میر کارواں کی رحلت- مولانا محمد عبد الہادی العمری

میر کارواں کی رحلت (خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ ) مولانا محمد عبد الہادی العمری

محترم پروفیسر حافظ ساجد میر رحمہ اللہ کے ساتھ میری پہلی ملاقات ممتاز عالم دین مولانا محمود احمد میر پوری رحمہ اللہ، ناظم اعلی مرکزی جمعیت اہلحدیث، برطانیہ کی رہائش گاہ واقع برمنگھم میں اس وقت ہوئی جب موصوف شہرہ آفاق قائد اہلحدیث بےباک خطیب علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کی معیت میں انگلینڈ تشریف لائے تھے ، یہ اس وقت کی بات ہے جب محترم پروفیسر صاحب کی ریش میں بہت کم سفید بال تھے ، تنظیمی طور پر ان کا کوئی عہدہ مرکزی جمعیت میں نہیں تھا، دوران گفتگو اہل علم خطباء اور ان کی تضیفات کا تذکرہ چھڑا، علامہ صاحب نے چند انگریزی کتب اور خطباء کے حوالہ سے پروفیسر صاحب کی طرف اشارہ کر کے کہا ان کتابوں میں زبان و بیان کی کچھ خامیاں ہیں، میری پروفیسر صاحب کے ساتھ اس مسئلہ میں تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے ، اب میرا تجسس بڑھا کہ یہ کون صاحب ہیں جن کی قدر دانی علامہ صاحب کرتے ہوئے ان کے علم و تحقیق پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں، پھر پروفیسر صاحب کا تعارف کروایا گیا کہ متحده ہندوستان میں قافلہ اہلحدیث کے سالار مولانا محمد ابراہیم میرسیالکوٹی رحمہ اللہ کے خانوادہ کے چشم و چراغ ہیں، یوں پہلے ان کی گفتگو سنی اور علامہ صاحب کے تزکیہ اور اعتماد نے مجھے متاثر کیا پھر نام اور پتہ معلوم ہوا :

مشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید

کہ عمده خوشبو اپنی مہک سے جانی جاتی ہے نہ کہ عطر فروش کے اشتہار سے ، اس تعارف کے ساتھ کہ وہ خانوادۂ میر کی لڑی سے ہیں، میری محبت عقیدت کا روپ دھار چکی تھی، شاید ہی برصغیر کا کوئی دینیات کا طالب علم میر سیالکوٹی سے ناواقف ہو ، ہم جنوبی ہند کی درسگاہ جامعہ دار السلام عمر آباد میں زیر تعلیم اور کم عمر تھے، ہمارے تفسیر کے استاذ مولانا سید امین احمد عمری رحمہ اللہ کئی بار دوران تدریس یا خطبات جمعہ میں محترم میر سیالکوٹی کے فرمودات اور تفسیری نکات سنایا کرتے کہ اس مسئلہ میں ہمارے استاذ مولانا ۔۔۔کی یہ رائے تھی۔ انتہائی ادب کے ساتھ جب بھی نام لیتے پورا نام لے کر فرماتے۔ مولانا سید امین جب تقسیم ہند سے بہت پہلے درس نظامی سے فارغ ہوئے تو جامعہ عمر آباد نے چند ہو نہار فارغین کو مزید علم حاصل کرنے کے لیے مختلف مقامات اور مشاہیر کی خدمت میں بھیجا، استاذ محترم کو سیالکوٹ بھیجا گیا، اس وقت میر سیالکوٹی کا حلقہ درس قرآن جو علماء و فضلاء جامعات کے لیے مختص تھا اس میں شرکت کی۔ واپسی پر جامعہ میں مدرس متعین ہوئے اور بنیادی طور پر تفسیر ہی آپ کا مضمون رہا۔ غرض محترم پروفیسر صاحب کے ساتھ اس پہلی ملاقات سے جو رشتۂ مودت قائم ہوا ، اخیر تک برقرار رہا، سفر و حضر میں ہماری متعدد ملاقاتیں مختلف مناسبتوں سے متواتر ہوتی رہیں، متنوع عنوانات زیر بحث رہتے، مسلکی دعوتی موضوعات پر اتفاق اور بعض سیاسی امور میں خصوصاً ا اختلاف رائے بھی ہوتا ، انسانی طبیعت اور فکر و نظر کے پیمانے کچھ ایسے ہیں کہ کلی اتفاق کسی کے ساتھ بھی ممکن نہیں۔ سیاسی مسائل میں عموماً ان کا جواب ہوتا کہ بعض باتیں مقامی حالات اور حکمت کی متقاضی ہوتی ہیں، انہیں اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے، ان میں ایک سے زیادہ آراء ہو سکتی ہیں ۔

ہماری نظر میں جو مفید ہو آپ کی نظر میں غیر مفید بھی ہو سکتی ہے ۔کمال کی وسعت نظری تھی کہ ہمارے ان اختلافات کو وہ خندہ پیشانی سے سنتے، واقعی تبسم فرماتے ہوئے ضرورت کے مطابق الفاظ میں جواب دےدیتے اور کبھی صرف مسکراہٹ سے جواب دیتے، شاید اس حدیث پر عمل کرتے ” من صمت نجا ” خاموشی میں نجات ہے۔ ویسے بیرون پاکستان دوروں میں وہ ایک دینی رہنما اور قائد جماعت اہلحدیث ہی کی حیثیت سے پیش ہوتے۔ سیاسی امور پر کم اظہار خیال کرتے ، حالانکہ سینٹ کے مسلسل پانچ میعاد کے لئیے ممبر منتخب ہوئے تھے لیکن ان کی ترجیح دعوتی امور ، جماعتی مسائل اور دینی باتوں کے گرد گھومتی ، وہ واقف تھے کہ یہاں اخوان اور احباب کے ساتھ ان کی وابستگی اور تعلق کی بنیاد دین اور اخوت اسلامی کا رشتہ ہی ہے ، لہٰذا اسی کو عملی طور پر بھی اولیت دینی چاہیے، برطانیہ میں ان کے عقیدت مندوں کی بڑی تعداد ہے، ان کی تشریف آوری سے قبل ہی پروگرام طے ہو جاتے ، آمد سے پہلے ہی بتا دیا کرتے کہ اس مرتبہ کتنے دن کا دورانیہ ہوگا تاکہ پروگرام مرتب کرنے میں سہولت ہو سکے۔ خطبات جمعہ یا عام تقاریر کے لیے کچھ اہم نکات نوٹس کی شکل میں تیا کرلیا کرتے کہ گفتگو مقرره عنوان کے دائرہ میں رہے اور ترتیب کے ساتھ اپنا موضوع مکمل کر لیں ۔

مشہور ائمہ اور فقہاء کے متعلق بعض نوجوان علماء اور جذباتی خطباء کی بے احتیاطی اور مسائل میں فتوی بازی اور عجلت سے وہ شاکی رہتے کہ نہ یہ ہماری دعوت کا درست اسلوب ہے اور نہ ہی مسلک اہلحدیث کا یہ نظریہ ہے، ، انہوں نے مولانا ابراہیم میر رحمہ اللہ کا ذاتی واقعہ بیان کیا کہ جن دنوں بر صغیر میں فقہاء کرام کے حوالہ سے موضوع گرم تھا، مولانا سیالکوٹ اپنے کمرہ میں بیٹھے مطالعہ کر رہے تھے، اچانک انہیں محسوس ہوا کہ جیسے کسی نے بتی گل کردی اور کمرہ میں تاریکی چھا گئی، کچھ دیر بعد مولانا نے اپنے سر کو جنبش دیتے ہوئے ارد گرد کا جائز ہ لیا، بتی تو روشن تھی، پھر انہوں نے ارادہ کر لیا کہ میں قرآن و سنت اور مسلک حق کی حمایت میں تو بھر پور گفتگو اور دفاع کروں گا لیکن ائمہ اور فقہاء کرام کی شان میں ادنی درجہ کی بے ادبی بھی نہیں کروں گا، یہی مزاج محترم پروفیسر صاحب کا تھا ، اہل علم کی مساعی جمیلہ کی قدر کرتے، لیکن امام مالک رحمہ اللہ کے قول پر عمل کرتے ہوئے ” كل منا يوخذ و يرد الاصاحب هذا القبر” ہر ایک کی بات لی بھی جا سکتی ہے اور ترک بھی کی جاسکتی ہے، صرف رسول اللہ ﷺ کو یہ مقام بلند حاصل ہے کہ آپ کی کوئی بات ترک نہیں کی جاسکتی۔قیام برطانیہ کے دوران کسی شہر سے دوسرے شہر جاتے ہوئے ان کا معمول تھا اپنے ساتھ مصحف رکھتے، گاڑی میں سوار ہوتے ہی کچھ دیر خیر خیریت اور دعاء سفر پڑھتے پھر تلاوت شروع کر دیتے، درمیان میں کسی خاص نکتہ پر اظہار خیال کرنا ہو تو وقفہ کر لیتے ورنہ منزل تک تلاوت جاری رکھتے۔

فارغ اوقات میں سیر و تفریح کے پروگرام آثار قدیمہ کی وزٹ میں رفقاء سفر کے ساتھ بے تکلفانہ گفتگو جاری رکھتے، حسب ضرورت ظریفانہ جملوں، لطیفوں اور مناسب اشعار سے محفل کو بیدار رکھتے، ایسے سفر میں نہ وہ روایتی سینیٹر لگتے اور نہ ہی قائد جمعیت بلکہ ساتھیوں کے ساتھی اور رفیق سفر ہی دکھائی دیتے ۔

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مؤمن

تاہم سیر و سیاحت ہو یا کاروبار و تجارت نمازوں کے اہتمام میں کوتا ہی ان کے لیے ناقابل برداشت ہوتی، بلکہ ساتھیوں کو مناسب انداز سے تنبیہ بھی کرتے رہتے، یہ نہیں کہ رفقاء کے ساتھ ایسے موقعوں پر رعایت کی جائے ۔

انگلینڈ کے ایک دورہ میں جب مسلم لیگ کا طوطی بول رہا تھا، برمنگھم میں موجود کچھ سیاسی شخصیات پروفیسر صاحب سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئیں، ہو سکتا ہے ان کی توقعات عام سیاسی لیڈروں جیسی رہی ہونگی، پروفیسر صاحب جمعیت اہلحدیث کے مرکزی دفتر کے ایک کمرہ میں بیٹھے تلاوت کر رہے تھے، سیاسی وفد انتظار گاہ میں منتظر تھا، ہم نے سوچا کہ شاید پروفیسر صاحب آج کی اس ملاقات یا وفد کی آمد سے بے خبر ہیں ،انہیں اشارہ کیا گیا لوگ آپ کے منتظر ہیں لیکن انہوں نے تلاوت منقطع نہیں کی، مکمل کر کے ہی تشریف لے آئے، وفد میں شامل اکثر لوگ اس سینیٹر کی ادائے قلندری پر حیران تھے، کچھ تو اس کا اظہار بھی کر رہے تھے، ان کے حساب سے سیاسی رہنماؤں کو تلاوت و امامت سے کیا سروکار، ان کے لیے یہ کام تبرک کی حد تک ہی ہوتے ہیں، باقی ان کی جولان گاہیں کسی اور نوعیت کی ہوتی ہیں ۔

لوگ نہیں جانتے کہ اس بزم سیاست میں معدودے چند ہی سہی، کچھ ایسی شخصیات بھی ہیں جو دن میں ایوان سیاست کے ہیرو ہوتے ہیں تو رات عبادت میں بسر کرتے ہیں ، ان کے پاکیزہ کردار اور اعلیٰ صفات سے ایوان سیاست تو مقدس ہو جاتا ہے لیکن ان کا اپنا دامن عفت و عصمت داغدار نہیں ہوتا ، وہ اپنے وجود سے ایوان سیاست کو بہت کچھ دیتے ہیں لیکن اپنے لیے بدلہ میں اس سے کچھ حاصل نہیں کرتے، بلا شک و شبہ ایسے ممبران سے ایوان کا قد کاٹھ بڑھ جاتا ہے، یہ لوگ خار دار سیاست سے اپنا دامن بچا کر ایسے گذرتے ہیں کہ مخالفین اور معاندین خورد بین لے کر بھی ان کے کردار کی عظمت گھٹا نہیں سکتے ۔

پروفیسر صاحب نے بتایا کہ ایک سال سینٹ کا اجلاس رمضان میں تھا اور قواعد کے مطابق ممبران کی حاضری ضروری تھی، یہ سال میرے لیے کٹھن گذرا کہ صبح اسلام آباد پہنچنا ، اور اجلاس میں شرکت کے بعد سیالکوٹ واپس آکر تراویح میں قرآن سنانا ، آمد و رفت کے دوران ہی پارہ کا اعادہ اور نیند بھی پوری کرنی ہوتی لیکن تراویح میں ناغہ میرے لیے قابل قبول نہیں تھا ۔

مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام عالمی کانفرنس کے دوران دیکھا کہ پروفیسر صاحب کانفرنس کا ٹائم ٹیبل دیکھ کر ان کی کوشش ہوتی ، فارغ اوقات میں زیادہ وقت حرم شریف کے اندر گزاریں، اگرچہ کہ مہمانوں کے لیے پانچ ستارہ ہوٹل میں قیام و طعام کے اعلیٰ انتظامات کئے گئے تھے ، پروفیسر صاحب ان چیزوں سے بے نیاز حرم کا رخ اختیار کرتے ، اپنے ساتھ ایک مختصر سائز کا بیگ رکھتے، جب مسجد حرام کے گیٹ پر پہنچتے اپنے چپل اس میں رکھ لیتے کہ مال عرب پیش عرب ، تاکہ کسی بھی دروازہ سے باہر نکلنے میں سہولت ہو سکے اور پھر ارد گرد کے ماحول سے بے خبر کبھی طواف میں کبھی نوافل یا تلاوت میں مصروف رہتے۔ انگلینڈ کے علاوہ یورپی ممالک کے کئی سفر ہم نے اکٹھے کئے ، ڈنمارک کوپن ہیگن میں سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور کی جانب سے 11؍ ستمبر 2001 ء کے حادثہ سے صرف دو دن پہلے سہ روزہ عالمی کا نفرنس غیر مسلم اکثریتی ممالک میں مسلم اقلیت کے مسائل کے عنوان سے سے منعقد ہوئی، مشہور زمانہ 9؍11 حادثہ سے دو دن پہلے یہ کانفرنس ختم ہوئی، پھر دنیا کا دھارا ہی بدل گیا، برطانوی وزیر اعظم نے اعلان کر دیا کہ اب میدان کے قواعد بدل چکے ہیں اور امریکی صدر نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ یعنی تیسرے راستہ یا امکان کو ہی ختم کر دیا، بہر حال اس اہم کا نفرنس میں محترم پروفیسر صاحب پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے تھے اور میں انگلینڈ کے مختلف ساتھیوں کے ساتھ شریک تھا، افتتاحی اجلاس کے بعد کا نفرنس کی مختلف نشستیں طئے تھیں ، پہلی نشست میں میرا مقالہ تھا جو ڈاکٹر عبد الله بن محمد آل الشيخ وزیر عدل سعودیہ کی صدارت میں منعقد ہوا، امام حرم الشیخ عبد الرحمن السدیس سميت کئی نامی گرامی شخصیات جمع تھیں، مقالہ کتابی شکل میں شرکاء کو دے دیا گیا تھا، مجھے اس کا خلاصہ بیان کرنا تھا، اس میں عرب ممالک میں دین بیزاری اور مغربی ممالک میں دین بیداری کے حوالہ سے میں نے واقعاتی تناظر میں کچھ باتیں کہیں کیونکہ بعض علماء خصوصاً عرب ممالک میں رہنے والے دیار غرب میں مسلمانوں کے قیام کے خلاف سخت بیانات دیتے ہیں، جبکہ صورتحال یہ ہے کہ انگلینڈ، فرانس، جرمنی، ہالینڈ، اٹلی وغیرہ میں میں لاکھوں کی تعداد میں ایسے عرب مسلمان ہیں جو اپنی جان، مال اور دین کی حفاظت کی خاطر اپنے ملکوں سے بھاگ کر یہاں پناہ لیے ہوئے ہیں، یہاں انہیں باعزت زندگی گزارنے کی ضروری سہولیتیں حاصل ہیں اور صورتحال یہ ہے کہ ہم بیشتر عرب ممالک میں مقیم غیر ملکی مسلمانوں کی تیسری نسل کو بھی اقامہ اور پاسپورٹ کی وہ سہولتیں حاصل نہیں ، جس کے ان ممالک میں چند سالوں کے قیام سے ہی وہ مستحق ہو جاتے ہیں۔ وغیره وغیره، صدر اجلاس وزیر عدل نے سراہتے ہوئے کہا کہ اس میں نہایت جرات مندانہ موقف اختیار کیا گیا ، اکثر مشائخ اور شرکاء نے بہت پسند کیا۔ ان سب سے بڑھ کر میرے لیے پروفیسر صاحب کے کلمات خیر تھے کہ ’’بلا خوف لومۃ لائم‘‘ آپ نے دوٹوک بات کی۔

دوسری مرتبہ ڈنمارک کا سفر ہمارا وہاں کی مسلم کمیونٹی کی دعوت پر ہوا تھا، ان دنوں پروفیسر صاحب برطانیہ کے دورہ پر تھے، وہاں ہمارا قیام بھی ایک ہی گھر میں تھا ، سفر میں بہت سے تجربات ہوتے ہیں۔ ہمیں لگتا تھا کہ پروفیسر صاحب خود اپنے سے زیادہ ساتھیوں کا خیال رکھتے ہیں حالانکہ ہم عمر اور مرتبہ میں بہت کم تھے ۔سفر میں بھی ان کے دینی معمولات، اذکار و وظائف اور تلاوت کا التزام جاری رہتا، جب ہم کو پن ہیگن پہنچے دوست احباب سے ملاقات اور عشائیہ سے فارغ ہوتے ہوتے دیر ہوگئی، تكان جلد بستر کا تقاضا کر رہی تھی ، پر وفیسر صاحب نے مجلس برخاست کرتے ہوئے کہا کہ کچھ نوافل پڑھ لوں، سونے سے قبل قیام اللیل رہ نہ جائے، یورپ میں موسم گرما کے دوران راتیں مختصر ہوتی ہیں، فجر کا وقت تین بجے سے پہلے شروع ہو جاتا ہے۔ ایسے میں تہجد کے لیے بیداری نسبتا زیادہ مشکل ہوتی ہے لیکن گرمی ہویا سردی پروفیسر صاحب کا معمول کچھ یوں تھا:

زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی

نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آداب سحر خیزی

واپسی میں ہمیں گلاسگو ائیر پورٹ پہنچنا تھا، اسکاٹ لینڈ جمعیت اہلحدیث کے پروگرام میں شرکت کے لیے ہم دونوں پاسپورٹ کے مطابق الگ الگ قطاروں میں لگ گئے ، میری کا روائی مختصر وقت میں مکمل ہو گئی، میں کا ؤنٹر کے باہر پروفیسر صاحب کا انتظار کر رہا تھا، قدرے تاخیر سے وہ باہر نکلے میں نے استفسار کیا کہ آپ کا تو ڈپلومیٹ پاسپورٹ ہے، مزید سرعت سے کام ہونا چاہیئے، روایتی مسکراہٹ کے ساتھ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے ملک کی جتنی اہمیت ہے پاسپورٹ کی بھی اسی حیثیت سے اہمیت ہوتی ہے، اسی قسم کا پاسپورٹ کسی مغربی ملک کا ہو تو اسے خصوصی پروٹوکول ملتا ہے، وہاں امیگریشن آفیسرز نے روٹین کے مطابق پروفیسر صاحب سے کچھ سوالات کئے کہ آپ کی مصروفیات کیا ہیں، حالا نکہ پاسپورٹ میں سینیٹر درج ہے، جواب کے بجائے پروفیسر صاحب نے کہا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ سینیٹر کا کام کیا ہوتا ہے، شستہ انگریزی میں اس مرد قلندر کی جانب سے ایسے کھرے جواب کی اسے توقع نہیں رہی ہو گی، اسے پہلے ہی سوال سے اندازہ ہو گیا کہ میں کس سے مخاطب ہوں، ’’خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ ‘‘

دورۂ ہند : مشہور درسگاه جامعہ محمدیہ مالیگاؤں بمبئی کی جانب سے منعقد ہونے والی کا نفرنس میں شرکت کے لیے علامہ الشیخ بدیع الدین راشدی رحمہ اللہ کے ساتھ محترم پروفیسر صاحب اور دیگر علماء ہندوستان تشریف لائے، اس پروگرام میں راقم بھی بحیثیت مقرر مدعو تھا، پاکستانی وفد مالیگاوں میں واقع علمی بستی منصورہ جسے وہاں کے محسنین خصوصا مولانا مختار احمد ندوی امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے خون جگر سے سینچا تھا، وہ ایک عام درسگاہ نہیں بلکہ علمی بستی تھی، دینی تعلیم، درس نظامی کا عمدہ انتظام لڑکوں کے لیے ، اسی معیار کا اعلیٰ بندوست لڑکیوں کے لیے، اس سے متصل محمد یہ طبیہ کالج، اس کے ساتھ بوٹانیکل گارڈن، وسیع و عریض مسجد وغيره وغيره ، پاکستانی وفد جب پہنچا مولانا مختار ندوی نے اپنی ٹیم کے ساتھ پورے تپاک سے مہمانوں کا استقبال کیا اور مکمل احترام کے ساتھ جب یہ وفد سٹیج پر جلوہ افروز ہوا تو طلبہ، اساتذہ اور عام شرکاء کا اشتیاق دیدنی تھا ، افتتاحی نشست کے بعد محترم پروفیسر صاحب نے روایتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ یہاں مجمع بہت پرسکون رہتا ہے ، اسی نوعیت کا اجتماع اگر ہمارے ہاں ہو اور اتنے لوگ جمع ہوں تو نہ جانیں فضا کون کونسے نعروں سے گونج اٹھتی، مولانا مختارندوی جو اس پروگرام کے روح رواں تھے اس وفد کی آمد پر جہاں اپنی مسرت کا اظہار کر رہے تھے وہیں انہیں ایک ہلکا سا کھٹکا بھی لگا ہوا تھا کہ پروفیسر صاحب سینیٹر بھی ہیں، کہیں سیاسی موضوعات پر گفتگو نہ شروع کر دیں، کیونکہ اجتماع میں موجود خفیہ کرم فرماں ایسی باتوں کو اچک لیں گے، ایجنسی کے کارندوں کو مذہبی اور مسلکی باتوں سے سروکار نہیں، تاہم پروفیسر صاحب کے مزاج آشنا جانتے تھے کہ وہ داعی دین پہلے ہیں اور سیاست دان بعد میں، اس دورہ میں مختلف اجتماعات ہوئے اور پاکستانی وفد پر ہندوستانی مسلمان عقیدت کے پھول نچھاور کرتے رہے، پروفیسر صاحب نے عقیدہ، مسلک اور دعوت دین و غیره و غیره عنوانات پر سیر حاصل گفتگو کی لیکن سیاسی مسائل کو ٹچ ہی نہیں کیا جیسے میدان سیاست سے ان کا تعلق نہیں، یوں خفیہ ریکاڈنگ یار پورٹنگ کرنے والوں کو مایوسی ہوئی ہوگی، یہ نرالی شان کے سینیٹر ہیں کہ سارے دورہ میں انہوں نے نہ یہاں کے سیاسی مسائل چھیڑے اور نہ ہی سرحد پار کی باتیں، کیا واقعی یہ سینٹ کے ممبر ہیں یا ایک عالم دین، بلکہ طرفہ تماشہ یہ کہ علامہ بدیع الدین شاه خطبہ جمعہ میں طاغوت کی تشریح کرتے ہوئےکچھ سیاسی باتیں بھی اپنے مخصوص انداز سے کہیں، لیکن ان کی یہاں شہرت عالم دین اور روحانی پیر کی حیثیت سے تھی ، ان کی تلخ توانائی گوارہ تھی، مالیگاؤں کی معزز شخصیت ڈاکٹر فیضی فرزند خلیل سیٹھ رحمہ اللہ جو اس منصوبہ منصورہ کے دست راز تھے مولانا ندوی کے انہوں نے معززین کی ضیافت کا اہتمام کیا تھا، محفل میں موجود لوگ مختلف قسم کے سوالات کرتے رہے، پروفیسر صاحب آزادی سے قبل تحریک اہلحدیث اور اس سے وابستگان کی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے معلومات کا دریا بہاتے رہے، وہاں بھی بعض سیاسی نوعیت کے سوالات کا جچا تلا مختصر سا جواب دیتے کہ سانپ بھی مر جائے لاٹھی بھی نہ ٹوٹے، حالانکہ اس نشست کی حیثیت جلسۂ عام کی نہیں تھی، گویا وہ مکمل محتاط تھے :

ہر بیشہ گمان مبر کہ خالیست

شاید کہ پلنگ خفتہ باید

جنگل میں یہ خیال نہ کرو کہ خالی ہے ، ممکن ہے کسی درخت کی اوٹ میں کوئی چیتا سو رہا ہو ۔

قائدانہ حکمت و بصیرت اور دور اندیشی بہت ضروری ہے ،جو پروفیسر صاحب کا وصف تھا ۔

پروفیسر صاحب کا بیرون پاکستان مقام کیا تھا، اس واقعہ سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک سال رابطہ عالم اسلامی کی جانب سے مکہ مکرمہ میں بہت ہی نازک حالات میں عالمی کانفرنس منعقد ہوئی، اس میں خادم الحرمین الشريفين ملك فہد بن عبد العزیز کو شرکت کرنی تھی لیکن اپنی علالت کے باعث وہ تشریف نہ لاسکے، چنانچہ شرکاء کانفرنس کی جانب سے ایک وفد تشکیل دیا گیا چند افراد پر مشتمل تاکہ یہ شاہ فہد کی خدمت میں پہنچ کر ان سے براہ راست گفتگو کریں، اس وفد میں ہمارے محترم پروفیسر صاحب بھی شامل تھے جو سعودی عرب کے مفتی عام کی سربراہی میں قصر شاہی پہنچا اور ملک سے ملاقات کر کے صورتحال سے آگاہ کیا ۔ یہی اعزاز کسی اور کو ملتا تو نہ جانے کس کس جگہ اس کا تذکرہ کیا جاتا۔

محترم پروفیسر صاحب کی زیر نگرانی ملک کے طول و عرض میں متعدد عوامی اجتماعات اور کانفرنسیں منعقد ہوتی رہیں، جن چند کا نفرنسوں کو فوقیت حاصل ہے ان میں نومبر 1992ء کو مینار پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی کانفرنس ہے، اس میں بطور مہمان خصوصی امام حرم الشیخ محمد بن عبدالله السبیل رحمہ اللہ جو شیدائی سلفیت تھے تشریف لائے اور بیرون ملک سے کئی نامی گرامی علماء شریک تھے، انڈیا سے مولانا عبد الوہاب خلجی ناظم اعلی جمعیت اہلحدیث ہند، نیپال سے مولانا عبداللہ مدنی جھنڈانگری ، برطانیہ سے راقم کو شرکت کی سعادت حاصل ہوئی ، کانفرنس کی شب پانچ ستارہ ہوٹل میں مہمانوں کے لیے استقبالیہ تقریب رکھی گئی تھی ، محترم پروفیسر صاحب پروگرام کی کامیابی کے لیے انتہائی متحرک تھے ، ہمارا قیام لوئر مائل لاہور کے ایک گیسٹ ہاؤس میں تھا ، پروفیسر صاحب بنفس نفیس مہمانوں کی خبرگیری کے لیے وہاں پہنچے، اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب پروفیسر صاحب باڈی گارڈز کے جھرمٹ میں پہنچے تھے ہم میں کسی نے بھی اس سے پہلے پروفیسر صاحب کا یہ انداز نہیں دیکھا تھا ویسے بھی ان کے ساتھ ہماری ملاقاتیں بیرون پاکستان ہی ہوتی رہیں، بھائی عبداللہ نیپالی کو شاید یقینی نہیں آ رہا ہوگا انہوں نے بندوق بردار سے پوچھ ہی لیا کہ کیا واقعی یہ سچ مچ میں بندوق ہی ہے ، وہ بھی ان کی سادگی پر مسکرائے بغیر نہ رہ سکا، پھر ہمیں بتایا گیا کہ اس وقت یہ یہاں کے حالات کے مطابق ایک ضرورت ہے، خصوصا ایسی بڑی کانفرنس کے موقع پر ورنہ پروفیسر صاحب کو انتہائی سادگی کے انداز میں دیکھنے کے عادی تھے ، شرکاء ، علماء اور خطابات کے اعتبار سے یہ تاریخی کا نفرنس تھی، محترم امام حرم مہمان علماء اور معززین شہر کے لیے محسن جماعت میاں فضل حق رحمہ اللہ کی رہائش گاہ واقع ملتان روڈ پر بھر پور ضیافت کا اہتمام کیا گیا تھا، کا نفرنس کی کامیابی ذمہ داروں سمیت پروفیسر صاحب کی مرہون منت تھی ۔ کا نفرنس کے دوسرے دن ہم مرکزی دفتر 106 راوی روڈ میں جمع تھے اس وقت قدیم طرز کی مختصر عمارت میں یہ دفتر تھا جو ہمارے لیے باعث تعجب کہ جس جماعت نے بر صغیر میں تاریخ رقم کی جس سے وابستہ شخصیات کی شہرت سرحد پار دور دور تک ہے، کیا ان کا مرکزی دفتر اتنا ہی مختصر ہے، پروفیسر صاحب کی مساعی جمیلہ کے باعث اس کی از سرنو تعمیر ہو سکی۔پروفیسر صاحب نے ظہرانے کے لیے کسی ریسٹورنٹ کا انتخاب کیا، کھانے کے آرڈر میں پروفیسر صاحب نے اپنے لیے دال طلب کی، میں نے محترم کی فرمائش پر کہا کہ کہیں اس میں اس آیت سے مشابہت تو نہیں ﴿أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَىٰ بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ﴾ دال بھاجی کی طلب کے سبب قوم موسیٰ علیہ السلام پر حیرت کا اظہار کیا گیا ، سب ہی احباب اس پر ہنس پڑے اور پروفیسر صاحب نے وضاحت کی کہ میرے لیے اسی سادگی میں خیر ہے۔ بیرون ملک پروفیسر صاحب کا ضیافتوں میں جو انداز ہوتا وہی پاکستان میں بھی دیکھنے میں آیا کہ غذا ہلکی اور سادہ ہو ۔

اسی سادگی کا عقیدتمندوں نے دوران علالت جس کمرہ میں آخری دن گزارے، نقشہ کھینچا کہ پانچ میعاد کے لیئے سینیٹر رہنے والے کی کیا یہی متاع حیات ہے، در اصل اہل نظر جانتے ہیں کہ ان کا سرمایہ اقبال کے بقول

نگہ بلند سخن دلنواز جاں پرسوز

یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے

چند دنوں سے پروفیسر صاحب کی علالت کی خبریں مل رہی تھیں لیکن جب تک سانس ہے آس ہے ، 3؍مئی 2025ء جب رحلت کی اطلاع ملی ہے، دل بیٹھ سا گیا، پرانی یادوں میں کھو گیا، دوسرے دن غائبانہ نماز ادا کرتے ہوئے ذہن و دماغ کی جو کیفیت تھی اسے کیسے بیان کریں اور کچھ لکھنے بیٹھا، نہ جانے کتنی یادوں کے چراغ جلے بجھے ، گرم آنسوؤں اور سرد آہوں کے ساتھ حافظہ کے طویل سلسلہ یاد داشت سے کچھ باتیں حوالہ قرطاس کر سکا ہوں ۔ورنہ باتیں بہت ہیں۔ یقین ہے کہ ان شاء اللہ روز محشر صادق مصدوق ﷺکے بقول ان سعادتمندوں میں ہوں گے جن سے کہا جائے گا :اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَأُ بِهَا (جامع ترمذى: 2914)

پڑھتے جاؤ جنت کی اعلی منزلیں طے کرتے جاؤ جیسے دنیا میں تلاوت کیا کرتے، تمہارا ٹھکانہ وہیں ہوگا جہاں تمہاری تلاوت مکمل ہو گی۔

رب روف و رحیم بشری لغزشوں سے عفو و درگذر کا معاملہ کرتے ہوئے جنت الفردوس میں مقام عطا کرے ۔ آمین

تبصرہ کریں