
حمد و صلوٰۃ کے بعد! قرآنِ کریم اللہ رب العزت کا وہ معجز کلام ہے جس کا ہر لفظ حکمت و دانائی کے ایک بحرِ بیکراں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ کتاب محض احکامات کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی روح کے تزکیے اور فہم و ادراک کی بالیدگی کا بہترین ذریعہ ہے۔ قرآنِ مجید کا یہ اسلوبِ بیان نہایت منفرد ہے کہ وہ انسانی لغزشوں، کوتاہیوں اور نافرمانیوں کے لیے صرف ایک لفظ استعمال نہیں کرتا، بلکہ گناہ کی ماہیت، اس کے نفسیاتی محرکات اور انفرادی و اجتماعی اثرات کے لحاظ سے متنوع اصطلاحات اختیار کرتا ہے۔ قرآنِ کریم اللہ رب العزت کا وہ معجز کلام ہے جس کا ہر لفظ حکمت و دانائی کے ایک بحرِ بیکراں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ کتاب محض احکامات کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی روح کے تزکیے اور فہم و ادراک کی بالیدگی کا بہترین ذریعہ ہے۔
سلفِ صالحین کا یہ منہج رہا ہے کہ وہ قرآن کی ان باریک بینیوں پر غور کرتے تھے تاکہ یہ جان سکیں کہ خالقِ کائنات بندے کو کس طرح کی تنبیہ فرما رہا ہے۔ زیرِ نظر مقالے میں ہم گناہ کے لیے استعمال ہونے والی چیدہ چیدہ قرآنی تعبیرات، ان کے لغوی مفاہیم اور ان کے پیچھے کارفرما اخلاقی مقاصد کا علمی جائزہ لیں گے۔
1۔ اِثم:روحانی سستی اور نیکیوں سے محرومی قرآنِ مجید میں گناہ کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ “اِثم” ہے۔ استعمال کی وجہ اور مقصد: اللہ تعالیٰ نے گناہ کو اثم اس لیے کہا تاکہ بندے کو یہ احساس دلایا جائے کہ گناہ صرف ایک قانون شکنی نہیں بلکہ یہ وہ بوجھ ہے جو آپ کے پاؤں میں زنجیر بن کر آپ کو جنت کے راستے میں پیچھے دھکیل دیتا ہے۔امام راغب اصفہانی “المفردات فی غریب القرآن” میں رقمطراز ہیں کہ لغتِ عرب میں اِثم اس کام کو کہتے ہیں جو انسان کو نیکی کی راہ میں سست کر دے اور اسے ثواب سے محروم کر دے۔ یہ لفظ اس اونٹنی کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا جو اپنی سستی کی وجہ سے قافلے سے پیچھے رہ جائے۔استعمال کی وجہ اور مقصد: اللہ تعالیٰ نے گناہ کو اِثم اس لیے کہا تاکہ بندے کو یہ احساس دلایا جائے کہ گناہ صرف ایک قانون شکنی نہیں بلکہ یہ وہ بوجھ ہے جو آپ کے پاؤں میں زنجیر بن کر آپ کو جنت کے راستے سے پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ﴾ (سورۃ الاعراف: 33)
اخلاقی پیغام: اس تعبیر کا مقصد یہ ہے کہ مومن اپنی زندگی کا محاسبہ کرے کہ اگر اسے نماز، تلاوت یا دیگر عبادات میں بوجھ اور سستی محسوس ہو رہی ہے، تو یقیناً اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی “اِثم” کارفرما ہے جس نے اس کی روحانیت کو مفلوج کر دیا ہے۔
گناہ کے انجام کی سنگینی اور فکری بیداری
2۔ ذَنب: انجام کی سنگینی اور دائمی وبال لفظ “ذنب” کا مادہ “ذَنَب” ہے جس کے لغوی معنی “پونچھ” کے ہیں۔ اہل لغت کے مطابق یہ لفظ ایسے گناہ کے لیے بولا جاتا ہے جس کا وبال اور برا انجام انسان کے پیچھے لگا رہتا ہے۔استعمال کی وجہ اور مقصد: اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے گناہ کو ذنب اس لیے پکارا تاکہ انسان کو یہ تنبیہ کی جائے کہ گناہ کوئی وقتی لذت نہیں جو ختم ہو گئی، بلکہ اس کا انجام پونچھ کی طرح تمہارے نامہ اعمال کے ساتھ جڑا رہے گا یہاں تک کہ توبہ اسے کاٹ نہ دے۔ قرآنِ کریم میں سابقہ امتوں کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا:
﴿فَأَهْلَكْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ﴾ (سورۃ الانعام: 6)
اخلاقی پیغام: اس کا مقصد انسان کے اندر “فکرِ آخرت” پیدا کرنا ہے۔ یہ تعبیر ہمیں سکھاتی ہے کہ گناہ کو چھوٹا نہ سمجھو، بلکہ یہ دیکھو کہ اس کا انجام تمہارا پیچھا کر رہا ہے جو دنیا سے لے کر قبر اور حشر تک تمہارے ساتھ رہے گا۔
3۔ سیئہ:بدنمائی اور معاشرتی فساد یہ لفظ “سوء” سے نکلا ہے، جس کے لغوی معنی بدصورتی، تکلیف یا ایسی چیز کے ہیں جو دیکھنے میں ناگوار گزرے۔ قرآن جب گناہ کو سیئہ کہتا ہے تو اس کا رخ گناہ کی اس ظاہری اور باطنی قباحت کی طرف ہوتا ہے جو انسانی فطرت کو مکدر کر دیتی ہے۔
اگر تم اپنی انسانیت کی توہین محسوس کرتے ہو، تو یہ “ظلم” ہے۔ اگر تم معاشرے میں بگاڑ کے ذمہ دار ہو، تو یہ “سیئہ” ہے۔مغربی معاشرے کے پرفتن ماحول میں، جہاں گناہ کو ذاتی پسند یا طرزِ زندگی جیسے خوشنما پردوں میں چھپایا جاتا ہے، وہاں ایک مسلمان کے لیے ان قرآنی اصطلاحات کا فہم ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ الفاظ ہمیں بتاتے ہیں کہ گناہ صرف ایک فعل نہیں بلکہ ایک ایسا بوجھ ہے جو ہماری روحانی ترقی کو روک دیتا ہے۔ تاہم، قرآن کا کمال یہ ہے کہ وہ صرف بیماری کی تشخیص نہیں کرتا بلکہ توبہ کی صورت میں اس کا علاج بھی بتاتا ہے۔ گناہ کی ہر قسم، چاہے وہ کتنا ہی بڑا ظلم کیوں نہ ہو، اللہ کی رحمت اور سچی توبہ کے سامنے مٹ جاتی ہے۔استعمال کی وجہ اور مقصد: اس تعبیر کا مقصد انسان کی “جمالیاتی حس” کو جھنجھوڑنا ہے کہ گناہ انسان کی شخصیت کے حسن کو غارت کر دیتا ہے اور معاشرے کے چہرے پر ایک بدنما داغ بن جاتا ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے:
﴿مَن جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى الَّذِينَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ إِلَّا مَا کَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ (سورۃ القصص: 84)
اخلاقی پیغام: جس طرح ایک سلیم الطبع انسان اپنے لباس پر معمولی سا دھبہ برداشت نہیں کرتا، اسی طرح ایک صاحبِ ایمان کو اپنے کردار پر “سیئہ” کا داغ برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ یہ تعبیر معاشرتی پاکیزگی اور اخلاقی حسن و جمال کا درس دیتی ہے۔
4۔ ظلم:حق کی پامالی اور توازن کا بگاڑ ظلم کا لغوی معنی ہے “کسی چیز کو اس کے اصل مقام سے ہٹا کر کسی غیر محل پر رکھ دینا”۔ قرآنِ مجید نے گناہ کو سب سے زیادہ “ظلم” کی تعبیر سے واضح کیا ہے۔
استعمال کی وجہ اور مقصد: گناہ کو ظلم کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بندہ یہ جان لے کہ اس نے اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں (ہاتھ، پاؤں، آنکھ، وقت) کو ان کے اصل مقصد یعنی اطاعت سے ہٹا کر معصیت میں لگا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ ﴾ (سورۃ لقمان: 13)
اخلاقی پیغام: یہاں “ظلم علی النفس” کا تصور ابھارا گیا ہے کہ گناہ گار کسی اور کا نہیں بلکہ اپنی ہی جان کا دشمن ہے۔ جب انسان گناہ کرتا ہے تو وہ عدل کے دائرے سے نکل کر اپنی روح پر ناانصافی کرتا ہے اور اسے عذابِ الٰہی کا مستحق بنا لیتا ہے۔
5۔ فاحشہ:حد سے تجاوز اور بے حیائی وہ گناہ جو اپنی برائی اور قباحت میں حد سے گزر جائیں، قرآن انہیں “فاحشہ” کہتا ہے۔ لغت میں “فحش” کا معنی ہی حد سے تجاوز کرنا ہے۔
استعمال کی وجہ اور مقصد: اس تعبیر کا مقصد ان گناہوں کی سنگینی کو واضح کرنا ہے جو انسانی غیرت اور معاشرتی اقدار کے منافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ لفظ استعمال کر کے مومن کے دل میں ان گناہوں کے لیے نفرت پیدا کی ہے۔ فرمایا:
﴿وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ﴾ (سورۃ الانعام: 151)
اخلاقی پیغام: “فاحشہ” کی اصطلاح ہمیں “سدِ ذرائع” کا درس دیتی ہے، یعنی گناہ سے تو بچنا ہی ہے لیکن اس کے قریب لے جانے والے راستوں اور اسباب سے بھی اجتناب لازم ہے۔ برمنگھم جیسے مغربی معاشرے میں جہاں فحاشی کو آزادی کا نام دیا جاتا ہے، وہاں قرآن کا یہ لفظ ایک مسلمان کے لیے حصارِ ایمان کی حیثیت رکھتا ہے۔
اخروی سفر کی رکاوٹیں اور گناہوں کا بوجھ
6۔ وِزر: کمر توڑ دینے والا بوجھ لفظ “وزر” کے معنی اس بھاری بوجھ کے ہیں جو انسان کی پیٹھ پر لدا ہو۔ قرآنِ کریم نے گناہوں کو بوجھ سے تعبیر کر کے انسان کی آخرت کی سنگینی کو واضح کیا ہے۔
استعمال کی وجہ اور مقصد: اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ گناہ انسان کو روحانی طور پر سبک رفتار نہیں رہنے دیتے بلکہ اسے بوجھل بنا دیتے ہیں۔ جس طرح بوجھ والا مسافر منزلِ مقصود تک جلدی نہیں پہنچ پاتا، اسی طرح گناہ گار انسان آخرت کے کٹھن سفر میں تھک کر رہ جاتا ہے۔ ارشاد ہے:
﴿أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ﴾(سورۃ الانعام: 31)
اخلاقی پیغام: یہ تعبیر زہد اور تقویٰ کی ترغیب دیتی ہے کہ جتنا دامن گناہوں کے بوجھ سے پاک ہوگا، اللہ کی ملاقات کا سفر اتنا ہی سہل اور پرکیف ہوگا۔
7۔ خَطِیئَہ:شعوری لغزش اور محاصرہ “خطیئہ” اس گناہ کو کہتے ہیں جو انسان سے شعوری طور پر سرزد ہو اور وہ اس میں ایسا مگن ہو جائے کہ نیکی کے راستے بند ہو جائیں۔
استعمال کی وجہ اور مقصد: اللہ تعالیٰ نے گناہ کے تسلسل اور اس کی ہلاکت خیزی کو واضح کرنے کے لیے یہ لفظ منتخب کیا ہے۔ جب انسان گناہ کو معمولی سمجھ کر اس پر اصرار کرتا ہے تو وہ گناہ اسے ہر طرف سے گھیر لیتا ہے۔ ارشاد ہے:
﴿بَلَىٰ مَن كَسَبَ سَيِّئَةً وَأَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ فَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ﴾ (سورۃ البقرۃ: 81)
اخلاقی پیغام: یہ تعبیر ہمیں گناہوں کے عادی ہونے سے ڈراتی ہے۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گناہ دل کو اسی طرح زنگ آلود کر دیتا ہے جیسے لوہے کو پانی۔ “خطیئہ” وہ حالت ہے جہاں انسان کا ضمیر مردہ ہونے لگتا ہے۔
حرفِ آخر اور پیغامِ دعوت قرآنِ مجید کی ان متنوع اصطلاحات اور تعبیرات کا مطالعہ ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ دینِ اسلام گناہ کو محض ایک قانونی جرم نہیں سمجھتا بلکہ اسے انسانی روح کی بیماری قرار دیتا ہے۔ اللہ رب العزت نے گناہ کے مختلف نام رکھ کر ہمیں یہ سمجھایا ہے کہ
اگر تم نیکی کی لذت سے محروم ہو، تو یہ “اِثم” ہے۔
اگر تم برے انجام سے ڈرتے ہو، تو یہ “ذنب” ہے۔
اگر تم اپنی انسانیت کی توہین محسوس کرتے ہو، تو یہ “ظلم” ہے۔
اگر تم معاشرے میں بگاڑ کے ذمہ دار ہو، تو یہ “سیئہ” ہے۔
“صراطِ مستقیم” کے قارئین، بالخصوص دیارِ غیر میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے ان تعبیرات کا فہم اس لیے ضروری ہے کہ وہاں ہر گناہ کو ایک خوشنما نام دے کر پیش کیا جاتا ہے۔ قرآن ہمیں برائی کی اس کی اصل حقیقت کے ساتھ پہچان کرواتا ہے۔ سلفِ صالحین کا یہی شیوہ تھا کہ وہ گناہ کو چھوٹا نہیں دیکھتے تھے بلکہ اس کی عظمت کو دیکھتے تھے جس کی نافرمانی کی جا رہی ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآنِ کریم کا وہ فہمِ سلیم عطا فرمائے جو ہمارے کردار کی اصلاح کا ذریعہ بنے۔ ہمیں گناہوں کی ظاہری و باطنی ہلاکت خیزیوں سے محفوظ رکھے، ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کے نور سے منور فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جن کے نامہ اعمال گناہوں کے بوجھ سے پاک ہو کر توبہ کے نور سے چمک رہے ہوں۔ آمین یا رب العالمین!
٭٭٭
علمائے عزیز کے نام ایک پیغام
تم اپنا فرض جو علمائے دین پہچانو
جہانِ تیرہ و تاریک کیوں نہ روشن ہو
بھٹک رہا ہے اندھیروں میں کاروانِ اُمم
سنبھالے کون اسے تم اگر نہ خضر بنو
تمہارے سامنے فکر و نظر کے خاکے ہیں
یقین وحسنِ عمل سے تم ان میں رنگ بھرو
ہے کب سے ملتِ بیضا تباہ و سرگرداں
خبر بھی ہے تمہیں اے شمع دیں کے پروانو
ہزار بدلے، زمانے کا رنگ ڈھنگ مگر
تم اپنی وضع نہ چھوڑو کبھی نہ تم بدلو
کوئی بھی تم کو جہاں میں ڈرا نہیں سکتا
جو تم خدائے علیم و خبیر ہی سے ڈرو
تمہاری راہ نمائی کا منتظر ہے وہ
اٹھو! زمانے کو تم اپنے ساتھ لے کے چلو
تمام عمر بلا خوف لومۃ لائم
خدا کی جس میں رضا ہو نہاں وہ کام کرو
ادھر ہے راحتِ دنیا ، ادھر صعوبتِ دیں
تم اس دوراہے پہ جاؤ گے کس طرف بولو
کلی کلی ہے فسردہ ہر ایک پھول ملول
تم اپنے خوں سے گلستانِ دین کو سینچو
یہ درس گاہ حقیقت میں تربیت گہ ہے
نہ بن سکو گے کہیں تم اگر یہاں نہ بنو
کہاں ہوا ہے سویرا ، ابھی اندھیرا ہے
مثالِ مہر درخشاں جہاں میں تم چمکو
پہنچ ہی جاؤ گے اک روز تم سرِ منزل
دلوں کے ساتھ قدم، بھی ذرا ملا کے چلو
کرو حفاظت ناموس دین و ملّت تم
ابوالبیاں کا یہ پیغامِ شوق یاد رکھو
مولانا ابو البیان حمادی العمری
٭٭٭
ماہ شوال کے چھ دن کے روزوں کی فضیلت و ثبوت
عن ابي ايوب قال: قال النبي ﷺ: «من صام رمضان ثم اتبعه ستا من شوال فذلك صيام الدهر» (جامع ترمذی: 759 )
سیدنا ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ (نفلی) روزے رکھے تو یہی صوم الدھر ہے۔‘‘اس حدیث کو درج کرنے کے بعد امام ترمذی فرماتے ہیں کہ جناب حسن بصری کے پاس جب شوال کے چھ دن کے روزوں کا ذکر کیا جاتا تو وہ کہتے: اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ اس ماہ کے روزوں سے پورے سال راضی ہے۔‘‘
مزید لکھتے ہیں:وقد استحب قوم صيام ستة ايام من شوال بهذا الحديث قال ابن المبارك: هو حسن هو مثل صيام ثلاثة ايام من كل شهر قال ابن المبارك: ويروى في بعض الحديث ويلحق هذا الصيام برمضان واختار ابن المبارك ان تكون ستة ايام في اول الشهر وقد روي عن ابن المبارك انه قال: إن صام ستة ايام من شوال متفرقا فهو جائز
کئی ائمہ نے اس حدیث کی رو سے شوال کے چھ دن کے روزوں کو مستحب کہا ہے، ابن مبارک کہتے ہیں: یہ اچھا ہے، یہ ہر ماہ تین دن کے روزوں کے مثل ہیں،
اور عبد اللہ ابن مبارک کہتے ہیں: بعض احادیث میں مروی ہے کہ یہ روزے رمضان سے ملا دیئے جائیں، ۔۔ اور ابن مبارک نے پسند کیا ہے کہ یہ روزے مہینے کے ابتدائی چھ دنوں میں ہوں، ۱۱- ابن مبارک سے نے یہ بھی کہا: اگر کوئی شوال کے چھ دن کے روزے الگ الگ دنوں میں رکھے تو یہ بھی جائز ہے۔
(صحیح مسلم: 29، ( 1164؛ تحفۃ الأشراف :3482)
شرح:” ایک نیکی کا ثواب کم از کم دس گنا ہے “ کے اصول کے مطابق رمضان کے روزے دس مہینوں کے روزوں کے برابر ہوئے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے اگر رکھ لیے جائیں تو یہ دو مہینے کے روزوں کے برابر ہوں گے، اس طرح اسے پورے سال کے روزوں کا ثواب مل جائے گا، جس کا یہ مستقل معمول ہو جائے اس کا شمار اللہ کے نزدیک ہمیشہ روزہ رکھنے والوں میں ہو گا، شوال کے یہ روزے نفلی ہیں انہیں متواتر بھی رکھا جا سکتا ہے اور ناغہ کر کے بھی، تاہم شوال ہی میں ان کی تکمیل ضروری ہے۔
تبصرہ کریں