قربانی پس منظر اور مقاصد۔ خطاب: الشیخ عبد اللہ ناصر رحمانی

خطبہ مسنونہ کے بعد: «أَعُوذُ بِاللهِ السَّمِيعِ العَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ مِنْ هَمَزِهِ وَنَفَثِهِ وَنَفخِهِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ﴿إِنَّا اعْطَيْنكَ الْكَوْثَرَ . فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُهِ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ﴾ عشرہ ذوالحجہ کے دن بہت ہی بڑے بابرکت دن ہیں۔ ان دنوں میں شریعت کی ہدایت یہی ہے کہ کثرت سے نیک اعمال کیے جائیں اور جس نیک عمل کی شریعت نے بطور خاص تاکید کی ہے وہ اللہ کا ذکر ہے: ﴿وَاذْكُرُوا اللهَ فِي أَيَّامٍ مَّعْدُو دَاتٍ﴾ ” ان گنتی کے چند دنوں میں اللہ کا خوب ذکر کرو۔‘‘ (البقرة: 203) الترغيب والترہیب میں ایک حدیث ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:

«اكْثِرُوا فِيهِنَّ مِنَ التَّسْبِيح وَالتَّحْمِيدِ وَالتَّهْلِيل وَالتَّكْبِيرِ» ان دنوں میں کثرت سے تسبیح کرو، تحمید کرو، تہلیل کرو اور تکبیر کرو۔‘‘ (الترغيب والترهيب: 2؍15) تسبیح سے مراد سبحان اللہ کہنا پسند ہے ہر اس شئے سے زیادہ جس جس شئے پر سورج کی دھوپ پڑتی ہے، یعنی پوری کائنات سے زیادہ یہ کلمات مجھے محبوب ہیں۔ یہ بات تو عام دنوں کی ہے لیکن ان دنوں میں اگر یہ کلمات کہے جائیں گے جن دنوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

«مَا مِنْ أَيَّامِ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إلى اللهِ مِن هَذه الأيام العشر»

’’جتنے بھی دن ہیں اس دنیا کے ان سب سے زیادہ ان 10 دنوں کی نیکیاں اللہ تعالیٰ کو محبوب اور پسند ہیں۔“ (جامع الترمذی: 757) اور ایک حدیث میں ارشاد ہے: «أَفْضَلُ أَيَّامِ الدُّنْيَا الْعَشْرِ»

’’دنيا کے سب سے بہترین دن، افضل دن، یہ ذوالحج کے10 دن ہیں۔“ (الترغيب والترهيب:2؍15) یہ نیکی کثرت سے کی جائے۔ تکبیرات پڑھنا سلف صالحین کا معمول تھا:

«اللَّهُ أَكْبَرَ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا اله الا الله وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ» ان تکبیروں سے فضائیں گونجنی چاہئیں۔ یہ دن بڑے مبارک ہیں۔ ان میں نیکیوں کی کیا قدر و قیمت ہے؟ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک کیا اہمیت ہے؟ اجر و ثواب کی کیا مقدار ہے؟ اس کا شریعت نے ذکر نہیں کیا بلکہ اس کو ہم سے چھپا لیا ہے۔ یہ چھپانا بھی درحقیقت ترغیب کی نشاندہی کرتا ہے کہ کوئی نہیں جانتا، ان دنوں کے عمل کا، نیکیوں کا اللہ کے ہاں کیا صلہ ہے؟ ہاں ایک جھلک دکھائی ہے9 ذوالحج ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:

«صَيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ»

’’9ذوالج کا روزہ جو کہ یوم عرفہ ہے، اس روزے کا اجر یہ ہے کہ اللہ رب العزت اس ایک روزے کی برکت سے گزشتہ سال کے سارے گناہ معاف کر دیتا ہے اور آئندہ سال کے گناہ بھی معاف کر دیتا ہے۔“ (صحیح مسلم: 1162) یعنی سال گزشتہ جو گناہ آپ نے کیے ہیں وہ معاف ہو جاتے ہیں اور سال آئندہ جو گناہ آپ نے ابھی کیے ہی نہیں بلکہ کرنے ہیں وہ بھی اس روزے کی برکت سے معاف ہوجاتے ہیں۔ یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ یہ صغیرہ گناہ ہیں اور کبیرہ گناہ کی بخشش اس سے بھی آسان ہے اور وہ توبہ ہے۔ ایک انسان ندامت کے ساتھ سچی توبہ کرلے تو ایک ہی لمحے میں وہ سارے کبیرہ گناہ بخشوا سکتا ہے۔ یہ شریعت کی سماحت اور برکت ہے۔

اور پھر 10 ذوالج جو ہمارا تہوار ہے، ہماری عید ہے، یہ دن یوم النحر کہلاتا ہے۔ اس دن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ یوم النحر کو انسان کا سب سے عمدہ عمل قربانی ہے، حالانکہ یوم النحر کو بڑے بڑے کام ہوتے ہیں۔ یوم النحر کو بیت اللہ کا طواف ہوتا ہے جس کو طواف افاضہ کہتے ہیں۔ صفا و مروہ کی سعی ہوتی ہے اور حجاج کرام اللہ کی رضا کے لیے اپنے سر منڈاتے ہیں۔ احرام اتارے جارہے ہیں۔ جمرات کو کنکریاں ماری جارہی ہیں جو شیطان سے بغض اور عداوت اور نفرت کا اظہار ہے۔ قربانی بھی کی جارہی ہے مگر فرمایا کہ آج کے دن سارے اعمال میں سب سے افضل عمل قربانی ہے۔ (جامع الترمذی: 1493، ضعیف) یہ قربانی کیا ہے؟ ہم یہ بحث کرتے رہتے ہیں کہ یہ فرض ہے یا سنت ہے؟ لیکن صحابہ کرا نے کبھی یہ سوال نبی ﷺ سے نہیں کیا۔ یارسول اللہ ﷺ ! قربانی کا حکم کیا ہے؟ سنت ہے یا فرض ہے؟ وہ تو یہ دیکھتے کہ رسول اللهﷺ کا عمل ہے اور عمل بھی ایسا ہے کہ جس میں کبھی آپ نے ناغہ نہیں کیا۔ ہر سال کرتے تھے۔ جامع ترمذی میں سیدنا عبداللہ بن عمر کی حدیث ہے کہ أَقَامَ رَسُولُ اللهِ بِالْمَدِينَةِ عَشَرَ سِنِينَ يُضَحي ’’رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں 10 سال قیام کیا ہے اور ہر سال قربانی کرتے تھے۔ (جامع الترمذی: 1507، ضعیف) نبیﷺ کی مالی حالت کیا ہے؟ کبھی کبھی تین چاند گزر جاتے اور آپ کے گھر میں چولہا نہ جلتا۔ ایسے مواقع بے شمار دفعہ آئے ہیں مگر اس کے باوجود آپﷺیہ قربانی ہر سال کرتے تھے۔

قربانی کیا ہے؟ یوم النحر کو ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جو اس کائنات میں اس سے قبل کبھی رونما نہ ہوا۔ نہ آج تک ہوا ہے اور نہ قیامت تک رونما ہوگا۔ چشم فلک نے بھی ایسا منظر دیکھا ہی نہیں ۔ ایک باپ اپنے بیٹے کو الٹا لٹا کر اپنے ہاتھ سے ذبح کر رہا ہے۔ جس کو دعائیں مانگ مانگ کر حاصل کیا تھا۔ بڑی ایک تاریخ ہے اس کے پیچھے۔ اللہ تعالیٰ نے جب ابراہیم خلیل اللہ کو نبوت کا تاج پہنادیا اور توحید کی دعوت کا حکم دیا تو اپنے گھر سے اس مشن کا آغاز کیا۔ باپ نے انکار کیا، دھمکیاں دیں، جان سے ماردینے کی دھمکیاں دیں۔ تم کو پتھر مار مار کے ختم کر دوں گا۔ گھر سے نکال دوں گا۔ قوم کے سامنے دعوت دی۔ قوم نے انکار کیا، ناروا سلوک کیا۔ اور معاملہ نمرود وقت کے پاس پہنچا۔ اس نے بھی انتہائی ناروا سلوک کیا، بلکہ اس کے دربار میں مناظرہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کی عزت و عصمت کو وہاں قائم رکھا۔ ان کو کامیابی ہوئی۔ یہ کافر لا جواب ہوا اور پھر پوری مملکت اور پوری سپاہ اور پوری قوم ابراہیم کو جلانے کے درپے ہوگئی۔

ایک ایسی آگ روشن کی گئی کہ اس سے بڑی آگ دیکھی نہیں گئی۔ اس میں اکیلے ابراہیم کو جلانے کے لیے، اس میں آپ کو ابھی ڈالا نہیں گیا۔ ابراہیم نے ایک ہی دعا پڑھی: ﴿حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيل﴾ ’’ہمیں اللہ کافی ہے اور بہترین کارساز ہے۔‘‘ اور اللہ کافی ہوا: ﴿وَقُلْنَا يَا نَارُكُونِي بَرْدَا وَّسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِیْم﴾ ’’ ہم نے کہا کہ اے آگ ٹھنڈی ہو جا۔ اتنی ٹھنڈی نہیں کہ تیری ٹھنڈک سے میرے بندے کو نقصان ہو اور کپکپی طاری ہو جائے بلکہ اتنی ٹھنڈک جس میں سلامتی ہو، ایسی بن جا۔‘‘ (سورۃ الانبیاء: 69) اور آگ ایسی بن گئی۔ ابراہیم صحیح سالم آگ سے باہر آگئے۔ یہ ایک معجزہ تھا جس کو پوری قوم نے دیکھا۔ لیکن قوم پھر بھی ایمان نہ لائی۔ حالانکہ یہ معجزہ ابراہیم کی صدق نبوت کا ایک واضح نشان تھا مگر قوم نے پھر بھی نہ مانا۔ ابراہیم اس قوم کو دعوت دیتے رہے، دیتے رہے حتی کہ یہ معجزہ بھی ظاہر ہو گیا اور پھر ایک دن آپ نے اعلان کردیا: ﴿إِنِّي ذَاهِب إلى رَبِّي سَيَهْدِین﴾ ’’میں اپنے اس وطن کو چھوڑ رہا ہوں اور اپنے اہل خانہ کو چھوڑ رہا ہوں اور اپنے رب کی طرف جا رہا ہوں ہجرت کر کے۔‘‘ (سورۃ الصافات : 99) اس قوم نے اس دعوت کا اہتمام نہیں کیا اور اس کو قبول نہیں کیا۔ اب میں دوسروں کے پاس جاتا ہوں وہاں دعوت توحید دینے کے لیے۔ بس وہ تھے اور ان کی بیوی تھی اور اس ملک سے باہر نکل گئے ۔ تو یقیناً یہاں ایک ضرورت تھی ایک ایسے فرد کی جو انسیت اور محبت کا ذریعہ بنے۔ ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اولاد کی نعمت سے سرفراز نہیں فرمایا تھا اور آپ کو شدت سے اور بے قراری سے بچے کی خواہش تھی۔ جس سے محبت کریں۔ انسیت ہو اور پھر آگے جوان ہو کر یہ بچہ اس دعوت توحید کا علمبر دار ہو۔ اس مشن کا وارث ہو۔ رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ ’’اے اللہ ! مجھے نیک بیٹا عطا فرما دے۔“ (سورۃ الصافات: 100۔101) اللہ تعالیٰ نے دعا قبول کر لی ۔ ﴿فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَام حَلِیم﴾ ’’ہم نے ایک حلیم بیٹے کی بشارت دے دی۔‘‘ اللہ کو معلوم تھا اس بیٹے نے حلم کا کردار ادا کرنا ہے۔ ایسا حلم، ایسا صبر، ایسا عمل کہ چھری کے نیچے بھی آہ نہیں کرے گا۔ ایسا یہ غلام حلیم ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک حلیم بیٹے کی بشارت دے دی۔ اور اللہ نے بیٹا دے دیا۔ مگر «أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءٌ الأنبياء» ’’سخت ترین تکلیفیں نبیوں پر آتی ہیں۔ “ (مسند احمد: 36916) امتحان ختم نہیں ہوئے۔ بیٹا تو مل گیا اور انسیت کا کھلونا ایک مل گیا۔ خوبصورت اور پیارا کھلونا۔ مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ابراہیم ! اپنے اس بیٹے کو اور اس کی ماں کو بھی تنہا چھوڑ آؤ۔ ایک جنگل میں، ایک بیابان میں جہاں کوئی آبادی نہیں ہے۔ کوئی مسکن نہیں ہے۔ یہ مکۃ المکرمہ بالکل ایک بے آباد علاقہ تھا۔ یہاں اللہ کا گھر بننا تھا اور یہ بھی تقدیر الٰہی کہ یہ گھر بھی ابراہیم اور ان کے بیٹے نے بنانا تھا۔ اس نے قیامت تک قائم رہنا تھا اور لوگوں نے اس گھر کا قصد کرنا تھا۔ اللہ کا قبلہ اور پھر طواف کا مرکز ،لوگوں کے دلوں میں اس کی کشش، یہ بھی ابرا ہیم کے لیے ایک مستقل اجر کی اساس تھا۔ کوئی سوال نہ کیا کہ یہ وہاں کیسے رہیں گے؟ کیسے گزارا کریں گے۔ بس چھوڑ کر آگئے۔ بیوی نے پوچھا بھی کہ کہاں جارہے ہیں؟ ہمیں کہاں چھوڑ کر جارہے ہیں؟ لیکن پلٹ کر دیکھا نہیں۔ ایسا نہ ہو کہ دیکھوں اور بچے کی شفقت غالب آجائے ، اس ارادے میں کوئی تاخیر ہو جائے۔ آسمان کی طرف اشارہ کیا، بیوی سمجھ گئی کہ اللہ کا امر ہے اور کہا کہ اگر اللہ کا امر ہے تو پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ دعا کرتے ہوئے وہاں سے نکلے:

﴿رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلوةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِى إِلَيْهِمُ وَ ارْزُقُهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ﴾

’’یا اللہ! ایک بے آباد مقام پر اپنے اہل کو چھوڑ کے جا رہا ہوں، اپنی ذریت کو چھوڑے جارہا ہوں۔ یہاں جہاں تیرا گھر ہے، تیرا گھر بنے گا یا بن چکا تھا اور پھر وہ گرا دیا گیا، گرگیا زمانے کے گزرنے کے ساتھ۔ یا اللہ اس لیے تاکہ یہ نمازوں کو قائم کریں۔ یا اللہ ان کو پھلوں کا رزق عطا فرمادے تا کہ تیرا شکر ادا کرتے رہیں۔“ (سورۃ ابراہیم: 37) اور پھر وہاں سے واپس آگئے۔ اور گاہے بگا ہے اپنے بیٹے کو ملنے جاتے تھے۔ کچھ دن گزارتے واپس آجاتے۔ پھر اسی اثناء میں ایک بار پھر ملنے گئے، بیٹا چلنے پھرنے کے قابل ہو چکا ہے۔ اور پھر ملنے گئے۔ شفقت پدری اور بیٹے کا پیار اور بیٹے کی محبت، اتنے پاکیزہ جذبات۔ چنانچہ انہی جذبات کے تحت فلسطین سے مکہ مکرمہ ملنے کے لیے گئے ۔ اللہ تعالیٰ کی ایک اور آزمائش منتظر تھی۔ خواب میں دیکھا اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں اور انبیاء کا خواب اللہ کی وحی ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کو امرالٰہی سمجھا۔ ایک بار خواب آئی، دو بار خواب آئی، تین بار خواب آئی۔ جس بیٹے کی شفقت اور محبت میں ملنے کے لیے جارہے ہیں اسی بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم آگیا۔ بیٹے کو ساتھ لے لیا اور جہاں ذبح کرنا تھا اور جہاں اللہ کا امر تھا یا اللہ کو منظور تھا کہ یہاں ذبح ہو، منیٰ کی گھاٹی جہاں آئندہ لوگ آکر جانور ذبح کریں، وہاں پر لے گئے اور اپنے بیٹے کو اپنا خواب سنایا:

﴿إِنَّی أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرُ مَاذَا تَرَی﴾ ” میں نے خواب میں دیکھا تجھے ذبح کر رہا ہوں تیرا کیا خیال ہے؟“ یہ کیوں پوچھا؟ ذبح کر ڈالتے ۔ یہ سوال کیوں کیا ؟ اس میں اگر ذبح کر ڈالتے تو اسماعیل کی اطاعت ظاہر نہ ہوتی۔ پوچھا: میرے بیٹے ! تیرا کیا خیال ہے۔ اور یہ بات وہ جانتے تھے کہ بیٹا فرمانبردار ہے اور یہ غلام حلیم ہے۔ بیٹے نے کوئی اعراض یا انکار نہ کیا:

﴿قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلُ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ الصَّابِرِينَ﴾ ’’ابا جان! یہ خواب نہیں اللہ کا امر ہے۔ اسے فوراً کر گزریے۔“ اس کی فوراً تکمیل کیجیے۔ تاخیر کس بات کی ہے؟ تاکہ بیٹا بھی اس آزمائش میں سرخرو ہوکر داخل ہو جائے ۔ اگر لاتے ہی لٹا کر ذبح کر ڈالتے تو بیٹے کی مناقب ظاہر نہ ہوتی لیکن پوچھ کر اور اس کی رائے معلوم کر کے اور اس کی رائے بھی سراسر اطاعت کی تھی، اور اللہ کے امر پر قربان ہو جانے کی تھی، وہ بھی اس بشارت میں اور اس منقبت میں داخل ہو گئے اور شریک ہو گئے۔ قرآن کہتا ہے:

﴿فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِيْن﴾ ’’جب دونوں باپ اور بیٹا میرے فرمانبردار بن گئے تو باپ نے اپنے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا۔‘‘ سیدھا بھی لٹا سکتے تھے لیکن محض یہ سوچ کر کہ سیدھا لٹاؤں تو چھری پھیرتے وقت بیٹے کا چہرہ سامنے آجائے تو پھر رکاوٹ نہ بن جائے، شیطان اپنا وار نہ کر جائے۔ پیشانی کے بل لٹایا تاکہ بیٹے کے چہرے کو نہ دیکھ پاؤں۔ اب چھری پھیر رہے ہیں اور چھری پھر نہیں رہی۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَّا إِبْرَاهِيمُ﴾ ہم نے ابراہیم کو پکارا: ﴿قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا﴾ ’’ابراہیم تم نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا۔ ‘‘ اللہ فرمارہا ہے: تم نے خواب کو سچا کر دکھایا۔ سچا کرنے سے کیا مراد ہے؟ ظاہر تو یہ ہے کہ اللہ نے امر دیا اور باپ ذبح کرنے کے لیے تیار ہو گیا اور بیٹا ذبح ہونے کے لیے تیار ہو گیا۔ یہ ظاہری سچ ہے۔ لیکن اللہ رب العزت کے فیصلے صرف ظاہر پر نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلے ظاہر کے ساتھ ساتھ باطن پر ہوتے ہیں۔ اللہ کی فہرست میں سچا وہ ہے جو ظاہر میں سچا ہو اور باطن میں سچا ہو۔ جس کا دل بھی اس کے ظاہری عمل کے ساتھ ساتھ اللہ کے لیے مخلص ہو، اللہ کے لیے سچا ہو، اللہ کی رضا کے لیے اور اس کے حصول کے لیے سچا اور صادق ہو، اللہ تعالیٰ ظاہر اور باطن کو دیکھ کر کسی انسان کے سچا ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ ہم نے ندادی: ابراہیم ! تم نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا ۔ تم ظاہر و باطناً صادق ہو۔ بچے ہو، صادق ہو اور تم نے واقعتاً اس آزمائش میں سرخروئی حاصل کرلی اور پوری طرح کامیاب ہو گئ۔ اور فرمایا: ﴿سَلَامٌ عَلَی إِبْرَاهِيْم﴾ ’’سلام ہو ابراہیم پر۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے: ابراہیم پر سلام ہو۔ کتنی بڑی عظمت ہے! کتنی بڑی عظمت ہے! ﴿وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِیْم﴾ ’’ہم نے ان کے بیٹے کی قربانی کے عوض میں ان کو ذبح عظیم دیا۔‘‘ ایک دنبہ جنت کا، جنت میں کھا کر پلا ہوا تھا، اللہ نے وہ بھیج دیا۔ چھری پھر نہیں رہی تھی۔ ابراہیم پریشان تھے۔ اللہ کے امر میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔ اور پھر چھری اچانک پھر گئی۔ ابراہیم خوش ہو گئے ۔ آنکھوں سے پٹی کھول دی۔ دیکھا کہ چھری کے نیچے دنبہ ہے۔ اسماعیل ایک پہلو میں کھڑے ہوئے ہیں اور اللہ کے امر کے منتظر ہیں۔ جنت کا دنبہ اللہ نے عطا فرمادیا۔ اور ساتھ فرمایا: ﴿وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ﴾ ’’ہم نے اس یادگار کو یہاں ختم نہیں کر دیا بلکہ پچھلوں تک اس کو باقی رکھا۔“ (سورۃ الصافات :102۔109) یہ یادگار قیامت تک قائم رہے گی اور لوگ بڑے شوق و ذوق سے قربانی کریں گے۔ یہ قربانی کی تاریخ ہے۔ ہمیں اللہ رب العزت نے ایک بڑے امتحان سے بچایا ہے اور محفوظ رکھا ہے۔ بڑا امتحان بچوں کی قربانی کا ہے۔ اللہ بے پروا ہے، کوئی بھی حکم دے سکتا تھا مگر یہ آسان سا حکم ہمیں دے دیا گیا اور وہ قربانی کا ہے۔ بڑے شوق و ذوق سے قربانی کریں ، اچھے اچھے جانور لائیں۔ ان کی قربانی کریں۔ یہ سال میں ایک بار وقت آتا ہے سنت ابراہیمی کے احیاء کا۔ اور اللہ رب العزت نے یہ شوق اپنے بندوں کے دلوں میں داخل کر دیا ہے، بندے بڑے شوق سے یہ قربانی کرتے ہیں۔ اور میدان منیٰ میں 10 ذوالحج کو قربانیاں ہوں گی ۔ 25 سے 30 لاکھ حاجی، اور ہر حاجی کم از کم ایک قربانی ضرور کرے گا۔ اللہ کے امر کی تعمیل جس کا آغاز، نقطہ آغاز ایک عظیم تاریخ ہے۔ ایک عظیم امتحان ہے جس سے ابراہیم سرخرو ہوئے اور کامیاب ہوئے اور ہمیں یہ ایک یادگار دے دی گئی۔ یہ قربانی کیا ہے؟ سیدنا ابراہیم کی یادگار، ابراہیم کی سنت۔ اللہ پاک کا فرمان ہے: ﴿وَالْبُدْنَ جَعَلْنَهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَائِرِ الله﴾ ’’یہ قربانیاں کیا ہیں؟ یہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔‘‘ (سورۃ الحج : 36) اللہ تعالیٰ کی نشانی ہے تمہارے پاس۔ یہ قربانی کے جانور اللہ کی نشانیاں ہیں۔ ایک اور مقام پر فرمایا: ﴿وَمَن يُعْظِمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوب﴾ ’’جو اللہ کے شعائر کی ، اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرتے ہیں ان کے دل در حقیقت تقویٰ سے بھرے پڑے ہیں، وہ متقی ہیں۔ جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتے ہیں۔ ‘‘ (سورۃ الحج : 32) اللہ کی جو بھی نشانیاں ہیں ان کو پوری تعظیم سے ادا کرتے ہیں، اور یہ قربانی کے جانور بھی اللہ کی نشانیاں ہیں۔ اللہ نے یہ عجیب مخلوق ہمارے لیے پیدا کی اونٹ، گائے، بکرے، دنبے۔ یہ ایک عجیب اور پیاری مخلوق پیدا کی ہماری قربانیوں کے لیے۔ ان کو اپنا شعائر قرار دیا اور شعائر کی تعظیم کو دلوں کا تقویٰ قرار دیا۔ تو ہم بھی ان کی تعظیم کریں۔ ان کی تعظیم یہ نہیں ہے کہ ان کو آپ کسی اچھے قالین پر بٹھا دیں، اور غبارے باندھ دیں، گھنگر و باندھ دیں، رنگ لگا کر بازاروں میں گھمائیں پھرائیں۔ یہ کوئی تعظیم نہیں ہے۔ تعظیم وہ ہوتی ہے جس میں شریعت کے حقوق کی ادائیگی ہو۔ جانور اچھا خریدا جائے ، خوبصورت خریدا جائے ، پلا ہوا اور قیمتی ہو، اور پھر اس جانور کو کھلایا جائے ، پلایا جائے ، اس کی خدمت کی جائے۔ کیونکہ اللہ کی نشانی ہمیں ملی ہے۔ اس کی خدمت کی جائے اس کو بھوکا نہ مارا جائے۔ اچھے سے اچھا کھلایا جائے اور پھر اس کے ذبح کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے: «وَاذَا ذَبَحْتُم فَاحْسِنُوا الذَّبْحَ وَاليُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ فَلْيُرِحْ ذبيحته»’’ جانور ذبح کروا چھے طریقے سے کرو، اپنی چھری تیز کرلو اور اپنے ذبیحے کو آرام پہنچاؤ تاکہ جلدی اس کی جان نکل جائے، وہ تڑپتا نہ رہے۔“ (صحیح مسلم: 1955) ذبح میں قساوت قلبی نہ ہو، دل کی قساوت نہ ہو بلکہ تعظیم کا پہلو ہو، احترام کا پہلو ہو، اس جانور سے محبت کا پہلو ہو۔ یہ محبت اس جانور سے نہیں، یہ محبت اللہ کے شعائر سے ہے اور اللہ کی نشانی سے ہے۔ اور اللہ کی جو بھی نشانی ہو تمہارے پاس اس کی قدر اور تعظیم کرو۔ نماز اللہ کا فریضہ ہے۔ یہ بھی اللہ کی نشانی ہے۔ حسن اہتمام سے ادا کرو۔ سنت کے مطابق ادا کرو۔ وقت کی پابندی سے ادا کرو۔ خشیت قلبی سے ادا کرو کیونکہ اللہ کے شعائر میں سے ہے۔ روزہ اللہ کے شعائر میں سے ہے۔ اچھے طریقے سے رکھو، پورے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ۔ صدقہ ہے، زکاۃ ہے، حج ہے۔ یہ سارے اللہ کے شعائر ہیں، تمہیں دیے گئے ہیں۔ ان کا خوب اہتمام کرو اور خوب احترام کرو۔ تو ان شعائر میں سے قربانی ہے۔ قربانی کا احترام ہو، قربانی کی تعظیم ہو اور تعظیم یہ بھی ہے کہ اس میں 2 پہلو بطور خاص ملحوظ رکھو۔ ایک اخلاص کی حفاظت دوسرا نعرۂ توحید۔ یہ سراسر اللہ کی توحید کی اساس پر ہے۔ آج کے دن یہ نعرے فضاؤں میں گونج رہے ہیں۔ میدان منیٰ ایک ہی میدان ہے جہاں 25 سے 30 لاکھ حاجی قربانی کر رہے ہیں اور ہر وقت ہرلمحہ سینکڑوں بار یہ نعرے گونج رہے ہیں: «اللَّهُمَّ مِنْكَ، وَلَكَ» ’’یا اللہ! یہ قربانی تیری طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے۔‘‘ تَقَبَّلُهُ مِنِّى وَمِنْ أَهْلِ بَيْتِي ’’یا اللہ ! یہ قبول کرلے میری طرف سے اور میرے گھر والوں کی طرف سے اور پھر «بِسْمِ اللهِ اَللهُ أَكْبَرُ» ’’اللہ کے نام کے ساتھ، اللہ بہت بڑا ہے۔‘‘ یہ نعرۂ تکبیر کا نعرہ ، اللہ کی توحید کا نعرہ۔ یہ قربانی کی اساس ہے۔ ابراہیم کی پوری زندگی توحید کی ترجمان تھی اور اس قربانی میں بھی توحید کی تحقیق ہو ۔ بندہ اس تو حید کو سمجھے، اگر دل میں ہی بت خانہ ہے تو تیری قربانی کیا قبول ہوگی۔ اگر دل میں شرک کے اڈے قائم ہیں تو تیری قربانی کہاں قبول ہوگی۔ اگر تیرے تعلقات ان درگاہوں کے ساتھ ہیں جہاں پر شرک ہوتا ہے، قبروں کے طواف ہوتے ہیں اور قبروں پر وہ لوگ مجاورت کرتے ہیں، تیری قربانی کہاں قبول ہوگی۔ اگر اللہ کی توحید کے ساتھ غیروں کو شریک کرتے ہو، تمہاری قربانی کہاں قبول ہوگی۔ اللہ کی ربوبیت میں غیروں کو شریک کرتے ہو کہ فلاں بھی روزی دے سکتا ہے؟ فلاں بھی مشکل کشائی کرسکتا ہے، فلاں بھی حاجت روائی کر سکتا ہے اور فلاں بھی دستگیری کر سکتا ہے تو ایک کیا لاکھوں قربانیاں کر لو کوئی فائدہ نہیں۔ تو ایک توحید کی تحقیق، توحید کے درس کو سمجھو، ابراہیم کی سیرت کو سمجھو، ان کے کردار کو سمجھو جو سراسر توحید کے ترجمان تھے۔ انہوں نے قوم کو چھوڑا توحید کے لیے، گھر کو چھوڑا توحید کے لیے۔ آگ میں گئے توحید کے لیے، نمرود کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تو حید کا پیغام پہنچایا۔ پوری زندگی توحید سے عبارت تھی۔ حتی کہ ہجرت کی توحید کے لیے، اپنے اہل خانہ کو تنہا جنگل میں چھوڑا اللہ کی توحید کے لیے۔ کل یہاں اللہ کے امر سے اللہ کے گھر کی تعمیر کرنی ہے۔ بیت اللہ توحید کا مرکز ، جہاں پر طواف ہوتے ہیں، جو خالص اللہ کے لیے عبادت ہے اور جہاں پر تلبیے گونجتے ہیں «لَبَّيْكَ اَللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْـحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ» تو اگر تیرے دل میں شرک کی بیماری ہے تو تیری قربانی کہاں قبول ہوگی۔

دوسرا درس یہ ہے کہ قربانی میں اخلاص متفق ہو، ریا کاری نہ ہو، اخلاص کب سے شروع ہو؟ جب آپ جانور خریدنے جائیں اپنے دل کو اخلاص سے آمادہ کر کے جائیں۔ یہ سارا عمل اللہ کے لیے ہے۔ دنیا کے لیے نہیں ہے۔ دنیا کی شہرت کے لیے نہیں ہے۔ ایسا نہیں کہ قربانی اگر نہ کروں تو دنیا کیا کہے گی ۔ نہیں یہ عمل اللہ کی رضا کے لیے ہے اور اخلاص کے لیے ہے۔ جانور خریدو، اچھا خریدو، مہنگا خریدو، پلا ہوا خریدو، اس کی قیمت کی تشہیر نہ کرو کہ ٹی وی والے آ رہے ہیں، جانور کے فوٹو بن رہے ہیں، اس کی تشہیر ہو رہی ہے۔ بڑے فخر سے اس کی قیمتیں بتائی جارہی ہیں۔ یہ سارا ریا کا پروگرام ہے۔ دکھلاوے کا پروگرام ہے۔ اس سے قطعاً قربانی قبول نہیں ہوتی۔ خالق کائنات کا فرمان ہے: ﴿لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَ لَا دِمَاؤُهَا وَ لَكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمُ﴾ ’’الله تک تمہاری قربانی کا خون یا گوشت نہیں پہنچتا بلکہ تمہارے دلوں کا تقویٰ پہنچتا ہے۔“ (سورۃ الحج: 37) اور اللہ رب العزت تمہارے دلوں کے اخلاص کو دیکھتا ہے۔ «إِنَّ اللَّهَ لَا يَنظُرُ إِلَى صُورِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ» ’’ہر عمل سے قبل الله رب العزت تمہاری صورتیں نہیں دیکھتا، تمہارا مال نہیں دیکھتا، تمہاری باڈیاں نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے اور پھر تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔“ (صحیح مسلم: 2564) مگر پہلی نظر تمہارے دلوں کی طرف ہوتی ہے۔ تو قربانی توحید کا درس ہے اور اخلاص کا درس ہے۔ قربانی اطاعت کا درس ہے۔ یہ سارا عمل محمد رسول اللہﷺکی اطاعت ہے۔ پیارے پیغمبرﷺ مدینہ میں دس سال رہے اور قربانی کا حکم مدینہ میں آیا۔ ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ﴾ اللہ نے قربانی کا حکم دیا۔ یہ آیت مکی ہے مگر باقاعدہ اس کی مشروعیت جو ہے مدینہ سے شروع ہوئی۔ 10 سال آپ نے مدینہ میں قیام کیا۔ ہر سال قربانی کی۔ یہ پیارے پیغمبر کی سنت ہے۔ صحابہ کرام بھی اس سنت کو ملحوظ رکھتے اور قربانی کرتے۔ ایک تابعی ابو کباش ان کی کنیت ہے۔ وہ قربانی کے جانور کی تجارت کیا کرتے تھے۔ ایک سال جانور کا ریوڑ لے کر مدینے میں آ گئے۔ اس سال مدینے میں کچھ کساد گزاری تھی۔ معیشت کی تنگی تھی۔ انہوں نے دیکھا کہ ان کے ریوڑ کی طرف کوئی رخ نہیں کر رہا اور جانور خریدے نہیں جا رہے اور سارے کے سارے مینڈے یا دنبے تھے جو لے کر آئے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ ان کے شیخ ، ان کے استاد صحابی رسول ، ان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اس کساد گزاری کا ذکر کیا کہ لوگ اس طرف رخ نہیں کر رہے۔ سیدنا ابوہریرہ نے فرمایا کہ رخ کرنا چاہیے۔ میں نے پیارے پیغمبرﷺ کی حدیث سنی ہے: «نِعْمَتِ الْأَضْحِيةُ الجِذْعُ مِنَ الضَّانِ»’’ کہ سب سے بہترین قربانی تو دنبے اور مینڈے کی قربانی ہے۔‘‘ یہ حدیث لوگوں تک پہنچ گئی ۔ فرماتے ہیں کہ لوگ یہ حدیث سن کر میرے ریوڑ پر ٹوٹ پڑے، اس طرح خرید رہے ہیں جیسے لوٹ مار ہو رہی ہے۔ مہنگے سے مہنگے دام دے کر خریدتے جارہے ہیں۔ (جامع ترمذی: 1499 ضعیف) یہ پیارے پیغمبر کے صحابہ ہیں، اور پیارے پیغمبر کی امت کے افراد میں سنت کی اتباع کا جذبہ ہے ۔ اور اللہ کے پیغمبر کے امر کی تعمیل کا جذبہ ہے اور ظاہر ہے کہ خلاف سنت کوئی پروگرام قابل قبول نہیں ہے۔ ابو بردہ بن نیار نے عید سے قبل اپنا جانور ذبح کردیا۔ پیارے پیغمبر عید گاہ کی طرف جارہے ہیں، اس کے گھر کے پاس سے گزرے۔ دیکھا کہ ان کے گھر سے نالی سے بہتا ہوا خون آرہا ہے۔ پوچھا: یہ خون کیسا ہے؟ لوگوں نے کہا: ابو بردہ بن نیار کا گھر ہے۔ ان سے پوچھ لیں یہ خون کیسا ہے۔ بلایا گیا۔ یہ کیا خون دکھائی دے رہا ہے؟ عرض کیا کہ میں نے اپنا جانور ذبح کرلیا ہے۔ کیوں؟ نماز سے قبل کیوں؟ عرض کیا کہ میرے پڑوسی غریب ہیں۔ میرا جذبہ یہ ہے کہ آج ان کو گوشت کے لیے انتظار نہ کرنا پڑے اور پہلے ان کے گھروں میں میرا گوشت پہنچے۔ یہ کھا ئیں گے مجھے خوشی ہوگی۔ یہ سارے اللہ کے پیغمبر کے صحابی، رسول اللہﷺ نے اس جذبے کے تحت ان کو شاباش نہیں دی۔ کیونکہ جذبہ صرف وہ قابل قبول ہے جو سنت رسول کے تابع ہو۔ یہ دین تڑپ کا نام نہیں ہے۔ ذاتی جذبات کا نام نہیں ہے۔ ذاتی پسند کا نام نہیں ہے۔ یہ دین اللہ کے پیغمبر کی اتباع کا نام ہے۔ ایک انسان کی وہ طلب، وہ جذبہ اور وہ شوق اور وہ پسند جو اللہ کے پیغمبر کی سنت کے تابع ہو وہ محمود اور قابل تعریف ہے۔ لیکن وہ جذبہ اور وہ شوق جو اللہ کے پیغمبر کی سنت کے خلاف ہو وہ قطعاً قابل تعریف نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے صاف فرمایا: «تِلْكَ شَاةُ لَحْم» ابو برده تمہاری قربانی قبول نہیں ہوئی۔ یہ ایک عام جانور تم نے ذبح کر لیا۔ گوشت کھا لیا، کھلا دیا۔ قربانی قبول نہیں ہوئی، تمہیں دوسری قربانی کرنی پڑے گی۔ (صحیح بخاری: 983) تو قربانی کے باب نے ہمیں یہ درس دیا ہے کہ قربانی کیا ہر معاملہ ضروری ہے کہ اللہ کے پیغمبر کی سنت کے تابع ہو۔ یہ قربانی کے درس ہیں۔ درس توحید، درس اخلاص، درس اتباع۔ اللہ کے پیارے پیغمبر کی سنت کی اتباع۔ اور پھر ایک اور درس کے لیے تیار ہونا۔ وہ درس کیا ہے؟ یہ قربانی ایک تربیت ہے، کیسی تربیت؟ کہ انسان اس جانور کی قربانی کے ذریعے ہر قربانی کا عزم کرلے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور قربانی کے تعلق سے تم سے سودا کر رکھا ہے۔ فرمایا کہ ﴿إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَاَمْوَالَهُمُ باَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ﴾ الله نے خرید لیا ہے مومنین سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو جنت کے عوض (سورۃ التوبہ: 111) ہر مومن سے سودا ہو چکا ہے کہ جنت چاہیے تو اپنی جانیں، اپنے مال ضرورت پڑنے پر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے تیار رہو۔ یہ قربانی ایک تمہید ہے اس سودے کی تیاری کے لیے۔ دین اسلام پر ایسا وقت آجائے، دین اسلام کو ہمارے مال کی ضرورت ہو، ہم مال قربان کر دیں گے، لٹا دیں گے۔ دین اسلام کو ہماری جان کی ضرورت ہو اپنی جان قربان کر دیں گے۔ تو یہ قربانی تمہید ہے اس قربانی کی جو اصل قربانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص سے جنت کے بدلے اس کی جان اور مال کا سودا کر رکھا ہے۔ یہ سودا ہو چکا ہے۔ تو دین اسلام کو جب بھی ضرورت پڑی ہمارے مال کی ہم مال خرچ کریں گے۔ جب بھی ضرورت پڑی ہماری جانوں کی جانیں قربان کردیں گے۔ یہ تربیت صحابہ نے حاصل کی تھی، اس تربیت پر وہ قائم تھے۔ عام سے عام صحابی بھی اس پر قائم تھا، ایک شخص کو اللہ کے نبیﷺ نے جہاد کے بعد طلب کیا اور کہا: یہ سارا ڈھیر تمہارا مال غنیمت ہے اس کو سمیٹ لو۔ اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ! اگر میں یہ ڈھیر سمیٹ لوں تو اس کے گننے میں مشغول ہو جاؤں گا۔ مجھے دنیا کی کوئی طلب اور حرص نہیں ہے۔ اتَّبَعْتُكَ عَلَى أَن أَرمَى إِلَى هَاهُنَا، میں نے تو کلمہ پڑھا ہے تا کہ اسی میدان جہاد میں یہاں تیر لگے، گردن پے ہاتھ رکھا، اور میں شہید ہو جاؤں۔ میرا تو یہ عزم ہے۔ اس عزم کے لیے مجھے مال کی کیا ضرورت ہے؟ اس ڈھیر کی کیا ضرورت ہے۔ ایسا نہ ہو کہ میں اس ڈھیر میں مشغول ہوجاؤں، اس کی حفاظت میں کمربستہ ہو جاؤں۔ تو مجھے یہ مال نہیں چاہیے، ضرورت نہیں ہے۔ میرا شوق تو کچھ اور ہے۔ میری طلب تو کچھ اور ہے اور پھر اگلے معرکے میں یہ شخص پیغمبرﷺ کے ساتھ موجود تھا۔ نبیﷺنے فرمایا تھا کہ «إِن تَصْدِقِ اللهَ يَصْدُفكَ» ’’اگر تم سچے دل سے یہ بات کہہ رہے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہاری صداقت کی لاج رکھے گا۔‘‘ اگلے معرکے میں موجود تھا اور شانہ بشانہ لڑ رہا ہے، جہاد کر رہا ہے۔ اور بالآخر ایک تیر پیوست ہوا اس کی گردن میں جہاں انگلی رکھی تھی اور یہ صحابی شہید ہو گیا۔ میدان جہاد کے بعد نبیﷺ نے اس کی لاش کو دیکھا، تیر و ہیں لگا ہوا تھا جہاں اس نے اشارہ کیا تھا۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا تھا: «اصدق الله فَصَدَقَهُ» ’’سچا تھا اللہ نے اس کی صداقت کی لاج رکھی۔‘‘ (سنن نسائی: 1955) دیکھیں صحابہ کرام کس طرح اپنے آپ کو قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ کھڑے کھڑے اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتے تھے۔ اور دین پر آنچ نہیں آنے دیتے تھے۔ ابوطلحہ انصاری بڑے گھنے باغ کے مالک تھے۔ ایک بار باغ میں نفل ادا کر رہے تھے۔ ایک پرندہ باغ میں آگیا۔ اب وہ نکلنے کے جتن کر رہا ہے۔ اس کو نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا۔ دل ہی دل میں خوش ہو گئے کہ میرا باغ کتنا گھنا ہے اور کتنے اس میں پھل ہیں کہ ایک پرندے کو نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا۔ نماز میں پرندے کو دیکھتے رہے اور پرندے کو دیکھ کر اپنے باغ کے گھنے پن پر خوش ہوتے رہے۔ اور پھر اس طرح نماز پوری کی۔ نماز کے بعد کہا کہ ابوطلحہ! افسوس! اپنے خالق اور مالک کے سامنے کھڑے تھے، بجائے اپنے قلب کی حضوری کے، اللہ کی طرف توجہ کے، تمہاری توجہ باغ کی طرف تھی۔ پرندے کی طرف تھی۔ باغ سے پھلوں کی طرف تھی اور باغ کے گھنے پن کی طرف تھی۔ فورا ایک عزم کر لیا اور اللہ کے پیغمبر کے پاس گئے اور کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ! میرا یہ سارا باغ اللہ کی راہ میں صدقہ ہے، اس باغ میں کبھی داخل نہ ہوں گا۔ اس باغ نے مجھے نوافل سے غافل کر دیا، میری نماز کی توجہ سے غافل کر دیا۔ یہ سلف صالحین کی تربیت ہے۔ اللہ اکبر۔ کیسی تربیت کہ صرف اپنی نماز کی حفاظت کے لیے اور وہ بھی نوافل کی حفاظت کے لیے اور توجہ اِلی اللہ کی حفاظت کے لیے، حضور قلبی کی حفاظت کے لیے اپنے پورے باغ کو قربان کر دیا۔ یہ قربانی بھی ایک تمہید ہے اصل قربانی کی تربیت کے لیے، دین اسلام پر اگر کبھی ایسی آزمائش آجائے کہ ضرورت ہو تمھارے مال کی تو مال لٹا دو، ضرورت ہو تمہاری جان کی تو جان بھی خرچ کر دو اور کوئی پروا نہ کرو۔

قابل افسوس وہ لوگ ہیں مغرب زدہ جو اپنے محلات میں بیٹھ کر اس قربانی پر تنقید کرتے ہیں کہ قربانی کیا ہے؟ اس دن کروڑوں جانور قربان ہوتے ہیں۔ یہ ایک ظلم ہے۔ جانور کی نسل کشی ہے۔ پیسے کا ضیاع ہے۔ یہ پیسہ اچھے کاموں میں صرف ہوسکتا ہے۔ کئی بہو بیٹیوں کے جہیز تیار ہو سکتے ہیں اور کئی ہسپتال بن سکتے ہیں، شفا خانے بن سکتے ہیں۔ یہ بے چارے مسکین لوگ، مغرب زدہ، ان کو شریعت کے رموز کا علم نہیں ہے کہ شریعت نے قربانی کے تعلق سے ایک امتحان لے رکھا ہے۔ یہ ایک امتحان ایک دن آپ پر قائم ہوتا ہے تا کہ آپ کے جذ بہ قربانی کو آزمایا جائے۔ ایسے لوگ اس وقت یہ سوچ لیں جب یہ اپنی کوٹھیاں بنار ہے ہوتے ہیں۔ جب کوٹھیوں کے ہاتھ روم بنا رہے ہوتے ہیں۔ ایک ہاتھ روم پر 10، 10 لاکھ خرچ کر دیتے ہیں، اس وقت سوچ لیں کہ یہ ایک بے کار ساعمل، یہ 10 لاکھ ہم کسی کے جہیز میں خرچ کردیں، حالانکہ جہیز بھی ایک لعنت ہے۔ شادی میں عورت کی طرف سے کسی خرچے کی کوئی گنجائش نہیں، کسی خرچے کی ، کسی سامان کی کوئی گنجائش نہیں سارا خرچہ مرد کی طرف سے ہے۔ حق مہر کی صورت میں، ولیمے کی صورت میں۔ ہاں جو لوگ بچی کو لینے جاتے ہیں تو بچی کے اہل خانہ اس اہتمام میں اگر ضیافت کرلیں، آنے والوں کو کھانا کھلائیں، ان کی مہمان نوازی کریں، مہمان نوازی ہمارے دین کے حقوق میں شامل ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں۔ ایک باپ اپنی بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے اپنی وسعت کے مطابق کپڑے دیتا ہے، کوئی پیسہ دیتا ہے دے سکتا ہے لیکن جہیز نام کی اصطلاح میں دین اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ تمہارے اس قول میں ایک حلال کام کی حرمت اور ایک حرام کام کی حلت ظاہر ہورہی ہے۔ یہ شریعت سے محاذ آرائی ہے پوری کی پوری۔ جو شریعت کا حکم ہے اس کو ختم کرنا چاہتے ہو اور جس سے شریعت نے روکا اس کے تم دروازے کھول رہے ہو۔ نسل کشی جانوروں کی، تم جانوروں کے خالق ہو کہ تمہیں اپنی اس نسل پر افسوس ہورہا ہے۔ یہ خالق اور مالک تو اللہ ہے اور جس قدر جانور ذبح ہوتے ہیں اس قدر ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اللہ کو معلوم ہے کہ یہ جانور قیامت تک ذبح ہوں گے تو ان کی تعداد کو پیدا کرنا اللہ کی ذمہ داری ہے اور اللہ رب العزت پیدا کر رہا ہے۔ ایک بکری ایک وقت میں ایک بچہ جنتی ہے اور بکریوں کے ریوڑ کے ریوڑ ہم دیکھتے ہیں۔ گائے، بھینسوں کے، اونٹوں کے ریوڑ کے ریوڑ ہم دیکھتے ہیں۔ اس کے برعکس ایک کتیا ایک وقت میں چھ چھ سات سات بچے جنتی ہے، کبھی آپ نے کتوں کا ریوڑ دیکھا ہے؟ حالانکہ ان کی کوئی قربانی بھی نہیں۔ ان جانوروں کی قربانی ہونے کے باوجود، ایک بچہ پیدا کرنے کے باوجود ان کا ریوڑ کا ریوڑ یہ میرے پروردگار کی قدرت ہے۔ اور اس کی توفیق اور اس کا امر ہے۔ اس کا یہ امر قیامت تک ہے اور قیامت تک یہ نسل قائم رہے گی۔

نسل کشی کی تمہیں کیا فکر ہے؟ کیا فکر تم کونسل کشی کی؟ اللہ کا امتحان، پیغمبر علیم کی سنت، پیغمبرﷺ کا عمل، آپ نے کبھی اس میں انقطاع نہیں کیا، کبھی اس میں ناغہ نہیں کیا۔ تو ان لوگوں کی یہ روش انتہائی قابل افسوس ہے۔ شریعت میں تحریف اور تبدیلی کے مترادف ہے۔ یہ اللہ کا امر قیامت تک قائم رہے گا۔ اور پیسے کا ضیاع نہیں ہے۔ اس میں تو کئی خاندانوں کا، میں کہتا ہوں کہ لاکھوں، ہو سکتا ہے کروڑوں خاندانوں کا رزق اس عمل سے وابستہ ہو۔ لوگ گاؤں، دیہاتوں میں جانور پالتے اور پھر عید قربانی کے موقع پر ان جانوروں کو ٹرکوں کے ذریعے لاتے ہیں۔

ٹرکوں والوں کے لیے آمدنی، پھر لا کر فروخت کرتے ہیں ایک بابرکت منافع کے ساتھ ، یہ ان کی آمدنی ، ان کے بچوں کی روزی، پھر لوگ خریدتے ہیں، خرید کر 2 دن، 4 دن، 10 دن، ان جانوروں کو چارہ کھلاتے ہیں، چارے والے لاکھوں افراد کی آمدنی، پھر جانور ذبح ہوتے ہیں اور قصاب ذبح کر کے مزدوری وصول کرتے ہیں، اس مزدوری کے تحت وہ کئی مہینوں کا رزق اپنے اہل کے لیے جمع کر لیتے ہیں۔ پھر گوشت بنتا ہے اور گوشت تقسیم ہوتا ہے، امیر بھی کھاتے ہیں اور غریب بھی کھاتے ہیں اور پوری دنیا کھا رہی ہے۔ کس قدر برکت ! اس کا چمڑا جو ہے وہ غریبوں کے لیے ہے اور غریبوں پر صدقہ ہوتا ہے۔ اسے فروخت کر کے مزید وہ مال حاصل کر سکتے ہیں۔ اداروں کی سر پرستی ہوسکتی ہے۔ لوگ ان کو خریدتے ہیں۔ خریدنے کے بعد بڑے بڑے کاروباری ان کو بیچتے ہیں۔ اس چمڑے سے مصنوعات تیار ہوتی ہیں۔ ان مصنوعات سے کاروبار ہوتا ہے۔ مرکزی سطح پر، انٹرنیشنل سطح پر کاروبار ہوتے ہیں۔ کتنے افراد اس سے وابستہ ہیں! اور پھر اس جانور کی آنتیں، اور ان کے ناخن اور دانت ہر چیز کی تجارت ہے اور ہر چیز کا جو ہے کاروبار ہے۔ یہ ایک دن آتا ہے اور ہزاروں لاکھوں لوگوں کے خاندانوں کی معیشت کا مرکز بن جاتا ہے۔ اور سبب بن جاتا ہے۔ اللہ کا امر کس قدر بابرکت ہے۔ کتنا عظیم ہے اور کتنی اس میں عظمتیں ہیں۔ اللہ رب العزت ان لوگوں کو جن کے ذہن مغرب کے امراض سے مسموم ہیں ہدایت دے دے۔ ان کے دلوں میں تقویٰ، توحید کی پاکیزگی، سنت رسول کی محبت، اخلاص کی محبت جاگزیں ہو جائے۔ اللہ رب العزت ہمیں اس موقع پر سرخرو فرمادے۔ ہم سب کا امتحان ہے، جانور خریدیں اور اللہ کے شعائر کی تعظیم کریں، اچھے طریقے سے ذبح کریں، اخلاص کی حفاظت کے ساتھ ، توحید کے فہم کے ساتھ اور اللہ کے پیغمبر کی سنت کی اتباع کے ساتھ۔ اللہ تعالیٰ ہم کو توحید کی، اخلاص کی ، سنت کی متابعت کی محبت عطا فرما دے۔ کسی ساتھی نے سوال کیا ہے کہ یوم عرفہ کا روزہ کس دن رکھنا چاہیے؟ یوم عرفہ سعودی تقویم کے لحاظ سے ہم سے ایک دن پہلے ہوتا ہے، اس دن ہمارا 8 ذوالج ہوتا ہے تو وہاں 9 ذوالحج ہوتا ہے اور یوم عرفہ وہاں ہم سے ایک دن پہلے ہوتا ہے۔ ہم کب رکھیں ؟ جواب: بھائی روزہ اگر 8 کو رکھنا ہے سعودی تقویم کے مطابق تو پھر قربانی بھی 9 کو کر و سعودی تقویم کے مطابق ۔ یہاں جو امر ہے اللہ رب العزت کا حج کے تعلق سے، رمضان کے تعلق سے، عیدین کے تعلق سے اور ان ماہ و سال کے تغیرات کے تعلق سے تو یہ چاند کی رؤیت سے ہے۔ ہم اپنی چاند کی رؤیت کا اعتبار کریں گے۔ آپ ایسا کریں کہ آج سے 2 سو سال پہلے چلے جائیں۔ آج تو وسائل بے شمار ہیں۔ سعودی چاند کا آپ کو علم ہوجاتا ہے۔ 2سوسال پہلے سعودی چاند کا علم کسی کو نہیں ہوتا تھا۔ وہ لوگ صرف چاند کا اعتبار کر کے روزہ رکھتے تھے، عید کرتے تھے، رمضان کرتے تھے۔ وہی چیز اصل ہے۔ اصل یہ وسائل نہیں ہیں، یہ میڈیا نہیں ہے۔ اصل شریعت کا حکم ہے اور شریعت کا حکم چاند کے ساتھ ہے۔ اور پھر روزہ اجتماعی عمل ہے اور یہ قربانی بھی اجتماعی عمل ہے۔ یہ انفرادی عمل نہیں ہے کہ دنیا قربانی نہیں کر رہی اور ایک شخص قربانی کر رہا ہے کہ سعودی عرب میں آج عید ہے۔ یہ انفرادی عمل نہیں ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے: «الأضْحَى يَومَ يُضَحَى النَّاسُ» ’’قربانی اس دن ہے جس دن سب قربانی کریں۔ ‘‘ (جامع ترمذی: 809) تو چونکہ ہماری اپنی ایک رؤیت ہے۔ اس کا ہم اعتبار کریں گے۔ اور اس کا اعتبار کر کے جو ہمارا 9 ذوالحج ہے اس کے تحت ہم روزہ رکھیں گے ناکہ سعودی تقویم کے مطابق ۔ ہاں! اگر ہمارے حکام، ہماری گورنمنٹ اپنے کیلنڈر کو سعودی کیلنڈر سے منسلک کر دے اور پھر سعودی اطلاع ہم کو پہنچ جائے تو پھر تو قابل قبول ہوگی کیونکہ اجتماعی عمل ہے انفرادی عمل نہیں ہے۔ پھر تو یہ قابل قبول ہو سکتی ہے، یعنی انفرادی اعتبار سے نہیں، لہٰذا ہم اپنے چاند کا اعتبار کر کے روزہ رکھیں گے اور جس دن ہمارا 9 ذوالحج ہوگا اس دن ہم روزہ رکھیں گے اور 10 ذوالحج کا دن ہمارا یوم النحر ہوگا، قربانی کا پہلا دن اس کے بعد تین دن مزید قربانی کے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرما دے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں