
اسلام میں معروف کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا حکم دیا گیا، ازدواجی تعلقات کے استحکام کے لیے شوہر اور بیوی کو آداب زندگی سے آگاہ کرواتے ہوئے تاکید کی گئی کہ احکام الٰہی کو مذاق میں نہ ٹالو اور نہ ہلکا لو، شادی ایک مقدس بندھن ہے، اس کو پائیدار بنانے کی تلقین کی گئی۔
ان ساری ہدایات کے باوجود انسانی طبیعت میں جو کمزوریاں پائی جاتی ہیں ان کے پیش نظر آپس میں اختلافات، میاں بیوی کے درمیان ناراضگی کے امکانات بھی ہیں، صلحاء امت اور نیکو کار بندوں کی ازدواجی زندگیوں میں بھی ناچاقی، علیحدگی اور طلاق کے واقعات پیش آ چکے ہیں، اگرچیکہ ان کا تناسب کم ہے لیکن ان بزرگوں کی زندگیوں میں ان واقعات کی موجودگی چاہے وہ کم ہی ہوں یہ بتا رہے ہے کہ بہرحال خیر القرون کے عہد زرین میں بھی یہ حالات پیش آچکے ہیں، جن کی زندگیاں قرآنی تعلیمات سے منور تھیں، اسی لیے کتب احادیث و فقہ میں طلاق کے مسائل مذکور ہیں، سورۃ البقرہ کی کئی آیات اس مسئلہ سے متعلق ہیں اور پوری ایک سورت ’الطلاق‘ اسی نام سے موسوم ہے۔ قرآن حکیم میں ہے کہ زندگی معروف کے ساتھ بسر کرو، تاہم ایسے حالات اگر پیدا ہو جائیں کہ علیحدگی اور تفریق کے بغیر چارہ نہیں تو جدائی کی راہیں بھی معروف کے ذریعہ اپنائی جائیں۔ غور کیجیے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان علیحدگی اور نکاح کے بندھن کو طلاق کے ذریعہ ختم کرتے ہوئے بھی معروف کے تقاضوں پر عمل پیراہ ہونے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ حالانکہ اس صورت میں اکثر اوقات شدید ناراضگی ، تلخیاں اور غم وغصہ پایا جاتا ہے۔ اس نازک موقع پر نفس کو قابو میں رکھتے ہوئے معروف رویہ اپنانے کا حکم دیا جا رہا ہے:
﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ (سورۃ البقرہ: 229)
’’رکھنا ہو تو معروف کے ساتھ بھلے انداز سے ورنہ عمدگی کے ساتھ آزاد کر دو۔‘‘
شادی کا بندھن توڑ کر عورت کو رخصت کرتے ہوئے بھی حسن سلوک اور اخلاق کریمانہ کی تلقین بہت ہی غور طلب ہے، غیض وغضب کی تلاطم خیز موجوں میں حدود اللہ کو یاد رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے سرکشی سے سخت منع کیا جا رہا ہے، ان حالات میں نفس کا بے قابو ہونا ممکن ہے۔ آیت مذکورہ تسریح باحسان میں ایک نکتہ یہ بھی بیان کیا گیا کہ گھر چھوڑ کر جانے والی خاتون کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کرتے ہوئے ازراہِ کرم کچھ نوازا جائے، چاہے وہ کپڑوں کی شکل میں ہو یا کسی اور انداز میں ہنسی خوشی گھر میں رہتے ہوئے بھی ان باتوں پر عمل کرنا بعض جوڑوں کے لیے مشکل دکھائی دیتا ہے، یہاں تو طلاق کے بعد یہ تلقین کی جا رہی ہے، نیز دورانِ عدت اس مطلقہ کے اخراجات کی ذمہ داری بدستور شوہر ہی پر عائد کی گئی ۔ حالانکہ رشتہ ٹوٹ چکا، گھرانہ اجڑ گیا، لیکن حسن سلوک اور اخلاق کریمانہ سے دوری یہاں بھی گوارہ نہیں، عدت کے دوران بھی اس خاتون کی دست گیری کی تاکید کی گئی، مقام شکر ہے کہ اللہ نے ہمیں ایسے دین سے سرفراز فرمایا کہ اس میں خواتین کی ہر سطح اور موڑ پر خبر گیری کی ذمہ داری مردوں کے ذمہ ڈالی گئی۔
﴿وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ﴾’’طلاق شدہ عورتوں کو کچھ نواز دو عمدگی کے ساتھ یہ پرہیز گاروں کے لیے ضروری ہے۔‘‘(سورۃ البقرہ: 241)
ناگزیر حالات میں طلاق دینے کی ضرورت پیش آئے تو طلاق کے لیے بھی مفصل طریقہ بتایا گیا۔ یہ نہیں کہ میاں بیوی کے درمیان ناراضگی ہو گئی اور یکبارگی طلاق کے ذریعہ فیصلہ سنا دیا جائے۔ یہ منکر ہے۔ یہاں طلاق سے پہلے کچھ اصول بتائے گئے جن کی حیثیت ابتدائی علاج جیسی ہے۔ اگر ابتدائی علاج کا مرحلہ ناکام ہو تو پھر معروف کے ساتھ طلاق کا راستہ دکھایا گیا۔
﴿وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ﴾ (سورۃ النساء: 34)
جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو اور بستروں پر الگ چھوڑ دو، انہیں سزا دو اگر وہ اطاعت کریں تو ان کے خلاف زیادتی نہ کرو۔ اگر وہ صلح کرنا چاہیں تو اللہ ملاپ کرا دے گا، بے شک اللہ تعالیٰ علم اورخبر والا ہے۔
ازدواجی زندگی کی شکر رنجیوں کو معروف کے ساتھ دور کرنے کے لیے آیت مذکورہ میں پہلا مرحلہ یہ بتایا گیا ہے کہ باہمی مفاہمت سے کام لیتے ہوئے وعظ ونصیحت سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جائے یعنی شوہر اور بیوی ایک دوسرے کا موقف سمجھنے اور آپس میں اصلاح کرنے کی کوشش کریں۔ رنجشوں پر بروقت گرفت کر لی جائے تو علاج آسان ہے ورنہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ دونوں ایک ہی کمرہ میں رہتے ہوئے ازدواجی تعلقات کے بغیر چند دن گذاریں، ایک ہی کمرہ میں رہتے ہوئے آپسی تعلقات کے بغیر کچھ دن گزارنے کی یہ کیفیت دونوں کے لیے صبر آزما ہو گی اور دوسری طرف گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو بھی اس کا علم نہیں ہو سکے گا کیونکہ میاں بیوی کا رشتہ پُروقار اور باعث احترام ہے، لہٰذا آخری حد تک یہ احترام باقی رہنا چاہیے، لیکن پھر بھی بات نہ بن سکے تو اس تیسرے مرحلہ میں ہلکی پھلکی سرزنش کی اجازت دی گئی تاکہ طلاق اور جدائی کے خطرناک نتائج سے بچا جا سکے۔ گویا سزا میں رحمت ورافت کا ہی پہلو ہے۔ اس ہلکی سزا کی اجازت بھی اس لیے ہے کہ بڑے نقصان اور بھیانک تباہی سے بچا جا سکے اور عورت جذبات میں طلاق کا مطالبہ یا اصرار نہ کرے۔
اگر یہ مرحلہ بھی ناکام ہو جائے تو چوتھے مرحلہ میں خاندان کے خیرخواہوں سے مشورہ کرنے اور انہیں درمیان میں لانے کا حکم دیا گیا۔ (سورۃ النساء: 35)
خاندان میں عموماً ایسے کچھ صاحب بصیرت ہوتے ہیں جن کی رائے اور مشورہ کو افرادِ خاندان اہمیت دیتے ہیں۔ وہ فریقین سے گفتگو کر کے حسب ضرورت مفید مشوروں سے نوازیں گے تاکہ گھرانہ ٹوٹنے سے بچ سکے۔اگر ان بزرگوں کا مشورہ کارگر نہ ہو رہا ہو تو پھر اس کا مطلب یہ ہو گا کہ باہمی نزاع شدید ہے، آپس میں مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اب طلاق کے ذریعہ راہیں جدا کر لی جائیں، اگر طلاق سے قبل مذکورہ ہدایات پر عمل کیا جائے تو بہت سے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
یہ نہیں کہ کسی بات پر ناراضگی ہو اور جذبات میں طلاق طلاق طلاق کی گولیاں داغ دی جائیں۔ یہ منکر ہے، اس منکر کے سنگین نتائج میاں بیوی کے علاوہ دونوں خاندانوں کے مختلف افراد کو بھگتنا ہوتا ہے۔ جذبات سرد ہونے پر دونوں کو مختلف مولوی، مفتی اور مراکز کا رخ کر کے فریاد رسی کے لیے دستک دینی پڑتی ہے۔ ایک طرف گھر کے ذمہ دار پریشان، دوسری طرف خود اپنی اولاد بے بسی اور لاچاری کی کیفیت سے دوچار غور کیجیے۔
ایک فعل منکر کتنے منکرات کا سبب بنتا ہے، حتیٰ کہ طلاق کے مسئلہ میں بے احتیاطی کے سبب بے بس اور لاچار خاتون بعض اوقات حلالہ کی مذموم بھینٹ چڑھائی جاتی ہے جس کے تصور ہی سے بدن پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، جو بے غیرتی کی بدترین مثال ہے۔ جس کے مرتکب پر شریعت اسلامیہ میں لعنت بھیجی گئی، اکثر اوقات مرد کی جانب سے ہونے والی غلطی کا خمیازہ عورت کو بھگتنا پڑتا ہے۔ یہ ایسا منکر ہے جس کی قباحت سے متعلق متعدد مضامین، افسانے، کہانیاں لکھی گئیں، اس کے سبب نام نہاد مولویوں کی قبائے مقدس تارتار ہوئی اور ناقدین کو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہرزہ سرائی کا موقع ملا، حالانکہ اسلام کی پاکیزہ تعلیمات میں اس کو فعل شنیع قرار دے کر اس کی مرتکب پر لعنت بھیجی گئی۔
« لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ.»
(سنن ابو داؤد: 2076؛ سنن ابن ماجہ: 1936)
اس کا مرتکب کرایہ کے سانڈ جیسا ہے۔
التيس المستعار،صرف ناگزیر حالات میں طلاق کو جائز رکھا گیا۔ ورنہ یہ وہ فعل ہے جس سے شیطان زیادہ خوش ہوتا ہے۔ میاں بیوی کے درمیان تفریق پیدا کرنے والے کی شیطان حوصلہ افزائی کرتا ہے اور اسے اپنے قریب جگہ دیتا ہے۔
صحیح مسلم کی تفصیلی حدیث ہے کہ کیسے ابلیس اسے شاباشی دیتا ہے کہ تم نے کیا ہی زبردست کام کیا۔
مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ قَالَ فَيُدْنِيهِ مِنْهُ وَيَقُولُ نِعْمَ أَنْتَ(صحیح مسلم: 2813)
طلاق سخت حالات میں جائز رکھی گئی اگرچیکہ یہ ناپسندیدہ ہے۔
«أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الطَّلَاقُ»
(سنن ابو داؤد: 2178؛ سنن ابن ماجہ: 2018)
بعض افعال آدمی کے لیے مرغوب نہیں ہوتے، ان کی ضرورت پیش آتی ہے، جیسے انسانی جسم کا ناکارہ عضو آپریشن کے ذریعہ کاٹ کر بدن سے الگ کر دیا جاتا ہے۔ اگرچیکہ بدن کا حصہ کاٹنا پسندیدہ نہیں لیکن اس کی خرابی سے دیگر اعضاء کو محفوظ رکھنے کے لیے بسا اوقات یہ عمل ضروری ہوتا ہے۔ اسی طرح طلاق کا مسئلہ ہے یہ محبوب عمل نہین، شریعت میں ناگزیر حالات میں اس کی گنجائش رکھی گئی۔ اس سے پہلے دونوں کو صبر اور ضبط نفس کی تلقین کی گئی، دونوں کی نگاہیں ایک دوسرے کی مثبت صفات پر ہوں، کمزوریوں کو اللہ تعالیٰ دور فرما دے گا، ورنہ نظریں عیوب پر ٹکی ہوں گی، تو مثبت صفات سے بھی فائدہ نہیں اٹھایا جا سکے گا۔
«لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ» (صحیح مسلم: 1469)
شوہر بیوی کے رشتہ کو بگاڑنے یا بگاڑ کا سبب بننے والوں اور مداخلت بے جا کے مرتکبین کو سخت ناپسند کیا گیا۔
«لَيْسَ مِنَّا مَنْ خَبَّبَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا، أَوْ عَبْدًا عَلَى سَيِّدِهِ» (سن ابو دؤاد: 2175)
بغیر شرعی سبب کے طلاق کے مطالبہ پر نکیر کی گئی، یہ عصیان کی بدترین مثال ہے کہ معقول سبب کے بغیر طلاق کا مطالبہ کیا جائے یا حوصلہ افزائی کی جائے، یہ عمل منکر ہے، ایسے لوگ جنت کی خوشبو تک نہ پا سکیں گے۔
أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا، فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ, فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ
(سنن ابو داؤد: 2226؛ جامع ترمذی: 1187)
لہٰذا گھر کے بڑوں کو چاہیے کہ خود شعورسے کام لیں، مداخلت بے جا سے پرہیز کریں۔ بہو گھر آئی ہے تو وہ آپ کے بیٹے کی بیوی ہے، دونوں کے جذبات کا خیال رکھا جائے، گھر کے دیگر افراد اپنی بے جا توقعات اور ضابطے ان پر مسلط نہ کریں، دوسری طرف ماؤں کو چاہیے کہ شادی کے بعد بیاہی گئی بیٹیوں کو ضروری نصیحت اور مفید مشوروں سے نوازیں لیکن اعتدال کی حد میں رہتے ہوئے، موبائل فون جہاں ایک نعمت ہے اس کا غلط استعمال باعث مصیبت بھی ہو سکتا ہے، ہر بات میں مداخلت اور بے جا مشورے تباہی کا سبب بھی بن سکتے ہیں، بعض معلومات سوشل میڈیا سے لی جاتی ہیں۔ فرضی باتیں اور من گھڑت کہانیاں حقیقی دنیا سے بڑی مختلف ہوتی ہیں، بعض ملاقاتیں بھی بگاڑ کا سبب بنتی ہیں، خصوصاًمشترکہ فیملیز میں اس کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں۔
میاں بیوی کو اپنے مسائل دیگر افراد سے حل کروانے کے بجائے خود حالات اور حقائق پر نظر رکھتے ہوئے حل کرنا چاہیے۔ ہر چھوٹی بات ماں تک پہنچانا پھر وہاں سے ہدایات لینا مصلحت کے خلاف ہے، آج کل اس کی ایک شکل موبائل فون کا غلط استعمال بھی ہے، بے جا گفتگو کے طویل دورانیہ میں عموماً یہ ہوتا ہے ۔
باہمی اختلافات کی صورت میں بعض لوگ انتقام کی آگ میں جھلستے ہوئے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں، نہ طلاق دے کر فارغ کرتے ہیں اور نہ ہی ساتھ رہنے پر آمادہ، معلقہ بنا کر اس کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں کئی کئی سال انتقام کی آگ میں گزر جاتے ہیں، یہ حدود اللہ سے تجاوز اور منکر اسلوب ہے۔
شریعت میں علیحدگی کے آداب بھی بتائے گئے، یہ بہت ہی عارضی علاج اور کم مدت کے لیے ہے، چند ہفتوں اور مہینوں کی علیحدگی کے بعد فیصلہ کرلینا چاہیے، صلح کرنا ہے یا طلاق دے کر فارغ کرنا ہے۔
معروف کے ساتھ طلاق دینے کا طریقہ
اگر ابتدائی مراحل میں ناکامی ہو جائے اور طلاق کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو بیوی جب ماہواری سے پاک ہو ، اس کے ساتھ تعلقات قائم کیے بغیر دو گواہوں کی مو جودگی میں ایک طلاق دی جائے۔ دوران عدت اگر مصالحت ہو جائے تو رجوع کر کے اکٹھے رہ سکتے ہیں ورنہ عدت گزارنے کے بعد دونوں آزاد ہو جائیں گے، عورت چاہے تو کسی بھی شخص کے ساتھ شادی کر سکتی ہے، لیکن اپنے سابق شوہر ہی کے ساتھ مصالحت کے امکانات قوی ہوں تو نکاح جدید کے ذریعہ یہ بھی ممکن ہے۔ نہ دوسری طلاق کی ضرورت ہے اور نہ ہی تیسری طلاق کی۔
دوسری طلاق کی ضرورت اس وقت پیش آ سکتی ہے جب پہلی طلاق کے بعد عدت کے اندر اندر رجوع کر لیا گیا ، پھر حالات کشیدہ ہو گئے اور دوبارہ طلاق کی ضرورت ہو، تب دوسری طلاق دی جائے گی۔
منکر اسلوب سے دی جانے والی غیر شرعی طلاقیں
اسلامی مراکز اور علماء کرام سے رابطہ کر کے طلاق کی جو تفصیلات عام طور پر بیان کی جاتی ہیں وہ درج ذیل ہیں:
غصہ کی حالت میں طلاق
ہمارا میاں بیوی کا جھگڑا ہوا اور میں نےغصہ میں طلاق کے الفاظ زبان سے کہہ دیے، اس کا شرعی حکم کیا ہے۔ مسئلہ کے طور پر بات یہ ہے کہ آدمی اگر اتنے ہوش و حواس میں ہو کہ اسے زبان سے کہے جانے والے الفاظ یاد ہوں اور وہ سمجھ رہا ہو کہ میں کیا کہہ رہا ہوں تو وہ طلاق شمار ہو گی۔ ہاں اگر کوئی کسی دماغی مرض میں مبتلا ہو، ڈپریشن وغیرہ۔ اسے اپنی زبان یا حرکات پر کنٹرول نہیں رہتا، اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہو گی لیکن ایسے مریض سے صرف طلاق ہی نہیں دیگر معاملات میں بھی بے جا تصرفات سرزد ہوتے ہیں، بلکہ بعض اوقات ایسا مریض مارنے مرنے پر بھی اتر آتا ہے۔ عام غصہ اور ناراضگی کی حالت کو اس پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا ایسی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
دل لگی اور مذاق میں دی جانے والی طلاق
بعض ایسے عاقبت نااندیش لوگ بھی ہیں جو طلاق جیسے سنجیدہ مسئلہ میں بھی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، شرعی طور پر ایسی طلاق واقع ہو جائے گی۔ یہ عذر اسلامی عدالت میں قابل قبول نہیں کہ اس وقت مذاق کے موڈ میں تھا۔ اگر کسی نے طلاق کے صریح الفاظ اپنی بیوی سے کہہ دیئے تو طلاق شمار ہو گی۔ رسول اللہﷺ نےفرمایا:
ثَلَاثٌ جَدُّهُنَّ جَدٌّ، وَهَزْلُهُنَّ جَدٌّ: النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجْعَةُ. (سنن ابو داؤد: 2194؛ جامع ترمذی: 1184)
’’تین باتوں میں کھیل کو دیا دل لگی نہیں، ا س کا اثر ہو جائے گا، ان میں سے ایک طلاق ہے۔‘‘
حالت نشہ میں طلاق
آج کل ایک خطرناک بیماری جو بہت تیزی سے نوجوانوں میں سرایت کر رہی ہے، وہ نشہ کی قبیح عادت ہے۔ شراب اور ڈرگس وغیرہ کی وجہ سے طلاق کے واقعات میں حیرتناک اضافہ ہو رہا ہے، اس حالت میں لڑائی ، جھگڑا اور طلاق عام ہے۔ ایسے لوگ نشہ اترنے کے بعد تلاش فتویٰ میں مارے مارے پھرتے ہیں۔
اگر نشہ کا اثر اتنا ہو کہ آدمی کے ہوش وحواس ہی ختم ہو گئے ہوں، وہ نہ راستہ چل سکتا ہے، نہ لوگوں کی شناخت اور نہ ہی مناسب انداز میں گفتگو، اس حالت میں کہی جانے والی طلاق لغو متصور ہو گی، شمار نہیں ہو گی لیکن اگر کوئی نشہ کرنے کے باوجود اس کےہوش وحواس ایک حد تک قابو میں ہوں، جیسے وہ خود اپنی گاڑی چلا رہا ہے، گھر تک خود ڈرائیو کر کے آ رہا ہے، لوگوں کی شناخت کر رہا ہے تو اس وقت دی جانے والی طلاق واقع ہو جائے گی، اس صورت میں نشہ کرنے کا بہانہ قابل قبول نہیں۔
زبردستی کی طلاق
اگر کسی کو بندوق کی نوک یا خنجر کی دھار پر مجبور کر کے طلاق لی جائے، ورنہ خطرہ ہے کہ حملہ کر کے اس کا کام تمام کیا جا سکتا ہے، ایسی حالت میں وہ اگر طلاق کہہ بھی دے اس کا اثر نہیں ہو گا، نہ ہی وہ طلاق واقع ہو گی کیونکہ اس وقت جان کی حفاظت ضروری ہو گی لیکن کوئی اس کو بطور حیلہ استعمال نہیں کر سکتا کہ احباب خاندان کے دباؤ میں آ کر میں نے طلاق دے دی کیونکہ عموماً یہ اخلاقی نوعیت کا دباؤ ہوتا ہے، اسے بخوبی علم ہے کہ طلاق نہ دوں تو مجھے نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ لہٰذا اہل خاندان کی گزارش پر دی جانے والی طلاق واقع ہو گی۔ یہاں زبردستی کا عذر قابل قبول نہیں۔
نیت کے بغیر دی جانے والی طلاق
ایک عذر یہ ہوتا ہے کہ میری نیت طلاق دینے کی نہیں تھی، کیا بغیر نیت کے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ جی ہاں، بالکل واقع ہو جاتی ہے۔ اگر شوہر نے صراحت کے ساتھ طلاق کے الفاظ بیوی سے کہہ دیئے تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ نیت کے متعلق سوال اس وقت ہو گا جب الفاظ واضح نہ ہوں، یا ایسے الفاظ کہے گئے ہوں جن کے کئی معانی و مطالب ہو سکتے ہیں، ایسی صورت میں اس کی نیت دریافت کی جائے گی۔
طلاق ثلاثہ
ایک عام غلطی اور منکر یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں اکٹھی تین طلاقیں دی جائیں، طلاق، طلاق، طلاق یا کوئی کہے بیوی سے تجھ پر تین طلاقیں وغیرہ۔ یہ انداز سخت ناپسندیدہ ہے۔ اسے قرآن مجید اور دین کے ساتھ کھلواڑ کہا گیا، یہ تقویٰ اور متقیانہ روش کے خلاف ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اکٹھی تین طلاقین دینےوالے پر شدید برہمی کا اظہار فرمایا:
أُخبِرَ النَّبيُّ ﷺ عن رَجُلٍ طلَّقَ امرأتَهُ ثلاثَ تَطْليقاتٍ جميعًا، فقامَ مُغضبًا فقال: أيُلعَبُ بكتابِ اللهِ وأنا بيْنَ أظهُرِكُم؟
ایسی طلاق بدعت گمراہی اور منکر کی مثال ہے۔
تبصرہ کریں