
الحمد رب العالمين و الصلاة و السلام على أشرف الأنبياء و المرسلين و من تبعهم بإحسانٍ إلى يوم الدين
قربانی کا معنی: اونٹ ،گائے،بیل،خصی ،بکری میں جو عید الأضحیٰ اور ایام تشریق میں بطور تقرب إلی اللہ ذبح کیا جاتا ہے ،اسے قربانی کہا جاتا ہے۔ (فقہ السنہ ازسيد سابق :3؍195)
• قربانی کی حکمت :قربانی ایک عظیم عمل ہے جو بہت ساری حکمتوں کے پیش نظر انجام دیا جاتا ہے،مثلا:
1۔قربانی اللہ کے تقرب کے حصول اور ثواب ِ الٰہی کے لئے دی جاتی ہے:
﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ (سورۃ الكوثر:2)
چنانچہ اپنے رب کے لئے نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے، نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
﴿قُلْ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (سورة الأنعام:162 )
’’آپ کہہ دیجئے کہ میری نماز ،میری قربانی ،میری زندگی اور میری موت سب اللہ کے لئے ہے۔‘‘
2۔امام الموحدین حضرت ابراہیم اور امام الأنبیاء جناب محمد ﷺکی سنت کے طور پر بھی دی جاتی ہے:
﴿ وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ﴾ (سورۃ الصافات:107)
3۔اپنے اہل و عیال پر بقر عید کے دن توسیع کے لئے بھی قربانی پیش کی جاتی ہے۔
4۔غرباء،فقراء ،مساکین ،محتاج گان اور ضرورت مندوں پر صدقہ و خیرات کرنے کے لئےبھی قربانی پیش کی جاتی ہے۔
5۔شکرانے کے طور پر بھی قربانی دی جاتی ہے،اللہ نے فرمایا:
﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ كَذَلِكَ سَخَّرْنَاهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ (سورة الحج :36)
’’اس سے کھاؤ،اور ضرورت مندوں اور محتاجوں کو کھلاؤ،اسی طرح ہم نے انہیں تمہارے لئے تابع کر دیا، تاکہ تم شکر گزاری کر سکو۔‘‘
قربانی کا حکم
قربانی کے حکم کے تعلق سے علمائے اسلام میں اختلاف رہا ہے کہ قربانی واجب ہے یا سنتِ مؤکدہ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے علاوہ ائمہ ثلاثہ اور جمہور اہل علم کے یہاں قربانی سنتِ مؤکدہ ہے،سیدنا ابن عمر فرمایا کرتے تھے:
’’یہ سنت ہے،اور اسلام میں ایک معروف چیز ہے ۔‘‘ (صحیح بخاری :5545)
امام ترمذی فرماتے ہیں:
’’اہل علم كے نزديك اسى پر عمل ہے كہ قربانى واجب نہيں ہے بلكہ رسول اللہﷺ كى سنتوں میں سے ايك سنت ہے اور اسى پر عمل كرنا مستحب ہے اور امام سفيان ثورى اور امام ابن مبارك رحمہما اللہ بهى اسى كے قائل ہيں ۔‘‘ (جامع ترمذى :بعد الحديث ،1506 )
سیدنا ابو بکر وسیدنا عمر کبھی کبھار قربانی اس خوف سے چھوڑ دیا کرتے تھے کہ اسے واجب نہ قرار دیا جائے۔ (طبرانی :3058؛بیہقی: 19508؛ ارشاد الفقیہ :1 352)میں ابن کثیر نے اس کی سند کو ’جید‘کہا ہے،جبکہ علامہ البانی نے (ارواء الغلیل :4 355)میں صحیح قرار دیا ہے)جو اس بات کی قوی دلیل ہے،کہ قربانی واجب نہیں ہے اور دلائل کا جائزہ لینے کے بعد راجح اور قوی یہی معلوم ہوتا ہے کہ قربانی سنتِ مؤکدہ ہے، ہاں اگر کسی نے قربانی کے لئے نذر مانی ہے،تو ایسی صورت میں اس پر واجب ہوگی ،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿يُوفُونَ بِالنَّذْرِ﴾ (سورة الدہر:7)
’’نذر پوری کرتے ہیں،نیز نبی ٔ کریمﷺ نے فرمایا:
«مَن نَذَرَ أن يُطيعَ اللهَ فلْيُطِعْه، ومَن نَذَرَ أن يَعْصِيَه فلا يَعْصِه »(صحیح بخاری :6696)
’’جس نے اللہ کی اطاعت کے لئے نذر مانی،تو اسے اپنی نذر پوری کرنی چاہئےاور جس نے معصیت کی نذر مانی، تو وہ اللہ کی معصیت نہ کرے۔‘‘
سب سے افضل اور بہتر قربانی :وہ جانور ہے،جسے نبیٔ کریمﷺ نے ذبح فرمایا۔ نبی ٔ کریم ﷺ نے سینگ دار چتکبرا جانور ذبح فرمایا ۔ (صحیح بخاری: 5558؛ صحیح مسلم:1966)
جانور کو موٹا کرنا ،اسے خوبصورت بنانا ،اسے کھا پلا کر موٹا فربہ کرنا،تعظیم شعائر اللہ میں سے ہے،یہی بات حضرت ابن عباس نے ﴿وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾ کی تفسیر میں فرمائی ہے۔ (تفسیرِ طبری :17156)،صحابۂ کرام قربانی کے جانور کو خوب فربہ کرتے تھے،اس کی نشو و نما میں خوب خوب حصہ لیتے تھے ،سیدنا ابو امامہ فرماتے ہیں:
كُنَّا نُسَمِّنُ الْأُضْحِيَّةَ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ يُسَمِّنُونَ (صحیح بخاری)
’’ہم لوگ مدینہ میں قربانی کے جانور کو خوب موٹا کرتے تھے ،اور مسلمان (یعنی تمام صحابہ)موٹا فربہ کرتے تھے۔
قربانی کا جانور جتنا مہنگا ہو،اس قدر افضل اور اعلیٰ ہوگا ،جیسا کے نبیٔ کریم ﷺ نے فرمایا:
أغلاها ثمناً وأنفسها عند أهلها
’’سب سے بہتر وہ جو قیمت کے اعتبار سے مہنگا اور اس گھر والوں کے یہاں نفیس ہو۔‘‘ (صحیح بخاری:2518)
امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں: ’’انسان کے نزدیک قربانی کا جانور دیکھنے میں جتنا اچھا لگے گا،اللہ کے نزدیک اتنا ہی بہتر ہوگا ۔‘‘ (صحیح ابن خزیمہ:14291)
سعودى مجلس افتا كا فتوىٰ: قربانی کے بہتر اور افضل ہونے کے تعلق سے مملکتِ سعودی عرب کی مجلسِ افتا کا فتوی ملاحظہ فرمائیں: ’’قربانيوں میں افضل اونٹ، پهر گائے پهر بكرى اور پهراونٹنى يا گائے كى قربانى میں شركت ہے كيونكہ آپ ﷺ نے جمعہ كے متعلق فرمایا: ’’جو پہلى گهڑى میں (مسجد میں ) گيا گويا كہ اس نے اونٹ كى قربانى كى اور جو دوسرى گهڑى میں گيا گويا كہ اس نے گائے كى قربانى كى اور جو تیسرى گهڑى میں گيا گويا كہ اس نے سینگ والے مینڈهے كى قربانى كى اور جو چوتهى گهڑى میں گيا گويا كہ اس نے ايك مرغى كى قربانى كى اور جو پانچويں گهڑى میں گيا گويا كہ اس نے ايك انڈے قربانی كی۔‘‘
اس حديث میں محل شاہد اللہ تعالىٰ كى طرف تقرب میں اونٹ، گائے اور بھیڑبكريوں كے درميان ايك دوسرے پر فضيلت كا وجود ہے اور اس میں كوئى شك نہيں كہ قربانى اللہ تعالىٰ كا قرب حاصل كرنے كا بہت بڑا ذريعہ ہے اور اونٹ قیمت، گوشت اور نفع كے لحاظ سے سب سے زيادہ ہے۔ ائمہ ثلاثہ یعنى امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور امام احمد بھی اسى كے قائل ہيں اور امام مالک نے فرمايا كہ ’’(قربانى میں ) افضل بھیڑ کا کھیرا ہے پھرگائے اور پھر اونٹ ہے كيونكہ نبى ﷺ نے دو مینڈھے قربان كیے اور آپ ﷺ صرف افضل كام ہى كرتے تھے۔ اس كے جواب میں یوں كہا جا سكتا ہے كہ یقیناً آپ ﷺ بعض اوقات غير افضل كام كو بھى امت پر نرمى كرنے كى غرض سے اختیار فرما ليا كرتے تھے كيونكہ وہ آپ كى اقتدا كرتے تھے اور آپ يہ پسند نہيں كرتے تھے كہ ان پر مشقت ڈالیں ليكن آپ ﷺ نے اونٹ کو گائے اوربھیڑ بكريوں پر فضیلت بيان كر دى ہے جيسا كہ ابھی پیچھے گذرا ہے۔ واللہ اعلم(فتاوىٰ اسلاميہ :2؍320)
قربانی کی شرائط:کسی بھی عمل کے لئے شرائط ہوتی ہیں،جب تک انہیں بجانہ لایا جائے،اللہ وہ عمل قبول نہیں کرتا ،قربانی کے شرائط میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
نیت : نیت کا خالص ہونا،اسے اللہ کے لئے خاص اور خالص کرنا قربانی کی قبولیت کی سب سے عظیم شرط ہے،اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (سورۃ الانعام :162) ’’آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔‘‘
حلال مال سے قربانی کیا جائے : قربانی کی قبولیت کے لئے ضروری ہے کہ اسے حلال مال سے خریدا گیا ہو، حرام مال سے خریدا گیا مال ذبح کرنے سے قربانی قبول نہیں ہوتی ہے،اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ﴾ (سورۃ البقرة:172) ’’اے مومنو!ہم نے جو تم کو پاکیزہ مال دیا وہی کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو،اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو،نیزنبیٔ کریمﷺ نے فرمایا: «أيها الناس إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا»(صحیح مسلم:2346)
’’اے لوگو! بے شك اللہ تعالىٰ پاك ہے اور صرف پاكيزہ چيز كو ہى قبول كرتا ہے۔‘‘
قربانی سنت کے مطابق ہو،چنانچہ اگر کسی نے قربانی وقت سے پہلے کرلی تو اس کی قربانی قبول نہیں ہوگی، جیسا کہ نبیٔ کریمﷺ نے فرمایا:
عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: ضَحَّى خَالٌ لِي يُقَالُ لَهُ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلاةِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ» (صحیح بخاری:5560؛ صحیح مسلم:1961)
’’حضرت براء بن عازب کہتے ہیں کہ میرے مامو ابو بردہ نے نمازِ عید سے پہلے ہی قربانی کرلی ،تو آپﷺ نے فرمایا:تمہاری یہ بکری گوشت والی بکری ہے(یعنی یہ قربانی گوشت کھانے کے لئے کیا تھا) اس بات پر ابن منذر نے (الإجماع:1؍60میں)، ابن عبد البر نے (التمہید:23؍196 میں) اور قرطبی نے (تفسیر قرطبی 12؍43 میں)اجماع نقل فرمایا ہے۔)
قربانی انہیں جانور کی جائز ہوگی جو بہیمۃ الأنعام میں سے ہو ،بہیمۃ الأنعام میں اونٹ ،گائے،بکری شامل ہے۔)
قربانی کے جانور کے لئے عمر کا اعتبار:شریعتِ مطہرہ نے قربانی کے جانور کے لئے عمر کا اعتبار کیا ہے،اس کے بغیر جو قربانی کرے گا،قبول نہیں ہوگی ،چنانچہ نبیٔ کریم ﷺ نے فرمایا:
«لاتذبحوا إلامسنة إلا أن يعسر عليكم فتذبحوا جذعة من الضأن» (صحیح مسلم :117)
’’مُسِنّہ ہى ذبح كرو، الايہ كہ تم پر تنگى ہو تو بھیڑ كا کھیرا ذبح كر لو۔)،چنانچہ اونٹ 5 سال میں ،گائے ،دوسال میں اور بکری ایک سال میں دانتا ہوتا ہے،یہ عمومی رواج ہے۔ (الشرح الممتع:7؍425،فتاوی اللجنۃ الدائمہ :11؍414۔415)
مسنہ کی تعریف: امام نووی مسنہ کی تو ضیح کرتے ہوئےفرماتے ہیں:
“قال العلماء: المسنة هي: الثنية من كل شيء من الإبل والبقر والغنم فما فوقها، وهذا تصريح بأنّه لا يجوز الجَذَع من غير الضأن في حال من الأحوال، وهذا مجمع عليه على ما نقله القاضي عياض.”
’’مُسنہ اونٹ،گائے،بھیڑ اور بکری میں سے دو دانتا یا اس سے بڑی عمر کا ہونا چاہیے،قاضی عیاض کے قول کے مطابق اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔‘‘ (شرح النووی:117؍13)
امام شوکانی فرماتے ہیں:’’علماء کہتے ہیں: مُسنہ اونٹ،گائے،بھیڑ اور بکری میں سے دو دانتا یا اس سے بڑی عمر کا جانور ہوتا ہے اور حدیث میں صراحت ہے ۔‘‘ (نیل الأوطار:5؍120)یہ واضح ہونا چاہئے کہ حدیث یا لغت میں جہاں (المسنۃ یا الثنی ) کے الفاظ آئے ہیں،ان میں کوئی فرق نہیں،یہ مترادف الفاظ ہیں،یعنی وہ جانور جس کے اگلے دو دانت گر گئے ہوں،لہٰذا اگر دو دانتا جانور مل جائے تو اسی کی قربانی کی جائے گی۔ (سبل السلام از امیر صنعانی :4؍1356)
اگر دو دانت کا جانور نہ ملے ،اس کی حصولیابی مشکل ہوجائے تو بھیڑ کے کھیرے کی قربانی جائز ہوگی ،جس کی طرف حدیث میں اشارہ ،بلکہ صراحت موجود ہے۔
بھینس کی قربانی :بھینس کی قربانی کے بارے میں خود علمائے اہل حدیث میں اختلاف ہے،چنانچہ بعض اسے صحیح قرار دیتے ہیں ،جیسے علامہ ثناء اللہ امرتسری (فتاوی ثنائی :1؍520)، جبکہ دوسری طرف بعض علمائے اہل حدیث بڑی شدت سے اس کا انکار کرتے ہیں،جن میں حافظ عبد اللہ روپڑی (فتاوی اہل حدیث 2؍426۔427) جیسے علمائے اہل حدیث شامل ہیں، عصرِ حاضر کے بعض محققین بھی اس میں سرِ فہرست شامل ہیں،شیخ عنایت اللہ سنابلی مدنی نے اس کے جواز کے متعلق ایک کتابچہ(بھینس کی قربانی ایک علمی جائزہ) بھی ترتیب دیا ہے،جس میں اس کے جواز کو ثابت کیا گیا ہے،دونوں فریق اپنے اپنے انداز سے دلائل پیش کرتے ہیں، جن حضرات نے اسے لغوی اعتبار سے (نوع من البقر)صحیح گردانا،انہوں نے اس کی قربانی کے جواز کا فتوی صادر فرمایا،اور جنہوں نے بہیمۃ الأنعام کو قرآن کی توضیح و تصریح کے مطابق یہ سمجھا کہ قرآن میں تو باقاعدہ بہیمۃ الأنعام کی صراحت کردی گئی ہے، لہٰذا انہیں موسوم بہیمۃ الأنعام کی قربانی ہوگی ،انہوں نے بھینس کی قربانی کو غیر مشروع و غیر مسنون قرار دیا، ذاتی طور پرمیرامیلان اس کے جواز کی طرف ہے اور یہی قول راجح معلوم ہوتا ہے،کیوں کہ قرآن و حدیث کو بغیر لغت کے نہیں سمجھا جا سکتا ہے،البتہ مجھے اس پر اصرار نہیں،جسے جو دلائل وزنی معلوم ہوں،اسے اس پر عمل کرنا چاہئے اور اس موضوع پر شدت اختیار نہیں کرنا چاہئے۔
بے نمازی کی قربانی:آج کے اس دور میں جس بے رحمی سے انتہائی شاطرانہ طور پر نماز ترک کی جارہی ہے،انتہائی افسوس ناک صورت حال ہےاور ایسے ہی لوگ عیدین کے لئے سب سے آگے رہتے ہیں،جو نماز روزہ میں پیچھے رہتے ہیں، عام مشاہدہ ہی ہے کہ قربانی کا بکرا سب سے مہنگا وہی خریدتے ہیں اور قربانی کرنے کی کوشش کرتے ہیں،حالانکہ ان کی قربانی مشکوک ،مشتبہ اور راجح ترین قول کے مطابق درست نہیں ہے،کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا:﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ ’’نماز پڑھو اور قربانی کرو۔‘‘ یہاں گوکہ معنی یہ ہے کہ پہلے نماز پڑھو،پھر قربانی کرو ،مگر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نماز پڑھو اور قربانی کرو یعنی جو نماز نہیں پڑھتا اسے قربانی کا کوئی حق نہیں ۔
قربانی کا وقت:قربانی کی قبولیت کے لئے ضروری ہے کہ وقت پر ذبح کیا جائے ،چنانچہ اگر کسی نے وقت سے پہلے قربانی کرلی تو اس کی قربانی قبول نہیں ہوگی ،جیسا کہ مذکورہ حدیث میں بیان ہوا۔
ذبح کے وقت کیا کہنا چاہئے ؟ذبح کے وقت کی دعا یہ ہے :﴿إِنِّىْ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾ ثم إذا باشر الذبح أن يقول: «باسم الله والله أكبر، اللهم هذا منك ولك»
بعض علماء نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہےاور لکھا کہ بسم اللہ اکبر کہہ کر قربانی کرنی چاہئے ،لیکن محققین علماء نے اسے صحیح کہا ہے۔ (سنن ابو داؤد:2805،شیخ محفوظ الرحمن فیضی کی کتاب: چند مضامینِ فیضی ص؍121۔127 )
افضل یہ ہے کہ انسان خود ذبح کرے،اگر کسی کو وکیل بنادے تو بھی جائز ہے ،نبیٔ کریمﷺ نے خوداونٹ (نحر) ذبح فرمائے،باقی کو ذبح کرنے کے لئے حضرت علی کو مقرر فرمایا جو اس بات کی دلیل ہے کہ کسی دوسرے کو بھی ذبح کرنے کے لئے مقرر کیا جا سکتا ہے۔ (حج سے متعلق حضرت جابر بن عبد اللہ ( )کی لمبی حدیث، صحیح مسلم:1218 )
قربانی کا جانور بیچا نہیں جا سکتا ہے،اگر کسی نے کوئی جانور قربانی کے لئے خریدا،تو اس کا بیچنا قطعی جائز نہیں ہوگا۔ (صحیح مسلم:4224)ہاں اگر کوئی اس جانور سے بہتر ،افضل،موٹا اور فربہ خریدنے کی نیت سے بیچنا چاہے تو اس کی گنجائش ہوگی،کیونکہ یہ افضل قربانی کی طرف پیش رفت شمار ہوگی اور افضل قربانی بہر حال اہم ہے۔
قربانی کے جانور کے لئے بے عیب ہونا ضروری ہے،نبی کریمﷺ نے فرمایا:
“أربع لا تجوز في الأضاحي: العوراء البيّن عورها، والمريضة البيّن مرضها، والعرجاء البيّن ظلعها والكسير التي لا تنقي.” (سنن ابوداؤد:2802؛ارواء الغلیل: 1148)
’’چار جانور قربانى میں جائز نہيں : واضح طور پر آنكھ كا كانا، ايسا بيمار جس كى بيمارى واضح ہو، لنگڑا جس كا لنگڑا پن ظاہر ہواور ايسا كمزور جس میں چربى نہ ہو۔‘‘ یہاں بطور فائدہ شیخ ابن عثیمین کی ایک تقسیم ذکر کرنا مناسب خیال کرتا ہوں ،شیخ فرماتے ہیں،جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے:
’’عیوب کی تین قسمیں کی جا سکتی ہیں:پہلی قسم :جس کی دلیل سنت میں واضح طور پر موجود ہے،یعنی ایسا کانا جس کا کانا پن واضح ہو،ایسا بیمار ،جس کی بیماری واضح ہو،ایسا لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو،اور ایسا کمزور جس میں کوئی چربی نہ ہو،ان عیوب پر واضح نص موجود ہے کہ ان کی قربانی جائز نہ ہوگی ،جو عیوب ان جیسے ہوں گے،یا اس سے اوپر تو ان کو انہیں پر قیاس کیا جائے گا ’دوسری قسم :جن جانوروں کی قربانی ناجائز ہونے کی ممانعت وارد ہوئی ہے،جو عیوب ان کے کان یا سینگ میں ہوتے ہیں،چاہے سینگ ٹوٹا ہوا ہو یا کان پھٹا ہوا ہو چاہے لمبائی میں یا چوڑائی میں یا آدھے سے کم کٹا ہوا ہو ،ان کے جائز نہ ہونے کے تعلق سے حضرت علی کی روایت موجود ہے ،لیکن یہ ممانعت کراہت پر محمول ہوگی ،کیوں کہ چار عیوب کو محصور کرنے والی حدیث موجود ہے،کہ ان عیوب والے جانور کی قربانی جائز نہ ہوگی ،تیسری قسم :وہ عیوب جن کے متعلق ممانعت تو وارد نہیں ہے ،البتہ وہ (عیوب) سلامتی میں قادح ضرور ہیں،تو ان عیوب سے قربانی کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا،اور نہ ہی ان کی قربانی مکروہ ہوگی ،اور نہ ہی حرام ،گوکہ لوگوں کے یہاں انہیں معیوب سمجھا جاتا ہو ،جیسے ایسا کانا ،جس کا کاناپن واضح نہ ہو،نیز ایسا جانور جو معمولی لنگڑاتا ہو،جس کا دانت ہلکا سا ٹوٹا ہوا ،چنانچہ یہ عیب تو ہیں،مگر ایسے عیوب نہیں کہ جو قربانی کے جائز ہونے میں رکاوٹ ہوں،اور نہ ہی یہ عیوب کراہیت کو ثابت کرتے ہیں،کیوں کہ ایسی کوئی دلیل موجود نہیں ہےاور اصل چیز برائت ہے۔‘‘ (الشرح الممتع 7؍440)
لہٰذا معمولی عیب دار جانور کی قربانی باتفاق درست ہے۔ (سبل السلام 4؍1356،عون المعبود:8؍18)
سیدنا علی فرماتے ہیں:
“أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ والْأُذُنَ، ولَا نُضَحِّيَ بِعَوْرَاءَ، ولَا مُقَابَلَةٍ، ولَا مُدَابَرَةٍ، ولَا خرقاء، ولَا شَرْمَاءَ.” (سنن ابو داؤد:2804؛ جامع ترمذی:1498؛ سنن نسائی:4378)
’’رسول اللہﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم قربانی کے جانور کی آنکھ کان اچھی طرح سے دیکھ لیں اور ہم ایسے جانور کی قربانی ہرگز نہ کریں جس کے کان آگے سے کٹ کر لٹکے ہوں،یا پیچھے سے کٹ کر لٹکے ہوں،ایسا جانور جس کے کان طول و عرض میں پھٹے ہوں اور ایسا جانور جس کے کان میں گول سوراخ ہو۔‘‘
حاملہ جانور کی قربانی جائز ہے ،اس میں کوئی حرج نہیں ہے ،سیدنا ابو سعيد سے روايت ہے وہ كہتے ہيں كہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پيٹ كے بچے كے متعلق سوال كيا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ اگر تم چاہو تو کھالو اور مسدد كہتے ہيں كہ ہم نے كہا اے اللہ كے رسول! ہم اونٹنى،گائے اور بكرى ذبح كرتے ہيں تو ہم اس كے پيٹ میں بچہ پاتے ہيں كيا ہم اسے پھینک ديں يا اسے کھاليں ؟ آپ ﷺ نے فرمايا:’’اگر تم چاہو تو اسے کھالو كيونكہ اس كا ذبح اس كى ماں كا ذبح كرنا ہى ہے۔‘‘ (سنن ابو داؤد:2827، ؛ مسند احمد:3 43)
یہی فتوی علامہ محمد بن إبراہیم آل الشیخ کا تھا،فرماتے ہیں: ’’حاملہ بکری کی قربانی درست ہے،جس طرح سے دوسرے جانور کی قربانی جائز ہے ،شرط یہ ہے کہ وہ عیوب سے پاک ہو،جن سے قربانی کے جانوروں کا پاک ہونا ضروری ہے۔‘‘ (فتاوی و رسائل محمد بن إبراہیم آل الشیخ 6؍127)
اس صحيح حديث سے معلوم ہوا كہ حاملہ جانور خواہ اونٹنى ہو، گائے ہو يا بكرى ہو اسے قربانى كے ليے ذبح كيا جاسكتا ہے اور اس كے پيٹ كے بچے كو ذبح كيے بغير کھانا درست ہے ،امام خطابی فرماتے ہیں:
’’یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ مذبوحہ جانور کے بچے کو کھانا جائز ہے،بشرطیکہ کہ اس کی ماں کو ذبح کیا گیا ہو خواہ بچے کو دوبارہ ذبح نہ ہی کیا جائے ۔‘‘ (عون المعبود:8؍34۔35)
ليكن اگر طبعى كراہت كے پيش نظر اسے پھینک ديا جائے تب بھی كوئى حرج نہيں كيونكہ نبى ﷺ نے صحابہ كو لازمى طور پر پيٹ كا بچہ کھانے كا حكم نہيں ديا بلكہ اسے ان كى طبيعت و چاہت پر ہى معلق رکھا۔
علاوہ ازیں جو حضرا ت اس کی کراہت کی بات کرتے ہیں،یا اسے ناپسند کرتے ہیں،یا اسے حرام و مکروہ سمجھتے ہیں،وہ سراسر غلطی پر ہیں،یہ انسان کی طبیعت پر موقوف و منحصر ہے چاہے تو کھالے اور اگر طبیعت پر ناگوار گزرے تو اسے چھوڑ دے ،کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
ذبح کرنے کے آداب
1۔جانور کو ذبح کرنے سے پہلے چھری کو خوب تیز کر لیا جائے۔ (صحیح مسلم:1955)
2۔جانور کے سامنے چھری تیز نہ کی جائے۔ (صحیح الترغیب :1090)
3۔جانور کو قبلہ رخ کرلینا بھی محبوب عمل ہے ،اور آداب میں شامل ہے۔ (سنن ابو داؤد: 2795؛ سندہ صحیح )
4۔اونٹ کے علاوہ دوسرے جانور کو لٹاکر ذبح کرنا۔ (صحیح مسلم: 1967)
5۔ذبح کرتے وقت ذبیحہ کے پہلو پر قدم رکھنا۔ (صحیح بخاری : 5058؛ صحیح مسلم:1966)
6۔جانور ذبح کرنے سے پہلے دعا پڑھنا۔ (سنن ابوداؤد :2795)
7۔ اونٹ کو کھڑے کھڑےنحر کرنا،اللہ تعالیٰ کے فرمان : ﴿ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ﴾ (سورۃ الحج :36)کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس سے روایت ہے کہ صوافّ کی تفسیر قیاما ہے،یعنی اونٹ کو کھڑے کھڑے نحر کرنا۔ (صحیح بخاری ، کتاب الحج باب نحر البدن قائما)،نبیٔ کریمﷺ کے عمل کے بارے میں سیدنا انس نے فرمایا کہ جب آپﷺ نے اونٹ ذبح کئے تو کھڑے کر کے نحر فرمایا تھا۔ (صحیح بخاری:1712؛ سنن ابوداؤد:1796)
قربانی کے وقت اگر بسم اللہ کہنا بھول جائے تو کوئی حرج نہیں،کیونکہ اللہ نے بھول چوک معاف فرمادیا ہے۔(سنن ابن ماجہ:2043،و سندہ صحیح )
ذبح کرتے وقت اگر جانور کی گردن علیحدہ ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ۔(صحیح بخاری قبل:5510)
عيد الاضحىٰ اور اس كے بعد تين دن یعنى 13؍ذو الحجہ كى شام تك قربانى كى جاسكتى ہے كيونكہ عيد الاضحىٰ كے بعد 11،12،13ذوالحجہ كے دنوں كو ايام تشريق كہتے ہيں۔ (تفسير احسن البيان: 82؛ نيل الاوطار: 3؍490)
اور تمام ايام تشريق كو ذبح كے دن قرار ديا گيا ہے اس كى دليل مندجہ ذيل حديث ہے:
عن جبير بن مطعم عن النبي ﷺ:كل أيام التشريق ذبح
’’تمام ايام تشريق ذبح كے دن ہيں۔‘‘ (مسند احمد::16797؛ طبرانی:1583؛ بیہقی:10525؛ صحيح ابن حبان :3842،؛ صحيح الجامع الصغير :4537)
ایام تشریق کی راتوں میں بھی قربانی کی جاسکتی ہے۔ (المغنی ابن قدامہ :9؍454،نووی کی کشف القناع:3؍10)
اگر کسی کے پاس وقتی طور پر پیسے نہ ہوں،اورقرض لے کر قربانی دینے کی نوبت آجائے ،جسے بعد میں ادا کرنے کی امید ہو تو قرض لے کر قربانی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے،ایسا کرنا ضروری نہیں مگر بہتر ضرور ہے۔(مجموع فتاوی ابن تیمیہ 26؍305)
اونٹ میں دس اور گائے میں سات سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں نبی ٔ کریمﷺ نے فرمایا:
نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ الله ﷺ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ (صحیح مسلم:1318)
نیز نبیٔ کریمﷺ نے فرمایا:
كنَّا معَ رسولِ اللهِ ﷺ في سفرٍ ، فحضرَ الأضحى ، فاشترَكنا في الجزورِ عن عشرةٍ، والبقرةِ عن سبعةٍ (ابن ماجہ رقم:2553)
’’ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ سفر میں تھے،عید الأضحیٰ آگئی تو ہم اونٹ میں دس آدمی شریک ہوگئے اور گائے میں سات آدمی۔‘‘ یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اونٹ میں دس آدمی شریک ہو سکتے ہیں،مگر ایسا ضروری نہیں ،کچھ لوگ ایسا سمجھتے ہیں وہ ان کی غلط فہمی ہے۔
پورے گھر والے کی طرف سے ایک بکری کافی ہے سیدنا ابو ایوب انصاری فرماتے ہیں:
كَانَ الرَّجُلُ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ ﷺ يُضَحِّي بِالْشَّاةِ عَنْهُ، وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ فَيَأْكُلُونَ وَيُطْعِمُونَ(جامع ترمذی:1505؛ سنن ابن ماجہ:3147)
’’نبیٔ اکرمﷺ کے زمانے میں ایک شخص اپنی طرف سے اور اپنے پورے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی دیا کرتے تھے ،چنانچہ وہ خود کھاتے تھے اور دوسروں کو بھی کھلاتے تھے۔‘‘ لہٰذا ایک بکری ایک گھر کی طرف سے کافی ہے گوکہ اس گھر میں 100 سو زائد افراد ہوں۔ (الشرح الممتع 5؍275،فتاوی اللجنۃ الدائمہ:11؍408)
عورتیں بھی قربانی کرسکتی ہیں، سیدنا ابو موسی اشعری اپنی بیٹیوں کو قربانی کرنے کا حکم دیتے تھےاور وہ اپنے ہاتھوں سے قربانی کیا کرتی تھی۔ (صحیح بخاری قبل رقم :5559؛ مصنف ابن ابی شیبہ:8169؛ فتح الباری 10؍25) جو لوگ عورتوں کے ذبح کرنے کو معیوب سمجھتے ہیں وہ سراسر غلطی پر ہیں اور اسوۂ صحابہ سے دور۔
جو قربانی کا ارادہ رکھے ،وہ اپنے بال ،ناخن ،چمڑے میں سے کچھ بھی نہ لے،جیسا کہ نبیٔ کریمﷺ نے فرمایا:
«إذا رأيتم هلال ذي الحجة وأراد أحدكم أن يضحي فليمسك عن شعره وأظفاره»(صحیح مسلم :3655)
’’جب تم ذو الحجہ كا چاند ديكھ لو اور تم میں سے كوئى قربانى كا ارادہ ركهتا ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن كاٹنے سے رك جائے۔‘‘ اگر کسی نے اپنے بال ناخن کاٹ لئے (چاہے عمدا کاٹے یا سہوا) تو اسے توبہ و استغفار کرنا چاہئے ،اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا،اور نہ ہی اسے فدیہ دینا ہوگا۔ (المغنی از ابن قدامہ :9؍437،مرداوی کی الانصاف:4؍80)
قربانی کے گوشت کی تقسیم کا مسئلہ: بعض علما نے كہا ہے كہ قربانى كا گوشت تقسيم كرنے كا افضل طريقہ يہ ہے كہ گوشت كے تين حصے كيے جائيں – ايك حصہ خود کھايا جائے،دوسرا حصہ اپنے اقربا اور دوست احباب وغيرہ كو كهلا ديا جائے اورتیسرا حصہ غرباء و مساكين میں تقسيم كر ديا جائے۔ امام احمد بھی اسى كے قائل ہيں ۔ ان حضرات كى دليل ابن عمر سے مروى يہ قول ہے كہ انہوں نے كہا كہ
’’قربانی كا تیسرا حصہ تمہارے ليے ہے اور تیسرا حصہ تمہارے گهروالوں كے ليے ہے اور تیسرا حصہ مساكين كے ليے ہے۔‘‘ (مزيد تفصيل كيلئے: المغنى لابن قدامہ :9؍379)
اگر چہ علما نے اس تقسيم كو افضل كہا ہے ليكن يہ تقسيم ضرورى نہيں ہے بلكہ حسب ِضرورت ،حالات كے مطابق بھی گوشت تقسيم كيا جاسكتا ہے يعنى اگر فقراء ومساكين زيادہ ہوں تو زيادہ گوشت صدقہ كر دينا چاہيے اور اگر ايسا نہ ہو بلكہ اكثر وبيشتر لوگ خوشحال ہوں تو زيادہ گوشت خودبھی استعمال كيا جاسكتا ہے اور اسى طرح آئندہ ايام كے ليے ذخيرہ بھی كيا جاسكتا ہے كيونكہ قرآن میں مطلقاً قربانى كا گوشت کھانے اور کھلانے كا حكم ديا گيا ہے جيسا كہ ارشادِ بارى ہے:
﴿وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُم مِّن شَعَائِرِ اللَّـهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ ۖ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ ۖ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ﴾ (سورۃ الحج : 36)
’’قربانی کے اونٹ ہم نے تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی نشانیاں مقرر کر دی ہیں ان میں تمہیں نفع ہے۔ پس انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو، پھر جب ان کے پہلو زمین سے لگ جائیں اسے (خود بھی) کھاؤ اور مسکین سوال سے رکنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ۔‘‘
ايك اور آيت میں ہے كہ
’’اپنے فائدے حاصل كرنے كے ليے آجائيں اور ان چوپايوں پر جو پالتو ہيں ، ان مقررہ دنوں میں اللہ كا نام ياد كريں ۔ پس تم خود بھی کھاؤ اور فقيروں كو کھلاؤ۔‘‘
درج بالا آيات سے معلوم ہوا كہ حسب ِضرورت قربانى كا گوشت کھایا اور کھلایا جاسكتا ہے، البتہ تين دن سے زيادہ ذخيرہ كرنے سے رسول اللہ ﷺ نے خاص مصلحت كے تحت ابتداے اسلام میں منع فرما ديا تھا جيسا كہ ايك حديث میں ہے كہ
’’حضرت ابن عمر سے روايت ہے كہ نبى ﷺ نے فرمايا: كوئى بھی اپنى قربانى كا گوشت تين دن سے اوپر نہ کھائے۔‘‘ (صحیح مسلم:5100)
ليكن پھر اس كى اجازت دے دى تھی جيسا كہ ايك دوسرى حديث میں ہے كہ سیدنا سلمہ بن اكوع سے روايت ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے فرمايا:
’’تم میں سے جو قربانى كرے تيسرے دن كے بعد اس كےگھر میں اس میں سے كوئى چيز باقى نہ ہو- پس اگلے سال صحابہ كرام نے عرض كيا: اے اللہ كے رسول ﷺ! كيا اس سال بھی ہم اسى طرح كريں جس طرح ہم نے گذشتہ سال كيا؟ آپ ﷺ نے فرمايا :کھاؤ اور کھلاؤ اور ذخيرہ كرو۔ بے شك اُس سال لوگ مشقت میں تھے تو میں نے ارادہ كيا كہ تم ان كى مدد كر دو۔ (صحیح بخاری:5569)
مذكورہ دلائل سے يہ بات ثابت ہو جاتى ہے كہ قربانى كے گوشت كے تين يا دو حصے کرکے تقسيم كرنا ضرورى نہيں بلكہ حالات كے مطابق كسى بھی طريقے سے گوشت کھایا اور کھلایا جاسكتا ہے اور ذخيرہ اندوزی بھی کی جا سکتی ہے۔امام ابن قدامہ فرماتے ہیں:
’’تين دنوں سے زيادہ قربانيوں كا گوشت ذخيرہ كرنا جائز ہے۔‘‘ (المغنى :9؍381)
قربانی کا گوشت کفار کو دیا جا سکتا ہے،قربانی کے اہم مسائل میں ایک مسئلہ قربانی کے گوشت کو کافروں کو دینے سے متعلق ہے کہ کیا قربانی کا گوشت کافروں کو جو مانگنے آتے ہیں دیا جا سکتا ہے ؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ قربانی کا گوشت انہیں بلاشبہ دیا جا سکتا ہے،اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿لَا يَنْهَاكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾(سورۃ الممتحنہ:8)
’’اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کیساتھ احسان اور انصاف کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے جنگ نہیں لڑتے اور تمہیں تمہارے گھروں سے بے دخل نہیں کرتے، بےشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘
ابن قدامہ فرماتے ہیں: ’’یہ بھی جائز ہے کہ اس (قربانی کے گوشت)سے کافر کو بھی کھلایا جائے۔۔۔، کیونکہ یہ نفلی صدقہ ہے، اس لئے یہ ذمی اور قیدی کو کھلانا جائز ہے، جیسے کہ دیگر صدقات انہیں دئے جا سکتے ہیں۔ (المغنی 9؍450؛ فتاوی اللجنۃ الدائمہ:11؍242؛مجموع فتاوی ابن باز :18؍48)
قربانی کا گوشت خود کھانا ضروری نہیں ہے ،بعض لوگ جو ایسا سمجھتے ہیں،وہ درست نہیں ہے،قربانی کرنے والا اگر نہ چاہے تو کھانا ضروری نہیں ہے
قربانی کے گوشت سے روزہ افطار کرنے کا عقیدہ درست نہیں ہے ،البتہ یہ آپﷺ کا معمول تھا کہ عید الاضحیٰ کے لئے بغیر کھائے پئے نماز عید کے لئے نکلتے تھے ،اور گوشت سے کھانے کی ابتدا فرماتے تھے،کلیجے سے کھانے کی ابتدا بھی کوئی ضروری نہیں۔ (مجموع فتاوی و رسائل شیخ محمد بن عثیمین 16؍120)
نبیٔ کریمﷺکی طرف سے قربانی کرنا بدعت ہے،صحابۂ کرام سے زیادہ کسی کو بھی آپ سے محبت نہیں ہوسکتی ہے ،اس کے باوجود ان میں سے کسی نے ایسا نہیں کیا ہے،نہ ہی کسی صحیح اور صریح حدیث سے ایسا ثابت نہیں ہے،جو اس کے بعد ہونے کی واضح دلیل ہے،اس تعلق سے جو حدیث مروی ہے ،وہ ضعیف ہے،محققین علمائے حدیث نے اس کی صراحت کی ہے۔
میت کی طرف سے قربانی :
مستقل طور پرمیت کی طرف سے قربانی نہ رسول اللہﷺ سے ثابت ہے،نہ صحابہ ٔ کرام سے اور اسلاف ِ عظام سے اور نہ ہی امامانِ دین متبوعین سے، نہ ہی ایسی کوئی صحیح اور صریح دلیل موجود ہے ،ہاں یہ ضرور ہے کہ علمائے محققین خود اس بارے میں مختلف موقف رکھتے ہیں ،تاہم صحیح اور راجح بات یہی ہے کہ میت کی طرف سے مستقلا قربانی درست نہیں ہے ،میت کو فائدہ پہنچانے،ثواب پہنچانے اور اس کے میزانِ حسنات میں اضافہ کے اور بھی صحیح طریقے شریعت نے بتلائے ہیں،انہیں اپنانا چاہئے۔
اگر قربانی کا جانور گم ہوجائے تو مالک کو اختیار ہے کہ دوسرا جانور خریدے یا نہ خریدے۔ (السنن الکبری 9؍289)
قربانی کا جانور خریدنے کے بعد اگر عیب دار ہوجائے تو اسی کی قربانی کی جائے،اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ،جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر سے مروی ہے۔ (السنن الکبری 9؍289 و سندہ صحیح )
قربانی کے چرم کو اپنے مصرف میں لایا جا سکتا ہے، اسے دوسرے کو ہدیہ کیا جا سکتا ہے،مگر اسے بیچا نہیں جا سکتا ہے۔ (فیض القدیر :6؍121؛ المغنی 9؍195)
قربانی کا چمڑا قصاب کو بطورِ اجرت دینا بھی ناجائز ہے۔ (صحیح مسلم : 1317)
چرمہائے قربانی کو مدرسین کی تنخواہوں،طلباء کے قیام و طعام کے لئے دیا جاسکتا ہے،یہی فتوی علمائے محققین کا ہے۔ (فتاوی اہل حدیث 5؍106؛مجموعہ فتاوی عبد اللہ غازی فوری (کتاب الصلاہ ص 304)
قربانی کی جگہ صدقہ و خیرات کرنا :
قربانی ایک مستقل امتیازی عبادت ہے،اور صدقہ وخیرات دوسری مستقل عبادت ،اس لئے ہر عبادت کا ایک الگ مقام اور جگہ ہے،صدقہ وخیرات کو قربانی کا بدل قرار نہیں دیا جا سکتا ہے ،جو لوگ ایسا حالات کے پیش نظر فتوی دیتے ہیں وہ صریح غلطی پر ہیں ،ان کا یہ نظریہ بے بنیاد اور بےاساس ہے ،اس سے کئی چیزیں لازم آتی ہیں:
1۔اس بے بنیاد فتوی سے یہ لازم آئے گا کہ قربانی نہ کرکے صلہ رحمی کو بجالایا جائے ،کیوں کہ صلہ رحمی تو ضروری ہے،صلہ رحمی نہ کرنا تو باعثِ دخول جہنم ہے،کئی لعنتوں کا سبب ہے،اور دنیا و آخرت میں بربادی کا سبب بھی ہے۔
2۔اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ اسلام نے ۔نعوذ باللہ ۔ غریبوں کے مسائل کا حل پیش نہیں کیا۔
3۔جو قربانی کے بدلے صدقہ کا فتوی صادر فرماتے ہیں ،اس سے بہت ساری عبادتوں کو یکسر نظر انداز کرنا بھی لازم آئے گا ،وغیرہ وغیرہ
اس لئے یہ کہنا کہ قربانی کی جگہ صدقہ و خیرات ،اور غریبوں میں انفاق سے کام لیا جائے ،بے بنیاد ،مضحکہ خیز اور عجیب و غریب بات ہے،بیشک آپ صدقہ و خیرات کیجئے،لیکن قربانی کا بدل قرار نہ دیجئے،کیا دونوں ایک ساتھ انجام نہیں دیا جا سکتا ہے ؟ بیشک دیا جا سکتا ہے،تو پھر قربانی کو صدقہ میں کیوں تبدیل کریں ؟
قربانی سے متعلق بعض اغلاط و بدعات
1۔قربانی کرنے سے پہلے جانور کو دھونا۔
2۔قربانی کرنے سے پہلے پورے گھر والوں کا جانور کے پاس جمع ہونا۔
3۔قربانی اور عقیقہ ایک ساتھ کرنا:بعض لوگ عقیقہ کے جانور ہی میں قربانی کافی سمجھتے ہیں،جو غلط ہے،کیوں کہ قربانی ایک الگ چیز ہے،اور عقیقہ دوسرا الگ حکم۔ (تحفۃ المولود از ابن القیم:ص 68)
4۔قربانی کے جانور کے پاس جاکر رونا۔
5۔جانور ذبح کرتے ہوئے سب کا اجتماعی طور پر دعا کرنا۔
تبصرہ کریں