
اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ آج کی دنیا، رسول اللہ ﷺ کی آمد سے پہلے والی دنیا سے زیادہ مختلف نہیں۔ فرق یہ ہے کہ اُس وقت بُت پتھر کے تھے، آج بُت خواہشات، شہوت، سرمایہ داری اور میڈیا کے ہیں۔ اُس وقت عورت کو قتل کیا جاتا تھا، آج عورت کو ’’شو پیس‘‘ بنا کے اس کی عزت و غیرت کا جنازہ نکال دیا گیا ہے ۔ اُس وقت روم و فارس غلام بناتے تھے، آج عالمی طاقتیں ’’قرضوں اور سودی نظام‘‘ سے غلام بناتی ہیں
اُس وقت جاہلیت کا نام ’’شرک‘‘ تھا، آج اس کا نام ’’ماڈرن ازم‘‘ اور ’’فریڈم‘‘ ہے
رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے وقت دنیا ظلم، شرک، جہالت اور اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی۔
آج بظاہر دنیا ترقی یافتہ ہے مگر حقیقتاً وہی پرانی جاہلیت نئی شکلوں میں واپس آچکی ہے۔
عقیدہ و ایمانیات
فارس آگ کو خدا مانتے، ہند دیوی دیوتاؤں کے سامنے جھکتے، یہود ونصاریٰ سیدنا عزیر اور عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہتے ، عرب بُتوں کو پوجتے… 360 بت کعبہ کے اندر تھے۔ توحید ابراہیمی کو بھلا دیا گیا تھا۔
اللہ کو خالق مانتے تھے مگر عبادت میں لات، منات، عزیٰ، ہبل جیسے بتوں کو پکارتے تھے۔
﴿وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّٰہِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ﴾ (یونس: 18)
اور وہ اللہ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انھیں نقصان پہنچاتی ہیں اور نہ انھیں نفع دیتی ہیں
ان کا نظریہ یہ تھا :
﴿مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى﴾ (الزمر: 3)
“ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں ۔
آج کی جاہلیت :
خدا پر ایمان کا دعویٰ لیکن غیر اللہ سے حاجتیں مانگنا۔
شرکِ قبور، شرکِ اولیاء اور جدید ’بت‘ جیسے: دولت، شہرت اور اقتدار کی پوجا ۔۔۔
لوگ ٹیکنالوجی، سائنس، پیسہ اور طاقت کو خدا سمجھ بیٹھے ہیں۔
مغربی معاشرہ کہتا ہے ’’خدا مر گیا ہے‘‘ نعوذ باللہ
قرآن نے ایسے لوگوں کو یوں بیان کیا:
﴿أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ﴾ (سورۃ الجاثیہ: 23)
’’کیا تم نے اس کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو خدا بنا لیا ؟‘‘
اخلاق و کردار
زمانہ جاہلیت میں زنا، شراب نوشی، جوا اور قمار بازی عام تھیں۔
آج کی جاہلیت :
انہی چیزوں کو ’’انٹرٹینمنٹ اور لائف اسٹائل‘‘ کے نام پر قانونی بنا دیا گیا ہے۔
شراب کی صنعت عالمی معیشت کا حصہ ہے۔
قمار بازی دنیا کا سب سے بڑا بزنس ہے۔
سودی نظام معیشت نے پوری دنیا پہ اپنا پنجہ جما رکھا ہے ۔
فحاشی اور فحش فلم انڈسٹری کھربوں ڈالر کما رہی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ، يَسْتَحِلُّونَ الحِرَ وَالحَرِيرَ ، وَالخَمْرَ، وَالمَعَازِفَ»
’’میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال کر لیں گے۔‘‘ (صحیح بخاری: 5590)
معاشی و اخلاقی انحطاط
آپﷺ کی آمد سے قبل قتل و غارت عام تھی، معمولی بات پر نسلیں فنا ہوجاتیں۔ معمولی جھگڑوں پر قبیلے نسلوں تک خون بہاتے رہتے،جنگ فجار اور بعاث میں مکہ کے قبائل اور مدینہ کے اوس و خزرج تباہی کا منظر پیش کر رہے تھے۔
عورت وراثت سے محروم تھی۔
بیٹی کی پیدائش ان کے چہرے کی سیاہی تھی
﴿وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِالْأُنثَى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ﴾
ان میں سے جب کسی کو لڑکی ہونے کی خبر دی جائے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے ۔(سورۃ النحل: 58)
بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا باعثِ فخر سمجھا جاتا تھا ۔
﴿وَإِذَا الْمَوْؤُودَةُ سُئِلَتْ بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ﴾
’’زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ کس جرم میں قتل کی گئی؟‘‘ (سورۃ التکویر: 8-9)
شراب نوشی اور جوا زندگی کا حصہ تھا۔
ناپ تول میں دھوکہ عام تھا
غلاموں کو انسان نہیں سمجھا جاتا تھا ۔۔۔۔
آج کی جاہلیت :
آج عورت کو آزادی کے نام پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
حیا کا خاتمہ، فحاشی و عریانی کی یلغار ، عورت کو ’آزادی‘ کے نام پر بے پردگی، ماڈرن فیشن اور میڈیا انڈسٹری کا ایندھن بنا دیا گیا ہے۔
آج کی دنیا میں عورت ’پروڈکٹ‘ ہے۔
قرآن کہتا ہے:
﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ﴾
’’ہم نے آدم کی اولاد کو عزت بخشی ۔‘‘ (سورۃ الإسراء: 70)
لیکن آج کی دنیا نے اسے اسفل السافلین میں پہنچا دیا ۔
اسلام نے عورت کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کے طور پر عزت دی، مگر آج کی دنیا نے اسے بازار کی زینت بنا دیا۔
سودی نظام پوری دنیا پر چھایا ہوا ہے۔
رشوت، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ عام ہے۔
شراب، منشیات اور قمار (آن لائن جوا، بیٹنگ) نئی شکلوں میں پھیل چکے ہیں
سیاسی و عالمی منظرنامہ
رسول اللہ ﷺ کی آمد سے قبل دنیا دو بڑی طاقتوں روم اور فارس میں بٹی ہوئی تھی۔
روم: عیسائی سلطنت تھی، مگر ظلم و استبداد اور طبقاتی نظام نے عوام کو کچل دیا تھا۔
فارس: آتش پرست تھے، بادشاہ ’’کسریٰ‘‘ کو خدا جیسا درجہ دیا جاتا۔ ظلم، عیش و عشرت، اور عریانی ان کی پہچان تھی۔
عرب میں کوئی مرکزی حکومت نہ تھی، صرف قبائلی نظام قائم تھا۔ ہر قبیلہ اپنا سردار مانتا تھا۔
عدل و انصاف کا کوئی نظام نہ تھا، طاقتور ہی فیصلہ کرتا۔
ظلم، ڈاکہ زنی اور قتل و غارتگری پر فخر کیا جاتا تھا۔
روم اور فارس چھوٹے ملکوں کو غلام بنا چکے تھے۔
آج کی جاہلیت :
بڑی طاقتیں (امریکہ، روس، چین وغیرہ) چھوٹے ملکوں کو قرض، اسلحہ اور معیشت کے جال میں پھنسا کر غلام بنا رہی ہیں۔
فلسطین، کشمیر، شام اور عراق میں طاقتور کمزور کو روند رہا ہے، کوئی انصاف نہیں۔قرآن میں ہے:
﴿وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا﴾
’’یعنی اسلام نے امن اور عدل کا قانون دیا، مگر آج دنیا ظلم و جبر پر کھڑی ہے۔‘‘(سورۃ الحجرات: 9)
علمی و فکری زوال
اہلِ عرب اکثریت میں ان پڑھ تھے۔
علم و حکمت کا چراغ بجھ چکا تھا۔
وہ صرف شاعری اور نسب دانی پر فخر کرتے تھے۔
ایران و روم جیسی بڑی سلطنتیں بھی زوال کا شکار تھیں۔
ایران میں آتش پرستی، عریانی اور ظلم کا دور تھا۔
روم میں عیسائیت بگڑ چکی تھی، مذہب پادریوں کے قبضے میں تھا اور ظلم و بدامنی عام تھی۔
علم محدود اور بے مقصد تھا۔۔۔
دنیا ایک عظیم رہنما کی منتظر تھی
آج کی جاہلیت:
علم بہت ہے مگر مقصدیت نہیں۔
سائنس نے ایٹم بم بنایا مگر امن نہیں دیا۔
انٹرنیٹ نے رابطے آسان کیے مگر اخلاق تباہ کر دیے۔
روبوٹ، AI اور جدید ٹیکنالوجی ہے مگر انسانیت کے لیے خوف اور تباہی بھی ساتھ لائی ہے۔
گویا علم ہے مگر حکمت نہیں، ترقی ہے مگر سکون نہیں ۔۔۔۔
دنیا آج بھی اسی عظیم راہنما کی منتظر ہے
آفتاب رسالت اور انقلاب دنیا
رسول اللہ ﷺ کی آمد سے قبل دنیا اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، ہر طرف شرک، ظلم، ناانصافی، جہالت اور انسانیت کی پامالی عام تھی۔ آپ ﷺ کی بعثت کے ساتھ ہی وہ اندھیرے چھٹ گئے؛ آپ ﷺ نے توحید کا نور، عدل و انصاف کا نظام، علم و حکمت کی روشنی اور اخلاقِ حسنہ کی تعلیم دے کر جاہلیت کو جڑ سے اکھاڑ دیا۔ یوں انسانیت کو اصل شرف اور حیاتِ طیبہ کا راستہ ملا ۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾
’’اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر۔‘‘ (سورۃ الانبیاء: 107)
یہ رحمت صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت، جن و انس، حتیٰ کہ چرند پرند، شجر و حجر اور زمین و آسمان سب کے لیے ہے ۔
چشم فلک نے پھر کیا دیکھا ؟
فکری و نظریاتی انقلاب
دنیا میں پہلی بار خدا کے تصور کو خالص توحید کی بنیاد پر متعارف کرایا گیا۔
فلسفیوں نے عقل دی، مگر نبی اکرم ﷺ نے عقل کو وحی کے تابع کر کے یقین اور امن سے دنیا بدل ڈالی ۔
قرآن نے بتایا کہ انسان کی اصل عبدیت ہے، غلامی نہیں۔آپ ﷺ نے اعلان فرمایا:
“قُولُوا لا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا”
’’اے لوگو! کہو لا إله إلا الله، کامیاب ہو جاؤ گے۔‘‘
( مسند الإمام أحمد 13981 صحیح )
کعبہ کو بتوں کی گندگی سے پاک کیا گیا
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
“دَخَلَ النَّبِيُّ ﷺ مَكَّةَ، وَحَوْلَ الْبَيْتِ سِتُّونَ وَثَلَاثُمِائَةِ نُصُبٍ، فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ فِي يَدِهِ، وَيَقُولُ: جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ، إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا، فَجَعَلَتْ تَنْكَبُّ عَلَى وُجُوهِهَا”
نبی کریم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور کعبہ کے اردگرد 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ میں موجود لکڑی سے انہیں گراتے ہوئے فرمایا: ’’حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بیشک باطل مٹنے ہی والا ہے۔‘‘ پھر وہ سب بت منہ کے بل گر پڑے ۔
(صحیح بخاری: 4287؛ صحیح مسلم: 1781)
آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں:
اخلاقی انقلاب
عورت کو ماں ، بہن ،بیٹی، اور بیوی کا مقام ملا ، وراثت کی حق دار ٹھہری اور لوگوں کی غلامیاں ہمیشہ کی آزادیوں میں بدل گئیں ۔ارشاد ربانی ہے:
﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ ٱلَّذِى عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾
’’اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں پر واجب ہیں دستور کے مطابق۔‘‘ (سورۃ البقرة: 228)
رسول اللہ ﷺ فرمایا :
«إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ»
’’بیشک عورتیں مردوں کی ہم مثل ہیں ۔‘‘ (سنن ابو داؤد: 236)
آپ سے سوال ہوا :
«مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟»
’’میرے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟‘‘
قَالَ: «أُمُّكَ»،قَالَ:ثُمَّ مَنْ؟قَالَ: «أُمُّكَ»،قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «أُمُّكَ»،قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «أَبُوكَ»
آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تیری والدہ۔‘‘ اس نے پوچھا: ’’پھر کون؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تیری ماں۔‘‘ اس نے پھر پوچھا: ’’پھر کون؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تیری والدہ۔‘‘ اس نے کہا: ’’پھر کون؟‘‘ آپﷺ نے فرمایا: ’’تیرا باپ۔‘‘ (صحيح بخاری: 5971؛ صحيح مسلم: 2548)
• بیٹیوں کی پرورش پر جنت کی بشارت دی ۔
«مَنِ ابْتُلِيَ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ، فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ، كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ»
“جس شخص کو بیٹیوں کی آزمائش ہوئی اور اس نے ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا تو یہ بچیاں اس کے لیے جہنم سے آڑ بن جائیں گی ۔ (صحيح بخاری: 1418؛صحيح مسلم: 2629)
مزید ارشاد فرمایا:
«مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ، وَضَمَّ أَصَابِعَهُ»
’’جس شخص نے دو لڑکیوں کی پرورش و کفالت کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائیں، تو وہ قیامت کے دن اس طرح میرے ساتھ ہوگا۔‘‘ آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ملا کر دکھایا۔ (صحیح مسلم: 2631)
بیوی کے ساتھ حسنِ معاشرت کا حکم دیا :
«خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي»
’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے اہل کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔‘‘ (جامع ترمذی: 3895)
غلاموں کی آزادی کے دروازے کھولے گئے ۔
کفارۂ خطا میں غلام آزاد کرنا
﴿وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ﴾
’’یعنی جو کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے، اس پر لازم ہے کہ ایک غلام کو آزاد کرے۔‘‘ (سورۃ النساء: 92)
قسم توڑنے کا کفارہ میں غلاموں کو آزادی
﴿فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ … أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ﴾
’’یعنی قسم توڑنے کا کفارہ دس مسکینوں کو کھلانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے۔‘‘ ( سورۃ المائدہ: 89)
ظہار (بیوی کو ماں کہنے ) کے کفارہ میں آزادی
﴿فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَآسَّا﴾
’’یعنی بیوی کو ماں کہنے والے کے لیے لازم ہے کہ ایک غلام آزاد کرے۔‘‘ (سورۃ المجادلہ: 3 )
غلام آزاد کرنے پر جنت کی بشارت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“مَن أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ”
’’یعنی جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے، اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔‘‘(صحیح مسلم 1509)
شراب و جوا کو مکمل طور پر حرام قرار دیا گیا :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
اے ایمان والو! شراب، جوا، بت اور فال نکالنے کے تیر یہ سب شیطانی گندے کام ہیں، پس ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ (سورۃ المائدة: 90)
حدیث شریف میں ہے :
لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ، وَشَارِبَهَا، وَسَاقِيَهَا، وَبَائِعَهَا، وَمُبْتَاعَهَا، وَعَاصِرَهَا، وَمُعْتَصِرَهَا، وَحَامِلَهَا، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ .
’’اللہ نے شراب، پینے والے، پلانے والے، بیچنے والے، خریدنے والے، بنانے والے، بنوانے والے، لے جانے والے اور جس کے پاس لے جائی جائے، سب پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘ (سنن ابوداؤد: 3674؛ ابن ماجہ: 3380 )
جوا کے بارے میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْقِمَارِ
نبی کریم ﷺ نے جوا سے منع کیا ہے۔ (مسند احمد: 5674)
اخوت اور بھائی چارہ قائم ہوا :
﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾
’’مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘ (سورۃ الحجرات: 10)
سماجی انقلاب
مدینہ میں پہلی اسلامی ریاست قائم کی گئی۔
میثاقِ مدینہ کے ذریعے مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک معاہدے میں شامل کیا گیا۔
خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا:
«فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا »
’’تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزت ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح یہ دن، یہ شہر اور یہ مہینہ حرمت والے ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری: 1739)
عرب و عجم، کالے و گورے کا فرق ختم کیا گیا :
“لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ… إِلَّا بِالتَّقْوَى”
’’کسی عربی کو عجمی پہ اور کسی عجمی کو عربی پہ کوئی فضیلت نہیں سوائے تقوی کے۔‘‘ (مسند احمد: 23489)
ایک عام حبشی غلام کو عزت دی اور کہا:
’’بلال کے قدموں کی اواز جنت میں میرے اگے تھی۔‘‘ (جامع ترمذی: 3689)
ایک عورت نے مسجد میں صفائی کی، وفات پر دفنائی گئی، آپ ﷺ نے اس کی قبر پر نماز جنازہ ادا کی ۔
(صحیح بخاری: 458)
عدل و رواداری
دنیا کی تاریخ میں پہلی بار حکمران اور رعایا کو ایک پیمانے پر کھڑا کیا گیا۔
«عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا وَمَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالُوا وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا».
مخزومیہ خاتون (فاطمہ بن اسود) جس نے (غزوہ فتح کےموقع پر) چوری کرلی تھی، اس کےمعاملہ نے قریش کوفکر میں ڈال دیا۔انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس معاملہ پرآنحضرت ﷺسے گفتگو کون کرے ! آخر یہ طے پایا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ کوبہت عزیز ہیں۔ ان کے سوا اور کوئی اس کی ہمت نہیں کر سکتا۔ چنانچہ اسامہ نے آنحضرتﷺ سےاس بارے میں کچھ کہا توآپ نے فرمایا ۔ اسامہ ! کیا تواللہ کی حدود میں سے ایک حد کےبارے میں سفارش کرتا ہے؟ پھر آپ کھڑے ہوئےاورخطبہ دیا( جس میں) آپ نے فرمایا ۔پچھلی بہت سی امتیں اس لیے ہلاک ہوگئیں کہ جب ان کا کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اوراگر کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پرحد قائم کرتےاور اللہ کی قسم !اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ بھی چوری کرے تومیں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالوں۔
(صحیح بخاری: 3475؛ صحیح مسلم: 1688)
علم و تحقیق کا دروازہ
پہلی وحی ’اقرأ‘ کے ذریعے علم کی اہمیت اجاگر کی گئی۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا
”بے شک مجھے (اللہ تعالیٰ نے) معلم (استاد) بنا کر بھیجا ہے۔“
( سنن ابن ماجہ 229 صحیح )
چند دہائیوں میں ایک اُمیّ قوم دنیا کی معلم بن گئی۔
مسلمان سائنس، طب، ریاضی اور فلسفہ کے امام بن گئے۔
یورپ کی نشاۃ ثانیہ دراصل مسلمانوں کی علمی میراث کا نتیجہ تھی۔
اسی تعلیم نے بعد میں سائنس، فلسفہ، ریاضی، فلکیات کی بنیاد رکھی اور جہالت کی دنیا علم کے نور سے منور ہو گئی ۔
کائناتی توازن
آپ ﷺ نے دنیا کو ماحولیات کا تصور دیا۔
ارشاد ربانی ہے :
﴿وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا﴾
’’اور زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ۔‘‘ (سورۃ الأعراف: 56)
ارشاد نبوی ہے : «إِنْ قَامَتِ السَّاعَةُ وَفِي يَدِ أَحَدِكُم فَسِيلَةٌ فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا تَقُومَ حَتَّى يَغْرِسَهَا فَلْيَغْرِسْهَا»
’’اگر قیامت قائم ہو جائے اور کسی کے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہو تو وہ اسے لگا دے۔‘‘ (مسند احمد: 12902)
فضلہ پھیلانا، درخت کاٹنا، ہوا و پانی کو آلودہ کرنا سب فساد میں شامل ہیں۔
ماحول کی حفاظت (درخت لگانا، پانی کو صاف رکھنا، فضائی آلودگی کم کرنا) حکم ربانی کے ساتھ انسان کو سیلاب، گلوبل وارمنگ، زمین کے کٹاؤ اور بیماریوں سے بچاتا ہے۔
اگر ماحولیاتی نظام بگڑ جائے تو بارشوں کا توازن، زلزلے اور دیگر آفات زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«مَن غَرَسَ غَرْسًا فَأَكَلَ مِنهُ إِنسَانٌ أَو دَابَّةٌ أَو طَيرٌ كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ»
’’جو شخص درخت لگاتا ہے تو اس میں سے اگر انسان، جانور یا پرندہ کھاتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ ہے۔‘‘
( صحیح البخاری 2320)
اس سے معلوم ہوا کہ ماحولیاتی تحفظ (درخت لگانا) نہ صرف فائدہ ہے بلکہ عبادت بھی ہے
روحانی سکون
انسان کی اصل بیماری ’روحانی بے سکونی ‘ تھی۔ آپ ﷺ نے ذکر، دعا، قرآن اور صبر کے ذریعے دلوں کو سکون بخشا۔
﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾
آگاہ رہو ! دلوں کا سکون ذکر الٰہی میں ہے ۔ (سورۃ الرعد: 28 )
ذکر دل کو زندہ کرتا ہے ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لا يَذْكُرُ رَبَّهُ، مَثَلُ الحَيِّ وَالمَيِّتِ»
’’جو شخص اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور جو نہیں کرتا، ان دونوں کی مثال زندہ اور مردہ کی طرح ہے۔‘‘
(صحیح بخاری:6407 ؛ صحیح مسلم: 779)
مزید ارشاد فرمایا:
«لا يَقْعُدُ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا حَفَّتْهُمُ المَلَائِكَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ» (صحیح مسلم: 2700)
’’جب بھی کچھ لوگ اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں، اللہ کی رحمت ان پر چھا جاتی ہے، سکون ان پر نازل ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنے پاس فرشتوں میں کرتا ہے۔‘‘
ظہور علامات اور حفاظتی تدابیر
رسول اللہ ﷺ نے ایسے فتنوں اور پیشن گوئیوں کا ذکر فرمایا جو قیامت سے قبل وقوع پذیر ہوں گی اور وہ آج پوری ہو رہی ہیں:
یہ وہ نشانیاں ہیں جو وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتی رہیں:
نبی اکرم ﷺ کی بعثت اور وفات ۔
علم کا اٹھ جانا اور جہالت کا پھیل جانا۔
فتنوں کا عام ہونا (زنا، شراب، قتل وغارت)
سود اور حرام کا عام ہونا۔
جھوٹے لوگوں کو سچا سمجھا جانا اور سچوں کو جھوٹا کہا جانا۔
امانت کا اٹھ جانا۔
نااہل لوگوں کو عہدے ملنا۔
عورتوں کی بے پردگی۔
مردوں سے مشابہت اور فیشن پرستی۔
قتل و غارت کا عام ہونا۔
جانور چرانے والے غرباء کا بڑی بڑی عمارتوں میں فخر کرنا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا، وَيُمْسِي كَافِرًا، أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا، وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا»
’’فتنوں کے ظاہر ہونے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو، یہ فتنے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے۔ انسان صبح کو مؤمن ہوگا اور شام کو کافر ہو جائے گا یا شام کو مؤمن ہوگا اور صبح کو کافر ہو جائے گا، وہ اپنے دین کو دنیا کے تھوڑے سے فائدے کے بدلے بیچ دے گا۔‘‘ (صحیح مسلم: 118)
بین الاقوامی پیغام
دنیا نے پہلی بار ایسا پیغام سنا :
“یَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ، كُلُّكُمْ لِآدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ”
’’اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ ایک ہے، سب آدم کی اولاد ہو، اور آدم مٹی سے بنے تھے۔‘‘ (سنن ابوداؤد: 5116 صحیح)
فتوحات و عالمی اثرات
ارشاد نبوی ہے :
«لَيَبْلُغَنَّ هٰذَا الأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللَّهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ هٰذَا الدِّينَ، بِعِزِّ عَزِيزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِيلٍ، عِزًّا يُعِزُّ اللَّهُ بِهِ الإِسْلَامَ، وَذُلًّا يُذِلُّ اللَّهُ بِهِ الْكُفْرَ»
’’یقیناً یہ دین وہاں تک پہنچے گا جہاں تک رات اور دن پہنچتے ہیں، اللہ تعالیٰ کسی پختہ مکان والے یا خیمہ والے کو نہیں چھوڑے گا مگر اس دین کو اس کے گھر میں داخل کرے گا؛ خواہ معزز کے ذریعے عزت کے ساتھ یا ذلیل کے ذریعے ذلت کے ساتھ۔ عزت وہ ہے جس کے ذریعے اللہ اسلام کو عزت بخشے گا اور ذلت وہ ہے جس کے ذریعے اللہ کفر کو ذلیل کرے گا۔‘‘ (مسند أحمد: 16998، صحیح ابن حبان: 1631 )
رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد خلافتِ راشدہ کے دور میں اسلام روم اور فارس تک پہنچ گیا ، آپ کی پیشینگوئی تھی :
«إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتُنْفِقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ الله»
’’جب کسریٰ (فارس کا بادشاہ) ہلاک ہوگا تو اس کے بعد کوئی دوسرا کسریٰ نہ ہوگا، اور جب قیصر (روم کا بادشاہ) ہلاک ہوگا تو اس کے بعد کوئی دوسرا قیصر نہ ہوگا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور ان دونوں کے خزانے اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے۔‘‘(صحیح بخاری: 3176؛ صحیح مسلم: 2918 )
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں قادسیہ اور یرموک کی جنگوں نے ظلم کی ساری دیواریں توڑ کے رکھ دیں ، قیصر و کسریٰ کی طاقتیں خاک آلود ہوئیں اور اسلام ایک عالمی طاقت بن گیا جس نے صدیوں تک عدل وانصاف کا پرچم بلند کیا ۔
آج کے مسلمان اگرچہ ’’اسلام‘‘ کے ماننے والے ہیں لیکن جدید جاہلیت کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔
ہماری نجات اسی وقت ہے جب ہم پھر سے قرآن و سنت کو زندگی کا دستور بنا لیں۔
﴿فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى﴾ (سورہ طہ: 123)
حدیث مبارکہ ہے :
«تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ، لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِي»(موطا مالک: 1395)
قدیم جاہلیت ہو یا جدید، انسانیت کا حال ایک جیسا ہی ہے۔ مگر خوشخبری یہ ہے کہ
جس طرح طلوعِ رسالت ﷺ نے قدیم جاہلیت کو شکست دی، اسی طرح اگر آج ہم نبی کریم ﷺ کی سیرت، تعلیمات اور قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھام لیں تو جدید جاہلیت کے اندھیروں سے بھی نکل سکتے ہیں۔
اَللّٰهُمَّ اجعلنا من أتباعِ القرآن والسنّة، وبارك لنا في ديننا ودنيانا، ونجّنا من ظلماتِ الجاهلية المعاصرة، ووفّقنا لاحياء شريعة نبيك محمد ﷺ .
آمین يا رب العالمين
٭٭٭
نعت
مقام مصطفی پہچان لےتو
محمد مصطفی پر جا ن دے تو
نہیں ہے پیشوائی کھیل کوئی
وہ ہیں سرخیل اعظم مان لےتو
امام الانبیاء ہیں دو جہاں میں
انہی کی پیروی کی ٹھان لےتو
پیا م مصطفی کیا حکم رب ھے
خدا کی راہ میں مال توکیا جان دے تو
ہوئی ختم نبوت وہ ہیں خاتم
صداقت ہے یہی پہچان لے تو کیا
شفیع و شافع محشر محمد
دلیل وشاھد و فرقان دے تو
حبیب و مصطفی و مجتبیٰ ہیں
خدا ہے ان کا مداح قرآن دے تو
فرشتے بھیجتے ہیں ان پہ ہر پل
درود پاک گواہ قرآن دے تو
بہر سو سودا گر ہیں قتل و خوں کے
محمد مصطفیٰ کا پیار سے فرمان دے تو
جہالت کی بہر سو تیرگی ہے
جلا شمع ہدی عرفان دے تو
مولانا صادق الاسلام عمری حیدرآباد دکن
٭٭٭
ڈڈلی مسجد کے ذمہ دار حاجی ذوالفقار علی قریشی کے فرزند ہارون قریشی کو اللہ نے دوسرا بیٹا عطا کیا تو انہوں نے مسجد میں تقریب عقیقہ مسنون کیا۔
اس موقع پر پڑھے گئے اشعار:
مبارک ذوالفقار و اہلیہ کو دوسرا پوتا
ہے بخشا ان کے بیٹے کو خدا نے چاند سا بیٹا
بہت مسرور ہیں ہاروں میاں بھی فضل ربی پر
عطائے رب پہ خوش ہیں نانی محترم نانا
دوسرے بچے کا رکھا نام ابراہیم علی
نام کیا ہے، عظمت وبرکت کا عنوان جلی
ہے دعا ثاقب فرزند قریشی کو ملے
فکر ابراہیمؑ اور تابانی حضرت علی ؓ
ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی
٭٭٭
حاجی محمد سلیم صاحب کی دختر کی وفات
برمنگھم میں لٹل گرین کے رہائشی حاجی محمد سلیم صاحب جن کو چند سال قبل مسجد گرین لین میں بھی نماز عشاء کے بعد گھر جاتے ہوئے گھر کے قریب شہید کر دیا گیا تھا، ان کی بڑی دختر 40 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
جامع مسجد اہل حدیث گرین لین برمنگھم میں قاری ذکاء اللہ سلیم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور برمنگھم کے مسلم قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ دعا ہے کہ اللہ کریم ان کے گناہوں کو معاف فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل بخشے۔ آمین
کیا بھروسہ ہے زندگانی کا
آدمی بلبلا ہے پانی کا
٭٭٭
تبصرہ کریں