محمد سرور محمدی رحمہ اللہ؛ توحید وسنت کی ایک شناخت(1)محمد عبد الرحمٰن ندوی

 

بسم الله الرحمن الرحيم

اساطین جماعت اہلحدیث، حیدر آباد

محمدسرور محمدی رحمہ اللہ ؛ توحید و سنت کی ایک شناخت

جناب محمد سرور محمدی رحمہ الله ، جمعیت اہلحدیث حیدر آباد دکن کے ایک معروف متبع سنت فرد تھے جو توحید وسنت کی ایک شناخت کے طور پر جانے وپہچانے جاتے۔

بقضائے الٰہی 8؍رمضان المبارک 1417ھ؍ مطابق 18 جنوری 1997ء روز شنبہ بوقت ڈھائی بجے سہ پہر بعد نماز ظہر اچانک آناً فاناً داعی اجل کولبیک کہہ گئے۔ انا لله وانا اليه راجعون

جمعہ کے دن سنیچر کی شب نماز تراویح باجماعت ادا کی ، نماز کے بعد حسب معمول خطاب کیا،جب گھر پہنچے توکچھ کمزوری محسوس کی۔ انھیں اپنے شخصی ڈاکٹر سے رجوع کیا گیا تو اس نے کہا کہ ان کا بلیڈ پریشر بہت کم ہو گیا ہے، فوری بڑے اسپتال لے جائیں ان کا ای سی جی نکالنا ضروری ہے ۔ لہٰذا فوری ، قریبی مشہور، در شہوار اسپتال پہنچایا گیا جہاں ان کا ای سی جی نکالا گیا۔ رپورٹ پر ڈاکٹر اپنی رائے قائم کر ہی رہے تھے کہ زبان پر جاری’’ الله، الله‘‘ کلمات کی آواز بند ہوگئی۔ ڈاکٹروں نے تصدیق کردی کہ مولانا کا انتقال ہو چکا ہے۔۔۔

اس طرح کے خوش نصیب اہل ایمان کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

من كان آخر كلامه لا إلإ إله الله دخل الجنة

’’جس کی آخری بات لا اله الا اللہ ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ‘‘ (سنن ابوداؤد)

غیر یقینی موت:

عوام کو توحید کی دعوت دیتے ہوئے اور سنت کا وعظ سناتے ہوئے ، ہنستے بولتے، چلتے پھرتے، گھر سے مسجد اور مسجد سے گھر اور گھر سے سواری تک اور سواری سے دواخانہ کے ای سی جی روم تک پیدل چلتے ہوئے ” الله الله ” کی حمد وثنا ورد زبان رکھتے ہوئے، اپنے مکمل ہوش و ہو اس کے ساتھ حیدر آباد دکن کی ساری جماعت اور اپنے متعلقین کو حیرت میں ڈال کر غیر یقینی موت کے آغوش میں ابدی نیند سوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

﴿فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لاَيَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ولا يَسْتَقْدِمُونَ﴾

’’جب ان کا مقررہ وقت آتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘‘ (الاعراف)

تدفين:

موت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح حیدر آباد اور نواحی علاقوں کے علاوہ بیرون ملک پھیل گئی اور صرف چار گھنٹوں کے مختصر وقت میں اسی دن نماز عشاء کے بعد ہزارہا سوگواروں کی موجود میں مسجد اہلحدیث شعبان خان کے عقبى حصہ سےمتصل، محلہ فتح دروازہ کے عام قبرستان میں سپرد لحد کیاگیا۔ مرحوم کے برادر اکبر مولانا محمد افضل محمدی نے نماز جنازہ پڑھائی اور تجہیز و تکفین کے فرائض سنت کے مطابق انجام دئیے۔

نماز جنازہ:

نماز جنازہ مسجد اہلحدیث فتح دروازہ میں پڑھی گئی جس میں ہزارہامرد و خواتین شریک تھے ، سہ منزلہ مسجد اپنی وسعت کے باوجود تنگ ہوگئی جس کی وجہ سے دو بار نماز پڑھی گئی۔

جلوس جنازہ :

جلوس جنازہ میں بلا تفریق مذہب و ملت ہزار ہا افراد شریک تھے ۔ پولیس نے شدید از دہام کے پیش نظر ٹریفک کے لئے راستہ کا رخ بدل دیا تھا۔ کیونکہ مسجد اور قبرستان دونوں شارع عام پر واقع ہیں۔ ارشاد باری ہے:

﴿كل من عليها فانِ، وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُوالجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ ﴾

’’زمین پر جتنی چیزیں ہیں سب فنا ہونے والی نہیں ، تیرے مالک کی ذات باقی رہے گی جو عزت و بزرگی والی ہے۔‘‘ (سورۃ الرحمن: 26۔27)

آخری دیدار :

پست قد، تازه میت، کھڑا چہرہ اور ایک میٹر لمبی اتباع سنت کی غماز گھنی سیاه و سفید مائل داڑھی نے چہرہ کو اس قدر منور و روشن بنا دیا تھا کہ

ہر دیدار کننده آبدیدہ ہو کر سبحان الله کہتا رہ گیا ۔

نشان مرد مؤمن با تو گویم

چون مرگ آمید تبسم بر لب اوست

اللهم اغفر له وارحمه

پسماندگان:

اہلیہ، صاحبزادیاں 8 ، صاحبزادے 8 ، قابل ذکر مولانا ڈاکٹر محمد عبد الرب ثاقب عمری (لندن ، برمنگھم) ، عبدالقدیر محمدی، عبد الحق محمدی مولوی عبد الخالق عمری (حیدر آباد) برادران 3، مولانا محمدافضل محمدی (امیر جماعت اہلحدیث فتح دروازه )، محمدجان، محمد قاسم (حیدر آباد) بھتیجے 3، محمد عبد الرحمن ندوی (دوحہ قطر ) مولانا محمد عبداللہ عمری ومدنی (جامعہ دار السلام عمر آباد ) ، مولا نا محمد عبد الہادی عمری و مدنی (برمنگھم – لندن )

اللہ تعالیٰ ان تمام کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین

حالات زندگی دینی خدمات ، عبرت و نصیحت

مقام پیدائش اور ماحول:

محمد سرور بن محمد فضل علی حیدر آباد سے کوئی ساٹھ میل دور صوبہ آندھرا پردیش کے ایک معروف ضلع ، نلگنڈہ کے ایک چھوٹے گاؤں ’’ اڈاگروڑ‘‘ میں غالباً 1924ء میں پیدا ہوئے۔ یہ علاقہ ، جیسا کہ والد کے نام سے ظاہر ہے ۔ عقائد اہل تشیع کے زیر اثر تھا ۔ شرک، بدعات اور خرافات، تعزیہ داری، عَلَم پرستی ، نذرو نیاز ، فاتحہ خوانی، فاتحہ سیوم ، دہم، چہلم، برسی ، بارہ امام کی فاتحہ، بی بی کی صحنک ، رجب کے کونڈے ، ہر جمعرات اور پیر کو بارہ انڈوں کی فاتحہ ، یہ وہاں کا دین و ایمان تھا اور عاشور خانے ، جو صرف یکم محرم تا دس محرم کھلتے اور تعزیہ واری اور علم ایستادگی سے معمور رہتے ، یہی وہاں کی عبادت گاہیں تھیں۔ اور شعلہ زن آگ کے الاؤ پر طواف، ناچ اور مرثیہ خوانی یہ وہاں کی تسبیح تھی اور ہر سال علم اور تعزیوں کے چڑھانے اور نذرانے ، اور ان کی خدمت کے لئے مشروط طور پر شیعی حکمرانوں کی موقوفہ آراضی کی پیداوار ان کی غذا تھی اور صرف عید و بقر عید کی نماز ان کے لئے تبرک تھی اور اسی ماحول سے متاثر ان کے آبا ؤ اجداد تھے اور انہیں مشروط الخدمت عاشور خانوں کے وہ مجاور تھےاور صرف فاتحہ خوانی اور قل اعوذ برب الفلق ور ر قل اعوذ برب الناس اور التحيات اور درود کا جاننے والا اور رسوم و رواج کی تاریخوں کو بتانے والا ان کا بڑا عالم تھا۔

ولادت :

ایسے ماحول میں جناب محمد سرور صاحب اور ان کے برادر را کبر جناب محمد افضل صاحب (جو بفضل تعالی بقید حیات اور علمبر دار کتاب وسنت ، اور ابو العلماء سے معروف ہیں۔) پیدا ہوئے اور تربیت پائی۔ یہ دونوں اپنے والدین کی برسہا برس کی آرزؤں، تمناؤں اور دعاؤں کا نتیجہ تھے ۔ کیونکہ والدین عرصہ تک لاولد تھے۔

ان مذکورہ عقائد کے تحت بیان کیا جاتا ہے کہ ان کی والدہ محترمہ جن کا نام رابعہ بی تھا ، جو ایک دیندار اور نیک خاتون تھیں۔ ایک مرتبہ اپنے گھر میں ایک چڑیا ’’گوریا ‘‘ پکڑی پھر اس پر رحم کھایا اور اللہ تعالیٰ سے منت مانگ کر اس کو رہا کر دیا کہ اے اللہ ! اس کے عوض میری گود بھر دے۔ لہٰذا چند دنوں کے بعد اللہ کے فضل وکرم سے ایک فرزند کی نوید ہوئی۔ اس کی پیدائش پر والدین فرط مسرت سے جھوم اٹھے اور اس کا نام ’ محمد افضل ‘ رکھا ۔

وجہ تسمیہ: ضلع نلگنڈہ میں دو مشہور بزرگ ’’ افضل بیابانی، سرور بیابان ‘‘ گزرے ہیں۔ جن کی قبریں آج بھی مرجع خلائق ہیں۔ ہر سال بڑی دھوم سے۔ ان کا عرس منایا جاتا ہے۔ عقیدتمند والدین نے اپنے اس منتی بچہ کا نام ’’ محمد افضل ‘‘ لکھا۔ ایک بزرگ کے نام سے مطابقت اللہ کے فضل سے ہو چکی تھی، اب دوسرے بزرگ سے انتساب کی آرزو نے دل میں انگڑائی لی کچھ وقفہ کے بعد دوسرے بچہ نے بھی بفضل تعالیٰ جنم لیا، جس کا نام ’’محمد سرور ‘‘ رکھا گیا۔ اس طرح والدین کی آرزو اور تمنا کے مطابق یہ دونوں بزرگ گھر میں رونق افروز ہو گئے ۔

یہ مشرکانہ عقائد ان کے نزدیک دینی عقائد تھے ۔ لیکن انہیں کیا خبر تھی کہ بفضل الٰہی حقیقت میں یہ دونوں بچے مستقبل میں توحید کے علمبردار اور حاملین کتاب و سنت بنیں گے اور ان کی کوکھ سے جنم پانے والی اولاد علماء حق اور داعیان شرع متین ہوں گے۔ الحمد للہ اس خاندان میں اس وقت تقریباً بیس مستند علماء و فارغين، نواح عالم میں اپنی دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

وطن سے ہجرت :

محمد سرور اوران کے برادر اکبر محمد افضل کمسنی ہی میں اپنی ماں کی شفقت اور محبت سے محروم ہو گئے۔ والد محترم نے انہیں تعلیم اور تربیت کے لئے ضلع کے مستقر نلگنڈہ بھیجا ، جہاں صرف میٹرک تک تعلیم کا انتظام تھااور اس دور میں بھی اعلیٰ تعلیم تصور کی جاتی تھی ۔ لیکن زمانہ کے ستم زدہ حالات نے تعلیم کی تکمیل سے انہیں باز رکھا ، بڑے بھائی نے ہفتم تک تعلیم حاصل کی جبکہ چھوٹے بھائی نے اپنی کم عمری کی وجہ سے ابتدائی تعلیم ہی حاصل کر سکے۔ وہاں کے نامساعد حالات نے ان دونوں بھائیوں کو شہر حیدر آباد ہجرت کر جانے پر مجبور کیا ۔ لہٰذا دونوں بھائیوں نے انتھائی کسمپرسی کی حالت میں نلگنڈہ سے حیدر آباد ( تقریباً ستر میل ) پیاده سفر طے کیا اور چھوٹے بھائی نے سکندر آباد میں ایک غیر مسلم ہندو تاجر جن کا نام پاریلی پچھمیا تھا ، کے ہاں معمول تجارت کی ملازمت (سیل مین ) اختیار کرلی اور اپنی گزر بسر کرنے لگےاور بڑے بھائی محمد افضل نے حیدر آباد کے ایک محلہ کا چیگوڑہ کے مشہور یتیم خانہ ’’انجمن خادم المسلمين ‘‘ میں داخلہ حاصل کر لیا، اور وہاں چمڑا سازی ، اور کفشن دوزی کی فنی تعلیم حاصل کی اور نلگنڈہ میں شوز کمپنی قائم کی، لیکن خسارہ کی وجہ سے اس کو برخواست کر دیا اور حیدرآباد آکر اپنے چھوٹے بھائی کی کمپنی میں بحیثیت محاسب ملازمت اختیار کی۔ پھر کچھ عرصہ کے بعد سکندر آباد پوسٹ آفس میں بحیثیت پوسٹ مین منتخب ہوئے۔

اس طرح ان دونوں برادران نے نہایت عسرت کے ساتھ اپنے وطن عزیز کو خیر باد کیا اور حیدر آباد کو اپنا مستقر بنایا اور ایک طویل جفاکشی مرحلہ کے بعدخوش حال گھرانوں میں شمار کئے جانے لگے۔ عوام میں یہ دونوں برادران جڑواں نام ’’سرور صاحب اور افضل صاحب ‘‘ سے معروف ہوئے اور اسی جڑواں نام سے لوگ انہیں جانتے اور پہچانتے۔ اسی طرح آپس میں ان کی میل و محبت اس قدر تھی کہ لوگ انہیں ’’دو ہنسوں کا جوڑا‘‘ کہا کرتے تھے ۔

ہدایت:

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

وَاللَّهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ‎’’اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت سے سرفراز کرتا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ، آیت نمبر 213)

آپ نے سطور بالا میں جناب محمد سرور صاحب کے جن ابتدائی حالات کا مطالعہ کیا ہے اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ موصوف نے ’’مشرکانہ ‘‘ ماحول میں پرورش پائی ہے۔ لیکن فطر تاً وہ بچپن ہی سے دینی مزاج رکھتے اور غیر شرعی امور سے طبعاً نفرت کرتے اور اپنے خاندان کی ان حرکتوں پر نکتہ چینی کرتے اور تعزیہ داری اور علم پرستی سے جس سے ان کے آباؤ اجداد متمسک تھے، مخالفت کرتے۔

حیدر آباد میں قیام :

جب وہ حیدر آباد منتقل ہو گئے تو سکندر آباد کے ایک محلہ چلکل گوڑہ میں سکونت اختیار کی اور دونوں بھائی یہیں رہنے لگے، لیکن کچھ عرصہ بعد حیدر آباد کا مشہور بدنام زمانہ پولیس آکشن بر پا ہو گیا۔ جس کی۔ وجہ سے یہ دونوں بھائی اس محلہ سے کوچ کر گئے اور ایک قریبی محلہ مشیر آباد منتقل ہوگئے۔

مثیر آباد مرکز ہدایت:

مثیر آباد میں ایک مکان کرایہ سے حاصل کیااور مطمئن زندگی گزارنے لگے۔

گھر سے متصل ایک موجود دیندار اہلحدیث رہا کرتے تھے جن کا اسم گرامی محمد شوکت علی رحمہ اللہ تھا، یہ تاجر تھے ، چھوٹی کٹلری کی دوکان چلاتے ۔ اب بھی یہ دوکان اسی مقام پر موجود ہے جس کو ان کے ایک صاحبزادے چلاتے ہیں۔ یہ بڑے حق گو، خاموش مبلغ تھے۔ موصوف نے مہدوی عقائد پر کافی کام کیا ہے، اس لئے مہدوی حضرات ان کے سخت ترین مخالف تھے ۔ انہوں نے اپنا تخلص’’ کڑوا‘‘ رکھا تھا۔

جس سے وہ جانے پہچانے جانے اور لوگ انہیں طنزاً ’’شوکت علی کڑوا ‘‘ کہتے۔

گھر سے متصل دوکان رہنے کی وجہ سے محمد سرور صاحب کی اکثر بیٹھک وہاں ہوا کرتی اور مختلف مسائل پر بحث و تکرار چلتی، رسم و رواج ، شرک و بدعات پر تبادلہ خیال ہوا کرتا۔ جب کچھ بات سمجھ میں آنے لگی تو انہوں نے اپنے خاندانی عقائد کی اصلاح شروع کردی۔ چونکہ بڑے بھائی محمد افضل صاحب ساتھ ہی رہا کرتے تھے۔ اس لئے ان کی دعوت کا پہلا نشان یہی بنے۔ یہ مزاج کے بڑے متنوع اور تیز تھے۔ کچھ تعلیم یافتہ اور سرکاری ملازم تھے اور اپنے آبائی عقائد کے مؤید بھی اور دینی مزاج سے عاری بھی۔ برادر خورد کی اصلاحی باتیں ان کے لئے کسر شان تھیں۔ بے اعتنائی سے کام لیتے اور اپنے بھائی کو زجر و توبیخ کیا کرتے ۔ جیسا کہ آپ بھی زمانہ کی ریت ہے کہ

خطائے بزرگان گرفتن خطا است

ہدایت کا چراغ ، مولانا ابو الجميل محمد یٰسین رحمہ اللہ نصرت آبادی کی صحبت :

مولانا ابوالجميل محمد یٰسین نصرت آبادی، ایک جید اہلحدیث عالم دین تھے ، حیدر آباد کے پولیس آکشن میں رائچور سے حیدر آباد منتقل ہو کر محلہ شیر آباد میں فروکش تھے ۔ ان کا اصل وطن سگر ہے جو صوبہ کرناٹک کا ایک چھوٹا گاؤں ہے ۔ بڑے متحرک اور فعال تھے، سیماب صفت کے حامل، شیرین بیان، قادر الکلام، سحربیان مقرر تھے۔ قرآن حدیث فقہ اور صرف و نحو پر انہیں بڑا نتیجہ حاصل تھا ، وقت کے بڑے مناظر تھے، قادیانیوں کے خلاف کرناٹک کے علاقوں میں کئی مناظرے کئے تھے ۔ ان کے انتقال کی خبر سن کر قادیانیوں نے فرط سرت میں گھی کے چراغ جلائے تھے۔ کرناٹک کے کئی علاقوں میں درس و تدریس اور دعوتی خدمات انجام دیں ۔ حیدرآباد کے قیام کے دوران محلہ مثیر آباد میں ایک دینی مدرسہ نسوان قائم کیا، جواب بھی قائم ہے اور ان کے فرزند اکبر ڈاکٹر محمد عبد الصمد صدانی فاضل اس کے ناظم ہیں، عمر کے آخری حصہ تک مولانا نے اس کی مثال خدمات انجام دیں ۔

کئی طالبات نے وہاں سے فراغت حاصل کی، تدریس کا انداز نہایت ہی پختہ تھا ۔ بالغان ذکور کے لئے بھی فجر بعد ایک جماعت قائم کی تھی جس میں صرف و نحو اور عربی ادب اور ترجمہ قرآن مجید و تغیر کی تعلیم ہوتی، سیکڑوں بالغین نے استفادہ کیا اور ہر جمعرات کو مسجد اہلحدیث چوراہا مشیر آباد میں خطاب عام رہتا جس میں مردو خواتین کثیر تعداد سب شریک ہوتے اور یہ روز عشاء اور فجر کے بعد درس قرآن و حدیث رہتا۔ مولانا کی یہ تمام خدمات اعزازی تھیں کسی جانب سے نہ کوئی تنخواہ مقرر تھی اور نہ کسی سے ایک پیسہ لیتے، خود متقی ، بڑے خود دار اور غیور عالم دین تھے ۔ ان کے درس میں اہلحدیث اور غیر اہلحدیث علماء اور تعلیم یافتہ احباب بڑی کثرت سے شریک ہوتے ۔ بہت دور دواز علاقوں سے حاضر ہوتے تھے۔ 1965 ء میں اپنے مدرسہ ہی میں انتقال ہوا۔

جناب محمد شوکت علی کو بھی مولانا سے شرف تلمذ حاصل تھا ۔ موصوف نے جناب محمد سرور کی ملاقات مولانا موصوف سے کرادی ، یہ مولانا کے درس میں پابندی سے شریک رہتے ۔ ان دروس سے جناب محمد سرور بڑے متاثر ہوئے اور اپنے بڑے بھائی جناب محمد افضل کو بھی ان دروس میں شرکت کی دعوت دینے لگے۔ بالآخر بڑے بھائی نے بادل ناخواستہ چھوٹے بھائی کی دعوت قبول کی اور مولانا کے درس میں شریک ہونے لگے ۔ الحمد لله حق بات دل میں اترتی چلی گئی، اب غور کرنا شروع کر دیا کہ حق کیا ہے ؟

یہ فکردن دونوں بھائیوں کی ہدایت کا نقطہ آغاز تھی۔ جب دونوں بھائی ہم خیال ہو گئے اور اپنے خاندانی عقائد پر غور وفکر شروع کیا تو تجسس نے دل میں انگڑائی ہیں ، اور ٹھان لیا کہ اپنے مرشد سے ، جن کے یہ مرید تھے۔ اس سلسلہ میں گفت و شنید کی جائے۔

مخفی مبارکہ یہ دونوں برادران اور ان کے والد اور خاندان کے کچھ افراد حیدر آباد کے ایک معروف مرشد کے مرید تھے ۔

مرشد سے تبادلۂ خیال:

محمد سرور صاحب میں دینی تجس بہت زیادہ تھا، لہٰذا وہ فجر کی نماز بعد اپنے مرشد سے استفسار اور تبادلہ خیال کے لئے جایا کرتے ، کئی دن کی اس تگ ودو کے بعد مرشد صاحب نے انہیں ان عالم دین ملاقات کرنے اور ان کے درس میں سمجھنے سے منع فرما دیا۔

جب یہ بات ان کے بڑے بھائی محمد افضل صاحب کو معلوم ہوئی تو ایک دن دونوں بھائیوں نے یہ ٹھان لے کہ کسی دن ہم مرشد کے ہاں چل کر تبادلۂ خیال کریں گے ۔

لہٰذا دونوں بھائی پروگرام کے مطابق اپنے مرشد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور مسائل پر تبادلہ خیال کیااور تشفی چاہی لیکن مرشد خان نے انہیں مطمئن کرنے کے بجائے اپنے مریدوں کو سختی سے ڈانٹ پلائی اور کہا کہ تمہیں کسی ’وہابی‘ نے گمراہ کر دیا ہے۔ اگر تم اس کے ہاں جانا بند نہ کرو تو سب تمہیں اپنے حلقہ ارادت سے بےدخل کر دوں گا۔ آئندہ سے تم ان مسائل کی دریافت کے لئے یہاں مت آیا کرو۔

یہ سنتے ہی بڑے بھائی جان نے مرشد سے کہا کہ مجھے آج یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ نے ہمیں اب تک گمراہ کر رکھا تھا ۔ ہم نے آپ سے ہمیں پیش آمدہ مسائل پر قرآن وحدیث سے تشفی چاہی لیکن آپ نے ان کا کوئی تشفی بخش جواب تو نہ دیا بلکہ آپ نے ہمیں ہمیشہ یہی کہا کہ وہابی کے ہاں نہ جاؤ ، انہیں اور ہمیں برا بھلا کہتے رہے۔ اگر یہیں آپ کی بے بسی ہے تو آپ کی ارادت آپ کے حوالے ۔

لہٰذا دونوں بھائی وہاں سے بے نیل و مراسم مایوس لوٹ گئے اور مولانا ابو الجمیل محمد یاسین صاحب کے حلقہ بگوش ہو کر فیضان علم سے سرشار ہوتے رہے اور مشرکانہ عقائد سے تائب ہو کر 1950ء میں مسلک اہلحدیث کو قبول کر لیا۔

والد کا رد عمل :

جب ان کے والد جناب محمد فضل علی صاحب کو یہ خبر پہنچی کہ ان کے دونوں بیٹے ، گمراہ ہو گئے ہیں، کا فر ہو گئے ہیں ۔ تو پدری محبت تڑپ اٹھی اور بے تحاشہ وفور محبت میں پروانہ وار اپنے وطن اڈا گروڑ سے حیدر آباد پہنچتے ہیں اور اپنے کو خوب سخت سست سناتے ہوئے کہتے ہیں :

’’مجھے معلوم ہوا کہ تم لوگ گمراہ ہو گئے ہو، کافروں میں مل گئے ہو۔ میں نے تمہیں بچپن سے تمہاری والدہ کے انتقال کے باوجود بڑی محنت و مشقت سے پالایو سا ہے ۔ اگر مجھے یہ بات پہلے معلوم ہوتی کہ تم لوگ کافر ہو جاؤ گے تو میں تمہیں اپنی چارپائی کے پایوں کے نیچے کو ختم کر دیتا ۔‘‘

نور خدا نے کفر کی حرکت پر خنده زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

باپ کی ہدایت: باپ کی یہ سرزنش بیٹوں پر کار گر نہ ہوسکی حق اور باطل کا موازنہ ہو چکا تھا۔ حق غالب اور باطل مغلوب ہو چکا تھا۔ بالآخر باپ نے بیٹوں کی بات کو غور سے سنا، پھر اپنے مرشد سے اطمینان چاہا ۔ جواب وہی ملا جو بیٹوں کو مل چکا تھا ۔ تو الحمد لله باپ نے بھی مرشد مذکور سے اپنا ارادتی رشتہ توڑ لیا اور عقائد باطلہ سے تائب ہو گئے۔

چراغ سے چراغ جلتے ہیں : باپ کے تائب ہونے سے محمد سرور صاحب کو بڑی تقویت حاصل ہوگئی، گھر کا ماحول ایک حد تک سازگار ہو گیا۔

لہٰذا وہ اپنے فرصتی اوقات میں اپنے دوست اقارب اور عزیزوں کے ہاں جایا کرتے ، ہمیشہ ایک بڑا اقرآن کریم مترجم اپنے گلے میں ڈالے رہتے اور انہیں قرآنی آیات بتا بتا کر ان کے باطل عقائد کی نشاندہی کرتے۔ ان کی دعوت و تبلیغ کا یہ سلسلہ حیدرآباد اور ضلع نلگنڈہ کے نواحی دیہاتوں میں چلتا رہا اور کبھی دونوں برادران مل کر دورے کیا کرتے تھے ۔ اللہ کے فضل وکرم سے ان کا یہ دعوتی کام اتنا مؤثر تھا کہ نتیجتاً نہ صرف اہل خاندان بلکہ سینکڑوں مسلمانوں نے اپنے شرکیہ عقائد اور بدعات و خرافات سے توبہ کی اور توحید و رسالت کے متوالے بن گئے۔

محمد سرور صاحب کا دعوتی انداز :

اللہ تعالیٰ نے انہیں افہام وتفہیم کا زبردست ملکہ عطا فر ما یا تھا ۔ انہیں شرک و بدعات کی گتھیوں سے خوب واقفیت تھی۔ وہ بدعات کی ایک انسائیکلو پیڈیا تھے۔ مناظرانہ ، عام فہم انداز تھا۔ مقابل کو دلائل سے بے بس کر دیتے۔ وہ عالم تو نہ تھے لیکن خداداد صلاحیت سے ، بحث و مباحثہ اور وعظ و نصیحت اور تقریر و بیان پر زبردست ملکہ حاصل تھا، گھنٹوں تقریر کرتے نہ تھکتے۔ ان کی عوامی زبان میں بغیر کسی پیچ وخم کی سادہ اور پرمغز تقاریر عوام کے دلوں میں گھر کر جاتیں، لوگ بڑے ذوق و شوق کے ساتھ ان کی تقاریر سنتے ۔ دوران وعظ بڑے۔ نصیحت آمیز لطیفے نہایت خوش اسلوبی سے بیان فرماتے جس سے عوام بڑے محظوظ ہوتے ۔

غیر مسلموں میں دعوت :

محمد سرور صاحب کو اللہ تعالیٰ نے آندھرا پردیش کی علاقائی زبان ’’تلگو‘‘ پر خاصا عبور عطا فر مایا تھا۔ اس زبان کے وہ پنڈت – ’’ماہر لسان ‘‘ مانے جاتے تھے یہ زبان اس علاقہ میں ہند ومسلم میں یکساں بولی اور سمجھی جاتی ہے اس زبان میں انھوں نے کافی حدتک دعوت دین پیش کی ہے۔ ہندو مذہب کے شاستروں پر اور اس زبان کے ہندو شاعروں کی اصلاحی شاعری پر انہیں دسترس حاصل تھی۔ جس سے ان کی تلگو زبان کی تقریر میں بے انتہا تاثیر پید اہوائی۔ ان شاستروں کو اور اشعار کو برہمنوں اور پنڈتوں کے لب و لہجہ میں ترنم میں جب پیش فرماتے تو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو اور ماہر لسان ہندو پنڈت حیرت زدہ رہ جاتے اور تقریر کے بعد ان کی اس قدرتِ تکلم اور انداز بیان اور دلائل پر ان کی قابلیت کا لوہا مان لیتے اور اپنی غلطیوں کا اعتراف فرماتے۔ ان کی تقاریر سے متاثر کئی ہندؤں نے اسلام قبول کیا۔ ہندو مذہب کی آریاء قوم کے ماہرین ان کا بڑا احترام کرتے۔ اضلاع کے لوگ انہیں تلگو خطاب کے لئے مدعو کیا کرتے تھے، کئی کئی گھنٹے اس زبان میں خطاب کرتے ۔

حیدر آباد میں دس محرم (عاشوراء کے دن) کو سکندر آباد کر بلا میدان میں تعزیہ اور علمداری اور ردشرک پر ولولہ انگیز بیانات ان کی زندگی کا تاریخی ریکارڈ ہیں، ان جلسوں میں ہر طبقے اور ہر قابلیت کے ہندو شریک رہتے ۔

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ

کمشنر پولیس صاحب ، جو کربلا میدان میں انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے گزر رہے تھے اور محمد سرور صاحب کی تلگو میں دھواں دار تقریر چل رہی تھی، جلسہ گاہ مسجد بوٹ کلب کے سامنے شارع عام پر واقع تھا ۔

کمشنر صاحب جلسہ گاہ تشریف لائے ، آخر تک بڑی دلچسپی سے بیان سنتے رہے۔

اختتام پر انہیں مبارکبادی دی اور ان کی قادر الکلامی سے متاثر ہو کر کہا:

آپ مسلمان ہیں، آپ کی مادری زبان اردو ہے ، لیکن آپ نے تلگو میں اتنی شستہ تقریر کی کہ پنڈتوں کو شرما دیا ، جب میں نے آپ کی آواز دور سے سنی تو سمجھا کہ کوئی ہندو برہمن تقریر کر رہا ہے، جب مجھے معلوم ہوا کہ ایک مسلمان مولانا تقریر کر رہے ہیں۔ تو میں آپ سے ملاقات کے لئے رک گیا۔ اتنی لمبی داڑھی والا مسلمان، پھر تلگو زبان میں تقریر ، قابل تعجب ہے۔ واقعی آپ نے جو بیان کیا ہے وہ صحیح ہے ۔ ہم لوگوں میں بہت سی خامیاں ہیں۔

کمشنر صاحب کو حیرت اس بات پر ہوئی کہ چونکہ حیدر آباد کے اکثر مسلمان تلگو زبان نہیں جانتے، اگر بعض جانتے بھی ہیں تو صرف کام چلانے کے لئے ۔

افسوس کہ اب سکندر آباد کربلا میدان کے یہ جلسے غیر مسلموں میں ایسے اب بےباک دعوت توحید پیش کرنے سے محروم ہو گئے ۔ ہر سال ان جلسوں میں شریک ہونے والے ہزارہا ہندو انہیں یاد کرتے رہیں گے ۔

مخفی نہ رہے کہ

سکندر آباد علاقہ کی آبادی اکثریتی ہندو ہے جنکی تلگو ہی مادری زبان ہے ۔ اور اس میدان میں عاشوراء کے دن ہندو اور مسلم کا مشترک مجمع ہوتا ہے اور اس جلسہ میں ہزار ہا افراد شریک ہوتے ہیں۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

٭٭٭

نعت پاک

جس میں نہیں ہیں آپ سراسر رسول پاک ؐ

وہ آئینہ نہیں ہے برابر رسول پاک

میرے لیے تو پیڑ ہرا بھی گھنا بھی آپؐ

میرا مکاں ہے دھوپ کے رخ پر رسول پاکؐ

گیلی ہے میری خاک تو گردش میں چاک ہے

پیکر میں ڈھالیے مجھے چھو کر رسول پاکؐ

پیاسے لبوں کو آپ سے دو گھونٹ کیا ملے

حچتا نہیں ہے کوئی سمندر رسول پاکؐ

دل میں اتر کے رہ گیا اترا جو آپؐ پر

اب کیا پڑھیں صحیفۂ دیگر رسول پاکؐ

ہم وہ غلام بیعت ونسبت ہے آپؐ سے

ہم خاک چھانتے نہیں دردر رسول پاکؐ

میں آپ کےبغیر ادھورا تھا ہر جگہ

پورا ہوا ہوں آپ سے مل کر رسول پاکؐ

چلنے لگا ہوں آپ کی انگلی جو تھام کر

گم ہو سکوں گا بھیڑ میں کیوں کر رسول پاکؐ

کب خیر مہر وماہ کے سکوں میں بک سکا

قیمت لگا چکا ہے بہت شر رسولؐ پاک

ڈاکٹر رؤف خیر

اعتراف عجز

قربان میری جاں، مرے ماں باپ آپؐ پر

قربان آپؐ پر مرا گھر بھی رسول پاکؐ

ممکن نہیں ادا بھی ہو ماں باپ ہی کا حق

حق آپ کا ادا ہو کیوں کر رسول پاکؐ

ڈاکٹر رؤف خیر

٭٭٭

تبصرہ کریں