مشاہدات امریکہ(قسط 3)-ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

آج کی صحبت میں ان چند عجائب گھروں کا تذکرہ کرتا چلوں جو ہم نے مختلف ایام میں دیکھے،انگریزی کا میوزیم اور عربی کے متحف میں سے مجھے عربی تعبیر زیادہ موزوں نظر آتی ہےکہ اس کا ترجمہ ہوگا ۔ ’دارِ تحائف ‘۔ آپ خوشی سے اسے عجائب گھر کہہ لیں ۔

1۔ ہوائی جہازوں اور خلا نوردی کا میوزیم

امریکہ نے اس صنعت میں جو مقام پیدا کیا ہے تو اس کا عروج امریکہ کے متاحف میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ کئی سال قبل ہوسٹن (ٹیکساس) کا میوزیم دیکھ چکا ہوں کہ جس میں کسی موضوع پر قدیم ترین سے لے کر جدید ترین ایجادات سجا دی گئی تھیں ۔ چاند پر امریکہ کے اپالواا کے اترنے کی ساری کہانی تصاویر، مجسّمات اور خلائی اڑن کھٹولے کی شکل میں سامنے رکھ دی گئی تھی ۔

ہمیں اس بڑے سے ہال میں بھی جانے کا موقع ملا جہاں ہم تھیٹر نما کمرے کی عقبی سیٹوں پر یوں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے سامنے شیشے کی اسکرین تھی اور اس کے آگے خلائی جہاز کو فضا میں بلند کرنے ، زمین کی کشش کے زاویے سے نکلنے اور پھر چاند پر اترنے کے تمام مراحل کو کنٹرول کرنے والا عملہ اپنی اپنی نشستیں سنبھالےبیٹھا تھا ۔ ان کے سامنے ایک گرانڈیل ٹی وی اسکرین تھی جس پر وہ ساری کارروائی کو دیکھ سکتے تھے ، یہ واقعہ تو جولائی 1969 میں ہو چکا تھا۔ نیل آرمسٹرانگ نے چاند پر پہلا قدم رکھا تھا۔ پھر بالائی فضا میں خلائی اسٹیشن قائم کرنے اور خلانوردوں کووہاں لیجانے کا عمل جاری رہا کہ جس کا مشاہدہ بھی روٹین کے عمل میں داخل ہو گیا ۔

واشنگٹن کے میوزیم کا کیا کہنا!! اس ہال کی وسعت کا آپ خوب اندازہ لگا سکتے ہیں ، جس میں چھوٹے جہازوں کو چھوڑ یے ، بوئنگ کے مختلف سائز کے کئی جہاز بھی سما سکتے تھے۔ ہم نے جن تین مشینوں کو قریب دیکھنے کی کوشش کی، اس میں بوئنگ B29 کا وہ جہاز بھی تھا جس نے 1945 میں ہیرو شیما اور ناگاساکی (جاپان) پر بم برسایا تھا۔

خلاء نوردی میں استعمال ہونے والا ایک متوسط سائز کا وہ جہاز دیکھا جسے ڈسکوری ( DISCOVERY) کا نام دیا گیا تھا ۔

اور پھر برطانیہ و فرانس کی ملی بھگت سے وجود میں آنے والا دنیا کا تیز ترین مسافر جہاز جسے کا نکرڈ (CONCORD ) کہا جاتا ہے ۔

ہم پہلے اسی جہاز کا تعارف پیش کرتے ہیں، پھر باقی دونوں جہازوں کا تذکرہ کریں گے ۔

کانکرڈ نے اپنی پہلی پرواز 21اکتوبر 1976 میں کی تھی اور پھر 25 سال بعد 2001 میں اسے طاق نسیاں کے حوالے کر دیا گیا تھا ۔

کانکورڈ جس کی رفتار 1350 میل فی گھنٹہ بتائی جاتی ہے اور جو ساٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتا ہے اور جس نے نیویورک اور لندن کی چھ گھنٹے کی عام پرواز کو اس کے نصف وقت تک پہنچا دیا تھا ۔ اس زمانے کا ایک عجوبہ تھا اور اس لحاظ سے مجھے میوزیم کے لئے عجائب گھر کی اصطلاح کو سر فہرست رکھنا ہو گا ۔

اور پھر اسی جہاز کے حوالے سے مجھے ایک واقعہ یاد آیا۔

لندن میں اسلامی شریعت کونسل، مسلم کمیونٹی کے عائلی مسائل (نکاح، طلاق ، وراثت) کے مسائل کا سامنا کرتی ہے اور ان کے مناسب حل پیش کرتی ہے۔ کئی سال قبل ہمارے پاس وراثت کا ایک نادر معاملہ پیش کیا گیا تھا جس میں شرق اوسط کے ایک انتہائی امیر خاندان کے سربراہ کی وراثت کامسئلہ زیر بحث تھا۔ اس شخص کی دو بیویوں سے ہونے والی اولاد باہم سربگر یباں تھی۔

مسئلہ یہ تھا کہ متوفی نے رفاہی کا موں کے لئے اپنے کل جائیداد میں سے ایک تہائی کی وصیت کر رکھی تھی کہ جس کی شریعت میں گنجائش موجود ہے۔ یہ ایک تہائی (ثلث) پندرہ ملین ڈالر کے مساوی تھا ۔ فریقین (یعنی دو ماؤں کی اولاد) کے درمیان اس رقم پر اپنے اپنے استحقاق کا دعویٰ پیش کر رہے تھے ۔ ایک فریق برطانیہ میں اور دوسرا فریق امریکہ میں رہائش پذیر تھا۔

یہاں مجھے اس سارے قضیہ نامرضیہ کی تفصیل میں نہیں جانا ہے کہ اس کی شاخیں متعدد ممالک میں پھیلی ہوئی تھیں ۔مجھے صرف یہ بتانا ہے کہ

فریق ثانی نے اپنا اٹارنی (یعنی وکیل) نیویورک سے روانہ کیا جو کانکورڈ کی سواری کے مزے لیتا ہوا ہمارے سامنے صرف یہ کہنے کے لئے پیش ہوا کہ

ہم نہ ہی آپ کی کونسل کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی اس کے حلقہ صلاحیت (JURISIDICTION) کو اور یہ پیغام ہانکنے کے بعد وہ صاحب جو پچھلی رات کو وارد ہوئے تھے ، اگلی پرواز سے روانہ بھی ہو گئے۔

اب آئیے بمبار جہاز کی طرف!

پائلٹ نے اپنی ماں کے نام پر اس جہاز کا نام رکھا ہے یعنی (ENOLA GAY) اور جس بم کو اس نے اپنے بطن میں چھپا رکھا تھا اُسے (LITTLE BOY) کا نام دے رکھا تھا ۔ بتایا جاتا ہے کہ وزن کے اعتبار سے تو وہ 4400 کیلو گرا م کا حامل تھا لیکن تباہی و بربادی کے اعتبار سے اس بم کا دائرہ عمل گویا اس بم کے برابر تھا جس میں پندرہ ہزار کلو گرام کا بارود چھپا ہوا ہو ۔

اب کچھ DISCOVERY کا بیان ہو جائے!

یہ وہ جہاز ہے کہ جس میں خلا نورد سوار ہوتے ہیں اور جیسے تین راکٹوں کی مدد سے بالائی فضائیں پہنچایا جاتا ہے ۔ یہ راکٹ اپنی حیرت انگیز رفتار کی بنا پر اس جہاز کو زمین کی بالائی فضا (یعنی 4ر سو کیلومیٹر تا 6 سو کیلومیٹر کی بلندی کے مابین )تک پہنچا کر اپنا کام مکمل کر لیتے ہیں۔ پھریہ جہاز خلاء میں موجود اس خلائی اسٹیشن تک جا پہنچتا ہے جو پہلے سے خلاء میں گردش کر رہا ہے، اس محو پرواز جہاز کا اس متحرک خلائی اسٹیشن کے ساتھ اس طرح جڑ جانا کہ جہاز میں موجود خلا نورد اسٹیشن میں اتر سکیں اور وہاں پر موجود خلا نورد پھر اس جہاز میں سوار ہو سکیں، ایک عجوبہ روزگار مشن ہے جو خلائی تحقیق کے امریکی سنٹر NASA کا مرہون منت ہے اور یوں ان خلا بازوں کی ایک جماعت خلائی اسٹیشن میں اپنی مقررہ مدت گزارنے کے بعد زمین پر واپس آسکتی ہے اور اس کی جگہ دوسری پارٹی لے لیتی ہے ۔یہ خلا باز مختلف تجربات کرنے میں مشغول رہتے ہیں اور پھر ان کے مشاھدے ہیں آسمان کے وہ لاکھوں، کروڑوں بلکہ کھربوں سیاروں ، سیارچوں کا ایک نیا افق نمودار ہو جاتا ہے جو زمین کی آنکھ سے مشاہدہ کرنے والوں کے لئے میسر نہیں ہے۔ ڈسکوری نے 3 اگست 1984 کواپنی پہلی پرواز سے اپنی 27 سالہ سروس کا آغاز کیا تھا ۔ اس دوران اس نے 39 پروازیں پروازیں مکمل کیں،

زمین کے گرد 5830 چکر لگائے اور کوئی 148 ملین میل کا سفر طے کیا۔

24 میل کی بلندی پر اس مشن کی رفتار 2695 میل ریکارڈ کی گئی اور جوں جوں وہ بلند ہوتی گئی اس کی رفتار میں اضافہ ہوتا رہا ۔

٭ أفرو أمريكن (سیاہ فام امریکن) کا تاریخی میوزیم

برطانیہ آمد (1976) سے قبل مجھے امریکہ کی تاریخ کا اتنا تفصیلی علم نہ تھا۔ اسی سال امریکی سیاہ فام مؤلف ایلیکس ہالے (ALEX HALEY) کا مایہ ناز ناول بعنوان , ROOTS شائع ہوا۔ مؤلف اس سے قبل مالکم ایکس کی سوانح عمری پر مشتمل کتاب شائع کر چکا تھا جو خود اس کے لیے اپنے خاندان کے شجرۂ نسب کو جاننے اور اس کی جڑوں تک پہنچنے کی جستجو کا باعث بنا۔ اس کی یہ جد و جہد اسے سات نسلوں پہلے اس کے مورث اعلیٰ کے وطن گامبیا پہنچا گئی ۔ بالآخر وہ یہ جاننےمیں کامیاب ہو گیا کہ اس کے خاندان کا وہ پہلا فرد جو امریکی بحری قزاقوں کے تھوں پابند سلاسل ہو کر امریکہ لایا گیا تھا وہ اپنے قبیلے کا ایک معزز نوجوان تھا۔ جسے اس ناول میں کنٹو کنٹے KUNTU KINTE کا نام دیا گیا ہے ، اس کی ولادت 1822 کے لگ بھگ تھی ، اس کی د رد بھری داستان اس ناول کے صفحات پر پھیلی ہوئی ہے ، جو کہ سفید فام امریکیوں کی بہیمیت، بربریت اور غلاموں کے ساتھ ان کے غیر انسانی سلوک کی ایک جیتی جاگتی تصویر پیش کرتی ہے۔

1977 میں اس کہانی کو ٹیلی ویژن سیریز کی شکل میں پیش کیا گیا تو اس نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ، کوئی 130 ملین کے قریب ناظرین سے اسے پذیرائی ملی ۔ اس کی زندگی اس عزم کے ساتھ گزرتی رہی کہ ’’یا تو کوئی راستہ ڈھونڈ لو یا پھر خود راستہ بنالو ۔‘‘ جہاں مؤلف کو اس کتاب کی وجہ سے شہرت دوام حاصل ہوئی وہاں اس کتاب نے سفید فام امریکہ کی تاریخ کا ایک سیاہ باب بھی روز روشن کی طرح عیاں کر دیا ۔

2016 یعنی کوئی سات سال قبل واشنگٹن کی مرکزی شاہراہ ( شارع دستور) پر تعمیر کردہ اس میوزیم نے اٹھارویں اور انیسویں صدی میں مغربی افریقہ سے جاری بردہ فروشی کے نتیجہ میں یہاں ایک دوسری قوم کی جڑیں گہری ہونا شروع ہو گئیں، یہ وہ قوم تھی جسے پہلے تحقیری انداز میں نیگرو کے نام سے نوازا گیا اور اب سے آفر وامریکن نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ ان دونوں القابات میں پھیلی ہوئی ساری تاریخ اس میوزیم میں سمو دی گئی۔

شارع دستور پر جب ہم اس عظیم عمارت سے کچھ فاصلے پر گاڑی سے اُترے تو شدید بارش نے آلیا ۔ اتنی شدید بارش کہ بھاگ دوڑ کے عالم میں گیٹ تک پہنچے جہاں زائرین میوزیم کا اچھا خاصا ہجوم تھا ۔ معلوم ہوا کہ داخلے کے لئے پہلے انٹرنیٹ پر پیشگی رجسٹر یشن مطلوب ہے، اور وہ اس لیے کہ جب سے یہ میوزیم کھلا ہے، زائرین کا بے پناہ رش ہے۔ صرف پچھلے سال کل زائرین کی تعداد 10 لاکھ سے متجاوز کر گئی تھی، اس لیے انٹرنیٹ کے وقت زیارت کی نشاندہی کے ساتھ ٹکٹ جاری کیا جاتا ہے یعنی ایک گھنٹے میں جتنے زائرین کے آنے کی گنجائش ہو سکتی ہے ۔ دن کے اس گھنٹے میں اتنے ہی لوگ ٹکٹ کے مستحق ہوں گے۔

لیکن موسم کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے دربان نے ہمارے جیسے کئی (بلا ٹکٹ) افراد کو اندر آنے کی اجازت دےدی ۔

اس میوزیم کی وسیع و عریض 10 منزلہ عمارت میں کیا کچھ ہوگا، وہ ہمارے علم سے باہر ہے،ہم اتنا جانتے ہیں کہ اس کی پانچ منزلیں زمین سے بالا بالا ہیں اور پانچ زیر زمین۔

نقشے کے حساب سے نچلی منزلوں ہی میں ہماری دلچسپی کا سامان تھا یعنی سیاہ فام امریکیوں کی تاریخ، بالائی منزلوں میں ان کی ثقافت اور تمدن کو ظاہر کیا گیا تھا۔

ہم نچلی منزل کی طرف ہولئے۔ دیکھا کہ ہمارے سامنے ایک طویل قطار ہے، ہم بھی اس کے ساتھ رینگتے آگے بڑھتے رہے ۔ کوئی 15، 20 منٹ کے بعد جب ذرا آگے پہنچے تو انکشاف ہوا کہ یہ سب لوگ لفٹ کے انتظار میں ہیں۔ ایک بڑی سی لفٹ جس میں غالباً پچاس آدمی تو سما سکتے ہوں گے ، لوگوں کو سب نچلی منزل لے جا رہی تھی۔

ہم اپنی باری آنے پر لفٹ میں داخل ہوئے اور منزل مقصود پر پہنچ کر کئی ہالوں ، غلام گردشوں اور معلوماتی ویڈیو سے بھر پور کمروں کا طواف کرنے پر مجبور ہو گئے ۔

یہاں ’’دور غلامی ‘‘ کے چیدہ چیدہ واقعات کو تصاویر، ماڈلز، جگہ جگہ اسکرین کی مدد سے صوتی بصری مناظر اور دیگر کئی ذرائع سے اجاگر کیا گیا ہے۔

ایسے وثیقہ جات ، اخبارات اور اشتہارات بھی جلوہ گر نظر آئیں گے جن میں غلاموں کی منڈیاں دکھائی گئی ہیں جہاں ان کے جسم، جان اور جنس کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کیا جاتا تھا ، ایسے اعلانات بھی دیکھے کہ جن میں مفرور غلاموں کی پکڑ دھکڑ پر انعامات کی پیشکش کی گئی ہے۔

ریل گاڑی کا وہ پورا ڈبہ موجود ہے جس میں ایک طرف سے آپ داخل ہوں تو پہلے سفید فام لوگوں کی نشستیں نظر آئیں گی ، ان کا صاف ستھرا ٹائلٹ اور سگریٹ نوشی کا ایک کونہ نظر نواز ہوگا اور پھر ڈبے کے آخری حصے میں سیاہ فام افراد کی نشستیں ایک کم تر معیار کے ساتھ ترتیب دی گئی تھیں ۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ پہلا حصہ فرسٹ کلاس والوں کے لئے ہے تو دو سرا سیکنڈ کلا والوں کے لئے۔

یہ تفریق تو اب ہر جگہ جاری ہے ۔ اس زمانے میں آپ کی کھال کا رنگ آپ کی نشست کا تعین کرتا تھا، تو اب آپ کی جیب آپ کی نشست کا تعین کرتی ہے ۔

سیاہ فام افراد نے تقریبا 1860 ء سے اپنے حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد کا آغاز کر دیا تھا اور ان کی خوش قسمتی تھی کہ انہی سالوں میں انہیں امریکہ کے سولہویں صدر ابراهام لنکن کا زمانہ نصیب ہوا، جس نے سیاہ فام غلاموں کی آزادی کے لئے سب سے پہلے آواز بلند کی اور جس کی خاطر پانچ سال بعد اسے اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کرنا بڑا لیکن اس کی جدوجہد رائیگاں نہیں گئی ، اسی سال (یعنی 1865ء) میں دستور کی 13 ویں ترمیم کے مطابق امریکہ میں بردہ فروشی ممنوع قرار دی گئی۔

لیکن کیا سیاہ فام افراد کو مختلف حقوق حاصل ہو سکے کہ جن میں ووٹ دینے کا حق سر فہرست تھا ؟ نہیں! یہ جد و جہد آج تک جاری ہے ۔

لیکن یہاں ہم اسی جدوجہد کے نمایاں سنگ میل کا مختصر تذکرہ کئے دیتے ہیں کہ جن میں ان کی بے کسی اور بے چارگی بھی نمایا تی ہے اور ان حقوق کا بیان بھی ہے جو انہیں بتدریج حاصل ہوتے رہے۔

بتایا گیا کہ اس میوزیم کی ملکیت میں تقریباً چالیس ہزار کے قریب وہ مواد (ITEMS) موجود ہیں جن سے یہ تاریخ مرتب ہوتی ہے لیکن فی الحال چار ہزار مواد ہی کو قابل نمائش رکھا گیا ہے۔

اب آئے ان تاریخی سنگ میل کی طرف !

1862 : غلاموں پر طرح طرح کی پابندیاں عائد ہیں۔ سفید فام اور سیاہ فام فوجیوں کی تنخواہ میں بھی تفاوت پایا جاتا ہے۔

1863 : ابراہام لنکن نے غلاموں کی آزادی کا وہ منشور پیش کیا جو بالآخر دو سال بعد دستور کی 13 ویں ترمیم کے ذریعہ قانونی شکل اختیار کر گیا لیکن اسی سال (یعنی 1865ء) کے اوائل میں لنکن کو قتل کیا جا چکا تھا اور اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے جنوب کے 35 لاکھ غلاموں کی آزادی کا نعرہ لگایا تھا۔

اور اسی سال ( Ku KLux KLAN )یا (KKK) نامی سفید فام باشندوں کی ایک متعصب جنونی تنظیم کا آغاز ہوا جس کا مقصد وحید سیاہ فام لوگوں کو ناحق قتل کرنا اور ان کی لستبوں کو جلانا تھا ۔ انہوں نے کئی ریاستوں میں اپنی بربریت اور سفاکیت کے مظاہرے جاری رکھے۔ 1921 ء تک امریکہ کی 27 ریاستوں میں ان کے ممبران کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز ہو چکی تھی ۔ سفید فام لوگوں نے اپنی اکثریت کے زعم میں سیاہ فام اقلیت کے اکاد کا افراد کو LYNCHING کا بھی نشانہ بنایا گیا۔ یعنی بغیر کسی قانونی کارروائی کے ایک شخص پر اتنا تشدد کرنا کہ وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اور یہ سلسلہ 1955ء کے بعد تک جاری رہا۔ اس سال ایک 14 سالہ لڑکے کی ھتھیا کی گئی جس کا جرم یہ تھا کہ اس نے ایک سفید فام عورت سے مسخرہ پن کرتے ہوئے سیٹی بجائی تھی۔ اس کے قتل میں دو سفید فام ملوث تھے اور جب مسئلہ عدالت میں پیش ہوا تو سفید فام جیوری نے دونوں کو بری کر دیا ۔

اس مذموم فعل کی عقوبت کا بل بار بار کانگریس میں پیش ہوا لیکن سینیٹ نے اُسے پاس ہونے سے روک دیا ۔ یہ کوئی 2005 میں جاکر سینیٹ نے اپنے اس قابل مذمت فعل پرندامت کا اظہار کیا اور معذرت پیش کی۔

غلامی کے خاتمے کے بعد سیاہ اقوام افراد ان حقوق کا مطالبہ کرتے رہے :

٭ انہیں ووٹ دینے کا مساوی حق دیا جائے ۔ اس حق کو دبانے کے لئے کبھی ناخوانده حضرات کو حق نہ دیا جانے کی بات کی گئی اور کبھی ان پر دو ڈالر پول ٹیکس عائد کر کے ووٹرز لسٹ سے باہر کیا گیا ۔

ور کبھی یہ امتحان لیا گیا کہ ووٹر دستور کی ایک شق پڑھ کر اس کی شرح کر سکتا ہے یا نہیں ۔

٭ ذرائع مواصلات (ٹرین – بس) میں دونوں قوموں کی نشستوں کے درمیان تفریق نہ رکھی جائے اور ایسے ہی پبلک مقامات میں کبھی تفریق روا نہ رکھی جائے۔

٭اساتذہ کی تنخواہ مساوی ہونی چاہیے چاہے وہ گورے ہوں یا کالے ۔

٭ سول رائٹس ایکٹ ( حقوق مدنیہ کا بل) پاس کیا جائے جو بالآخر 1957 ء میں منظور کیا گیا اور امریکہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سنٹرل ہائی اسکول میں نو سیاہ فام طلبہ کو داخلہ دیا گیا۔

سیاہ فام افراد میں مالکم ایکس اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے تحریک آزادی غلامان کے ضمن میں نمایاں شہرت حاصل کی اور ان دونوں افراد یعنی مالکم ایکس کو 1965 ء میں اور مارٹن لوتھر کنگ کو 1968 ء میں بے دردی سے قتل کر دیا گیا ، مالکم ایکس کے قتل میں خود اس کی اپنی جماعت ملوث تھی کہ جس کے نظریات سے اس نے اختلاف کیا تھا ۔

سول رائٹس کے ایک مظاہرے میں مارٹن لوتھر کنگ کی مشہور زمانہ تقریر بعنوان

’’میرا ایک خواب ہے ‘‘زبان زد عام ہوئی ۔

1964 ء میں بعہد صدر لنڈن بی جانسن سول رائٹس کا بل پاس ہو سکا ۔

1965 ء میں سیاہ فام افراد کو ووٹ کا حق دیا گیا ۔

اوراس کے بعد کانگریس کے دروازے ان پر کھلنا شروع ہوئے ۔

محمد علی کلے امریکیوں کے لیے باعث صد افتخار بنتا گیا ۔

1995 ء میں لوئیس فرخان نے واشنگٹن میں ایک ملین مارچ کا کامیاب مظاہرہ کیا ۔

1998 ء : KKK کی بربریت کا ایک اور مظاہرہ۔

تین افراد ایک شخص کو اپنے پک اپ ٹرک کے پیچھے زنجیر سے باندھ کر گاڑی کو دوڑا دیتے ہیں کہ جس کے نتیجے میں اس شخص کی دردناک طریقے سےموت واقع ہو گئی ۔

اکیسویں صدی کے آغاز میں جارج بش کی صدارت کا آغاز ہوا اور اس کے ساتھ ہی چند سیاہ فام مقتدر ہستیوں نے اعزازات حاصل کئے ۔ کولن پاول (سیکرٹری آف اسٹیٹ)، کونڈا لیزا رائیس ( مشیر قومی سلامتی اور پھر سیکرٹری آف اسٹیٹ)

اور راؤ پیچ (سیکرٹری تعلیم) کی حیثیت سے متعین کیے گئے۔

2008 ء میں بارک اوباما کے صدر منتخب ہونے سے ایک تاریخ رقم ہوگئی ۔

اب ہم 2024 میں داخل ہو چکے ہیں ۔ سیاہ فام افراد کے اکاد کا ناحق قتل کئے جانے کے واقعات ابھی تک رونما ہو رہے ہیں لیکن اب قانون کی بالا دستی کے واقعات بھی دیکھے میں آنے لگے ہیں۔ (جاری ہے)

٭٭٭

 

تبصرہ کریں