
مدرسہ محمدیہ دار القرآت :
مسجد شعبان خان کی آبادی 1954ء میں عمل میں آئی۔ اس مسجد کو آباد رکھنے کے لئے یہاں ایک دینی صباحی مدرسہ ’مدرسہ محمدیہ دار القرآت‘ کے نام سے قائم کیا گیا، جس میں جناب محمد افضل محمدی محلہ کے بچوں کو مفت میں دینی تعلیم دیتے رہے ، قرآن ناظرہ ، دعائیں ، سورتیں اور دینی مسائل بچوں کو حفظ کرائے جاتے۔
کچھ عرصہ بعد محمد سرور صاحب کے پڑوس میں ایک حافظ قرآن مجید جناب حافظ قاری عبد الرحیم صاحب نے مکان خریدا اور مسجد شعبان خان کے مصلی بن گئے۔ موصوف کا شمار حیدر آباد کے معروف حفاظ اور قرا ء میں تھا ۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جناب محمد افضل صاحب نے ’ دار القراءت ‘ قائم کیا اور محلہ کے چند نوجوانوں کو جمع کیا اور حافظ صاحب سے استفادہ کرنے لگے۔ اس طرح بالغان کی ایک جماعت قائم ہوگئی اور جامعہ نظامیہ سے قراءتِ حفص ، عاصم کوفی کے سالانہ امتحان میں شریک ہو کر امتیازی کامیابی حاصل کی، یہ یہاں کا پہلا قافلۂ علم تھا، جس نے فراغت حاصل کی، اس میں قابل ذکر سرخیل، جناب محمد افضل محمدی، جناب مولوی عبد العزیز چیتا پوری (مدرس مدرسہ ہذا) جناب محمد تسکین علی نیازی ) پروفیسر كليفورنیا یونیورسٹی،امریکہ جناب عبدالوہاب صاحب (انجینئر ) تھے جو بعد میں اپنے ناموں کے ساتھ ” قاری ” لکھنے لگے اور اسی سے وہ معروف ہو گئے۔
تجوید و قرآت کا یہ سلسلہ حا فظ عبد الرحیم صاحب کے دوسرے محلہ میں منتقل ہونے کی وجہ سے کچھ عرصہ بعد موقوف ہو گیا۔ البتہ ان کے شاگردان جناب قاری محمد افضل محمدی اور جناب قاری مولوی عبد العزیز چیتا پوری نے حسب معمول طلبا ء پر اپنی محنت جاری رکھی اور تاحال قاری عبد العزیز صاحب اس مدرسہ سے وابستہ ہیں ، مسجد شعبان خان میں قیام مدرسہ ہی سے موصوف وابستہ ہیں۔ اس مسجد کے وہ پہلے مصلی ہیں ۔ مخفی مبارکہ موصوف جناب محمد افضل محمدی اور جناب محمد سرور محمدی کے شانہ بہ شانہ، دوش بدوش قدیم بہ قدم، تقریباً چالیس سال سے ہمسفر و ہمرکاب ہیں، جن سے اس مدرسے کے سیکڑوں طلباء نے علمی استفادہ کیا ہے۔ افسوس، اس کا روان کا ایک ساتھی ’محمد سرور محمدی‘ اپنے دو رفیق کاروں کو اپنا جانشین چھوڑ کر راہی اجل ہوگیا ۔
آسمان اس کی لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
دار الحديث محمدیہ:
1995 میں مدرسہ محمدیہ دار القرآت وتجويد القرآن کو ہمہ وقتی بنایا گیا اور اس میں ابتدائی تعلیم کے ساتھ شعبہ حفظ کا بھی اضافہ عمل میں آیااور مدرسہ کو ہمہ وقتی بنایا گیا ۔ اور اس کا نام نے دار الحدیث محمدیہ تحفیظ القرآن ‘ رکھا گیا ۔ اس کی سر پرستی دونوں بزرگ برادران جناب محمد افضل محمدی اور جناب محمد سرور محمدی کو حاصل رہی اور اس کی انتظامی ذمہ داریاں جناب عبدالقدیر محمدی اور جناب عبد الحق محمدی (فرزندان جناب محمد سرور محمدی )نے سنبھالی اور جناب محمد عطاء اللہ بخاری ابن جناب ڈاکٹر محمد عبد الصمد صمدانی فاضل نے اس کی نکیل تھامی۔
الحمد للہ دو سال کے مختصر عرصہ میں اس مدرسہ نے مثالی ترقی کی ہے۔ اس وقت یہاں صبح 4 بچے (فجر سے پہلے ) سے رات کے 12 بجے تک مدرسہ کے طلباء سے مسجد ہمیشہ معمور و پُر رونق رہتی ہے ، فی الوقت اس میں تقریباً ڈھائی سو طلباء وطالبات ابتدائی ، حفظ، مولوی اور بالغان کی جماعتوں میں زیر تعلیم ہیں اور تقریباً 15اساتذہ کرام اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
یہ تمام خوش آئند باقیات الصالحات انھیں دو بزرگ برادران جناب محمد افضل محمدی اور جناب محمد سرور محمدی کی رہین منت رہیں گی ۔
داتہ رکھے آباد ساقی تیری محفل کو
وضاحت: راقم الحروف کا مقصد جناب محمد سرور محمدی رحمہ اللہ علیہ کے کارہائے نمایاں کو بتانا ہے ۔ لیکن اس مضمون میں ان کے برادر اکبر جناب محمد افضل محمدی کا بھی باربار ذکر آرہا ہے۔ اس لئے یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ دونوں بزرگ حقیقی برادران ہیں۔ ان کی سوانح عمری ایک دوسرے سے گتھی ہوئی ہے کیونکہ زندگی کے ہر موڑ پر ان دونوں برادران نے ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑا ، ہر مشورہ اور ہر کام میں دونوں کاعمل دخل رہتا۔ اس قسم کی مثال بہت ہی خال خال نظر آئے گی ۔ حالانکہ ہر ایک کی خانہ دار زندگی علیحدہ علیحدہ تھی۔ جہاں تک دینی، ملی اور جماعتی خدمات ہیں، وہ ایک دوسرے سے اس طرح مربوط ہیں کہ انہیں جدا کرنا مشکل ہے، ا گرچہ کہ قضائے الٰہی نے انہیں جسمانی طور سے الگ کر دیا ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آ خرت میں بھی اس رفاقت کو قائم و دائم رکھ کر جنت الفردوس کے بالا خانوں میں مقام عطا فرمائے ۔ آمین
ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد
عائلی حالات:
جناب محمد سرور صاحب محمدی کی والدہ محترمہ رابعہ بی سے دولڑکے تولد ہوئے۔ جناب محمد افضل محمدی تاریخ پیدائش 1921ء اور جناب محمدسرور محمدی تاریخ پیداش 1924ء والدہ محترمہ بچپن ہی میں داغ مفارقت دے گئیں ، جبکہ بڑے صاحبزادے کی عمر تقریباً 8 سال اور چھوٹے صاحبزادے کی عمر 4 سال تھی۔ بڑے صاحبزادے کو اپنی والدہ کا کسی قدر خیال ہے جبکہ چھوٹے صاحبزادے کو کچھ نہیں ۔
والد محترم نے دوسری شادی کی جن کا نام اکبر بی تھا ۔ ان کے بطن سے دولڑ کے اور دولڑکیاں ہوئیں ۔ جن میں ایک لڑکی داعی اجل کو لبیک کی گئیں۔
والد محترم کا انتقال 1958ء میں اور والدہ محترمہ کا اس کے بعد انتقال ہو گیا۔ جناب محمد سرور صاحب نے تین شادیاں کیں۔
پہلی زوجہ جن کا نام افضل بی تھا ان سے چار اولاد ہوئی، دو فرزند، مولانا ڈاکٹر عبد الرب ثاقب عمری (حال مقیم بر منگھم،لندن) اور عبد القدیر ( منتظم دارالحدیث محمدیہ حیدر آباد) ایک صاحبزادی کا بچپن ہی میں انتقال ہو چکا، اور بڑی صاحبزادی دہلی میں مقیم ہے ۔ پہلی زوجہ محترمہ طویل علالت کے بعد انتقال کرگئیں۔
دوسری زوجہ محترمہ جن کا نام شہزادی بیگم تھا۔ ان سے دو صاحبزادیاں تھیں جو اپنی والدہ کی طلاق کے بعد انھیں کے ساتھ رہتی ہیں ۔
تیسری زوجہ محترمہ جن کا نام امۃ الودود ہے ۔
اُن سے 14 اولاد ہوئی۔ جن میں6صاحبزادے اور 8صاحبزادیاں ہیں ۔ صاحبزادوں میں قابل ذکر یہ ہیں :
عبد الحق محمدی ( منتظم دارالحدیث محمدیہ حیدر آباد )، مولوی عبد الخالق عمری (استاذ دار الحدیث محمدیہ حیدر آباد ) اور عبد الجبار (متعلم ) اور ما باقی کمسن ہیں۔ صرف بڑے صاحبزادے عبد الحق محمدی شادی شدہ اور صاحب اولاد ہیں ۔ اور صاحبزادیوں میں پانچ شادی شده اور صاحب اولاد ہیں ۔ دو صاحبزادیاں غیر شادی شده کمسن ہیں، جبکہ ایک صاحبزادی بچپن ہی میں ولادت کے بعد وفات پاگئیں ۔
٭٭٭
برمنگھم میں جلسۂ استقبال رمضان
جامع مسجد محمدی ھارٹپ روڈ ألم راک برمنگھم میں رمضان المبارک سے ایک ہفتہ قبل جلسہ استقبال رمضان کا اہتمام کیا گیا تھا۔ تاکہ رمضان کی آمد سے قبل اس کی اہمیت وفضیلت سے واقف ہو کر اس سے پوری طرح استفادہ کیا جا سکے اور غفلت اور سستی دور ہو، اس جلسہ سے مولانا عبد الہادی العمری صدر مجلس القضاء الاسلامی برطانیہ، مولانا محمد منیر قاسم بانی مسجد الفرقان شبلی، بریڈ فورڈ اور مولانا شیر خان جمیل احمد عمری رکن مجلس القضاء اسلامی برمنگھم نے بڑے ہی مؤثر انداز میں روزوں کے اسرار و روموز اور اس کی حدود وقیود پر روشنی ڈالی اور اس کے مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تقویٰ کا حصول اس کا بہت بڑا مقصد ہے۔ تقویٰ یہ ہے کہ جس طرح ہم دنیا میں ایک خاردار راستے سے گزرتے ہوئے بڑی احتیاط سے گزرتے ہیں کہ کہیں خار دار جھاڑی اور کانٹوں سے ہمارے کپڑے الجھ نہ جائیں، اسی طرح اس دنیا میں بہت سے محارم اور اسلام کی ناپسندیدہ چیزیں اور برائیاں موجود ہیں، ان سے دامن بچا کر گزر جانے کا نام تقویٰ ہے، اسی تقویٰ کی ٹریننگ کے لیے رمضان کے روزے فرض کیے گئے ہیں۔
امیر مسجد حاجی عبد الغفور نے جلسہ کی نگرانی کی، جناب محمد سلیمان چوہدری، حاجی اللہ دتہ، محمد امجد، جناب عجائب خان، حاجی باقی جان، محمد فاروق نسیم، محمد عاقب اور بہت سے معززین شریک تھ، خواتین بھی خاصی تعداد میں شریک تھیں۔ جلسہ کے اختتام پر تمام حاضرین کے لیے بہترین طعام کا انتظام کیا گیا تھا۔ اللہ کریم تمام متظمین و معاونین جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین
مسلمانو! اٹھو اب ماہ رمضاں آنے والا ہے
کرو تیاریاں روزوں کی شعباں جانے والا ہے
ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی
٭٭٭
صدقۃ الفطر میں غلہ کی قیمت دینا بھی جائز ہے
اگر کسی شخص کے پاس صدقۃ الفطر ادا کرنے کے لیے غلہ موجود نہیں ہے، جیسا کہ عموماً شہری آبادی کی حالت ہوتی ہے، تو یہ ضروری نہیں کہ وہ بازاور سے غلہ خرید کر صدقۃ الفطر ادا کرے، بلکہ سال یا سال کا اکثر حصہ جس غلہ کو وہ خوراک کے طور پر استعمال کرتا ہے، فی کس ایک صاع کے حساب سے اس کی قیمت ادا کر دے، مثلاً ایک شخص کے گھر کے چھوٹے بڑے دس افراد ہیں، اور وہ سال یا سال کا بیشتر حصہ گیہوں یا چاول استعمال کرتا ہے، تو وہ صدقۃ الفطر میں ۱۰ صاع گیہوں یا ۱۰ صاع چاول کی بازار کے نرخ کے مطابق قیمت ادا کر دے، مگر یہ بالکل غیر مناسب ہے، کہ اس کی عام خوراک تو گیہوں یا چاول ہوں، لیکن وہ صدقۃ الفطر میں معمولی قسم کا غلہ یا اس کی قیمت ادا کرے۔
تبصرہ کریں