
قادیانیوں اور صدیق دینداروں سے مباحثے :
محمد سرور صاحب ابتداء میں پنی خداداد صلاحیت سے کئی بار مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو کاروں اور صدیق دینداروں سے مباحثے کیئے ، وہ ان کے مراکز میں جایا کرتے اور ان کے علماء سے بحث و مباحثہ کر کے ان کے سامنے حقانیت کو پیش فرماتے۔ موصوف کو ان مذاہب کے نکات اور ان کے ردو کد میں بڑا ملکہ حاصل تھا۔ اہلحدیث اور قادیانیوں کے درمیان منعقده مناظره ، بمقام یاد گیر ( کر ناٹک ) شریک تھے جس میں اہلحد یثوں کی جیت ہوئی تھی۔
موصوف سے نالاں : موصوف بڑے حق گوتھے ۔ حق گوئی ان کا خاص وصف تھا۔ حق بات کے پیش کرنے میں کسی چھوٹے بڑے، عزیز و اقارب ، اپنے اور پرائے کا کوئی لحاظ نہ کرتے، کوئی بھی شرعی بات ہوتی اس کو بر ملا دوٹوک انداز میں پیش فرما دیتے۔ حق بات کہنے سے دریغ نہ کرتے۔ جب ان سے کہا جاتا کہ آپ ’’ لوگوں کا دل توڑ کر بات کرتے ہیں، کسی کا کوئی لحاظ نہیں رکھتے، تو جواب دیتے کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو مشرک کہا ہے، اور کافروں کو کافر کہا ہے ۔ اللہ نے اپنی دعوت کو لوگوں کا دل رکھ کر پیش نہیں کیا ہے ۔ تو پھر میں کیوں کسی کا دل رکھنے کے لئے دین کی باتوں کو توڑ مروڑ کر غلط تاویلات کے ساتھ پیش کروں۔ مجھے کسی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اللہ کی بات پیش کرتے ہیں کسی سے کوئی اجرت نہیں لیتا ہوں۔ لوگوں کا دل اسی وقت خوش ہوگا جبکہ ان کی ہاں میں ہاں ملا دی جائے۔ ‘‘
ان کے اس انداز سے ان کے ناقدین نکتہ چینی کیا کرتے اور انہیں برا بھلا کہتے کہ سرور صاحب ہمارا دل توڑ دیتے ہیں ، ہمارا کوئی لحاظ نہیں رکھتے۔ لیکن الحمد للہ یہ حقیقت ہے کہ دعوتِ دین میں ان کی یہ دل توڑ باتوں نے سینکڑوں کو موحد بنادیا ۔
موصوف کا حلیہ : موصوف چھوٹے قد، کھڑا چہرہ، گندمی رنگ کے حامل تھے ۔ اتباع سنت کے دلدادہ تھے ، نصف ساق پاجامہ ، در از موٹا سفید سوپ اور کالی صدری اور سرخ رومی ٹوپی ۔ جو حیدر آباد کے آصفجاہی، شاہی لباس کا خاصہ تھی اور گلے میں سرخ و زردی مائل غوتره(شمال) اور پاؤں میں سیاہ جوتے اور سپاہ پاتا بے ، ہمیشہ زیب تن کیا کرتے تھے اور ہاتھ میں ہمیشہ خصوصی ساخت کا عصا رہتا تھا جو ان کی پہچان تھی۔ کبھی کسی بے تکلف دوست یا عزیز و رشتہ دار سے بحث کرتے تو مذاقاً انہیں اپنا ڈنڈا بتا کر کہتے کہ اب تمہیں ’’یہ سرور ڈنڈا ‘چاہیئے۔
موصوف کی داڑھی: اس پر مستزاد ان کی داڑھی تھی۔ جو تقریباً ایک میٹر لمبی گھنی وسیاہ تھی۔ یہ ان کا امتیازی نشان تھا ۔ دراز داڑھی کی وجہ سے، لمبی داڑھی والے مولوی صاحب سے جانے پہچانے جاتے تھے۔ موصوف کی داڑھی کی حفاظت میں بڑی دقتیں پیش آتیں لیکن پوری زندگی میں انھوں نے کبھی داڑھی کا ایک بال بھی نہ تو کاٹا اور نہ اکھاڑا ، داڑھی کو ہر روز تیل لگاتے ، کنگھی کرتے اور اس کو سنوارتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ میں داڑھی کو اس طرح پالتا ہوں جس طرح اپنے بچوں کو پالتا پوستا ہوں۔ اسی لئے موصوف پیشہ سفید در از سوپ زیب تن کیا کرتے اور اس میں اپنی داڑھی کےنصف حصہ کو چھوڑتے اور نصف حصہ ظاہر کرتے اور گلے میں د شمال لپیٹتے۔
ایک بار عالم ربانی مولا نا عبدالسلام بستوی رحمہ اللہ شیخ الحدیث ریاض العلوم دہلی حیدر آباد تشریف لائے تھے ، مولانا کا قیام مشیر آباد میں ڈاکٹر محمد عبدالصمد صمدانی فاضل کے ہاں ہوا کرتا تھا۔
ان سے محمد سرور صاحب کے ایک نکتہ چین دوست عبدا لرحیم با شو بھائی نے (یہ موردنا ابوا لجمیل محمد یسین صاحب کے شاگرد تھے۔ دینی خدمات میں معروف تھے ۔ موٹروں کا کاروبار کرتے ۔) کہا کہ ، مولانا ! آپ ہمارے دوست محمد سرور صاحب کو سمجھا ئیے کہ اپنی داڑھی کچھ چھوٹی کریں ، لوگوں میں تماشہ ہیں۔ تو مولانا بستوی نے محمد سرور صاحب سے کہا کہ آپ اپنی داڑهی باہر نکالیں تاکہ ہم بھی دیکھ لیں تو موصوف نے اپنی ڈاڑھی کرتے سے باہر نکالی۔ اس کو دیکھ کر دم بخود رہ گئے اور کہا کہ آپ نے اس کو اتنا دراز کیوں کیا ہے ؟ تو سرور صاحب نے جواب دیا کہ میں نے حدیث پڑھی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
« أَحْفُوا الشَّوَارِبَ، وَأَوْفُوا اللِّحَى»
’’تم مونچھوں کو پست کرو اور داڑھیوں کو بڑھاؤ ۔‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم )
میں نے رسول اللہ ﷺ کی پیروی اور اتباع کی محبت میں اس کو چھوڑ دیا ہے۔ یہ سنتے ہی شیخ الحدیث بستوی آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا :
«ولا تخاف لومة لائم»
’’ تم کسی برا بھلا کہنے والے کی پرواہ نہ کرو۔ ‘‘
ایک بار ادارة البحوث العلمية والإفتاء والدعوة ” کا ایک سہ ر کنی وفد، مولانا عبدالحمید رحمانی کی رفاقت میں حیدر آباد آیا ہوا تھا ، ان کے سامنے محمد سرور صاحب کی داڑھی کا ذکر چھڑ گیا۔ جب ان لوگوں نے موصوف سے داڑھی دیکھنے کی خواہش کے تو انھوں نے اپنی داڑھی کرتے سے باہر نکال کر بتلائی ، تو ان لوگوں کی زبانوں سے یہ کلمات نکلے : سبحان الله ، سبحان الله – ما رأى أعينا مثله قط،
’’سبحان الله سبحان اللہ ، ہماری آنکھوں نے اس جیسی داڑھی کبھی نہیں دیکھی۔ ‘‘
زندگی کے لمحۂ آخر تک اپنی داڑھی کی حفاظت کی اور اسی حال میں وہ اللہ کے پیارے ہو گئے ۔ جب موت کی خبر لوگوں کو دی گی تو جو لوگ نام سے واقف نہیں تھے ان سے یہ تشریح کرنی پڑی کہ محمد افضل محمدی صاحب کے لمبی داڑھی والے بھائی محمد سرور صاحب کا انتقال ہو گیا ہے :
خدابخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں
علم اور عقید میں پختگی: محمد سرور صاحب نے محلہ شیر آباد کے قیام میں مولانا ابوالجمیل محمد یٰسین صاحب نصرت آبادی سے تعلیمی اور تربیتی فائدہ اٹھایا۔ پھر وہاں سے قدیم شہر کے ایک محلہ فتح دروازہ میں ذاتی مکان خرید کر منتقل ہو گئے۔ یہ محلہ اور اس کے نواحی علاقے شرک و بدعات کے گڑھ تھے ۔ پھر کچھ ہی عرصہ کے بعد اپنے بڑے بھائی محمد افضل صاحب کو بھی اسی مقام پر بلا لیا ۔ اس پر ان کے استاذ و مربی مولا نا محمد یٰسین صاحب کو بڑا قلق ہوا کہ ان کے دونوں ہر دلعزیز جانشین شاگرد ان سے بہت دور (تقریباً 15 کلومیٹر ) ہو کر شرک و بدعت کے گڑھ میں ہو پہنچ گئے ہیں۔ کیونکہ ان دونوں شاگردوں نے مولانا سے عملاً خوب فیض حاصل کیا تھا۔ مولانا نے انہیں اپنی نگرانی میں درس و خطابت کے گروں سے آگاہ کیا اور تربیت دی تھی ، یہی وجہ ہے کہ محمد افضل محمدی کا تقریری لب و لہجہ، انداز بیان اور محمد سرور صاحب کی بحث کا طرز انہیں استاذ محترم کا مرہون منت ہے۔
ان دونوں برادران نے فتح دروازہ کی ایک ویران مسجد، مسجد شعبان خان کو بڑی جفا کشی اور محنت سے آباد کیا اور وہاں جماعت اہلحدیث کا قیام عمل میں لایا، ایک سال گزرنے کے بعد اس کا سالانہ جلسہ اپنے استاذ خاص مولانا محمد یاسین صاحب کی صدارت میں منعقد کیا، جس میں کچھ علماء حیدر آباد کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ جب محمد سرور صاحب اور محمد افضل صاحب دونوں برادران نے شرک و بدعت کے اس گڑھ میں اپنی دعوت و توحید کی کارگزاری پیش کی اور شرک و بدعات کی تردید میں خطاب کیا۔ جب استاذ محترم نے اپنے جانشینوں کے اس بیباکانہ کارنامے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تم خطبہ صدارت میں بھرائی ہوئی آواز میں یہ بیان کیا کہ ان دونوں کی دوری نے مجھے بڑا مغموم کر دیا تھا اور مجھے خوف تھا کہ یہ دونوں بھائی کہیں شرک و بدعات کی اس دلدل میں پھنس نہ جائیں لیکن آج مجھے خوشی ہے کہ انھوں نے شرک و بدعات کے اس قلعہ کو بخش و خوبی سر کر لیا ہے اور توحید کی دعوت کو ڈنکے کی چوٹ پیش کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ اب میں ان سے بے خوف ہوں۔ انشاء اللہ یہ جہان بھی رہیں گے توحید کے مبلغ و دا عی بن کر رہیں گے ۔ ایک مخلص مربی کی زبان سے نکلے ہوئے ان کلمات کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالیا، اور واقعی ان دونوں بھائیوں کو علمبرداران توحید بنا دیا۔
مولانا ابو تمیم محمدی سے کسب فیض: مولانا ابوالجميل محمد یاسین صاحب کے انتقال کے بعد مولانا ابو عظیم تمیم محمدی سے کسب فیض کیا ۔ مولانا ابو تمیم صاحب محمدی رحمہ اللہ ایک راسخ العقیده ، حامل کتاب وسنت ، بے لوث حق گو اہلحدیث مبلغ و داعی تھے۔ توحید پر استقامت ، سنت کی اتباع ، اور تقلید شخصی سے اجتناب ان کی دعوت کا مرکزی محور تھا۔ ان کا ہر درس تقلید کی مذمت اور اس کی خرابیوں پر منحصر رہتا۔ مولانا کے درس کا ایک خاص انداز تھا۔ مرکزی کتب خانہ محمدیہ جو معظم جاہی مارکیٹ میں قائم تھا ۔ اس میں ہر اتوار کو بعد نماز مغرب تا عشاء مولانا کا درس قرآن ہوا کرتا۔ جن آیات کا درس مقصود ہوتا ، تختۂ سیاہ پر لکھ کر ان کی توضیح و تشریح فرماتے ۔ لغوی تشریح کے بعد اس کی معنوی تفصیل میں مختلف تفاسیر کا حوالہ دیتے اور اپنے مدعا کو واضح فرماتے ۔ یہ درس مولانا کے ایک ہفتہ مطالعہ کا نچوڑ ہوتا۔ تقریباً ایک گھنٹہ کا درس ہوتا۔ دور دراز مقامات سے لوگ شریک رہتے اور جمعہ کے دن چیلہ پورہ کی ایک چھوٹی مسجد میں خطبہ جمعہ دیتے ۔ مولا نا اپنا ایک منفرد مقام رکھتے تھے ۔ کسی دوسرے کو بہت کم موقع دیتے۔ مولانا کے درس میں جو لوگ پابندی سے شریک ہوا کرتے ، الحمد لله وہ اپنے عقیدہ و عمل میں بڑے راسخ مانے گئے ۔ کیونکہ مولانا اپنے عقیدہ و عمل میں بڑے ضرب المثل تھے۔ سنت کے خلاف کسی قسم کا جھول اور لوچ ان کے قول و عمل میں کبھی نہیں دیکھا گیا ، 1973ءمیں انتقال ہوا۔
محمد سرور صاحب اور ان کے بڑے بھائی محمد افضل صاحب کو مولانا ابو تمیم صاحب سے کافی حد تک فیض حاصل رہا ۔ محمد افضل صاحب ہر درس میں شریک رہتے ، پھر مولانا موصوف نے ان کا ذوق و شوق اور تقریری صلاحیت اور عقیدہ و عمل کی پختگی کو دیکھ کر ان کو کتب خانہ میں بیان کرنے کی اجازت دی، پھر ان کی خواہش پر کتب خانہ میں دار التقاریر قائم کیا گیا جس کے صدر محمد افضل صاحب کو بنایا گیا۔ ان کی نگرانی میں جماعت کے مختلف اہل ذوق تقاریر کی مشق کیا کرتے تھے۔ جن میں قابل ذکر، مولانا سید عبد الحکیم صاحب (داعی مرکز الدعوۃ والارشاد، دوحہ قطر) ، محمد مولانا محمدی (سابق امیر جمعیت اہلحدیث آندھرا پردیش) جناب محمد جعفر صاحب، اڈیکیٹ ، جناب عبدالرشید صاحب، آئرن مرچنٹ جناب محمد سر ور صاحب شامل ہیں۔
محمدی انتساب : جناب محمد سرور صاحب اور ان کے برادر اکبر جناب محمد افضل صاحب نے اسی مناسبت سے اپنے نام کے ساتھ ’محمدی ‘ انتساب کو پسند فرمایا اور اپنے نام کے بعد ’’محمدی ‘‘ لکھنا شروع کیا۔ یہ انتساب غما ز تھا ۔ محمد ﷺ کے اسم گرامی کی جانب، یعنی ہماری نسبت کسی شخصیت کی طرف نہیں بلکہ با لر است ہمارے نبی کی طرف ہے ۔ اس انتساب سے مقصود یہ تھا کہ ہمارا مطاع صرف ہمارا نبی ہے۔ ہم اسی کے متبع ہیں، نبی کے سوا کوئی غیر نبی ہمارا مطاع نہیں بن سکتا۔ گویا اس انتساب میں تقلید شخصی کی مطلقاً نفی ہے۔ مولانا ابو تمیم صاحب اپنے قول وفعل اور عقیدہ میں جو صلابت رکھتے تھے ، وہی اثر ان کے شاگردوں نے قبول کیا ۔ اسی لئے محمد سرور صاحب اور محمد افضل صاحب اپنے قول ، عمل اور عقیدہ کی صلابت میں حیدر آباد کی جماعت اہلحدیث اور غیر اہلحدیث میں معروف ہیں۔ کیونکہ جن علماء حقانی کی صحبت انہیں نصیب ہوئی اور جن سے انہوں نے کسب فیض کیا ہے ، وہ بڑے حق گو، حق شناس، خوددار اور غیور موحدین تھے ۔
مولانا ابوالجمیل محمدیاسین صاحب محمد افضل صاحب کو یہ نصیحت کیا کرتے کہ آپ اپنے بچوں کو خود مکتفی بنائیے ، تاکہ دین کی خدمت بغیر کسی حرص و لالچ سے انجام دیں، عالم کو خود مکتفی ہونا چاہیے تاکہ اس کی بات میں اثر ہو۔ آج ہمارے علماء کرام کے ہاتھ جوبک جاتے ہیں وہ محض اپنی معاشی مجبوری کی وجہ سے ہے۔ وہ چونکہ خود مکتفی نہیں ہوتے، دوسروں کے دستِ نگر اور زیر اثر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے قول اور عمل میں تضاد پایا جاتا ہے اور صحیح بات لوگوں کے سامنے۔ بیان نہیں کر سکتے۔
الحمدللہ اس بات کا اثر محمد افضل صاحب کو اس قدر ہوا کہ انہوں نے اپنی نرینہ اولاد کو خورد مکتفی بنادیا ۔ اور مولانا کی ایماء پر اپنے بڑے فرزند کو دینی تعلیم میں لگایا اور دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو بھجوایا۔ وہاں سے فراغت کے بعد اللہ کے فضل و کرم سے انہوں نے خود مکتفی ذریعہ معاش اختیار کی اور آج وہ اپنی دینی خدمات بے لوث طریقہ سے انجام دے رہے ہیں۔ مبارکہ محمد افضل صاحب کے تین صاحبزادے ہیں۔ محمد عبد الرحمٰن ندوی (داعى مركز الدعوة والارشاد دوحہ قطر) مولا نا محمد عبدالله (مبعوث رابطہ عالم اسلامی ، استاذ جامعہ دار السلام، عمر آباد) مولانا محمد عبد الہادی (صدر القضاء الاسلامی – برمنگھم، لندن )، حیدر آباد کے یہ دونوں سلفی علماء (مولانا محمد یاسین، مولانا ابو تمیم محمدی) سرکاری ملازم تھے ، سہ رشتہ تعلیم میں پیشہ تدریس سے وابستہ تھے۔ پھر وظیفہ حسنِ خدمت پر سبکدوش ہو گئے تھے۔ انہوں نے اپنی جز معاش آمدن پر زندگی بسر کی ، کبھی کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کیا۔ اور نہ کسی کی جیب پر نگاہ ڈالی۔ یہی وجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے قول میں تاثیر اور عمل میں برکت عطا فرمائی تھی۔ اور یہی حال ان کے ان دونوں شاگردوں محمد سرور محمدی اور محمد افضل محمدی کا ہے۔ ان حضرات کی خدمت بھی کسی کی غرض و غایت سے بالاتر و بے نیاز ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج حلقہ فتح دروازہ کی جماعتی ترقی اور اس کی نمایاں خدمات پورے حیدر آباد میں نمایاں اور قابل تعریف ہے ۔
مرکزی کتب خانہ محمدیہ : مولانا ابو تمیم محمدی نے معظم جاہی مارکیٹ میں ایک کتب خانہ قائم کیا تھا۔ جو بیک وقت دینی لائبریری بھی تھی اور جمعیت اہلحدیث کادفتر و سنٹر بھی ۔ یہیں پر مولانا ہر اتوار کو درس کا اہتمام فرماتے ۔ یہ کرایہ کا مقام تھا جس کا ماہانہ کرایہ جماعتی احباب کے چندوں سے ادا ہوتا تھا۔
مولانا ابو تمیم صاحب نے بڑی جدوجہد کے بعد ، بی بی بازار کٹہ تالاب میر جملہ ، میں جماعت کے تعاون سے ، جماعت کے لئے ایک جائیداد خریدی اور وہیں پر یہ کتب خانہ اور جماعت کا دفتر و سنٹر منتقل کر دیا گیا ، اسی میں مولانا اپنی زندگی کے آخری لمحات تک دروس اور اجتماعات کا اہتمام فرماتے رہے۔ مولانا کے انتقال کے بعد ایک عرصہ تک وہاں حسب معمول مختلف علماء کے دروس چلتے رہے۔ پھر آپسی اختلافات کی وجہ سے وہ تعطل کا شکار ہو گیا۔ تقریباً تین سال سے اس کتب خانہ کی ذمہ داری حلقہ فتح دروازہ کی جمعیت نے سنبھالی اور دورس کا اہتمام برابر کیا جانے لگا۔
دروس کے اس اہتمام کے روح رواں محمد سرور محمدی تھے۔ انہوں نے درس کی ذمہ داری سنبھالی اور ہر اتوار کو مغرب تا عشاء وہاں پر اپنے حلقہ کی جمعیت کے رفقاء کار اور جماعت کے بعض علماء کے ساتھ اپنی زندگی کے آخری لمحات تک اس کو برقرار رکھا ۔
موصوف کا آخری درس 6 اکتوبر 1996 ، 22 جمادی الاولیٰ 1417ھ ؍ روز یکشنبہ رہا۔ (روزنامہ ریاست)
ان کے بعد آنکھ کا موتیا بند آپریشن ہونے کی وجہ سے وہ کتب خانہ جا نہ سکے۔ ان کے براد راکبر محمد افضل محمدی صاحب وہاں اپنا درس جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ موصوف کی مولانا ابوتمیم محمدی سے والہانہ خلوص و محبت کا ہی ثبوت تھا کہ انھوں نے اپنے استاذ کے کاز کو آخر وقت تک نباہ کر اپنی حقیقی جانشینی اور بے لوث خدمات کا ثبوت دیا ۔
مخفی مبادکہ یہاں دروس کے لئے پورے انتظامات مرحوم ہی کے نیک وصالح فرزندان عبد القدیر محمدی اور عبدالحق محمدی اپنی مکمل دلچسپی اور دلجمعی کے ساتھ انجام دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں استقامت عطا فر مائے۔ آمین
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ محمد سرور صاحب تاحیات جمعے کے خطبوں کا بے لوث اہتمام فرمایا ہے ۔ مرحوم عرصۂ در از تک چیلہ پوره کی قدیم مسجد اہل حدیث میں خطبہ جمعہ دیا کرتے ، پھر مسجداہل حدیث شعبان خان، اور آخروقت مسجد اہل حدیث عنبر پیٹ میں خطبہ جمعہ کا اہتمام جاری رکھا، اب اس مسجد میں ان کے پوتے محمد عبدالرحیم خرم جامعی خطبہ جمعہ دیا کرتے ہیں۔ (جاری ہے)
تبصرہ کریں