نیا سال مبارک۔ مولانا عبد الہادی العمری

الحمد للہ، ہم ہجری کیلنڈر کا ایک سال مکمل کر کے نئے سال 1448ھ میں داخل ہو چکے ہیں، اللہ تعالیٰ سال نو کو اُمت مسلمہ کے حق میں خیر و برکت کا ذریعہ بنائے، ایمان کی سلامتی کے ساتھ مومنانہ ذمہ داریاں بحسن و خوبی انجام دینے کی توفیق بخشے ۔

سال ہجری ہمیں ہجرت کے اہم پیغام کو یاد دلاتا ہے کہ مسلمان دینی ذمہ داریوں کی خاطر کیسے ہجرت کے کٹھن سفر اور دشوار منصوبہ پر عمل پیرہ ہوسکے ، یہ صعوبتیں محض جذباتی نعروں یا خیالی خاکوں سے برداشت نہیں کی جاسکتیں؟ جہاں آدمی عصیان و نا فرمانی میں گھرا ہوا تعلیمات قرآنی سے دور بلند بانگ دعوے تو کر سکتا ہے، وطن اور اہل و عیال کو چھوڑنے کی باتیں تو کر سکتا ہے لیکن عملی زندگی میں معاصی کو ترک کرنے کے لیے آمادہ نہیں، مغربی ممالک کے خلاف پر جوش نعرے تو لگا ئے ، خود اپنی اولاد اور متعلقین کو اعلیٰ تعلیم اور جاب کے لیے ان ہی ممالک میں بسائے، عربوں کے شاہی انداز اور حکمرانی کے خلاف لوگوں کو ورغلائے اور خود جا کر ان کے ہی چرنوں میں بیٹھ کر ان کی ستائش کرتے ہوئے اپنے منصوبوں کی تکمیل کے لئیے ان ہی سے مالی مدد حاصل کرے۔

حقیقی مہاجرین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس غیر سنجیدہ طرز عمل سے دور تھے، ان کی عملی زندگیاں تعلیمات قرآن و سنت سے مزین تھیں ۔

وہ حدیث نبوی ” المهاجر من هجر ما نهى الله عنه.” کہ ہجرت کی پہلی سیڑھی ترک معاصی ہے کا عملی نمونہ تھے۔ ان اولو العزم ہستیوں نے ثابت کر دیا کہ دین ان میں کس درجہ رچا بسا تھا، ان کی نظروں میں دین کی عظمت ،مکان، جاہ و منصب کی عظمت سے کہیں زیادہ تھی، ضرورت پر روئے زمین کا مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ دین کی حفاظت کی خاطر چھوڑنا پڑ جائے تو چھوڑ کر نکل گئے۔ خاتم النبیین رسول اکرم ﷺ کے حکم سے صحابہ کرام کا قافلہ اول اور دوم جشہ کی طرف ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا تو اس مقدس گروہ میں وہ لوگ تھے جن کی عظمت کے ترانے اہل مکہ بھی گایا کرتے ، حضرات عثمان و جعفر رضی اللہ عنہما ان لوگوں میں شامل تھے، جن کی شخصی اہمیت کے مشرکین عرب معترف بلکہ قدر دان تھے، اگر مشرکین عرب کو ان بزرگوں سے اختلاف تھا تو صرف ان کے عقیدہ اور ایمان سے تھا، ورنہ ان مشرکین کے درمیان ان بزرگوں کا مقام بڑا اونچا تھا، اس عقیدہ سے کنارہ کش ہو کر وہ نہایت آسوده زندگی گزار سکتے تھے۔

سیدنا جعفر طیار رضی اللہ عنہ انتہائی پر خطر اور نازک حالات میں جب مشرکین عرب کا وفدان کا تعاقب کرتا ہوا سرزمین حبشہ پہنچا اور وہاں کے ذمہ داروں کے ذہنوں کو ان پناہ گزین مسلمانوں کے خلاف مسموم کر رہا تھا، لیکن اس موقع پر بھی عقیدہ کی سلامتی پر آنچ نہ آنے دی، جب حکمران جشہ کی جانب سے سیدنا عیسی اور مریم علیہما السلام کے حوالہ سے استفسار کیا گیا ، وہ جانتے تھے کہ اسلامی نظریہ نصاری کے مروجہ عقیدہ سے میل نہیں کھاتا، لیکن عقیدہ و ایمان میں مداہنت کی گنجائش نہیں، انہوں نے دو ٹوک انداز میں اپنا موقف پیش کرتے ہوئے سورہ مریم کی ابتدائی آیات کی تلاوت کی ۔

معاہدہ حدیبیہ کے موقع پر جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺنے اپنے نمائندہ خصوصی کے طور پر اہل مکہ سے گفتگو کرنے کے لیے بھیجا تو سرداران مکہ نے انہیں کعبۃ اللہ کے طواف کی اجازت دے دی، لیکن شیدائی رسول ﷺ نے طواف کی شدید خواہش کے باوجود یہ کہہ کر طواف کرنے سے انکار کر دیا کہ طواف کیا جائے گا تو رسول ﷺ کی معیت میں ہی کیا جائے گا، یہ ممکن نہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے جانثار صحابہ اس کار خیر سے محروم سرحد پر منتظر ہوں اور آپ کا سپاہی اس عنایت خسروانہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اکیلے طواف کرے ۔

خود رسول اکرم ﷺ کا مقام اہل مکہ کے درمیان سب سے اعلیٰ تھا وہ اپنی محفلوں میں آپ کا اسم گرامی نہایت عزت و احترام سے لیا کرتے، آغاز وحی کے بعد جب ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ورقہ بن نوفل سے ملاقات کرکے صورتحال سے آگاہ کیا تو ورقہ نے فرمایا تھا کہ وقت آئے گا ، آپ کی قوم آپ کو وطن سے نکلنے پر مجبور کر دے گی تو آپ ﷺ نے حیرت سے استفسار فرمایا :

«أو مخرجی هم » (صحیح بخاری : 3392 ؛ صحیح مسلم : 252 )

کیا یہ ممکن ہے کہ میری قوم کے لوگ مجھے وطن سے نکالیں گے ؟!

کیونکہ یہیں کے لوگوں نے آپ کو صادق اور امین جیسے باوقار القاب سے نوازا تھا۔

اور پھر دعوت اسلامی کے آغاز کے چند ہی برس بعد افضل ترین ہستی رسول اکرمﷺ کو بھی اس کے محبوب شہر مکہ مکرمہ چھوڑ کر مدینہ منورہ میں پناہ لینی پڑی ،اس شہر مکہ کی محبت آپ ﷺ کے دل میں کیا تھی، اس کا اندازہ سفر ہجرت کے موقع پر آپ ﷺ کی زبان سے نکلنے والے الفاظ سے لگایا جا سکتا ہے کہ روئے زمین پر سب سے پسندیدہ یہی شہر ہے اگر اس کے باشندے مجھے نکلنے پر مجبور نہ کرتے تو کبھی اس کو چھوڑ کر نہ جاتا۔

یہ وہ عظیم ہستیاں تھیں جن کے دل نور ایمان سے منور تھے اور یومیہ زندگی میں شریعت اسلامیہ پر عمل کے خوگر تھے، جن کی عملی زندگیوں پر مصلحتوں یا مفادات کے پردے نہیں پڑے ہوئے تھے، تب ہی تو اس ہجرت کی ظاہری و معنوی برکتیں دیکھنے میں آئیں، قلیل مدت میں دنیا کی دو عظیم سپر پاور طاقتیں سرنگوں ہو گئیں ، قیصر وکسریٰ کے علاقے اور خزانے قلمروئے اسلام میں شامل ہو گئے۔

تھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا

یہ ظاہری طمطراق تھا تو معنوی کیفیت کچھ یوں تھی :

﴿و رأيت الناس يدخلون فى دين الله أفواجا﴾

کہ دین اسلام میں فوج در فوج لوگ داخل ہونے لگے۔ متعد دبستیاں اور قبائل اجتماعی انداز میں حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور آج صورتحال یہ ہے کہ عقیده و اعمال عبادات و معاملات اخلاقیات اور عادات میں ہمارا اسلام سے تعلق جزوی اور رسمی قسم کا ہے ۔ گھریلو زندگی اور چھوٹی سی تنظیموں اور جماعتوں میں اتحاد نہیں لیکن خطابت کے جو ہردکھاتے ہیں کہ مسلم ممالک میں اتحاد کیوں نہیں ، شاہراہ ترقی پر خود دوڑنے کے لیے تیار نہیں لیکن دعائیں ہو رہی ہیں کہ امداد غیبی کے تحت من و سلوی نازل ہونے لگے۔ علامہ اقبال نے درست ترجمانی کی :

تھے تو آباء وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو

ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو

اللہ تعالیٰ سال نو کو امت مسلمہ کے حق میں امن وسلامتی اور ہدایت کا ذریعہ بنائے۔ ہمیں درست سمت کی طرف گامزن فرمائے۔ آمین

٭٭٭

حرف تمنا

میں کبھی باطل کی ہاں میں ہاں ملا سکتا نہیں

سرکٹا سکتا ہوں لیکن سر جھکا سکتا نہیں

جانے کب دنیا میں آئے انقلابِ خوشگوار

یہ جہانِ کہنہ مجھ کو راس آسکتا نہیں

جل رہا ہے اس میں جب خونِ شہیدان وفا

کوئی بھی شمع محبت کو بجھا سکتا نہیں

کچھ غم جاناں بھی اس میں کچھ غم دوراں بھی ہے

داستانِ درد میں اپنی سنا سکتا نہیں

کیا اثر انداز وہ ہوگا فضائے دہر پر

اپنے ہی ماحول پر جو شخص چھا سکتا نہیں

اس سے بڑھ کر نالۂ ناکام ہو سکتا ہے کیا

عرش کی زنجیر جو نالہ ہلا سکتا نہیں

جو نہ دریائے محبت میں ہوا ہو غوطہ زن

گوہرِ مقصود وہ محروم پاسکتا نہیں

ناخنِ تدبیر ہی جس کا نہ ہو عقدہ کشا

اپنا خوابیدہ مقدر وہ جگا سکتا نہیں

مجھ پہ یہ عالم گزرتا ہے محبت میں کبھی

یاد کر سکتا نہیں ان کو بھلا سکتا نہیں

منزل مقصود سے خود ہی جو ہے بھٹکا ہوا

وہ کسی کو راستہ حق کا بتا سکتا نہیں

ہائے وہ حرفِ تمنا کہ جسے حماد میں

لب پہ لاسکتا نہیں دل میں چھپا سکتا نہیں

علامہ ابولبیان حماد العمری 

٭٭٭

کسی بھی معاشرے کی تہذیب کا اور ثقافت کا علم اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ اپنے دن اور مہینے کس طرح شمار کرتا ہے۔ ان کی رسم اور رواج ،ان کی عبادات ان کا رہن سہن سب چیزیں منسلک ہوتی ہیں ان کے کلینڈر کے ساتھ ۔اسی لیئے اللہ رب العالمین نے مسلمانوں کو ایک علیحدہ پہچان اور شناخت دی اور ایک الگ ان کو ایک کلینڈر دیا اور اس کا تذکرہ اللہ رب العالمین نے خود سورۃ التوبہ آیت نمبر 36 میں کیا ۔

﴿اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتَابِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضَ﴾ (سورۃ التوبہ: 36) ’’ مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں باره کی ہے، اسی دن سے جب سے آسمان وزمین کو اس نے پیدا کیا ہے۔‘‘

یہ مہینے عرب کے اندر نبی ﷺ سے بعثت سے قبل بھی موجود تھےنبی ﷺ کی وفات کے بعد سیدنا عمر فاروق نے ضرورت محسوس کی اس کلینڈر کو مرتب کیا جائے اور اس کو کسی خاص واقعے سے منسلک کرکے اور پھر تاریخ کا آغاز کیا جائے جب صحابہ کرام سے مشاورت ہوئی تو مختلف مشورے آئیں جن میں سے سب سے بہترین مشورہ پسند آیا وہ سیدنا علی بن ابی طالب کا مشورہ تھا کہ اس کلینڈر کو نبی ﷺ کی ہجرت کے ساتھ منسلک کیا جائے کیونکہ ہجرت ایک ایسا واقعہ ہے جس نے تاریخ انسانی کو تبدیل کرکے رکھ دیا اور ہجرت کے بعد اللہ تعالی نے جو اسلام کو غلبہ عطا کیا اور ایک اسلامی ریاست کی بنیاد ڈالی گئی وہ سب مرہون منت ہےاسی ہجرت کی ،یہ بہت بڑی قربانی تھی جو نبی ﷺ نے اورصحابہ کرام نے دی اور اس کے بعد دنیا کا نقشہ تبدیل ہوا تو لہذا ہجرت کے ساتھ اس اسلامی کلینڈر کومنسلک کیا گیا اور نبی ﷺ نے جس سال ہجرت کی اسی سال سے مسلمانوں کا یہ کلینڈرشروع ہوتاہے۔ مہینے وہ ہی ہے جو عرب میں چلے آرہے تھے ان کی تعداد بارہ ہیں ۔

تبصرہ کریں