگے : اے میرے پروردگار! مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہو جاؤں؟ اور جب کسی کا مقررہ وقت آجاتا ہے، پھر اسے اللہ تعالیٰ ہر گز مہلت نہیں دیتا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اُس سے اللہ تعالیٰ خوب باخبر ہے ۔‘‘

معلوم ہوا کہ صدقہ کا تعلق ، جاں کنی یعنی روح قبض کیے جانے کے وقت سے بھی ہے کہ انسان اس وقت ، نیک عمل کرنے اور اللہ تبارک و تعالی کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنے کے سوا کسی اور عمل کی تمنا نہیں کرے گا۔ یادر ہے کہ اس وقت آرزو کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

لذتوں کو توڑنے والی چیز کو کثرت سے یاد کرو

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (آل عمران : 185)۔

’’ہر جان دار ، موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ ‘‘

کعب بن زهیر رضی اللہ عنہ کا ایک مشہور شعر ہے:

كلُّ ابنِ أُنثَى وَإِن طَالَتْ سَلامتُهُ

يَوْمًا على آلةٍ حَدْباءَ مَحْمولُ

ہر انسان کو ایک دن (ڈولے میں لٹا کر ) کندھوں پر ضرور اٹھایا جائے گا؛ گرچہ اسے سلامتی اور عافیت بھری کتنی ہی لمبی زندگی کیوں نہ نصیب ہوئی ہو۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ((أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَادِمِ اللَّذَّاتِ)) ’’لذتوں کو توڑ دینے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کرو۔‘‘ (جامع الترمذی: 2307، 4؍553؛ الجامع الصغير : 1؍ 209)

عام اوقات کے علاوہ ، دوران نماز بھی موت کو خصوصی طور پر یاد کرنے کا حکم دیا گیا ؛ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ اپنی نماز میں موت کو یاد کیا کرو ؛ انسان اگر اپنی نماز میں موت کو یاد کرے تو اس بات کا قوی امکان ہو گا کہ وہ اپنی نماز کو بہتر طریقے سے ادا کر پائے۔ اور (جب بھی) نماز پڑھو تو اس نمازی کی طرح پڑھو جو یہ سمجھتا ہے کہ یہ نماز ، اس کی آخری نماز ہو سکتی ہے۔‘‘ (أخرجه البيهقي في الزهد الكبير : 527 والديلمي في الفردوس: 1755؛ السلسلة الصحيحة: 2893)

ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان، اس چند روزہ زندگی میں اپنی موت سے کبھی غافل نہ رہے۔ یہ دنیا، ایک جلد ڈھل جانے والا سایہ ہے۔ اس سے دل لگا کر موت اور آخرت کی تیاری نہ کرنا عقل مندی نہیں۔ جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں بکثرت نماز جنازہ کی ادائیگی ، تدفین میں شرکت اور زیارت قبور کی توفیق عطا فرمائے ، کتاب و سنت اور منہج سلف پر چلائے اور ہمارا خاتمہ اسلام اور ایمان پر فرمائے۔ آمین

و صلی اللہ و سلم و بارك على نبينا و حبيبنا محمد و على آله و أصحابه أجمعين وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمین

تبصرہ کریں