منہج سلف سے انحراف، اسباب اورحل-ڈاکٹر آصف عمری

إن الحمد لله رب العلمين والصلاة والسلام على خاتم الانبياء والمرسلين محمد وعلى أله و أهل بيته ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين. أما بعد!

﴿ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ﴾

”دین (ایمان ، عقیدہ و عمل ) اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔ (سورۃ آل عمران: 19)

﴿فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا ۖ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ﴾

”پھر اگر وہ سارے لوگ ) اس جیسا ایمان لائیں جس پر تم (صحابہ کرام ایمان لائے ہو تو یقیناً وہ ہدایت پاگئے اور اگر وہ انحراف کر جائیں اور پھر جائیں تومحض ایک ضد اور انتشار میں ہیں۔“ (سورۃ البقرة:137)

فرمان نبوی ﷺ ہے:

«مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدُّ»

’’جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا قول و عمل نہیں تو وہ عمل مردود اور نا قابل قبول ہے۔‘‘ ( صحیح بخاری)

وتفترق أمتى على ثلاث وسبعين ملَّةً كلهم في النَّارِ إِلَّا مِلَّةً واحدةً قالوا من هى يا رسول الله قال: ما أنا عليه وأصحابي. (جامع ترمذی : 2641)

’’اور میری امت تہتر (73) ملتوں میں بٹ جائے گی وہ سب کے سب جہنم میں ہوں گے سوائے ایک ملت کے ، لوگوں نے پوچھا اور وہ کون ہے؟ اے اللہ کےرسول ﷺ! آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔‘‘

دور حاضر 1442ھ مطابق 2021ء میں مسلمانان عالم کی دینی ، ایمانی، اخلاقی ، عائلی و سماجی صورتحال انتہائی ابتر اور افسوس ناک ہے ہر باشعور طبقہ اچھی طرح جانتا ہے اور شدت سے اس تباہی و بربادی، زوال، نکبت ، ذلت، پسماندگی کا حساس بھی کرتا ، ہے آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ اکثریت مقصد حیات اور انجام آخرت سے غافل ہیں:

﴿ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ﴾

(سورة الاعراف: 187)

اور دوسری وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت اللہ پر ایمان رکھنے کے باوجود شرک میں مبتلا ہیں۔

﴿وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ﴾(سورة يوسف: 106)

خاتم الانبیاء محمد ﷺ نے پیشین گوئی فرمادی تھی :

من يعش منكم فسيرى اختلافا كثيرًا، فعليكم بسنتى وسلّةِ الخلفاء الراشدين المهديين عضوا عليها بالتواجد، وإيَّاكُم ومُحدثات الأمور، فإن كل بدعة ضلالة. (جامع ترمذى: 2676)

’’ تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت اختلافات دیکھے گا۔ ( تو اس وقت ) تم میرا طریقہ اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کا طریقہ لازم پکڑنا۔ اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور اسے اپنے ڈاڑھوں سے تھام لو اور نئے نئے کام (دین میں) ایجاد کرنے سےبچو کیونکہ دین میں ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘

دین اسلام سارے انبیاء کرام﷩ کا دین رہا ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اب قیامت تک سارے انسانوں کے لیے صرف اسلام ہی راہ ہدایت و نجات ہے ۔ راستہ بھی ایک ہے منزل بھی ایک ہے ۔ وہ سیدھا راستہ صراط مستقیم جس کی وضاحت کرتے ہوئے اللہ تعالی نے اپنے آخری رسول ﷺ کی زبانی ہمیں بتا دیا:

﴿وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ۚ﴾

”اور یہ کہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے سو اس راہ پر چلو دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جداکر دیں گی ۔“ (سورة الانعام: 153)

تمام مسلمانوں کے لیے اصولی بات

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ۖ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾

’’اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (ﷺ) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز پر اختلاف کرو تو اسے لوٹا ؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول (ﷺ ) کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام بہت اچھا ہے۔“(سورۃ النساء:59)

دین و شریعت کے کسی بھی معاملہ میں تمہارے اپنے حکمرانوں، ائمہ اور بڑوں سے اختلاف ہو جائے تو تم اپنے اختلافات کا حل قرآن وحدیث کے ذریعہ تلاش کرو۔

منہج سلف صالحین کیا ہے؟

منہج طریقہ یا راستہ کو کہتے ہیں منہج سلف صالحین یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، تابعین عظام تبع تابعین اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے ائمہ و محدثین، دین کے فکر وفہم ، فقہ و بصیرت، رکھنے والوں کو کہتے ہیں۔

منہج سلف عقیده و توحید کی پختگی کتاب وسنت کی صحیح اور مکمل پیروی کا نام ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام مجید میں نبی کریم ﷺ سے فرمایا :

﴿لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ﴾

’’جو ارشادات لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کر دیں۔‘‘(سورۃ النحل: 44)

( قرآن مجید اس لئے نازل کیا گیا تا کہ آپ ﷺ اسے کھول کھول کر بیان کر دیں جو لوگوں کی جانب نازل کیا گیا۔)

دین اسلام کی صحیح مکمل تعبیر و تشریح کا نام سلفیت ہے۔ وہ منہج اور طریقہ اور وہ عقیدہ و عمل جو سلف یعنی صحابہ کرام نے نزول قرآن کے وقت رسول اکرم ﷺ کے قول و عمل سے سیکھا، سمجھا، دیکھا اور عمل کیا اور بعد والوں کو اسی عقیدہ عمل کی دعوت دی اور سکھایا جسے انہوں نے حرزِ جان بنا کر تاویل وتحریف، تعطیل و تشبیہ، افراط و تفریط کے بغیر قولی و عملی طور پر اپنایا اور تابعین عظام نے بھی صحابہ کرام سے من و عن ان نصوص، اصل قرآن وسنت اور فہم کو حاصل کیا یہی سلفی منبج ہے۔

خصوصیات منہج سلف:

1۔ خالص کتاب وسنت کا راستہ ہے۔

2۔سب سے بہترین طبقہ اور گروہ یعنی صحابہ کرام نے براہ راست رسول ﷺ سےسیکھا اور سمجھا۔

3۔یہی صراط مستقیم جنت کی طرف لے جانے والا راستہ ہے۔

4۔ ہر قسم کے فکری و عملی انحراف شرک و بدعات سے پاک شاہراہ عمل ہے۔

5۔ امت اور انسانیت کے لیے ہر نئے مسائل و مشکلات کا صحیح حل اس میں ہے۔

6۔یہ ساری انسانیت اور دنیا کے لیے امن و شانتی ، اخوت و بھائی چارہ، مذہبی رواداری، احترام انسانیت، فرقہ وارانہ ہم آہنگی ، الفت و محبت، ہدایت ونجات کا ضامن ہے۔

7۔منہج سلف دین کے صحیح فہم و عمل کا نمونہ ہے۔

8۔کتاب وسنت کی فطری اور حقیقی تعبیر و تشریح ہے۔ فقہاء کرام کے اجتہادات و ترجیحات کا پاس ولحاظ ہے۔

9۔ سلفیت ہی میں دین کی وسطیت واعتدال ہے۔

10۔ غلو، افراط سے پاک صحابہ کرام اور اہل بیت کے ساتھ محبت ، مودت اور بے حداحترام بھی ہے۔

11۔ روافض، خوارج، کے گمراہ کن عقائد ظلم وجور سے برأت بھی ہے۔

12۔ حق و باطل کے گڈ مڈ ہونے سے بچنے کی تلقین اور تاکید بھی ہے۔

13۔ فقہاء کرام و مجتہدین وائمہ کے اجتہادات سے استفادہ کا ذوق بھی ہے اور تقلید جامد سے دور رہنے کا طریقہ بھی ہے۔

14۔ شدت پسندی ، مدا ہنت، مرعوبیت و مغلوبیت جیسے منافقانہ صفات، افکار و خیالات سے حددرجہ اجتناب بھی ہے۔

15۔ ہر دور کے فتنوں ، گمراہ کن افکار شخصیت پرستی، تکفیری فتوے ،انا پسند ی تکبر تحقیر تقصیر خود پسندی و شہرت طلبی جیسے اخلاق رذیلہ سے احتیاط کرنے کا جذبۂ صالح بھی ہے۔

دور حاضر میں منہج سلف سے انحراف کے اسباب

عصر حاضر میں بہت ساری تنظیمیں ، جماعتیں اور فرقے جو اپنے آپ کو کتاب وسنت کی طرف منسوب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا عقیدہ اور دعوت صرف کتاب وسنت ہے کیا یہ سچ ہے اور یہ کہہ دینا کافی ہے کہ ہم کتاب وسنت کو مانتے ہیں؟

لیکن سوال یہ ہے کہ کتاب وسنت کو ماننے سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا معیار اور کسوٹی کیا ہے۔ یہ بنیادی سوال ہے اس کا واضح اور صحیح جواب یہی ہے کہ قرآن اور سنت کو اس کے نزول کے وقت سمجھنے والے صحابہ کرام تھے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سابقون الاولون ، انصار و مہاجرین کے فضائل اور ان کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر ساری دنیا کے لوگ صحابہ کرام جیسا ایمان، وعقیدہ اور عمل اختیار کریں گے تو ہی ہدایت یافتہ ہوں گے اور نجات پائیں گے۔ اور ان کو ہی طائفہ منصورہ ، فرقہ ناجیہ امت وسط سبیل المومنین ، اہل السنہ، اہل الحدیث، اہل الاثر کہا گیا۔

﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ (سورۃ التوبہ: 100)

’’اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے ۔ “

﴿ فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا ۖ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴾ (سورة البقره: 137)

”اگر وہ تم جیسا ایمان لائیں تو ہدایت پائیں، اور اگر منہ موڑیں تو وہ صریح اختلاف میں ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے عنقریب آپ کی کفایت کرے گا اور وہ خوب سننے اور جاننے والا ہے ۔ “

﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۗ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ ۚمِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ (سورۃ آل عمران: 110)

’’ تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوا گر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لیے بہتر تھا ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں لیکن اکثر تو فاسق ہیں۔ ‘‘

﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ۗ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ ۚ وَإِنْ كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۗ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ ﴾(سورۃ البقرہ: 143)

’’ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا تا کہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ اور رسول (ﷺ ہیں کہ تم ) تم پر گواہ ہو جا ئیں جس قبلہ پر تم پہلے تھے اسے ہم نے صرف اس لیے مقرر کیا تھا کہ ہم جان لیں کہ رسول کا سچا تا بعد ار کون ہے اور کون ہے جو اپنی ایڑیوں کے بل پلٹ جاتا ہے گو یہ کام مشکل ہے، مگر جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے ان پر کوئی مشکل نہیں اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال ضائع نہیں کرے گا اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کرنے والا ہے۔“

﴿ قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي ۖ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾(سورۃ یوسف: 108)

”آپ کہہ دیجیے میری راہ یہی ہے، میں اور میرے پیرو کار اللہ کی طرف بلا رہے ہیں، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں ۔ “

دعوت فکر کے لیے ہر آدمی کی سمجھ ،فکر اور سوچنے کا انداز الگ ہوتا ہے ۔ قرآن وحدیث کو لوگوں کی عقل پر نہیں چھوڑ دیا گیا، کیوں کہ اس سے دین کی اصل باقی نہیں رہے گی اس لئے قرآن وحدیث کو سمجھنے کے لیے فہم سلف ضروری ہے۔ قرآن وسنت پر عمل اور اس کی دعوت حقیقت میں اسی وقت درست اور صحیح ہوگی جب آپ سلف صالحین کے فہم ومنہج کے مطابق اس کو سمجھیں یہی امت کے اتحاد اجتماعیت اور خیر کا راستہ ہے اور گمراہی سے بچنے فتنوں سے نجات پانے دین سے منحرف ہونے سے بچنے کا یہی راستہ ہے اور اسی میں کامیابی نجات و غلبہ کی گارنٹی دی گئی ہے۔

امت مسلمہ میں دین و شریعت سے دوری، انحراف کی وجہ یہی ہے کہ

ہر فرقہ اپنے عقیدہ ونظریہ کوہی صحیح سمجھتارہا اور اندھی تقلید کرتا رہا کیوں کہ اس کو بچپن سے یہی سکھایا پڑھایا گیا کہ

4۔ ان چیزوں کو مان لینا جو وحی کے ذریعہ ثابت ہو، جو حقیقی طور پر غور وفکر کے بعد سمجھ میں آئے۔

5۔علم کلام اور فلسفہ کی طرف مائل نہیں ہوتے اور امور غیب میں عقل کو دخل نہیں دیتے۔

6۔ ایک مسئلہ کے متعلق تمام دلائل کو جمع کرتے ہیں۔

7۔ وہ اللہ کے لئے کوئی ایسی صفت بیان نہیں کرتے جو صفت اللہ نے خود اپنے لئے یا پھر رسول ﷺ نے اللہ کے لئے بیان نہ کی ہو۔

8۔ اسماء وصفاتِ الٰہیہ کو ویسا ہی تسلیم کرتے ہیں جیسا اللہ نے اور اس کے رسول ﷺ نے بیان کیا ہے اس کی تشبیہ تمثیل اور تاویل نہیں کرتے۔

٭٭٭

دل کو بگاڑنے والی چیزیں

امام ابن قیم رحمہ اللّٰہ کا فرمان ہے کہ

‏وأمَّا مفسدات القلب الخمسة :

1- كثرة الخلطة،

2- والتمني،

3- والتعلق بغير الله،

4- والشبع،

5- والمنام.

فهذه الخمسة، مِن أكبر مفسدات القلب..

دل کو بگاڑ دینے والی پانچ چیزیں ہیں:

1۔ میل جول کی کثرت؛

2۔دنیوی آرزوئیں؛

3۔غیراللّٰہ سے وابستگی؛

4۔پیٹ بھرنے میں لگے رہنا

5۔اور نیند کی بہتات!

یہی پانچ چیزیں سب سے زیادہ دل کو فساد آلودہ کرنے والی ہیں۔‘‘(مدارج السالکین، 1: 453)

٭٭٭٭

تبصرہ کریں

1 تبصرہ