قربانی کی حقیقت، فلسفہ اور احکام ومسائل۔ قاری محمد اقبال عزیز

رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ” ذوالحجہ کے دس دنوں میں کیے ہوئے اعمال سے بڑھ کر اللہ کو کوئی عمل محبوب نہیں ۔‘‘ (سنن ابو داؤد: 2438؛جامع ترمذی: 758)

ان دس دنوں میں آخری دن یعنی دس ذوالحجہ کو عید الاضحیٰ کے روز مسلمان دنیا کے طول و عرض میں اللہ کی راہ میں جانور قربان کرتے ہیں۔ قربانی کی یہ داستان سیدنا ابراہیم کے اپنے پیارے فرزند کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے سے شروع ہوتی ہے۔ انہوں نے خواب میں ملنے والے حکم الٰہی کے مطابق اپنے پیارے بیٹے سیدنا اسماعیل کو اللہ کی راہ میں ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو اسی وقت اللہ تعالیٰ نے اعلان فرما دیا:

﴿ يَا إِبْرَاهِيمُ ‎0‏ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا﴾

’’اے ابراہیم! آپ نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ۔ “ (سورۃ الصافات : 104 ۔105)

اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ سے سیدنا اسماعیل کو ذبح ہونے سے بچالیا اور ایک عظیم ذبیحہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سینا اسماعیل کی جگہ ذبح ہو گیا۔ اس عظیم جذبے کی یاد میں ہر سال دس ذوالحجہ کو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جانور قربان کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔

قربانی کے مقاصد

قربانی کا سب سے بڑا مقصد اللہ تعالیٰ کے حکم کی بجا آوری اور اس کی رضا وخوشنودی کا حصول ہے۔

اللہ کی راہ میں خالص اللہ کا نام لے کر جانور قربان کرنے سے ہر سال توحید باری تعالیٰ کا عملاً اعلان واظہار ہوتا ہے۔

اللہ کی راہ میں ایک مسلمان کو اپنے جان ومال قربان کرنے کی عملی طور پر تربیت دی جاتی ہے۔

فقراء ومساکین کو عمدہ کھانا کھلانا اور اپنے اہل وعیال پر بھی کھانے پینے میں وسعت پیدا کرنا قربانی کے پاکیزہ مقاصد میں سے ہے۔

قربانی کے ذریعے اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کر کے انسان اسی کے دیے ہوئے مال اور فضل کا شکریہ ادا کرتا ہے۔

قربانی کی شرعی حیثیت

قربانی کرنا ہر صاحب استطاعت مسلمان پر ضروری ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے بعد ہر سال قربانی کی اور اس میں کبھی ناغہ نہیں کیا۔ جس عمل کو اللہ کے رسول ﷺ نے لگاتار کیا ہو اور کبھی نہ چھوڑا ہو اس میں غفلت کسی طور جائز نہیں۔ آپ نے اس کے ترک پر وعید فرمائی اور سخت ناراضی کا اظہار کیا۔ ارشاد فرمایا:

’’جس شخص کے پاس قربانی کرنے کی طاقت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہمارے مصلے (عید گاہ) کے قریب نہ آئے ۔‘‘ (سنن ابن ماجہ: 3123)

قرآن کریم کی متعدد آیات سے بھی قربانی کی تاکید ہوتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ﴾ ’’اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے ۔‘‘ (سورۃ الکوثر : 2)

اس سے مراد قربانی کا جانور ذبح کرنا۔ (تفسير ابن كثير)

نیز فرمایا:

﴿وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ ﴾

’’ ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس (اسماعیل) کے فدیہ میں دے دیا۔ ‘‘ (سورۃ الصافات : 107)

قربانی سنت رسول ﷺ اور سنت ابراہیم ہے۔ اس سے ہر سال اسماعیل کی قربانی کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ تعالیٰ کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے ، نہ ان کے خون پہنچتے ہیں بلکہ اسے تو تمہارے دل کی پر ہیز گاری اور تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘ (سورۃ الحج : 37)

کیا قربانی کی رقم مساکین میں تقسیم کی جاسکتی ہے؟

جو لوگ کہتے ہیں کہ جانور ذبح نہ کریں بلکہ یہ رقم اللہ کی راہ میں غریبوں مسکینوں کو دے دی جائے ان کی یہ بات قطعاً درست نہیں۔ ہر عمل کی ایک حقیقت اور حکمت ہوتی ہے اور اس کی ایک عملی صورت بھی ہوتی ہے ۔ وہ عمل جس شکل و صورت میں نافذ کیا جانا مقصود ہو، اسے اسی شکل میں ادا کرنا ضروری ہے۔ جیسے حج اللہ کی ادائیگی کی ایک متعین صورت شریعت نے بیان فرمائی ہے، اگر وہ اسی صورت میں ادا ہوگا تو قبول ہوگا، آپ پر حج فرض ہے اور آپ اس کی رقم مساکین میں تقسیم کریں گے تو آپ سے یہ فریضہ بھی ساقط نہیں ہوگا، اللہ کے ہاں آپ مجرم بن کر پیش ہوں گے۔ قربانی بھی خالص ایک عبادت ہے اور اس کی وہی شکل مقبول ہوگی جو اللہ کے رسولﷺ نے بیان فرمائی ہے ۔

اس لیے ضروری ہے کہ قربانی کی رقم سے جانور ہی لے کر ذبح کیا جائے، صدقہ وخیرات کی شریعت میں اور بہت سی شکلیں موجود ہیں جنہیں اختیار کیا جاسکتا ہے۔ علمائے امت کا اس مسئلے میں اتفاق ہے کہ مسنون قربانی جانور قربان کرنےہی سے ہوتی ہے۔

قربانی کن لوگوں پر ضروری ہے؟

یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ہر وہ شخص جس کے پاس قربانی کرنے کے لیے رقم موجود ہے یا اس کے وسائل اجازت دیتے ہیں تو اس کے لیے قربانی کرنا ضروری ہے۔

اگر کسی نادار شخص کے پاس ایام قربانی میں اتنا مال آگیا کہ وہ قربانی کر سکتا ہو تو اس پر بھی قربانی کرنا ضروری ہوگا۔

قرض لے کر قربانی کرنا بھی جائز ہے اگر قرض کی ادائیگی کی تو فیق میسر ہو۔

اگر کوئی شخص خود اپنا جانور قربان کرنے سے عاجز ہو تو کوئی دوسرا شخص اس کی طرف سے یہ ذمہ داری ادا کر سکتا ہے، لیکن کسی دوسرے کی طرف سے قربانی اس کی اجازت اور اطلاع کے بغیر کرنا درست نہیں۔

جو لوگ اپنی طرف سے قربانی کرنے سے قاصر ہیں ، انہیں مال دار لوگ قربانی کے جانور خرید کر دے سکتے ہیں تا کہ وہ قربانی کریں اور اپنے اہل وعیال کو کھلا سکیں۔

قربانی کرنے والے کےلیے ہدایات

جو شخص قربانی کرنا چاہے، وہ ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد عید کی نماز پڑھنے تک اپنے ناخن اور بال نہ کاٹے۔ عورت اگر قربانی کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے بھی یہی حکم ہے، البتہ گھر کےدیگر افراد پر یہ پابندی نہیں ہوگی ، یہ پابندی صرف قربانی کرنے والے شخص پر ہوگی۔

جو قربانی کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اور وہ بھی قربانی کرنے والوں کی طرح اپنے ناخن اور بال انھی کے ساتھ کاٹے تو بعض روایات کی رو سے اسے بھی قربانی کا ثواب ملے گا۔

گنجائش ہو تو ہر گھر کے سربراہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر سال قربانی کا کم از کم ایک جانور ذبح کرے یا گائے اور اونٹ وغیرہ کی قربانی میں حصہ ڈالے۔ (مسند احمد: 5؍76)

اگر ایک گھر میں دو یا دو سے زیادہ بھائی رہتے ہیں اور سب شادی شدہ ہیں ،ان کی آمدن الگ الگ ہے تو وہ سب اپنی اپنی قربانی کریں گے۔

چھری کو خوب تیز کر لیا جائے تا کہ جانور کو ذبح کرتے وقت اسے زیادہ تکلیف نہ ہو۔

چھری جانور کی آنکھوں کے سامنے تیز نہ کی جائے بلکہ اس سے کہیں چھپا کر تیز کی جائے تا کہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے چھری تیز ہوتے دیکھ کر اذیت محسوس نہ کرے۔

اگر کسی شخص نے اللہ کی راہ میں جانور ذبح کرنے کی نذرمان رکھی ہو تو یہ نذر قربانی کےجانور سے پوری نہ ہوگی بلکہ نذر کا جانور الگ سے قربان کرنا پڑے گا۔

قربانی کا جانور خریدنے کے بعد اگر مر گیا یا چوری ہو گیا یا گم ہو گیا تو امیر شخص دوسرا جانور خرید کر ذبح کرے گا لیکن غریب شخص کے لیے نیا جانور خرید نا لازم نہیں ہے۔

ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنا جانور خود ذبح کرے لیکن اگر کسی وجہ سے خود قادر نہ ہو تو وہ امکانی حد تک ذبح کرتے وقت وہاں موجود ہو۔ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بے شمار ایسےممالک ہیں جہاں پر مسلمان اقلیت میں ہیں

اور ان کے لیے قربانی کا بندو بست کرنا نہایت دشوار ہوتا ہے یا وہ حکومتی رکاوٹوں کی وجہ سےقربانی نہیں کر سکتے، یا وہ بیمار ہوں اور اپنی بیماری کے باعث یا نوکری کی مجبوریوں کی وجہ سے قربانی ادا کرنے سے قاصر ہوں تو ایسے افراد کیا کریں؟

اس سلسلے میں علامہ محمد بن صالح عثیمین ﷫ اور دیگر علمائے کرام کے فتاوی موجود ہیں کہ ایسے لوگوں کے لیے اپنے ملک میں یا کسی دوسرے ملک میں کسی فرد کو یا فلاحی و سماجی خدمت کے ادارے کو وکیل بنانا جائز ہے ، بشرطیکہ وہ فرد یا ادارہ با اعتماد ہو۔ وکیل جس شخص کی طرف سے قربانی کرے گا، اس کا نام لینا بہتر ہے، تاہم نام نہ بھی لیا جائے تب بھی قربانی درست ہوگی۔

عورتیں بھی اپنی قربانی کا جانور خود ذبح کر سکتی ہیں جیسا کہ صحابی رسول سیدنا ابو موسیٰ اشعری اپنی بیٹیوں کو خود ذبح کرنے کا کہتے تھے۔ عورت کا ذبیحہ حدیث رسول ﷺ کی روسے درست ہے۔

جانور کے پاؤں باندھ لیے جائیں اور اسے اچھی طرح قابو کر لیا جائے تاکہ وہ ملنے سے زیادہ اذیت محسوس نہ کرے اور اس کے خون کے چھینٹے نہ اڑیں۔

جانور کو ذبح کرتے وقت اس طرح لٹایا جائے کہ اس کا رخ قبلے کی طرف ہو جائے۔

چھری چلانے سے پہلے یہ مسنون دعا پڑھی جائے:

«إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمواتِ وَ الْأَرْضَ حَنِيفًا وَّ مَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَ مَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَ بِذلِكَ أُمِرْتُ وَ أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اَللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ مِنْ فُلَانِ بْنِ فُلَانِ وَأَهْلِهِ» (مسندأحمد: 3؍375)

اس کے بعد بسم الله، الله اکبر اللهُمَّ تقبل منا کے دعائیہ کلمات کہہ کر جانور ذبح کیاجائے۔

اگر کسی کو مذکورہ دعا نہ آتی ہو تو وہ اتنا ہی پڑھ لے : «بسم اللہ، اللہ أکبر» اور چھری چلا دے۔ اس کی قربانی درست ہوگی۔

قربانی کے جانور کس طرح کے ہوں؟

قربانی کے سلسلے میں بہیمۃ الانعام میں سے کوئی جانور ذبح کیا جائے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَ لِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ﴾

’’ہر امت کے لیے ہم نے قربانی کے طریقے مقرر کیے ہیں تا کہ وہ ان چوپائے جانوروں پر اللہ کا نام لیں ، جو اللہ نے انھیں دے رکھےہیں ۔‘‘ (سورۃ : 34)

بہیمۃ الانعام ان پالتو چوپایوں کو کہتے ہیں جو چرنے والے ہیں۔ درندے اور شکار کیے ہوئے جانور ان میں شامل نہیں ہیں۔ ان میں بکری، بھیڑ، دنبہ، گائے، بیل اور اونٹ وغیرہ شامل ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ ۖ مِنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ ۗ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الْأُنْثَيَيْنِ ۖ نَبِّئُونِي بِعِلْمٍ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ 0‏ وَمِنَ الْإِبِلِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ ۗ﴾

’’آٹھ قسمیں، بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو۔ کہہ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ؟ یا وہ (بچہ) جس پر دونوں ماداؤں کے رحم لپٹے ہوئے ہیں؟ مجھے کسی علم کے ساتھ بتاؤ، اگر تم سچے ہو۔ اور اونٹوں میں سے دو اور گائیوں میں سے دو۔“ (سورۃ الأنعام : 143۔144)

ایک بکری، بکرا، بھیڑ، مینڈھا ، یا دنبہ میں سے ایک گھرانے کی طرف سے ایک جانور کافی ہے، تاہم اگر کوئی زیادہ کرنا چاہے تو یہ عمل مسنون ہے۔

گائے کی قربانی میں سات افراد اور اونٹ کی قربانی میں دس افراد حصے دار ہو سکتے ہیں۔ اگر کسی شخص کی ایک سے زائد بیویاں ہوں تو ان تمام خواتین اور ان کے بچوں کی طرف سے ایک ہی قربانی کافی ہوگی۔

رسول اللہ ﷺ نے حج کے موقع پر 100 اونٹوں کی قربانی کی لیکن مدینہ طیبہ میں عید الاضحیٰ کے موقع پر آپ ﷺ نے دو موٹے تازے ، بڑے سینگوں والے ، سفید رنگ کے مینڈھے، جن میں کہیں کہیں سیاہ رنگ بھی تھا، ذبح کیے۔

قربانی کے جانور کی خصوصیات

اگر مینڈھا ہو تو وہ خوبصورت، صحت مند اورخوب موٹا تازہ ہو۔

قربانی کے جانوروں کو پال پوس کر خوب موٹا تازہ کرنا چاہیے۔ یہ محنت اور خدمت زیادہ باعث اجر و ثواب ہے۔

خصی جانور کی قربانی نہ صرف جائز بلکہ افضل ہے کیونکہ اس میں گوشت زیادہ ہوتا ہے تاہم افزائش نسل والے جانور کی قربانی بھی جائز ہے۔

حاملہ جانور کی قربانی بھی جائز ہے جبکہ دودھ پلانے والے جانور کی قربانی جائز نہیں۔ اگر ذبح کرتے وقت جانور کے پیٹ سےمرده بچہ نکل آئے تو اس بچے کا گوشت بھی حلال ہے۔ کیونکہ شریعت میں ماں کا ذبح کرنا جنین کے ذبح کرنے سے کفایت کرتا ہے۔ اس کے حلال ہونے پر صحابہ کرام کااجماع ہے۔

انتہائی بوڑھا جانور جو جسم کی چربی سے خالی اور ہڈی کے گودے سے محروم ہو چکا ہو، ذبیح نہ کیا جائے۔

دودھ کے دو دانت نکال چکا ہو، یعنی جذعہ یا کھیرا نہ ہو بلکہ مُسِنہ یا دودانت والا ہو ، وہ جانور قربان کیا جائے۔

جذعہ سے مراد وہ بکرا، مینڈھا یا دنبہ ہے جو اپنی عمر کا ایک سال مکمل کر چکا ہو۔

مُسِنّہ افضل ہے جبکہ ایک سال کا مینڈھایا دنبہ بھی جائز ہے مگر ایک سال کے بکرے کی قربانی کی اجازت نہیں۔

جانور ذبح کرنے کا وقت

حدیث کے مطابق قربانی چار دن تک جائز ہے، یعنی یوم نحر ( 10 ذوالحجہ) اور ایام تشریق (11 ،12 ،13 ذوالحجہ) کی شام تک، البتہ پہلے دن قربانی کرنا بعد والے دنوں کی نسبت فضل ہے۔ تاہم اگر جانور نہ مل رہے ہوں یا کسی کے پاس پیسے ہی تاخیر سے آئے ہوں تو وہ اگلے تین دنوں میں بھی قربانی کر سکتا ہے۔

قربانی کا وقت نماز عید الاضحیٰ کی ادائیگی کے بعد شروع ہوتا ہے ۔ اگر کسی نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی تو اسے قربانی کا ثواب نہیں ملے گا بلکہ وہ ایک عام جانور کا گوشت ہوگا۔ استطاعت ہو تو اسے نماز عید کے بعد ایک جانور دوبارہ ذبح کرنا ہوگا۔

اگر دن کے وقت قربانی نہیں ہو سکی تو رات کے وقت بھی جانور ذبح کرنا جائز ہے، اس سے منع کرنے کی کوئی شرعی دلیل موجود نہیں۔

ایک سے زیادہ جانور ذبح کرنا

اگر کسی شخص میں استطاعت ہو تو وہ جتنےچاہے جانور ذبح کر سکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺنے حج کے موقع پر 100 اونٹ نحر کیے تھے۔

قربانی کے گوشت کا استعمال

گوشت کاٹنے اور بنانے والے کو اجرت کے طور پر قربانی کی کھالیں یا قربانی کا گوشت نہیں دینا چاہیے ۔

قربانی کے جانور کا چمڑا یا گوشت بیچنا جائز نہیں، تاہم چڑا گھر میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

قربانی کی کھالیں مساکین ، مدارس کے طلبہ، بیواؤں اور مستحق لوگوں کا حق ہے، اس لیے کھالیں صرف اسی قسم کے مستحق لوگوں اور قابل اعتماد اداروں ہی کو دینی چاہیں ۔

مستحب یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ اس کا اشارہ قرآن کریم کی اس آیت سے ملتا ہے:

﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ ﴾

”خور کھائیں، خود دار محتاجوں کو کھلائیں اور سائل کو بھی کھلا ئیں ۔‘‘ (سورۃ الحج : 36)

سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا عبداللہ بن عمر تین حصوں میں گوشت تقسیم کیا کرتے تھے اور اسی کی ہدایت دیا کرتے تھے، یعنی ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لیے، دوسرا دوست احباب اور پڑوسیوں وغیرہ کے لیے اور تیسرا فقراء ومساکین اور عام محتاجوں کے لیے رکھا جائے۔

امام ابن کثیر ﷫، امام ابن قدامہ﷫ اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫ نے اسی عمل کو ترجیح دی ہے،تاہم اگر عیال داری زیادہ ہو تو سارا گوشت بھی گھر میں استعمال کر لیا جائے اور اسی طرح سارا ہی تقسیم کر دیا جائے تو بھی جائز ہے۔اسلام نے واضح کیا ہے کہ تم بیوی بچوں پر جو کچھ خرچ کرو گے، وہ تمہارا صدقہ ہے۔

غیر مسلم کو بھی قربانی کا گوشت دیا جا سکتا ہے کیونکہ سورۃ الحج کی آیت 36 میں حکم عام ہے، اور یہ حکم غیر مسلم کو بھی شامل ہے ، ممانعت کی کوئی دلیل موجود نہیں۔

اگر کوئی شخص قربانی کا گوشت اپنے شہر سے باہر بھیجنا چاہے تو بھیج سکتا ہے۔ مدارس کے طلبہ، نادار، مفلس اور بیماروں کو بھی گوشت بھیجاجا سکتا ہے۔

گوشت یوم نحر اور ایام تشریق میں خوب کھایا جائے اور اسے بعد تک بھی رکھا جاسکتا ہے کیونکہ اسلام کے ابتدائی ایام میں 13 ذوالحج کے بعد گوشت روک رکھنے کی ممانعت تھی، لیکن بعد میں اس کی اجازت دے دی گئی تھی۔ (صحیح مسلم: 1971) بہر حال تین حصے کر کے اپنا حصہ کھائیں یا رکھ لیں جبکہ دو حصے تقسیم کر دینا ہی مستحب ہے۔

قربانی کی بدعات

بعض لوگ قربانی کا جانور ذبح کرنے سے پہلے وضو کرنے کو لازمی سمجھتے ہیں، شریعت میں ایسی کوئی دلیل موجود نہیں۔

جانور کی کھال یا پیشانی پر خون لگانا، شریعت اسلامیہ میں ایسا کوئی حکم موجود نہیں۔

جانور ذبح کرنے کے فوراً بعد اس کی کوئی ہڈی توڑنا، اس کے لیے بھی کوئی شرعی دلیل موجود نہیں ہے ۔

جانور ذبح کرتے وقت یہ کہنا یا اس کی نست کرنا کہ یہ قربانی مسلمانوں کے فقراء کی جانب سے ہے۔ ایسا کہنے کی کوئی مثال صحابہ کرام میں نہیں پائی گئی۔ نبی کریم ﷺ نے امت کی طرف سے جو اونٹ ذبح کیے وہ عمل آپ ﷺکے ساتھ خاص ہے۔

قربانی کی فضیلت میں ضعیف روایات

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان روایات کو بھی بیان کیا جائے جو عوام الناس میں بہت شہرت حاصل کر چکی ہیں مگر وہ تمام روایات ضعیف ہیں اور نبی کریم ﷺ سے ان کا بیان صحیح سند سے ثابت نہیں:

1۔دسویں تاریخ کو خون بہانے سے زیادہ کوئی عمل اللہ کو محبوب نہیں۔ (ضعيف سنن ترمذی: 1493)

2۔یہ قربانیاں قیامت کے روز اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئیں گی اور خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے ہی قربانی بارگاہ الٰہی میں قبول ہو جاتی ہے، لہٰذا تم خوش دلی سے قربانیاں کیا کرو۔ (ضعيف سنن ترمذی:1493)

3۔آپ ﷺ سے پوچھا گیا: یارسول اللہ ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے باپ ابراہیم ﷺ کی سنت ہیں۔ ان کے ہر بال میں تمہارے لیے نیکی ہے۔ عرض کیا گیا: کیا اون والے جانوروں میں بھی؟ فرمایا: ہاں، اون کے ہر بال میں بھی نیکی ہے۔ (سلسلہ ضعیفہ: 1051)

4۔ اپنی قربانیوں کو خوب موٹا کرو، یہ قیامت کے دن پل صراط سے گزرنے کے لیے تمہارے لیے سواریاں بن جائیں گی۔ (ضعيف الجامع للألباني: 824)

5۔قربانی کے جانور کے ہر عضو کے بدلے میں قربانی کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم کی آگ سے آزادی ملتی ہے۔(التلخیص الحبیر: 1954)

6۔رسول اللہ ﷺ نے رات کو قربانی کا جانور ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (جملہ من الأحاديث الضعيفہ والموضوعہ: 372)

7۔بیٹی فاطمہ اٹھو ! قربانی کے جانور کو اپنا گواہ بنا لو، اس کے خون کے ہر قطرے کے بدلے میں تمہارے سابقہ گناہ معاف ہو جائیں گے۔ عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ ہم اہل بیت کے لیے خاص ہے؟ فرمایا: نہیں ، یہ میری امت کے لیے عام ہے۔ (مجمع الزوائد و منبع الفوائد: 4 ؍ 17 ، حدیث: 5934 و ضعیف الترغيب والترهيب 674)

8۔جو شخص خوش دلی سے قربانی کرے گا یہ اس کے لیے جہنم سے رکاوٹ بن جائے گی۔ (ضعيف الجامع للألباني: 5679)

عقیقے کا جانور اور قربانی کا جانور

عقیقے کے احکام قربانی سے قدرے مختلف ہیں۔ جانور کا انتخاب، گوشت کی تقسیم، اسے ضرورت مندوں تک پہنچانا ، سب کچھ اسی طرح ہے جس طرح قربانی کے گوشت کے مسائل ہیں، البتہ اس میں یہ شرط ہے کہ لڑکے کی طرف سے دو بکرے ذبح کیے جائیں اور لڑکی کے عقیقے میں ایک بکرا ذبح کیا جائے ، تاہم اگر کوئی دو سے زیادہ ذبح کرے گا تو باقی جانور صدقہ شمار ہوں گے۔

٭ عقیقے کا ایک جانور اپنے شہر یا ملک میں اور دوسرا جانور کسی اور شہر یا ملک میں ذبح کیا جاسکتا ہے، اس میں کوئی ممانعت نہیں۔

٭ عقیقہ بچے کی ولادت سے ساتویں دن کیا جائے۔ اگر ساتویں دن نہ ہو سکے تو پھر جب بھی ممکن ہو، عمر بھر میں کسی بھی وقت عقیقہ کیا جا سکتا ہے۔

٭ اگر نومولود ساتویں دن سے پہلے وفات پا جائے تو بھی اس کی طرف سے عقیقہ مستحب ہے۔ اگر بچہ مردہ پیدا ہو اور وہ چار ماہ سے زیادہ کا حمل تھا تو اس کی طرف سے عقیقہ کرنا مستحب ہے۔

٭ عقیقہ میں بکری بکرا، بھیڑ، مینڈھا، دنبہ افضل ہیں۔ اس میں قربانی کی طرح سات یا دس عقیقے نہیں ہو سکتے۔

٭ عقیقے کا گوشت پکا کر کھلانا بھی جائز ہے اور کچا تقسیم کر دینا بھی درست ہے۔ اگر آپ کے ہاں مساکین نہیں ہیں تو پھر کسی دوسری جگہ بھی جانور یا گوشت منتقل کیا جا سکتا ہے۔ وصلَّى الله على نبينا محمد وآله وصحبه أجمعين

تبصرہ کریں