موسم سرما کے فوائداور احکام ومسائل۔ قاری شفیق الرحمٰن، الحکمہ انٹرنیشنل، لاہور

إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَسْتَعِینُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَسَیِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، فَمَنْ یَهْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ یُضْلِلْ فَلَا هَادِیَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰہُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُهُ، أَمّا بَعْدُ!

أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

﴿ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن رِّزْقٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ آيَاتٌ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ﴾ (سورة الجاثية:5)

﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ۛ وَأَحْسِنُوا ۛ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾ (سورة البقرة: 195)

﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا ﴾ (سورة النساء:29)

سیدنا عامر بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:

«الغَنِیمَةُ البَارِدَةُ الصَّوْمُ فِی الشِّتَاءِ»

(جامع ترمذی: 797 )

تمہید

موسم سرما اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا تحفہ اور اہل ایمان کے لیے بہار کی مانندہے۔ موسموں کی تبدیلی، قدرتِ الٰہی کا مظہر اور دنیا والوں کے لیے زندگی اور خوب صورتی کا باعث ہے۔ موسم کی تبدیلی اور لیل ونہار کے نظام سے پتہ چلتا ہے کہ وقت بڑی تیز رفتاری سے گزر رہا ہے؛ بندہ مومن کبھی بھی اپنے فراغت کے لمحات کو فضول کاموں میں ضائع نہیں کرتا۔

موسم سرمااور اس کی مختصر تعطیلات میں اپنے وقت کو مفید بنا نے کے لیے کچھ اس طرح ٹائم شیڈول بنانا چاہیے، مثلاً: عبادات کا اہتمام کرنا، کثرت سے دعا کرنا، حلال رزق کمانا، مفید مطالعہ کرنا؛ ترجمہ قرآن وحدیث کے شارٹ کورس کرنا، اہل علم کی صحبت اختیار کرنا، عزیز رشتہ داروں سے ملاقات اور مریضوں کی تیمارداری کرنااور خدمت خلق کے کام سرانجام دیناوغیرہ۔

یہ تمام امور بندگی اور عبادتِ الٰہی کا حصہ ہیں، فرصت کے یہ لمحات عبادت کے لیے غنیمت ہیں۔ جن وانس کی تخلیق کا اصل مقصد بندگی اور احکام الٰہیہ کو بجالانا ہی ہے۔ جس کے بغیر زندگی بے کار، عبث اور ضائع ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِِنسَ اِِلَّا لِیَعْبُدُوْن﴾ (سورة الذاریات: 56)

’’ہم نے جنوں اور انسانوں کو پیدا ہی اسی غرض سے کیا ہے کہ وہ ہماری عبادت کریں۔‘‘

جولوگ وقت کی قدر نہیں کرتے، انھیں مستقبل میں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتاہے۔ موسم سرما کی تعطیلات میں دیکھا گیا ہے کہ بیشتروالدین اپنے بچوں کی تربیت کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ بچے موبائل فون، بے کار گیمز، کھیل کود اور زیادہ سوئے رہنے سے اپنا وقت بربادکردیتے ہیں، ٹائم شیڈول نہیں بنایا جاتا۔

ان ایام میں طلبہ کو قرآن مجید پڑھنے اور حفظ کرنے، صبح و شام کے اذکار یاد کرنے، اسلامک اسٹڈیز اور عبادات کی طرف توجہ کرنی چاہیے؛ تاکہ یہ معمولات بچوں میں بڑے ہو کرپختہ عادات کا حصہ بن جائیں، جس سے معاشرے میں ایک صالح کردار پیدا ہو سکے۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسم سرما کسی نعمت سے کم نہیں، اس میں نماز، روزہ اور دیگر عبادات ادا کرتے ہوئے پسینہ، گرمی کا محسوس ہونا اور موسم کی حدت وسختی کا احساس نہیں ہوتا۔ اسی کے متعلق حدیث میں رہنمائی ہے۔

سیدنا عامر بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:

«الغَنِیمَةُ البَارِدَةُ الصَّوْمُ فِی الشِّتَاءِ»

’’سردی میں روزہ رکھنا، ٹھنڈی غنیمت (بغیر مشقت)ہے۔‘‘ (جامع ترمذی: 797 )

موسم کی تبدیلی، عقل والوں کے لیے نشانی

موسموں کی تبدیلی، قدرتِ الٰہی کا مظہر اور دنیا والوں کے لیے زندگی اور خوب صورتی کا باعث ہے۔ موسم کی تبدیلی اور لیل ونہار کے نظام سے پتہ چلتا ہے کہ کار خانہ ہستی کو چلانے والا کوئی ضرور ہے؟ جو ہر چیز پر قادر اور مطلق العنان ہے، جس میں غور وفکر کرنے والوں کے لیے عبرت، نصیحت اور معرفت الٰہی کی نشانیاں ہیں۔

کوئی ہے جو غور وفکر کرے؟

پوری کائنات مشاہداتی اور تجرباتی دلائل سے بھری پڑی ہے۔ جن نشانیوں کو آنکھ دیکھتی، کان سنتے اور حواس سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔دنیا میں گزرتے ایام، موسم کی تبدیلی،عمریں فنا اور زندگی و موت سے دوچار ہوناپڑرہا ہے۔

ان نشانیوں کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے رب الاعلیٰ کی معرفت اور پہچان حاصل کرے، جومقصدِ حیات ہے۔ اللہ کی کاریگری، شاہکار تخلیقات اور آیاتُ اللہ کے بارے میں دل غوروفکرکرے، تاکہ انسان کو رجوع الیٰ اللہ کی توفیق نصیب ہو۔ اللہ کا فرمان ہے:

﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ (سورة آل عمران:190)

’’بیشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔‘‘

موسم کی تبدیلی عقل والوں کے لیے نشانی

1…﴿وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ﴾ لیل ونہار کا اختلاف، اس میں دن اور رات کا آنا جانا، رات کا دن سے لمبا ہونا اور دن کا رات سے لمبا ہونا، اسی طرح سارا سال ہر روز طلوع و غروب کی جگہوں کا مختلف ہونا سب شامل ہے۔

2…﴿ وَمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن رِّزْقٍ﴾ غور کیجئے! یہاں آسمان سے نازل کی جانے والی چیز کے لیے پانی کے بجائے رزق کا لفظ استعمال فرمایا، کیونکہ آسمان سے بارش کے علاوہ بھی بہت کچھ اترتا ہے، جس سے تمام جانداروں کے رزق کا بندوبست کیا گیاہے۔ مثلاً سورج اور چاند کی کرنیں، روشنی، ہوائیں اور بہت سی چیزیں جو نظر نہیں آتیں مگر موجود اور محسوس کی جا سکتی ہیں،سب اوپر سے نازل ہوتی ہیں۔

3…﴿وَتَصْرِیْفِ الرِّیَاحِ﴾ ہواؤں کی تقسیم بھی کئی طرح کی ہے، مثلاً مشرقی، مغربی، جنوبی یا شمالی یا ان کے درمیان کی ہوائیں، ٹھنڈی، گرم یا معتدل ہوائیں، بار آور یا عقیم ہوائیں اور فائدہ پہنچانے والی یا نقصان دینے والی ہوائیں وغیرہ۔ سب اللہ تعالیٰ کی نشانیاں اور عقل مندوں کے لیے نصیحت ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن رِّزْقٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ آيَاتٌ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ﴾ (سورة الجاثیۃ:5)

’’اور رات اور دن کے بدلنے میں اور اس رزق میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کردیا اور ہواؤں کے پھیرنے میں ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔‘‘

موسم سرما، آخرت کی یاد دلاتا ہے

موسم سرما، سردی کی شدت اور موسم کی خنکی دراصل ہمیں آخرت کی یاد دلاتی ہے۔ کیوں کہ جہنم میں دو طرح کا عذاب ہو گا، آگ کا عذاب اور سخت سردی کا عذاب۔ جب کہ اہل جنت ان دونوں عذابوں سے محفوظ ہوں گے۔

جنت کا موسم نہایت خوش گوار اور معتدل ہوگا، جیسے کہ ہمارے ہاں بہار کا موسم ہوتا ہے، اس میں نہ تکلیف دہ گرمی ہوگی نہ سردی۔ اس کے برعکس جہنم میں شدید گرمی یعنی آگ اور شدید سردی کا عذاب ہوگا۔

دنیا میں شدید گرمی اور شدید سردی کی اصل بھی جہنم ہی سے ہے۔

سیدنا ابوہریر ۃ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺنے فر مایا:

«اِشْتَکَتِ النَّارُ إِلَی رَبِّہَا، فَقَالَتْ: یَا رَبِّ أَکَلَ بَعْضِی بَعْضًا، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَیْنِ، نَفَسٍ فِی الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِی الصَّیْفِ، فَهُوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الحَرِّ، وَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِیرِ»

’’جہنم نے اپنے رب سے شکایت کرتے ہوئے کہا: اے میرے رب، میرے ایک حصے نے دوسرے حصے کو کھا لیا تو اللہ تعالیٰ نے (سال میں )اس کے لئے دو سانس لینے کی اجازت دے دی ، ایک سانس سردی کے موسم میں اور دوسری سانس گرمی کے موسم میں ، چنانچہ یہی وجہ ہے جو تم شدید گرمی محسوس کرتے ہو اور یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے تم شدید سردی محسوس کرتے ہو ۔‘‘ ( صحیح بخاری: 537 ،صحیح مسلم: 617 )

موسم کی تبدیلی نعمت ہے، جس کا شکر واجب ہے

قریش سال بھر میں تجارت کے لیے دو سفر کرتے تھے۔ سردی کے دنوں میں یمن کی طرف کہ وہ ملک گرم ہے اور گرمیوں میں شام کی طرف جو سرد اور شاداب علاقہ ہے۔ اس طرح قریش کو تجارت میں خاطر خواہ نفع ہوتا، پھر امن و چین سے گھر بیٹھ کر کھاتے اور کھلاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس انعام کو یہاں یاد دلایا ہے کہ تم اللہ کے رسول کو کیوں ستاتے ہو ؟ کیا یہ انتہائی ناشکری اور احسان فراموشی نہیں ؟

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ ‎0 فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَٰذَا الْبَيْتِ 0‏ الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ‏﴾ (سورة قریش:2-4)

’’ان کے دل میں سردی اور گرمی کے سفر کی محبت ڈالنے کی وجہ سے۔ تو ان پر لازم ہے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔ وہ جس نے انھیں بھوک سے (بچا کر)کھانا دیا اور خوف سے (بچا کر)امن دیا۔ ‘‘

موسمِ سرما غنیمت کیسے؟

اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسم سرما کسی نعمت سے کم نہیں، اور اس میں تعطیلات یقینا غنیمت کے لمحات ہیں۔جس میں نماز، روزہ اور دیگر عبادات ادا کرتے ہوئے پسینہ، گرمی کا محسوس ہونا اور موسم کی حدت وسختی کا احساس نہیں ہوتا۔ اسی کے متعلق حدیث میں رہنمائی ہے۔

سیدنا عامر بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:

«الغَنِیمَةُ البَارِدَةُ الصَّوْمُ فِی الشِّتَاءِ»

’’سردی میں روزہ رکھنا، ٹھنڈی غنیمت (بغیر مشقت)ہے۔‘‘ (جامع ترمذی: 797 )

موسم سرما، عبادت الٰہی کے قیمتی لمحات

دنیا کے مشاغل، تجارت اور کام دھندے انسان کو ذکر الٰہی اور عبادت سے غافل کر دیتے ہیں۔ انسان سمجھتا ہے کہ میں جتنا زیادہ کام کروں گا اسی قدرترقی کروں گا، مادیت اور خواہشات کے لحاظ سے یہ بات درست ہو سکتی ہے، مگر روحانی اور اسلامی اعتبار سے درست نہیں ہے۔ حدیث قدسی میں ہے کہ بندہ جس قدر عبادت میں مشغول ہو گا اللہ تعالیٰ اُسے دنیا کے غموں سے نجات اور فقیری سے بچا کر رزق میں برکت ڈال دے گا۔

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«یَا ابْنَ آدَمَ تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِی أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًی وَ أَسُدَّ فَقْرَكَ، وَإِلَّا تَفْعَلْ مَلَأْتُ یَدَیْكَ شُغْلًا وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ»

’’ابن آدم! تومیری عبادت کے لیے یکسو ہوجا، میں تیرا سینہ استغناء وبے نیازی سے بھردوں گا، اور تیری محتاجی دور کروں گا، اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تومیں تیرا دل مشغولیت سے بھردوں گا اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا۔‘‘ (جامع ترمذی: 2466 )

صحابہ کرام ،موسم سرما کو کیسے غنیمت جانتے؟

سیدنا ابوہریرہ سے موقوفا بسند صحیح سے ثابت ہے کہ وہ فرماتے ہیں:

«أَلَا أَدُلُّکُمْ عَلَی الْغَنِیمَةِ الْبَارِدَةِ؟ قَالَ:الصَّوْمُ فِی الشِّتَاءِ»

’’کیا میں تمہیں ٹھنڈی غنیمت کے بارے نہ بتاؤں؟ وہ سردی میں روزہ رکھنا ہے۔‘‘ (السنن الکبری للبیہقی: 5 845 )

سیدنا عمر فاروق نے فرمایا:

اَلشِّتَاءُ غَنِیْمَةُ الْعَابِدِیْنَ

’’سردی کا موسم عبادت گزاروں کے لیے موقعہ غنیمت ہے۔‘‘ (حلیۃ الاولیاء:1؍51؛ کتاب الزہد للامام احمد ص: 615 )

موسم سرما میں اسلاف کا طرزِ عمل

نبی کریمﷺ میدان خندق کی طرف تشریف لے گئے، آپ نے دیکھا کہ مہاجرین اور انصار سردی کی سختی کے باوجود صبح صبح خندق کھودنے میں مصروف ہیں۔ آپﷺنے ان کی تھکن اور بھوک کو دیکھا تو ان کے حق میں دعا فرمائی:

«اللَّهُمَّ إِنَّ العَیْشَ عَیْشُ الآخِرَہْ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالمُهَاجِرَہْ»

’’ اے اللہ!زندگی تو پس آخرت ہی کی زندگی ہے پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔‘‘

صحابہ کرام اس کے جواب میں کہتے:

“نَحْنُ الَّذِینَ بَایَعُوا مُحَمَّدَا … عَلَی الجِهَادِ مَا بَقِینَا أَبَدَا.”

ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد(ﷺ)کے ہاتھ پر اس وقت تک جہاد کرنے کا بیعت کی ہے، جب تک ہماری جان میں جان ہے۔ ( صحیح بخاری: 2834 )

موسم سرما میں دوسرا واقعہ؛جنگ احزاب

جنگ احزاب میں شدید سردی اور طوفانی رات میں نبی کریمﷺنے سیدناحذیفہ کو کافروں کے لشکر کی خبر لینے کا (جاسوسی کے لیے )حکم دیا، جسے انہوں نے خندہ پیشانی سے قبول کیا اور اطاعت و فرمانبرداری کا عظیم مظاہرہ کرتے بخوشی سرانجام دیا اور اللہ تعالی نے اس دوران ان کے لیے سردی کا احساس تک ختم کردیا،وہ خود فرماتے ہیں:

«فَلَمَّا وَلَّیْتُ مِنْ عِنْدِہِ جَعَلْتُ کَأَنَّمَا أَمْشِی فِی حَمَّامٍ»

’’جب میں آپ کے پاس گیا توگویا میں حمام میں چل رہا تھا۔‘‘ (صحیح مسلم: 1788 )

سردی کی لمبی راتیں اور قیام للیل

سردیوں کی لمبی راتوں میں آنکھ کا کھل جانا اور بیدار ہونا عام بات ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نیک لوگوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ رات کو بہت کم سوتے ہیں۔

﴿کَانُوا قَلِیلًا مِنَ اللَّیْلِ مَا یَهْجَعُونَ﴾ (سورة الذاریات:17)

’’وہ رات کے بہت تھوڑے حصے میں سوتے تھے۔‘‘

رسول اللہﷺنے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر کے بارے میں فرمایا:

«نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّہِ، لَوْ کَانَ یُصَلِّی مِنَ اللَّیْلِ»

عبداللہ بہت اچھا آدمی ھے اگر وہ رات کو نماز تہجد پڑھے تو ۔ یہ حدیث سننے کے بعد سیدنا عبداللہ (رات کو نماز ہی پڑھتے رہتے)اور بہت کم ہی سوتے تھے ۔

(صحیح بخاری: 1122)

سخت سردی میں قیام اللیل پر اللہ کا خوش ہونا

سیدنا عبداللہ بن مسعود نے فرمایا:

اللہ تعالیٰ اس شخص پر تعجب کرتا ہے اس کی طرف مسکراتا ہے جو سخت سردی کی رات میں بھی اپنے بستر لحاف اور کمبل سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے، وضو کرتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتا ہے: میرے اس بندے کو اتنی تکلیف ومشقت برداشت کرنے پر کس چیز نے ابھارا ؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ یااللہ وہ تیری رحمت کا امیدوار ہے اور تیرے عذاب سے خائف ہے (اسی وجہ سے تو یہ مشقت کر رہا ہے) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’وہ جس چیز کا امیدوار ہے وہ میں نے اسے عطا کردی اور جس سے ڈرتا ہے، اس سے امن عطا کردیا۔‘‘

(المعجم الکبیر للطبرانی : 8532؛ صححہ الالبانی فی صحیح الترغیب: 630)

موسم سرما کے شرعی احکام

1…اللہ تعالیٰ نے سردی کے ایام میں اپنے بندوں کے لیے شرعی احکام میں رخصت کا پہلو ،تیمم اور مسح کرنے کی سہولت دیتے ہوئے تکلیف سے بچایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَلَٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ (سورة المائدۃ:6)

’’لیکن وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور تاکہ وہ اپنی نعمت تم پر پوری کرے، تاکہ تم شکر کرو۔‘‘

2…بارش کا پانی پاک اور مبارک ہے، جس سے وضواور غسل کے ذریعے پاکی حاصل کی جا سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ وَهُوَ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ ۚ وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا ﴾

’’اور وہی ہے جس نے ہواؤں کو اپنی رحمت سے پہلے خوشخبری کے لیے بھیجا اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی اتارا۔‘‘ (سورة الفرقان:48)

3…سردی کے باوجود خوب اچھی طرح وضوکرنا، شریعت کا حکم ہے ۔ جس سے گناہ دُھل جاتے ہیں۔

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«أَلَا أَدُلُّکُمْ عَلَی مَا یَمْحُو اللہُ بِهِ الْخَطَایَا، وَیَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟»

’’کیا میں تمہیں ایسی چیز سے آگاہ نہ کروں جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ گناہ مٹا دیتا او ر درجات بلند فرماتا ہے ؟‘‘

صحابہ کرام نے عرض کیا:

اے اللہ کے سول کیوں نہیں!تو آپﷺنے فرمایا:

«إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَی الْمَکَارِہِ، وَکَثْرَةُ الْخُطَا إِلَی الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِکُمُ الرِّبَاطُ»

’’ناگواری (سردی، بیماری)کے باوجود اچھی طرح وضوکرنا، مساجد تک زیادہ قدم چلنا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، سو یہی رِباط (شیطان کے خلاف جنگ کی چھاؤنی)ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: 251)

4… سخت سردی یا شدیدبیماری یا عذر کی صورت میں اگر وضو یا غسل کرنے سے بیماری کی شدت یا موت کا خطرہ لاحق ہو تو ایسی صور ت میں رخصت پر عمل کرنا مسنون ہے۔

جب موزوں اورجرابوں)کو وضو کرکے پہناگیا ہو تو مسح کی مدت مقیم کے لیے ایک دن ایک رات اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں ہے۔

(صحیح بخاری: 206؛ سنن ابوداؤد: 162،157)

رسول اللہﷺصحابہ کرام کو حکم فرماتے تھے کہ

وہ(سفر میں) موزے تین دن اور تین رات تک، پیشاب، پاخانہ یا نیند کی وجہ سے نہ اتاریں، الا یہ کہ جنابت لاحق ہو جائے (تو اتاریں اور غسل کریں)۔

رسول اللہﷺنے عماموں (پگڑیوں ) اور تساخین (پاؤں کو گرم رکھنے والی چیزوں یعنی موزوں اور جرابوں) پر مسح کرنے کا حکم دیا۔ (سنن ابوداؤد: 146)

موسم سرما میں احتیاطی تدابیر

موسم کی خنکی، ٹھنڈی ہوائوں اور سردی کے اثرات سے خود بچنا اور اپنے بچوں کوبچانا،ایک شرعی اور معاشرتی مسئلہ ہے۔ جس کے لیے گرم خوراک کا اہتمام کرنا۔ موٹے کپڑوں کا استعمال کرنا۔ آگ جلاتے ہوئے احتیاط کو ملحوظ رکھنا، رات سوتے ہوئے آگ بجھا کر سونا، تاکہ کسی قسم کا ناگہانی حادثہ پیش نہ آئے، جس سے جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑے۔ حدیث میں آگ کو دشمن قرار دیا گیا ہے، محتاط زندگی اور پرہیز گاری مومن کا شیوہ ہے۔

آگ سے احتیاط برتیں

دین اسلام نے مسلمان کی انفرادی اور سماجی زندگی ہر پہلو میں رہنمائی کی ہے۔ موسم سرما میں گرمائش حاصل کرنے کے لیے آگ جلانے کے مختلف آلے استعمال کیے جاتے ہیں، مثلاً: گیس، بجلی یا کوئلہ وغیرہ، آگ کے بارے حکم ہے کہ رات کو سوتے ہوئے بجھا دو، کیوں ان کے جلنے سے آگ لگنے اور جانی ومالی نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«لاَ تَتْرُکُوا النَّارَ فِی بُیُوتِکُمْ حِینَ تَنَامُونَ» (صحیح بخاری: 6295 )

’’جب تم سونے لگو تو گھر میں آگ نہ چھوڑو۔‘‘

آگ تمہاری دشمن ہے

جان ومال کی حفاظت کرنا ہر بندے کا ذاتی حق ہے اور شرعی حکم بھی، کیوں کہ احتیاط زندگی کی ضمانت ہے۔ عموما گھروں میں دیکھا گیا ہے کہ بے احتیاطی برتی جاتی ہے، گیس اور بجلی کے آلات کو محفوظ نہیں کیا گیا ہوتا، جس کے نتیجے میں بسااوقات بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

رسول اللہﷺنے آگ سے محتاط رہنے کی سخت تاکید کی ہے۔

ایک مرتبہ مدینہ کے ایک گھر میں آگ لگ گئی ، جس کی وجہ سے پورا گھر جل گیا،آپ کو اس کی خبر دی گئی تو فرمایا:

«إِنَّ هَذِہ النَّارَ إِنّمَا هِیَ عَدُوٌّ لَّکُم، فَإِذَا نِمْتُم فَاطفِئُوهَا عَنکُم»

’’آگ تمہاری دشمن ہے، اس لیے جب سونے لگو تو اسے بجھا دیا کرو۔‘‘ (صحیح بخاری: 6294 ؛صحیح مسلم: 2016)

رسول اللہﷺکی چٹائی جل گئی

رات کو سوتے وقت آگ، کوئلے والی انگیٹھی، گیس یا بجلی کے ہیٹر اور لائٹس وغیرہ بجھا کر سونا چاہیے، ورنہ نقصان ہوسکتا ہے، نیز اس قسم کے حادثات آئے روز اخبارات میں پڑھنے اور سننے کو ملتے ہیں ، جودرحقیقت غفلت اور شیطانی حرکت کا عمل ہوتا ہے، اس لیے ہمشیہ اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔

سیدناعبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کوئی چوہیا چراغ کی بتی گھسیٹ کر لے آئی اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس چٹائی پر ڈال دی جس پر آپ تشریف فرما تھے اور ایک درہم کے برابر جگہ جل گئی تو آپ نے فرمایا:

«إِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوا سُرُجَکُمْ، فَإِنَّ الشَّیْطَانَ یَدُلُّ مِثْلَ هَذِہِ عَلَی هَذَا فَتُحْرِقَکُمْ»( سنن ابوداؤد: 5247 )

’’جب تم سونے لگو تو اپنے چراغ بجھا دیا کرو کیونکہ شیطان اس جیسی مخلوق کو اس قسم کا کام سجھا دیتا ہے اور تمھارے گھروں میں آگ لگادیتا ہے۔‘‘

رات سونے کے آداب

رسول اللہﷺکی یہ ہدایات کتنی حکمت پر مبنی ہیں، آگ سے اسی طرح احتیاط برتنی چاہیے اور اسی طرح چوکنّا رہنا چاہیے جس طرح دشمن سے چوکنّا رہا جاتا ہے، موسم سرما میں بہت احتیاط برتتے ہوئے آگ سے ٹھنڈک دور کرنے کی تدبیر اختیار کرنی چاہیے۔

ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:

«أَطْفِئُوا المَصابِیحَ إِذا رَقَدْتُمْ، وغَلِّقُوا الأبْوابَ ، وأَوْکُوا الأسْقِیَةَ ، وخَمِّرُوا الطَّعامَ والشَّرابَ»

’’سوتے وقت چراغوں کو بجھادو ، دروازوں کو بند کردو ، مشکیزوں کو باندھ دو اور کھانے پینے کی چیزوں کو ڈھک دو ۔‘‘ ( صحیح بخاری: 5624 )

سیدنا جابر بن عبد اللہ کی روایت میں مزید حکمت بیان کرتے ہوئے رسول اللہﷺنے فرمایا:

«فَإِنَّ الفُوَیْسِقَةَ رُبَّمَا جَرَّتِ الفَتِیلَةَ فَأَحْرَقَتْ أَهْلَ البَیْتِ»

’’کیونکہ بسا اوقات چوہیا چراغ کی بتی کھینچ لیتی ہے اور گھر والوں کو جلا دیتی ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 6295)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو موسم سرما سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

٭٭٭

اے ارضِ فلسطین

ہر ذرّہ تِرا خون شہیداں سے ہے رنگیں

پی پی کے لہو کیوں نہیں ہوتی تِری تسکین

ہر آن تِری خاک پہ انساں کی ہے توہین

اے ارضِ فلسطین

اکسیر ہے انجیر، نہ تریاق ہے زیتون

روتا ہوں لہو پڑھتا ہوں جو سورۂ والتین

ہر خوشۂ انگور سے رِستا ہے تِرا خون

اے ارضِ فلسطین

یا رب! یہ تِرے پیارے براہیم کی بستی

آتا ہے نظر حشر کا منظر سرِ سینین

انساں کا مقدر ہے جہاں ذلت وپستی

اے ارضِ فلسطین

ملبے تلے بچے بھی ہیں، بوڑھے بھی جواں بھی

اٹھتا ہے جنازہ، نہ ہے تکفین نہ تدفین

لاشوں کے ہیں انبار میں گم باپ بھی ماں بھی

اے ارضِ فلسطین

یحییٰ ہیں جو مقتول تو مضروب ہیں عیسیٰ

قابض ہیں رسولوں کی وراثت پہ شیاطین

محفوظ شفا خانے، نہ مسجد نہ کلیسا

اے ارضِ فلسطین

دعویٰ ہے کہ ہیں موسیٰ وہارون کے پیرو

انسان سمجھنا انہیں انساں کی ہے توہین

کردار میں فرعون سے بدتر ہیں مگر جو

اے ارضِ فلسطین

پتھر کے نہیں ہیں یہ مگر لگتے ہیں پتھر

مُردوں سے گئے گزرے ہیں سب شیخ وسلاطین

احساس نہیں ان کو گزرتی ہے جو تجھ پر

اے ارضِ فلسطین

بہتے ہیں لہو بن کے مسلسل مِرے آنسو

جنت میں ہیں اولاد کے اس ظلم پہ غمگین

تھمتے ہی نہیں دیدۂ یعقوب سے آنسو

اے ارضِ فلسطین

دیتا ہوں جو بیداد وستم پر میں دہائی

مانگوں جو دعا میں تو فرشتے کہیں آمین

فریاد مِری عرشِ معلیٰ کو چھو آئی

اے ارضِ فلسطین

خواجہ محمد عارف، برمنگھم

٭٭٭

تبصرہ کریں