مذہبی انتہاء پسندی اور مسلکی تعصب کا فتنہ۔ مولانا عبد الہادی العمری

رسول اکرم ﷺ نے اپنی امت کو مختلف قسم کے فتنوں سے متنبہ فرمایا ، جن کا تعلق عقائد، عبادات، معاملات اور اخلاقیات وغیرہ کے ساتھ ہے ۔ آپ ﷺ نے تو یہاں تک خبردار کیا کہ ایک زمانہ آئے گا، فتنے اس کثرت سے رونما ہوں گے جیسے رات کی تاریکی میں بدلیاں چھانے لگتی ہیں:
«بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا» (صحیح مسلم: 18)
آدمی بہت تیزی سے اپنے عقائد، دین اور نظريات کا دنیا کی آسودگی کی خاطر سودا کرنے سے تک گریز نہیں کرے گا ۔
اسلام افراط و تفریط سے پاک معتدل اور متوازن دین ہے ، انتہا پسندی اور غلو معیوب اور نا پسند دیدہ صفات ہیں ، اسلام کا ہر حکم رحمت اور برکت ہے۔ مشہور تابعی حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’ اللہ وحدہ لاشریک کا بتایا ہوا راستہ افراط وتفریط سے پاک معتدل ہے ۔‘‘
امام ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے فرمايا:
’’ احكام الٰہی كی بجا آوری کی راہ میں شیطان یا سستی اور کاہلی کی طرف لے جائے گا ، یا انتہاء پسندی کی طرف جبکہ اللہ کا دین وسط میں ہوگا ۔ کوتاہی کرنے والے بھی گھاٹے میں ہوں گے اور انتہا پسند بھی خسارہ میں۔‘‘ (مدارج السالكين : 2؍ 496)
اگرچہ عبادات میں رغبت اور شوق آدمی کی صالحیت کی دلیل ہے، یہ جذبہ بجائے خود باعث سعادت ہے لیکن اسلام نے اس عمل خیر کی انجام دہی میں بھی اعتدال کی تعلیم دی ہے ، رسول اللہ ﷺ نے اس کا عملی نمونہ پیش کیا اور صحابہ کو اس کی تلقین فرمایا کرتے ، نوافل کی ادائیگی صوم اور صدقہ خيرات ، بلکہ معمولات زندگی کھانے پینے چلنے پھرنے ، سونے جاگنے ، پہننے اور اوڑھنے میں یہی حکم ہے ۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں ایک خاتون حاضر ہوئیں، جن کے چہرے مہرے سے بشاشت غائب تھی، کمزوری اور نقاہت کے آثار نمایاں تھے ، رسول اكرم ﷺ نے استفسار فرمایا کہ کیا ماجرا ہے ؟ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : کثرت شب بیداری کا یہ اثر ہے ، یہ رات میں نہیں سوتیں۔ آپ ﷺ نے تاکید فرمائی کہ اپنی استطاعت کے مطابق عمل کیا کرو ، اللہ تعالیٰ نہیں اکتا تا، مگر تم خود ہی تھک ہار کر اکتا جاؤ گی۔، بارگاہ الٰہی میں پسند دیدہ عمل وہ ہے جس پر آدمی مداومت كرسكے۔
«عَلَيْكُمْ مَا تُطِيقُونَ مِنْ الْأَعْمَالِ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا» (صحیح بخاری: 1164)
امام بخاری نے اس حدیث کے لئے باب کا جو عنوان منتخب فرمایا ، وہی دراصل روح اسلام اور اصول عبادت ہے :
“باب مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّشْدِيدِ فِي العِبَادَةِ”
یعنی عبادات میں سختى كى كراہیت ، حالانکہ عبادت تقرب الیٰ اللہ کا ذریعہ، صالحیت کی علامت اور سعادت دارین کے حصول کا سبب ہے، لیکن اس میں بھی اعتدال مطلوب ہے ۔
سیدنا انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے مروی مشہور حدیث کو یہاں ذہن میں رکھا جائے، جب تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ ﷺ کے گھریلو معمولات دریافت کرنے کے بعد ایک نے یہ ارادہ ظاہر کیا کہ میں ہر رات سوئے بغیر قیام اللیل میں بسر کروں گا ، دوسرے نے ہر روز نفل روزہ رکھنے کا فیصلہ کیا ، اور تیسرے نے شادی بیاہ سے گریز کرنے کا عندیہ دیا تاکہ سارا وقت دین کی راہ میں لگا سکے۔ آپ ﷺ کو اس سے آگاہ کیا گیا، آپ نے ا ن کے فیصلے کو نا پسند کرتے ہوئے اپنی مثال پیش کی اور کہا اللہ کی قسم ! میں تم میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں، لیکن میں ہر دن روزہ نہیں رکھتا ، پوری رات جاگ کر عبادت نہیں کرتا ، میں نے شادی کی، میری فیملی لائف بھی ہے ۔ ، پھر آپ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ جو کوئی میری سنت سے اعراض کرے گا، اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ یعنی جو اسوۂ نبوی کے برخلاف عبادت میں افراط و تفریط کا مظاہرہ کرے گا، اس کا آپ ﷺ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ (صحیح بخاری : 5063؛ صحیح مسلم : 3403)
آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر جگہ جگہ اس کی تاکید فرمائی ،جب آپ مزدلفہ پہنچے، اپنے چچا زاد بھائی سيدنا ابن عباس رضى اللہ عنہما کو جمرات کے لیے کنکریاں لانے کا حکم دیا ، وہ لے آئے تو ان میں جو درمیانے سائز کی کنکریاں تھیں، وہ قبول کرتے ہوئے ایسی تاکید فرمائی کہ جس سے ہر طرح کے تشدد اور انتہاء پسندی کی بیخ کنی ہوتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا :
«يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ» (سنن ابن ماجہ: 3029)
’’اے لوگو! خبردار دین میں غلو سے بچو ، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں غلو ہی نے برباد کر ڈالا ۔‘‘
دینی مسائل میں غلو ، مبالغہ آرائی اور اپنی آراء پر اصرار کے نقصانات ماضی میں کیا ہوئے، اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں تاکہ آج پیش آمده حالات ، باہمی کشیدگی اور منافرت کو سمجھنے میں آسانی ہوسکے سب سے پہلا اور بڑا فتنہ خوارج کا تھا، جس کے متعلق مشہور تابعی وہب بن منبہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’ اگر خوارج کو غلبہ حاصل ہوتا تو زمین میں فساد برپا ہوتا ، امن و امان درہم برہم ہوتا ، فریضہ حج متاثر ہوتا اور پھر سے اسلام کا معاملہ دور جاہلیت کی طرف لوٹ جاتا ۔‘‘ ( سیر اعلام النبلاء: 4؍ 554)
خوارج جنہوں نے امت مسلمہ کے بہترین لوگوں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے خلاف خروج اور بغاوت کی ۔ ( فتح البارى : 12؍ 283)
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہا:
’’یہ وہ لوگ ہیں، جو مسلمانوں کے قتل کی کوشش کر تے ہیں جو ان کے نظریات سے متفق نہیں ہوتا ، ان کی جان و مال کے درپے ہوتے ہیں، ا ن کی تکفیر کرتے ہیں اور یہ سب کچھ اپنی جہالت اور گمراہی کے سبب دین سمجھ کر کرتے ہیں ۔‘‘ ( منہاج السنہ : 5؍ 248)
اس گروہ کے متعلق رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
’’ آخر زمانہ میں کچھ ایسے نوجوان ہوں گے، جو ناسمجھ ہونگے، بظاہر بہترین باتیں کریں گے :
«سَيَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ» (صحیح بخاری: 3930؛ صحیح مسلم: 2427)
یعنی وہ اپنی کم عقلی اور ناتجربہ کاری کے سبب فتنہ وفساد برپا کر یں گے ، بظاہر یہ لوگ قرآن مجید کی تلاوت تو کریں گے، صلاة وصوم کا اہتمام بھی کریں گے، ليکن یہ سب ان کے خلاف ہی جائے گا ، ان کا طریقہ استدلال غلط ہوگا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بہتر خود کو دین کا سمجھنے والا باور کریں گے ۔
«يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَيْسَ قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ بِشَيْءٍ وَلَا صَلَاتُكُمْ إِلَى صَلَاتِهِمْ بِشَيْءٍ…»
(صحیح مسلم: 1066)
علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے کہا کہ وہ قرآن مجید کی آیات کے حقیقی معنی و مراد کو چھوڑ کر من مانی تاویلات کیا کرتے ، اور اپنی آراء پر اصرار کرتے اور اسی کو ترجیح دیتے ۔ ( فتح الباری: 12؍ 283)
اگر ہم موجودہ چند تنظیموں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ خارجی فکر کے جراثیم آج بھی موجود ہیں اور مسلم نوجوانوں کو خاص طور پر متاثر کر رہی ہیں، جیسے المہاجرون حزب التحرير ISISداعش وغيره وغيره ، مختلف ممالک میں جزوی ناموں کی تبدیلی کے ساتھ یہی فکر اور نظریات کے افراد موجود ہیں، جو مسلمانوں کے درمیان انتشار اور افتراق کا سبب بن رہے ہیں ، عرب ممالک میں داعش کے پر کشش نعروں نے بہت سے نوجوانوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا کہ حکومت اسلامیہ کا قیام ، خلیفہ کی آمد اور ان کے ہاتھ پر بیعت ، ایسی باتیں ہیں جن میں بلا کی کشش ہے اور پھر لوگ دیوانہ وار اس طرف چل پڑے ۔ حالانکہ خلافت ، خلیفہ، جہاد اور حکومت اسلامیہ کے خوبصورت دعوؤں کے متعلق موجودہ دور کے معتبر علماء کے متعدد بیانات آچکے ہیں کہ یہ اسلامی اصطلاحات ہیں، ان کا استعمال بھی اسلامی آداب کے مطابق ہونا چاہئے ، ان میں سے ایک ممتاز عالم دین علامہ الشیخ عبد المحسن بن حمد العباد سابق وائس چانسلر مدینہ منورہ اسلامی یونیورسٹی کا بیان ہے، جو اس وقت دیا گیا، جب اکثر لوگ اس تنظیم کے فل فارم سے تک واقف نہیں تھے، اس میں نوجو انوں کو مشورہ دیا گیا تھا کہ ان گمنام تنظیموں اور لوگوں کے پیچھے بھاگنے سے اجتناب کریں، ورنہ انہیں سوائے رنج و ملامت اور پچھتاوے کے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ عموماً کم عمر ، ناتجربہ کار لوگ مخلص ہونے کے باوجود غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں، جیسے صحیح بخاری میں ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے ایک روایت کی ہے کہ جب وہ کم عمر تھے، ا نہوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوره بقره آیت نمبر 158 صفا اور مروہ کی سعی کے حوالے سے دریافت کیا کہ اگر سعی نہ بھی کی جائے تو آیت کے مطابق کوئی حرج نہیں، تو ام المؤمنین نے انہیں سمجھایا کہ آیت کا مفہوم وہ نہیں جو تم نے سمجھا ، بلکہ اس کا ایک خاص پس منظر ہے ، اس میں سعی کرنے کا حکم دیا گیا اور جنہیں زمانہ جاہلیت میں رائج بعض باتوں کے سبب تردد ہو رہا تھا، وہاں مشرکین جاکر شرکیہ عمل کرتے، انہیں تسلی دی گئی کہ تمہارا ارادہ وہ نہیں تم تو اللہ کا حکم بجالاتے ہوئے یہ عمل کر رہے ہو۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عروه بن زبیر رحمہ اللہ جو جو اونچے درجے کے تابعین میں شمار ہوتے ہیں، بچپن میں انہیں آیت کا مفہوم سمجھنے میں غلط فہمی ہوگئی لیکن اہل علم سے رجوع کے باعث اصلاح ہوئی۔
اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کم عمری اور ناتجربہ کاری میں غلط فہمی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اور اس کا درست طریقہ معتبر اہل علم سے رجوع کرنا ہے ۔ ایک مثال صحیح مسلم کی سامنے رکھیئے، ے يزيد الفقیر کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں تھا ، جو خوارج کے افکار سے متاثر تھے، ہمارا پلان تھا کہ حج کے لیے جائیں گے اور حج کے بعد لوگوں کی خبر لیں گے ، لیکن جب مدینہ منورہ پہنچے وہاں ان کی ملاقات مشہور صحابی سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، ان سے گفتگو کے بعد کچھ غلط فہمیاں دور ہوئیں اور اپنے پلان سے باز آگئے ۔ ( صحیح مسلم :191)
شرعی اصطلاحات کے معانی اور مفاہیم کو متعین کرنے میں کچھ لوگوں کو علمی لغزشیں ہوئیں، جیسے جہاد ، کفر کا فتویٰ ، فتنہ تکفیر ، دوستی اور دشمنی کے پیمانے الولاء والبراء ، ان اصطلاحات کا مفہوم کیا ہے ، اس کے احکامات اور مسائل کیا ہیں ، ہونا تو یہ چاہیے کہ ان امور میں معتبر علماء ربانی سے رجوع کیا جاتا، ليكن عملاً ایسے نہیں ہوتا بلکہ نادانوں نے ثقہ علما ء ہی کو مورد الزام ٹھہرانے کی جسارت کی ، تجربہ کار قابل علماء کے بجائے ناتجربہ کار اور غیر معتبر لوگوں سے فتویٰ لینے لگے ۔ انہوں نے اپنی کم علمی اور بے بضاعتی کے سبب ایسے فتوے دیئے، جس سے نہ خون محفوظ اور نہ عزت و آبرو ، نہ حکمران محفوظ اور نہ ہی عوام ۔ یوں وہ بھی گمراہ ہوئے اور ماننے والوں کو بھی گمراہ کیا ۔
اس ضد اور انتہا پسندی کے باعث ماضی میں کلمہ گو مسلمانوں کے درمیان خوفناک جنگیں اور خون ریز لڑائیاں ہوئیں ، دونوں طرف کلمہ گو مسلمان ہی تھے ، اس میں ایک بڑا فتنہ مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کا ہے ، خیر القرون کے عہد زریں میں اس کے سنگین نقصانات ہوئے اور عجیب اتفاق کہ آج بھی مسلم دنیا اس سے محفوظ نہیں ۔
اس منافرت اور مذہبی تعصب کے نقصانات اور فسوں کاریوں کو سمجھنے کے لئے ذیل کا ایک واقعہ بڑی اہمیت رکھتا ہے، جو عربی ادب کی اہم کتاب ’الكامل في اللغة و الادب للمبرد‘ میں سورہ توبہ کی آیت 6 کے ضمن میں مذکور ہے، اگرچہ یہ کتاب عربی ادب سے متعلق ہے لیکن اس میں دلچسپ واقعات بھی ذکر کیے گئے ہیں ۔
واصل بن عطاء المعتزلی (متوفیٰ 131ھ)اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ سفر کرتے ہوئے راستہ بھٹک گئے اور ایسی جگہ پہنچے جہاں خوارج کا بسیرا تھا ، واصل نہایت زیرک اور فصیح اللسان تھے، وہ خطرہ بھانپ گئے کہ اگر ہم بطور مسلمان خوارج کے سامنے پیش ہوں گے، خدشہ ہے کہ سب مارے جائیں گے ، لہٰذا اپنے رفقاء سے کہا کہ گفتگو صرف میں کروں گا، تم سب کی جانب سے ، پھر خود خوارج کے سامنے اس انداز میں پیش ہوئے گویا غیر مسلم ہیں، جو دین سیکھنے کی غرض سے حاضر خدمت ہیں اور سورہ توبہ کی مذکورہ آیت پڑھی ،خارجیوں نے باہمی مشورہ کیا کہ قرآن کی آیت برحق ہے کہ کوئی مشرک پناہ طلب کرے تو دے دو تاکہ وہ دین سیکھ سکے ، پھر خواج نے چند مسلمات دین پیش کیے، واصل ایک فرمانبردار کے روپ میں کہتے کہ یہ باتیں مجھے اور میرے رفقاء کو منظور ہیں، ہم قبول کرتے ہیں اور جب ساری باتیں ہوگئیں انہوں نے کہا کہ پھر آپ جاسکتے ہو ، یعنی پروانہ امن مل گیا ، واصل نے کہا کہ آپ کی ذمہ داری ابھی پوری نہیں ہوئی، آیت کے آخری حصے پر عمل آپ کے ذمہ باقی ہے کہ سائل کو محفوظ ٹھکانے تک پہنچاؤ، انہوں نے کہا، بلاشبہ آیت برحق ہے ہم یہ ذمہ داری پوری کیے دیتے ہیں اور انہیں ان کے راستے پر چھوڑ آئے ۔
اس واقعہ کے مختلف پہلو ہیں ، ایک یہ کہ اگر واصل ا ور رفقاء بطور مسلمان خوارج کے سامنے پیش ہوتے تو شاید قتل کر دیئے جاتے یا سخت اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہوتے، کیونکہ بعض مسائل میں اختلاف تھا ، غیر مسلم کا روپ اختیار کر کے مامون بھی رہے اور بسلامت منزل تک پہنچ بھی گئے۔
ایسے تلخ واقعات صرف ماضی کا حصہ نہیں، آج بھی اس کے جراثیم موجود ہیں، افغانستان پہلے سوویت یونین رشیا سے پھر امریکی تسلط سے آزاد ہوا تو وہاں بظاہر مسلمانوں کی حکمرانی بحال ہوئی اور پھر قلیل عرصہ میں دسیو ں مسلمان علماء اور شخصیات کو جو فقہی چند مسائل میں مختلف رائے رکھتے تھے، نہایت بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا گیا، حالانکہ قاتل اور مقتول دونوں ہی ایک دین کو ماننے والے تھے، یوں مقتولین کے لیے روس اور امریکی تسلط کا دور سلوک کے اعتبار سے مقتولین کے حق میں بہتر تھا کہ انہیں اپنے مسلکی اور فقہی رجحان کے مطابق عمل کرنے کی آزادی تھی۔ اور ان کی یہ آزادی کلمہ گو مسلمان حکمرانوں کی جانب سے چھین لی گئی اور مختلف رائے رکھنے والوں کی بڑی تعداد کو یا قتل کر دیا گیا یا ان کے لیے زمین تنگ کی جا رہی ہے۔
ایران کے دارالحکومت تہران میں آج بھی اہل سنت کی ایک مسجد نہیں، سنیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہاں شیعی امام کی اقتداء میں نماز جمعہ اور دیگر نمازیں ادا کریں، جبکہ اسی تہران میں کنیساؤں اور گرجا گھروں کی کمی نہیں ۔
عراق میں صدام حسین کے بعد ہزاروں سنیوں کو شیعی ذمہ داروں کی جانب سے قتل کر دیا گیا اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔
شام میں نصیری حکمرانوں کی جانب سے سینکڑوں مسلمانوں کو اذیت ناک سزاؤں کے ذریعہ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، پاکستان میں گذشتہ بڑی مساجد کے باہر مسلح پہرے داروں کو متعین کرنا پڑا کہ عبادت گزاروں کی حفاظت کر سکیں، مبادا ان پر کوئی اس وقت حملہ نہ کر دے جب حالت سجدہ میں ہوں، کیونکہ مساجد اور عبادت گاہوں پر متعدد حملے اور واردات ہو چکے ہیں، قاتل اور مقتول دونوں ہی خود کو مسلمان کہتے اور باور کرواتے ہیں۔
بنگلہ دیش میں سال گذشتہ ایک ہی جماعت کے دو گروہوں میں سالانہ تبلیغی اجتماع کے موقع پر خون ریز لڑائیاں ہوئیں، جن میں متعدد مسلمان مارے گئے ، آپس میں اختلاف تھا تو تنظیمی اور شخصی نوعیت کا، کل تک جو دوسروں کو اکرام مسلم کا درس دے رہے تھے، آج ان کے ہی ہاتھوں سے اپنے بھائی زخمی ہونے لگے اور اس چپقلش کی متعدد مثالیں ہندوستان کے مختلف شہروں اور قریوں میں بھی دیکھی جا رہی ہیں۔ آج بھی بعض نام نہاد دینی پیشواؤں کی جانب سے زائرین حرمین کو تاکید کی جاتی ہے کہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے ائمہ کے پیچھے تمہاری نمازیں درست نہیں ہوتیں، لہٰذا ان کی اقتداء میں نماز نہ ادا کی جائے !!
بعض اوقات میدان عرفات کے دن ظہر اور عصر کی ادائیگی کی بابت مختلف حجاج کے خیموں میں لڑائیاں عام سی بات ہے، حتیٰ کہ حالت احرام میں بھی دست درازی سے تک گریز نہیں کرتے، مسئلہ افضلیت کے تعین کا ہوتا ہے کہ قصر اور جمع افضل ہے یا اتمام ۔
اور بعض مساجد کے باب الداخلہ پر ہی تختی آویزاں ہوتی ہے کہ مسجد میں فلاں اور فلاں نظریہ کے حاملین کا داخلہ منع ہے۔ کیا آج کا یہ انداز واصل بن عطاء اور خارجیوں کے مذکورہ واقعہ سے مشابہت نہیں رکھتا! اور دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے ممنوعہ مساجد ، مدارس یا اسلامی مراکز میں اگر کوئی غیر مسلم لیڈر یا سماجی شخص آئے تو یہی رہنما اس کا گاڑی سے استقبال کر کے مسجد یا مدرسہ یا اسلامی مرکز میں لے آتے ہیں اور اسی احترام کے ساتھ اسے گاڑی تک چھوڑ آتے ہیں۔
دینی مدارس کے فارغین اور علماء سے بجا طور پر اُمید کی جاتی ہے کہ وہ ان مسلکی تلخیوں کی شدت کم کر کے اتحاد امت اور مختلف تنظیموں کے درمیان تقارب کی کوشش کریں گے ، کیونکہ مدارس اسلامیہ کے اساتذہ اور طلبہ کا یہ پسندیده عنوان ہے، لیکن ’’ائے بسا آرزو کہ خاک شده‘‘ کچھ عرصہ سے سوشل میڈیا کے ذریعہ عام ہونے والی گفتگو اور انداز بتا رہا ہے کہ قوم کو جن فضلاء مدارس سے توقع تھی کہ وہ معمار کا کردار ادا کریں گے، لیکن افسوس کہ وہی بگاڑ اور فساد کی آگ بھڑکا رہے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف ان کی گفتگو اور نشتر زنی سے کون نا واقف ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان نوجوان فارغین اور ناتجربہ کار خطباء کا نشانہ خود ان کے ہی بھائی بند ہیں، اور لطیفہ یہ کہ ان کے درمیان زیر بحث مسائل عموماً اجتہادی نوعیت کے ہوتے ہیں، جن میں زیادہ سے زیادہ بحث کا محور افضل اور مفضول یا راجح اور مرجوح کا ہوتا ہے۔ اسی طرح معیار حق و باطل یہ گھڑ لیا گیا کہ کسی نے ایسے کسی عالم یا مصنف کی کوئی کتاب پڑھنے کا مشورہ دے دیا ، جو ان ناقدین کی نظروں میں بعض مسائل میں ان سے مختلف رائے رکھتے ہیں، گویا کسی مصنف یا عالم کے ساتھ کسی مسئلہ میں اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ اس کی کوئی بات چاہے وہ کتنی ہی درست اور مبنی بر حقیقت ہو، قابل قبول نہیں، جبکہ اس مصنف کو مسلمان ہی کہا ، سمجھا جاتا ہے اور ایک دوسرے کی درسگاہوں کا یا ان میں برسر خدمت علماء کرام کا نام تک احترام سے لینا گوارہ نہیں، کیا یہی اتحاد امت کا نمونہ ہے، جس کا ہر جلسہ اور محفل میں شور مچایا جاتا ہے، کیا یہی سلف صالحین کا اسلوب تھا، امام شافعی رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ کسی مسئلہ میں یونس صدفی سے بحث کی، مجلس ختم ہو گئی جب دوبارہ ملاقات ان کے ساتھ ہوئی تو امام عالی مقام نے ان کا ہاتھ تھام لیا اور کہا کہ ہمارے لیے کیا یہ بہتر نہیں کہ کسی مسئلہ میں اختلاف رائے کے باوجود باہمی اخوت برقرار رکھیں، امام شافعی کے انتقال کی خبر جب امام احمد بن حنبل کو ہوئی وہ تڑپ کر ایسے روئے کہ ان کے فرزند کو سبب دریافت کرنا پڑا ، امام احمد نے فرمایا: ’’ آج علم کا سورج غروب ہو گیا، میرا عرصہ سے معمول تھا کہ ان کے درجات کی بلندی کی دعا کر کے سویا کرتا۔‘‘
مسائل میں اختلاف کے باوجود الفت اور محبت ہمارے لیے غور طلب ہے، علماء مدارس کے لیے امام مالک کا یہ فرمان کتنا چشم کشا ہے کہ
“كل منا يؤخذ ويرد إلا صاحب هذا القبر.”
’’ہم میں سے ہر ایک کی کچھ باتیں قبول بھی کی جا سکتی ہیں اور ترک بھی کی جاسکتی ہیں، اس سے استثناء حاصل ہے تو صرف رسول اکرم ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ ‘‘
آج اس کی عملی مثال دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں ۔
امام ترمذی رحمہ اللہ کا اسلوب نہایت غور طلب ہے کہ وہ حدیث ذکر کر کے اس کے مطابق فتوی دینے والے اہل علم کے اسماء گرامی بھی ذکر کر دیتے ہیں کہ میں نے جو حدیث منتخب کی ہے، اس باب کے لیئے اس میں میرے علاوہ اور بھی اہل علم شامل ہیں اور بعض اوقات دوسری رائے رکھنے والوں کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ زیر بحث مسئلہ میں اس کے سوا بھی رائے ہے۔ یہی کتاب دینی مدارس کے نصاب میں دیگر کتب حدیث کے ساتھ پڑھی اور پڑھائی جاتی ہے، لیکن امام ترمذی کی سیرت و کردار اور مختلف رائے رکھنے والوں کا نام تک ہمارے لیے قابل احترام نہیں اور بعض نوخیز فارغین تو عوام کو اس بات سے منع کرتے ہیں کہ ان کی یہ بات نہ سنی جائے، نہ ہی مجلس میں شرکت کی جائے ، کیا یہی محدثانہ شان اور عالمانہ مزاج ہے، اور پھر جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام سوشیل میڈیا کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے، ہر صف اور گروہ کے ساتھ مریدین با صفا کی کمی نہیں جو علماء اور خطباء کی مثبت اور ٹھوس باتوں کی طرف توجہ کم دیتے ہیں، لیکن منفی اور ترش و تند باتوں کو ہوا کے دوش پر پھیلا کر بزعم خود فرض کفایہ ادا کرتے ہیں۔
سیدنا علی بن ابى طالب رضی اللہ عنہ سے بعض احباب کے متعلق دریافت کیا گیا جو ان کے مخالف کیمپ میں شامل تھے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جن الفاظ میں ان مخالف حضرات کا ذکر کیا کہ
اسے حرز جان بنانا چاہیئے، جو اختلافات کی چلچلاتی دھوپ میں احترام اور مودت کی ٹھنڈی چھاؤں مہیا کرتی ہے ۔
” اخواننا بغوا علينا ” (سنن بیہقی: 8؍ 173)
وہ بھی ہمارے ہی بھائی بند ہیں، لیکن ہمارے خلاف انہوں نے چڑھائی کی، ان میں سے چند کا ذکر کرکے کہا کہ ہم سب جنت میں ہوں گے۔ ان شاءاللہ
پھر سورہ اعراف کی آیت 43 پڑھی :
﴿وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ ﴾
دینی مدارس، تنظیموں اور اسلامی مراکز کے درمیان محبت اور مروت کا رشتہ باقی رکھنے کے لیے امام ابن قیم کی کتاب اعلام الموقعین اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی الانصاف في بيان سبب الاختلاف کا مطالعہ اہمیت رکھتا ہے ، گو کہ اس عنوان پر متعدد کتابیں موجود ہیں، لیکن ان دونوں ہستیوں کو ہمارے ہاں ہر حلقہ میں بوجوہ پذیرائی حاصل ہے۔ امام ابن قیم رحمہ اللہ نے سلف صالحین کے عہد زرین میں اختلاف کی شدت کی کمی کا ایک سبب یہ بتایا کہ وہ اولو العزم ہستیاں تقوی اور خلوص کا پیکر تھیں، وہ خواہشات نفس اور جذبات سے بلند ہو کر مسائل پر غور کرنے کے عادی تھے اور جب بھی حق واضح ہوتا ، اس کی قبولیت میں انہیں ادنی درجہ کا تردد نہیں ہوتا۔
اس دور میں عقیدہ کی پختگی کو اہمیت حاصل تھی اور اعمال میں اعتدال، علماء کا احترام تو تھا لیکن شخصیت پرستی اور غلو نہیں، اجتہاد اور استنباط کی قدر تو تھی لیکن محور اور اساس کتاب وسنت تھی۔ فرمان الٰہی ہے:
﴿فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا﴾ (سورۃ النساء: 135)
’’خواہش نفس کے پیچھے پڑ کر انصاف نہ چھوڑ دینا ۔‘‘
ماضی میں وجود میں آنے والے مختلف فرقوں اور مسالک ان کے درمیان تلخیوں کا ایک اہم سبب حقیقی علم اور علماء ربانی سے دوری تھا اور عجیب اتفاق کہ یہی سبب آج بھی دانشوروں اور نوخیز علماء میں دیکھنے میں آرہا ہے، تکبر اور معلوماتی عجب کے مختلف انداز اور اسالیب ہیں، ان میں ایک خود کو دوسروں سے بڑا عالم اور دانشور باور کر لینا ہے، یہ دور حاضر کا ایک بڑا فتنہ ہے، بعض لوگ جو مذہبی رہنماؤں کے طور پر میڈیا میں پیش پیش رہتے ہیں یا انہیں رکھا جاتا ہے، عوام میں ان کی دانشوری کی شہرت ہے، ان کی بے احتیاطی اور علمی پندار کا یہ عالم کہ دینی مسائل میں گفتگو کرتے ہوئے وہ ایسا اسلوب اختیار کرتے ہیں گویا ان پر وحی کا نزول ہو رہا ہے، ان کی گفتگو قرآن وحدیث اور سلف صالحین کے ذکر سے یکسر خالی ہوتی ہے، محسوس ہوتا ہے کہ سلف صالحین خصوصاً صحابہ کرام اور تابعین عظام کا تذکرہ بھی اپنی کسرشان سمجھتے ہیں، حالانکہ انہیں اس حقیقت کا اتنا تو ادراک ہونا چاہیے کہ شرعی احکام ان پر نازل نہیں ہوئے ، دین اللہ کے آخری نبی ﷺ پر مکمل ہوا اور حضرات صحابہ براہ راست نبی کریم ﷺ سے سماعت کر رہے تھے ، ان کے سینے انوار رسالت ﷺ کی کرنوں سے منور ہو رہے تھے، پھر ان سے تابعین نے مسائل سیکھے اور سمجھے، پیش آمدہ مسائل میں وہاں سے ہمارے لیے کیا رہنمائی مل رہی ہے، انہوں نے ان مسائل کا کیا حل تجویز فرمایا، دین فہمی کی بنیاد قرآن و سنت ہے انہیں ہم سے زیادہ قرآن وسنت پر دسترس حاصل تھی، ان بزرگوں کو نظر انداز کر کے اپنی رائے سے گفتگو کا آغاز بجائے خود گمراہی ہے، چاہے عوام کتنا ہی انہیں دانشور اور مفکر سمجھیں اور دوسری طرف کچھ ایسے معاصر علماء اور خطباء ہیں، جو اپنی فکر اور نظریات کو عین قرآن و سنت قرار دیتے ہیں، وہ قرآنی آیات کو پیش کر کے ان کا مفہوم اس انداز سے کرتے ہیں، جیسے یہی قرآن ہے اور فرمان الٰہی ہے ، علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ نصوص پیش کر کے پھر اپنی بات کریں کہ میں نے اس کا یہ مفہوم سمجھا ہے، یعنی ذاتی افکار اور رجحانات کو بطور قرآن نہ پیش کریں ، بعض معاصر اہل علم نے قرآن مجید کی تفسیر اور تفہیم میں بھی یہی غلطی اور بے احتیاطی کی ہے ، کہ جگہ جگہ اپنے نظریات آیات کے اندر ٹھوسنے کی جسارت کی ہے، جو روح قرآن اور اسلوب سلف کے منافی ہے۔ پھر ان کے معتقدین اور وابستگان اس شدت سے ان نظریات کا پرچار کرتے ہیں کہ اس کے علاوہ دوسری کوئی رائے یا نظریہ ہی درست نہیں۔ غرض مذہبی مسلکی اور تنظیمی تعصب افسوسناک ہے ، ماضی میں بھی اس کے تلخ نتائج نکلے اور آج بھی امت اس سے دوچار ہے ۔
دل ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم
اللہ بگاڑ کے حقیقی عوامل سمجھنے اور درست علاج کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
٭٭٭
ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’کثرت سے لا إله إلا الله پڑھا کرو، کیونکہ یہ ایسے الفاظ ہیں جو صرف زبان کی حرکت سے ادا ہو جاتے ہیں، ہونٹوں کی حرکت کی ضرورت نہیں ہوتی، اس لیے ساتھ بیٹھنے والے کو بھی معلوم نہیں ہوتا۔‘‘
(التلخيص لوجوه التخليص : 1؍100)

تبصرہ کریں