’میر کارواں‘ میں نے جیسا دیکھا۔ مولانا محمد عبد الہادی العمری

نگہ بلند، سخن دل نواز ، جاں پرسوز

یہی ہے رخت سفر میرِ کارواں کے لیے

جامعہ دار السلام عمر آباد کی تاریخ میں سال 1977ء کا ’جشنِ طلائی‘ سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی اہمیت مختلف اعتبار سے ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا منفرد پروگرام تھا۔ طلبہ ، اساتذہ، منتظمین، ذمہ داران اور منتسبین جامعہ، گرد و نواح کے مسلمان اور غیر مسلم ہفتوں پہلے سے اس دن کے لیے دن گن رہے تھے۔ پروگرام کی کامیابی کا جتن بڑے ارمانوں کے ساتھ کیا جا رہا تھا۔ حتی کہ میدان کی با قاعدہ پیمائش کر کے نقشے کے مطابق انتظامات کیے جارہے تھے کہ مرکزی اجتماع گاہ، قیام گاہ اور طعام گاہ وغیرہ وغیرہ کے لیے کتنی جگہ مختص کی جائے۔

دونوں برادران محترم کا کا محمد عمر اور محترم مولانا کا کا سعید احمد صاحبان دل و جان سے تیاری میں اتنے مگن تھے کہ نماز اور کھانے کے علاوہ باقی وقت ہمہ تن مصروف عمل دکھائی دیتے۔ کبھی میدان تو کبھی آفس میں کبھی اساتذہ کو ہدایات دیتے ہوئے تو کبھی معززین کے ساتھ نشست کرتے ہوئے اور کبھی طلبہ کے ساتھ محو گفتگو ۔ اس مناسبت سے تمام طلبہ کے لیے یونی فارم شیروانی سلوانے کا اہتمام کیا گیا۔ ایک ماہر درزی کو عمر آباد بلوایا گیا تھا۔ تین چار روز قبل خیمہ بستی کا کام مکمل ہو گیا۔ گردونواح کے لوگ ان تیاریوں کا مشاہدہ چشم خود کرنے کے لیے عمر آباد آ رہے تھے۔ مغرب بعد کا وقت خواتین کے لیے مختص کر دیا گیا کہ وہ بھی ان تاریخی لمحات کے نقوش اپنے ذہنوں میں ثبت کرنا چاہتی تھیں اور ذمے داران صنف نازک کے جذبات کو مجروح نہیں کرنا چاہتے تھے کہ انھیں اس پُر مسرت مناسبت سے محروم کر دیا جائے۔ افتتاحی پروگرام کی رات کثیر تعداد میں قدیم فارغین، متوسلین جامعہ، مشہور اہل علم اور شرکاء عمر آباد پہنچنا شروع ہو گئے۔ ان میں کچھ شاید فراغت کے بعد پہلی بار مادر علمی پہنچ رہے تھے ۔ یہاں کے گوشہ گوشہ سے جڑی گزرے دنوں کی یادیں تازہ کر کے سکون پارہے تھے۔ نماز عشا کے بعد بہت سے احباب مسجد اور جامعہ میں دوستوں اور شنا ساوں کے ساتھ مگن تھے کہ شور مچا، بلاد عربیہ سے تشریف لائے عرب مہمان جناب کا کا محمد عمر کی رہائش گاہ ’عمر ہاؤس‘ پہنچ رہے ہیں۔ پولیس کی نگرانی اور سائرن کی گونج میں متعدد بھاری بھر کم کاروں کا قافلہ شاہراہ عمر آباد سے ’عمر ہاؤس‘ کی جانب موڑا گیا۔ پھر کیا تھا طلبہ اور مہمانوں کی توجہ مسجد گلی کی طرف تھی ۔ چھوٹے بڑے، طلبہ اساتذہ اور مہمان عوام ادھر ٹوٹ پڑے۔ کچھ ہی دیر میں ’عمر ہاؤس‘ کے گرد اتنا ہجوم امنڈ پڑا کہ پولیس کے لیے کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا اور تھا بھی یہ خوشی کا موقع۔ کسی پرسختی بھی روانہیں۔ نظم وضبط برقرار رکھنے کے لیے پولیس سینئر طلبہ کی مدد طلب کر رہی تھی۔ پڑوس میں واقع مولانا کا کا سعید احمد صاحب کے مکان ’المنار‘ میں معززین کو لے جایا گیا، جہاں تعارفی ملاقات کے بعد ’عمر ہاؤس‘ میں طعام کا انتظام تھا۔ وہاں سے فارغ ہونے کے بعد ان کے لیے مختص قیام گاہوں تک پہنچانے کے لیے پھر سے گاڑیوں کی قطاریں لگیں ، تاکہ صبح تازہ دم پروگرام میں تشریف لاسکیں۔ یہ ایسا تاریخی موقع تھا کہ مسجد گلی معززین، علما اور طلبہ سے بھری ہوئی تھی اور ہر نظر ’عمر ہاؤس‘ اور ’المنار‘ پر ٹکی ہوئی تھی۔ پھر اس تاریخی منظر کا اعادہ پورے پچاس سال بعد اس وقت ہوا جب جامعہ کے روح رواں ، میر کارواں خانوادۂ کا کا کی تیسری نسل کی آخری کڑی مولانا کا کا سعید احمد عمری رحمہ اللہ کا آخری دیدار کرنے اور جنازے کو کندھا دینے کی غرض سے اسی طرح ہجوم مسجد گلی میں امنڈ پڑا جسے دیکھ کر جشن طلائی کی رات والا منظر نظروں میں گھومنے لگا، اس فرق کے ساتھ کہ تقریباً پچاس برس قبل دونوں برادران معززین کا استقبال کر کے تاریخ رقم کر رہے تھے اور آج ایک تاریخ ساز شخصیت کو کندھوں پر اٹھا کر لوگ ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کر رہے تھے ۔ اُس وقت ہر آنکھ خوشی سے چمک رہی تھی اور آج ہر آنکھ احساسِ جدائی سے اشک بار تھی۔

پچاس سال قبل جب کہ جشن طلائی کی تیاریاں عروج پر تھیں، اچانک خبر آئی عظیم خانوادے کے عظیم فرزند، جامعہ کے نائب صدر اور ٹرسٹی جناب کا کا محمد اسحاق صاحب وفات پاچکے ہیں۔ موت کا وقت برحق ہے۔ اس میں پل بھر کے لیے تقدیم یا تاخیر کی گنجایش نہیں:

﴿فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةٌ وَلَا يَسْتَقْدِمُون﴾(سورة النحل: 61)

اس موقع پر اس ناگہانی خبر کا جو اثر اہلِ خاندان پر ہوا ہو گا وہ تو اپنی جگہ، لیکن اساتذہ جامعہ کے لیے بھی یہ صدمہ جان کا ہ تھا۔ استاذ گرامی مولانا ابوالبیان حماد عمری نے اس مناسبت سے راقم کے ذریعے ایک مکتوب املا کر وایا جس کا عنوان تھا ’’اور سلسلۃ الذھب کی آخری کڑی ٹوٹ گئی۔ ‘‘

مؤسس عمر آباد کا کا محمد عمر کے تین فرزند تھے: کا کا محمد اسماعیل، کا کا محمد ابراہیم، کا کا محمد اسحاق۔ دو پہلے وفات پاچکے تھے اور تاسیس جامعہ کے پچاسویں سال کا کا محمد اسحاق نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ مرکزی جلسہ گاہ کے لیے مختلف گیٹ بنائے گئے تھے، جو مشاہیر اور محسنین جامعہ کے ناموں سے موسوم تھے ۔ فوری ایک گیٹ پر مرحوم کے اسم گرامی کی سختی آویزاں کی گئی ، ’’باب اسحاق ‘‘۔یہ ان کا حق بھی تھا۔ انتقال سے پہلے جب وہ بستر علالت پر تھے اور اساتذۂ جامعہ عیادت کے لیے تشریف لے جاتے تو محترم کا کامحمد اسحاق صاحب ان سے فرماتے کہ ’’آپ کی ضرورت یہاں سے زیادہ وہاں ہے۔ میرے حق میں بس دعا کیجیے اور جشن طلائی کے انتظامات میں دل و جان سے لگ جائیے۔‘‘

امید کی جارہی تھی کہ جامعہ کے سو سال کی مناسبت سے سال رواں کے اجلاس میں کوئی پروگرام منعقد ہوگا لیکن ملکی حالات کے پیش نظر کسی وسیع پروگرام کے مسئلے میں ذمے داران تذبذب کا شکار تھے۔ خدشہ تھا کہ افادیت سے زیادہ نقصان نہ ہو ۔ عجیب اتفاق کہ وفات سے چند روز پہلے شریک معتمد فاضل دوست مولانا کا کا انیس احمد صاحب عمری جن سے رابطہ رہتا ہے، جو جامعہ کو ہر دم بہتر سے بہترین کی طرف لے جانے کے لیے اپنے والد گرامی کا دست و بازو بنے رہے۔ میں نے سو سال کے حوالے سے استفسار کیا تو کہنے لگے کہ ’’والد صاحب کے سامنے میں نے اس کا ذکر کیا۔ ابا جان سن کر پہلے تو خاموش ہو گئے لیکن بعد میں فرمایا کہ ملک کے حالات جلسے جلوس کے بغیر نہایت خاموشی کے ساتھ کام کرنے کے متقاضی ہیں ۔‘‘

محترم سکریٹری صاحب کی طبیعت پچھلے چند دنوں سے ناساز چلی آرہی تھی ، اور وہ زیادہ خاموش ہی رہنے لگے تھے۔ شاید یہ کوئی غیبی اشارہ رہا ہو کہ تم جس پروگرام کا ارادہ کر رہے ہو یہاں تو کوئی اور ہی پروگرام ہونے والا ہے۔ لوگ صد سالہ جلسے میں شرکت کی بجائے میر کارواں کے جلوس جنازہ کے لیے 12 مئی 2024 کی صبح جمع ہوئے۔ یوں سلسلۃ الذھب کی تیسری نسل کی آخری کڑی ٹوٹ گئی۔

کا کا محمد اسماعیل رحمہ اللہ کے تین فرزند تھے: دو کا کا رشید احمد اور کا کا محمد عمر پہلے ہی وفات پاچکے ہیں اور اب آخری فرزند بھی رخصت ہو گئے، جنہوں نے جامعہ کو تقریبا 65 سال خون جگر سے سینچا۔ جب جنازه شاہِ راہ عمر آباد سے گزرتا ہوا جامعہ کے وسیع سبزہ زار میں پہنچا تو شاعر مشرق کے مصرعے کی

حرف بحرف عکاسی ہورہی تھی:

جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پالے ہیں

کوئی عارضی مدت نہیں، پورے 65 برس تک اس گلشن کی آب یاری کے اس طویل دورانیے میں جن سرد و گرم حالات اور تلخ و شیریں تجربات سے گزرنا پڑا ہوگا اس کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں، جن کے کندھوں پر ایسی ذمے داریاں ہوتی ہیں۔ حالات کے تھپیڑے اور آندھیاں کتنی ہی سخت رہی ہوں لیکن اس شمع کو بجھنے نہ دیا، کیوں کہ

ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

ورنہ بسا اوقات تو محسوس ہوتا تھا کہ کہیں یہ چراغ گل ہی نہ ہو جائے لیکن ہر بار جامعہ کے ناخداؤں نے کشتی کو گرداب سے نکالنے میں کامیابی پائی۔ بجا طور پر توفیق الٰہی سے امید کی جاسکتی ہے کہ آئندہ بھی یہ سفر کامیابی ، بلکہ نئی توانائی اور نئے عزم کے ساتھ جاری رہے گا:

اولو العزمان دانش مند جب کرنے پر آتے ہیں

سمند ر پاٹتے ہیں اور کوہ سے دریا بہاتے ہیں

ساٹھ ، ستر کی دہائی میں شان دار عمارتوں اور ترقی کی ریل پیل نہیں تھی ، اس دور میں بھی کا کا صاحب یومیہ قدیم عمارت جواب معہد القرآن کے لیے مختص ہے، صبح تقریبا دس بجے دار المطالعہ میں تشریف لاتے ، کیوں کہ صبح ساڑھے نو بجے عموماً ڈاک موصول ہوا کرتی ۔ تازہ اخبارات اور رسائل کا مطالعہ کرتے اور ساتھ ہی ضروری امور میں اساتذہ سے بات چیت بھی جاری رہتی۔ یوں منتظمین اور مدرسین کے درمیان یومیہ رابطہ رہتا، براہ راست جامعہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے اور یہی معمول جامعہ کے توسیعی منصوبوں کی تکمیل کے بعد بھی جاری رہا۔ اگر ذمے دارا علیٰ آفس میں بیٹھا ر ہے تو وہاں مسائل کا انبار نہیں لگتا ، نہ ہی ایشوز پیچیدہ ہوتے ہیں، ورنہ عموماً اداروں اور مراکز میں صدر دفتر خالی ہوتا ہے، نائبین اور ملازمین کے رحم و کرم پر دفتری امور چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ ان معمولات کے ساتھ تقریباً پینتیس برس تک اپنے برادر کبیر کا کامحمد عمر کے دست و بازو بنے رہے اور پھر تیس برس اکیلے، بڑے بھائی کے دل میں چھوٹے بھائی کی کیا قدر تھی اس واقعہ سے اندازہ لگائیے کہ ایک سال سالانہ جلسہ اس وقت اسے ’ختم بخاری کا جلسہ‘ کہا جاتا تھا، مولانا کا کا سعید احمد صاحب جلسہ میں نہیں پہنچ سکے تھے۔ یہ غالباً پہلا موقع تھا کہ اس میں وہ شریک نہ ہوئے، کیوں کہ اپنے چھوٹے فرزند کا کا محمد اسماعیل رئیس سخت بیمار تھے۔ علاج معالجہ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی لیکن وہ جاں بر نہیں ہو سکے ۔ لڑکپن ہی میں داغ مفارقت دے گئے۔ بیمار بیٹے کی تیمارداری کی خاطر مولانا کا کا سعید احمد صاحب مدراس ہی میں رک گئے تھے۔ بڑے بھائی نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے مجمع عام میں برادر خورد کی صلاحیت اور جامعہ کے لیے ان کی کوششوں کا تذکرہ کر کے کہا کہ میں ان کے غیاب میں شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں ، وہ یہاں موجود ہوتے تو کبھی اس کی اجازت نہ دیتے ، یہ کہتے ہوئے معتمد جامعہ جناب عمر بابو کی آواز بھرا گئی، اور پھر عزم و حو صلے کی چٹان کو جذبات کے آگے سسکیاں لیتے ہوئے دیکھ کر سامعین بھی اشک بار ہو گئے۔

کا کا صاحب یومیہ جامعہ آتے ہی نہیں بلکہ طلبہ کی تعلیمی اور خصوصاً تربیت کی فکر میں ہمہ قسم کے جتن کیا کرتے۔ نمازوں میں حاضری ، اذکار کی پابندی، گردو نواح کی مساجد سے وابستگی اور ان میں خطبات جمعہ کی ترتیب، مختلف مقامات پر تربیتی و تذکیری اجتماعات کی نگرانی اور حسب ضرورت اساتذۂ جامعہ کے ہمراہ ان میں شرکت کرتے تا کہ ابنائے جامعہ موتی کے دانوں کی طرح بکھر نہ جائیں، ایک لڑی میں جڑے رہیں۔ ان کی حسن کارکردگی کی حوصلہ افزائی فرماتے اور کمی کوتاہی پر تنبیہ بھی کرتے۔ عقیدے کے مسئلے میں کسی مداہنت کو گوارا نہیں کرتے اور فقہی مسائل میں اپنا ایک نقطہ نظر رکھنے کے با وجود شدت پسندی نہیں کرتے۔ اس ضمن میں ایک دو ذاتی نوعیت کے واقعات پڑھ لیجیے :

عمر آباد کے قبرستان میں پختہ قبروں کی تعمیر کا رواج نہیں ہے۔ یہاں کے قبرستان میں مسنون طریقے سے کچی قبریں ہی تیار کی جاتی ہیں، حالاں کہ اس قبرستان میں بڑی قد آور شخصیتیں مدفون ہیں، غفر اللہ لہم ۔

ہمارے زمانۂ طالب علمی میں یہاں کے پوسٹ آفس میں ایک صاحب کا تبادلہ ہوا۔ نو وارد نمازوں کے پابند اور دین دار تھے ، لیکن اعتقادی اور فقہی مسائل سے زیادہ واقف نہیں تھے۔ ان کی رہائیش متصل گاؤں گڑھ آمبور میں تھی اور میں اس مسجد میں امامت کیا کرتا تھا۔ اس مسجد میں امامت و خطابت طلبہ کے ذمے ہوا کرتی تھی۔ ان کے بیٹے کی کم سنی میں وفات ہو گئی۔ تدفین کے بعد وہ پابندی سے قبرستان جایا کرتے۔ شروع میں خیال کیا گیا کہ بیٹے کی وفات کا غم تازہ ہے۔ پھر انھوں نے اس کی قبر پختہ بنانے کا ارادہ کیا۔ وہاں چراغ اور چٹائی کا بندوبست بھی کیا۔ اس کی اطلاع محترم سکریٹری صاحب کو پہنچی ۔ شنید ہے موصوف کو پہلے سمجھانے کی کوشش کی۔ شاید وہ سمجھنے کے موڈ میں نہیں تھے، کیوں کہ یہ ان کے بیٹے کی قبر ہے اور قبرستان سب کے لیے ہے ، ہم جو چاہیں کر لیں۔ اس پر محترم کا کا صاحب نے دوٹوک انداز میں پیغام دیا کہ ’’عمر آباد کے قبرستان میں اس قسم کی خرافات اور پختہ قبر بنانے کی گنجائش نہیں۔ ‘‘ یہ ایسا با رعب جملہ تھا کہ نو وارد کو اندازہ ہو گیا کہ یہاں مخالفت کا انجام کیا ہو سکتا ہے۔ وہ اپنے ارادے سے تو باز آگئے لیکن کچھ دن ہم سے بھی روٹھے رہے۔

ایک مرتبہ عرب امارات سے ایک وفد آیا۔ اس میں ایک عربی مہمان عقیدے کی گہرائی میں گئے بغیر مقامی عادات اور مروجہ چال چلن سے مفاہمت کی پالیسی کو ترجیح دینے والے تھے۔ اس واقعے کے راوی خود کا کا صاحب ہیں۔ وفد کا پہلا پڑاؤ دار السلام تھا۔ وہاں سے فارغ ہو کر ایک اور درس گاہ کی زیارت ان کی فہرست میں شامل تھی۔ دونوں برادران کے ہمراہ وہاں پہنچے۔ درس گاہ کے تعلق سے معلومات حاصل کیں۔ کا کا برادران کسی ادارے کے دورے میں شامل ہوتے تو خود آگے بڑھ کر اس ادارے کے متعلق اظہارِ خیال کرنے کی بجاے وہاں کے ذمے داروں ہی کو موقع دیا کرتے کہ وہ جو مناسب سمجھیں خود بتائیں۔ یہ وصف کم لوگوں میں پایا جاتا ہے ، ورنہ ساتھ رہنے والے عموماً عرب مہمانوں کے ذہن میں اپنی باتیں بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مجلس جب اختتام کو پہنچ رہی تھی، غیر متوقع طور پر دبئی کے مہمان نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیئے اور پھر بہ آواز بلند ’الفاتحہ‘ کہا۔ کچھ عرب حضرات تلاوت کے اختتام پر بھی یہ کلمہ کہہ دیتے ہیں ، اگر ہے کہ اس کا مفہوم و مدلول ان کے ہاں ہندو پاک میں رائج مفہوم سے مختلف ہوتا ہے، شاید اسی کے پیش نظر مہمان موصوف نے یہاں یہ کہا ہو۔ جوں ہی ان کی زبان سے یہ کلمہ نکلا دونوں بھائی اس انداز سے مجلس سے اٹھ کھڑے ہوے کہ مہمان بھی چونک گئے اور میزبان بھی منہ دیکھتے رہ گئے کہ یہ کیا ہوا کہ مجلس ہی ختم ہوگئی۔ پھر کا کا صاحب نے فرمایا کہ

’’اگر ایک بار کسی بدعت یا غلط چیز کو نظر انداز کیا جائے تو بار بار سمجھوتا کرنا ہوگا۔ یہ حرکت چاہے کسی کی طرف سے ہو قابل قبول نہیں۔‘‘

اس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ جامعہ دوسرے مکاتب فکر سے تعلقات رکھنے کی جو دعوت دیتا ہے اس میں وہ حدود کا بھی خیال رکھتا ہے۔

عالی مقام اور اونچے منصب کے باوجود دینی محفلوں میں تواضع کا نمونہ تھے۔ گڑھ آمبور مسجد کی قدیم عمارت بوسیدہ اور چھوٹی سی تھی۔ آمبور کے ایک مخیر تاجر چرم آنیکار عبد الشکور رحمہ اللہ جو بہت ہی متمول اور کار خیر خصوصاً تعمیر مساجد میں دل چسپی لیا کرتے تھے۔ انہوں نے اس کی تعمیر نو کروائی۔ موجودہ عمارت انہی کی مرہون منت ہے۔ تعمیر جب مکمل ہوئی تو اس مناسبت سے جلسہ عام منعقد ہوا۔ اس کی حیثیت افتتاحی پروگرام جیسی تھی۔ اس کے لیے استاذ گرامی مولانا عبدالسبحان اعظمی رحمہ اللہ کو مدعو کیا گیا۔ مولانا اعظمی علاقہ بھر میں روحانی اعتبار سے بھی مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔ اس وقت استاذ محترم کی طبیعت ناساز تھی۔ ہمارے اصرار پر مولانا نے شرکت کا وعدہ کر لیا۔ وقت مقررہ پر ہم مولانا کے گھر بیل گاڑی کے ساتھ پہنچے (یہ اُس وقت کا عمر آباد تھا) مولانا بیل گاڑی میں سوار اور ہم پیدل مسجد آئے ۔ اس مناسبت سے عوام کے علاوہ طلبہ اور اساتذہ کثیر تعداد میں جمع ہو گئے ۔ اگلی صفیں جلد ہی پُر ہو گئیں۔ مولانا کا کا سعید صاحب اپنے عزیزوں کے ہمراہ تشریف لے آئے ۔ آگے بڑھنے کے بجائے صحن میں بیٹھ گئے۔ اس وقت ان کی شخصیت کا رعب کچھ ایسا تھا کہ ہم ان کے لیے آگے جگہ بناتے تو وہ نا پسند کرتے کہ میرے لیے پروگرام میں خلل نہ ہونے پائے۔ جسے جہاں جگہ ملے وہ وہیں بیٹھا رہے گا۔ پروگرام کے اختتام تک وہیں بیٹھے رہے۔ بڑا عہدہ ، خاندانی وجاہت اور شخصی رعب کے ساتھ تواضع اور انکسار کا حسین امتزاج کم لوگوں میں دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ورنہ مشاہدہ تو یہ ہے کہ جمعہ کے دن تاخیر سے آکر اگلی صفوں تک پہنچنے کے لیے کتنی گردنیں لوگ پھلانگتے ہیں۔

کسی جگہ مہمان ہوتے تو اس اصول پرسختی سے عمل کرتے اور رفقا سے کرواتے کہ میزبان کھانے اور آرام کرنے کے لیے جو وقت مقرر کرے اس کے مطابق مہمان کو عمل کرنا چاہیے، ورنہ آپ میزبان کی پریشانی میں اضافہ کا سبب بنیں گے، ممکن ہے وہ آپ کے احترام میں بول نہ سکے ، آپ کو خود اس کا احساس کرتے ہوئے میزبان کے مرتب کردہ پروگرام پر عمل کرنا چاہیے۔

مولانا کی ایک خدمت سرکاری ایڈڈ اسکول میں دینی تعلیم کا اہتمام تھا۔ عمر آباد میں قائم ’محمد یہ اسکول ‘(جواب محمد یہ ہائی اسکول ہے ) اس میں صباحی دینی تعلیم کا باقاعدہ آغاز کر کے جامعہ میں زیر تعلیم دو طلبہ کو پڑھانے کی ذمہ داری تفویض کی گئی۔ راقم اور مولانا حافظ عبدالواجد عمری مدنی رحمہ اللہ۔ ہم صبح وہاں جا کر قرآن مجید ناظرہ ، دعا ئیں اور دینیات پڑھایا کرتے تھے، لیکن مجھے جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ اس ذمے داری کی انجام دہی میں ذاتی مطالعہ کا نقصان ہو رہا ہے، کیوں کہ یہی وقت لائبریری سے استفادہ کا ہوتا ہے، جب کہ وہاں تدریس سے فارغ ہوتے ہوتے جامعہ میں کلاس کا آغاز ہونے والا ہوتا تھا۔ میں نے اس ذمے داری سے دامن بچانا چاہا تو کا کا صاحب نے مشفقانہ اسلوب میں ڈانٹتے ہوئے کہا کہ

’’ آپ کے اساتذہ نے اس کام کے لیے آپ کا نام کچھ سوچ کر ہی تجویز کیا ہوگا۔ آپ اس ذمہ داری سے کیوں پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں۔‘‘

پھر فرمایا کہ میں نے کچھ بچوں سے دعا ئیں سنی ہیں، ماشاء اللہ کافی دعائیں یاد ہو گئی ہیں۔ ‘‘محترم سکریٹری صاحب کے اس جملے پر مجھے بڑا تعجب ہوا کہ کیا سکریٹری صاحب وہاں زیر تعلیم بچوں کی تعلیمی کارگردگی سے باخبر ہیں اور ان سے دعائیں بھی سن رہے ہیں۔ ہمارے حساب سے وہ تو ایک بڑے آدمی اور اونچی شخصیت کے مالک ہیں ، بھلا پرائمری اسکول میں زیر تعلیم طلبہ کی دینی تعلیم سے انہیں کیا دلچسپی ہوسکتی ہے، لیکن اس واقعے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انہیں بستی کے عام نو نہالوں کی دینی تربیت کا بھی کتنا خیال رہتا تھا۔

ملکی اور بین الاقوامی چھوٹے بڑے مختلف نوعیت کے دینی اجتماعات میں اکٹھے شرکت کے متعدد مواقع ملتے رہے۔ اگر چہ کہ متنوع عنوانات پر ہماری گفتگو ہوتی ، اختلاف رائے بھی خندہ پیشانی سے سنتے لیکن مرکزی موضوع دعوت و تبلیغ ہی کے گرد گھومتا۔ علما اور فارغین جامعات کی عملی تربیت پر زیادہ زور دیا کرتے تھے ، اور یقین کی حد تک قائل تھے کہ

عطار ہو، رومی ہو، رازی ہو، غزالی ہو

کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحر گاہی

دو مرتبہ برطانیہ کا دورہ فرمایا۔ مختلف اہل علم ، ذمے داران مراکز اسلامیہ کے ساتھ ملاقاتوں میں زیادہ راحت محسوس کرتے ، مفید مشوروں سے نوازتے اور دوسروں کے تجربات سے مستفید ہوتے۔ فرصت کے اوقات شہری گہما گہمی سے دور فطری مناظر پھول پھلواری اور باغات سے زیادہ لطف اندوز ہوتے ۔ اس سفر میں مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ کے ناظم اعلیٰ اور صراط مستقیم کے مدیر مسئول مولانا محمود احمد میر پوری رحمہ اللہ کے ساتھ بڑی طویل نشست ہوئی۔ اس میں دونوں برادران گرامی نے ایک واقعہ کا ذکر کیا۔

بات ہو رہی تھی کہ ہماری دعوت پختہ عقیدہ اور ٹھوس اصول پر کھڑی ہے۔ ہمیں سیاسی اور سرکاری وابستگی سے پرے ہو کر اپنی پالیسی بنانی چاہیے، کیوں کہ سیاسی وابستگیاں عارضی ہوتی ہیں ملکی حالات بدلتے دیر نہیں لگتی ، آج کے دوست کل کے دشمن، حتی کہ دینی رجحانات میں اتحاد کے با وجود سیاسی منظر نامہ کے ساتھ ہی سب محبتیں پھیکی پڑنے لگتی ہیں۔ کا کا محمد عمر صاحب نے حالیہ ریاض کے دورے میں پیش آنے والے ایک واقعے کا ذکر کیا کہ لیبیا کے ایک اہم اعلیٰ عہدے دار کے ساتھ کا کا صاحب کے روابط کے خلاف مدیر ادارۃ الدعوہ ریاض کو کچھ اعتراضات ہونے لگے۔ محترم کا کا محمد عمر صاحب نے مدیر کی آفس میں سلفیت کے حوالے سے جس بے باک انداز میں گفتگو کی، قسم الترجمہ کے مدیر شیخ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی رحمہ اللہ تر جمانی کر رہے تھے ، کہا کہ

’’جس شخصیت کے متعلق آپ کو تحفظات ہیں وہ ہم اور آپ سے زیادہ پختہ سلفی ہیں ۔ رہی آپ کی سرکاری پالیسی تو اس کا تعلق عقیدہ اور نظریہ سے نہیں ہے۔ سیاسی طور پر آپ کو حق ہے اپنی پالیسی پر عمل کرنے کا ، آپ اپنے حالات اور مصلحتوں سے زیادہ واقف ہیں لیکن ذمہ داران کو احباب سے توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ سیاسی رجحانات کی بنیاد پر ہمارے روابط ہوں، کیوں کہ یہ بات بارہا آزمائی جا چکی ہے کہ سیاسی وابستگیوں کے تبدیل ہونے میں دیر نہیں لگتی ، مزید اس میں غلط اور صحیح کا احتمال بھی رہتا ہے۔ جو بات اصول اور نظریے پر ہوگی اس میں دوام ہوگا، للہیت ہوگی۔‘‘ یہ بات ایسے بے لاگ انداز میں کہی کہ نیک دل مدیر نے کا کا صاحب کے موقف کی تائید کی۔

محترم مولانا کا کا سعید صاحب کو اللہ نے طویل زندگی، ہجری اعتبار سے تقریبا 90 برس کی عمر عطا فرمائی۔ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کی روشنی میں درازی عمر حسن عمل کے ساتھ ذریعہ خیر و برکت اور باعث اجر وثواب ہے: «خیر الناس من طال عمره و حسن عمله» (جامع ترمذی: 2329)

1956ء میں جامعہ سے سند فراغت پائی۔ 1959ء میں جامعہ کی خدمت کے لیے بڑے بھائی کے ساتھ شریک معتمد بنا دیے گئے۔ پھر بر اور کبیر کی وفات کے بعد معتمد عمومی بنائے گئے ۔ یوں جامعہ کی آبیاری اور ترقی کے لیے زندگی کے 65 برس لگا دیے۔

اس کے علاوہ گردو نواح میں مختلف مساجد کی تعمیر ، رفاہی سرگرمیوں کی نگرانی ، مفید کتابوں کی نشر واشاعت ، علاقائی بچوں کی تعلیم و تربیت کے انتظامات، ملکی اور اجتماعی ملی مسائل میں دلچسپی اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ اپنے پیچھے ایسے یادگار نقوش چھوڑے کہ گویا اس حدیث رسول کی ترجمانی ہو رہی ہے: «إذا مات الإنسان انقطع عنه عمله إلا من ثلاثة إلا من صدقة جارية أو علم ينتفع به أو ولد صالح يدعو له» (صحیح مسلم: 1631) قابل رشک زندگی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ امسال جامعہ سے سند فراغت حاصل کرنے والوں کی تعداد 75 تھی ، اور 36 نونہالوں نے قرآن مجید حفظ کر کے سند پائی۔ یقیناً ان سعادت مند فضلا اور حفاظ کے والدین ، اساتذہ کے ساتھ منتظمین کو بارگاہ الٰہی سے وافر اجر ملے گا۔ گزشتہ طویل عرصے میں اس درس گاہ سے سند فراغت پا کر چہار دانگِ عالم میں مصروفِ عمل علماء کی مساعی جمیلہ کا بڑا حصہ بھی ان کے نصیب میں آئے گا، ان شاء اللہ ۔ جامعہ کے درودیوار، وہاں روشن علم نافع کی شمع جب تک دنیا کو ضیا بخشتی رہے گی، سب کے نامۂ اعمال میں اضافہ کا موجب ہوگی۔

مذکورہ حدیث کے آخری حصے کی عملی شکل بطور خاتمہ بالخیر کے اس وقت سامنے آئی، جب مرحوم کی نماز جنازہ کے لیے فرزند سعید، جو جامعہ سے فراغت کے بعد پہلے اپنے تایا مرحوم کے ساتھ اور پھر اپنے والد محترم کے ساتھ تھے، اور آخری دنوں میں تو تقریباً ساری ہی ذمے داریوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے شب و روز جامعہ کی ترقی میں مصروف عمل رہے، مولانا کا کا انیس احمد عمری اپنے والد بزرگ وار کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو حدیث کے آخری حصے کی تعبیر: «أو ولد صالح يدعوا له» کہ صادق مصدوق ﷺ کی بشارت کے مطابق ولد صالح کی دعائیں رائیگاں نہیں جائیں گی ۔ ان شاء اللہ۔مولانا کا کا سعید احمد صاحب کا ابنائے جامعہ (Alumni) کے ساتھ تعلق کی نوعیت کچھ ایسی تھی کہ اس میں مشفقانہ مٹھاس کے ساتھ مدبرانہ ترشی بھی رہا کرتی تھی:

چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر

کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِتریاقی

ذیل کے کچھ فقروں اور جملوں سے ہمارے ساتھ بے تکلفی اور محبت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، اگر چہ کہ ان میں ہر ایک مستقل عنوان اور تفصیل کا متقاضی ہے۔ آپ فلاں تاریخ تک عمر آباد پہنچ جائیے اور آپ کا خطاب فلاں عنوان پر ہوگا، اس عنوان پر مضمون تیار کر کے راہ اعتدال کے لیے فوری بھیجے، سیاسی خارزاروں سے خود کو دور رکھیے کہ دعاۃ اور مبلغین کے لیے اس کے فوائد محدود اور نقصانات لامحدود ہوتے ہیں۔ مختلف دینی تنظیموں اور مراکز کے ساتھ آپ کے روابط کس نوعیت کے ہیں، اپنی زیر نگرانی مساجد کے علاوہ دیگر مساجد میں کتنے دروس دیتے ہیں، فلاں عنوان پر لکھنے کی افادیت کیا ہے، وغیرہ وغیرہ۔

اللہ عز وجل ان کی بشری لغزشوں سے درگزر کا معاملہ فرمائے ، نیکیوں کو قبول کرتے ہوئے اعلیٰ اعلیین میں جگہ عطا کرے، حسنات کو باقیات صالحات کا درجہ دے اور جامعہ کو علم و عرفان اور رشد و ہدایت کا مینار بنائے ۔ آمین یا رب العالمین

٭٭٭

بدشگونی نہ لینے کا عظیم فائدہ

ایک طویل حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے کہا : ” مجھ سے کہا گیا :دیکھو! میں نے ایک بہت بڑی جماعت دیکھی جس نے آسمانوں کا کنارہ ڈھانپ لیا تھا۔ پھر مجھ سے کہا گیا : ادھر دیکھو، ادھر دیکھو، میں نے دیکھا کہ بہت سی جماعتیں ہیں جو تمام افق کو گھیرے ہوئے تھیں۔ کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور اس میں سے 70 ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بغیر حساب کے جنت میں داخل کئے جائیں گے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے۔ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپس میں اس کے متعلق کچھ باتیں کیں۔ جب نبی کریم ﷺ کو یہ باتیں پہنچیں ؟ تو آپ نے فرمایا:”یہ وہ لوگ ہوں گے جو نہ بدشگونی لیتے ہیں،نہ دم کرواتے ہیں اور نہ ہی داغ کر علاج کرتے ہیں بلکہ اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔‘‘(صحیح بخاری : 5752)

تبصرہ کریں