نعمتوں کے دوام میں شکر کی اہمیت وضرورت۔پروفیسر سینیٹر ساجد میر رحمہ اللہ

بسم الله الرحمن الرحيم

ہر طرح کی تعریف ، اللہ رب العالمین کے لیے ہے، جو مالک الملک اور خالق کل ہے۔ درود و سلام سرور انبیاء کے لیے جو امام کائنات، سید کائنات اور رحمت کائنات ہیں۔

گزشتہ خطبہ جمعہ میں صبر کے بارے میں بیان تھا کہ صبر کیا ہے؟ اس کی فضیلت اور اہمیت کیا ہے؟ اس کا ثواب اور فائدہ کیا ہے؟ آج کے خطبے میں ان شاءاللہ شکر کی بات ہوگی۔ صبر کے ساتھ شکر کی بھی اہم تعلیم اسلام نے ہمیں دی ہے۔ ہمارا رب ،خالق اور مالک، جو نعمتیں دینے والا اور احسان کرنے والا ہے، اس نے ہمیں بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے اور احسانات کیے ہیں۔ اس نے ہمیں پیدا کیا، انسان بنایا، مسلمان بنایا، ہاتھ پاؤں اور اعضاء دیئے، ہمارے سانس کی آمدورفت اسی کے اختیار میں ہے۔ دنیا کی نعمتیں، تھوڑی یا زیادہ وہی ہمیں دیتا ہے، اور اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو قرآن کی یہ بات سچ نظر آتی ہے کہ

﴿ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً﴾ (سورة لقمان: 20)

اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنی نعمتوں کا مینہ برسا دیا ہے۔بارش برسا دی ہے۔پانی کی طرح بہا دی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا﴾ (سورة النحل: 18)

اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنے لگو تو تم ان کی گنتی بھی نہیں کر سکتے، اس کے باوجود زیادہ تر انسان شکر گزار نہیں بنتے۔

قرآن نے کہا: اے نبی!

﴿ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ ﴾ (الأعراف: 17)

آپ ان لوگوں میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائیں گے۔ اسی طرح فرمایا:

﴿ وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ﴾ (سبا: 13)

میرے بندوں میں سے تھوڑے ہیں، جو شکر گزار ہیں۔

قرآن نے جن اچھے بندوں کی تعریف کی ہے، وہ خود بھی شکر گزار تھے اور دوسروں کو بھی شکر گزاری کی تعلیم دیتے تھے۔ نوح کی تعریف کی، تو فرمایا :

﴿ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا ‎﴾ (الاسراء: 3)

وہ ایک شکر گزار بندے تھے۔

سیدنا ابراہیم کے بارے میں فرمایا :

﴿ شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ﴾ (سورة النحل: 121)

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے۔

اور یہی ان کی تعلیم تھی۔ ابراہیم نے قرآن کے الفاظ میں لوگوں سے کہا عبادت اسی کی کرو اور شکر بھی اسی کا ادا کرو۔ موسیٰ نے بار بار کہا :

﴿يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنبِيَاءَ وَجَعَلَكُم مُّلُوكًا وَآتَاكُم مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ﴾ (المائده: 20)

اے میری قوم! اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو، یاد رکھو۔ اس نے تمہیں دشمن سے نجات دی، سمندر سے نجات دی، سمندر کے پار اتارا۔ من وسلویٰ نازل کیا۔ بہت سی نعمتوں سے تم کو نوازا۔عام لوگوں کے لیے فرمایا :

﴿ وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ﴾ (سورة الجاثية: 13)

زمین و آسمان کی نعمتیں، زمین و آسمان کی چیزیں انسان کے لیے مسخر کی گئی ہیں، یعنی اس کے کام میں لگا دی گئی ہیں کہ وہ ان سے کام لے۔

جانور، چوپائے ، ہوا ، زمین، آسمان، سورج، کھیتیاں یہ سب سلسلے اللہ نے انسان کی آسانی کے لیے نعمتوں کے طور پہ عطا فرمائے ہیں۔ شکر کا فائدہ تو اسی آیت میں بتایا ہے:

﴿ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ﴾ (ابراهيم: 7)

’’اگر شکر کرو گے تو میں اپنی نعمتوں میں اضافہ کروں گا۔‘‘

نعمتوں سے تم کو نوازتا چلا جاؤں گا، یعنی شکر سے نعمت کا دوام اور کثرت، یہ دونوں چیزیں ملتی ہیں، یعنی نعمت کی ہمیشگی بھی کہ پھر وہ چھنتی نہیں اور کثرت بھی، یعنی اور نعمتیں بھی اس کے ساتھ عطا کی جاتی ہیں، مگر نعمت اس کو دی جاتی ہے جو اس کا قدردان ہو۔

کافروں کا اعتراض تھا کہ غریب اور پسماندہ قسم کے کم حیثیت رکھنے والے لوگ ہی ایمان لائے ہیں۔ بڑے لوگ ایمان نہیں لائے۔ شروع شروع میں یہی صورتحال تھی تو کافر اعتراض کرتے تھے، کہتے تھے کہ یہ ہیں وہ لوگ غریب، پسماندہ، گرے پڑے، جن کے پاس دنیا کا کچھ نہیں، کیا یہی ہیں جن پر اللہ نے فضل کیا کہ وہ ایمان لے آئے اور دولت ایمان سے سرفراز ہوئے؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ باقی تو کوئی چیز انہیں ملی نہیں تو ایمان کہاں سے مل گیا؟ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دیا، فرمایا:

﴿ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ﴾ (سورة الأنعام: 53)

’’کیا اللہ تعالیٰ نعمت کی قدر کرنے والوں کو نہیں جانتا؟‘‘یعنی یہ شکر گزار ہیں، جو نعمت ملی ہے، اس کا شکر کرتے ہیں، اس لیے ان کو یہ نعمت دے دی گئی ہے۔

نعمت کی قدر کرنا بڑا ضروری ہے اور یہی شکر گزاری ہے۔ بعض لوگ ایمان لانے یا نیکی کرنے کا احسان جتاتے ہیں کہ اللہ اور رسول پر ایمان لا کر یا نیکی کر کے ہم نے کوئی بڑا احسان کیا ہے ۔ قرآن پاک نے اس کی بھی تردید کی:

﴿يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا﴾ (الحجرات: 17)

بعض اعرابیوں نے، ان پڑھ بدووں نے احسان جتایا کہ ہم ایمان لائے، ہم نے بڑا کام کیا، بڑا احسان کیا۔ فرمایا: احسان جتاتے ہیں آپ پر اے نبی کہ ہم ایمان لائے، فرمایا:

﴿قُل لَّا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُم﴾ (الحجرات: 17)

اپنے اسلام لانے یا مسلمان ہونے کا یا اپنی نیکی کا مجھ پر کوئی احسان نہ جتاؤ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی توفیق عطا فرمائی۔

اسی طرح شکر، غرور اور تکبر کے جذبے کو توڑتا ہے کہ ’’میں نے یہ کیا اور میں یہ کرنے والا ہوں۔‘‘

شکر کا مطلب یہی ہے کہ کسی نے توفیق دی، کسی نے نعمت دی، کسی نے عطا کیا اور اس کی وجہ سے مجھے یہ ملا ہے۔ میری اپنی قوت اور میری اپنی طاقت ایسی نہیں تھی۔ میں جو کوئی بھی چیز، دنیاوی یا دینی نعمت حاصل کر سکوں۔ وہ اللہ کی عطا ہے، اس پر غرور اور تکبر کی بجائے شکر کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے نبی کو بھیجنے کا اپنا احسان بھی بیان کیا، جسے جان کر یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، بڑا احسان کیا۔ اس کا تو بھیجنا ہی اللہ کا احسان ہے، فرمایا:

﴿لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ﴾ (سورة الجمعه: 164)

تم میں سے یعنی نوع انسان میں سے اللہ تعالیٰ نے رسول بھیجا اور یہ اللہ کا احسان ہے، تمہارا اس میں کوئی کمال نہیں کہ تم مجھ سے مانگتے ہو اور اس پر ایمان لاتے ہو۔

اسی طرح یہ بات کہ ’’ہم نے اللہ کے رسول کی مدد کی‘‘ اس کی بھی نفی قرآن نے کی کہ مدد کرنے والے تم نہیں، مدد کرنے والا اللہ ہے اور اسی کی مدد سے سب کچھ ہوتا ہے۔

نعمت اس کو ملتی ہے جو قدردان ہو اور جو نعمت کی قدردانی نہ کرے، اس سے نعمت چھین لی جاتی ہے۔ جیسے قرآن نے کہا:

﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ ﴾ (سورة الأعراف: 175)

ایک بندے کی مثال دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی آیتوں کا علم اسے دیا، یعنی وہ مومن اور مسلمان بنا، لیکن وہ آیتوں اور ایمان کو چھوڑ کر اقتدار یا انکار کی طرف نکل گیا، شیطان اس کے پیچھے لگا اور اسے مکمل گمراہی کے حوالے کر دیا گیا۔ اسی طرح یہ بندے کی مثال تھی۔ ایک بستی کی مثال بھی بیان کی گئی۔

﴿ وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلًا أَصْحَابَ الْقَرْيَةِ ﴾ (سورة يسين: 13)

اے رسول! ان لوگوں کو ایک بستی کی مثال دے ۔

کوئی حقیقی بستی ہے یا سمجھانے کے لیے ایک فرضی بستی ہے، لیکن لگتا یہی ہے کہ کوئی حقیقی بستی ہے، جس کی بات کی جا رہی ہے کہ حقیقی شہر برباد ہوا اور کیوں ہوا، اس کی وجہ بتائی۔

یہ بستی پرامن تھی، لوگ اطمینان اور سکون کی زندگی بسر کرتے تھے اور معیشت بھی اس کی بڑی اچھی تھی۔ کھانے پینے کی کوئی کمی نہیں تھی، کوئی معاشی تنگی نہیں تھی، امن بھی تھا اور پرسکون رزق بھی ملتا تھا۔ تو پھر کیا ہوا؟ بستی کے لوگوں نے شکر کی بجائے انکار اور ناشکری کا راستہ اختیار کیا تو امن خوف میں بدل گیا۔ ان پر خوف مسلط ہوا، دشمن کا، وباؤں کا، دوسری چیزوں کا خوف ان پر مسلط ہوا اور رزق کی بجائے بھوک ان پر مسلط ہوئی۔ وہ دونوں چیزوں سے، یعنی امن سے بھی اور خوشحالی سے بھی محروم ہو گئے۔ وجہ یہ تھی کہ انہوں نے نعمتوں کی قدردانی نہیں کی، ناشکری کی اور اس کی وجہ سے ان کا یہ حال ہوا اور انہیں یہ دن دیکھنا پڑا۔

انسان میں ناشکری کیسے پیدا ہو جاتی ہے ؟ اس کی وجہ کیا ہوتی ہے؟ ایک وجہ تو یہ ہوتی ہے کہ وقتی تکلیف سے گھبرا کر دیرینہ نعمتوں کو انسان بھول جاتا ہے، مثلاً انسان کو نعمتیں بہت ملیں، وہ ان میں مزے کرتا رہا، ان نعمتوں میں سے بھی بہت سی آج بھی انسان کے پاس موجود ہیں، لیکن ساتھ ہی کوئی تکلیف یا مصیبت آ گئی تو یہ ماضی کی نعمتوں کو بھی بھول جائے گا، اور حال میں جو نعمتیں اس کے پاس بدستور موجود ہیں ان کو بھی بھول جائے گا۔ صرف اسے یاد رہے گی تو وہ تکلیف اور مصیبت جو اچانک اس پر آ گئی۔

کہتے ہیں کہ آدمی کو دانت میں درد تھا، درد کی وجہ سے، تکلیف تھی، اس کی نیند غائب ہو گئی،لیکن اس نے یاد کیا کہ اتنے سال میری عمر کے ہیں، جبکہ دانت سلامت تھے، درد بھی نہیں تھا، دانت کام بھی کرتے تھے۔ بجائے درد پر زیادہ سوچنے کے، وہ اپنے ماضی پر جو درد اور مرض سے خالی تھا، اس پر سوچتا رہا اور اس طرح اس نے اپنے آپ کو تسلی دی تو شکر گزاری کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ یہ سوچ کی بات ہوتی ہے۔

اسی طرح ناشکری کی دوسری وجہ جو نعمت موجود ہے، اس کا پورا احساس اور پاس نہ کرنا ہے۔ اس کی مثال بھی حکایت میں ملتی ہے کہ ایک غریب آدمی کسی امیر کے پاس آیا اور اپنی غربت کا رونا رویا اور مدد کی درخواست کی۔ امیر نے کہا:

’’تمہیں رقم تو میں بڑی دوں گا، لیکن میری شرط ہے کہ ایک لاکھ روپے کے عوض تم مجھے اپنا ایک پاؤں کاٹ کے دے دو۔‘‘

اس نے کہا: ’’یہ تو نہیں ہو سکتا، ایک لاکھ چھوڑ ، دس، بیس لاکھ دو، پھر بھی میں ایسا نہیں کروں گا۔‘‘

آنکھ، کان یا کوئی ایک عضو کسی قیمت پر بھی نہیں دوں گا۔ اس نے کہا: ’’لاکھوں کی نعمتیں تو تمہارے پاس ہیں، تم ان کی قدر نہیں کر رہے۔ یہ نعمتیں اللہ نے مفت دے رکھی ہیں بغیر کسی معاوضے کے۔ ان کی قدر کرو، ان سے کام لو، اللہ تعالیٰ فضل کرے گا اور تمہاری یہ غربت اور تکلیف دور ہو جائے گی۔‘‘

تیسری بات یہ کہ جو نعمت موجود نہیں، اس کی بہت زیادہ حسرت دل میں پیدا ہو جائے اور جن کے پاس نعمتیں ہیں، ان سے حسد شروع ہو جائے۔ یہ بھی ناشکری کی ایک وجہ ہوتی ہے۔ اس صورت سے بچنے کے لیے نبی اکرم ﷺ نے ایک بہت قیمتی حکم دیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ دین کے معاملے میں اس بندے کی طرف دیکھو جو تم سے بہتر ہے اور تم سے اونچا ہے، جو زیادہ دین دار ہے اور دین پر زیادہ عمل کرتا ہے۔ اگر تمہارے دل میں نمازیں اور دین پر عمل کرنے سے کچھ غرور یا تکبر پیدا ہوتا ہے کہ ’’میں بڑا اچھا اور نیک انسان ہوں‘‘، تو ان لوگوں کی طرف دیکھو، جو تم سے زیادہ عبادت گزار ہیں۔ اس سے غرور اور تکبر ختم ہو جائے گا، اور شکر کی کیفیت پیدا ہو گی۔

اسی طرح آپ نے فرمایا کہ دنیا کے معاملے میں رشک اور حسد کرتے ہو، اس بندے پر یا ان لوگوں پر جن کے پاس دنیا کی نعمتیں زیادہ ہیں، تو اس سے بچنے کے لیے کیا کرو؟ اپنے سے جو نیچے ہیں، دنیا کے معاملے میں جنہیں کم ملا ہے، ان کی طرف دیکھو تاکہ تمہیں تسلی ہو جائے کہ ایسے لوگ بھی ہیں، جنہیں مجھ سے بھی کم ملا ہے۔

کہتے ہیں کہ شیخ سعدی، جو مشہور فلسفی اور حکمت والے ہیں، ایک سفر کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ اس زمانے میں سفر مشکل ہوتا تھا، پیدل بھی چلنا پڑتا تھا کیونکہ بعض اوقات سواری میسر نہیں ہوتی تھی۔ چلتے چلتے ان کا جوتا گھس گیا اور ٹوٹ گیا۔ دل میں کچھ ناشکری پیدا ہوئی کہ اتنا چلنا پڑ رہا ہے اور جوتا بھی نہیں ہے۔آگے جا رہے تھے، دیکھا کہ ایک آدمی ہے، جس کے پاؤں ہی نہیں ہیں۔ پھر دل میں شکر کا جذبہ پیدا ہوا کہ ’’تیرے پاؤں تو سلامت ہیں، جوتا نہ ہوا تو مل جائے گا۔‘‘

حضرت عمر کا ایک واقعہ بھی معروف ہے کہ ایک شخص کو دیکھا جو کوڑھ کا شکار، نابینا، گونگا اور بہرا بھی تھا۔ آپ کے ساتھی جو مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے ان سے پوچھا کہ کیا تم اس پر بھی اللہ کی کوئی نعمت دیکھتے ہو؟ سب خاموش رہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر اس کے اندر کھانا پانی آرام سے چلا جاتا ہےاور آرام سے باہر آ جاتا ہے ، یہ پیشاب، پاخانہ کرتا ہے تو یہ بھی اللہ کی نعمت ہے۔ باقی انعام اگر اللہ نے نہیں کیے لیکن یہ تو کر دیا کہ وہ کھا پی رہا ہے اور اپنی حاجت پوری کر رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسا آدمی جس پر بظاہر کوئی نعمت، انعام نظر نہیں آتا، وہ بھی اگر غور کرے تو اس پر بھی اللہ کا کوئی نہ کوئی انعام ضرور موجود ہو گا۔ بعض اوقات کسی چیز کی ظاہری شکل تکلیف دہ نظر آتی ہے، لیکن اصل میں اس کا فائدہ ہوتا ہے۔ اسے Blessing in disguise کہتے ہیں۔جیسے قرآن نے کہا:

﴿ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ﴾ (سورة البقره: 216)

نبی اکرم ﷺ نے اس سلسلے میں جو بات فرمائی، اس کا پہلے میں حوالہ دے چکا ہوں اس کو دہرانے کی یہاں ضرورت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ مومن کا معاملہ ایسا عجیب ہے کہ اگر اسے تکلیف پہنچے اور صبر کرے تو وہ تکلیف بھی اس کے لیے اچھی بن جاتی ہے، ثواب کے لحاظ سے اور اگر اسے راحت پہنچے، آرام پہنچے، نعمت ملے اور شکر کرے تو انجام کے لحاظ سے، وہ نعمت ویسے بھی اچھی ہوتی ہے، انجام کے لحاظ سے بھی اچھی ہو جاتی ہے۔

شکر کی قسمیں تین ہیں

تین طرح کا شکر ہوتا ہے: قولی، قلبی اورعملی۔ ایک تو ہے زبان سے کہنا:’’یا اللہ تیرا شکر ہے، یا اللہ تیرا شکر ہے۔‘‘ بہترین اور آسان ترین طریقہ شکر ادا کرنے کا یہی ہے :

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَکہنا، یا “یَارَبِّ لَكَ الْحَمْدُ وَالشُّکْرُ ” کہنا، یعنی ’’یا اللہ تیری تعریف کرتا ہوں، تیرا شکر ادا کرتا ہوں۔‘‘ یہ قولی شکر ہے، یعنی زبان سے کہنا۔

پھر دل میں احساس ہو، ادراک ہو اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ کے احسانات ہیں جو زبان سے قول ادا کرے ، وہ دل میں بھی ہو، دل سے بھی شکر ادا کیا جا رہا ہو اور پھر تیسری قسم ہے: عملی شکر، یعنی جو نعمت ملی ہے اس میں دوسروں کو شریک کرنا اور اللہ کی راہ میں اس نعمت کو استعمال کرنا اور خرچ کرنا۔ اگر مال ہے، اچھا رزق ملا ہے تو اس میں مسکینوں اور ضرورت مندوں کو حصہ دار بنانا۔اگر کوئی منصب ہے، عہدہ ہے، اتھارٹی ہے، تو اسے لوگوں کی امداد اور مظلوموں کی مدد کے لیے استعمال کرنا، یہ عملی شکر ہے۔ اگر قوت ہے، طاقت ہے، تو اسے غلط کاموں کی بجائے لوگوں کے فائدے اور ان کی مدد کے لیے استعمال کرنا، یہ قوت کا شکر ہے۔ ہر چیز کا عملی شکر یہ ہے کہ اسے دوسروں کے لیے اور ضرورت مندوں کے لیے استعمال کیا جائے۔ شکر زبانی بھی کرنا ہے، عملی بھی کرنا ہے اور قلبی بھی کرنا ہے۔ نبی اکرمﷺ کا اسوۂ حسنہ شکر کے سلسلے میں کیا ہے؟ اس کی بھی بات کرتے ہیں لیکن شکر کی فضیلت کے سلسلے میں ایک دو باتیں اور ہو جائیں۔ شکر کے بارے میں ایک اور بات جو قرآن نے کہی ہے، فرمایا :

﴿وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ﴾ (آل عمران: 145)

شکر کرنے والے بندوں کو ہم ان کا بدلہ ضرور دیں گے۔ پھر فرمایا:

﴿ مَّا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ ﴾ (سورة النساء: 147)

اگر تم ایمان والے ہو اور اس کے ساتھ شکر بھی کرتے ہو تو اللہ تمہیں عذاب دے کے کیا کرے گا؟ کیا ملے گا اس کو؟

مطلب ہے کہ تمہیں پھر عذاب نہیں ہوگا، تم شکر کی برکت سے عذاب سے بچ جاؤ گے ۔ اس کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں خواہ مخواہ سزا دے؟ اگر تم شکر گزار بندے بنو اور ایمان کی روش پر چلو۔

حضرت عمر نے اسی حوالے سے کہا، کیونکہ علماء میں بحث بھی ہوتی ہے کہ اگرچہ شکر اور صبر دونوں ضروری ہیں اور دونوں اچھی چیزیں ہیں، لیکن ان میں سے بہتر کیا ہے، یعنی افضل کیا ہے؟ دونوں اپنی جگہ اہم ہیں، دونوں کی ضرورت ہے۔ حضرت عمر نے سواری کی مثال دی۔ آپ نے فرمایا کہ شکر اور صبر دو سواریاں سمجھ لو۔ دو سواریاں ہیں اور دونوں منزل پر پہنچانے والی ہیں۔ دونوں کی ضرورت ہے۔ منزل کیا ہے؟ جنت۔ منزل کیا ہے؟ اللہ کی خوشنودی تو صبر اور شکر اپنی اپنی جگہ پر دونوں ضروری ہیں ۔

سید الشاکرین یعنی شکر گزاروں کے سردار نبی اکرم ﷺ تھے، جو خود نعمتوں کا شکر ادا کرتے تھے اور جنہوں نے نعمتوں کا شکر ادا کرنا سکھایا بھی۔ آپ طویل قیام کرتے تھے، یہاں تک کہ ٹانگیں اور پاؤں سوج جاتے تھے۔ پوچھا گیا کہ آپ کیوں عبادت میں اتنی محنت کرتے ہیں ؟ آپ کو تو پہلے ہی اللہ نے درجے عطا فرمائے ہیں۔ فرمایا: ’’اگر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نعمتیں کی ہیں، فضل کیا ہے تو میں اس کا شکر بھی نہ ادا کروں؟ میں عبادت کے ذریعے، طویل عبادت کے ذریعے اس کا شکر ادا کرتا ہوں۔‘‘

مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ نے طویل سجدہ کیا، یہاں تک کہ صحابہ کو فکر اور تشویش پیدا ہوئی کہ کہیں اللہ تعالیٰ نے سجدے کی حالت میں اپنے نبی کو واپس تو نہیں بلا لیا؟ روح قبض تو نہیں کر لی؟ اتنا لمبا سجدہ، سر ہی نہیں اٹھا رہے۔ بڑی دیر کے بعد آپ نے سر مبارک اٹھایا تو آپﷺ نے فرمایا کہ یہ شکر کا سجدہ ہے۔

شکر کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ سجدے میں گر کر اللہ کی تعریف کی جائے۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ یَارَبِّ لَكَ الْحَمْدُ وَالشُّکْرُ

اس طرح کے کلمات ادا کیے جائیں یا سُبْحَانَ اللہِ، اَلْحَمْدُ لِلَّہِ، اس طرح پڑھا جائے تو یہ شکر کا سجدہ ہے۔

اسی طرح حضرت معاذ بیان کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ لمبی نماز پڑھی، اس کےبعد لمبا سجدہ کیا ۔ بعد میں بتایا کہ یہ نفل نماز بھی شکر کی ادائیگی کے لیے تھی اور سجدہ بھی شکر کے لیے تھا۔ شکر کس بات کا؟ آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی طرف سےمجھ سے پوچھا گیا یعنی پوچھا گیا کہ بتائیے آپ کی امت کے ساتھ ہم کیا معاملہ کریں؟

تو میں نے کہا کہ یا رب تو بہتر جانتا ہے، تو اچھا معاملہ کرنے والا ہے، یقیناً تو اچھا ہی کرے گا۔ تو اللہ نے فرمایا : اچھا، میں آپ کی امت کے معاملے میں آپ کو خوشی دوں گا، رنج اور غم نہیں دوں گا۔ ایسا معاملہ کروں گا، جس سے آپ خوش ہو جائیں گےتو اس خوشخبری کے شکر میں میں نے نماز پڑھی تو لمبی نماز پڑھی، سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بھی کہا ہے:

﴿وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ﴾ (الضحى: 5)

اللہ تعالیٰ آپ کو اتنا کچھ دے گا کہ آپ خوش ہو جائیں گے۔

یہی آخرت کی سب سے بڑی کامیابی ہے اور ظاہر ہے کہ سب سے بڑی اور نمایاں کامیابی ملے گی، تو اللہ کے آخری رسول ﷺ کو ملے گی لیکن ان کی اصل خوشی یہی ہے کہ امت کا بھلا ہو جائے، امت کی نجات ہو جائے، امت جنتی بن جائے۔ یہ ان کی اصل خوشی ہے اور اسی خوشی کی خوشخبری میں آپ نے شکر ادا کیا۔ شکر، صبر کی طرح ایک ضروری صفت ہے، جو اسلام ہمارے اندر پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کے شکر گزار بندے بنیں اور ہر حال میں “اَلْحَمْدُ لِلَّہِ عَلَی کُلِّ حَالٍ” کہنا بھی سیکھیں۔ ایک تو ہے “اَلْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَـمِیْن” اور ایک ہے “اَلْحَمْدُ لِلَّہِ عَلَی کُلِّ حَالٍ” یعنی ہر حال میں اللہ کا شکر کرتا ہوں، اس کی تعریف کرتا ہوں، یعنی تکلیف میں بھی، بیماری میں بھی، مشکل ، افلاس اور غربت میں بھی، جو بھی مشکل حالات آتے ہیں، میں ان میں اللہ کا شکر کرتا ہوں۔ یہ بہت بڑی بات ہے، یہ ہمت اور طاقت اللہ تعالیٰ کسی کو دے دے کہ وہ ہر حال میں اللہ کا شکر کرنے والا بندہ بنے تو اس سے بڑی اور کوئی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شکر گزار بندہ بنائے۔ آمین!

تبصرہ کریں