نفسانی خواہشات کافتنہ(مضرات اور بچاؤکےطریقے)۔حافظ زبیر بن خالد مرجالوی

إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطانِ الرَّجِيمِ بِسمِ الله الرحمن الرحيم

﴿أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ أَفَأَنتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا ﴾ (سورۃ الفرقان : 43)

’’ کبھی تم نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو۔‘‘

عربی زبان میں ’ہوا‘ خواہش کو کہتے ہیں اور ’ہوا‘ کے معنی پستی کی طرف اترنا ہے۔ یعنی جب انسان ہوائے نفس کی پیروی شروع کر دیتا ہے تو انتہائی گہرائیوں میں گرتا چلا جاتا ہے اور آخر کار یہ راستہ اسے جہنم میں لے جاتا ہے۔

یا درکھیں! انسان اپنے ظاہری دشمنوں سے بچنے کی تدابیر بنالیتا ہے لیکن اس کا باطنی دشمن اس کو اتنا نقصان پہنچا جاتا ہے کہ اسے خبر تک نہیں ہوتی۔ ظاہری دشمن تو صرف انسان کی جان کے دشمن ہوتے ہیں لیکن باطنی دشمن انسان کے ایمان تک کو برباد کر دیتا ہے جو جان سے بہت زیادہ قیمتی اور عزیز ہے۔

نفسانی خواہشات کے دنیوی واخروی نقصانات

انصاف کے علمبردار بنو، خواہشات کے تابع نہ بنو :

خواہشات کی پیروی نہ کرنے کا رب تعالیٰ نے حکم دیتے ہوئے فرمایا:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا ۚ وَإِن تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ﴾ (النسا : 135)

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو،اگر چہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو ۔ فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب ، اللہ تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ ہے ۔ لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو ۔ اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ کو اس کی خبر ہے۔‘‘

خواہشات کے تابع کو اپنا بر اعمل خوشنما لگتا ہے:

جیسا کہ ارشاد ہے:

﴿ أَفَمَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُم ﴾

’’بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف وصریح ہدایت پر ہو، وہ ان لوگوں کی طرح ہو جائے جن کے لیے ان کا برا عمل خوشنما بنادیا گیا ہے اور وہ اپنی خواہشات کےپیرو کار بن گئے ہیں؟‘‘(سورة محمد :14)

خواہشات کا تابع ظالم ہے:

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلَئِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ بِكُلِّ آيَةٍ مَّا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ ۚ وَمَا أَنتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ ۚ وَمَا بَعْضُهُم بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ۚ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ إِنَّكَ إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ﴾

’’تم ان اہل کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آؤ ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں، اور نہ تمہارے لیے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلے کی پیروی کرو، اور ان میں سے کوئی گروہ بھی دوسرے کے قبلے کی پیروی کے لیے تیار نہیں ، اور اگر تم نے اس علم کے بعد ، جو تمہارے پاس آچکاہے، ان کی خواہشات کی پیروی کی تو یقیناً تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا۔‘‘ (سورۃ البقرة: 145)

خواہشات کا تابع اپنی خواہش کو الٰہ بناتا ہے:

ہم اللہ کی باتیں اس لیے مانتے ہیں کہ وہ ہمارا رب ہے اور یا درکھیں ! جو اللہ کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کے پیچھے لگے، اس نے اللہ کے بجائے اپنی خواہشات کو اپنا رب بنارکھا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ أَفَأَنتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا﴾ (سورۃ الفرقان: 43)

’’کبھی تم نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو۔ ‘‘

خواہش نفس کا خدا بنا لینے سے مراد اس کی بندگی کرنا ہے، اور یہ بھی حقیقت کے اعتبار سے ویسا ہی شرک ہے، جیسابت کو پوجنا یا کسی مخلوق کو معبود بنانا۔

امام فضیل بن عیاض ﷫ فرماتے ہیں:

’’جس انسان پر خواہشات غالب آگئی ہوں، اور وہ شہوات کے پیچھے پڑا ہو، اس کے لیے توفیق کے راستے بند کر دیے جاتے ہیں۔‘‘ (روضۃ المحبین:ص 479)

امام شافعی ﷫ فرمایا کرتے تھے :

“إِذَا حَارَ وَهْمُكَ فِي مَعْنَيْنِ وَأَعْيَاكَ حَيْثُ الْهَوَى وَالصَّوَابِ فَدَعْ مَا هَوَيْتَ فَإِنَّ الهوى يَقُوْدُ النَّفْسَ إِلَى مَا يُعَابُ.”

’’جب تمہارا ذہن دو چیزوں میں سے ایک کے اختیار کرنے میں حیران ہو اور خواہش نفس اور صواب تمہیں تھکا دیں ( کہ کونسی چیز اختیار کی جائے ) ۔ تو جس چیز کی تمہیں خواہش ہو رہی ہے، اسے چھوڑ دو۔ بے شک خواہشات نفس کو اس چیز کی طرف لے جاتی ہیں جو انسان کے لیے عیب والی ہوتی ہے۔‘‘

(بہجۃ المجالس وأنيس المجالس :ص 171)

خواہشات کے تابع خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں :

ظاہر ہے جو شخص خود گمراہ ہے، وہ دوسروں کے لیے بھی گمراہی پھیلانے کا کام کرے گا اور سب سے بڑا گمراہ تو وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی باتوں کے بجائے اپنے نفس کی باتیں مانتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوا أَهْوَاءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا مِن قَبْلُ وَأَضَلُّوا كَثِيرًا وَضَلُّوا عَن سَوَاءِ السَّبِيلِ﴾ (سورۃ المائدة: 77)

’’کہو، اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلونہ کرو اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے خود گمراہ ہوئے اور بہتوں کو گمراہ کیا اور ’’سواء السبیل ‘‘ سے بھٹک گئے۔‘‘

خواہشات کے تابع ہدایت یافتہ نہیں ہوتے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ ۚ قُل لَّا أَتَّبِعُ أَهْوَاءَكُمْ ۙ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ ﴾ (سورۃ الانعام :56)

’’اے محمد ( ﷺ ) ، ان سے کہو کہ تم لوگ اللہ کے سوا جن دوسروں کو پکارتے ہو، ان کی بندگی کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے۔ کہو، میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا، اگر میں نے ایسا کیا تو گمراہ ہو گیا ، راہِ راست پانے والوں میں سے نہ رہا۔‘‘

خواہشات پرست گمراہ کن با تیں کرتے ہیں :

جیسا کہ ارشادربانی ہے:

﴿وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَائِهِم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِينَ ﴾(سورۃ الانعام:119)

’’آخر کیا وجہ ہے کہ تم وہ چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حالانکہ جب چیزوں کا استعمال حالتِ اضطرار کے سوا دوسری تمام حالتوں میں اللہ نے حرام کر دیا ہے، ان کی تفصیل وہ تمہیں بتا چکا ہے۔ بکثرت لوگوں کا حال یہ ہے کہ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کن باتیں کرتے ہیں، ان حد سے گزرنے والوں کو تمہارا رب خوب جانتا ہے۔‘‘

خواہشات کے تابع آیات کو جھٹلاتے اور قیامت کا انکار اور شرک کرتے ہیں:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿قُلْ هَلُمَّ شُهَدَاءَكُمُ الَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ هَٰذَا ۖ فَإِن شَهِدُوا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ ۚ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ﴾(الانعام : 150)

’’ان سے کہو کہ لاؤ اپنے وہ گواہ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ ہی نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے۔ پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو تم ان کے ساتھ شہادت نہ دینا، اور ہرگز ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور جو آخرت کے منکر ہیں اور جو دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر بناتے ہیں۔‘‘

خواہشات کا تابع طالبِ دنیا ہے اور اس کی مثال کتے کی مثال ہے:

اللہ تعالیٰ نے خواہش پرست کی ایک گندے ترین جانور کتے کے ساتھ مثال دیتے ہوئے فرمایا:

﴿وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَٰكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ ۚ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَث ۚ ذَّٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾ (سورۃ الاعراف: 176)

’’اگر ہم چاہتے اسے ان آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے ،مگر وہ تو زمین کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا، لہٰذا اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی کہ تم اس پر حملہ کرو، تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑ دو، تب بھی زبان لٹکائے رہے ۔ یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ تم یہ حکایات ان کو سناتے رہو، شاید کہ یہ کچھ غور و فکر کریں۔ ‘‘

اس کا مطلب یہ ہوا کہ خواہش پرست کا ایمان جاتا رہتا ہے اور جس کا ایمان ہی ختم ہو گیا اس کے پلے بھلا اور کیا ہوسکتا ہے!

ایک آدمی بیت اللہ میں طواف کر رہا تھا ، اس نے ایک خوبصورت عورت کو دیکھا تو اس کے پہلو میں جا کرکہنے لگا:

اهوی هَوَى الدِّينِ وَاللَّذاتُ تُعْجِبُنِي

فَكَيْفَ لِي بِهَوَى اللَّذَاتِ وَالدِّينِ

’’میں دین کی خواہشات میں مست ہوں ، اور لذتیں مجھے بھلی لگتی ہیں۔ تو میں کیسے لذتوں کی خواہشات اور دین کو ایک ساتھ جمع کرسکتا ہوں۔ ‘‘

اس پر وہ عورت کہنے لگی:

’’ان میں سے ایک کو چھوڑ دے دوسری کو پالے گا۔ خواہش پرستی اور دین کو ایک وقت میں جمع کرنا ممکن نہیں۔‘‘ (روضۃ المحبين: ص479)

خواہشات کا تابع اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل اور اسکا کام افراط و تفریط پر مبنی ہوتا ہے:

جیسا کہ ارشادربانی ہے:

﴿وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ۖ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا ‎﴾ (سورۃ الكہف: 28)

’’اور اپنے دل کو ان لوگوں کی معیت پر مطمئن کرو جو اپنے رب کی رضا کے طلب گار بن کر صبح و شام اسے پکارتے ہیں، اور ان سے ہرگز نگاہ نہ پھیر و۔ کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو؟ کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی اختیار کر لی ہے اور جس کا طریق کا را فراط و تفریط پر مبنی ہے۔‘‘

خواہشات کا تابع نماز کو ضائع کرتا ہے:

نماز تو اللہ کی بندگی ہے اور خواہش پرست بندگی کی طرف کسی طور پر بھی نہیں آتا ، لہٰذا خواہش پرست اپنی نمازیں اور دیگر اعمال خیر ضائع کر دیتا ہے:

﴿فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ ۖ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا﴾ ( سورة مريم : 59)

’’پھر ان کے بعد وہ ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشات نفس کی پیروی کی ، پس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دو چار ہوں۔‘‘

خواہشات کا تابع قیامت کی پرواہ نہیں کرتا:

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَن لَّا يُؤْمِنُ بِهَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَتَرْدَىٰ﴾ (سورۃ طہ: 16)

’’پس کوئی ایسا شخص جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے، تجھ کو اس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے، ورنہ تو ہلاکت میں پڑ جائے گا۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ سید نا علی بن ابی طالب فرمایا کرتے تھے :

“إِنَّمَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ اثْنَتَيْنِ: طُولَ الْأَمَلِ، وَاتَّبَاعَ الْهَوَى.”

’’میں تمہارے بارے میں دو چیزوں سے ڈرتا ہوں:

1۔لمبی امیدیں ۔ 2۔خواہشات کی پیروی

“فَإِنَّ طُولَ الْأَمَلِ يُنْسِي الْآخِرَةَ، وَإِنَّ اتَّبَاعَ الْهَوَى يَصُدُّ عَنِ الْحَقِّ وَإِنَّ الدُّنْيَا قَدْ تَرَجَّلَتْ مُدْبِرَةً، وَإِنَّ الْآخِرَةَ مُقْبِلَةٌ وَلِكُلِ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بَنُونَ، فَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الْآخِرَةِ، فَإِنَّ الْيَوْمَ عَمَلٌ وَلَا حِسَابَ، وَغَدًا حِسَابٌ وَلَا عَمَلَ.”

’’بے شک لمبی امیدوں سے آخرت بھول جاتی ہے اور خواہشات کی پیروی اتباع حق سے روکتی ہے۔ بے شک دنیا منہ موڑ کر چل پڑی ہے اور آخرت سامنے سے آرہی ہے۔ ان میں سے ہر ایک کی اولاد ( یعنی حصہ) ہے۔ پس تم آخرت والے بنو۔ اس لیے کہ آج کے دن عمل ہے کوئی حساب و کتاب نہیں اور کل کو حساب دینا ہے، پھر کوئی عمل نہیں کیا جاسکے گا۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ: 34495)

خواہشات کا تابع اللہ تعالیٰ کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿‏يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ﴾ (سورۃ ص:26)

’’(ہم نے اس سے کہا) اے داؤد! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہٰذا تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور خواہش نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی ۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں، یقیناً ان کے لیے سخت سزا ہے کہ وہ یوم الحساب کو بھول گئے۔‘‘

خواہشات کے تابع پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دیتا ہے:

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَىٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَن يَهْدِيهِ مِن بَعْدِ اللَّهِۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ﴾(سورة الجاثیہ:23)

’’پھر کیا تم نے کبھی اس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنالیا اور اللہ نے علم کے باوجود اسے گمراہی میں پھینک دیا اور اس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ؟ اللہ کے بعد اب اور کون ہے جو اسے ہدایت دے؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے ؟ ‘‘

اللہ کی ہدایت چھوڑ کر خواہشات کا تابع اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکتا:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَىٰ ۗ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ ‎﴾ (سورۃ البقرة: 120)

’’یہودی اور عیسائی تم سے ہر گز راضی نہ ہونگے ، جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو، صاف کہہ دو کہ راستہ بس وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے۔ ورنہ اگر اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آچکا ہے، تم نے ان کی خواہشات کی پیروی کی، تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے۔ ‘‘

خواہشات کا تابع اپنے وہم و گمان کا مرید ہے:

چونکہ وہ اللہ کی باتیں ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تو پھر اس کا گمان ہی اس کا رب ہوتا ہے اور وہ صرف اپنے گمان کی پیروی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَاءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَىٰ﴾ (سورۃ النجم : 23)

’’دراصل یہ کچھ نہیں ہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیئے ہیں! اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی ۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشات نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔ ‘‘

جو شخص اپنی خواہش کو عقل کے تابع رکھتا ہو اور عقل سے کام لے کر فیصلہ کرتا ہو کہ اس کے لیے صحیح راہ کون سی ہے اور غلط کونسی، وہ اگر کسی قسم کے شرک یا کفر میں مبتلا بھی ہو تو اس کو سمجھا کر سیدھی راہ پر لایا جاسکتا ہے، اور یہ اعتماد بھی کیا جا سکتا ہے کہ جب وہ راہ راست اختیار کرنے کا فیصلہ کر لے گا تو اس پر ثابت قدم رہے گا۔ لیکن نفس کا بندہ اور خواہشات کا غلام ایک شتر بے مہار ہے۔ اسے تو اس کی خواہشات جدھر جدھر لے جائیں گی وہ ان کے ساتھ ساتھ بھٹکتا پھرے گا۔ اس کو سرے سے یہ فکر ہی نہیں ہے کہ صحیح و غلط اور حق و باطل میں تمیز کرے اور ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کرے۔ پھر بھلا کون اسے سمجھا کر راستی کا قائل کر سکتا ہے ۔ اور بالفرض اگر وہ بات مان بھی لے تو اسے کسی ضابطہ اخلاق کا پابند بنادینا تو کسی انسان کے بس میں نہیں ہے۔

خواہش پرستی دنیوی زندگی تنگ ہونے اور اور لوگوں کی دشمنی کا سبب

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ لوگوں کے مابین پھیلی ہوئی دشمنی ، عداوت ، شر اور حسد کی اصل بنیاد خواہش پرستی ہے۔ جو کوئی اپنے نفس کی مخالفت کرتا ہے ، وہ اپنے دل، بدن ، اعضاء و جوارح کو آرام پہنچاتا ہے، خود بھی آرام میں ہوتا ہے اور دوسرے بھی اس سے راحت پاتے ہیں، اور جو کوئی خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے، وہ انتہائی تنگی کی زندگی بسر کرتا ہے، لوگ اسے نا پسند کرتے ہیں اور وہ لوگوں کو نا پسند کرتا ہے۔سیدنا عمر بن خطاب فرماتے ہیں:

’’اپنے نفسوں کو خواہشات کی پیروی سے روک کر رکھو۔ بے شک خواہشات کی پیروی شر کے آخری درجہ کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے۔ بے شک حق بات وزنی اور کڑوی ہوتی ہے اور باطل خفیف اور من پسند ہوتا ہے۔ کسی گناہ کا ترک کر دینا اس پر تو بہ کر کے اس کا علاج کرنے سے بہتر ہے اور بیشتر اوقات نظر انسان کے دل میں شہوت کے بیج ہوتی ہے اور ایک گھنٹے کی شہوت پرستی ایک لمبے زمانہ کے لیے حزن وملال کا سبب بنتی ہے۔‘‘ (البيان والتبين: ص454)

ابوبکر الوراق ﷫ فرماتے ہیں:

’’جب خواہشات نفس غالب آجائیں تو دل سیاہ ہو جاتا ہے، اور جب دل میں سیاہ ہو جائے تو انسان کا سینہ تنگ ہو جاتا ہے۔ جب انسان کا دل تنگ ہو جائے تو پھر اس کے اخلاق بگڑ جاتے ہیں۔ جب اخلاق خراب ہو جا ئیں تو لوگ اس سے بغض رکھتے ہیں۔ جب لوگ اس سے بغض رکھیں تو وہ بھی لوگوں سے بغض رکھتا ہے۔‘‘ (ذم الہوی: ص 29)

خواہش پرستی باعث ہلاکت:

سیدنا انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ثَلَاثُ مُهْلِكَاتٌ

تین چیزیں ہلاکت خیز ہیں: “فَهَوَى مُتَّبِعْ، وَشُحٌ مُطَاعٌ، وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ.”

1۔اطاعت کیا گیا بخل 2۔اور خواہشات جن کے پیچھے چلا جائے۔ 3۔اور انسان کا اپنے آپ کو اچھا لگنا (خود پسندی)۔ (شعب الایمان: 6865)

سید نا وہب بن منبہ ﷫ فرماتے ہیں:

“أَعْوَنُ الْأَخْلَاقِ عَلَى الدِّينِ الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا، وَأَوْشَكُهَا رَدّى اتِّبَاعُ الْهَوَى، وَمِنَ اتَّبَاعِ الْهَوَى الرَّغْبَةُ فِي الدُّنْيَا، وَمِنَ الرَّغْبَةِ فِي الدُّنْيَا حُبُّ الْمَالِ وَالشَّرَفِ، وَمِنْ حُبِّ الْمَالِ وَالشَّرَفِ اسْتِحْلَالُ الْمَحَارِمِ، وَمِنَ اسْتِحْلَالِ الْمَحَارِمِ يَغْضَبُ الله، وَغَضَبُ الله الدَّاءُ الَّذِي لَا دَوَاءَ لَهُ إِلَّا رِضْوَانَ الله، وَرِضْوَانُ الله دَوَاءٌ لَا يَضُرُّ مَعَهُ دَاءً، وَمَنْ يُرِيدُ أَنْ يُرْضِيَ رَبَّهُ يُسْخِطُ نَفْسَهُ، وَمَنْ لَا يُسْخِطُ نَفْسَهُ لَا يُرْضِي رَبَّهُ، إِنْ كَانَ كُلَّمَا ثَقُلَ عَلَى الْإِنْسَانِ شَيْءٍ مِنْ دِينِهِ تَرَكَهُ أَوْشَكَ أَنْ لَا يَبْقَى مَعَهُ شَيْءٌ .”

’’دینی اخلاق پر سب سے بڑے مددگار وہ لوگ ہیں جو اس دنیا سے بے رغبت ہیں، اور سب سے ردی اور بے کارلوگ خواہشات نفس کے پجاری ہیں۔ خواہش پرستی میں دنیا کی رغبت ہے اور دنیا کی رغبت میں سے مال و شرف کی محبت ہے اور مال و شرف کی محبت میں حرام کو حلال جاننا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال جاننا اللہ تعالیٰ کو غضبناک کرنا ہے، اور اللہ تعالیٰ کا غضب وہ بیماری ہے جس کی کوئی دوا نہیں، سوائے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے، اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ایسی دوا ہے جس کے ساتھ کوئی بیماری نقصان نہیں دے سکتی اور جو کوئی یہ چاہتا ہو کہ اپنے رب کو راضی کرلے، اسے اپنے نفس کو ناراض کرنا سیکھ لے اور جو کوئی اپنے نفس کو ناراض نہ کر سکے ، وہ اپنے رب کو راضی نہیں کر سکتا اور جب بھی ( کسی ) انسان پر کوئی دینی چیز گراں گزرتی ہے، اور وہ اس کو چھوڑ دیتا ہے تو قریب ہے کہ دین میں سے کچھ بھی اس کے پاس باقی نہ رہے۔‘‘ (ابن أبی شیبہ: 35168)

خواہش پرست کے لیے آخرت میں صرف خسارہ ہی ہے:

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿فَأَمَّا مَن طَغَىٰ ‎0‏ وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا 0‏ فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ 0‏ وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ 0‏ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ﴾ (سورۃ النازعات: 37۔41)

’’توجس (شخص) نے سرکشی کی ہوگی اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دی ہوگی اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈر گیا اور اپنے نفس کو خواہش سے روک لیا۔ تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے۔‘‘

امام شعبی ﷫ فرماتے ہیں: ’’خواہش پرستی کا نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہ انسان کو لے کر جہنم کے گڑھوں میں گرادیتی ہے۔‘‘ (سنن الدارمی: 395)

سید نا ابودرداء فرماتے ہیں: ’’جس انسان کی تمام تر فکر ہی اس کا پیٹ اور شرمگاہ ہو، اس انسان کا تر از وقیامت والے دن گھاٹے کا شکار ہوگا۔‘‘

(الزهد لا بن مبارک: ص621)

اس سے مقصود پیٹ اور شرمگاہ کی شہوت ہے۔

جہنم کو خواہشات نے گھیرا ہوا ہے:

اللہ تعالیٰ نے جہنم کے اردگرد خواہشات کو رکھ دیا ہے یا یوں کہیے کہ جنت کو خواہشات سے ڈھانپ دیا ہے جو بظاہر تو پرکشش ہیں مگر جو ان کی تکمیل کرے گا اس کا ٹھکانہ سوائے جہنم کے کچھ بھی نہیں۔ چنا نچہ سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَمَّا خَلَقَ اللهُ الْجَنَّةَ قَالَ لِجِبْرِيلَ : اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا، ثُمَّ حَفَّهَا بِالْمَكَارِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا ، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ ” قَالَ: ” فَلَمَّا خَلَقَ اللهُ النَّارَ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلُهَا، فَخَفَّهَا بِالشَّهَوَاتِ ثُمَّ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا»

”جب اللہ نے جنت کو پیدا کیا تو جبرائیل سے فرمایا: جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر واپس آئے، اور کہنے لگے: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم، اس کے متعلق جو کوئی بھی سنے گا وہ اس میں ضرور داخل ہوگا، پھر (اللہ نے) اسے مکروہات ( ناپسندیدہ) (چیزوں) سے گھیر دیا، پھر فرمایا: اے جبرائیل( )! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر لوٹ کر آئے تو بولے: اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اس میں کوئی داخل نہ ہو سکے گا، جب اللہ نے جہنم کو پیدا کیا تو فرمایا: اے جبرائیل ( )! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر واپس آئے اور کہنے لگے : اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! جو اس کے متعلق سنے گا اس میں داخل نہ ہوگا، تو اللہ نے اسے مرغوب اور پسندیدہ چیزوں سے گھیر دیا، پھر فرمایا: جبرائیل ( )! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے، جہنم کو دیکھا پھر واپس آئے اور عرض کیا: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم ! مجھے ڈر ہے کہ کوئی بھی ایسا نہیں بچے گا جو اس میں داخل نہ ہو۔‘‘ (سنن ابو داؤد: 4744)

نفسانی خواہشات سے بچاؤ کے طریقے

سوال یہ ہے کہ ان خواہشات میں گھرا ہوا شخص کس طرح چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان خواہشات نفسانیہ سے چھٹکارا صرف اللہ تعالیٰ کی خاص مدد اور توفیق ہی سے ممکن ہے۔ ہاں اس کے لیے کچھ معاون امور ہیں ، جو درج ذیل ہیں:

1۔ انسان اپنے نفس کے حق میں اور خواہش کے خلاف پختہ عزم کرلے۔

2۔ اس خواہش کے کھو جانے پر انسان اپنے نفس کو صبر کا گھونٹ پلا دے۔

3۔وہ قوت نفس پیدا کرے جو صبر کے گھونٹ کو پینے کے لیے انسان کو بہادر بنادے اور لمحے بھر کا صبر ہی بہادری ہے۔ صبر کے سبب ہی سے انسان بہترین زندگی پاتا ہے۔

4۔لمحہ بھر کا غور وفکر، جو اس کام کے نتیجے کو اچھا بنا دیتا ہے اور اس صبر کے گھونٹ کو باعث شفا بنا دیتاہے۔

5۔ انسان کا اس خواہش کی پیروی سے متعلق تمام تکالیف اور پریشانیوں پر غور وفکر کرنا۔

6۔ خواہش کے ترک پر اللہ تعالیٰ کے ہاں انسان کی قدر و منزلت بڑھ جاتی ہے، لوگ اس کی دل سے عزت کرتے ہیں اور یہ چیز خواہش کی پیروی میں موجودلذت سے کہیں زیادہ بہتر اور نفع بخش ہے۔

7۔ عفت کی چاشنی و حلاوت کو معصیت کی لذت پر ترجیح دینا۔

8۔ دشمن پر غلبہ کی صورت میں خوشی اور شکست کی صورت میں غصہ، غم اور دکھ ہوتا ہے اور اس کی وجہ بھی خواہش کا پورا نہ ہونا ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے بندوں میں سے اس کو پسند کرتے ہیں، جو اللہ کے دشمنوں کو شکست دے اور انہیں غصہ دلائے۔

9۔ اس بات پر غور وفکر کہ وہ خواہشات کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کو ایک بڑے ہی عظیم مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے جس کا حصول ترک خواہشات کے بغیر ممکن نہیں۔

10۔ اپنے نفس کے لیے ایسی چیز کو بھی اختیار نہ کرے جو اس کو حیوانات سے بدتر بنادے، کیونکہ حیوان اپنی طبیعت کے ساتھ نفع بخش اور نقصان دہ چیزوں میں تمیز کر لیتا ہے اور نفع بخش کو نقصان دہ پر ترجیح دیتا ہے جبکہ انسان کو تمیز کے لیے عقل جیسی عظیم نعمت عطا کی گئی ہے، اس کے باوجود اگر وہ نفع مند اور نقصان دہ چیزوں میں تمیز نہ کر سکے یا جاننے کے باوجود نقصان دہ کو ترجیح دے تو وہ چوپائیوں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔

11۔ وہ اپنے دل کو خواہش کی کھوج میں لگائے اور اندازہ کرے کہ اس سے، اس خواہش پرستی کے باعث، کتنے فضیلت والے کام فوت ہو گئے ہیں اور اسے کتنی ذلت اٹھانی پڑی ہے۔ کتنی ہی ایسی مبارک لذتیں اس خواہش پرستی سے ضائع ہو گئیں اور کتنے بلند مقامات کو شہوت پرستی نے گھٹادیا۔ انسان کے سر کو نیچا کرد یا اور اس کو قبیح و مذموم بنا دیا۔ اس خواہش پرستی نے اس کو ذلیل ورسوا کر دیا اور ایسی عارکو اس پر چسپاں کیا جسے کسی قسم کا محلول دھو نہیں سکتا۔ خواہش پرست کی آنکھ اندھے کی آنکھ ہوتی ہے۔

12۔ ہر صاحب عقل تصور کرے کہ جس چیز کی خواہش کر رہا ہے، اس سے وہ کیا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے؟ پھر اس کے حاصل ہو جانے کے بعد حالات کا جائزہ لے کہ اس نے کیا کھویا اور کیا پایا؟

13۔ اس چیز کو پوری ایمانداری کے ساتھ دوسرے کے حق میں تصور کرے پھر اپنے نفس کو اس کی جگہ پر رکھ کر غور کرے، کیونکہ کسی چیز کا حکم اس سے ملتی جلتی چیزوں کا حکم ہوتا ہے۔

14۔نفس کے مقابلہ میں غور و فکر کرے اور اس کے متعلق اپنے دین اور عقل سے سوال کرے، ان دونوں کا جواب یہی ہوگا کہ خواہش نفس کی کوئی حیثیت نہیں۔

15۔ انسان خواہش کی پیروی کی ذلت سے اپنے نفس کے حق میں خود دار ہو، کیونکہ جس نے بھی اپنی خواہش کی پیروی کی اس نے اپنے نفس میں اس کی ذلت کو ضرور پایا ہے۔ خواہش کی پیروی میں دھوکہ کھانے والا ، اس کو بڑا خیال کرنے والا لوگوں میں سے مرتبہ کے لحاظ سے ذلیل ترین شخص ہے۔

16۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دین، عزت، مال اور مرتبہ کی سلامتی اور مطلوبہ لذت کو پانے کے درمیان موازنہ کرے، تو وہ ان کے درمیان کوئی نسبت نہیں پائے گا، لہذا پتہ چلا کہ ان چیزوں کے بدلے مطلوبہ لذت کو خریدنے والا لوگوں میں سے سب سے زیادہ بے وقوف ہے۔

17۔ انسان کو اپنے نفس کے لیے خود دار ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنے دشمن کے قہر تلے نہ دب جائے کیونکہ جب شیطان کسی میں عزم و ہمت کی کمزوری اور خواہش کی طرف میلان دیکھتا ہے تو اس کے دل میں اس کے لیے لالچ پیدا کر دیتا ہے۔ وہ اس کو پچھاڑتا ہے اور خواہش کی لگام پہنا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے اس سے کرواتا ہے، لیکن جب وہ اس شخص میں شرف نفس، عزم کی قوت اور ہمت کی بلندی دیکھے تو اس کو نہیں بہکا سکتا۔

18۔ اس سے باخبر ہونا چاہئے کہ خواہش جس چیز سے بھی ملتی ہے اس کو فاسد کر کے رکھ دیتی ہے، اگر یہ علم میں واقع ہو جائے تو اس کو بدعت اور ضلالت کی طرف لے جاتی ہے اور اس میں واقع شخص خواہش پرست بن جاتا ہے، اگر تقویٰ میں واقع ہو جائے تو یہ ریا کاری اور مخالفت سنت کی راہ دکھاتی ہے، اگر اس کی آمیزش حکومتی معاملات میں ہو تو حاکم کو ظلم کرنے اور حق سے روکنے پر مجبور کر دیتی ہے، اگر یہ تقسیم میں داخل ہو جائے تو اس کو عادلانہ تقسیم سے ظالمانہ تقسیم کی طرف پھیر دیتی ہے اور اگر عبادت میں داخل ہو تو اس کو طاعت اور قربت سے نکال دیتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جس کے ساتھ بھی ملتی ہے اس کو خراب کر دیتی ہے۔

19۔ اس بات کا علم بھی ضروری ہے کہ انسان کے اندر شیطان کے داخل ہونے کا واحد راستہ خواہشات ہیں۔ شیطان انسان کے اندر داخل ہونے کے لیے اس کے گرد چکر لگاتا ہے کہ کہاں سے داخل ہو کر اس کے دل اور اعمال کو برباد کر دے تو سوائے خواہشات کے دروازے کے اس کو کوئی راستہ نہیں ملتا اور جب وہ ان خواہشات کے راستے سے جسم میں داخل ہو جاتا ہے تو وہ زہر کی طرح جسم کے ہر عضو میں سرایت کر جاتاہے۔

20۔ اللہ تعالیٰ نے خواہش نفس کو رسول پر نازل شدہ چیزوں ( قرآن وحدیث ) کے مخالف قرار دیا ہے اور اس خواہش کی پیروی کرنے والے کو رسول کی پیروی کرنے والے کے مقابلے میں ذکر کیا ہے۔ یوں لوگ دو قسموں میں منقسم ہیں: وحی کی پیروی کرنے والے اور خواہشات کے مطیع ۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس کا ذکر ہے۔ فرمایا:

﴿فَإِن لَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكَ فَاعْلَمْ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهْوَاءَهُمْ﴾(سورۃ القصص: 50)

’’اگر وہ آپ کی نہ مانیں تو جان لیں کہ وہ اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔“

21 ۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے متبع الھویٰ کو حیوانات میں سے حقیر ترین جانوروں کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ چنانچہ ایک مقام پر کتے کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا:

﴿وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَٰكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ ۚ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَث ۚ ذَّٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾ (سورۃ الاعراف: 176)

’’اگر ہم چاہتے اسے ان آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے ،مگر وہ تو زمین کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا، لہٰذا اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی کہ تم اس پر حملہ کر وتب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے رہے ۔ یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ۔ تم یہ حکایات ان کو سناتے رہو، شاید کہ یہ کچھ غور وفکر کریں۔‘‘

دوسری جگہ گدھے کے ساتھ تشبیہ دی:

﴿ كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَةٌ ‎0‏ فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍ﴾ (سورۃ المدثر: 50۔51)’’گویا کہ وہ بد کے گدھے ہیں، جو شیر سے بھاگے ہوں۔“

اور کبھی خواہش پرستوں کی صورتوں کو بندروں اور خنزیروں کی شکل میں تبدیل کر دیا۔

22۔ خواہشات کی پیروی کرنے والا اس لائق نہیں کہ اس کی اطاعت کی جائے اور وہ اقتدا اور اقتدار دونوں کے قابل نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو امامت سے معزول قرار دیا ہے اور اس کی اطاعت سے منع فرمایا ہے۔ رہی معزول دینے کی بات تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل سید نا ابراہیم کی دُعا کے جواب میں کہا تھا: ﴿لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ﴾ (سورۃ البقرة: 124)

’’یعنی میرا عہد امامت ظالموں کو نہیں پہنچ سکتا، اور ہر خواہش پرست ظالم ہے۔‘‘ (امام ابن القیم﷫ کی تحریر سے استفادہ)

٭٭٭

خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں

برطانیہ کی ایک مقتدر شخصیت چل بسی اپنے پیچھے ایک یاد گار زندگی چھوڑ گئے ہیں۔ حاجی میاں مصدق حسین بریڈ فورڈ کو اللہ پاک نے دولت کے ساتھ بڑا دل دیاتھا ، بریڈ فورڈ کی دینی اور کاروباری شخصیت حاجی میاں مصدق حسین جو مرکزی جمعیت اہل حدیث کے سابق رکن عاملہ اور رکن شوری اور امیر جمعیت اہل حدیث بریڈ فورڈ 8 تھے، دو تین سال سے وہ اپنے وطن مالوف سیالکوٹ منتقل ہو گئے تھے اور وہاں بھی ان کے کاروبار تھے ۔ 75 سال کی عمر میں ہارٹ اٹیک ہوا اور فوری ہسپتال منتقل کئے گئے مگر وقت موعود آ گیا اور وہ اللہ کو پیارے ہو گئے۔

پسماندگان میں اہلیہ تین فرزند میاں سلمان حسین، میاں عثمان حسین، میاں طاہر حسین اور ایک بیٹی اور اقارب و احباب اور ہزاروں چاہنے والے سوگوار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے میاں حاجی مصدق حسین کو دولت کے ساتھ بڑا دل عطا فر مایا تھا، اللہ کی راہ میں اور ضرورت مندوں کی دل کھول کر مدد کرتے تھے۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ اور اس کی 50سے زیادہ برانچوں کو جب بھی ضرورت پڑتی وہ دل کھول کر ان کا تعاون کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک ہمدرد اور نرم دل عطا فر مایا تھا اور یہی چیز انہیں ان شاء اللہ اب کام آئے گی اور ان کے حق میں صدقہ جاریہ اور باقیات الصالحات ثابت ہوگی۔

چند سال پہلے مرحوم نے عبقری انسان ڈاکٹر محمد بہاؤالدین (سلیمان اظہر ) جنہوں نے تحریک ختم نبوت کی 75 جلدیں لکھیں اور تاریخ اہل حدیث کی 15 جلدیں لکھ کر دنیا میں ایک نیا اور اہم کام انجام دیا ان کے اعزاز میں ایک عشائیہ دیا اور ملک اور بیرون ملک کے علماء و اسکالر شریک ہوئے اور مرکزی جمعیت اہلحدیث برطانیہ کے سینکڑوں لوگ مدعو تھے اور جتنے بھی مدعوتھے ان کی بڑی مثالی دعوت کی تھی۔ اللہ کریم انہیں قبر میں برزخ اور آخرت میں بہت بڑے اجر وثواب سے نوازے۔ آمین

ان کا آبائی وطن سیالکوٹ تھاو، ہ وہیں مدفون ہوئے قائد مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان و برطانیہ پروفیسر علامہ ساجد میر نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ ہزاروں لوگوں نے اشکبار آنکھوں سے ان کی نماز جنازہ ادا کی اور ان کے فرزندوں سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کے لئے دعائے خیر کی کہ

اللہ کریم ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل بخشے۔

برطانیہ میں مولانا شعیب احمد میر پوری، قاری ذکاء اللہ سلیم، افتخار احمد چوہدری، مولانا محمد عبدالہادی العمری، مولا نا محمد حفیظ اللہ خان المد نی، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، مولانا محمد ابراہیم میر پوری، حاجی عبد الغفور چوہدری، برادر عجائب خان، حافظ شریف اللہ شاہد، حافظ اخلاق احمد، مولانا شفیق الرحمن شاہین، حافظ اسامہ مدنی، چوہدری شاہین شوکت علی: چوہدری برکت علی، ابوحمزہ مدنی، حاجی الطاف حسین رحمانی، علی حسن کیمبرج، حافظ حبیب الرحمن جہلمی ، ڈاکٹر عبدالرب ثاقب اور دیگر علماء و قائدین نے اظہارتعزیت کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ کریم جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی لغزشوں سے درگز رفرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

کیا بھروسہ ہے زندگانی کا

آدمی بلبلہ ہے پانی کا

تبصرہ کریں