
اسلام نے اپنے متبعین کو عبادات میں جہاں بہت ساری سہولتیں بخشیں ہیں،وہاں دونوں نمازوں کو ایک وقت میں پڑھنے کی بھی سہولت عطا فرمائی ہے، یعنی ظہر کی نماز کے وقت میں ظہر کی نماز کے ساتھ عصر کی نماز پڑھ لینا یا عصر کی نماز کے وقت ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ پڑھ لینا۔ اسی طرح مغرب کے وقت عشاء کی نماز پڑھنا اور عشاء کے وقت مغرب اور عشاء دونوں نمازیں پڑھنا اور اس کی حسب ذیل صورتیں ہیں:
عرفہ اور مزدلفہ میں دو نمازوں کا جمع کرنا
اللہ کے نبیﷺ نے مقام عرفات میں خطبہ حجۃ الوداع ارشادفرمایا، اس کے بعد ظہر اور عصر کی نمازیں قصر اور جمع تقدیم سے پڑھائیں، یعنی ظہر کی نماز کے و قت پہلے ظہر کی فرض نماز دو رکعت پڑھائیں، اس کے فوری بعد نماز عصر کی فرض دو رکعت پڑھائیں۔
جیسا کہ سیدنا جابر روایت کرتے ہیں کہ رسول کریمﷺ نے ظہر اور عصر کی نمازوں کو عرفہ کے دن ظہر کے وقت جمع کر کے ادا فرمایا۔ (صحیح مسلم)
اسی طرح مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں قصر اور جمع مؤخر پڑھائیں یعنی عرفات سے غروب آفتاب کے وقت مزدلفہ پہنچ کر عشاء کے وقت مغرب کی تین رکعت اور عشاء کی فرض نماز قصر کے ساتھ دو رکعت پڑھائیں۔ جیسا کہ
سیدنا ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ مزدلفہ میں نبی کریمﷺ نے مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کیا، دونوں نمازوں کے لیے ایک اذان کہی گئی، البتہ دونوں نمازوں کے لیے دو اقامتیں کہی گئیں اور ان نمازوں کے شروع، درمیان اور آخر میں کوئی نفل نماز ادا نہیں فرمائی۔ (صحیح بخاری)
واضح ہو کہ دو نمازوں کو تقدیم یا تاخیر سے جمع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اذان دی جائے گی، اس کے بعد پہلی نماز کی اقامت کہی جائے گی، اس نماز سے فارغ ہونے کے فوری بعد دوسری نماز کی اقامت کہی جائے گی اور دوسری نماز ادا کی جائے گی۔ مکہ کے حاجی بھی عرفات میں جمع تقدیم وقصر کریں گے، اسی طرح مزدلفہ میں بھی جمع تاخیر اور قصر سے پڑھیں گے، اس لیے کہ اللہ کے رسولﷺ کے ساتھ مکہ کے لوگ بھی تھے، وہ لوگ بھی آپ کی اقتدا میں جمع وقصر کیے، پوری نہیں پڑھے۔
مقام عرفات میں کئی لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ امام کے ساتھ ظہر اور عصر کی نمازیں ادا نہیں کرتے بلکہ وہ ظہر کی مکمل چار رکعت پڑھتے ہیں اور پھر عصر کے وقت عصر کی چار رکعت پڑھتے ہیں اور اس کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ
امام صاحب چونکہ مسافر ہیں، اس کے لیے قصر اور جمع جائز ہے مگر ہم مسافر نہیں ہیں، اس لیے ہمارے یہ جائز نہیں ہے! جب ان سے کہا جاتا ہے کہ مسافر تو آپ ہیں، اس لیے کہ
آپ دوسرے ملک سے یہاں آئے ہوئے ہیں اور امام صاحب تو اسی ملک کےباشندے ہیں تو کہتے ہیں کہ امام صاحب کو یہاں لانے سے پہلے انہیں ہوائی جہاز میں بٹھا کر خوب پھرایا جاتا ہے تاکہ وہ مقیم نہ رہیں بلکہ مسافر ہو جائیں۔ بہرحال اس طرح جاہلانہ باتیں بنا کر امیر الحج و امام الحج کی اقتداء میں نمازیں ادا کرنے سے محروم رہتے ہیں۔ دراصل ان جہلا کو ان کے گمراہ پیروں، فقیروں اور مولویوں نے یہ سبق پڑھایا ہے کہ
تم جہاں جا رہے ہو اس ملک میں بدعقیدہ لوگ ہیں، اس لیے ان کی اقتدا میں نمازیں پڑھنا جائز نہیں ہے۔ تمہاری نمازیں قبول نہیں ہوں گی۔ لہٰذا تم اپنی علیحدہ پڑھو اور کئی بدبخت ایسے ہیں جو کہ مسجد حرام اور مسجد نبویﷺ کی جماعتوں میں بھی شامل نہیں ہوتے بلکہ اپنی رہائش گاہوں میں ہی نمازیں پڑھتے ہیں، ان بدبخت پیشواؤں کے دام فریب میں آنے والے اکثر پاک وہند کے لوگ ہوتے ہیں کیونکہ انہیں یا باور کرایا گیا ہے کہ
پیروں اور مرشدوں کے بغیر تم جنت میں جا نہیں سکتے، اس لیے یہ سادہ عوام ان کے مرید اور معتقد بن جاتے ہیں جس طرح ہندوؤں میں ہریجن، برہمنوں کے بغیر اپنی نجات ناممکن سمجھتے ہیں، اسی طرح یہ سادہ لوح مسلمان بھی ان پیشواؤں کے بغیر اپنی نجات کو ناممکن سمجھتے ہیں۔ اس طرح خسر الدنیا والآخرۃ کا مصداق ثابت ہوتے ہیں !!
سفر میں دونوں نمازوں کو جمع کرنا
سیدنا ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ
رسول کریمﷺ سفر میں ظہر اور عصر کی نمازوں کو جمع کر کے ایک ساتھ پڑھتے تھے، اسی طرح مغرب اور عشاء کو جمع کر کے ایک ساتھ پڑھتے تھے۔ (صحیح بخاری: 1107)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اللہ کے رسولﷺ یہ تم سفر میں ظہر اور عصر کو جمع کر کے ایک ساتھ پڑھتے تھے اور اسی طرح مغرب اور عشاء کو جمع کر کے ایک ساتھ پڑھتے تھے۔ دونوں نمازوں کو اکٹھی پڑھنے کے دو طریقے ہیں :
ایک جمع تقدیم یعنی ظہر کی نماز کے وقت عصر کو بھی پڑھنا اور مغرب کے وقت عشاء کی نماز بھی پڑھ لیتا۔
دوسرا طریقہ جمع تاخیر ہے یعنی عصر کی نماز کے وقت ظہر اور عصر کو پڑھنا اور عشاء کی نماز کے وقت مغرب اور عشاء کی نماز کو پڑھنا۔
سیدنا ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ
نبی ﷺ کا معمول یہ تھا کہ جب آپﷺ سفر کے لئے روانہ ہوتے اور زوال کا وقت ہو چکا ہوتا تو آپﷺ ظہر کی نماز کے ساتھ عصر کی نماز کو بھی پڑھ لیتے اور زوال نہیں ہوتا تو سفر شروع فرما دیتے اور عصر کی نماز کے وقت ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھتے ، اسی طرح جب سورج غروب ہو جاتا تو آپﷺ مغرب کے وقت ، مغرب اور عشاء دونوں نمازیں ایک ساتھ پڑھ لیتے اور اگر سورج غروب ہونے سے قبل آپﷺ سفر شروع فرما دیتے تو عشاء کے وقت میں مغرب اور عشاء دونوں نمازوں کو ایک ساتھ پڑھ لیتے یعنی قصر کےساتھ دونوں نمازوں کو جمع کرتے ۔ (سنن ابوداؤد : 1220)
دوران سفر ایک مقام پر اقامت پذیر ہونے پر دونمازوں کا جمع کرنا
مذکورہ حدیث سفر کے دوران نمازوں کو مقدم یا مؤخر کر کے جمع کر کے پڑھنے کے متعلق ہے، لیکن اگر سفر جاری نہیں ہے بلکہ ایک جگہ پڑاؤ ڈال کر قیام کر چکے ہیں، وہاں قیام کے دوران بھی چاہیں تو دو نمازوں کو جمع کر کے ایک وقت میں پڑھ سکتے ہیں۔
جیسا کہ سیدنا معاذ بن جبل روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے غزوہ تبوک میں ایک مرتبہ ظہر کو مؤخر فر مایا، پھر اپنے خیمے سے نکل کر ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ پڑھیں ، پھر اپنے خیمے میں داخل ہو گئے ، پھر آپﷺ خیمے سے نکلے اور مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ پڑھیں ۔ (صحیح مسلم)
بارش کے وقت دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھنا
شدید بارش ہو اور راستہ میں پانی جمع ہو جائے یا کیچڑ کے سبب مسجد کو آنا مشکل ہو جائے تو ایسے وقت مغرب کے وقت مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھناجائز ہے۔
سیدنا ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے بیان کرتے ہیں کہ بارش کے وقت دونوں نمازوں کو جمع کرنا سنت ہے۔ نبی کریمﷺ نے بارش کے وقت مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کے پڑھی ہیں۔ (سنن اثرم)
جو مسجد میں مقیم ہوں یا مسجد کے بالکل قریب ہوں یا جو اپنے گھر میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے ہوں، یا جن کے پاس بارش سے بچنے کا کوئی انتظام ہو تو ایسے لوگوں کے لئے دو نمازوں کو جمع کرنا جائز نہیں ہے۔ (خلاصہ فقہ السنہ الشیخ السید السابق: ج1)
آج کل چونکہ برصغیر کے مسلمانوں کی اکثریت اپنے اماموں کی اندھی تقلید میں مبتلا ہے، ان کے خواص کا تعلق اپنے ائمہ کرام کی فقہ تک محدود ہوتا ہے، اس لئے مقررہ فقہی مسائل کے خلاف اجتہاد کو باطل اور ناجائز ٹھہراتے ہیں، ان کے پاس بارش ہو کہ طوفان، آندھی ہو کہ ژالہ باری ، ان کی مساجد میں احادیث صحیحہ پر عمل آوری سے مکمل محرومی ہے!
البتہ عربوں، سلفیوں اور اہل حدیثوں کی مساجد میں اس سنت پر عمل آوری آج بھی جاری ہے۔ الحمد لله
حضر میں کسی مرض یا عذر کی وجہ سے دونمازوں کو جمع کرنا
اگر کوئی ایسی بیماری ہو کہ ہر نماز کے لئے وضو بنانے وغیرہ میں تکلیف اور مشقت لاحق ہوتی ہو تو مقیم لوگ جو سفر میں نہ ہوں بلکہ حضر میں ہوں تو ان کے لئے بھی شریعت نے اجازت دی ہے کہ وہ دو نمازیں یعنی ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کو تقدیم و تاخیر کے ساتھ جمع کر کے پڑھ سکتے ہیں مثلاً چھوٹے بچوں کو دودھ پلانے والی عورت جس کو ہر نماز کے لئے کپڑے دھونے پڑتے ہوں، اسی طرح استحاضہ کے مرض میں مبتلا خواتین یا جنہیں سلسلۃ البول (پیشاب کپڑوں میں نکل جانے ) کی بیماری لاحق ہو یا جو طہارت حاصل کرنے سے عاجز ہوں یا جنہیں اپنی جان، مال یا عزت و آبرو کا ڈر ہو یا جنہیں نمازیں جمع کر کے نہ پڑھنے سے ان کی معیشت پر برا اثر پڑنے کا خوف ہو تو ایسے سارے عذر والے اشخاص ظہر و عصر اور مغرب وعشاء کو جمع کر کے پڑھ سکتے ہیں۔
نسائی میں ایک مرفوع حدیث ہے جس میں اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ
’’باورچی اور نان بائی اور اسی طرح کے لوگ کہ جن کو اپنے مال کے خراب ہونے کا ڈر ہو تو وہ بھی دو نمازوں کو جمع کر سکتے ہیں۔‘‘ (فقہ السنہ ، ج 1)
حضر میں بغیر کسی خوف اور بارش کے دو نمازوں کو جمع کرنا
یہ مسئلہ گزر چکا ہے کہ کسی خوف ، عذر اور بارش کی وجہ سے دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھ سکتے ہیں، یہاں یہ مسئلہ ہے کہ مذکورہ وجوہات میں سے کوئی بھی وجہ نہیں ہے لیکن پھر بھی کبھی کبھار دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، مگر اس کو معمول نہ بنالیا جائے ، نہ ہی امام مسجد یا مسجد کی کمیٹیوں کو اس عمل کو لازمی سمجھتے ہوئے اس کے لئے مجبور کیا جائے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ظہر و عصر اور مغرب وعشاء کو بغیر کسی خوف اور بارش کے مدینہ میں جمع فرمایا۔
سیدنا ابن عباس سے اس کی وجہ دریافت کی گئی تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ اپنی امت کو مشقت میں مبتلا کرنا نہیں چاہتے تھے ۔ (صحیح مسلم )
حضر میں جمع کی جانے والی نمازیں مکمل ادا کی جائیں گی ، جیسا کہ سیدنا ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات اور آٹھ رکعات جمع کر کے پڑھیں ، یعنی ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں ( بغیر کسی عذر، خوف اور بارش کے ) جمع کر کے پڑھیں ۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم )
سیدنا عبداللہ بن شفیق بیان کرتے ہیں کہ
سیدنا ابن عباس نے ایک دن عصر کی نماز کے بعد ہمیں خطبہ دیا، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور تارے نکل آئے تو لوگ الصلاة الصلاة ( نماز نماز ) کہنے لگے ، انہوں نے کہا کہ
بنی تیم کا ایک آدمی ان کے کے پاس آیا اور حمد وثناء کے بغیر ہی الصلاۃ الصلاۃ کہنے لگا تو سیدنا ابن عباس نے اس سے کہا کہ
کیا تو مجھے سنت کی تعلیم دے رہا ہے؟ تو اپنی ماں سے محروم ہو! پھر انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازوں کو جمع فرماتے ہوئے دیکھا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن شفیق کہتے ہیں کہ
سیدنا ابن عباس کی یہ بات میرے دل میں کھٹکی (یعنی مجھے شک پیدا ہو گیا کہ ان کی یہ بات صحیح ہے یا نہیں؟) تو میں نے سیدنا ابو ہریرہ سے اس بات کی تصدیق چاہی تو سیدنا ابو ہریرہ نے اس کی تصدیق فرمائی۔ (صحیح مسلم)
٭٭٭
ایک اہم اعلان
سعودی عرب سے مطبوعہ قرآن مجید کی اردو داں حضرات کے لیے اشد ضرورت ہے۔ اگرکسی کے پاس قرآن مجید کے سعودی عرب سے پرنٹ کیے ہوئے نسخے موجود ہوں تو وہ درج ذیل نمبر پر رابطہ کرے۔ جزاکم اللہ خیرا
07883003426
07504953232
٭٭٭
تبصرہ کریں