
ارشاد ربانی ہے:
﴿ قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌرحيم﴾ (سورۃ آل عمران: 31)
﴿يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ﴾ (سورۃ النساء: 172)
نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
«اَللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنا لَعَنَ اللهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ»
«لَا تُظُرُونِى كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا : عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ»
تمہيد
محبت کے کئی اعتبار اور درجے ہیں، مثلاً: طبعی محبت، انسیت کی محبت، شفقت و مہربانی کی محبت، جیسے ماں کی بچے کے لیے محبت ہوتی ہے۔ ایسے ہی انسان بعض چیزوں کو محبوب جانتا اور کچھ کو نا پسند کرتا ہے اور بسا اوقات محبت شراکت داری اور کسی خوبی کی وجہ سے ہوتی ہے، محبت کے یہ سب درجے مخلوق میں پائے جائے جاتے ہیں۔
خاص محبت کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں، اہل علم نے ان تقاضوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے:
1۔ کامل محبت
2۔محبوب کی پسند کو محبوب جاننا
3۔محبوب کی ناپسند کو چھوڑ دینا
یہ محبت کا درجہ اور تقاضا صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ سے محبت کا تقاضا ہے کہ اس کے رسول پر ایمان لایا جائے، اُن سے محبت کی جائے ، ان کی اطاعت واتباع کی جائے اور ان کی ہر پسندیدہ چیز کو محبوب جان کر اپنایا جائے اور اس کی دعوت دی جائے۔
سوال یہ ہے کہ محبت رسول کیسے نصیب ہوگی؟
اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید، حدیث رسول، صحابہ کرام کی محبت رسول کے واقعات اور سیرت رسول پر کتابوں وغیرہ، سے پتہ چلتا ہے کہ رسول کریمﷺ سے محبت کا دائرہ کار اور مفہوم و مقصود کیا ہے؟ تاکہ انسان غلو اور افراط و تفریط سے بچ جائے ۔
محبت رسول کا اظہار دل، زبان، اعضا اور اپنے اعمال سے کیا جاتا ہے۔ محبت رسول صحیح تصور آپ کے اسوہ کو اپنانے ، سنتوں پر عمل پیرا ہونے اور آپ کے لائے دین کو مان لینے کا نام ہے۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
دنیا میں احترام کے قابل ہیں جتنے لوگ
میں سب کو مانتا ہوں ، مگر مصطفیٰ کے بعد
محبت کے نام پر بدعات اور غلو کی صورتیں
بعثت رسول اور انسانی تاریخ کا عظیم ترین دن
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انسانی تاریخ میں وہ دن سب سے عظیم ترین ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے جناب محمد ﷺ کو نبی ورسول بنا کر مبعوث فرمایا۔ لیکن خود رسول اکرمﷺ اور صحابہ کرام نے یہ دن کبھی نہیں منایا، اس لیے کہ آپ کے اس دنیا میں تشریف لانے کے مقاصد تلاوت آیات، تعلیم کتاب و حکمت اور تزکیہ نفس ہے، آپ کی ذات والا صفات رسمی کاروائیوں، جشن منانے اور بدعات وخرافات سے کہی بالا اور عظیم تر ہے۔
ذرا غور کیجئے! جو ہستیاں رسول اکرم ﷺکے اشارے پر اپنی زندگیاں اور مال و جان سب نچھاور کر دینے پر تیار ہوں، انہوں نے کبھی یہ دن خاص کر کے نہیں منایا۔ بلکہ ہمیشہ اتباع وطاعت کی کوشش کی، آپ کے اسوہ کو اپنانے کی کوشش کی، یہی حقیقی محبت رسول کا تقاضا ہے اور باقی میلاد کے نام پر خرافات ، غلو اور بدعات کا ذریعہ ہیں، جس کی اصل کتاب وسنت اور اجماع سے ثابت نہیں، بلکہ پہلی چھ صدیاں اس عمل سے خالی نظر آتی ہیں۔
جیسے اللہ تعالی نے اہل کتاب کو دین میں غلو کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا:
﴿يَأهْلَ الْكِتب لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُم ﴾
”اے اہل کتاب! اپنے دین میں حد سے نہ گزرو اور اللہ پر مت کہو مگر حق۔‘‘(سورۃ النساء:141)
دین میں بدعات، غلو کا پیش خیمہ ہیں:
اگر ہم اس دن کو محبت رسول کے نام پر منانا شروع کر دیں، تو یہ دین میں نئے کام کا اضافہ ہو گا جو کہ بدعت ہے۔ عید میلاد ایک مذہبی تقریب کے طور پر منائی جاتی ہے، اس لیے یہ دین میں اضافہ ہے جو بدعت ہے۔ بدعت کی تردید اور مذمت کے سلسلے میں بے شمار احادیث ہیں۔ جیسے سیدہ عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ ، فَهُوَ رَدُّ»
’’جس شخص نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی رسم پیدا کی جو اس میں نہیں تھی تو وہ مردود ہوگی ۔“ (صحيح بخاری:2697)
محبت رسول کے خالی نعرے اور غلو کی صورت
محبت رسول کا دعویٰ اس وقت تک سچ ثابت نہیں ہو سکتا جب تک اس کی بنیاد ایمان، اطاعت اور اتباع پر نہ ہو۔ محبت رسول میں جذبات بھی ضروری ہیں مگر یہ جذبات کتاب وسنت کی تعلیم سے تجاوز نہ کریں۔ ورنہ محبت رسول میں غلو پیدا ہو جائے گا۔
اطاعت کے بغیر محبت رسول ہونے کا نعرہ منافقت ہے، جیسے زبانی دعوے منافقین اور بدو لوگ بھی کرتے تھے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
﴿قَالَتِ الْأَعْرَابُ امَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوْا وَلَكِنْ قُوْلُوْا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ فِي قلوبكم﴾ (سورۃ الحجرات: 14)
’’بدؤوں نے کہا ہم ایمان لے آئے ، کہہ دے تم ایمان نہیں لائے اور لیکن یہ کہو کہ ہم مطیع ہو گئے اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔“
محبت کے نام پر دین میں غلو کرنا قابل مذمت ہے
محبت رسول میں حد سے تجاوز کرنا غلو میں شامل ہے اور ایسی محبت کرنے والا اللہ کے ہاں اجر و ثواب کے بجائے سزا اور ناراضی کا مستحق قرار پاتا ہے۔ سید نا عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:
«(إياكم والغلو في الدين فإنما أهلك من كان قبلكم الغلو في الدين» ’’غلو سے بچو، کیوں کہ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔‘‘ ( سنن نسائی: 3057)
شان رسالت میں غلو کرنا، فرمان نبویﷺ کے خلاف ہے
رسول اکرم ﷺنے اپنی محبت و شان میں غلو کرنے سے امت کو سختی سے منع کیا ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے کہا: جیسے عیسائیوں نے سیدنا عیسی بن مریم کی شان میں غلو کیا ہے، انہیں اللہ کا بیٹا بنایا اور بالآخر ہلاک ہو گئے ۔
یاد رکھو! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، اس سے زیادہ میری شان میں کمی وبیشی مت کرنا۔ اس سے بڑی شان کیا ہو سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی بیان فرمائی ہے، آپ افضل البشر، سید الاولین والآخرین اور امام الانبیاء ہیں، لہٰذا ساری امت پر اس شان و منزلت کو تسلیم کرنا لازم ہے۔
سیدنا عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
«لَا تُطْرُونِي كما أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ؛ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا: عبدُ اللَّهِ ورسوله»
” مجھے ایسا نہ بڑھاؤ جس طرح نصاری نے عیسی علی ابن مریم کو بڑھایا۔ بس میں تو اللہ کا بندہ ہوں، اس لیے تم یوں کہا کرو: آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“(صحيح بخاری: 3445)
صحابہ کی محبت رسول، اطاعت اور جذبات کا مرقع
صحابہ کی محبت رسول کا انداز
صحابہ کرام کی اتباع سنت کا یہ عالم تھا کہ محبت رسول سے سرشار ہو کر بھی کبھی کوئی ایسی بات ان سے صادر نہیں ہوتی تھی جو رسول اکرم ﷺ کی پسند ہی کے خلاف ہو۔ جیسے سیدنا انس کا بیان ہے:
لَمْ يَكُنْ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ قَالَ وَكَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَمْ يَقُومُوا لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ
’’صحابہ کو رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کوئی شخص بھی محبوب نہ تھا، لیکن جب وہ آپ کو دیکھتے تو آپ کی تعظیم کے لیے کھڑے نہ ہوتے کیوں کہ انہیں معلوم تھا کہ آپ اس بات کو نا پسند کرتے ہیں۔“ (جامع ترمذی: 2754)
ایک دیہاتی صحابی کی محبت رسول اور صحابہ کرام کا خوش ہونا
ذوالخویصرہ یمانی ایک دیہاتی شخص اپنے سادہ انداز میں نبی اکرم ﷺسے اظہار محبت کرتا ہے، جس کا جواب سننے کے بعد رسول اکرمﷺ نے اُسے جنت اور عظیم الشان صحبت کی بشارت سنائی ہے۔
سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ قیامت کب آئے گی۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’ تم نے قیامت کے لیے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے عرض کیا:
إلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللهَ ورسوله
’’مگر میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔‘‘
آپ ﷺنے فرمایا:
«أَنْتَ مع مَن أَحْبَبْتَ »
’’تم اس کے ساتھ ہو جس کے ساتھ تم نے محبت کی۔“
یہ سن کر سیدنا انس نے اپنی محبت کا اظہار یوں کیا:
فأَنَا أُحِبُّ النبي الله وأبا بكر ، وعُمَرَ ، وأَرْجُو أَنْ أَكُونَ معهُمْ بِحُبِّي إِيَّاهُمْ ، وإِنْ لَمْ أعْمَلْ بِمِثْل أَعْمَالِهِمْ
’’میں اللہ تعالیٰ ، رسول اللہ ﷺ، ابو بکر اور عمر فاروق بھی سے محبت کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ میں آخرت میں انہی کے ساتھ ہوں گا اگر چہ میں نے ان کے برابر اعمال نہیں کیے۔“ (صحیح بخارى:3688)
محبت رسول کے نام پر غلو اور سماجی رویے
غلو کی انتہا: وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہوکر
رسول اللہ ﷺنے ہماری رہنمائی فرمائی ہے کہ آپ کی مدح سرائی میں مبالغے سے کام نہ لیا جائے جیسا کہ عیسائیوں نے سیدنا عیسی کو منصب الوہیت تک پہنچایا اور انہیں اللہ کا بیٹا قرار دیا۔
لیکن افسوس کہ آج نام نہاد مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺکے متعلق مدح سرائی میں اس قدر مبالغہ اور غلو کیا ہے کہ انہیں منصب الوہیت پر پہنچا دیا ہے، چنانچہ مسلمانوں کے ایک طبقے نے رسول الله ﷺ کو نوراً من نور الله قرار دیا اور کچھ لوگوں نے آپ کی مدح سرائی میں انتہائی مبالغہ آمیز اور غلو پر مبنی اشعار کہے، مثلاً :
وہی جو مستویِ عرش تھا خدا ہوکر
اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفی ہو کر
محبت کے نام سے توحید پر آنچ آئے ، ایسا غلو برداشت نہیں:
صحابہ کرام سے بڑھ کر کوئی بھی نبی اکرم ﷺسے محبت نہیں کر سکتا۔ ان کی محبت محض زبانی دعووں تک محدود نہیں تھی بلکہ ان کے اقوال و افعال ان کی نبی سے محبت کا پتہ دیتے تھے۔ وہ نبی کریم ﷺکی ہر ایک ادا کو اپنانے والے تھے۔ وہ آپ کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کرنے والے تھے۔
سید نا عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے کہا:
«مَا شَاءَ الله،وَشِئتَ »
’’جو اللہ چاہیں اور جو آپ چاہیں۔“
اس بات سے رسول اکرم ﷺ نے فوراً روکا اور فرمایا:
«أَجَعَلْتَنِي وَاللهَ عَدْلًا بَلْ مَا شَاءَ اللهُ وَحْدَهُ »
’’اللہ کی قسم ! کیا تم نے مجھے اللہ کا شریک بنا دیا ہے، بلکہ تم یوں کہو : جو اللہ اکیلے اللہ نے چاہا ہے۔“ (مسند احمد: 1839)
نبی کے علم الغیب کا عقیدہ اور غلو سے منع کر دیا
محبت رسول میں آپ کو عالم الغیب کہنا غلو ہے، اس لیے علم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اس حدیث میں رسول اکرم ﷺنے فوراً منع کر دیا، کیوں کہ یہ آپ کی شان میں غلو ہے۔
سیدہ ربیع بنت معوذ سے روایت ہے : ”میری شب زفاف کی صبح کو میرے پاس نبی تشریف لائے اور میرے بستر پر اس طرح بیٹھ گئے جس طرح تم بیٹھے ہو۔ کچھ بچیاں اس وقت دف بجا رہی تھیں اور میرے ان آباء و اجداد کے اوصاف گا رہی تھیں جو غزوہ بدر میں شہید ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک بچی گاتے گاتے کہنے لگی:
وَفِينَا نَبِيٍّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدِ
’’ہم میں ہے ایک نبی جو کل کی بات بھی جانتا ہے۔ ‘‘
اسی وقت نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«(لا تَقُولِى هَكَذَا وَقُولِى مَا كُنْتِ تَقُولِينَ»
’’اس طرح نہ کہو بلکہ اس طرح کہو جس طرح پہلے کہہ رہی تھی ۔“ (صحیح بخاری: 4001)
نور من نور اللہ کا عقیدہ اور محبت رسول کے نام پر غلو
محبت رسول میں یہ کہنا کہ آپ ﷺ ہی اس کا ئنات کی وجہ تخلیق ہیں، ایک بے بنیاد بات ہے۔ اس کی اصل ایک موضوع حدیث پر ہے، حدیث کے الفاظ یوں ہیں:
(لَوْلاكَ لَمَا خَلَقْتُ الأَفْلاكَ )
رسول اکرم ﷺکو نور من نور اللہ کہنا، یہ عقیدہ بھی غلو پر میں ہے۔ ایسے غلو سے بچنے کا حکم ہے۔ ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ محبت رسول کے نام پر بدعات کا ارتکاب کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو مکمل کر دیا ہے۔ بدعات اصل میں غلو کی شکل ہے، صحابہ کرام ان خرافات سے بری الذمہ تھے، وہ سنتوں پر عمل کرتے اور اس کی دعوت دیتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ کی بشریت کا انکار اور شان میں غلو
کچھ لوگ رسول اکرم ﷺ کی بشریت کا انکار کرتے ہیں، آپ کے بارے نور من نور اللہ ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ یہ غلو کی انتہا ہے، یہ رسول اکرم ﷺ کے مقام سے بڑھا کر انھیں الوہیت کے مقام تک پہنچانا ہے، یہ آپ کی محبت میں حد سے بڑھ جانا اور غلو کرنا ہے، جو کہ حرام ہے۔
حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار آپ کی بشریت کا اعلان کیا ہے:
﴿قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى ﴾ (سورۃ الكہف: 110)
’’ کہہ دے میں تو تم جیسا ایک بشر ہی ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے۔“
مسلمانوں کی اکثریت اور محبت رسول میں غلو کی صورت
مسلمانوں کی اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو نبی کریم ﷺ پر ایمان کا دعوی کرتے ہیں،لیکن ایمان کے ساتھ اطاعت نہیں ہے، بس خالی محبت کا دم بھرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ اتباع سنت نہیں۔ بلکہ چند بدعات وخرافات کا نام محبت رسول سمجھ لیا ہے۔ مثلا : میلاد کی مجلسیں کروانا، خاص دن میں کھانے تقسیم کر دینا ، سال کے بعد ایک جلوس نکال دینا اور نعرے لگانے کا نام محبت رسول بنا لیا ہے۔
عربی زبان کا مشہور شعر ہے:
لَوْ كَانَ حُبُّكَ صَادِقًا لأَطَعْتُهُ
لَانَ الْمُحِبُّ لِمَنْ يُحِبُّ مُطِيعٌ
’’اگر تیری محبت میں صداقت ہوتی تو تو اپنے محبوب کی فرمانبرداری کرتا کیونکہ محب محبوب کا مطیع ہوتا ہے۔“
یحی بن سعید کہتے ہیں کہ ہم علی بن حسین (زین العابدین) کے پاس بیٹھے تھے، کوفی لوگوں کی ایک جماعت آئی۔ علی نے کہا: عراقیو! ہم سے اسلام کے نام پر محبت کرو۔ میں نے اپنے باپ سے سنا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
«يا ايها الناس لا ترفعونی فوق قدرى، فإن الله اتخذني عبدا قبل ان يتخذني نبيا»
’’ لوگو! مجھے میرے مقام سے بلند نہ کرو، (یاد رکھو ) اللہ تعالیٰ نے مجھے نبی بنانے سے پہلے بندہ بنایا ہے۔‘‘ (سلسلہ صحيحہ: 2153)
ذرا سوچیں ! معاشرے میں کتنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے ایک مدت سے نماز نہیں پڑھی، مال ہوتے ہوئے بھی زکوۃ ادا کرنے کی توفیق نہیں لیکن بدعات کے نام پر ہزاروں روپے خرچ کر دیتے ہیں۔ کیا ہمیں کبھی اس بات کی تو فیق ہوئی کہ کتاب اللہ اور سنت رسول کا مطالعہ کریں اور ان کی روشنی میں اپنی زندگی کا جائزہ لیں اور اپنے اعمال وکردار کی اصلاح کریں۔
رافضیوں کا غلو اور ائمہ معصوم ہونے کا عقیدہ
اس غلو کا ستیاناس ہو کہ اس نے ہر عقیدہ اور عمل دونوں کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ رافضی حضرات نے سیدنا علی اور اہل بیت کے ائمہ کے بارے غلو کیا، انہیں معصوم قرار دیا، سید نا علی کو الوہیت کے مقام پر فائز کر دیا، انھیں مشکل کشا جانا اور یا علی مدد کا نعرہ لگایا۔
حالانکہ سید نا علی صحابی رسول، داماد رسول، عم زاد رسول، اہل بیت کا سہرا، مسلمانوں کے برحق خلیفہ اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، یا اس کے علاوہ جو جو بھی فضائل و مناقب آپ کے کتاب وسنت سے ثابت ہیں، انہیں ماننا اور تسلیم کرنا ایمان کا حصہ ہے، غلو کرنا بالکل حرام تھا اور ہے۔
پہلی امتوں کی بربادی غلو کے باعث ہوئی
1۔ قوم نوح کے نیک لوگ، قبر پرستی اور غلو کی بنیاد
قوم نوح نے اپنی قوم کے نیک لوگوں کی محبت میں غلو کیا، انھیں حاجت روا جانا، قبر پر مجاور بن گئے ، قبر پرستی کا آغاز ہوا، پھر آہستہ آہستہ لوگ فوت شدہ بزرگان کے واسطے سے دعا کرنے لگے اور یوں ان کی نسل شرک کرنے لگی۔ یہی غلو شرک کا سبب بنا، جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى﴾ (سورۃ الزمر:13
’’اور وہ لوگ جنہوں نے اس کے سوا اور حمایتی بنارکھے ہیں (وہ کہتے ہیں ) ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں، اچھی طرح قریب کرنا۔“
یہود و نصاری کا اپنے انبیاء کرام کے حق میں غلو اور انجام
یہود نے سیدنا عزیرہ ﷾ اور نصاری نے سیدنا عیسی ﷾ کو ابن اللہ قرار دیا، عقیدہ میں غلو کیا اور شرک کرنے لگے، جس کا انجام ہلاکت اور بربادی کی صورت میں نکلا۔ جب عیسائیوں نے اللہ کے دین کو بازیچہ اطفال بنایا تو بدعات میں پڑ گئے ، اپنے علماء ومشائخ کو حلال و حرام کا اختیار دے دیا اور رہبانیت اختیار کر لی، جس کے بعد گمراہ ہو گئے۔
﴿وَرَهْبَانِيَّةٌ ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ﴾ (سورۃ الحديد:27)
’’اور دنیا سے کنارہ کشی تو انہوں نے خود ہی ایجاد کر لی، ہم نے اسے ان پر نہیں لکھا تھا۔“
جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو دین میں غلو کر نے منع کرتے ہوئے فرمایا:
﴿يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ ﴾ (سورۃ النساء: 172)
”اے اہل کتاب! اپنے دین میں حد سے نہ گزرو اور اللہ پر مت کہو مگر حق ۔“
سید نا عبد اللہ بن مسعود کا قول ہے:
اِتَّبِعُوا وَلَا تَبْتَدِعَوَا فَقَدْ كُفِيتُمْ وَكُلٌّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ
’’تم اتباع کرو اور بدعات اختیار مت کرو، یقینا تمہارے لیے کافی ہے، ہر بدعت گمراہی ہے ۔“ (السنۃ للمروزی:1؍28، رقم: 78)
عیسائیوں کی طرح تم میری شان میں غلو نہ کرنا
جیسے عیسائیوں نے سید نا عیسی ) اور ان کی والدہ کے بارے میں غلو سے کام لیا، انہیں رسالت و بندگی کے مقام سے اٹھا کر اُلوہیت کے مقام پر فائز کر دیا اور ان کی اللہ کی طرح عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح نصری نے اپنے مذہبی پیشواؤں کو حرام و حلال کا اختیار دے کر غلو سے کام لیا۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ ﴾ (سورة التوبہ: 131)
’’انہوں نے اپنے علما اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنالیا۔“
نبی اکرم ﷺ نے بھی عیسائیوں کے اس غلو کی وجہ سے اپنے متعلق اپنی امت کو خبر دار فرمایا:
« لا تَطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ؛ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا: عَبْدُ اللهِ وَرَسُولَهُ »
’’ تم مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھانا جس طرح عیسائیوں نے عیسی بن مریم ( ) کو بڑھایا، میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، پس تم مجھے اس کا بندہ اور رسول ہی کہنا۔‘‘ (صحيح بخاری: 3445)
صد افسوس! امت محمدیہ اس کے باوجود بھی اس غلو سے محفوظ نہ رہ سکی، جس میں عیسائی مبتلا ہوئے اور امت محمدیہ نے بھی اپنے پیغمبر کو بلکہ نیک بندوں تک کو خدائی صفات سے متصف ٹھہرا دیا، یہی دراصل عیسائیوں کا وطیرہ تھا۔ اسی طرح علماء وفقہاء کو بھی دین کا شارح اور مفسر ماننے کے بجائے انہیں شریعت سازی کا اختیار دے دیا۔
اے اللہ ! میری قبر کو سجدہ گاہ نہ بنانا
یہود و نصاری نے اپنے انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا
امت محمدیہ میں کچھ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ وہ رسول اکرم ﷺ یا دیگر اولیاء کرام کی قبروں پر جا کر دعا کا وسیلہ پکڑتے ، ان سے مدد مانگتے ، انہیں مشکل کشائی کے لیے پکارتے اور صاحب قبر سے تبرک پکڑتے ہیں، حالان کہ یہ سب غلو ہے، اس کی بنا پر قبر پرستی کا آغاز ہوا ہے۔ یہود و نصاری نے اپنے انبیاء کرام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا اور شدید غلو میں مبتلا ہو گئے ، حالانکہ انہیں ایسا کرنے سے منع کیا گیا تھا۔
سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم ﷺنے اپنے بیماری کے ایام میں ارشاد فرمایا:
«لَعَنَ اللهُ اليَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ»
’’ اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنالیا۔“(صحيح بخاری: 1390)
رسول اکرم ﷺ کی دعا: اے اللہ ! میری قبر کو سجدہ گاہ نہ بنانا
اسلام سے قبل عرب میں قبر پرستی عام تھی، یہود و نصاری نے بھی اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا، اُن کا نبی جب فوت ہوتا تو وہ قبر کے مجاور بن جاتے اور قبر پر قبہ نما بنا دیتے، جس سے قبر پرستی کا آغاز ہوجاتا۔ اسی لیے حدیث میں رسول اکرمﷺنے دعا فرمائی اور امت کو قبر پرستی سے منع کیا۔
سیدنا ابو ہر سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے دعا فرمائی:
«اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِى وَثَنَّا لَعَنَ اللهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ»
”اے اللہ ! میری قبر کو بت نہ بنانا، اس قوم پر اللہ کی لعنت ہو جنہوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔“ (مسند احمد: 7358)
حدیث کی شرح اور مفہوم
اس حدیث میں رسول اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ اور امت کو ڈرایا ہے کہ تم سے پہلی امتوں میں کیسے قبر پرستی کا آغاز کیا، پھر قبروں کی تعظیم اور شرک شروع ہوا اور بالآخر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور غضب کا شکار ہوئے لیکن تم نے اس فعل شنیع سے بچ کر رہنا ہے، گویا یہ ایک وصیت تھی جو آپ نے اپنی امت کو فرمائی ہے۔
انبیاء کے تذکرے میں افراط و تفریط منع ہے
انبیاء کرام کے تذکرہ میں امام الانبیاء کی شان میں غلو منع ہے
حضرات انبیاء کرام کا تذکرہ کرتے ہوئے کسی ایک کو دوسرے پر ایسے انداز میں فضیلت دینا کہ جس سے گستاخی لازم آئے ، یہ بھی غلو کی صورت ہے۔ یا نبی کریم ﷺ کو موسیٰ یا سید نا عیسیٰ پر فضیلت دینا اور برتر بیان کرنا، حالانکہ سبھی کا اپنا اپنا مقام اور فضائل ہیں، اس لیے حدیث میں منع ہے کہ امام الانبیاء کے ذکر کے ساتھ کسی نبی یا رسول کی شان میں گستاخی کی جائے۔
سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی نے آپس میں گالی گلوچ کی ۔ مسلمان کہنے لگا: اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمد ﷺ کو سارے جہانوں پر برتری دی۔
یہودی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے سیدنا موسیٰ کو تمام اہل جہاں پر برگزیدہ بنایا۔ اس پر مسلمان نے ہاتھ اٹھایا اور یہودی کے منہ پر طمانچہ رسید کر دیا۔ وہ یہودی نبی کریم ﷺ کے پاس گیا اور آپ سے اپنا اور مسلمان کا ماجرا کہہ سنایا۔ نبی کریم ﷺنے اس مسلمان سے دریافت کیا تو اس نے سارا قصہ بیان کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
«لا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَصْعَقُ مَعَهُمْ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا مُوسَى بَاطِشُ جَانِبَ الْعَرْشِ فَلَا أُدْرِى أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي أَوْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ»
’’ تم مجھے موسیٰ پر برتری نہ دو کیونکہ قیامت کے دن جب سب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے اور میں بھی بے ہوش ہو جاؤں گا اور سب سے پہلے مجھے ہوش آئے گا تو میں دیکھوں گا کہ موسیٰ ( ) عرش کا ایک پایہ پکڑے کھڑے ہیں۔ اب میں نہیں جانتا کہ وہ بے ہوش کر مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے یا وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے بے ہوشی سے مستثنیٰ کردیا۔“ (صحيح بخارى: 2411)
اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے
اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کرام ایک دوسرے پر فضیلت بخشی ہے، لہٰذا کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ انبیاء کے درمیان فرق کرے، ایک شان میں تنقیص اور دوسرے کی عظمت بیان کرے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فضیلت قرآن میں عطا فرمائی ہے:
﴿تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُمْ مَنْ كَلَّمَ اللهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ﴾ (سورۃ البقرة: 253)
’’یہ رسول، ہم نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت دی، ان میں سے کچھ وہ ہیں جن سے اللہ نے کلام کیا اور ان کے بعض کو اس نے درجوں میں بلند کیا۔“
سیدنا ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
« لا تُخَيَّروا بينَ الأنبياء»
’’تم انبیاء کے درمیان کسی کو بہتر قرارمت دیا کرو۔“ ( سنن ابوداود: 4668)
جزوی معجزات انبیاء کو ملے لیکن کلی فضیلت امام الانبیاء کو ہے
رسول اکرم ﷺکی فضیلت ایسے انداز سے بیان نہیں کرنی چاہیے جس سے دوسرے انبیاء کی کسر شان کا پہلو نکلتا ہو۔ کسی بھی نبی کے پیروکار دوسرے نبی کی شان میں گستاخی کریں گے تو اس سے فساد اور آپس میں لڑائی جھگڑا پھیلے گا، جو اسلامی تعلیم کے منافی ہے۔ جزوی طور پر انبیاء کو خصوصی معجزات عطا ہوئے لیکن کلی طور پر امام الانبیاء ہی افضل واعلیٰ ہیں۔ لیکن اس کے باوجود رسول کریم ﷺ نے عاجزی اور انکساری کی خاطر فر مایا: مجھے افضل قرار نہ دیا کرو۔
سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :
« لا تُخَيَّرُونِي عَلَى مُوسَى»’’ مجھے موسی سے بہتر نہ کہو۔‘‘ (صحيح بخاری: 3408)
انبیاء کرام کی شان میں غلو یا تنقیص کرنا منع ہے:
تعصب، عناد، حسد اور تنقیص کرتے ہوئے کسی نبی یا رسول کی شان میں گستاخی کرنا منع ہے، ایسا بندہ بدطینت، شہرت کا بھوکا اور گمراہ ہے۔ مسلمانوں کا دل دکھانے کے لیے آج بھی یہود و ہنود جناب مین کی شان اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کرتے ہیں۔
سید نا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
« لا تُفضّلُوْا بَيْنَ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ »
’’ اللہ کے انبیاء کو ایک دوسرے پر فضیلت مت دو۔“ (صحيح بخاری: 3414)
محبت رسول میں غلو کے مضرات
1۔ اتباع کے بجائے محض زبانی دعوے رہ جاتے ہیں، حالانکہ نجات کی بنیاد نیک اعمال ہیں۔
2۔ مسلمانوں کے عقیدے میں خرابی اور عمل میں بگاڑ لازم آتا ہے۔
3۔ سنت پر عمل کے بجائے بدعات وخرافات کو محبت رسول سمجھ لیا جاتا ہے۔
4۔ غلو سے شریعت سازی اور دین الٰہی کو بدلنا لازم آتا ہے، جو کہ حرام ہے۔
اللہ تعالیٰ سے مخلصانہ دعا اور توفیق کا مطالبہ ہے کہ وہ اہل اسلام کو ماہ ربیع الاول ہو یا سال بھر کے باقی مہینے یا دن ہوں، زندگی بھر محبت رسول کا حقیقی شعور اور کامل اطاعت کی توفیق عطا فرمائے۔ آپ کے لائے ہوئے دین کو سمجھ کر اپنانے اور اس کی دعوت دینے اور دنیا میں اسے غالب کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔ آمین
٭٭٭
مرکزی جمعیت اہل حدیث کا ڈاکٹر بہاؤ الدین اظہر کے اعزاز میں عشائیہ
ایک عبقری شخصیت کی تشریف آوری اور مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ کا ان کے اعزاز میں عشائیہ۔ عربی، اردو، انگریزی، فارسی، پنجابی اور دیگر زبانوں کے جاننے والے ڈاکٹر بہاؤ الدین اظہر جنہوں نے ختم نبوت پر 75 کتابیں اور تاریخ اہلحدیث پر 14 کتابیں لکھی ہیں، جو انڈیا اور پاکستان میں طبع ہو کر لوگوں کے ہاتھوں میں چلی گئی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سے وہ کام لیا ہے جو بڑی بڑی اکیڈمیاں، تنظیمیں، جماعتیں، جامعات اور یونیورسٹیوں نے نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس ایک فرد سے وہ کام لیا ہے جو خود ان کتابوں کو کمپوز کر کے اور اپنے ہی پیسوں سے ان کو زیور طباعت سے آراستہ اور پیراستہ کیا اور لوگوں میں مفت تقسیم کیا۔ جملہ کتب جو انہوں نے اب تک طبع کرائی ہیں وہ 126 ہیں، جمعیت اہل حدیث برطانیہ کے ناظم اعلیٰ قاری ذکاء اللہ سلیم، نائب امیر مولانا محمد حفیظ اللہ خان المدنی، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب اور محمد عبد الرؤف عمری ریاضی، مولانا محمد ابراہیم میرپوری، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، اس عشائیہ میں شریک تھے۔ ڈاکٹر بہاؤ الدین اظہر کا شکریہ ادا کیے اور بے شمار دعائیں دیں اور ڈاکٹر صاحب سے بے شمار دعائیں لیں، اب تک ان کتابوں کی طباعت اور تقسیم پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے، اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل وکرم ہے کہ اس نے اتنا بڑا پروجیکٹ ایک مرد قلندر سے مکمل کروایا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان سے وہ بڑا کام لیا ہے۔ اللہ کریم انہیں باصحت و عافیت لمبی زندگی عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
اسی طرح عجوبۂ روزگار ڈاکٹر بہاؤ الدین اظہر کی ڈڈلی تشریف آوری ہوئی، اس موقع پر وہاں جمعیہ کے ذمہ داروں نے ان کا استقبال کیا اور ان کے اعزاز میں ٹرسٹی مسجد حاجی عبد الرحمٰن قریشی، ظہرانے کا اہتمام کیا۔ جس میں مہمانوں کے ساتھ حاجی ذوالفقار قریشی، جناب عبد الرحمٰن قریشی، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، جناب عابد محمود جنجوعہ، جناب آصف محمود جنجوعہ زرگر اور ڈاکٹر عبد الرب ثاقب وغیرہم شریک تھے۔ مہمان خصوصی کی درازئ عمر کے لیے دعا کی گئی ۔ اس موقع پر ڈاکٹر بہاؤ الدین صاحب نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
تبصرہ کریں