مناسک حج کی ادائیگی میں اعتدال۔مولانا عبد الہادی العمری

اسلام اعتدال پسند دین ہے، افراط و تفریط یا غلو کوناپسند کیا گیا ، عبادات میں بھی اعتدال کی تعلیم دی گئی اور رسول اکرم ﷺنے اس کا عملی نمونہ پیش فرمایا اور ہمیشہ صحابہ کرام کو اس کی تلقین فرمایا کرتے، صلاة وصوم، صدقہ و خیرات، معاملات اور عادات، کھانے پینے، سونے جاگنےمیں حد اعتدال سے تجاوز کرنے کو پسند نہیں کیا گیا ۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں ایک مستقل باب اسی عنوان سے رکھا ہے کہ عبادات میں تشدد اور سختی کی کراہت :

“باب ما يكره من التشديد في العبادة “

گویا عبادت جو تقرب الیٰ الله کا ذریعہ ، صالحیت کی علامت اور سعادت دارین کے حصول کا سبب ہے، اس میں بھی اعتدال مطلوب ، ورنہ ہماری عبادتیں روح اسلام کے منافی ہوں گی۔ لیکن دیکھا گیا کہ اس میں لوگ افراط و تفریط کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر مناسک حج کی ادائیگی میں۔ حجاج کرام کی نیتیں نیک ہو سکتی ہیں، لیکن ہمارے اعمال سنت کے مطابق نہ ہوئے تو قابل قبول نہیں، نبی کریم ﷺکا ارشاد گرامی پیش نظر رہنا چاہیے :

«خُذُوْا عَنِّی مَنَاسِكَكُمْ »

’’حج کا طور طریقہ مجھ سے لو۔‘‘

رسول اللہ ﷺنے حجۃ الوداع کے موقع پر جگہ جگہ اس کی نصیحت فرمائی ، جب آپ ﷺ مزدلفہ پہنچے ، اپنے چچا زاد بھائی ابن عباس کو کنکری لانے کا حکم دیا ، جب وہ لے آئے تو آپ ﷺ نے ان میں جو درمیانے درجہ کی کنکریاں تھیں وہ قبول کرتے ہوئے ایسی تاکید فرمائی ، جس سے ہر طرح کے تشدد اور انتہاء پسندی کی بیخ کنی ہوتی ہے ۔ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:

«إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّما أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ» (سنن ابن ماجہ : 3029؛ مسند احمد: 215؛ 347)

’’خبر دار دین میں غلو سے بچو ، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں غلو نے برباد کر ڈالا۔ ‘‘

دین میں ہر جگہ اعتدال کی اہمیت ہے ، مناسک حج سے متعلق خاص طور پر ارشادات نبوی ﷺ کو اگر حجاج کرام پیش نظر رکھیں تو کئی پریشانیوں سے خود بھی محفوظ رہ سکتے ہیں اور دوسروں کی بھی راحت کا سبب بن سکتے ہیں، اس میں حجاج سے ایسی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں ، گویا شیطان ان کےسامنے کھڑا ہے ، وہ اپنی طاقت سے اسے کچل دیناچاہتے ہیں ، حالانکہ یہاں ذکر اللہ اور دعا کی ضرورت ہے اور ان دونوں چیزوں میں سکون اور وقار مطلوب ہے ۔ آپ ﷺنے عرفات سے مزدلفہ روانگی کے موقع پر دیکھا کہ ایک شور سا برپا ہوا ہے کیونکہ کچھ لوگ تیزی سے آگے بڑھنےکی کوشش میں اپنے جانوروں کو بھگا رہے تھے ، آپ ﷺ نے اس عجلت پسندی کو نا پسند فرماتے ہوئے نصیحت کی کہ لوگو !

وقار اور سکون سے آگے بڑھو ، یہاں تیزی میں نیکی نہیں ہے۔

بعض حجاج کرام عرفات میں پورا دن دعاؤں میں گزار کرمزدلفہ روانہ ہوتے ہوئے جس بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور پھر ان کی زبانوں سے جو ناپسندیدہ و کلمات ادا ہوتے ہیں ، گویا لگتا ہے دن بھر کی عبادت کا اثر میدان عرفات ہی میں زائل کر دینا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ہر قافلہ کو مناسب ترتیب کے ساتھ آگے بڑھایا جاتا ہے ۔ یہاں معلم کی آفس میں قرعہ اندازی ہوتی ہے کہ کس گروپ کو کس ترتیب سے لے جایا جائے گا، لیکن جن کے قرعہ فال میں کچھ تاخیر ہوتو پھر وہاں حجاج کا صبر کا بندھن جیسے ٹوٹ جاتا ہے ۔ میدان عرفہ ہی میں بعض حجاج کرام نبوی ہدایت کے بر خلاف جبل رحمت کا رخ کرتے ہیں کہ وہاں جا کر دعا کریں گے ، حالانکہ نصیحت نبوی ﷺ اس کے بر عکس ہے کہ

” العرفة كلها موقف”

میدان عرفات میں جہاں بھی جگہ ملے وہیں ٹھہرو اور وہیں سے دعا کرو۔ جبل رحمت پر جا کر دعا کرنے کی کوئی خصوصی فضیلت نہیں، وہاں تک پہنچنے کے لیے حجاج جان جوکھم میں ڈالتے ہیں۔ مزدلفہ پہنچ کر ہدایت نبوی ﷺ کے مطابق مغرب اور عشاء کی نماز ادا کر کے آرام کرنا ہے، فجر تک کیونکہ اس میدان میں آپ ﷺ نے مکمل آرام فرمایا تھا لیکن اسوہ نبوی ﷺ کے برخلاف بعض حجاج نماز کی ادائیگی سے قبل کنکریاں جمع کرنے میں لگ جاتے ہیں اور کچھ یہاں شب بیداری کی زحمت کرتے ہیں اور کچھ حضرات خصوصاً گروپ لیڈرز یہاں برائے نام قیام کر کے روانہ ہو جاتے ہیں کہ صبح کام زیادہ ہے ، حالانکہ مسنون یہ ہے کہ فجر کی نماز ادا کر کے ذکر و اذکار کے بعد یہاں سے روانہ ہوں ، صرف خواتین بچوں اور ضرورت مندوں کو پہلے روانہ ہونے کی اجازت ہے۔

کچھ حجاج کرام قیام مکہ کے دوران ہر دن صبح و شام عمرہ کرتے ہیں ، صبح فجر کے بعد تنعیم روانہ ہوتے ہیں، وہاں سے احرام باندھ کر ایک عمرہ ادا کرتے ہیں اور شام دوسرا عمرہ ۔ لیکن ایسا عمل نہ صحابہ کرام نے کیا اور نہ ہی تابعین نے ، جبکہ اعمال صالحہ کا شوق اور جذ بہ ان میں کہیں زیادہ تھا ، اسی لئے بہت سے علماء کرام نے اس کے مقابلہ میں کثرت طواف کو ترجیح دی ہے ۔

حجر اسود کا بوسہ فرض اور واجب نہیں ، صرف مسنون عمل ہے ، اگر بوسہ کا موقعہ ہو تو چھونا ورنہ صرف اشارہ کر دینا کافی ہے لیکن وہاں جو کچھ دھکم پیل ہوتی ہے ، بعض لوگ دوسروں کی پرواہ کئے بغیر جس طرح آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ، یہ اسوہ اور ہدایت نبوی ﷺکے خلاف ہے ، بسا اوقات اس جدو جہد میں لوگ فرائض اور واجبات کی تک پرواہ نہیں کرتے ۔

ایک سنگین غلطی لوگ طواف کے بعد دو رکعات ادا کرنے میں کرتے ہیں ، طواف کے بعد کی دورکعات مسجد حرام میں کہیں بھی ادا کی جا سکتی ہیں ، لیکن عین مقام ابراہیم کے قریب ادا کرنے کی جستجو اپنے لئے اور طواف کرنے والوں کے لئے خطر ناک عمل ہے۔ کیونکہ وہاں ہزاروں لوگ طواف میں مشغول ہوتے ہیں ، اس وقت اسی جگہ نماز ادا کرنا اپنے لئے اور طواف کرنے والوں کے لئے زحمت اور مصیبت ہے۔

اسی طرح مسجد نبوی ﷺ کی زیارت کے موقع پر جو بے اعتدالیاں کی جاتی ہیں ، جیسے بعض زائرین کا یہ اصرار کہ ہر صورت میں مسجد نبوی میں چالیس نمازیں ادا کرنی ضروری ہیں ، ورنہ حج ناقص رہ جائے گا، حالانکہ حج مکہ میں شروع ہوتا ہے ، طواف قدوم سے اور مکہ ہی میں طواف وداع پر ختم ہو جاتا ہے ۔ اگر کسی کو موقع ہو تو مدینہ منورہ ضرور جائے اور چالیس نہیں بلکہ زیادہ قیام کر رہا ہو تو زیادہ نمازیں مسجد نبوی میں ادا کرے ، ورنہ جتنے دن قیام ہو اتنی ہی نمازیں ادا کرے ، خواہ مخواہ چالیس کی شرط نہ لاد لے۔

مسجد نبوی میں زیارت اور روضۃ الجنۃ میں اداء صلاۃ کے لئے بعض لوگ اداب زیارت اور حدود و قیود کی جو پامالی کرتے ہیں ، وہ اس اہم مقام کے مرتبہ کے منافی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور ہدایات کے خلاف ہے ، یہاں تو سنتوں پر عمل کرنے کا جذبہ زیادہ ہونا چاہیے۔

٭٭٭

برمنگھم میں جلسۂ استقبال رمضان

(نوٹ: اس خبر میں کچھ پروف کی غلطیاں رہ گئی تھیں جو تصحیح کے بعد دوبارہ شائع کی جا رہی ہیں۔)

جامع مسجد محمدی ھارٹپ روڈ الم راک برمنگھم میں رمضان المبارک سے ایک ہفتہ قبل جلسہ استقبال رمضان کا اہتمام کیا گیا تھا۔ تاکہ رمضان کی آمد سے قبل اس کی اہمیت وفضیلت سے واقف ہو کر اسی سے پوری طرح استفادہ کیا جا سکے اور غفلت اور سستی دور ہو۔

اسی جلسہ سے قاری ذکاء اللہ سلیم، ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہلحدیث برطانیہ، مولانا عبد الہادی العمری صدر مجلس القضاء الاسلامی برطانیہ، مولانا محمد منیر قاسم بانی مسجد الفرقان شبلی، بریڈ فورڈ اور مولانا شیر خان جمیل احمد عمری رکن مجلس القضاء اسلامی برمنگھم نے بڑے ہی مؤثر انداز میں روزوں کے اسرار و روموز اور اس کی حدود وقیود پر روشنی ڈالی اور اس کے مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تقویٰ کا حصول اس کا بہت بڑا مقصد ہے۔

تقویٰ یہ ہے کہ جس طرح ہم دنیا میں ایک خاردار راستے سے گزرتے ہوئے بڑی احتیاط سے گزرتے ہیں کہ کہیں خار دار جھاڑی اور کانٹوں سے ہمارے کپڑے الجھ نہ جائیں، ہماپنے آپ کو اور اپنے کپڑوں کو بچاتے ہوئے گزر جاتے ہیں، اسی طرح اس دنیا میں بہت سے محارم اور اسلام کی ناپسندیدہ چیزیں اور برائیاں موجود ہیں، ان سے دامن بچا کر گزر جاتے ہیں، اسی طرح اس دنیا میں بہت سے محارم اور اسلام کی ناپسند چیزیں اور برائیاں موجود ہیں، ان سے دامن بچا کر گزر جانے کا نام تقویٰ ہے، اسی تقویٰ کی ٹریننگ کے لیے رمضان کے روزے فرض کیے گئے ہیں۔

امیر مسجد حاجی عبد الغفور نے جلسہ کی نگرانی کی، جناب محمد سلیمان چوہدری، حاجی اللہ دتہ، محمد امجد، جناب عجائب خان، حاجی باقی جان، محمد فاروق نسیم اور بہت سے معززین شریک تھے، خواتین بھی خاصی تعداد میں شریک تھیں۔ جلسہ کے اختتام پر تمام حاضرین کے لیے بہترین طعام کا انتظام کیا گیا تھا۔ اللہ کریم تمام متظمین و معاونین جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین

مسلمانو! اٹھو اب ماہ رمضان آنے والا ہے

کرو تیاریاں روزوں کی شعبان جانے والا ہے

ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈلی

٭٭٭

‫مرده كون ؟‬

امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

ليس الميت من خرجت روحه من جنبيه وإنما الميت من لا يفقه ماذا لربه من الحقوق عليه .

’’ میت وه نہیں جس كی روح پرواز كر گئی ، میت تو وه ہے جو سمجھتا نہیں كہ اس كے رب كے اس پر كیا حقوق ہیں ۔‘‘

(التذكرة : 18)

تبصرہ کریں