نیکی کے مواقع سے فائدہ اٹھائیے۔ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض الثبیتی

الحمد للہ! ہر طرح کی حمد وثنا اللہ ہی کے لیے ہے، کہ جس نے ہر چیز کو اُس کی ساخت بخشی، پھر اس کو راستہ بتایا، پرہیزگاری اپنانے میں اپنی طرف بڑھنے والے بندوں کی مدد فرمائی، دلوں میں اپنی مشیئت کے مطابق حکمت، نور اور پاکیزگی رکھی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہی وہ گواہی ہے جو نجات کا ذریعہ بنتی ہے اور درجے بڑھانے کی ضامن ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ ہمیشگی کے ساتھ کام کرنے والے تھے۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، اہل بیت پر اور صحابہ کرام پر۔

بعدازاں! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾(سورۃ آل عمران: 102)

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم کو موت نہ آئے، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘

نیکی اور بھلائی کے موسم آتے رہتے ہیں، مواقع اور دن آتے رہتے ہیں، جب بھی آتے ہیں، سمجھدار لوگ محنت کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، ہمت بلند کر لیتے ہیں، فضیلتوں کے زینے چڑھتے جاتے ہیں، یوں ان کی روحیں بلند ہو جاتی ہیں، ایمان کو غذا ملتی ہے، نیکیوں کا ذخیرہ بڑھ جاتا ہے، گزشتہ کوتاہیوں کا تدارک کرتے ہیں، آئیندہ دنوں کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، اپنی خطاؤں اور غلطیوں کی اصلاح کرتے ہیں اور کمی کوتاہی کو درست کرتے ہیں۔ لیکن جب یہ مواقع گزر جاتے ہیں تو ہم میں سے بعض لوگوں کی ہمت پست ہو جاتی ہے، جوش کم ہو جاتا ہے، اور ہمت کم ہو جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

’’ہر کام کا ایک عروج ہوتا ہے، اور ہر عروج پر زوال آتا ہے۔ جس کا زوال بھی میری سنت کے مطابق ہو گا، وہ ہدایت پا گیا، اور جس کا زوال کسی اور چیز کی طرف ہو گا، وہ ہلاک ہو جائے گا۔‘‘ (مسند احمد)

اس لیے ہمیں درست راستے کو منتخب کرنے کی فکر کرنی چاہیے، ہمیشہ اور سال کے ہر مہینے کے لیے صحیح طریقہ اپنانا چاہیے، کفایت کر جانے والا جواب، اور کامل علم نبی کریم ﷺ کے طرز عمل سے حاصل کرنا چاہیے، جسے سیدہ عائشہ نے بیان کیا ہے، جب ان سے علقمہ نے پوچھا کہ

“كيف كان عمل النبي ﷺ؟، هل كان يخص شيئًا من الأيام؟ قالت: لا، كان عمله ديمة” (صحیح بخاری؛ صحیح مسلم)

’’رسول اللہ ﷺ کا عمل کیسا تھا؟ کیا وہ کسی دن کو زیادہ عبادت کے لیے مختص کرتے تھے؟ تو سیدہ نے فرمایا: نہیں۔ آپ ﷺ مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرنے والے تھے۔‘‘

یعنی: آپ ﷺ کی نیکیاں جاری رہتی تھیں، وہ کبھی منقطع نہیں ہوتی تھیں۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

«أَحَبُّ الأعمالِ إلى اللهِ -تعالى- أَدْوَمُها، وَإِنْ قَلَّ» (صحیح بخاری؛ صحیح مسلم)

’’اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اعمال وہ ہیں جو دائمی ہوں۔ چاہے وہ کم ہی کیوں نہ ہوں ۔‘‘

یہ نبوی منہج اور عبادت گزاروں کا رویہ ہے جو بندے کو ہمیشہ اپنے خالق سے جوڑے رکھتا ہے، وہ ہمیشہ اس کی طرف متوجہ رہتا ہے، مستقل کی جانے والی کم عبادت ہی میانہ روی اور اعتدال ہے، یہ دل کے لیے بھی آسان ہے۔ اسے اس کا بوجھ محسوس نہیں ہوتا، نفس بھی اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے، کیونکہ اس میں تنوع پایا جاتا ہے۔ مستقل مزاجی سے کیا جانے والے تھوڑے اعمال بھی زیادہ ہوتے ہیں، نیت سچی ہو تو کئی گنا ہو جاتے ہیں، پھر نفس پر ان کے اثرات بھی بہترین ہوتے ہیں۔

یاد رکھو کہ تمہاری زندگی کی وہ گھڑیاں جنہیں تم بہت کم سمجھتے ہو، اگر ان میں کوئی نیک کام کر لو تو بہت بڑی کامیابی حاصل کر سکو۔

یہ حدیث ہماری توجہ اس طرف مبذول کراتی ہے کہ نیکی پر استقامت نیکی کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ ہونا یوں چاہیے کہ نیکی شروع ہو اور جاری رہے، کیونکہ جو جاری رہتا ہے وہ بلندی حاصل کر لیتا ہے اور عزت کما لیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا منہج بھی یہی ہے کہ

“أدومه وإن قل”

’’مستقل مزاجی، عبادت کم۔‘‘

نبی کریم ﷺ کے وہ صحابہ کہ جنہوں نے فضائل کے چشمے سے فیض حاصل کیا، تو ایسی چوٹیاں بن گئے جن کی اقتداء کی جاتی ہے، ان کی سیرتوں کی پیروی کی جاتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے نفل عبادت کا موقع تلاش کیا، ایسا عمل منتخب کیا جو وہ کر سکتا تھا، ایسی فرمان برداری کو چنا جس میں اس کا دل لگتا ہے اور جس کی طرف اس کا نفس مائل ہوتا تھا، جیسے نماز، صدقہ، نیکی، صلہ رحمی، وغیرہ۔

صحیح مسلم میں سیدہ ام حبیبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ صلَّى اثنتي عشرةَ ركعةً في يوم وليلة بُني له بهن بيت في الجنة»

’’جو ایک دن میں بارہ رکعتیں پڑھے گا، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیا جائے گا۔‘‘

سیدہ ام حبیبہ بیان کرتی ہیں:

«فما تركتُهنَّ منذ سمعتُهنَّ من رسول اللهﷺ»

’’جب سے میں یہ حدیث سنی ہے، میں نے انہیں کبھی نہیں چھوڑا۔‘‘

اسی طرح صحیح مسلم میں سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ

«كان آل محمد ﷺ إذا عملوا عملًا أثبتوه»

’’آلِ محمد جب کوئی نیکی کرتے تو اسے جاری رکھتے۔‘‘

اسی طرح صحیح بخاری میں سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر کے وقت بلال سے کہا:

«يا بلال، حدثني بأرجى عمل عملتَه في الإسلام، فإني سمعت دف نعليك بين يدي في الجنة. قال: ما عملت عملًا أرجى عندي أني لم أتطهر طهورا في ساعة ليل أو نهار إلا صليت بذلك الطهور ما كتب لي أن أصلي»

’’اے بلال! مجھے اسلام لانے کے بعد کے دور میں سے اس نیکی کے بارے میں بتاؤ جس سے تمہیں سب سے زیادہ امید ہو، کیونکہ میں نے جنت میں تمہارے جوتے کی چاپ سنی ہے۔ انہوں نے کہا:

میری وہ نیکی کہ جس سے زیادہ مجھے کسی چیز سے امید نہیں ہے، وہ یہ ہے کہ میں نے دن یا رات کے وقت جب بھی وضو کیا ہے تو حسب توفیق نماز ضرور پڑھی ہے۔‘‘

اسی طرح صحیح مسلم میں ہے کہ سیدنا ابن عمر بیان کرتے ہیں:

«بَيْنَمَا ‌نَحْنُ ‌نُصَلِّي ‌مَعَ ‌رَسُولِ ‌اللهِ ﷺ إِذْ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ:

‌اللهُ ‌أَكْبَرُ ‌كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ:

مَنِ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ:

عَجِبْتُ لَهَا! فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ:

فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ ذَلِكَ»

’’ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے کہ مجمعے سے ایک شخص نے کہا: اللہ بہت بڑا ہے! اللہ کے لیے بہت حمد وثنا ہے۔ ہم صبح وشام اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

یہ الفاظ کہنے والا کون ہے؟ مجمعے سے ایک شخص نے کہا: میں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: کیسے شاندار الفاظ ہیں۔ ان کے لیے آسمان کے دروازے کھلے تھے۔

سیدنا ابن عمر بیان کرتے ہیں: جب سے میں آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے، میں نے انہیں کبھی نہیں چھوڑا۔‘‘

تمہیں ارد گرد کامیاب لوگوں کی رفتار ضرور نظر آئے گی، اپنی قوم کے محنتی لوگوں کا حال ضرور نظر آئے گا، جنہوں نے بلند اہداف حاصل کیے ہیں، بڑے منافعے کمائے ہیں، اپنے دینی کاموں میں بھی اور دنیاوی اعمال میں بھی، یہ وہی لوگ ہیں جو ثابت قدم رہے، وقت کی قلت کے باوجود مستقل مزاج رہے۔ اگر کوئی شخص حفظ قرآن کے لیے تھوڑا سا وقت مختص کر دے، یا علم سیکھنے کے لیے تھوڑا سا وقت مستقل طور پر نکال لے، یا سیرت کے مطالعے کے لیے، کسی مفید مطالعے کے لیے، یا اولاد کے ساتھ بیٹھنے اور ان کی تربیت کرنے کے لیے، یا رضا کاری کے لیے، یا اللہ سے تجارت کے لیے، یا دنیاوی عمل کے لیے کچھ وقت ہمیشہ کے لیے مختص کر دے، تو لازمی طور پر اس کی مراد پوری ہو جائے گی، وہ اپنے اہداف حاصل کر لے گا، اسے دنیا میں ترقی ملے گی، فکر میں وسعت ملے گی، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا، وہ معاشرے کا ایک اچھا فرد بن جائے گا اور معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر پائے گا۔ مزید یہ کہ

جو شخص کسی نیک کام پر قائم ہو، پھر کبھی وہ بیمار ہو جائے، یا سفر پر چلا جائے، تو اسے اس عمل کا اجر پھر بھی ملتا ہی رہتا ہے۔

جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے حدیث میں فرمایا:

«إِذَا ‌مَرِضَ ‌الْعَبْدُ، ‌أَوْ ‌سَافَرَ، كُتِبَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا»

’’جب بندہ بیمار ہو جاتا ہے، یا سفر پر نکل پڑتا ہے، تو اسے ان اعمال کا اجر ملتا رہتا ہے جو وہ اپنے گھر میں تندرستی کی حالت میں کرتا تھا۔‘‘(صحیح بخاری)

اللہ مجھے اور آپ کو قرآن عظیم سے برکت عطا فرمائے! اس میں آنے والی آیات اور ذکر حکیم سے فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے! میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے اور آپ کے لیے اللہ سے معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو۔ یقینًا! وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

اللہ کی بے شمار نعمتوں پر حمد وثنا اسی کے لیے ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ خوبصورت نام اور با کمال صفات اسی کی ہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ رحمت وہدایت کے ساتھ مبعوث ہونے والے ہیں۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر اور صحابہ کرام بھی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔

بعدازاں! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔

اہم بات یہ ہے کہ

ہر معاملے میں اعتدال اور میانہ روی ضروری ہے۔ کیونکہ عبادت میں تکلف کرنے اور نفس کے ساتھ سختی کرنے کے نتیجے میں کمزوری آ سکتی ہے یا عمل پوری طرح چھوٹ سکتا ہے۔ اس سے تھکاوٹ، اکتاہٹ اور بے زاری بھی ہو سکتی ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص درست راستے سے ہٹ جائے، یا قابل مذمت مبالغہ آرائی کا شکار ہو جائے۔ اس لیے حدیث نبوی میں ایسے لوگوں کو توجہ دلائی گی کہ نبوی طرز عمل اختیار کریں۔

صحیح روایت میں سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے کہ

“جَاءَ ‌ثَلَاثَةُ ‌رَهْطٍ ‌إِلَى ‌بُيُوتِ ‌أَزْوَاجِ ‌النَّبِيِّ ﷺ، يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ ﷺ، فَلَمَّا أُخْبِرُوا كَأَنَّهُمْ تَقَالُّوهَا، فَقَالُوا: وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ ﷺ قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ؟! قَالَ أَحَدُهُمْ:

أَمَّا أَنَا فَإِنِّي أُصَلِّي اللَّيْلَ أَبَدًا، وَقَالَ آخَرُ: أَنَا أَصُومُ الدَّهْرَ وَلَا أُفْطِرُ، وَقَالَ آخَرُ: أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ ﷺ فَقَالَ:

أَنْتُمُ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا، أَمَا وَاللهِ إِنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِلهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ، لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي”.

’’تین لوگ رسول اللہ ﷺ کی بیویوں کے گھروں میں گئے اور ان سے نبی ﷺ کی عبادت کے بارے میں پوچھنے لگے، تو جب انہیں اس کے بارے میں بتایا گیا تو یوں لگا جیسے انہیں یہ عبادات کم لگی ہوں۔ انہوں نے کہا: ہم کہاں اور رسول اللہ ﷺ کہاں! ان کے تو اگلے اور پچھلے گناہ معاف ہیں۔ ایک نے کہا:

’’ میں تو ہمیشہ تہجد پڑھوں گا۔ ‘‘

دوسرے نے کہا:

’’ میں ہمیشہ روزے میں رہوں گا اور کبھی روزہ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘

تیسرے نے کہا:

’’میں عورتوں سے دور رہوں گا اور شادی نہیں کروں گا۔‘‘

جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا:

کیا تم ہو جنہوں نے ایسا اور ایسا کہا؟ اللہ کی قسم! تم سب کی نسبت میں اللہ سے زیادہ ڈرنے والا اور پرہیز گار ہوں، مگر میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، تہجد بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور شادیاں بھی کرتا ہوں۔ تو جو میری سنت کو پسند نہیں کرتا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘

اللہ کے بندو! رسول ہدایت پر درود وسلام بھیجو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں آپ کو یہی حکم دیا ہے۔ فرمایا:

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (سورۃ الاحزاب: 56)

’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘

اے اللہ! رحمتیں نازل فرما! محمد ﷺ پراور آپ ﷺ کی آل پر، جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں۔ تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔

اے اللہ! برکتیں نازل فرما! محمد ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھیں۔ تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔ ان سب پر سلامتی بھی نازل فرما!

اے اللہ! خلفائے راشدین سے راضی ہو جا! اصحاب ہدایت اماموں سے، ابو بکر، عمر، عثمان اور علی سے، تمام اہل بیت اور صحابہ کرام سے راضی ہو جا۔

اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنی معافی، کرم نوازی اور احسان فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما!

اے اللہ! اپنے اور دین کے دشمنوں کو تباہ وبرباد فرما! اے اللہ! اس ملک کو اور تمام مسلمان ممالک کو امن وسلامتی نصیب فرما!

اے اللہ! ہم تجھ سے جنت کا اور جنت کے قریب لےجانے والے تمام اقوال واعمال کا سوا کرتے ہیں۔ آگ سے اور آگ کے قریب لیجانے والے تمام اقوال واعمال سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔

اے اللہ! ہم تجھ سے ساری خیر کا سوال کرتے ہیں۔ جلد آنے والی اور دیر سے آنے والی، اس برائی سے جس کا ہمیں علم ہے اور اس برائی سے جس کا ہمیں علم بھی نہیں ہے۔ ہر برائی سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔ جلد آنے والی اور دیر سے آنے والی، اس برائی سے جس کا ہمیں علم ہے اور اس برائی سے جس کا ہمیں علم بھی نہیں ہے۔

اے اللہ! ہم خلوت وجلوت میں تیری خشیت کا سوال کرتے ہیں، غصے اور خوشی میں حق بات کہنے کی توفیق مانگتے ہیں، تنگی اور فراخی کے دور میں میانہ روی مانگتے ہیں۔ہم تجھ سے بے انتہا نعمتوں کا سوال کرتے ہیں، آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک مانگتے ہیں جو کبھی منقطع نہ ہو۔ تیرے چہرے کے دیدار کا لطف مانگتے ہیں، تیری ملاقات کا شوق چاہتے ہیں، مگر کسی نقصان کے بغیر، کسی گمراہ کن فتنے کے بغیر۔

اے اللہ! ہمیں بہترین سوال سجھا، بہترین دعا ہمارے دلوں میں ڈال دے، ہمیں بہترین کامیابی نصیب فرما، بہترین کامرانی عطا فرما، بہترین اعمال کی توفیق عطا فرما۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! بہترین دعائیں سجھا۔

اے اللہ! ہمارا ہر گناہ کو معاف فرما دے۔ ہماری ہر پریشانی کو دور کر دے، ہمارے قرض ادا کر دے، ہمارے ہر مریض کو شفا دے دے، ہمارے ہر آزمائش زدہ کو عافیت نصیب فرما دے، اپنی رحمت سے، اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے!

اے پروردگار عالم! اس کے اعمال اپنی رضا کے مطابق بنا۔

اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اس کے ولی عہد کو بھی ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔

تمام مسلمان حکمرانوں کو کتاب وسنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما!

اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! انہیں اپنی شریعت نافذ کرنے کی توفیق عطا فرما۔

﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ (سورۃ الاعراف: 23)

’’اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا، تو یقیناً! ہم تباہ ہو جائیں گے۔‘‘

﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾ (سورۃ الْحشر: 10)

’’اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے، جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی بغض نہ رکھ، اے ہمارے رب! تو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔‘‘

﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ (سورۃ البقرة: 201)

’’اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی! اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا!‘‘

﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ﴾ (سورۃ النحل: 90)

’’اللہ عدل، احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ بدی، بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے، تاکہ تم سبق لو۔‘‘

اللہ کو یاد کرو، وہ تمہیں یاد رکھے گا۔ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو، وہ تمہیں مزید عطا فرمائے گا۔

﴿وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ﴾ (سورۃ العنكبوت: 45)

’’اللہ کا ذکر اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو۔‘‘

٭٭٭

دعائے صحت

سابق ناظم نشر واشاعت مولانا حافظ عبد الاعلیٰ درانی﷾ (خطیب بریڈ فورڈ) ان دنوں فالج کی وجہ سے بیمار ہیں اور لکھنے میں بھی دقت محسوس کر رہے ہیں۔ ان سے فون پر بات ہوئی تو بتایا کہ کچھ دنوں سے طبیعت صحیح نہیں ہے۔حافظ صاحب نے جمال القرآن کے نام سے تفسیر لکھی ہے ، مصر کا چاند اور بہت سی کتابوں کے مصنف اور مؤلف ہیں۔

قارئین کرام سے گزارش ہے کہ وہ حافظ صاحب کے لیے دعا فرمائیں کہ اللہ کریم انہیں صحت کاملہ عاجلہ عطا فرمائے۔ آمین

٭٭٭

غربة المؤمن

محدث فضیل بن عیاض ﷫ فرماتے ہیں:

“كيف بك إذا بقيت إلى زمان شاهدت فيه ناسًا:لا يُفرِّقون بين الحقِّ والباطل، ولا بين المؤمن والكافر، ولا بين الأمين والخائن، ولا بين الجاهل والعالم،ولا يعرفون معروفًا ولا يُنكرون مُنكرًا؟”

’’اس زمانے میں تمہارا کیا حال ہو گا، جب تم لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ حق و باطل میں فرق کریں گے،نہ مومن و کافر میں،نہ امانت دار اور خائن میں،نہ جاہل اور عالم میں اور وہ معروف کو معروف نہیں سمجھیں گے، نہ منکر کو منکر جانیں گے۔‘‘

(الابانۃ الكبرى لابن بطہ: (24) 1؍188)

[ترجمانی: طاہر اسلام عسکری]

تبصرہ کریں