
الحمد للہ مجھے یورپ کے باڈر اور یوکرین سے متصل فن لینڈ جانے اور وہاں سے سمندر پار ریاست استونیا ESTONIA پہنچنے کا اتفاق ہوا جو سوویت یونین رشیا سے آزاد ہونے والی ایک ریاست ہے۔اس کے نام سے بھی کم ہی لوگ واقف ہیں اور ریاست بھر میں پائی جانے والی اکلوتی مسجد میں جب قدم رکھا اس وقت مرد درویش کی نصیحت بہت یاد آئی، اگر چیکہ اس سے پہلے کئی بار اس نصیحت کے مضمرات ذہن کو کریدتے رہے کہ مجھے یہ نصیحت کیوں کی گئی تھی، ہمارے ہاں کشف و کرامات کی باتیں بہت کم ہوتی ہیں ، اس میں رطب و یابس کی اتنی بھرمار ہوئی ہے کہ ان باتوں کی طرف طبیعت آسانی سے مائل نہیں ہوتی ، لیکن رؤیاء صالحہ ، الہامی نوعیت کے اشاروں اور مردم شناسی کی صلاحیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔
ہمارے استاذ گرامی نمونۂ سلف مولانا عبدالسبحان اعظمی رحمہ الله جن کی وضع قطع اور چال ڈھال سے اسلاف کی جھلک نمایاں تھی، آپ شيخ الحدیث مولانا نعمان اعظمی رحمہ اللہ کے دوسرے فرزند تھے ، اٹھارہ برس کی عمر میں شمالی ہند مئو سے عمر آباد تشریف لائے، دار السلام سے سند فضیلت، مدراس یوینورسٹی سے ؟؟؟؟
برس کی عمر میں وفات پائی اور اسی قریہ میں اپنے والد گرامی کے پہلو میں مدفون ہیں۔ مختلف امتحانات پاس کر کے جامعہ ہی میں مدرس متعین ہوئے۔
مولانا نعمان اعظمی فاضل جلیل استاذ کبیر شیخ الکل علامہ نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ سے شرف تلمذ پایا اور اجازہ حدیث حاصل کی تھی، محدث دہلوی کے حلقہ درس میں شمولیت بجائے خود ایک اعزاز تھا۔ علماء اجلہ اور دانشوران ملت، بشمول مولانا ابوالکلام آزاد نے محدث دہلوی کی عظمت اور علمی مرتبہ کاکا اعتراف کیا ہے۔ مولانا عبدالسبحان اعظمی پر پدری اثرات غالب تھے ، آپ کا ذوق عبادت زبان زد خاص و عام تھا۔ اگر صحت ساتھ دیتی تو مسجد میں سب سے پہلے داخل ہوتے اور عموماً سب کے آخر میں نکلتے ، فرمان رسول ﷺ وقلبه معلق بالمساجد کی عملی تصویر تھے، ذکر و اذکار کا اہتمام نہ صرف خود کرتے، اپنے شاگردوں کو بھی تلقین کیا کرتے بلکہ فضلائے جامعہ کو جو زمانۂ طالب علمی سے نکل کر کارواں زندگی کے دھارے میں شامل ہوچکے جو صاحب اولاد اور گردش لیل و نہار میں مصروف ہیں، انہیں بھی خط و کتابت میں تذکیر فرمایا کرتے کہ کشائش زندگی میں نہ چھوٹے تم سے آدا بِ سحر خیزی اور لذت اذکار۔
سال 1977 جامعہ میں جشن طلائی کی تیاریاں عروج پر تھیں، مولانا ان تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے شاگردوں کو خاص وظائف واذکار کرنے کی تاکید کیا کرتے کہ ظاہری کوششوں اور تدبیروں کے ساتھ ساتھ مسبب الاسباب کی طرف توجہ رکھیئے ، حقیقی کامیابی اسی وحدہ لاشریک کی توفیق سے ممکن ہے۔ بلاشبہ اس تاریخی جشن تعلیم کی کامیابی ٹھوس منصوبہ بندی، جہد مسلسل کے ساتھ دعاؤں اور انابت الی اللہ ہی کا نتیجہ رہی ہے ، ورنہ عمر آباد جیسے قریہ میں اس عالمی نوعیت کے پروگرام کا انعقاد محال تھا۔
مولانا کے ذمہ حدیث کی مختلف کتابوں کی تدریس تھی، آخری سال کے طلبہ کو صحیح مسلم پڑھاتے ، یہ بھی حسن اتفاق ہی ہے کہ مولانا کے والد گرامی شيخ الحدیث نعمان بھی صحیح مسلم پڑھاتے رہے اور ان کے فرزند شیخ انیس الرحمن بھی عرصہ تک یہی کتاب پڑھاتے رہے ، یہ رب العالمین کی توفیق ہی سے ممکن ہے کہ ایک مشہور درسگاہ میں تین نسلوں تک حدیث کی اہم کتاب کی تدریس چلتی رہی۔
ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء
مولانائے محترم اپنے شاگردوں کو خارجی اوقات میں مختلف کتابوں کے مطالعہ کا مشورہ دیا کرتے، نہیں معلوم کہ یہ کوئی غیبی اشارہ تھایا مولانا کی چھٹی حس کہ مجھے ایک کتاب کے مطالعہ کا حکم دیا، ’’زوال روما ‘‘ میں نہیں جانتا کہ ہجوم طلبہ میں مجھے اس کتاب کے مطالعہ کا حکم کیوں دیا ، جبکہ اس وقت ہماری جولان گاہ محدود سمٹی اور سکڑی ہوئی جیسے طالب علمانہ دور میں ہو سکتی ہے، اتنی ہی تھی اس وقت تو وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ کبھی یورپ پہنچوں گا وہاں کچھ دعوتی اور تعلیمی مواقع میسر آئیں گے،لیکن اللہ علیم وقدیر کی توفیق ہی سے یہ ممکن ہوا کہ یورپ پہنچا اور عام مقامات سے لے کر قصر شاہی بکنگھم پیلس میں جانے اور اصحاب حل و عقد کے ساتھ گفتگو کرنے کے مواقع ملتے رہے، و للہ الحمد
زمانہ قدیم میں روم جو کہ اٹلی کا دارالسلطنت ہے، سارے یورپ کے لیے مستعمل تھا، رومن امپائر کی وسیع و عریض حکومت شان و سطوت کی علامت تھی، اسی اعتبار سے رومن تہذیب ، رومی ثقافت عام اصطلاح تھی کہ محکوم قومیں حاکم قوتوں کی نقالی کرتی ہیں۔
کہاوت مشہور ہے :
“الناس علی دین ملوكهم “
سورہ روم کی شان نزول کے مطالعہ سے اس کی حیثیت کو مزید سمجھا جاسکتا ہے۔
مولانا نے عمر لائبریری میں اس کتاب کی جگہ کی نشاندھی بھی کر دی کہ فلاں الماری کے فلاں شیلف میں یہ کتاب رکھی ہو گی ، دراصل یہ کتاب ایڈورڈ گبن Edward Gibban کی مشہور کتاب سقوط اور زوال روم کا خلاصہ تھی ۔
THE HISTORY OF THE DECLINE AND FALL OF THE ROMANEMPIRE
مختلف لوگوں نے اس کتاب کے ترجمے اور خلاصے تیار کئے ، مجھے یہ تو یاد نہیں کہ اس کے مترجم یا ملخص کون تھے اور نہ ہی اس زمانہ میں اس کی زیادہ اہمیت تھی ، اس میں قوموں کے عروج و زوال کی داستان بیان کی گئی تھی، خصوصا رومن امپائر کے زوال کے مختلف اسباب بیان کئے گئے ، دینی، سماجی تنظیمی، معاشی اور معاشرتی و غیره ، گویا عروج کسی قوم کا پیدائشی حق نہیں اور پستی اور نکبت کسی کی دائمی قسمت نہیں۔ کامیابی اور ترقی کے لیے حالات کو سمجھتے ہوئے ذاتی یا شخصی مفادات سے بالا تر ہو کر درست وسائل کو بروئے کار لانا ضروری ہوتا ہے۔
اقبال کے بقول :
آتجھ کو بتاؤں میں تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سنان اول طاوس و رباب آخر
ہمارے استاذ محترم مولانا حفیظ الرحمن اعظمی نے ایک مناسبت سے یہ شعر پڑھتے ہوئے کہا تھا ۔ اقبال ایک شاعر ہی نہیں بڑے فلسفی بھی تھے ، قوموں کے عروج و زوال کا فلسفہ انہوں نے ایک ہی شعر میں نچوڑ کر رکھدیا ۔
اگر قومیں وقت کی رفتار کو نہ سمجھیں تو باہمی چپقلش ، ریشہ دوانیاں ، معاشی بحران اور نظم و نسق کی کمزوری ان کی تباہی کا سبب بنتی ہیں، مجھے کئی بار دعوتی اور تعلیمی غرض سے اٹلی جانے کا اتفاق ہوا ۔ یہاں ہم نے قدیم رومن تہذیب کے خدو خال بھی دیکھے اور سکڑی سمٹی ہوئی گلیاں بھی دیکھیں، جو آج بھی اپنے درو دیوار میں عظمت رفتہ کے نشانات چھپائے ہوئے ہیں۔ اور اٹلی کے جدید تیور بھی دیکھے جس میں دین اور عقیدہ کو یومیہ زندگی سے الگ کرنے کی روش عام ہے، ایسے کہ گویا ملکوں کی ترقی کی راہ میں مذہبی دیواریں ہی حائل ہیں ، اگر انہیں گرا دیا جائے تو شاید ترقی کا پہیہ تیزی کے ساتھ حرکت کرے گا لیکن ان مذہبی دیواروں کو گرا کر بھی اٹلی کی معاشی کشتی سود کی تلاطم خیز موجوں اور گرداب سے نہیں نکل سکی، اس وقت اطالوی باشندوں کی اکثریت دین بیزار اور ملحدانہ نظریات کی حامل ہے، گو کہ کلچر کے طور پر نصرانیت کے ساتھ دینی وابستگی ظاہر کرتے ہیں، جس کا مشاہدہ تہوار یا خصوصی موقعوں پر ہی ہوتا ہے ، ورنہ یومیہ زندگی میں عوام کا کنیسا کے ساتھ تعلق نہیں ، حالانکہ اٹلی کے دارالسلطنت روم کے مضافاتی محلہ وٹیکان جیسے ایک ریاست کا درجہ حاصل ہے۔ یہ رومن کیتھولک (ایک عیسائی) فرقہ کا عالمی مرکزہے اور اس کا دینی رہنما دنیا کے ایک ارب سے زیادہ نصرانیوں کا روحانی پیشوا سمجھا جاتا ہے، لیکن بڑی آبادی کا دین سے تعلق بہت ہی معمولی نوعیت کا رہ گیا ہے، نصرانیت اور کنیسا متعدد گھروندوں میں بکھر چکی ہے، بعض علاقوں میں جاری ان کے مابین خونریز جھڑپیں اس کی واضح مثال ہے ، چرچ آف انگلینڈ اور آئلینڈ کے درمیان ہونے والی لڑائیوں سے دنیا واقف ہے، مگر نہایت چالاکی کے ساتھ اس مذہبی منافرت کو سیاسی اور ریاستی اختلافات کے دبیز پردوں میں ڈھانکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ایک موقع پر مشہور محقق ڈاکٹر حمید اللہ صاحب رحمہ اللہ نے اپنے لیکچر کے بعد کسی سائل کی بے چینی کہ مسلمانوں میں بہت سے فرقے ہیں، ان سے تنگ آکر لوگ عیسائیت کی طرف مائل ہو رہے ہیں، اس کے جواب میں فرمایا تھا کہ اگر اختلافات سے بچنے کے لیے کوئی نصرانیت کا رخ کرے تو اسے وہاں شدید مایوسی کا سامنا کرنا ہوگا کیونکہ عیسائیوں میں مسلمانوں سے کہیں زیادہ فرقہ واریت کی تلخیاں پائی جاتی ہیں۔
مذہبی منافرت کے علاوہ فرقہ وارانہ جھگڑے
Sectarian conflicts
سائنسی تحقیقات اور علمی ترقی کے مقابلہ میں کنیسا کا غیر منطقی کردار بھی ایک بڑا سبب ہے دین بیزاری کا، نتیجہ میں کنیسا کےاثر و رسوخ کو ختم کر کے اسے چند مذہبی رسوم تک محدود کر دیا گیا، آج مغربی یورپ کی بڑی آبادی کا دین کے ساتھ تعلق برائے نام سارہ گیا، لیکن افسوس کہ
مسلم دنیا بھی اس غلطی کا شکار ہوئی، جدید ترقیاتی دور کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بجائے جذباتی قسم کی باتوں میں الجھتے نظر آتے ہیں اور بعض رہنما زمانہ کی نبض سمجھے بغیر رائے زنی اور فتوی بازی میں عجلت پسندی کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں اور دوسری طرف ایک انتہاء ان مرعوب ذہنوں کی ہے، جن کا نعرہ ہی یہ ہے کہ
چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی ، اپنی عقل اور فہم ہی کو انہوں نے حق و باطل کا پیمانہ قرار دے لیا۔ ان دو انتہاؤں کے درمیان ہر دور میں کچھ ایسی ہستیاں بھی ہیں جو متوازن انداز اپناتے دکھائی دیتے ہیں، جنہوں نے اصول اور اساسیات دین پر قائم رہتے ہوئے جدید نافع سے استفادہ ضروری قرار دیا، اپنی افکار وآراء میں توازن برقرار رکھنے والا یہی طبقہ کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے، مگر اس راہ اعتدال کو اپنانے کے لیے علمی بصیرت کے ساتھ حالات زمانہ سے واقفیت، دور اندیشی اور طبیعت میں تحمل و برداشت نہایت ضروری ہے۔
مشہور ائمہ اور فقہاء رحمہم اللہ نے اس کا بہت پہلے اندازہ کرلیا تھا، امام مالک رحمہ اللہ کا قول :
” لا يصلح لآخر هذه الامة إلا بما صلح بها اولها.”
یعنی متاخرین کی پریشانیوں کا حل متقدمین کی راہ کو اختیار کرنے میں ہے، یہ دراصل میزان ہے اور اسی کی روشنی میں اصول فقہ کا ایک قاعدہ ہے:
’’ مصالح مرسلہ‘‘ یعنی حالات زمانہ سے واقفیت اور حدود شریعت میں رہتے ہوئے لوگوں کی رہنمائی، امام شافعی رحمہ اللہ نے اسی اصول کے پیش نظر اپنی بعض قدیم آرا ء اور فتاوی کو بدل دیا ۔
مشہور اصطلاح ہے کہ
الرأى القديم اور الرأى الجديد، لیکن بعد میں آنے والوں نے اس قاعدہ کو برقرار رکھتے ہوئے اجتہاد و استنباط کے بجائے ان بزرگوں کے اقوال اور فتاوی کو تقدس کا درجہ دے دیا کہ
ان کے فرمودات سے سرمو تجاوز نہیں کیا جا سکتا ، اس کا نتیجہ واضح ہے کہ مساجد، جمعیات بلکہ مدارس دینیہ کی تقسیم اور باہمی خلفشار جو کہ تاریخ کا ناخوشگوار باب بن گیا اور گاہے گاہے آج بھی اس کے نمونے دیکھے جا سکتے ہیں۔
بہر حال بات چل رہی تھی، یورپ میں مذہب بیزاری کی لہر کی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ
مذہبی شعائر اور دینی شخصیات کی بھی اکثر نصاریٰ کے ہاں اہمیت گھٹتی گئی، اگر کوئی لندن یا پیرس میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرے یا سید ناموسیٰ علیہ السلام کی بے توقیری کرے تو وہاں موجود مسلمانوں کو ان توہین آمیز جملوں کی جو تلخی اور ناگواری محسوس ہوتی ہے، اس کا ادنی حصہ بھی اس مذہب کے مدعیوں کے ہاں دیکھنے میں نہیں آتا، اسی تناظر میں جب خاتم النبیینﷺ کی شان میں بے ادبی کی جائے تو مسلمانوں میں پائی جانے والی بے چینی اور تڑپ کا درست ادراک بھی ان مغربی باشندوں کی اکثریت کو نہیں ہوتا، لیکن مسلم سماج مختلف عملی کوتاہیوں کے باوجود جناب رسول الله ﷺ کے ساتھ صرف جذباتی ہی نہیں دل و دماغ کے ساتھ والہانہ عقیدت کو جزو ایمان سمجھتا ہے گو کہ عملی کمزوریوں سےانکار نہیں۔
بہر حال کتاب کے مندرجات سے بڑھ کر ذاتی مشاہدات اور تجربات ان قوموں کے اخلاقی زوال اور مادی غلبہ کی شہادت کے لیے کافی ہے۔ جب استونیا کی مسجد میں قدم رکھا، قلبی کیفیت آنسوؤں کی شکل میں نکلتی رہی کہ کہاں دور افتادہ دیہات عمر آباد کا طالب علم اور کہاں سمندروں پار ملک کی اکلوتی مسجد میں درس ۔ یہ ریاست بھی دنیا کی ایک سپر یا ورکے تسلط سے آزاد ہو چکی ہے۔
جذبات کے ہیجان میں کیفیت کچھ ایسی تھی گویا
کس بیم و رجا کے عالم میں طیبہ کی زیارت ہوتی ہے
ایک سمت شریعت ہوتی ہے، ایک سمت محبت ہوتی ہے ،اس وقت استاذ گرامی کی نصیحت بہت یاد آئی ۔
اللهم اغفر لهم و ارحمهم وادخلهم في جنات النعيم
کہ مجھے کتاب زوال روما کے مطالعہ کا مشورہ کیوں دیا گیا تھا، !
٭٭٭
دارو رسن
دنیا سے حق پرست جو بیزار ہوگئے
اللہ کی رضا کے طلب گار ہو گئے
مشتاق جلوۂ رسن و دار ہوگئے
جو اپنا سر کٹانے کو تیار ہوگئے
غیروں کے جور و ظلم کا کیا کیجئے گلہ
اپنے ہی جب کہ در پئے آزار ہو گئے
بے قدرئ ہنر ہے تو محسن کشی بھی ہے
کیسے یہ اپنی قوم کے ہنجار ہو گئے
ڈوبے ہوئے جو رہتے ہیں فسق و فجور میں
وہ اقتدار پاکے جفا کار ہو گئے
باہم ستیزه کار و نبرد آزما ابھی
ظلماتِ جہل و کفر سے انوار ہوگئے
جو سوچتے رہے تو وہ ساحل پہ رہ گئے
منجدھار میں جو کود پڑے پار ہو گئے
میدان جنگ سے وہ کبھی ہٹ نہیں سکے
سر پر کفن جو باندھ کے تیار ہو گئے
اللہ کے باغیوں کا یہ ہوتا رہا ہے حشر
خوار و ذلیل برسرِ بازار ہوگئے
یارب! یہ کیا غضب ہے کہ مجرم ہیں بے گناہ
اور بے گناہ جو تھے گنہگار ہو گئے
پروردگار! ملت بیضاء کی لاج رکھ
اغیار پھر سے برسرِ پیکار ہو گئے
اصحاب حق جو دار پہ چڑھ کر بتا گئے
حماد پھر سے فاش وہ اسرار ہو گئے
ابولبیان حماد عمری رحمہ اللہ
٭٭٭
تبصرہ کریں